Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Pe Lagay Zakham (Episode 08)

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid

پورا گارڈن مختلف اقسام کے پھولوں سے بھرا پڑا تھا، ہر طرف سبزہ ہی سبزہ جسے دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھر گئی ۔

ابراہیم خان اس گھر کے مالی تھے ملک صاحب کے یو ایس جانے کے بعد وہ اور ان کی بہن فہمیدہ اس گھر کی دیکھ بھال کرتے تھے۔

وہ دونوں ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے چلتے ہوئے اب دروازہ پار کر چکے تھے۔

” فہمیدہ آنٹی کہاں ہیں؟“ اس نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھا۔

” اندر ہی ہے آپ کا کمرہ ٹھیک کر رہی تھی ، آئیں نا! ۔“ ابراہیم نے بتایا ۔

” چھوٹے بابا! یہ کون ہے ؟“

ابراہیم چاچا نے پیچھے مڑ کر انگلی کے اشارہ کرتے پوچھا تو وہ رک گیا۔ پیچھے مڑتے ہی ایک بار پھر سے اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگ گئی۔وہ تو سوچ رہا تھا کہ زارا وہاں سے چلی گئی ہے لیکن وہ یہیں تھی۔

”یہ زارا ہیں۔ ہماری مہمان…… کچھ دن یہیں ہمارے ساتھ رہیں گی آپ فہمیدہ آنٹی کو کہہ کر ان کا کمرہ تیار کروا دیں ۔“

زارا کی نظر جب ان دونوں پر پڑی تو وہ ان کی طرف چلی آئی ۔یہ شہر انجان نہیں تھا لیکن اسے انجان لوگوں کے درمیان ہر منظر اجنبی لگ رہا تھا وہ انھیں سلام کا جواب دینے کے بعد وہیں کھڑی اپنے ہاتھوں کی انگلیاں چٹکانے لگی۔

” چلیں!“ زیان کے مخاطب کرتے ہی وہ ان دونوں کے پیچھے چلنے لگے۔ تینوں اس وقت لاؤنج میں چلے آئے تھے ۔

اس کا گھر جتنا باہر سے خوبصورت تھا اندر سے اتنا ہی شاندار اور آرائش کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ تمام چیزیں نفاست اور سلیقے سے رکھی تھیں ۔دیواروں پر آویزاں بیش قیمتیں پینٹنگز پر اس کی نظریں ٹھہر گئیں۔ اس نے دل میں ذوق کو سراہا۔

ایسا لگتا تھا حال ہی میں اس گھر کی تعمیر ہوئی تھی ۔

”مس زارا! “ اسے گم صم دیکھ کے زیان نے اُسے پکارا تو اس کی محویت ٹوٹ گئی اور وہ شرمندہ نظر آنے لگی۔

” گھر کے ملازم میری فیملی جیسے ہیں میں نے انھیں آپ کو اپنا مہمان کہہ کر متعارف کروایا ہے۔

آپ جب تک یہاں ہیں میری مہمان ہیں اور جتنے دن چاہیں یہاں رہ سکتی ہیں اور اگر یہاں رہنے میں کوئی پریشانی ہے تو آپ مجھے اپنے کسی رشتے دار کا پتا بتا دیں میں آپ کو وہاں چھوڑ آؤں گا لیکن ابھی مجھے بہت نیند آ رہی ہے یقینًا آپ بھی تھک گئی ہوں گی تو آرام کر لیں۔

”فہمیدہ آنٹی! آپ انھیں کمرہ دکھا دیں ۔“ اس نے لاؤنج میں داخل ہوتی فہمیدہ خاتون کو دیکھتے ہی مخاطب کیا۔

” سنیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بلاجھجک بتا دیجیے گا۔ “ وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تھا اور

فہمیدہ خاتون اسے کمرے میں چھوڑنے کے بعد وہاں سے چلی گئی تھیں اور کچھ دیر بعد وہ اس کے لیے جوس دے گئی تھیں ۔

کمرہ بہت زیادہ بڑا نہیں تھا لیکن اس کے وسط میں درمیانہ سائز کا خوبصورت سا بیڈ تھا، کمرے میں لائٹ رنگ کے پردے لگے تھے اور ایک اسٹڈی ٹیبل جس پر چند کتابیں سلیقے سے رکھی تھیں۔

وہ اب بھی رات والے ڈریس میں تھی دوپٹے کو سر پر ٹھیک سے لپٹ رکھا تھا۔ اس وقت اس کے پاس پہننے کے لیے اور کوئی کپڑا نہیں تھا اور نہ ہی وہ اپنے ساتھ کوئی بھی سامان لے کر نہیں آئی تھی ۔اُسے موقع ہی کہاں ملا تھا کہ وہ اپنے ساتھ کچھ لے آتی بلکہ اُسے رات میں بے یار و مددگار گھر سے نکال دیا گیا تھا ۔

کچھ دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ اٹھی اور کمرے کے ساتھ بنے واش روم میں گھسں گئی۔اس نے ہاتھ منہ دھویا اور دوپٹے کو دوبارہ سے اپنے گرد لپیٹا اور باہر آگئی۔

★★★★★

جب زبیر کی آنکھ کھلی تو اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا۔ کل رات حد سے زیادہ نشہ کرنے کے باعث وہ دوپہر تک سوتا رہا۔ اس کی آنکھ کھلی تو وہ زارا کو آواز لگانے لگا۔ وہ یہ بھول گیا تھا کہ کل رات اس نے کس طرح اسے دھکا دے کر گھر سے باہر نکال دیا تھا صرف یہی نہیں اس پر گھٹیا الزام بھی لگایا تھا اور اس کے چلانے اور رونے کے باوجود بھی اس نے دروازہ نہیں کھولا تھا۔

کیک اپنی ناقدری پر بین کر رہا تھا جو کل زارا نے اس کے لیے بنایا تھا۔

اس نے بھاری ہوتے سر کے ساتھ اسے پورے گھر میں ڈھونڈا جب وہ اسے کہیں نظر نہیں آئی تو اسی حالت میں وہ کار لے کر باہر نکل گیا۔ اُجڑے بال ، ادھ فولڈ آستین اور جوتوں سے بے نیاز وہاں کی سڑکوں پر کئی گھنٹے تک گاڑی دوڑانے کے بعد بھی اُسے مایوسی ملی تھی۔

وہ تھک ہار کر مایوس سا جب گھر لوٹا تو وہ کہیں سے بھی کل رات والا زبیر نہیں لگ رہا تھا۔

بار بار اس کے ذہن میں ایک ہی خیال آرہا تھا

کہ کیا وہ اسے چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ہر بار وہ اپنی سوچ کی نفی کر دیتا پر سچ تو یہی تھا وہ جاچکی تھی اور وہ اسی کے لائق تھا ۔

”تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتی “

نہیں جاسکتی تم مجھے چھوڑ کر!

سنا تم نے……

میں تمہیں ڈھونڈ نکالوں گا۔“

پورا دن خوار ہونے کے بعد وہ اپنے بالوں کو مُٹھی میں لیے دیوانہ وار چیخ رہا تھا۔

★★★★★

عائشہ اپنے کمرے میں ٹہلتے ہوئے کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔ کال کٹتے ہی موبائل کو بیڈ پر اچھال کے کمرے سے نکلی اور سیدھا لاؤنج میں چلی آئی جہاں ندا خاتون بیٹھی چائے کی چسکیاں لے رہی تھیں۔

” مما مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔“ وہصوفے پر پڑا کشن اُٹھا کر اسے گود میں رکھتے ہوئے بنا کسی تمہید کے بولی تو ندا خاتون نے ایک گھونٹ بھرنے کے چائے کا کپ میز پر رکھ دیا۔

”ہاں بولو!“ وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئی تھیں۔

” میں کسی کو پسند کرتی ہوں مما اور ہم دونوں شادی کرنا چاہتے ہیں۔ وہ کچھ دن میں اپنی ممی پاپا کو ہمارے گھر رشتے کے لیے بھیج رہا ہے۔ “

عائشہ ان کے چہرے کے تاثرات دیکھنے کے لیے رکی تھی ۔اس کی بات سن کر ندا خاتون کو شدید جھٹکا لگا ۔

”یہ تم کیا کہہ رہی عائشہ! تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا! انھوں نے غصے سے ہنکارا ۔

”اس میں غلط کیا ہے مما! ہم دونوں ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور ایک نئی زندگی کی شروعات کرنا چاہتے ہیں ۔نانا ابو کو آپ اور بابا پر کوئی اعتراض نہیں تھا تو پھر آپ اتنا حیران کیوں ہو رہی ہیں۔ “

اس نے ماں کی حیرانی پر ان کے اور نعیم کی شادی کا تذکرہ کیا تو وہ چلانے لگیں۔

” چپ ہو جاؤ عائشہ۔ آگے ایک لفظ نہ کہنا تم ۔

تم اس قدر بدتمیز ہوگئی ہو کہ بڑوں کا لحاظ تک بھول گئی۔ جاؤ اپنے کمرے میں۔ “

انھوں نے غصے سے کہا پر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی۔

”مما! آپ میرے ساتھ ایسے نہیں کرسکتیں۔“

عائشہ ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی ۔

” میں کسی بھی ایرے غیرے سے تمہاری شادی ہر گز نہیں کروں گی عائشہ! یہ بات کان کھول کر سن لو تم! اور بہتر ہوگا یہ خیال اپنے دل سے نکال دو تو اچھا ہے۔“

انھوں تنبیہ انداز میں کہتے ہوئے چائے کا کپ اٹھایا جو اب ٹھنڈی ہوگئی تھی اور وہاں سے اپنے کمرے میں چلی گئیں ۔عائشہ انھیں پیچھے سے آواز دیتی رہی لیکن انھوں نے مڑ کے بھی نہیں دیکھا۔

اُس رات جب ندا خاتون نعیم صاحب کو عائشہ کی پسندیدگی کے متعلق آگاہ کیا تو انھوں نے یہی کہا کہ انھیں کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر وہ لڑکا واقعی اچھا ہوا تو وہ اس رشتے کے بارے میں سوچیں گے۔ ندا خاتون ہر چیز میں اپنی من مانی کرنے کی عادی تھی لیکن بچوں کے معاملے میں نعیم صاحب کی مرضی بھی اہمیت کی حامل تھی ۔نعیم صاحب کا عائشہ کی طرف جھکاؤ دیکھ کر انھیں اپنا سالوں سے دیکھا خواب بکھر جانے کا اندیشہ ہوا ۔ اس پریشانی میں انھوں نے ساری رات کروٹیں بدلتے گزار دی۔

★★★★★

رات میں اس کی کئی بار آنکھ کھلی تھی۔نئے جگہ پر وہ ٹھیک سے سو نہیں پائی تھی۔

بھوک کے باعث اس کے پیٹ میں چوہے کود رہے تھے مگر وہ خود میں اتنا ہمت نہیں کر پائی تھی کہ جاکے اس گھر کے مقیم سے کھانے کے لیے کچھ مانگ سکے ۔

فجر کی نماز پڑھنے کے بعد وہ بیٹھی سوچتی رہی کہ آگے کیا کرنا ہے ، کہاں جانا ہے ۔ زبیر کے اس رویے کے بعد وہ کبھی واپس جانے کو تیار نہیں تھی بلکہ یہی رہ کر اپنی بڑی پھوپھی کا پتا کروانا چاہتی تھی لیکن اس کے پاس نہ تو ان کا فون نمبر تھا اور نہ ہی کوئی ایڈریس اور نشانی۔ اس نے انھیں بچپن میں دیکھا تھا اور اب تو ان کے نقوش گڈ مڈ ہوچکے تھے ۔

جب فہمیدہ خاتون اسے ناشتے کے لیے بلانے آئیں تو اس نے اپنا من بنا لیا تھا کہ جب تک اسے کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں مل جاتا وہ یہیں رہے گی۔

وہ فہمیدہ خاتون کے ساتھ ڈائنگ ٹیبل پر پہنچی تو وہ وہاں بیٹھا بڑے انہماک سے اپنی پلیٹ پر جھکا آملیٹ کی ٹکڑے کاٹ کاٹ کر منہ میں رکھ رہا تھا۔ جیسے ہی اس کی اس پر نظر پڑی اس نے مسکرا سر کو جنبش دے کر سلام کیا اور بیٹھنے کا اشارہ کرکے گلاس میں جوس انڈیلنے لگا ۔

”فہمیدہ آنٹی زارا کے لیے جوس لے آئیں ۔“ اس نے سامنے کھڑی فہمیدہ خاتون کو مخاطب کیا۔

