Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Last updated: 10 February 2026

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid

نعیم حسین کے گھر آج سب صبح سویرے ہی اُٹھ گئے تھے ۔ناشتے سے فارغ ہوکر گھر کے سبھی افراد کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے۔ ندا خاتون کمرے میں کھڑی ملازمہ سے کونے کھدروں کی صفائی کروا رہی تھیں۔
”کلثوم....! بیڈ شیٹ بھی بدل دو ۔“
پھر ندا خاتون نے الماری سے پردے نکال کر دیے اور اسے میں تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔
مالکوں کے آنکھ سے بچ بچا کر کام میں ڈنڈی مارنے میں ماہر کلثوم بی آج پکڑی گئی تھی اس سے بھی چُن چُن کر کام لیا جا رہا تھا۔
زیان آنے والا تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ ہر چیز پرفیکٹ ہو ۔کوئی بھی کمی بیشی نہ رہے بس اسی لیے آج یہاں رہنے والا ہر فرد گھن چکر بنا ہوا تھا۔
زیان جب چھوٹا تھا تب سے وہ اسے اپنا داماد بنانے کا خواب دیکھ رہی تھیں ۔اپنی منہ پھٹ اور خود سر بیٹی کے لیے بیٹھے بٹھائے اتنا خوبصورت اور امیر لڑکا مل رہا تھا۔وہ کیوں کر یہ موقع ہاتھ سے جانے دیتیں۔
عائشہ کی پیدائش کے وقت انھوں نے باتوں باتوں میں حلیمہ خاتون کے کان میں یہ بات ڈال دی تھیں۔ حلیمہ خاتون نے تو بچوں پر چھوڑ دیا تھا لیکن انھیں پورا یقین تھا کہ ان کا یہ خواب ضرور سچ ہوگا۔ صفائی کے بعد وہ کلثوم کے سر پر کھڑی ہوکر مختلف قسم کے لوازمات بھی تیار کرواتی رہیں۔لائبہ اسکول سے آئی تو ماں کو تیاریوں میں مصروف دیکھ کر مسکرانے لگی اتنے عرصے بعد زیان آ رہا تھا اور وہ خود بھی زیان کے آنے کی خبر سُن کر بہت خوش تھی۔ اس نے اپنی ماں سے ہی اس کا کافی ذکر سن رکھا تھا وہ دو تین سال کی تھی جب وہ لوگ پاکستان سے امریکہ شفٹ ہوگئے تھے ۔ اس نے اس کی تصویریں ہی دیکھی تھیں اور کبھی کبھار فون پر بات کیا تھا۔
ظفر بھی کافی خوش تھا اس کے آنے کی خوشی میں وہ آج اپنا کرکٹ میچ کا پروگرام بھی ملتوی کر چکا تھا۔
اس گھر میں اگر کوئی نا خوش تھا تو وہ عائشہ نعیم تھی۔ نا جانے وہ اسے کیوں پسند نہیں کرتی تھی ۔وہ اس کا نام سنتے ہی بھڑک جاتی تھی اور ایسا بچپن سے ہوتا آیا تھا۔
شام چار بجے کے قریب اُس نے فون پر اطلاع دی کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا ہے کچھ دیر میں پہنچ جائے گا۔
نعیم صاحب اپنے تمام معاملات سے الگ تھلک آفس کے کام کر رہے تھے۔
دو دن پہلے انھیں زیان کی آنے کی خبر ملی تھی گھر کے سارے کام ندا خاتون دیکھتی تھیں ۔ہر کام ان کی مرضی سے ہی ہوتا تھا انھیں بس بتایا جاتا تھا۔
وہ ندا کی فطرت سے واقف تھے۔ دولت پانے کی خواہش نے انھیں خود سر بنا دیا تھا۔ شادی ہوتے ہی ان پر انکشاف ہوگیا کہ آرام و آسائش والی زندگی کی خواہاں ہیں اور اس لیے محبت کی شادی کے باوجود وہ انھیں کم مائیگی کے طعنے دینے سے باز نہیں آتی تھیں۔
اپنے چھوٹے بھائی عباس کی وفات کے بعد ان کی جائیداد پر بھی قبضہ کرلیا بلکہ بے چاری زارا کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔
انھیں اس مادیت پرست عورت کو دیکھ کر شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوتا جو انھوں نے ان سے شادی کر کے کی تھی۔ وہ انھیں سمجھا کر تھک چکے تھے ۔ایسا کرنے پر ان کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا جس سے گھر کا ماحول خراب ہوجاتا یہ سوچ کر انھوں نے سمجھانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ شادی ان دونوں کی مرضی سے ہوئی تھی اب شکایت کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *