Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Episode 12)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Episode 12)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
زارا کے ساتھ جو کچھ بھی ہوا تھا اس سے وہ واقف تھیں اور کہیں نہ کہیں اس کی اس حالت کی ذمہ دار وہ خود کو سمجھ رہی تھیں۔ اگر وہ ندا پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ کرنے کی بجائے زارا سے خود ہی بات کرنے کو ترجیح دیتیں تو شاید آج یہ سب نہ ہوا ہوتا ۔
انھیں اب سمجھ آ رہی تھی کہ اصرار کے باوجود زارا ان سے فون پر بات کرنے کے لیے راضی کیوں نہیں ہوتی تھی کیوں کہ ندا نے کبھی اسے بتایا ہی نہیں تھا۔ وہ وقت کو پیچھے نہیں موڑ سکتی تھیں لیکن اب جب زارا ان کے پاس تھی تو وہ چاہتی تھیں کہ وہ ان کے دامن کو پھولوں سے بھر دیں اور اس کے ساتھ خوشگوار یادیں بنائیں تاکہ اس کے لیے ماضی کو بھولنا آسان ہوجائے بس اسی لیے انھوں نے سوچا تھا کہ وہ اسے کہیں باہر گھومنے لے جائیں گی تاکہ تازہ اور کھلی فضا میں اس کے اندر کی بے چینی کم ہو سکے اور ماحول میں تبدیلی ہو تو وہ بہتر محسوس کرسکے۔ انھوں نے زیان کو گھر جلدی آنے کو کہہ دیا تھا۔
گھر سے نکلنے سے پہلے وہ کچھ سامان گاڑی میں رکھوانے کے بعد زیان کا انتظار کر رہی تھیں۔ تب بھی زارا ان کے ساتھ ساتھ تھی۔
“چلیں لیڈیز!! اگر مزید دیر کی تو ہم ٹریفک میں پھنس جائیں گے۔” تبھی عجلت میں سیڑھیاں اترتا وہ ریسٹ واچ کلائی میں باندھتے ہوئے بولا تو زارا نے اس کی اور دیکھا۔اس نے بیلو جینز بلیک ٹی شرٹ کے اوپر جیکٹ پہن رکھی تھی اور اب باہر جانے کے لیے تیار نظر آ رہا تھا۔ وہ آتے ہی تیار ہونے چلا گیا تھا تب سے وہ دونوں بیٹھی اس کا ہی انتظار کر رہی تھیں ۔
” ہم تو کب سے تیار بیٹھے ہیں۔ تم نے ہی تیار ہونے میں دیر لگا دی۔“
حلیمہ خاتون نے بیٹے کی تیاری دیکھ کر شرارتی انداز میں کہا ۔انھیں بیٹے کی اس عادت سے چڑ تھی وہ لڑکیوں کی طرح تیار ہونے میں بہت وقت لگاتا تھا۔
” مما! “ وہ خفیف سا ہوکر بولا۔
” اب چلو بھی!“ انھوں نے اس کا چہرہ دیکھ کر محظوظ ہوتے ہوئے کہا۔
وہاں پہنچ کر وہ دونوں بیٹھیں قدرت کے مناظر سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ شام کا وقت تھا اور بہت سے افراد وہاں اپنی فیملی سمیت جمع تھے۔ زیان کار پارک کرکے اندر آیا تو ان دونوں کو آپس میں بات کرتا دیکھ کر مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی۔
“ہیلو ۔۔لیڈیز! آپ تو میرے بغیر ہی انجوائے کر رہی ہیں ویسے یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے نا؟”
اس نے انھیں مخاطب کرکے کہا۔ وہ بچپن میں بابا کے ساتھ یہاں آیا کرتا تھا اور آج اتنے سالوں بعد یہاں بہت سی چیزیں مختلف ہوگئی تھیں۔
شام ہونے کی وجہ سے وہاں ستاروں کے مانند جگمگاتے فانوس لگے تھے ،جس سے پورے پارک کا منظر واضح دکھائی دے رہا تھا جیسے دن کے اُجالے میں نظر آتا تھا۔
وہاں بیٹھے لوگوں کو مزے کرتے دیکھتے اور پرانی یادیں تازہ کرتے انھیں وقت کا پتا ہی نہیں چلا۔
جب وہ لوگ واپسی کے لیے وہاں سے نکلے تو رات ہوگئی تھی۔ وہ راستے میں ہی تھے کہ اچانک ایک تیز رفتا گاڑی سامنے سے آتی دکھائی دی اور زیان کے بریک لگانے کے باوجود بھی کار کو ٹکر لگ گئی تھی۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتے۔ مقابل گاڑی سے کوئی دروازہ کھول کر باہر نکلا اور نکلتے ہیں چیخ و پکار کرنے لگا ۔ زیان نے ان دونوں کو گاڑی میں ہی رکنے کا کہا اور خود بھی باہر نکل آیا۔ اندھیرے کے باعث وہ مقابل کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا۔
” دِکھتا نہیں ہے کیا؟ اندھوں کی طرح گاڑی چلا رہے ہو!“ اس نے زیان کو سامنے دیکھ کر اس کا کالر پکڑ کے بہت بدتمیزی سے کہا۔
”یہ کیا بدتمیزی ہے۔ چھوڑیں مجھے! غلطی سراسر آپ کی ہے جناب! یہ ون وے ہے اور آپ غلط راستے میں گُھس آئے ہیں۔“ مقابل کا یہ رویہ قابل مذمت تھا۔ زیان نے خود کو چھڑاتے ہوئے باورانہ انداز میں اسے اپنی غلطی کا احساس کروانا چاہا۔
زیان اس شخص کی حرکت پر خوب حیران ہوا تھا۔غلط رستے میں گھس آنے کے باوجود وہ شخص اس پر ہی چلا رہا تھا۔ اندھیرے کی وجہ سے اس کا چہرہ واضح نظر نہیں آ رہا تھا لیکن اس کی چال سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ اس نے ڈرنک کر رکھی ہے ۔
” کیا بکواس کر رہے ہو۔ یو اڈیٹ….. تم جیسے بہت دیکھے ہیں میں نے۔ میرا جو بھی نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی کرو ورنہ تمہیں پولیس بلواؤں گا۔ “ وہ ایک مرتبہ پھر سے اس کے گریبان کو اپنی گرفت میں لیتے ہوئے بولا تو فضا میں عجیب سی بُو پھیلی۔
” دور رہ کر بات کرو اور اپنی گاڑی سائیڈ لگاؤ۔ غلطی تمہاری ہے۔ تم کال کرو میں بھی دیکھتا ہوں پولیس کسے پکڑتی ہے ۔“ زیان اس کا ہاتھ جھٹک کر دو قدم پیچھے ہٹ گیا شور سن کر زارا اور حلیمہ خاتون کار سے نکل گئیں۔
” کیا ہوا ہے زیان؟“ وہ بیٹے کی طرف فکر مندی سے بڑھیں۔
” کچھ نہیں مما! اس نے ڈرنک کر رکھی ہے۔ آپ دونوں اندر بیٹھیں ،میں آتا ہوں۔“ زیان نے انھیں تسلی دی۔ مقابل کسی کو فون ملا رہا تھا۔
زیان کو اس آدمی کی آواز جانی پہچانی سی لگی اس نے موبائل نکال کر ٹارچ آن کیا اور جیسے ہی ٹارچ کی روشنی میں اس کا چہرہ دیکھا اس کا غصہ بڑھ گیا وہیں کچھ فاصلے پر کھڑی زارا کے چہرے کا رنگ پل میں اُڑا گیا تھا۔ وہ یقیناً اسے ڈھونڈتے ہوئے یہاں آیا تھا ۔اس کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی ، بال بکھرے تھے ، آستین کے کف کھلے تھے اور وہ پہلے سے قدرے مختلف لگ رہا تھا۔
”زبیر…..! زیان نے سرگوشی کی۔
” مما آپ دونوں کار میں بیٹھیں! اس سے میں بات کر رہا ہوں۔“ زیان نے زبیر کو دیکھ کر حلیمہ خاتون سے کہا۔ اس سے پہلے وہ اسے لے کر کار میں بیٹھتیں۔
” زارا…. تت تم کہاں چلی گئی تھی؟ “ زبیر زارا کو دیکھ کر وہیں سے چلایا اور دوڑتے ہوئے اس کی جانب بڑھا۔
” زارا…. تم کہاں چلی گئی تھی مجھے چھوڑ کر۔ میں نے تمہیں کہاں کہاں نہیں ڈھونڈا۔ بولو! کیوں چلی گئی تھی؟ “
وہ بے یقینی کی کیفیت میں گھرا اس کا ہاتھ تھامے کسی دیوانے کی طرح پوچھ رہا تھا۔ البتہ زارا یکدم خوف زدہ ہوگئی تھی۔ جو بات اسے اتنے دنوں سے کسی آسیب کی طرح ڈرا رہی تھی آج وہ اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
وہ اپنی وجہ سے اتنے سالوں بعد ملے اس رشتے کو کسی مصبیت میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
” زبیر چھوڑو اسے!“ زیان نے زارا کی حالت دیکھ کر زبیر کی گرفت سے اس کا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر زبیر نے اپنی گرفت ڈھیلی نہیں کی۔
” اب میں تمہیں کہیں نہیں جانے دوں گا۔ چلو میرے ساتھ، گھر چلو!“ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے اپنے کار کی طرف بڑھا مگر زارا کے حلق سے ایک آواز نہ نکلی۔
” چھوڑو اسے ۔یہ تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی ۔“ حلیمہ خاتون نے زبیر کے گرفت سے زارا کے ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا۔
“کیوں….. کیوں نہیں جائے گی؟ زارا میری بیوی ہے اور تم لوگ ہوتے کون ہو اسے روکنے والے ؟“
وہ زیان اور حلیمہ خاتون کو دیکھ کہر آلود لہجے میں بولا۔
”تم جیسے گھٹیا انسان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی کی بہن بیٹی کے ساتھ جانوروں جیسا برتاؤ کرو کیوں کہ تمہاری بیوی ہے۔ “ زبیر جو پہلے ہی نشے کی حالت میں تھا زیان نے جیسے ہی اس کے منہ پر ایک گھوسہ مارا تو وہ لڑکھڑا کے گر گیا۔
” زارا تمہارے ساتھ کہیں نہیں جائے گی۔ اپنے اس غلیظ زبان سے میری بچی کا نام بھی مت لینا
میں مزید اُسے اس جہنم میں نہیں رہنے دوں گی۔“ حلیمہ خاتون نے فوراً آگے بڑھ کر زارا کو اپنے پیچھے چھپا لیا۔
زارا کی آنکھوں سے آنسو موتیوں کی طرح نکل کر رخسار پہ بہہ رہے تھے۔ آج پھر سے وہ اس شخص کے سامنے کھڑی تھی جس نے ہمیشہ اسے دھتکارا تھا
جس نے اس کی پاک دامنی پر شک کیا تھا۔
” زارا میری بیوی ہے۔ سمجھے تم اسے میرے ساتھ جانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔“ زبیر غیظ و غضب میں ایک بار پھر سے چیختا ہوا اٹھا اور اس سے پہلے وہ زارا تک پہنچتا زیان ان دونوں کی درمیان آ کھڑا ہوا ۔
” مما آپ زارا کو لے کر گاڑی میں بیٹھیں۔“ اس کے کہتے ہی وہ زارا کو اپنے ساتھ لیے کار میں بیٹھ گئی تھیں اور وہ زبیر کی دھمکی کو نظر انداز کرتا ان دونوں کو گھر لے آیا تھا لیکن کوشش کے باوجود وہ تینوں رات بھر سو نہیں پائے تھے۔
★★★★★
صبح نماز کے بعد ان کی آنکھ لگی تھی۔ زارا حلیمہ خاتون کے پاس ہی سوگئی تھی۔ تقریبًا گیارہ بجے جب وہ دونوں اُٹھیں تو زیان نے فہمیدہ خاتون کو ناشتہ لگانے کا کہا مگر ناشتے کی ٹیبل پر بھی ان دونوں کو کچھ نہ کھاتا دیکھ کر زیان چُپ نہ رہ سکا اور ان دونوں کو مخاطب کیا۔
” کیا ہوا مما! زارا!“
“کیا آپ دونوں مجھے بھوکا مارنا چاہتی ہیں؟
کل رات سے میں نے کچھ بھی نہیں کھایا۔ اگر کچھ دیر مزید بھوکا رہا تو میں نے چکرا کر گر جانا ہے۔“
اُس نے بے چارگی سے منہ بناتے ہوئے ماحول کو خوشگوار بنانے کی کوشش کی اور ان دونوں کا دھیان بھٹکانا چاہتا تھا۔
اس کے اس انداز پر وہ دونوں بے ساختہ مسکرائی تھیں۔ واقعی اُس نے کل سے کچھ نہیں کھایا تھا۔
زارا پچھلے کچھ ہی عرصے میں یہ بات جان گئی تھی کہ اسے بھوک بالکل بھی برداشت نہیں ہوتی تھی۔ ناشتے کے فورا بعد وہ اپنے کسی دوست سے ملنے چلا گیا اور دونوں پھوپھی بھتیجی لاؤنج میں چلی آئیں ۔ حلیمہ خاتون نے اخبار کو ہاتھ ہی لگایا کہ مالی بابا لاؤنج میں داخل ہوئے۔
” بی بی جی۔ آپ سے ملنے کوئی آیا ہے۔“ انھوں نے بتایا۔
” کون ہے ابراہیم بھائی۔“ انھوں نے اخبار واپس سے میز پر رکھتے ہوئے پوچھا۔
” کوئی عورت ہے اور اس کے بچے ہیں۔ خود کو آپ کی جاننے والی بتاتی ہے۔“
انھوں نے بتایا ۔
”آپ انھیں اندر لے آئیں ۔“ ان کے کہتے ہی وہ اثبات میں سر ہلاتے وہیں سے واپس لوٹ گئے۔
“پھوپھو جان کون آیا ہے؟“ زارا نے استفسار کیا۔
” پتا نہیں بیٹا! شاید ملک صاحب کے کزن ہوں۔ انھوں نے فون کرکے بتایا تھا وہ لوگ آج آنے والی ہیں۔“ ملک صاحب کچھ دنوں کے لیے اپنے بزنس کے کچھ معاملات کو طے کرنے کے لیے امریکہ گئے ہوئے تھے۔
” تم ٹھیک ہو اگر تمہیں آرام کرنا ہے تو اپنے کمرے میں چلی جاو۔“ ان کے پوچھنے پر اس نے اپنے ٹھیک ہونے کا بتایا۔ وہ ان کے ساتھ ہی بات کرنا چاہتی تھی خود کو لوگوں میں مصروف رکھنا چاہتی تھی اس لیے وہیں بیٹھی رہی ۔چند منٹ بعد مالی بابا کے ہمراہ لاؤنج میں ندا خاتون داخل ہوئیں ان کے ساتھ لائبہ اور ظفر بھی آئے تھے۔
ندا خاتون بہن کی ناراضی کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہاں معافی مانگنے کے ارادے سے آئی تھیں۔ حلیمہ خاتون نے آج انھیں پہلے کی طرح گرم جوشی سے گلے نہیں لگایا تھا بلکہ بس سلام کا جواب دیا تھا جبکہ زارا اتنے دنوں بعد لائبہ اور ظفر کو دیکھ کر بہت خوش تھی۔
حلیمہ خاتون اُن سے ناراض ہونے کے باوجود بہن کی آمد پر بے رُخی دکھانے کی بجائے ایک میزبان ہونے کا فرض ادا کیا تھا۔
زیان جب لوٹا تو انھیں اپنے گھر میں دیکھ کر حیران ہوا تھا لیکن اپنی ماں کی خاموشی اور زارا کو مطمئن دیکھ کے اس نے بھی خاموش رہنے کو ترجیح دی۔ لائبہ اور ظفر کے ساتھ ادھر اُدھر کی بات کی اور پھر اٹھ کے اپنے کمرے میں چلا گیا۔
آج رات وہ ملک ہاوس میں ٹھہرنے والی تھیں۔ ندا خاتون یہاں اپنی بہن کی ناراضی دُور کرنے اور زارا سے بھی اپنے کیے کی معافی مانگنے آئی تھیں۔ انھوں نے زارا کے گھر کے کاغذات اس کے حوالے کر دیے تھے اور وہ عائشہ کی شادی کے بعد اپنے گھر میں شفٹ ہونے والی تھیں۔ انھیں اپنی غلطی کا بہت دیر سے احساس ہوا تھا وہ اس غلطی کو بدل تو نہیں سکتی تھیں لیکن اس کی معافی مانگ کر اپنی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتی تھیں۔
” میں آ جاؤں؟“ ڈنر کے بعد حلیمہ خاتون سونے کی تیاری کر رہی تھیں تبھی ندا خاتون نے دروازے پر دستک دی۔
انھوں نے اجازت دے دی تو ندا خاتون اندر چلی آئیں۔ کچھ دیر ان دونوں کے درمیان خاموشی حائل رہی پھر انھوں نے بولنا شروع کیا۔
” آپ کو مجھ پر غصّہ ہے میں جانتی ہوں اور میری غلطی معافی کے لائق بھی نہیں ہے آپا! لیکن پھر بھی آپ مجھ سے یوں ناراض مت رہیں۔ خدا کے لیے مجھے معاف کر دیں۔“
”مجھے تم سے یہ اُمید نہیں تھی ندا! کہ تم اس حد تک گر جاؤ گی کہ اپنے اس بھائی کی بیٹی کے ساتھ ظلم کرو گی جس نے ہمیشہ تمہاری خواہشوں کا احترام کیا۔ تم سے چھوٹے ہونے کے باوجود بھی اس نے اپنی ہر خواہش کو تم پر قربان کر دی کیوں کہ اسے تم عزیز تھی ۔ تم اپنی خود غرضی میں سب کچھ بھول گئی۔ اس کی سب سے پیاری چیز کو ایک ایسے انسان کے حوالے کر دیا جو نشی اور دماغی طور پر بیمار ہے۔تم یہ بھی بھول گئی کہ مکافات عمل نام کی بھی کوئی چیز ہے اگر کل کو یہ سب تمہاری اپنی بیٹی کے ساتھ ہو تو کیا تم برداشت کرلو گی؟“
ندا خاتون جو کب سے نظریں جھکائے اپنی بہن کی باتیں سُن رہی تھیں اس طرح کہنے پر تڑپ اُٹھیں۔
” بے فکر رہو ندا! میں تمہیں کوئی بد دُعا نہیں دے رہی۔ جس طرح میں زارا مجھے عزیز ہے اُسی طرح عائشہ اور لائبہ دونوں ہی میری بچیاں ہیں۔ اللّٰہ نہ کرے کہ کبھی تمہارے کیے کی سزا انھیں ملے اور انھیں اس تکلیف سے گزرنا پڑے جس طرح زارا کو گزرنا پڑا لیکن وقت نکال کر سوچنا ضرور!!
کہتے کہتے ان کی سانس بھول گئی تھی۔ ندا خاتون نے اپنی بہن کی طرف دیکھا وہ سچ ہی کہہ رہی تھیں ۔ان کا خون سفید ہوگیا تھا ۔لالچ نے ان کی عقل پر پتھر رکھ دیا تھا انھوں نے اس طرح سوچا ہی نہیں تھا۔ زیادہ کی ہوس انسان کو کیسے گمراہ کر دیتی ہے کہ انسان اپنے سارے رشتے ناتے بھلا دیتا ہے۔
”مجھے احساس ہو گیا ہے آپا! آپ مجھے معاف کر دیں میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتی ہوں۔ “
انھوں نے نم لہجے میں کہا تو حلیمہ خاتون انھیں اس شرط پر معاف کرنے پر تیار ہوگئیں کہ اگر زارا انھیں معاف کر دے گی تو وہ بھی انھیں معاف کر دیں گی کیوں کہ اصل زیادتی اس کے ساتھ ہوئی تھی۔ جانے سے پہلے انھوں نے زارا سے اپنے کیے کی معافی مانگ لی تھی اور زارا نے اپنی طبیعت کے پیشِ نظر فراخ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انھیں معاف بھی کر دیا تھا۔
★★★★★
”کہاں تھے تم ، صبح سے کوئی اتا پتا نہیں ۔موبائل بھی بند جا رہا تھا تمہارا؟“
وہ صبح سے گھر سے نکلا رات کے اس وقت گھر آیا تھا ۔وہ بیٹے کے لیے فکر مند تھیں اسے دیکھتے ہی پوچھا۔
”اپنے ایک دوست کے پاس گیا ہوا زارا کی خلع کے سلسلے میں۔ بس اسی میں دیر ہوگئی!“ اس نے بتایا ۔
” ہاں تو کیا ہوا پھر؟“ انھوں نے استفسار کیا۔
” وہ کہتا ہے کچھ وقت لگے گا لیکن فیصلہ زارا کے حق میں ہی آئے گا ۔“ وہ انھیں بتانے لگا۔
”تم نے اس بارے میں زارا سے دوبارہ بات کی ؟“ انھوں نے ذہن میں آنے والے سوال کے پیش نظر پوچھا۔ وہ زارا سے اس بارے میں بات کر چکی تھیں اور اس نے اس کا فیصلہ ان پر چھوڑ دیا تھا۔
”وہ کافی پریشان اور اُلجھی ہوئی ہے مما لیکن ہم اُسے اس آدمی کے ساتھ تو نہیں چھوڑ سکتے نا۔ وہ بدلنے والوں میں سے نہیں ہے اگر اُس شخص کو بدلنا ہوتا تو کب کا بدل چکا ہوتا ۔“ وہ جس ملک میں رہ کر آیا تھا وہاں اس قسم کی ڈومیسٹک وائلنس کے خلاف سخت ایکشن لیا جاتا تھا۔
پاکستان میں بھی اس کی سزا متعین ہے لیکن بہت سے لوگ اب بھی اسے میاں بیوی کا آپسی معاملہ کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔
جاری ہے……
