Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Pe Lagay Zakham (Episode 03)

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid

گھڑی صبح کے دس بجا رہی تھی لیکن وہ مہمان آنے کا سُن کے اس وقت کچن میں کھڑی کھانا بنانے میں مصروف تھی تبھی دروازے پر بیل ہوئی۔

”لگتا ہے آگئیں!“

وہ زیر لب بڑ بڑاتے ہوئے سامنے لگے نل سے ہاتھ دھونے کے بعد کچن سے نکل کر دروازے تک آئی اور دروازہ کھول دیا ۔

وہ دوپٹہ درست کرنے میں اتنی مگن تھی آنے والے شخص پر دھیان ہی نہیں گیا تھا ۔

” السلام علیکم! “

مردانہ آواز جب اس کی سماعت سے ٹکرائی تو ایک اس نے دروازے کی اور دیکھا اور اس کے چہرے کے نقوش تن گئے ۔ وہ اس کے لیے ایک مصیبت بن کر نازل ہوا تھا ۔وہ جتنا اس سے جان چھڑانا چاہتی تھی وہ بار بار اس کی نظروں کے سامنے آ جاتا تھا۔

”تم ۔۔۔۔۔تم پھر آگئے ؟ تمہیں اور کوئی کام وام نہیں ہے کیا ؟ جو یوں منہ اُٹھائے چلے آتے ہو۔“

وہ غصّے سے آگ بگولہ ہوتے سخت لہجے میں اس سے مخاطب ہوئی اگر اسے پتہ ہوتا کہ دروازے پر وہ ہوگا تو وہ دروازہ کھولتی ہی نہیں ۔سامنے کھڑے سفید کرتا ملبوس کیے دراز قد شخص پر تو جیسے حیرت کے پہاڑ ٹوٹے تھے۔ وہ بے یقینی کے عالم میں اسے یک ٹک دیکھے گیا۔

”آخر اس لڑکی کے ساتھ مسئلہ کیا ہے سامنے والے کی پوری بات سُنے بغیر ہی بولنا شروع کر دیتی ہے “ وہ بڑ بڑانے لگا۔

وہ اسے بت بنے دیکھ کر مزید غصے میں آگئی ۔

”جاؤ یہاں سے اور اپنی یہ سڑی ہوئی شکل آئندہ دکھانے کی زحمت مت کرنا ۔“

وہ اس کی طرف دیکھ کر شہادت کی انگلی کی مدد سے گول دائرہ بناتے ہوئے بولی تھی ۔

”ایکسکیوز می! اب آپ بد تمیزی کر رہی ہیں۔ کوئی اس کے خوبصورت سے چہرے کی توہین کرے میں یہ برداشت نہیں کر سکتا ۔

وہ اس کی بات سن کر تپ گیا تھا وہ اسے افسوس کے ساتھ دیکھتے ہوئے بولا۔ وہ ایک خوبصورت پرسنالٹی رکھتا تھا لوگوں کے درمیان اس کی کافی عزت تھی ۔یہی نہیں امریکہ میں اس کے اس چہرے پر ہزاروں لڑکیاں مرتی تھیں یہ الگ بات تھی کہ فی الحال کسی کو میسر نہیں تھا لیکن یہ لڑکی اس کی اس طرح توہین کرے وہ یہ بات کیسے برداشت کرسکتا تھا۔

”کیوں آئے ہو ؟“

زارا سیدھا کم ٹو ڈی پوائنٹ آئی۔ کچھ دیر میں زبیر کی چاچی اپنی فیملی سمیت آنے والی تھیں اگر وہ اسی طرح دروازے پر جما رہتا تو اُسے ڈر تھا کہ کہیں زبیر تک یہ بات نہ پہنچ جائے ۔وہ پہلے ہی اس پر شک کرتا تھا اور وہ اسے مزید کوئی موقع فراہم نہیں کرنا چاہتی تھی۔

اس نے چائے کا کپ اس کے سامنے کرتے ہوئے کہا

”یہ لیں! “

”یہ دینے آئے تھے تم ، پہلے کیوں نہیں بتایا ؟“

وہ حیران ہوئی تھی اس بار لہجہ دھیما اور پُر سکون تھا۔

”بولنے دیا ہوتا تو بتاتا نا! ، بات بے بات شیرنی کی طرح کھانے کو ڈورتی ہو ۔“

وہ ایسا صرف سوچ سکا تھا۔ اس کے چہرے پر تلخ مسکراہٹ ابھر کر معدوم ہوئی۔

”ٹھیک ہے مہربانی کرکے آپ جائیں۔“

ایک دم سے وہ تم سے آپ پر آئی تھی۔ اس کے بدلے انداز پر اسے شدید جھٹکا لگا اس کے معصومیت دیکھ کے وہ اپنے آنے کے مقصد بھول ہی گیا تھا ۔

”سُنیں مس!! ایک کپ چائے مل سکتی ہے ۔وہ کیا ہے نا میں نے چائے بنائی لیکن دو بار بنا کر پھینکنا پڑی ۔وہ آپ کی چائے کی طرح بنی ہی نہیں۔“

وہ مسکراتے ہوئے اسے بتا رہا تھا۔ زارا کا منہ بن گیا۔

” تو اتنا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔صاف صاف کہہ دیتا چائے مانگنے آیا ہے۔“

اس نے دانت پیستے ہوئے سوچا اور خاموشی سے دروازہ بند کرکے اندر چلی گئی۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو اس کے ہاتھ میں چائے کا کپ تھا۔

” پکڑیں!! یہ آخری بار ہے لیکن بار بار یہ ڈرامہ نہیں چلے گا اور اسے واپس کرنے کی ضرورت نہیں ہے اسے اپنے پاس ہی رکھ لینا اور ایک بات خدارا آپ اپنے گھر میں رہیں اور دوسروں کو اپنے گھر میں خوش رہنے دیں “

وہ باقاعدہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر بولی تھی۔ اس کی آنکھوں میں التجا تھی ۔وہ کچھ بول نہیں پایا۔ ان دو دنوں میں پہلی بار اُسے لگا کہ شاید وہ کچھ چھپا رہی تھی لیکن پھر اپنی سوچ کی نفی کرتے وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ زارا پھر سے اپنے کاموں میں لگ گئی۔سوئیٹ ڈیش تیار کرکے وہ فریج میں رکھ چکی تھی ، بریانی دم پر رکھ کر رائتہ اور کباب تیار کرنے لگی۔ یہ سب تیار کرتے ہوئے کافی دیر ہوگئی تھی تب بھی لبنیٰ چاچی نہیں آئی تھیں۔

لبنیٰ خاتون زبیر کی منہ بولی چاچی تھیں اور وہ بچپن میں ان کے ساتھ ہی رہتا تھا پھر اس نے اپنا گھر خرید لیا اور یہاں لاھور میں چلا آیا۔ وہ جب شاور لے کر نکلی تو دروازے پر بیل ہوئی اس نے اس بار پوچھ کے دروازہ کھولا تو سامنے لبنٰی چاچی اپنے بچوں کے ساتھ کھڑی تھیں ۔

آج کا سارا دن یونہی کام کرتے اور مہمانوں کی خدمت کرتے گزر گیا مگر وہ بستر پر جاتے ہی سکون کی نیند سوئی تھی۔

لبنٰی چاچی بہت اچھی تھیں۔وہ مزاج کی سُلجھی ہوئی خاتون تھی غصّہ ان کی شخصیت میں دور دور تک نہیں نظر آیا تھا۔ ان کے بچے بھی کافی خوش اخلاق اور ملنسار تھے علی بارہ تیرہ سال کا ایک خوش شکل لڑکا تھا جو ساتھویں جماعت میں پڑھتا تھا جبکہ شزا اس کی ہی ہم عمر تھی اور بی ایس سی کی فرسٹ ائیر کی طلبہ تھی وہ ان سے مل کر خوش تھی شادی کے بعد وہ سب اس کے گھر دوسری بار آئے تھے۔

دوسرے روز رات کا کھانے کے وقت سب ڈائینگ ٹیبل پر بیٹھے اپنی اپنی پلیٹ پر جھکے کھانے میں مصروف تھے تب شزا نے اُسے مخاطب کیا۔

”زارا بھابھی!! آپ کچھ زیادہ ہی کمزور نہیں ہوگئیں ؟ پچھلی بار جب ہم آئے تھے تب آپ ٹھیک ٹھاک تھیں۔”

وہ جواب طلب نظروں سے اسے ہی دیکھ رہی تھی

”کہاں کمزور ہوئی بلکہ مجھے تو لگتا ہے پہلے سے موٹی ہوگئی ہوں ۔“

اس نے جھوٹ کہا وہ واقعی پہلے سے کمزور ہوگئی تھی۔

” مجھے تو لگ رہی ہیں ۔ لگتا ہے زبیر بھائی آپ سے بہت کام کرواتے ہیں انھیں ملازموں کا کام جو پسند نہیں آتا ۔ خیر ایک بات پوچھوں ؟ “

وہ چہرے پر شرارتی مسکراہٹ سجائے زارا سے بولی

” بنا جھجھک پوچھو! تمہیں مجھ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے شزا “

وہ آخری نوالہ منہ میں ڈال کر پلیٹ کو آگے کھسکاتے ہوئے اپنے لیے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوئے بولی۔

”آپ کو زبیر بھائی کیسے لگتے ہیں ؟“

شزا پرتجسس نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے جواب کی منتظر تھی جبکہ زارا کو زبیر کا نام سُن کر اچھو لگ گیا ۔

اس نے بمشکل ہی پانی کا گھونٹ حلق سے نیچے اتارا پھر گہرا سانس لینے کے بعد مختصراً بولی۔

”اچھے ہیں۔ “

”صرف اچھے؟ مجھے لگا آپ کہیں گی بہت اچھے ۔“

اس نے مایوسی کے ساتھ زارا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا جو اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی وہ دونوں ہم عمر تھیں لیکن اس کے مقابلے میں وہ کتنی تر و تازہ اور خوبصورت نظر آرہی تھی جبکہ اس کے نین و نقش شزا سے قدرے اچھے تھے لیکن اس کا رنگ زرد پڑ گیا تھا اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے پڑ گئے تھے۔

” بہت اچھے ہیں۔“ یہ کہتے ہوئے اس کے اندر درد بھر گیا تھا لیکن اس نے اس کے اپنوں کے سامنے اس کا مان رکھنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا۔ یہ جانتے ہوئے کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے وہ ناچاہتے ہوئے بھی جھوٹ پر جھوٹ بول رہی تھی۔ پہلے خود سے پھر دوسروں سے کیوں کہ وہ اپنے رشتے کی حقیقت دوسروں پر عیاں نہیں کرنا چاہتی تھی ۔ ایک ایسا شخص جو اس پر بھروسہ نہیں کرتا تھا ،اس پر ہاتھ اُٹھاتا تھا ، اسے شک کی نگاہ سے دیکھتا تھا ایسے شخص کے بارے میں وہ اور کیا کہتی ۔

”چپ ہوجاؤ شزا! کتنی بار سمجھاؤں کھاتے وقت یوں بات نہیں کرتے جلدی سے کھانا ختم کرکے کمرے میں جاؤ، بتایا بھی ہےکہ ہمیں صبح جلدی نکلنا ہے ۔“

لبنٰی خاتون ڈپٹنے والے انداز میں بولیں ۔

شزا کی پلیٹ ویسے ہی بھری تھی اس نے چند لقمے کے سوا کچھ نہیں کھایا تھا جبکہ وہ ، زارا اور علی اپنا کھانا ختم کرچکے تھے ۔علی ہاتھ دھونے کے لیے اٹھتے ہی بولا

”شب بخیر سوئیٹ فیملی ۔

”سیم ٹو یو! “

زارا کے ساتھ وہاں بیٹھے تمام نفوس ایک ساتھ بولے تھے۔

”زارا!! بیٹا تم ٹھیک ہو ؟”

زارا کا زرد اور مرجھایا ہوا چہرہ دیکھا تو انھوں نے پوچھ لیا۔

”دیکھو بیٹا!! اگر زبیر کچھ کہے تو اس کی بات کا بُرا مت ماننا ۔وہ مزاج کا تھوڑا سخت ہے بہت جلدی غصّہ کرنے لگتا ہے بلکہ اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ۔ اس کی زندگی بچپن سے ہی کافی تلخ رہی ہیں شاید وہ اس لیے ایسا ہوگیا ہے ۔

تو کیا اس کے چہرے پر چھائی اداسی لاکھ چھپانے کے باوجود بآسانی نظر آنے لگی تھی؟ اس نے سوچا اور رکی سانس ہوا کے سپرد کرتے خود کو پر سکون کرتی ان کی طرف متوجہ ہوئی۔

”جی چاچی جان! میں ٹھیک ہوں اور آپ فکر مت کریں ۔میں آپ کو شکایت کا موقع نہیں دوں گی۔“

زارا نے یہ الفاظ بہت ہمت اور ضبط کے ساتھ ادا کیے تھے اندر سے وہ بالکل ٹوٹ گئی تھی ۔ صبر کرنا شاید اس کے نصیب میں لکھ دیا گیا تھا۔ وہ انھیں کیا بتاتی کہ وہ زبیر کے ظلم و ستم سہنے کے باوجود اس سے آج تک یہی اُمید رکھتی ہے کہ وہ اسے سمجھے گا اور اس کا رویہ بدل جائے گا۔

” خوش رہو میری بچی! “

انھوں نے کرسی سے اُٹھ کے زارا کو گلے سے لگا لیا کچھ دیر وہ اس کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرتی رہیں پھر اسے اپنے ساتھ لیے کمرے کے جانب چل دیں ۔شزا بھی ان کے تعاقب میں چلی آئی۔

ان کی فیملی دوسرے دن جانے والی تھی لبنٰی خاتون کا پیار بھرا انداز دیکھ کے اس کے دل نے یہ خواہش کی کہ کاش وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہیں ۔آج اسے اس گھر میں خوف محسوس نہیں ہو رہا تھا کیوں کہ اتنے سارے لوگ تھے جو دل سے اسے پیار کرتے تھے کوئی دکھاوا یا غرض نہیں تھا لیکن یہ سب صرف چند دن کے لیے پھر سے وہ اسی تکلیف سے گزرتی ۔ویسی ہی کانٹوں بھری زندگی…..جس پر چلنے سے پاؤں کے ساتھ ساتھ دل بھی زخمی ہو جاتا ہے۔

زارا کی آنکھ فجر کی اذان کے وقت کھلی تھی اس نے اپنے برابر میں سوئی شزا کو دیکھا جو گہری نیند میں تھی ۔

”شزا….شزا اٹھ جاؤ! “ زارا نے اسے کئی آوازیں لگائیں لیکن اسے تس سے مس نہ ہوتا دیکھ وہ بستر سے اتر کر واش روم کی سمت بڑھ گئی۔ کچھ دیر بعد وہ واپس آئی تو اس کا چہرہ پوری طرح بھیگا ہوا تھا وہ وضو کر آئی تھی۔ زارا بیڈ تک آئی جہاں شزا اب بھی گہری نیند سو رہی تھی ۔

”شزا! اُٹھ جاؤ یار ، نماز کا وقت نکل جائے گا، پڑھ لو پہلے پھر سو جانا۔“

اس کی آواز کو خاطر میں لائے بغیر شزا اٹھنے کے بجائے کسمساتے ہوئے کروٹ بدل کر سو گئی تو اُسے اس کی ڈھٹائی پر حیرانی ہوئی ۔

اس نے اپنی محنت بے کار جاتا دیکھ کر بیڈ کے قریب رکھی میز سے پانی کا جگ اٹھایا اور جگ میں موجود پانی اُس پر انڈیل دیا۔

شزا ہڑ بڑا کر اٹھ کر بیٹھ گئی اس نے تسلی کے لیے ادھر اُدھر نگاہیں دوڑائیں کہ کہیں سیلاب تو نہیں آگیا لیکن اپنے سامنے کھڑی زارا کے ہاتھ میں خالی جگ دیکھ کر ہوش کی دنیا میں لوٹ آئی۔

” زارا بھابھی! آپ نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا ۔“ اس نے سینے پر ہاتھ کر سب سے پہلے شکر ادا کیا اور زارا کو غصے سے گھورتے ہوئے بولی۔

” یہ دیکھیں کیا کیا آپ نے؟“ پھر اپنے گیلے کپڑے کو دیکھ کر اس نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے منہ بنا کر پوچھا۔

” سوری! میں کب سے تمہیں اٹھا رہی تھی ۔ نماز کا وقت نکل جاتا ؟ “زارا کی وضاحت سن کر وہ روہانسی ہوگئی ۔

”یہ صبح اتنی جلدی کیوں ہو جاتی ہے آخر ۔ابھی تو آنکھ لگی تھی میری۔“

وہ جمائی لے کر اپنی مندی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے دکھی انداز میں کہتی اٹھ گئی۔

”کتنی سُست ہو یار تم! ڈرامے بند کرو اور جلدی سے کپڑے بدل کر آؤ ۔“ زارا حاکمانہ انداز میں کہتے ہوئے جائے نماز بچھا چکی تھی۔

شزا نماز ادا کرتے ہی سُو گئی تھی اور زارا تلاوت کرکے کچن میں آگئی تھی ۔اسے سب کے لیے ناشتہ تیار کرنا تھا وہ لوگ صبح نکلنے والے تھے تو ناشتہ بھی جلدی کرتے۔

”ارے زارا بیٹا! تم اتنی صبح صبح یہاں کیا کر رہی ہو؟“

لبنٰی خاتون جیسے ہی کچن میں داخل ہوئیں اُسے کچن میں کھڑی کام کرتے دیکھ کر بولیں ۔

”کچھ نہیں چاچی جان….. بس آپ سب کے لیے ناشتہ تیار کر رہی تھی ، آپ کو کچھ چاہیے تھا ؟” آٹا گوندھتی زارا انھیں کچن میں دیکھ کے مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی ۔

” بیٹا پیاس لگی تھی تو پانی لینے آئی تھی ۔” انھوں نے اپنے آنے کے مقصد سے آگاہ کیا تو وہ شرمندہ ہوگئی۔

”سوری چاچی جان! میں کل جلدی جلدی میں آپ کے کمرے میں پانی کا جگ رکھنا ہی بھول گئی۔ “

”کوئی بات نہیں بیٹا!” کل سے تم ہماری خدمتوں میں لگی ہو میں خود ہی آگئی اس میں کونسی بڑی بات ہے۔ اور تم ابھی یہ کام کیوں کر رہی ہو ؟ جاو جا کر سو جاؤں!اپنی نیند خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ دونوں دیر سے اُٹھتے ہیں ۔“

”آپ فکر مت کریں چاچی جان! مجھے عادت ہے ،ویسے بھی میں زبیر کے لیے روز صبح سویرے ہی ناشتہ تیار کرتی ہوں ۔“

مہمان کچھ بھی کہے میزبان کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے اس نے بھی جلدی جلدی ہاتھ چلاتے ہوئے انھیں بتایا تو وہ آگے بڑھ کر اس کا ماتھا چومتے ہوئے دعائیں دینے لگیں اور پانی کا جگ لیے واپس کمرے میں چلی گئیں۔

شزا نو بجے کے قریب اُٹھی تھی جبکہ علی ابھی باہر سے چہل قدمی کرکے آیا تھا ۔

زارا تب تک ٹیبل پر ناشتے میں موجود سارے لوازمات کو کھانے کی میز پر سجا چکی تھی۔ شزا کے اٹھتے ہی سب نے مل کر ناشتہ کیا ۔ پھر کچھ دیر بات چیت کرنے کے بعد وہ لوگ ایئر پورٹ کے لیے نکل گئے ان کی فلائٹ ٹائمنگ دوپہر بارہ بجے تھی اس لیے انھیں جلدی نکلنا پڑا۔

لبنیٰ چاچی کی فیملی کے علاوہ زارا اب تک زبیر کے کسی جاننے والے یا رشتے دار سے نہیں ملی تھی اور نہ ہی زبیر کے گھر والوں کے بارے میں جانتی تھی۔

ان کے جاتے ہی زارا کو تنہائی کا شدت سے احساس ہو رہا تھا ۔وہ گھر میں بالکل اکیلی رہ گئی تھی۔

کھڑکی اس کے لیے کتھارسس کا روپ اختیار کرتی جا رہی تھی جہاں وہ زبیر کی غیر موجودگی میں بیٹھ کر باہر کی ہر چیز کو آس بھری نظروں سے دیکھتی تھی۔ ہر منظر زندگی کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔وہاں لگے درخت ، تیز ہوا کے باعث جھولتی شاخیں ، کھیلتے کودتے بچے ہر شے زندگی سے بھرپور تھی لیکن آج یہ سب بھی اس کے اندر کی اداسی اور محرومی کو کم کرنے کی بجائے بڑھا رہے تھے ۔ لبنٰی خاتون کا پیار اُسے رہ رہ کر یاد آ رہا تھا۔ اتنے کم وقت میں بھی وہ ان کے پیار اور شفقت بھرے لمس سے اتنی مانوس ہوگئی تھی کہ اب ان کی شدت سے کمی محسوس ہو رہی تھی۔

کاش وہ ہمیشہ اس کے ساتھ رہتیں اور کبھی اسے چھوڑ کر نہیں جاتیں تو اسے ماں کا پیار مل جاتا لیکن خواہشیں ساری کہاں پوری ہوتی ہیں کچھ ادھوری رہ جاتی ہیں۔

اس نے ایک طویل سانس لے کر اپنے اندر سُکون اتارنے کی ناکام کوشش کی پھر اٹھ کر ہال میں چلی آئی۔ قریب پڑے اخبار کو کھول کے ابھی چند سطور ہی پڑھے تھے کہ دروازے پر بیل ہوئی ۔

”ایک…….دو……اور پھر کئی بار ۔

لیکن اس نے دروازہ نہیں کھولا

تقریبًا گیارہ بجے کا وقت تھا ۔ پچھلے دو تین دن سے وہ اپنے نئے ہمسائے سے شدید پریشان تھی ۔

اس لیے وہ سن کر بھی ڈھیٹوں کی طرح بیٹھی رہی۔ اس نے سوچا جب دروازہ نہیں کھولے گی تو وہ خود ہی تنگ آ کر چلا جائے گا ۔پہلے ہی وہ اداس تھی مزید کوئی بحث و مباحثہ کرنا نہیں چاہتی تھی ۔

لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔آنے والا مستقل مزاجی کا ثبوت دیتے ہوئے بیل پر ہاتھ رکھ کر بھول گیا تھا ۔

زارا اپنا ارادہ ترک کرکے اٹھ گئی اور تیز قدموں سے چلتی دروازے تک آئی اور دروازہ کھول دیا۔

”تمہیں ایک بار میں بات سمجھ نہیں آتی ہے جو روز روز مجھے پریشان…..“

جیسے ہی دروازہ کھولا اس کی آواز حلق میں اٹک گئی اور وہ بت بنے اسے دیکھنے لگی ۔ سامنے کھڑا زبیر غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا۔

”یہ کیا بکواس ہے؟ کب سے بیل پر بیل دیے جا رہا ہوں سنائی نہیں دیتا تمہیں ، کہاں مری پڑی تھی تم؟ اب ہٹو یہاں سے! “

ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہتا ہوا وہ آگے بڑھ گیا تھا ۔

” وہ میں….“ ذہن میں الفاظ ترتیب دینے کے باوجود بھی اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا جواب دے وہ تو شکر تھا کہ زبیر ہال میں موجود صوفے کی طرف بڑھ گیا تھا۔ اس نے تیز قدموں سے کچن کی رخ کیا اور پانی کا گلاس لیے حاضر ہوئی۔

” پانی“

وہ صوفے پر بیٹھا ہوا کف کے بٹن کھول رہا تھا اس نے نظر اُٹھا کر سامنے کھڑی زارا کو دیکھا جس کے چہرے پر خوف اور اداسی رقم تھی ۔ اس نے بنا کچھ کہے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کے گھونٹ بھرے اور خالی گلاس سامنے میز پر رکھ دی۔

”تم دروازہ کیوں نہیں کھول رہی تھی؟“

وہ گلاس لیے وہاں سے جانے لگی کہ زبیر کا سوال نے اس کی دھڑکنوں کو بڑھا دیا، پتا نہیں وہ آگے کیا سوچ رہا تھا۔

”مجھے لگا کہ…..“

زارا نے ڈرتے ڈرتے کہا۔

”کیا لگا تمہیں؟“ فوراً سے پیشتر پوچھا گیا۔

”وہ…..مجھے لگا بچے ہوں گے۔“

کبھی کبھار دوسروں کے تلخ رویے ہمیں بے بسی کی انتہا کو پہنچا دیتے ہیں کہ ہمارے پاس جھوٹ بولنے کے علاوہ دوسرا کوئی آپشن نہیں بچتا ۔وہ سچ بولنا چاہتی تھی لیکن زبیر کے شکی مزاج نے اسے چند ماہ میں جھوٹا بنا کر رکھ دیا تھا۔ اگر وہ سچ بتاتی تو زبیر کو کہیں نہ کہیں اس کی ہی غلطی نظر آتی ۔

محبت ، عزت ، بھروسہ ، مان کسی بھی رشتے کی بنیادیں ہیں جب رشتوں پر سے بھروسہ اٹھ جائے تو وہ اتنا کمزور ہوجاتا ہے جتنا ریت سے بنائے گئے گھروندے ہوتے ہیں اور میاں بیوی کا رشتہ تو خاص کر اس پر ہی ٹکا ہوتا ہے اگر دونوں کے درمیان محبت اور بھروسہ نہ ہو تو ان کا رشتہ زمین بوس ہو جاتا ہے۔ زبیر کو اس پر یقین نہیں تھا لیکن وہ اس کھوکھلے رشتے کو نبھاہ رہی تھی۔

”اچھا! چھوڑو ، بیٹھو یہاں ۔“

زبیر نے مزید تفتیش کرنے کی بجائے اسے بیٹھنے کا کہا تو وہ خاموشی کے بیٹھ گئی۔

”یہ میں تمہارے لیے لایا تھا۔“

زبیر صوفے پر رکھیں شاپنگ بیگ کو اس کی طرف بڑھاتے ہوئے بولا تو زارا اس کے چہرے کو بغور دیکھنے لگی کچھ دیر پہلے والا غصہ کہیں غائب ہوگیا تھا۔وہ بالکل نارمل نظر آ رہا تھا۔

”کھول کر دیکھو! “

اسے خود کو تکتا دیکھ کر اس نے کھول کے دیکھنے کو کہا تو زارا اس کے ہاتھ سے بیگ لے دیکھنے لگی ۔اس میں پستہ کلر کا ایک نفیس سا جوڑا تھا اور اس سے میچنگ جیولری اور چوڑیاں تھیں۔

” یہ کپڑے اور اس سے میچنگ کی چیزیں ہیں ۔دراصل آج رات میرے ایک دوست نے شادی کی خوشی میں ایک تقریب رکھی ہے ۔اس نے آنے کے لیے اصرار کیا ہے تو میں منع نہیں کر سکا۔ تم رات میں تیار ہو جانا ، تمہیں بھی میرے ساتھ چلنا ہے۔ “

شادی کے بعد آج تک وہ اس چار دیواری میں قید تھی ۔وہ نہ تو اسے کہیں اپنے ساتھ لے جاتا تھا اور نہ کوئی اس کے گھر کوئی آتا جاتا تھا۔

یہ پہلا موقع تھا جب وہ اسے کسی تقریب میں ساتھ چلنے کا کہہ رہا تھا جسے وہ سن کر خوش ہوگئی تھی۔

لیکن خوش ہونے کے باوجود وہ اس کی موجودگی میں مسکرا بھی نہ سکی۔

یہ احساس کسی قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ آپ سے جڑے رشتے آپ کو اہمیت دیتے ہیں پھر دل خوشیوں کی وادی میں جیسے کُھو جاتا ہے اور زارا تو اندھیروں میں گُم اُس چاند کے مانند تھی جو دوسروں کو اپنے وجود سے روشنی تو دیتا ہے لیکن جب بادل اسے اپنے پیچھے چھپا دے تو چاہنے کے باوجود بھی اس کی روشنی زمین تک نہیں پہنچتی جب تک وہ بادل ہٹ نہ جائے۔ وہ اسی انتظار میں تھی لیکن انتظار کی سولی پر لٹکنا کافی کٹھن ہوتا ہے ۔گھڑی پر سست رفتاری سے چلتی سوئیوں کی مسافت اس کے حصے میں آئی تھی۔

اس کے پاس بس اُمیدیں تھیں ایسی امیدیں جو بندہ صرف اللہ سے رکھتا ہے کیوں کہ جب ایک انسان کی ساری اُمیدیں اللہ سے وابستہ ہوتی ہیں تو وہ چھوٹی سی خوشی بھی بڑی معلوم ہوتی ہیں اور وہ شکر کرنے لگتا ہے ۔سب سے بہترین تعلق اللہ اور بندے کے درمیان ہوتا ہے جب بندہ خود کو اپنے خالق کے فیصلے پر چھوڑ دیتا ہے تو اسے شکوہ شکایت کی بجائے اس پر کامل یقین رکھنا چاہیے ۔

اللّٰہ اپنے صابر بندوں کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازتا ہے جس کا وہ کبھی گمان بھی نہیں کرسکتا ہے لیکن آزمائش سے بھی انھیں ہی گزرنا پڑتا ہے ۔اسے بھی اس امتحان سے گزرنا تھا۔

” زبیر نے یہ سب کچھ میرے لیے خود خریدا ہے۔ کیا ان کے دل میں اہمیت پیدا ہو رہی ہے اگر ایسا ہے تو میں گزشتہ دنوں کی تمام باتیں بھلا دوں گی۔ بھول جاؤں گی کہ کبھی ان کا رویہ میرے ساتھ تلخ تھا۔ میں اپنی محبت سے اپنے بکھرے رشتے کو سمیٹ لوں گی۔

اس نے دل میں سوچا۔

”تم اب تک یہیں بیٹھی ہو ۔ کچھ کھانے کے لیے بنایا ہے تو لے آؤ، بھوک لگی ہے مجھے ۔“

اُس نے زارا کو گم صم دیکھ کر کہا تو وہ سر اثبات میں ہلاتی وہاں سے اٹھ گئی۔

سامنے بیٹھا شخص اس کے لیے ایک پہیلی تھا ۔ پتا نہیں وہ ایسا کیوں تھا ؟ ایسا کیا تھا جس نے اسے اتنا سنگ دل بنا دیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *