Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Pe Lagay Zakham (Episode 07)

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid

” اوہ! تو تم اُس آدمی کے لیے تیار بیٹھی تھی۔“

زبیر نے اس کے سراپے پر ایک نظر ڈالتے ہوئے استزائیہ انداز میں ہنستے ہوئے کہا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا۔ اس کی ہنسی پورے لاونج میں گونج رہی تھی۔

زارا نے خود پر نظر ڈالتے ہوئے اس کے الفاظ پر غور کیا تو اسے اپنا آپ زمین میں ڈھستا ہوا محسوس ہوا ۔اسے زبیر کی سوچ سے گھن آنے لگی۔ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ زبیر اتنا گر سکتا ہے۔

” یہ کیا بول رہے ہیں آپ زبیر، مم…یہ سب میں نے آپ کے لیے کیا۔ “ اس وقت اسے اپنی آواز کسی کھائی سے آتی محسوس ہوئی۔

وہ اس کا شوہر ہوکر اس پر اتنا گٹھیا الزام لگا رہا تھا۔ اس نے دکھ اور غصے کے ملے جلے کیفیت میں گھرے اس کی طرف دیکھا۔

”اب تو تم یہی کہو گی۔ تمہاری چوری جو پکڑی گئی ہے۔ بہت اچھا بہانا بنایا تم نے ، میرے لیے…..ہنہ ۔“

اس نے حقارت آمیز لہجے میں طنز کیا۔

”ناجانے کتنوں سے ملتی رہی ہو ، دھوکے باز لڑکی!

دفع ہو جاؤ میری نظروں کے سامنے سے۔ “

اس نے آگے بڑھ کے اسے بازوؤں سے پکڑ کے گھسیٹتے ہوئے دروازہ کھول کر باہر کر دیا اور دروازہ بند کرکے بڑبڑانے کے انداز میں اسے بُرا بھلا کہتا صوفے پر گر سا گیا۔

” زبیر……. پلیز دروازہ کھولیں! ،میری بات سنیں! میں کہاں جاؤں گی اس وقت۔ مجھ پر رحم کھائیں زبیر….زبیر!!“

وہ دروازہ پیٹتی رہی، روتی رہی۔اس کی منتیں کرتی رہی لیکن اس بےحس انسان نے اُس کی ایک نہ سنی اور نہ ہی دروازہ کھولنے پر آمادہ ہوا۔ اندر بیٹھا شخص واقعی پتھر تھا۔

وہ اُس کا مجازی خدا تھا لیکن شاید وہ خود کو خدا سمجھ بیٹھا تھا۔ درحقیقت وہ تو انسان کہلانے کے لائق ہی نہیں تھا۔ رات کے اس وقت کون کسی کو یوں بے گھر کرتا ہے؟ وہ اس کی عزت تھی ، اُس کے لیے اپنا آپ مار ڈالا تھا اور بدلے میں چاہتی ہی کیا تھی۔ اُس کا ساتھ ، اس کے دل میں اپنے لیے تھوڑی سی جگہ اور محبت ۔

سارے جہانوں کا مالک اپنے بندوں کو موقع پر موقع دیتا ہے، گناہگار سے گناہگار بندوں کے لیے بھی اپنا در بند نہیں کرتا ۔بس ایک بار رجوع کرنے کی دیری ہوتی ہے اور وہ آگے بڑھ کر اسے تھام لیتا ہے ۔اس کے در پر اتنی رعایت ہے تو پھر یہ ادنٰی سا انسان کس بنا پر اسے نا کردہ غلطی کی سزا دے رہا تھا۔

کیا اس کا خلوص بے معنی تھا یا اس کی قسمت میں عمر بھر صبر کرنا لکھا تھا۔ اس کے خلوص پر شک کیا گیا تھا اور اس پر گھٹیا الزام لگانے والا اور کوئی نہیں اس کا مجازی خدا تھا لیکن وہ خود کو خدا تصور کر بیٹھا تھا تبھی خود کو سارے اختیار کا مالک سمجھ رہا تھا۔

” زبیر احمد! تم میرے خدا نہیں ہو ،

تم انسان ہو اور نچلے درجے کے انسان ہی رہوں گے جس کی اس دنیا میں کوئی جگہ نہیں

دیکھ لینا ایک دن تم اپنے کیے پر بہت پچھتاؤں گے لیکن تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی

تمہارا یہ ظلم تمہیں کبھی چین سے جینے نہیں دے گا

میں تمہیں بد دعا نہیں دے رہی لیکن میرا رب تمہارے کیے کی سزا ضرور دے گا۔

وہ روتے روتے خاموش ہوگئی تھی ۔ سوچوں کے گرداب میں پھنسی زارا کسی احساس کے ساتھ اپنے آنسو صاف کرتی وہاں سے اٹھ گئی ۔ اب آگے کا سفر اُسے اکیلے ہی طے کرنا تھا۔

کہاں جانا ہے ، کس کے پاس رہنا ہے وہ نہیں جانتی تھی لیکن اس تذلیل کے بعد وہ اس شخص کے ساتھ ہرگز نہیں رہ سکتی تھی۔ جس نے بنا سوچے سمجھے اس کی ذات پر نہ صرف کیچڑ اُچھالا تھا بلکہ اسے آدھی رات کو بے آسرا کرکے چھوڑ دیا تھا ۔وہ اس کے شکی مزاج کو فراموش کرکے اتنے عرصے اس کے ظلم و ستم کو سہہ رہی تھی لیکن زبیر کو نہ بدلنا تھا سو وہ نہ بدلا۔ اس کے ساتھ گزارے دن و رات کسی فلم کی طرح اس کی آنکھوں کے سامنے تھے، وہ بوجھل قدموں سے چلتی بہت آگے نکل آئی تھی۔ مسلسل رونے کے باعث اس کا حلق خشک ہوگیا تھا اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں البتہ آنسو تھم گئے تھے مگر چہرے پر اب بھی اس کے نقش باقی تھے۔

وہ ماؤف دماغ کے ساتھ چلتی سڑک عبور کرنے کے لیے آگے بڑھی تھی کہ اچانک سے ایک گاڑی اس کے عین قریب آکے رُک گئی ۔غالبًا گاڑی کے مالک کی مہربانی تھی جس نے وقت پر بریک لگا کر اسے حادثے سے بچا لیا تھا ۔

ہیڈ لائٹ کی روشنی سے اس کی آنکھیں چندھیا سی گئیں اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔

” نظر نہیں آتا ہے کیا؟ خود کشی کرنے کے لیے میری گاڑی ملی تھی۔“

اس سے پہلے وہ کچھ سمجھ پاتی گاڑی کا مالک بڑ بڑاتے ہوئے کار کا فرنٹ سیٹ کھول کے باہر نکلا اور اس پر نظر پڑتے ہی وہ لمحے بھر کو خاموش ہوگیا۔اسے پہچاننے میں چند سیکنڈ ہی لگے تھے۔

“آپ……آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟ مس زارا! “

لیکن اُس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔وہ گم صم سے کھڑی رہی جیسے کچھ سُنا ہی نہ ہو ۔

” ایکسیوز می… زارا ۔ آپ اتنی رات گئے اس طرح سُننان سڑک پر اکیلی کیا کر رہی ہیں؟ “

اس کی خاموشی کا نوٹس لیتے اس نے دوبارہ پوچھا ۔

وہ اس کے استفسار پر چونک گئی تھی پھر خود پر قابو پاتے وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئی ۔اس کی اس حرکت پر مقابل کو اس کی دماغی حالت پر شک ہوا۔

اگر وہ اُس سے کبھی ملا نہیں ہوتا تو ضرور اسے پاگل سمجھتا لیکن وہ اس لڑکی سے واقف تھا ۔ وہ یوں چُپ چاپ نہیں رہتی تھی۔ اگر اسے معلوم ہوتا کہ اس نے چپ چاپ کتنی تکالیف سہی ہیں تو وہ اس وقت ایسے اندازے سے پرہیز کرتا۔

”ہیلو!! رُکو کہاں جا رہی ہو؟“

وہ ہوا میں ہاتھ بلند کرکے آواز لگانے لگا جب اس نے پلٹنے یا رکنے کی کوشش نہیں کی تو وہ دوڑتا ہوا اس کے پیچھے چلا آیا۔

”آپ کہاں جا رہی ہیں؟ چلیں میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں ۔“

اس کے قریب آتے ہی اس نے آفر کی۔

”گھر؟“ سپاٹ سے انداز میں اس نے گھر پر زور دیا۔

”جی….. آپ کے گھر! آپ کے شوہر آپ کا انتظار کر رہے ہوں گے ۔کچھ دن پہلے میری اُن سے ملاقات ہوئی تھی ان کی کار خراب تھی تو میں نے ہی انھیں آفس ڈراپ کیا تھا۔“

وہ اسے زبیر اور اپنی ملاقات کے متعلق بنا رہا تھا ۔

”نہیں مجھے کہیں نہیں جانا۔ ہٹیں یہاں سے اور دوبارہ مجھے روکنے کی کوشش مت کیجیے گا ۔ “

اس کی گھٹی گھٹی آواز سنائی تھی۔

زبیر کا ذکر سنتے ہی اس کا دم گھٹنے لگا تھا ۔اس نے آنسوؤں کو حلق کے نیچے اُتارتے ضبط کے ساتھ تلخی سے کہا اور سامنے سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ گئی ۔

”عجیب لڑکی ہے ایک تو میں نے اسے بچایا بھائے شکریہ ادا کرنے کے مجھے ہی سُنا گئی۔ خیر! کہیں بھی جائے میری بلا سے۔ کونسا یہ میری ذمہ داری ہے ۔“

وہ کندھے اُچکاتے ہوئے واپس آکے کار میں بیٹھ گیا۔

کچھ دیر مرر میں اسے جاتا دیکھنے کے بعد اس نے گاڑی اسٹارٹ کر دی۔

زارا ابھی چند قدم آگے آئی تھی کہ دو چار لڑکے نے اسے دیکھتے ہی قطار میں کھڑے ہوگئے۔

”کہاں جا رہی ہیں میڈم! کہیں تو ہم چھوڑ دیں۔“

ان کے بلند و بانگ قہقہے سن کر اس کے چلتے قدم رُک گئے ۔اپنی گھبراہٹ پر قابو پاتے انھیں نظر انداز کرتی وہ آگے بڑھی ہی تھی کہ اسے اپنے پیچھے ان کے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ اچانک اس افتاد پر وہ وہاں سے بھاگ جانے کے ارادے سے پلٹی تو وہ کار اسی جگہ کھڑی دیکھ کر اس کو کچھ حوصلہ ملا ۔ شاید وہ اسے تنہا چھوڑ کے جانے پر آمادہ نہیں تھا یا کسی وجہ سے اب تک اُسی جگہ پر موجود تھا اسے خود کو ان لڑکوں سے بچانے کے لیے اس کی اور بھاگنا تھا اور اس نے ایسا ہی کیا۔ قریب آتے لڑکوں پر ایک نگاہ ڈالتے وہ تیزی سے بھاگتی ہوئی اُس کار کی جانب دوڑ پڑی تھی۔

”در……دروازہ کھولو پلیز! “

اس نے پھولی ہوئی سانس کے درمیان اسے دروازہ کھولنے کو کہا تو

اُس نے فورًا ہاتھ بڑھا کے دروازہ کھولا۔ زارا ایک لمحے کی دیری کیے بغیر اندر بیٹھ گئی اس نے کار سے اتر کر ایک جھٹکے سے دروازہ بند کیا اور پھر واپس اپنی سیٹ سنبھالتے گاڑی اسٹارٹ کر دی ۔ اسے دیکھ کر وہ لڑکے جیسے آئے تھے ویسے ہی الٹے پاؤں واپس چلے گئے تھے۔

وہ زارا کے عجیب رویے سے پیچ و تاب کھاتا گاڑی اسٹارٹ کرنے ہی لگا تھا کہ ان لڑکوں پر اس کی نظر پڑ گئی اور وہ اس کے تلخ جملوں کو نظر انداز کرکے وہی بیٹھے اس کے واپس لوٹنے کا انتظار کرنے لگا۔

زارا کے کار میں بیٹھے ہی وہ زن سے کار کی اسپیڈ بڑھا چکا تھا اور اب اُس جگہ سے بہت دور نکل آئے تھے۔

اس نے پر سکون انداز میں ڈرائیو کرتے زارا کو مخاطب کیا۔

”مجھے نہیں لگا تھا آئندہ کبھی آپ سے ملاقات ہو پائے گی لیکن قسمت میں ہمارا ملنا لکھا تھا۔

آپ اپنے گھر نہیں جا رہی تو پھر آپ نے کہاں جانا ہے؟ “

گم صم بیٹھی زارا سے اس نے پوچھا پر کوئی جواب نہیں ملا تو اس نے پیچھے مڑ کر اسے ایک مرتبہ پھر مخاطب کیا پتا نہیں وہ اُسے سن بھی رہی تھی یا نہیں ۔اس کے پکارنے پر وہ ہڑبڑا کر اسے دیکھنے لگی ۔

”آپ ٹھیک ہیں؟ “

”جی! “ وہ مختصرًا بولی۔

”تو بتائیں میں نے ابھی کیا پوچھا تھا!“

”کک….. کیا؟ کیا پوچھ رہے تھے آپ ؟“

اس کی مدھم اور کھوئی کھوئی سی آواز گاڑی میں سنائی دی ۔

”آپ کو کہاں جانا ہے؟ “ اس بار وہ حیران ہوا تھا

”کہیں بھی! ، بس میں یہاں سے دور چلی جانا چاہتی ہوں۔“

اُس کے لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ جس نے اسے مزید کچھ پوچھنے سے روک دیا تھا اور ایسا دوسری مرتبہ ہوا تھا پہلی بار جب وہ اس سے آخری بار ملا تھا تب اور ابھی اس کار میں۔

جواب ملتے ہی اس نے کار کی اسپیڈ بڑھا لی اس کے بعد کار میں مکمل خاموشی تھی ۔

وہ اس جگہ سے کافی دور آچکے تھے راستے میں وہ کئی بار گاڑی روک کر رات کے وقت کھلی دُکانوں سے کھانے پینے کی چیزیں خریدتا اور اسے بھی پیش کرتا لیکن وہ ہر بار یہ کہہ کر انکار کر دیتی کہ اسے بھوک نہیں ہے اور وہ کندھے اچکاتے اس سے بھرپور انصاف کرتا اگر وہ اکیلا ہوتا تو کسی جگہ پر گاڑی روک کر کچھ دیر آرام کرلیتا پر اس کی موجودگی میں وہ جلد از جلد کراچی پہنچنا چاہتا تھا ۔

”کراچی میں آپ کا کوئی ہے ، میرا مطلب کوئی رشتے دار ، بہن ، بھائی ؟“

ایک طویل خاموشی کے بعد اس نے اُسے مخاطب کیا تھا۔

”دیکھیں بُرا مت مانیے گا، میں یہ صرف اس لیے پوچھ رہا ہوں کیوں کہ مجھے پتہ ہونا چاہیے کہ آخر وہاں پہنچ کر آپ کو کہاں چھوڑنا ہے۔“

اس کا سپاٹ اور الجھا ہوا چہرہ دیکھ کے وہ وضاحت دینے لگا۔

” آپ مجھے وہاں کسی ہوٹل میں چھوڑ دیجیے گا“

اس نے کچھ دیر سوچتے ہوئے ایک جملے میں بات ختم کر دی تھی۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر ایسی کیا بات ہے جس کی وجہ سے وہ رات گئے اس طرح اکیلی گھر سے باہر تھی لیکن اس وقت اُس سے پوچھنا مناسب نہیں تھا۔ کار میں ایک بار پھر سے گہری خاموشی چھا گئی تھی۔

وہ طویل سفر کے دوران گانے سننے کا عادی تھا پر صرف اس وجہ سے سوانڈ پلئیر آن کرنے سے گریز کر رہا تھا کہ کہیں وہ اس کا غلط مطلب نہ نکال لے ۔ وہ میوزک آن کرنے سے پہلے اس سے اجازت لینے کے لیے پیچھے موڑا تو زارا کار کے دروازے سے لگی سو رہی تھی۔

اگر وہ ایک سو بیس یا ایک سو بارہ کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی گاڑی چلاتا تب بھی اُسے لاہور سے کراچی پہنچنے میں گیارہ سے بارہ گھنٹے لگ جاتے اور خاموشی سے ڈرائیو کرتے آنکھ لگنے کی صورت میں اس کی کار کا ایکسیڈنٹ ہو سکتا تھا۔

اس لیے وہ وقفے وقفے سے راستے میں موجود کیفے یا ڈھابے سے کافی یا چائے پی رہا تھا لیکن کچھ آگے نکل آنے کے بعد اس سنسان علاقے میں سفر کرتے ہوئے اسے کوئی ہوٹل یا دکان نظر نہیں آ رہی تھی ۔ رات کے اس وقت یہاں کے مکین ہوش و خروش سے بیگانے نیند کے مزے لے رہے تھے ۔اس لیے میوزک کے ذریعے وہ خود کو جگائے رکھنا چاہتا تھا لیکن اس کی نیند ڈسٹرب نہ ہوجائے اس لیے وہ خاموشی سے ڈرائیو کرتے اس کے جاگنے کا انتظار کر رہا تھا۔

وہ لوگ رات کے دس بجے نکلے تھے اور اب رات کے دو بج رہے تھے یعنی اب بھی چھ سے سات گھنٹے کا سفر طے کرنا رہتا تھا۔

اس کی بد قسمتی تھی کہ کچھ آگے جاتے ہی ایک سنسان سڑک پر گاڑی ایک جھٹکے کے بند پڑ گئی۔

جھٹکا لگنے سے زارا کی آنکھ کھل گئی اور وہ اسے کار کی مدھم روشنی میں اپنا سر ہاتھوں میں دیے بیٹھا نظر آیا ۔

”کیا ہوا، آپ نے گاڑی کیوں روک دی؟ “ اس سے پوچھا۔

” کار از اوٹ آف فیول! “ اس نے غصے سے اسٹیئرنگ پر ہاتھ مارتے ہوئے بتایا۔

”آپ پریشان نہ ہوں ، میں دیکھتا ہوں ۔“ اس کے چہرے پر پریشانی نوٹ کرتے اس نے کہا اور اپنا موبائل لیے کار سے نیچے اترتے ہی ٹارچ آن کرکے پیچھے ڈگی کی جانب بڑھ گیا۔

وہ خاموشی سے بیٹھی محتیاط انداز میں ساری کاروائی دیکھتی خود کو آنکھ لگ جانے پر ڈپٹ رہی تھی ۔وہ ایک انجان شخص پر بھروسہ کرنے کی غلطی نہیں کرسکتی تھی ۔اس نے اس کی مدد بھی مجبوری میں لی تھی اور اب اسے ہوشیار رہنا تھا۔ اچانک اسے جمشید والا واقعہ یاد آیا تو اس کے رگوں میں ایک سرسراہٹ دوڑ گئی۔

وہ کب واپس آکے سیٹ پر بیٹھا اور کب کار اسٹارٹ ہوئی اسے کچھ پتا نہیں چلا ۔

” شکر ہے آپ اٹھ گئیں۔“ اسے گم صم دیکھ کر اس نے اُسے مخاطب کیا۔

اس کے اُٹھنے سے ایک فائدہ ہوا تھا کہ وہ اب میوزک سُن سکتا تھا تاکہ اپنی نیند پر قابو پا سکے۔

وہ دونوں تقریبًا صبح ساڑھے نو بجے کے قریب کراچی کے احاطے میں داخل ہوئے تھے ۔

پھر مسلسل ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد ایک خوبصورت سے گھر کے باہر کار رک گئی تھی۔

” آپ نیچے اتر جائیں!“ اس نے پیچھے بیٹھی زارا کو مخاطب کیا تو خاموشی سے نیچے اتر گئی۔

اس کے اترتے ہی وہ کار پورچ میں کھڑی کرکے اس کی طرف آیا تھا۔”چلیں! “

” ایکسیوز مسٹر! یہ آپ کہاں لے آئے ہیں مجھے؟ میں نے آپ کو کہا بھی تھا کہ مجھے کسی ہوٹل میں چھوڑ دیں۔ “

وہ پریشانی اور غصے کی ملے جلے تاثرات لیے بلند آواز میں اس سے بولی تھی۔

” یہ میرا گھر ہے! اندر آجائیں اور دیکھیں آپ پریشان مت ہوں کچھ دیر کے لیے آرام کر لیں ۔ پھر آپ جہاں کہیں گی میں چھوڑ دوں گا۔“ اس نے مدد کی نیت سے اس سے کہا اور ساتھ ہی دائیں ہاتھ سے اپنی پیشانی کو ملتے ہوئے سر درد کو کم کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہلی ۔

”نہیں….مجھے اندر نہیں جانا۔“

اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔

” تو آپ کیا چاہتی ہیں کہ میں آپ کو ابھی کسی ہوٹل میں چھوڑ آؤں۔ یہ جانتے ہوئے کہ آپ کے پاس اس وقت ٹیکسی کا کرایہ تک نہیں۔ ہوٹل والے فری میں تو آپ کو روم دینے سے رہیں۔“

وہ نا چاہ کر بھی تلخ ہوا تھا ساری رات جاگنے اور ڈرائیونگ کی تھکاوٹ کی وجہ سے اس کا سر میں درد سے پھٹ رہا تھا اور وہ اس وقت دھوپ میں کھڑی اس سے بحث کر رہی تھی ۔اس کی وضاحت کے بعد بھی وہ ٹس سے مس نہ ہوئی تھی اس کا دل کیا وہ اپنا سر پیٹ لے ۔

”ٹھیک ہے۔ آپ کو اندر نہیں آنا تو مت آئیں ۔آپ کی مرضی ہے وہ رہا دروازہ آپ جہاں چاہیں جا سکتی ہیں۔“

انگلی کے اشارے سے وہ دروازے کی سمت اشارہ کرتے ہوئے بولا اور آگے بڑھ گیا۔

” اور یاد رہے ایک انجان شہر میں اس وقت اس حالت میں کہیں بھی جانا خطرے سے خالی نہیں۔ اگر تم میں ذرا بھی عقل ہو تو اس بات کو سمجھ جاؤ گی۔“

وہ اس پر ایک چھبتی ہوئی نگاہ ڈالنے کے بعد آگے بڑھ کر سامنے کھڑے ایک بزرگ سے ہاتھ ملا رہا تھا جو کب سے گیٹ پر کھڑے اس کے منتظر تھے ۔ شاید وہ گھر کے ملازم تھے اور ان کی آمد سے باخبر تھے۔

زارا نے اپنے سراپے پر نظر ڈالی اور لب بھینچے ان دونوں کو آگے جاتا دیکھتی رہی۔ وہ ٹھیک تو کہہ رہا تھا وہ جس حالت میں گھر سے نکالی گئی تھی اس کے پاس زہر کھانے تک کے پیسے نہیں تھے۔اگر وہ کسی ہوٹل میں ٹھہرتی تب بھی اسے رقم چاہیے تھیں جو اس وقت اس کے پاس نہیں تھیں۔

” پتا نہیں زندگی مجھ سے اور کیا چاہتی ہے ۔ جو بھی ہو میں اس شخص کے بھروسے یہاں نہیں رہ سکتی مجھے جلد از جلد یہاں سے نکالنا پڑے گا۔ “

اس نے دل میں سوچا اور شکستہ قدموں سے چلتی اس کے پیچھے چلی آئی۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *