Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Episode 09)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Episode 09)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
وہ کمرے میں آئی تو ان بیگز کو کھول کر دیکھا جس میں چند نفیس سے سوٹ تھے جسے دیکھ کر اسے عباس صاحب بے اختیار یاد آئے تھے۔ ایسے کپڑے اس کے بابا بھی اس کے لیے لایا کرتے تھے۔
” کاش بابا آپ مجھے یوں چھوڑ کر نہ جاتے تو آج میرا یہ حال نہ ہوتا ۔“ اس نے خود پر نظر ڈالتے ہوئے دکھی دل سے سوچا اور ان میں سے ایک سوٹ اٹھا کر چینج کرنے چلی گئی۔ ہر گزرتا وقت اسے باپ کی کمی کا احساس دلاتا اور وہ ٹوٹ سی جاتی۔
آج بھی اسے رہ رہ کر ان کی کمی ستا رہی تھی۔
وہ یہ تو جان گئی تھی کہ یہاں کے مکینوں کے دل کشادہ تھے لیکن وہ کب تک ان کے ساتھ رہ سکتی تھی ۔کبھی نہ کبھی تو اسے یہاں سے جانا ہی تھا۔
★★★★★
وہ ناشتے کرکے گھر سے نکلتا تو پھر رات میں کھانے کی ٹیبل پر ہی نظر آتا تھا۔ اس کا یہ فائدہ ہوا تھا کہ اسے کمرے میں بند نہیں رہنا پڑتا اور وہ کچن میں فہمیدہ خاتون کا ہاتھ بٹا دیا کرتی۔اس طرح ان کا بھی دل بہل جاتا تھا اور وہ بھی اس سے بات کر لیتی تھیں۔ فہمیدہ خاتون کی دو بیٹیاں تھیں جن کی اب شادی ہوچکی تھی۔ دونوں بھائی بہن اسی گھر کے احاطے میں بنے کوارٹر میں رہتے تھے۔
آج صبح جب وہ ناشتے کی ٹیبل پہ پہنچی تو وہ اسے ناشتے کی ٹیبل پر نظر نہیں آیا۔
” آسُود بابا بیگم صاحبہ کو لینے ائیر پورٹ گئے ہیں۔ “
اتنے دنوں میں اسے فہمیدہ خاتون کے ساتھ کی عادت ہوگئی تھی۔ انھوں نے زارا کے لیے جوس کا گلاس نکالتے ہوئے بتایا ۔ وہ کل رات ہی ان کی آمد کے متعلق بتا چکا تھا۔
ان کے لہجے میں خوشگواریت کا احساس بسا تھا لیکن وہ عجیب سی گھبراہٹ کا شکار ہوگئی تھی۔ پتا نہیں وہ اسے اپنے گھر میں دیکھ کر کیا سوچتیں۔
اسی لیے بے دلی سے ناشتے کرکے وہ کمرے میں آگئی ۔
اس کا دل کیا کہ وہ بنا بتائے یہاں سے چلی جائے مگر اس کے پاس رہنے کے لیے دوسرا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس کی ایک ہی دوست تھی جو شادی کے بعد بیرون ملک سیٹل ہوگئی تھی ۔عباس صاحب کے انتقال کے بعد وہ ندا پھوپھو کے زیر سایہ رہی تو اس سے بھی رابطہ کٹ کے رہ گیا۔ ندا خاتون کے پاس واپس جانا نہیں چاہتی تھی کیوں کہ وہ ہی اس کی اس حالت کا ذمہ دار تھیں۔ اس لیے ناشتے کے بعد سے اس نے خود کو کمرے میں بند کر لیا تھا ۔ نہ وہ اس کی والدہ سے ملی تھی اور نہ ہی لنچ ٹائم میں کچھ کھایا تھا ۔جب فہمیدہ خاتون اسے بلانے آئیں تو اس نے طبعیت خرابی کا بہا کر ٹال دیا اور چپ چاپ کمرے میں پڑی رہی۔ فہمیدہ خاتون خود ہی ایک دو بار اس کی طبعیت پوچھنے آئی تھیں اور اسے سوپ دے گئی تھیں۔
شام کے وقت وہ نماز سے فارغ ہوئی تو دروازے پر دستک ہوئی۔اس نے دروازہ کھولا تو سامنے نفیس سی خاتون کھڑی تھیں۔
اس نے انھیں دیکھ کر سلام کیا پر اسے دیکھ کر ان کے چہرے پر عجیب سی حیرانی ابھری تھی جسے اس نے محسوس کرلیا تھا ۔ وہ ان کی جانب دیکھ کر اپنے لب کاٹ رہی تھی۔
وہ کچھ دیر یونہی اسے دیکھتی رہیں پھر سر جھٹک دیا۔
زارا کی نظریں خود پر مرکوز دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرائیں ۔
” اب تمہاری طبعیت کیسی ہے بیٹا! “
”جی ، ٹھیک ہوں آنٹی۔“ وہ اس سے اس کی طبعیت پوچھنے آئی تھیں۔ زارا کو شرمندگی نے گھیر لیا۔
” تمہیں اس طرح پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بیٹا! میرے بیٹے نے مجھے سب بتا دیا ہے۔ تم بے فکر ہوکے جب تک چاہو یہاں رہ سکتی ہو ۔اس نے بہت اچھا کیا کہ تمہیں یہاں لے آیا میں بھی اس کی جگہ ہوتی تو یہی کرتی ۔“
انھوں نے اسے پریشان دیکھ کر کہا۔
” بیٹھو! “ اسے بیٹھنے کا کہتیں وہ خود بھی بیٹھ گئی تھیں ۔
” طبعیت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چلیں۔“ اسے خاموش دیکھ کر انھوں نے پوچھا تو وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
” نہیں آنٹی میں ٹھیک ہوں ، بس تھوڑا سر درد ہے ۔ دوائی لی ہے ٹھیک ہوجائے گا۔“ سر درد کی وہ دوا لے چکی تھی اور اب کافی آرام آیا تھا۔
” تمہیں پتا ہے میری بھتیجی بھی تمہاری عمر کی ہے ۔تمہیں دیکھ کر لگا جیسے وہ میرے سامنے کھڑی ہو۔
بہت پیاری بچی ہے لیکن افسوس میں اس سے مل نہیں سکی کیوں کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ کینیڈا میں ہے اور دیکھو اتفاق سے اس کا نام بھی زارا ہے۔“ وہ جذباتی انداز میں اسے بتا رہی تھیں اور وہ خاموشی سے انھیں سن رہی تھی۔
” میں نے تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا نا؟“ اسے چپ چاپ نظر جھکائے بیٹھی اپنے ہاتھوں کو دیکھتی پایا تو انھوں نے پوچھا ۔
” نن…. نہیں ایسی بات نہیں ہے آنٹی!“ زارا نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔
” اچھا چلو! اب تم آرام کرو ۔ میں نے فہمیدہ کو کہا ہے کہ تمہارے لیے کچھ نرم غذا بنا دے ۔وہ لاتی ہوگی اور تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلا جھجھک بتانا۔ “ انھوں نے اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا اور اٹھ گئیں۔
★★★★★
اسے یہاں آئے دو ہفتے سے زیادہ عرصہ ہوگیا تھا ۔آسُود اور اس کی مما نے اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی۔