وہ خاموشی سے وہاں بیٹھ گئی ۔ جب تک وہ ناشتہ کرتی رہی وہ وہیں بیٹھا انتظار کرتا رہا۔

اس نے دو ٹوسٹ لیے تھے ۔اسے کھانے سے ہاتھ کھینچتے دیکھ کر اس نے اپنے جوس کا گلاس زارا کی جانب بڑھا دیا تھا۔

”تو پھر کیا سوچا آپ نے ؟“

جب وہ ناشتے سے فارغ ہوئی تو اس نے پوچھا۔

”میں چند دنوں میں یہاں چلی جاؤں گی ۔جب تک مجھے کوئی دوسرا ٹھکانہ نہیں مل جاتا مجھے یہاں رکنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔“ اس نے جھکی نظروں کے ساتھ اپنا فیصلہ سنایا تو وہ پرسکون سا ہوگیا۔ اس نے اُس کے فیصلے کو سراہا تھا ورنہ کل وہ جس طرح بے وقوفانہ باتیں کر رہی تھیں وہ اسے اس کی کم عقلی ہی سمجھ رہا تھا۔

وہ جان گیا تھا کہ کم از کم اس شہر میں اس کا اپنا کوئی نہیں ہے تبھی وہ اسے کسی ہوٹل میں چھوڑنے کا کہہ رہی تھی ۔اس لیے کل رات اس نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی تھی کیوں کہ وہ چاہتا تھا کہ زارا خود ہی فیصلہ کرے کہ اسے کیا کرنا ہے۔

فہمیدہ خاتون تب تک جوس کا گلاس لے آئی تھیں زارا کمرے میں جانے کے ارادے سے وہاں سے اٹھی تو بے دھیانی میں فہمیدہ خاتون سے ٹکرا گئی ۔اس ٹکراؤ سے فہمیدہ خاتون کے ہاتھ سے جوس کا گلاس چھوٹ کر زمین بوس ہوگیا۔

وہ پیچھے ہٹتی تب تک جوس کے چند قطرے اس کے کپڑے پر گر گئے تھے ۔

”اوو نو! “ اپنے کرتے کی یہ حالت دیکھ کر وہ روہانسی ہوگئی۔ اس وقت اس کے پاس پہنے کےلیے سوائے اس جوڑے کے کچھ نہیں تھا۔

”اوہ سوری بیٹا!،“

اس کی پریشان صورت دیکھ کر اپنے غلطی نہ ہونے کے باوجود فہمیدہ خاتون معذرت گواہ لہجے میں کہا تو زارا کو شرمندگی نے گھیر لیا۔

”نہیں…نہیں… پلیز آپ مجھ سے معافی مت مانگیں ۔مجھے دیکھ کر چلنا چاہیے تھا۔“

اصل میں غلطی بھی اس کی اپنی تھی وہ بنا پیچھے دیکھے اچانک سے اُٹھی تھی اور فہمیدہ خاتون سے ٹکرا گئی تھی۔

وہ اپنی کرسی چھوڑ چکا تھا جبکہ فہمیدہ خاتون وہاں سے کانچ کے ٹکڑے اُٹھا کر جاچکی تھیں۔

”آپ ٹھیک ہیں؟“ اس نے زارا کو پریشان دیکھ کر پوچھا۔

”جی! “ اس نے سر اٹھا کر اس کی جانب دیکھ کر بتایا ۔

” لیکن آپ کے کپڑے تو پورے خراب ہوگئے ہیں ۔

میں شام تک کچھ خرید لاؤں گا جب تک آپ چاہیں تو میرے کپڑے پہن سکتی ہیں۔

فہمیدہ خالہ آپ انھیں….

وہ کہتے کہتے رکا اس کے چہرے پر آیا غصہ دیکھنے کے بعد اسے اپنی حماقت کا احساس ہوا تو وہ اپنا سر کھجانے لگا۔وہ دونوں کوئی گہرے دوست نہیں تھے اور نہ ہی کوئی رشتے دار تب بھی کسی لڑکی کو اس طرح کہنا نامناسب تھا۔

زارا غصہ آنے کے باوجود بھی خاموش کھڑی تھی کیوں کہ ابھی وہ اس کے رحم و کرم پر تھی اگر اس کی کسی بات کا بُرا مان کر وہ اسے گھر سے نکال دیتا جیسے زبیر نے نکالا تھا تو وہ کہاں جاتی اس کے پاس ایک وقت کا کھانا کھانے تک کے پیسے بھی نہیں تھے۔ لیکن وہ ایک غلطی بار بار نہیں کرسکتی تھی۔ انسانوں پر بھروسہ کرنے کی غلطی اور ان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بننے کی غلطی….. جس نے آج اسے اس موڑ پر لا کر کھڑا کر دیا تھا ۔

” میں شام میں کپڑے لے آؤں گا۔ “ ماحول کو ٹھیک کرنے کے لیے اس نے کہا۔

”اس کی ضرورت نہیں ہے ۔“

وہ کہتی ہوئی کمرے میں چلی آئی تھی اور ان کپڑوں کو اچھے سے صاف کر لیا تھا لیکن وہ شام میں اس کے لیے چند ڈریس لے آیا تھا ۔تنہائی سے اکتا کر وہ کچن کی چلی آئی تھی جہاں فہمیدہ خاتون کام کر رہی تھیں ۔ وہ وہیں کھڑی انھیں کام کرتا دیکھ رہی تھی جب وہ کچن میں داخل ہوا ۔

” اچھا ہوا مجھے آپ یہاں مل گئیں ۔یہ رہے آپ کی امانت ۔“

وہ شاپنگ بیگز اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا تو اس نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔

”میں نے آج سے پہلے کبھی لڑکیوں والے کپڑے نہیں خریدے اس لیے شاید یہ آپ کو پسند نہ آئیں ۔“

وہ شانے اُچکاتے ہوئے بڑے مزے سے اپنے نئے تجربے سے اُسے آگاہ کر رہا تھا۔

” یہ میں نہیں لے سکتی“ اس نے صاف انکار کر دیا ۔ ان بیگز کو ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا۔

”کیوں نہیں لے سکتی ہیں؟ یہ میں آپ کے لیے ہی لے کر آیا ہوں ۔“

وہ پورے دو گھنٹے لگا کر دوکانوں میں گھومنے کے بعد اس کے لیے چند کپڑے خرید پایا تھا ۔اس کے انکار کرنے پر وہ حیران ہوا ۔

”میں پہلے ہی یہاں رہ رہی ہوں اور یہ سب!“ اس نے وضاحت کی۔

”اچھا تو یہ بات ہے، مجھے معلوم ہے آپ کافی خوددار ہیں۔ اگر مجھ سے کچھ بھی لینے سے آپ کی خودداری کو ٹھیس پہنچے تو آپ بعد میں مجھے اس کے پیسے ادا کر دییجیے گا۔“

وہ بڑی آسانی سے اس کی نہ کو ہاں میں بدل چکا تھا۔

جبکہ زارا حیران ہو رہی تھی کہ کوئی بنا رکے اتنی روانی میں کیسے بول سکتا کیوں کہ جب کبھی وہ بولنا شروع کرتا تو بولتا ہی چلا جاتا اور ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا وہ پہلی ملاقات میں ہی جان گئی تھی کہ یہ بولے بغیر نہیں رہ سکتا۔

”اب میں اتنا بھی نہیں بولتا۔“

اسے گُم صم دیکھ کر وہ شرارتی انداز میں بولا تو بالکل درست اندازہ لگانے پر وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔ اسے فکر ہوئی کہ وہ کہیں اس کا دماغ تو پڑھ رہا تھا۔

”اب آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں وہ کیا ہے نا اکثر لوگ مجھ سے مل کر یہی کہتے ہیں کہ میں بولتا بہت ہوں تو مجھے لگا شاید آپ بھی یہی سوچ رہی ہوں گی ۔دراصل میں ایک وکیل ہوں اور اس لحاظ سے بولنا میرے پیشے کا اولین حصّہ ہے۔ ویسے بچپن سے ہی۔“

” میں یہ رکھ دیتی ہوں۔“

اسے نان اسٹاپ بولتا دیکھ کر وہ معذرت کرتی ان بیگز سمیٹ کمرے کی طرف بڑھ گئی۔ اس سے یا اس کی زندگی سے جُڑی کسی بھی کہانی سُننے میں زارا کو کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *