Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Last Episode)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Last Episode)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
دوسرے دن کا آغاز افراتفری میں ہوا تھا ۔ہر کوئی ادھر ادھر بھاگ رہا تھا۔ کوئی اپنے کپڑوں کے لیے پریشان تھا تو کسی کو اپنے میچنگ جیولری کی فکر تھی اور کسی کو مہمانوں کے اچھے سے استقبال کی فکر نے چین سے بیٹھنے نہیں دیا تھا۔زارا اور نمرہ سب کے لیے چائے بنا کر لاونج میں آئیں تو ہر کوئی اپنی فکر کا کھاتہ کھولے گم صم نظر آیا انھوں نے سب کو چائے تھمائی تاکہ سب کی تھکاوٹ اتر جائے۔
بچّوں نے اسکول اور کالج سے پہلے ہی چٹھیاں لے لی تھیں اور دونوں اُٹھتے ہی زیان سے باہر گھومنے کی ضد کر رہے تھے۔ اُن کے ساتھ ان کے کزن بھی تھے۔ ندا نعیم کی ڈانٹ کا بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوا۔ ان کی مستقل مزاجی دیکھ کر زیان نے حامی بھرلی اور انھیں تیار ہونے کا کہہ کر خود بھی وہاں سے اٹھ گیا۔
”زیان… تمہیں انھیں منع کر دینا تھا! پہلے ہی تم اتنا سب کچھ دیکھ رہے ہو ، تھکے ہوئے ہو۔ “ ندا خاتون نے زیان کے تھکاوٹ زدہ چہرہ دیکھ کر کہا۔
“ارے خالہ جان! پلیز غصّہ نہ کریں۔ ہم جلدی لوٹ آئیں گے اور پھر میں چلا جاؤں گا تو بچّوں کو کہاں موقع ملے گا۔“ اس نے ان کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی اور بچوں کو لیے باہر چلا گیا۔ وہ لوگ ساحل سمندر پر کچھ وقت گزارنے کے بعد کھانا کھا کر لوٹے تھے لیکن اس میں بھی آدھا دن گزر گیا تھا۔
زیان جیسے ہی اندر داخل ہوا حلیمہ خاتون نے پکارا۔
” آگئے تم! کافی دیر لگا دی تم لوگوں نے ؟”
” جی مما! گھومتے ہوئے وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔ ہم نے دوپہر کا کھانا باہر ریسٹورنٹ میں ہی کھالیا ہے۔ آپ بتائیں کیا ہو رہا ہے؟“
وہ ان کے برابر میں صوفے پر ٹانگ پر ٹانگ چڑھاکر بیٹھتے ہوئے بولا اور اپنا سر صوفے کی پُشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند لیں ۔
” نیند آرہی ہے تو سو جاؤ!“ انھوں نے اسے ٹیگ لگائے دیکھ کر کہا۔
” میں ٹھیک ہوں مما! “ اس نے آنکھیں بند کیے جواب دیا تو حلیمہ خاتون اس کے پاس آکر بیٹھ گئیں۔
” اچھا سنو! تم نمرہ اور زارا کو پارلر لے جاؤ گے یا تمہارے ڈیڈ کو بول دوں؟“ ان کے پوچھنے پر اس نے آنکھیں کھول کر ان کی جانب دیکھا۔
” ڈیڈ کو رہنے دیں ۔میں لے جاؤں گا۔“ وہ سیدھا ہوکر بیٹھتے ہوئے بولا۔
”ٹھیک ہے میں انھیں تیار ہونے کا کہہ دیتی ہوں۔“ حلیمہ خاتون کہتی ہوئیں لاؤنج سے نکل گئیں۔
وہ انھیں پارلر چھوڑ کر گھر واپس آگیا تھا ۔کچھ دیر آرام کرنے کے بعد شاور لے کر وہ فریش ہونا چاہتا تھا ۔
ہال پہنچتے پہنچتے بھی اندھیرا پھیل گیا تھا ۔ سب زرق برق سے تیار باراتیوں کا انتظار کر رہے تھے۔
زارا اور نمرہ تھوڑی دیر پہلے ہی پارلر سے سیدھا وہیں پہنچی تھیں۔ انھیں لینے نعیم صاحب گئے تھے ۔وہ دونوں بھی باقی لڑکیوں کے ساتھ مہمانوں کے استقبال کےلیے پھول کی پتیاں لیے داخلی راستے پر کھڑی ہوگئی تھیں۔
بڑی دھوم دھام اور شور شرابے کے ساتھ لڑکے والے آئے پھر سب سے ملنے ملانے کا سلسلہ جاری رہا ۔ اسٹیج پر بیٹھی عائشہ سُرخ رنگ کے عروسی لباس اور مہارت سے کیے گئے میک اپ میں وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔
زارا حلیمہ خاتون کے ساتھ کھڑی تھی لڑکے والے کی طرف سے آئے مہمانوں سے مل رہی تھی۔
“یہ کون ہے ،انھیں پہلے کبھی نہیں دیکھا؟“
فاروق کی والدہ کے ساتھ کھڑی ایک عورت نے پوچھا۔
”یہ عائشہ کی خالہ جان ہیں۔“ وہ ان سے چند دنوں پہلے ہی ملی تھیں۔
” ان کے ساتھ زارا ہے ، ندا کی بھتیجی۔“ وہ انھیں زارا کے بارے میں بتا رہی تھیں۔
” کتنی پیاری بچی ہے نا؟“ عائشہ کی ساس نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس کی خوبصورتی کو سراہا۔
” جی جانتی ہوں اسے۔ مل چکی اس سے۔ میں نے سنا ہے اسے طلاق ہوگئی ہے ۔“ اس عورت کی بات سن کر فاروق کی والدہ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے۔
حلیمہ خاتون وہیں کھڑی سب سن رہی تھیں۔ پھر زارا کی طرف دیکھا جس کا چہرہ یکدم بجھ سا گیا تھا ۔
”تو کیا لوگ اب زارا کے متعلق بات کرنے لگے ہیں ۔
انھوں نے دل میں سوچا پھر خود کو سنبھالتے ہوئے اس کی طرف آئیں۔
” آپ کو یہ بات کس نے بتائی؟“ وہ اس عورت سے مخاطب ہوئیں۔
”ارے بہن ایسی باتیں کہاں چھپتی ہیں‘ اتنی کم عمری میں ایسا حادثہ تو انسان کو توڑ دیتا ہے پھر طلاق جس بھی وجہ سے ہوئی ہو ایک طلاق یافتہ عورت کو معاشرہ اتنی آسانی سے قبول نہیں کرتا اور اگر کوئی اس پر ترس کھا بھی لے تو اسے وہ حیثیت نہیں ملتی جو باقی لڑکیوں کو ملتی ہے ۔میری کزن کی بیٹی کے ساتھ بھی یہی سب ہوا۔ “
اس عورت نے بولنا شروع کیا تو بولتی ہی چلی گئی۔ یہ بھی ایک سچ تھا معاشرے کی تلخ رویوں کا بوجھ کسی عورت کا مقدر بنتا ہے تو وہ راکھ ہو جاتی ہے ۔ یہ سوچ کر ان کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔
” آپ فکر مت کریں۔ میری زارا کے ساتھ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔ وہ بہت اچھی بچی ہے اور مجھے یقین ہے میرا رب اس کے ساتھ اور کچھ بُرا نہیں کرے گا۔“
انھوں نے بگڑے تنفس کو بحال کرتے جبرا مسکراتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلی گئیں۔
عائشہ کے رخصتی اور وہاں سے لوٹتے تک بھی ان کے دماغ میں ان عورتوں کی باتیں چل رہی تھیں۔
★★★★★
”تم نے پھوپھو جان کو منع کیوں نہیں کیا؟ “
وہ ٹیرس پر کھڑا اسی کے بارے میں سوچ رہا تھا جب زارا اسے ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچی ۔وہ اس کی آواز سن کر پلٹا۔ وہ رات کے اس وقت اُس کے سامنے کھڑی کافی غصے میں لگ رہی تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے ان کا سامنا نہیں ہوا تھا وہ اپنے کام میں مصروف تھا اور وہ پڑھائی کا کہہ کے کمرے میں ہی گھسی رہتی تھی۔ اس نے کئی بار اس سے بات کرنے کا ارادہ کیا لیکن ہر بار اپنی سوچ کی نفی کر دی۔
“کس بات سے؟“
رات کے اس وقت اسے یہاں دیکھ کر حیران ہوا تھا۔ اس سے بڑھ کر حیرانی اس کی بات سن کر ہوئی تھی۔وہ کس حوالے سے بات کر رہی تھی۔
” تم اچھی طرح جانتے ہو ۔میں کیا پوچھ رہی ہوں زیان۔“ اس کی آنکھوں میں غصہ تھا۔وہ سمجھ گیا تھا وہ کس بارے میں پوچھ رہی ہے ۔عائشہ کے رخصتی سے واپس آنے کے بعد حلیمہ خاتون نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اور زارا دونوں ایک ہو جائیں اور اس بارے میں وہ اس سے بات کر چکی تھی۔ اس نے ہمیشہ سے زارا کو ہی چاہا تھا پھر انکار کی کوئی وجہ ہی نہیں تھی لیکن سب سے بڑا مسئلہ زارا کی رضا مندی تھی۔ کیوں کہ وہ ایک ٹراما سے گزری تھی لیکن پرسوں ہی اسے حلیمہ خاتون نے بتایا تھا کہ زارا نے شادی کے لیے ہاں کر دی ہے۔
”تو تم کر دیتی!“
وہ اس سے اس بے وقوفی کی امید نہیں رکھتا تھا۔اس لیے پُر سکون انداز میں بولا۔
” تم جانتے ہو میں پھوپھو کو منع نہیں کرسکتی تھی۔“وہ اپنا ہاتھ مسلتی ہوئے بولی۔ حلیمہ خاتون نے اپنے دل کی بات اس سے شیئر کی تھی اور فیصلہ اس پر چھوڑ دیا تھا۔ اس نے بہت سوچا لیکن پھر بھی انھیں انکار نہ کرسکی لیکن پچھلے کچھ دنوں سے وہ اندر ہی اندر زیان کے اقرار سے غصہ تھی۔ اسے لگتا تھا کہ زیان اس پر ترس کھا رہا ہے تبھی ہر طرح سے قابل ہونے کے باوجود اُس سے شادی کر رہا ہے اور اسی لیے وہ رات کے اس وقت ٹیرس پر کھڑی اس سے سوال جواب کر رہی تھی۔
” تم میری وجہ سے اپنی زندگی کیوں برباد کر رہے ہو زیان؟ تمہیں کوئی بھی لڑکی مل سکتی ہے پھر میرے لیے ہاں کرنے کی کیا ضرورت تھی تمہیں۔“ اسے پر سکون دیکھ کر وہ تقریباً چلائی تھی۔ اس نے سوچا تھا وہ ہاں کر بھی دے تو کیا ہوا زیان کی مرضی کے بغیر تو شادی نہیں ہوگی نا۔
”تمہیں کس نے کہا کہ میں اپنی زندگی برباد کر رہا ہوں؟“ اس کا انداز نارمل تھا۔ وہ تحمل سے اس سے پوچھ رہا تھا۔
” لیکن مجھ پر ترس کھا رہے ہو؟“ وہ آنکھوں میں آنسو لیے بولی تھی۔
”تم…… تمہیں پتہ ہے تمہاری پروبلم کیا ہے؟
تم احساس کمتری کا شکار ہو‘
تمہیں لگتا ہے دنیا کا ہر انسان تم سے اچھا ہے اور تم خود کو حقیر سمجھتی ہو…..ایک بے چاری لڑکی!
تبھی تمہیں ایسا لگتا ہے کہ میں تم سے ہمدردی کر رہا ہوں لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ سچ بتاؤں تو تم سے خوبصورت لڑکی میں نے آج تک نہیں دیکھی۔ آج کے اس دور میں ایسا کون ہے جو خود سے پہلے دوسروں کا سوچتا ہے۔ خود چاہے تم جتنی بھی تکلیف میں ہو لیکن دوسروں کی تکلیف تم سے دیکھی نہیں جاتی ہے۔“
وہ اُس کی بات سُن کر حیرت سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
زیان نے آگے بڑھ کے اس کے نازک ہاتھوں کو تھام لیا۔ وہ بے یقینی کی کیفیت میں گھری رہی۔
”میں نے تمہیں کسی کی دباؤ میں آکر اپنی زندگی میں شامل نہیں کیا ہے زارا بلکہ اپنی مرضی سے تمہیں اپنانا چاہتا ہوں۔“
اُس نے اس کا جُھکا چہرہ تھوڑی سے پکڑ کر اپنی جانب کیا اور اس کے آنسو صاف کرتے بولا۔
” تم نے جتنا رونا تھا تم نے رو لیا لیکن اب میں تمہیں روتا نہ دیکھوں۔ ماضی کو ہم بدل نہیں سکتے مگر اپنے حال کو بہتر بنانا ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔تم نے جو کچھ سہا اس کا ازالہ بہت مشکل ہے لیکن جو زخم تمہارے دل پر لگے ہیں میں اپنی محبت سے اسے بھرنا چاہتا ہوں۔ تمہارے ساتھ اپنی زندگی کی آخری سانس تک جینا چاہتا ہوں۔ کیا تمہیں اب بھی لگتا ہے مجھے تم سے ہمدردی ہے؟ “ وہ یک ٹک اسے دیکھے گئی۔
”چاہو تو تم مجھ سے وعدہ لے لو۔ زندگی کے کسی موڑ پر تمہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔“ وہ پرت در پرت اس پر کھل رہا ہے اور وہ بے یقینی میں گھری اس کی باتیں سن رہی تھی۔
” ایسی بات نہیں ہے۔“ اُس نے آہستگی سے کہا۔
” تو تم پھر الٹے سیدھے خیال اپنے دماغ سے نکال دو۔ جاؤ جاکر سو جاؤ رات بہت ہوگئی ہے۔“ اس نے کہا تو وہ خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی آئی۔ زیان سے بات کرکے اس کی ساری غلط فہمیاں دور ہوگئی تھیں لیکن اس کے ساتھ ایک نئے رشتے میں بندھنے سے وہ ہچکچا رہی تھی۔
وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کے انکار کرنے پر دونوں ماں بیٹے پیچھے ہٹ جائیں گے پر کبھی نہ کبھی تو اسے ایک نئے رشتے میں بندھنے کو کہا جاتا اور اگر پھر سے کسی زبیر جیسے شخص کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ کیا کرتی اس لیے اس نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور اپنی قسمت کا فیصلہ اللہ پر چھوڑ دیا تھا۔
★★★★★
کچھ مہینوں بعد…..
” اور کتنا ٹائم لگے گا؟“ اسے چوڑیاں پہنتے دیکھ کر زیان نے اس سے سوال کیا۔ اُن کی بارہ بجے کی فلائٹ تھی۔ زیان کا پوچھنا تھا کہ زارا نے اسے گھوری سے نوازا۔ وہ پچھلے تیس منٹ سے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا اپنے بال بنانے میں مصروف تھا اور اپنا کام ختم ہوتے ہی اسے وقت کے نکلنے کا احساس دلا رہا تھا۔
” اب ایسے کیوں دیکھ رہی ہو یار۔ ہمیں نکلنا ہے۔ رستے میں بہت ٹریفک ہوگا۔“ زارا کو خود کو یوں گھورتے دیکھ کر اس نے اپنا دفاع کیا تو وہ بے ساختہ مسکرائی۔ زیان نے اسے اپنی شریک حیات کے روپ میں قبول کیا تھا تب سے وہ اس کی چھوٹی سی چھوٹی چیز کا خیال رکھتا تھا۔ اس کے ساتھ رہتے تو جیسے مسکراہٹ اس کے لبوں کی زینت بن گئی تھی۔
جب وہ دونوں تیار ہوکر نیچے آئے تو حلیمہ خاتون اور ملک صاحب کو اپنا منتظر پایا۔
وہ دونوں انھیں ائیر پورٹ چھوڑنے جانے والے تھے۔ زارا کے سمسٹر شروع ہونے میں وقت تھا اور زیان کو انھوں نے زبردستی چھٹی دلا دی تھی تاکہ وہ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزار سکیں اسی لیے شادی کے دو ماہ بعد وہ دونوں ایک ساتھ امریکہ جا رہے تھے۔
ٹریفک سے نکلتے ہوئے وہ چاروں ائیر پورٹ پہنچے تو فلائٹ میں بیٹھنے سے پہلے بہت ساری دعاؤں اور نصیحتوں کے درمیان حلیمہ خاتون سے گلے ملتے ہوئے وہ آبدیدہ ہوگئی تھی۔ اس نے اپنی ماں کو نہیں دیکھا تھا لیکن اتنے کم عرصے میں حلیمہ پھوپھو سے جتنی محبت ملی تھی ان سے دور جاتے ہوئے اس کا احساس ہو رہا تھا۔
” ساری محبت تم ہی لے لو گی یا اپنی ماں سے مجھے بھی ملنے دو گی۔“ زارا کو جذباتی ہوتا دیکھ کر زیان نے منہ پھلائے کہا تو وہ شرمندہ سی ان سے الگ ہوتے اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔
” پورے ڈرامہ ہو تم زیان! “ حلیمہ خاتون نے اس کے کان کھینچتے ہوئے کہا تو اس نے خود کو چھڑاتے ہوئے کہا۔
” ہاں تو جب سے آئی ہے آپ پر پورا کا پورا قبضہ کرلیا ہے۔ تھوڑی بہت محبت میری لیے بھی چھوڑ دینا تھا نا اسے۔“
اس کی بات سن کر حلیمہ خاتون کے ساتھ ملک صاحب بھی بیٹے کی نوٹنکی کو داد دی تھی اور زارا مسکراتے ہوئے سوچ رہی تھی کہ زیان اس کی زندگی میں آزمائش کے بعد ملنے والا اللّہ کی طرف سے وہ تحفہ تھا جس کا شکر ادا کرتے اُسے اللّہ پر بہت پیار آتا تھا۔اس کے سارے زخم دھیرے دھیرے مٹتے جا رہے تھے کیوں کہ اسے ایک مہربان ساتھی سے نوازا گیا تھا۔
ختم شدہ