اس کی اپنائیت اور رویہ دیکھ کر اسے یقین ہوگیا کہ دنیا میں اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسروں کا احساس کرتے ہیں ورنہ ندا پھوپھو اور زبیر کے رویے نے اسے سب سے سے بد ظن کر دیا تھا۔
آج ان کے بے حد اصرار پر وہ ان کے ساتھ شاپنگ مال آئی تھی ۔
وہ اس کے منع کرنے کے باوجود اس کے لیے ڈریس اور ضروریات کی دوسری چیزیں خرید رہی تھیں۔
شاپنگ کے بعد ادائیگی کے لیے کاؤنٹر کی طرف بڑھی تو اس نے کہا کہ وہ ان کا انتظار کرے گی۔ وہ عباس صاحب کے ساتھ یہاں آیا کرتی تھی اور آج اتنے دنوں بعد وہ یہاں اسی جگہ موجود تھی۔ اسے آج بھی یاد تھا وہ دن جب آخری مرتبہ وہ ان کے ساتھ یہاں فار ویل پارٹی میں پہننے کے لیے ڈریس لینے آئی تھی اور پورے مال کا چکر لگوانے کے باوجود اسے وہ ڈریس نہیں ملا تھا جس کی اسے تلاش تھی۔
” تمہیں کچھ اور لینا ہے زارا؟“ عباس صاحب بیگ اٹھائے اس کے ساتھ چل رہے تھے۔
” نہیں بابا! بس اب ہم گھر جائیں گے ۔ میں بہت تھک گئی ہوں۔“ اس نے پیروں پر زور ڈالتے ہوئے کہا تو وہ بے ساختہ مسکرا اٹھے تھے۔
” تم صرف نہیں تھکی بلکہ اپنے ساتھ مجھے بھی تھکا دیا تم نے ۔“ انھوں نے شرارت سے کہا۔
” بابا….“ اس نے چڑ کے انھیں پکارا تو وہ ہنسنے لگے ۔
” میرا تو بھوک سے بُرا حال ہو رہا ہے ۔چلو کچھ کھاتے ہیں۔“ آفس کی چھٹی تھی اور وہ اٹھتے ہی اس کی فرمائش پوری کرنے ناشتہ کیے بغیر ہی اس کے ساتھ یہاں چلے آئے تھے۔
” ٹھیک ہے پر ہم آئس کریم بھی کھائیں گے۔“
” وہ تو ہم کھائیں گے میری جان!“ انھوں نے اس کی بات کی تائید کی اور اس کا چہرہ کھل اٹھا۔ وہ خیالوں میں گم کافی آگے نکل آئی تھی۔ اچانک سے کسی سے ٹکرانے کی وجہ سے وہ ماضی کے جھروکوں سے باہر نکل آئی اور ادھر اُدھر انھیں تلاشنے لگی۔
” زارا بھابھی! آپ یہاں؟ “ تبھی کسی نے اسے پکارا تھا۔
وہ ہڑ بڑا کر پلٹی سامنے زبیر کے دوست عاصم اور اس کی بیوی پر اس کی نظر پڑی تو اس نے تھوک نگلا۔
”کہیں زبیر اس کا پیچھا کرتے یہاں تو نہیں آگیا ۔“
اس نے سوچا۔ وہ ان دونوں سے پہلے پارٹی اور ولیمے پر مل چکی تھی۔
” زبیر نے بتایا ہی نہیں وہ کراچی آ رہا ہے۔ کہاں ہے وہ؟ “ اس نے تلاشتی نگاہوں سے آس پاس دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ گھبرا گئی۔
” کیا ہوا بھابھی جی؟“ زارا کی گھبراہٹ دیکھ کر عاصم کی بیوی اور اس نے نظروں کا تبادلہ کیا تبھی حلیمہ خاتون اسے پکارتی ہوئی اس کے قریب چلی آئیں۔
”زارا کہاں چلے گئی تھی بیٹا! میں تمہیں کب سے ڈھونڈ رہی تھی ۔“ وہ واپس آئیں تو زارا کو نہ پا کر وہ پریشان ہوگئی اور اسے تلاشنے لگیں ۔تبھی وہ انھیں کچھ فاصلے پر کھڑی کسی سے بات کرتی نظر آئی تو اس کی طرف چلی آئیں۔
” کچھ نہیں آنٹی۔ چلیں! “
حلیمہ خاتون کو وہاں دیکھ کر اس نے شکر ادا کیا۔
” ہاں چلو! ڈرائیور ہمارا انتظار کر رہا ہے ۔“ انھوں نے بتایا اور اسے اپنے ساتھ لیے آگے بڑھ گئیں۔
” تم انھیں جانتی ہو؟“ انھوں نے پیچھے کھڑے جوڑے کو دیکھتے ہوئے استفسار کیا تو اس نے نفی میں سر ہلایا۔ وہ جلد از جلد یہاں سے غائب ہو جانا چاہتی تھی ۔
وقت واقعی بہت تیزی سے گزرتا ہے اور وقت کے ساتھ لوگ بھی بدل جاتے ہیں وہ بھی تو بدل گئی تھی اُسے جھوٹ بولنا نہیں آتا تھا لیکن زبیر کے ساتھ نے اسے جھوٹا بنا دیا تھا۔
”انھیں کیا ہوگیا ہے…. کچھ بتایا بھی نہیں۔
چلو نازیہ! میں خود ہی پوچھ لوں گا زبیر سے ۔ اگر کراچی آنا تھا تو مجھے بتانا تھا کم از کم مجھ سے ملاقات ہو جاتی۔“
وہ اپنی بیوی کو ساتھ لیے آگے بڑھ گیا تھا۔
★★★★★
زارا وہاں سے آنے کے بعد بالکل خاموش ہوگئی تھی ۔اسے ڈر تھا کہ کہیں عاصم زبیر کو اس کے کراچی میں ہونے کا نہ بتا دیا۔
اگر وہ اسے ڈھونڈتا یہاں آگیا تو وہ کیا کرے گی؟
لیکن وہ اسے ڈھونڈے گا ہی کیوں؟
بے شمار سوچ میں گھری بے چینی سے وہ کمرے میں ٹہلتی رہی۔
پھر اپنی ان سوچوں سے چھٹکارا پانے کے لیے اس نے وضو کیا اور نماز کے لیے بیٹھ گئی۔ وہ کتنی دیر تک یونہی بیٹھی دعا کرتی رہی اور چہرے پر ہاتھ پھیر کے جائے نماز تہہ کرنے لگی تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔
دروازے پر فہمیدہ خاتون تھیں۔
” آنٹی آپ؟ “ اس نے دوپٹے کو کھول کر شانے پر پھیلاتے ہوئے کہا۔
” جی باجی صاحبہ آپ کو اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں ؟“ انھوں نے آتے ہی اطلاع دی۔
” ٹھیک ہے آپ جائیں میں آتی ہوں ۔“ اس نے کچھ دیر میں آنے کا بتایا تو وہ واپس چلی گئیں۔
” آخر ایسی کون سی بات ہے جو آنٹی نے مجھے اپنے کمرے میں بلایا۔“ ان کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے دل میں سوچا۔
” میں اندر آ جاؤں؟“ دروازہ کھلا تھا اور وہ بیڈ پر بیٹھی کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہی تھیں۔
اسے دیکھ کر انھوں نے کتاب سے نظر ہٹائی اسے اندر آنے کو کہا اور پھر کتاب بند کرکے اسے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
” آؤ بیٹھو! تمہاری طبعیت تو ٹھیک ہو نا ؟“ انھوں نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے پاس بلایا اور ساتھ ہی استفسار کیا۔ ان کا لہجہ تشویش سے بھر پور تھا ۔وہ جب سے آئی تھی اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی۔
” جی آنٹی ۔میں بالکل ٹھیک ہوں۔“ وہ ان کے قریب بیٹھے ہوئے بولی۔
” کوئی پریشانی ہے ؟“ انھوں نے پوچھا تو اس نے ان کا چہرہ دیکھا پھر بولی ۔
” ایسی کوئی بات نہیں ہے آنٹی!“
” تو پھر کیا بات ہے زارا۔ اتنے دنوں میں ہم میں اتنا تعلق تو بن ہی گیا ہے کہ تم اپنی پریشانی مجھ سے شیئر کر سکو۔“
حلیمہ خاتون نے اپنائیت بھرے انداز میں کہا تو اس کا دل کیا وہ سب کچھ ان کو بتا کے اپنا دل ہلکا کر لے۔
دیکھو زارا! میرے بیٹے نے مجھے بتایا ہے کہ تم شادی شدہ ہو ، وہ لاہور سے جب کراچی کے لیے نکلا تھا تو تم اسے راستے میں ملی تھی۔ آخر ایسی کیا وجہ تھی کہ تمہیں اتنی رات گئے گھر سے نکلنا پڑا ۔“
اتنے دنوں سے اسے جس بات کا ڈر تھا وہی ہوا تھا اور آج انھوں نے وہ بات چھیڑ ہی دی جسے وہ بھول جانا چاہتی تھی۔ اس نے فق ہوتے چہرے کے ساتھ ان کی جانب دیکھا۔
” ایسا نہیں ہے کہ مجھے تم پر کوئی شک ہے۔میری کوئی بیٹی نہیں ہے لیکن میں نے تمہیں دل سے اپنی بیٹی مانا ہے اور میں چاہتی ہوں کہ تم بھی مجھے ماں سمجھ کر اپنی پریشانی شیئر کرو شاید میں تمہاری کوئی مدد کر سکوں۔“
وہ اسے اپنے اعتماد میں لیتے ہوئے بولیں۔
ان کی بات سن کر زارا کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس کا سارا ضبط ٹوٹ گیا۔
حلیمہ خاتون اسے روتا دیکھ کر پریشان ہوگئیں۔ ان کا مقصد اسے رُلانا نہیں تھا وہ بس اس کی تکلیف کو کم کرنا چاہتی تھیں۔
” پلیز رو مت! کیا ہوا ہے بتاؤ مجھے۔“ انھوں نے اسے خود سے لگاتے ہوئے پوچھا ۔
وہ کچھ دیر یونہی روتی رہی پھر انھیں اپنے رشتےداروں کی خود غرضی اور زبیر کے متعلق سب کچھ بتا دیا۔ کچھ چیزیں اب بھی ان سے پوشیدہ تھیں۔
زبیر کی سچائی کا پتا چلا تو انھیں زارا کے لیے بہت برا لگا۔ اتنی کم عمر میں اس بچی نے بہت کچھ سہا تھا۔
دل کا بوجھ تھوڑا کم ہوا تو وہ روتے روتے وہی سو گئی۔ انھوں نے بھی اسے جگایا نہیں۔ کتنی دیر تک وہ وہاں بیٹھی اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی رہیں۔
زیان اُنھیں پکارتا کمرے میں داخل ہوا لیکن زارا کو ان کے ساتھ دیکھ کر وہیں سے پلٹ گیا۔
”میں آپ سے ڈائننگ ٹیبل پر ملتا ہوں ۔“
” مما! آپ کا موبائل کہاں تھا۔ ندا خالہ نے آپ کو کال کی تھی آپ نے نہیں اٹھایا تو مجھے کال کی انھوں نے ۔ کل عائشہ کی ڈیٹ فکس ہے ۔“
کھانے سے فارغ ہوکر نیپکین سے ہاتھ صاف کرتا انھیں بتارہا تھا ۔وہ کچھ دیر قبل اس بات کی اطلاع دینے ان کے کمرے میں گیا تھا مگر وہاں زارا کو دیکھ کر واپس لوٹ آیا تھا۔
” ندا نے عائشہ کی منگنی کر دی اور ہمیں بتانا بھی ضروری نہیں سمجھا اور کل ڈیٹ فکس ہے اور آج بتا رہی ہے۔“
اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے میں سخت پریشان ہوں جب سب کچھ خود ہی کرنا ہے تو اب بھی نہ بلاتی ہمیں ۔“
انھیں اپنی بہن ندا پر بہت غصہ آ رہا تھا۔ انھوں نے ان کے علم میں لائے بغیر زارا کی شادی کر دی تھی اور اب بنا بتائے عائشہ کی منگنی کے بعد انھیں بتا رہی تھیں۔
”تمہیں تو پتا ہے کل تمہارے بابا کی رات کی فلائٹ ہے۔“
انھوں نے گہرا سانس خارج کرتے کچھ توقف کے بعد کہا۔
” اوہ ہاں میرے ذہن سے نکل گیا تھا ۔آپ کہیں تو میں چھوڑ دیتا ہوں وہاں آپ کو۔ بابا کو میں پک کر لوں گا۔“ اس نے جیسے حل نکالا۔
” زیان تم چلے جاؤ! میں یہیں رکوں گی ۔ زارا کی بھی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔ اسے اس طرح چھوڑ کر جانا اچھا نہیں ہوگا۔ تمہارے بابا آجائیں تو ہم ساتھ چلے گی خالہ کی طرف ۔ابھی تم ہو آؤ۔“
انھوں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”چلیں ٹھیک ہے مما! جیسا آپ کہیں ۔کیا ہوا ہے زارا کو؟ “
اس نے ہامی بھرتے کہا اور ساتھ زارا کے متعلق پوچھا تو انھوں نے ساری بات اسے بتا دی ۔
” میں اس سے ملا ہوں ۔باہر سے شریف نظر آنے والا شخص اندر سے اس قدر گھٹیا انسان ہوگا میں نے سوچا نہیں تھا۔ “
اسے زبیر اور اس کی ملاقات یاد آئی ۔زبیر سے مل کر اسے شدید حیرت ہوئی تھی ان دونوں کی عمر میں بہت فرق تھا۔
”مجھے تو حیرت ہے کہ اُس انسان کو اس پھول سی بچی کا ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ وہ کہاں جائے گی۔ اُسے اتنی رات کو گھر سے نکال دیا۔ اگر اس کے ساتھ کچھ غلط ہو جاتا تو…..
ایسے انسان کو سخت سے سخت سزا ملنی چاہیے جو عورتوں پر ہاتھ اُٹھاتے ہیں اتنے دنوں میں اُسے کبھی اس معصوم کا پیار نظر نہیں آیا ۔“
”لیکن مما! زارا کو بھی چُپ نہیں رہنا چاہیے تھا ، مانتا ہوں وہ اس کا شوہر ہے اور اس رشتے کو موقع دینا چاہتی تھی مگر ایک بار اپنے حق کے لیے آواز اُٹھاتی تو شاید وہ آج اس حال میں نہ ہوتی ۔ وہ ان زیادتیوں پر خاموش رہی اس لیے اس انسان کی اتنی ہمت بڑھ گئی اور وہ اس کی کمزوری کا فائدہ اُٹھتا رہا ۔“
وہ بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔ زارا کو یوں چُپ نہیں بیٹھنا چاہیے تھا ۔گھریلو تشدد کے خلاف ملک میں قانون نافذ ہے۔
شکر ہے وہ اب اس زبیر کے پاس نہیں ہے ۔ اس رات وہ اسے باہر نہ نکالتا تو ناجانے اب تک وہ اس کے ساتھ کیا کچھ کر چکا ہوتا۔
انھوں نے فکر مندی سے سوچا۔
” اس بارے میں بعد میں بات کرتے ہیں ۔رات بہت ہوگئی ۔اب آپ سو جائیں۔ صبح مجھے نکلنا بھی ہے۔“
اس نے آگے بڑھ کر ان کا ماتھا چوما اور انھیں کمرے میں چھوڑ کر اوپر چلا آیا۔
