Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Pe Lagay Zakham (Episode10)

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid

صبح ناشتہ کرکے زیان کے نکلتے ہی وہ زارا کے کمرے کی طرف آئیں تو دروازہ کھلا تھا۔

” اچھا ہوا تم اٹھ گئی۔ میں نے فہمیدہ سے کہہ دیا ہے کہ وہ تمہارا ناشتہ لگا دے ۔“ انھوں نے اندر آتے ہی اسے جاگتا دیکھ کر کہا۔

” سوری آنٹی! میں نے آپ کو رات پریشان کر دیا۔“ انھیں دیکھتے ہی کمفرٹر کو پرے کرتے وہ اٹھ کر ٹھیک سے بیٹھ گئی تھی ۔ صبح فجر سے پہلے جب اس کی آنکھ کھلی تو وہ بستر پر ایک کونے میں سمٹ کر سوئی ہوئی تھیں انھیں یوں بے آرام دیکھ کر اسے پیشمانی نے گھیر لیا ۔وہ یوں بے خبر نہیں سوتی تھی پر ناجانے رات اس کی آنکھ کیسے لگ گئی تھی۔

” ارے تم سوری کیوں بول رہی ہو؟ مجھے اچھا لگا تم نے مجھے اپنا سمجھا ۔“ وہ اب مسکراتے ہوئے اس کے قریب آکر بیٹھ گئیں۔

” تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی۔“ اس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر انھوں نے اندازہ لگایا پھر جھک کر اس کا ماتھا چھوا۔ وہ بخار سے تپ رہی تھی۔

” تمہیں تو تیز بخار ہے زارا ۔چلو کچھ کھالو پھر میں تمہیں دوائی دیتی ہوں ۔“

فہمیدہ خاتون ناشتے کی ٹرے لیے اندر آئی تھیں تو انھوں نے فہمیدہ خاتون کو مخاطب کیا۔

فہمیدہ بخار کی دوا لے آؤ ۔“

”جی باجی صاحبہ!“ وہ ناشتہ رکھ کر الٹے پیر دوائی لینے چلی گئیں۔

پھر جب تک اس کا بخار کم نہیں ہوا وہ اس کے پاس ہی بیٹھی رہیں۔

شام میں وہ نماز کے بعد پھر اس کے پاس چلی آئی تھیں۔ اس کا بخار اتر گیا تھا لیکن نقاہت کے باعث اس کا چہرہ زرد پڑ گیا تھا۔ انھوں نے سوچا تھا کہ اگر بخار کم نہیں ہوا تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جائیں گی۔

وہ اس سے اس کی طبعیت پوچھ رہی تھیں جب ان کا موبائل بجنے لگا۔ موبائل اسکرین پر زیان کالنگ دیکھ کر انھوں نے کال ریسو کی وہ وہاں کی تیاریوں کے بارے میں انھیں بتا رہا تھا۔

ملک صاحب مزید کچھ دن وہاں رکنے والے تھے انھوں نے کال کرکے انھیں بتا دیا تھا اس لیے وہ پرسکون ہوگئی تھیں۔

وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔ اسے خود کو تکتا دیکھ کر انھیں اس پر بے اختیار پیار آیا۔

” کیا دیکھ رہی ہو؟ “

” کک…. کچھ نہیں! “ زارا ان کے استفسار پر گھبرا گئی۔

” ہاہاہا! تم بالکل میری بھتیجی کی طرح ہی پیاری سی گڑیا لگتی ہو۔ وہ بھی بچپن میں میرے پاس بیٹھ کر مجھے اس طرح دیکھا کرتی تھی۔ سچ بتاؤں تو تمہیں پہلی بار یہاں دیکھ کر مجھے شاکڈ لگا تھا ۔میں نے بچپن میں اسے دیکھا تھا پھر کچھ ایسے حالات بن گئے کہ نہ میں یہاں پاکستان آسکی اور نہ ہی کسی سے رابطہ رکھ پائی ۔“

وہ اسے اپنی کیفیت سے آگاہ کر رہی تھیں اور وہ غور سے ان کی باتیں سن رہی تھی۔

”کیا آپ کی پھر کبھی اس سے ملاقات نہیں ہوئی؟“

اس نے ان کے خاموش ہوتے ہی پوچھا۔

” نہیں! میرے ہسبیڈ کے دوست نے ان کے ساتھ فراڈ کیا تھا ہم اتنے سال اس میں ہی الجھے رہے۔ ہمارا سامان ضبط کرلیا گیا اور سارے کانٹیکٹ وغیرہ کھو گئے جس کے باعث ہمارا رابطہ ہی کٹ کے رہ گیا۔

اتنے سال مجھے اپنوں کی یاد ستاتی رہی ۔ایک بہت بڑی آزمائش تھی جس سے ہم گزر رہے تھے۔ سچ کو لاکھ جھٹلایا جائے وہ سامنے آکے رہتا ہے ۔ہماری زندگی میں ایک معجزہ ہوا تھا ۔میرے ہسبیڈ کے دوست نے اپنی غلطی مان لی اور ہمارا سب کچھ جو ہم سے چھن گیا تھا ہمیں واپس مل گیا۔میں سوچتی ہوں امریکہ جیسے ملک میں جہاں حکومت فوری ایکشن لیتی ہے وہاں فراڈ کیسے ہوسکتا ہے؟ لیکن جب آپ کے اپنے خود ہی آپ کے دشمن بن جائیں تو پھر چاہے وہ کتنا ہی ترقی یافتہ ملک کیوں نہ ہو انسان اپنوں کے ہاتھ مار کھا ہی جاتا ہے۔

اللہ نے ہمارا پاس رکھا اور ہماری کھوئی ہوئی عزت و وقار ہمیں لوٹا دی اور میں یہی کہوں گی جسے اللہ پر توکل ہو وہ کبھی نہیں ہار سکتا ۔ہم نے آخری سانس تک ہار نہیں مانی اور رب کے فیصلے کا انتظار کیا۔

” وہ بولتے بولتے آبدیدہ ہوگئیں۔ زارا نے ان کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے۔ یہ سچ ہی تھا کہ اپنوں کے دیے زخم چاہ کر بھی نہیں بھرتے بلکہ دن بہ دن گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں اس کے اپنوں نے بھی اس کی روح پر اتنے بُری طرح وار کیا تھا کہ وہ رشتوں کے نام سے بھی خوف کھانے لگی تھی۔

”جب ہمارا رابطہ ہوا تو میرے بھائی کی موت کی خبر نے ہمیں رنجیدہ کر دیا ۔ یہ زندگی کا دوسرا بڑا جھٹکا تھا جو اس کی موت پر لگا تھا۔ یہ عمر اس کے جانے کی نہیں تھی لیکن رب کو جو منظور ۔

جب زیان کی فلائٹ تھی تو وہ بہت خوش تھا کہ زارا سے ملے گا لیکن یہاں پہنچ کے پتا چلا کہ اس کی شادی ہوگئی ہے اور وہ اپنی فیملی کے ساتھ کینیڈا شفٹ ہوگئی ہے۔“

وہ خاموش ہوئیں تو زارا کا چہرہ آبرو آلود دیکھ کر گھبرا گئیں۔ وہ بے آواز رو رہی تھی۔

” تم رو رہی ہو؟ میں اتنی جذباتی ہوگئی اور اپنے ساتھ تمہیں بھی رلا دیا۔ بیتے کل جب بھی یاد آتے ہیں میرا خود پر اختیار ہی نہیں رہتا۔“

انھوں نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا اور اس کو گلے سے لگائے اس کا سر تھپکنے لگیں۔

ان کے گلے لگتے ہی اس کو سکون ملا اور اس کے دل نے خواہش کی کہ وہ کبھی ان سے الگ نہ ہو۔ اتنے دن بعد تو وہ اسے ملی تھیں

ان کا پیار دیکھ کر اُسے اس کے بابا یاد آئے تھے وہ بھی ان کی طرح نرم گفتار تھے ، اسی طرح شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے تھے ان کی آنکھوں میں بھی یہی چمک ہوا کرتی تھی جو اس کے سامنے بیٹھی وجود کے آنکھوں میں وہ اپنے لیے دیکھ رہی تھی۔

”اب بس رونا بند کرو۔ چلو شاباش!

میں تھوڑی جذباتی ہوگئی تھی ۔“ اس سے الگ ہوتے انھوں نے اس کے آنسو صاف کیے ۔

زیان کو بولنے کی عادت بھی وارثت میں ملی تھی۔ دونوں ماں بیٹے جب ایک بار بولنا شروع کرتے تو سب کو پیچھے چھوڑ دیتے تھے۔ زارا یہ سوچ کر دھیرے سے مسکرائی تھی۔

” گڈ گرل ! اچھا اب میں چلتی ہوں انھوں نے آگے بڑھ کر اس کے ماتھے کو چوما۔“

”یہ زیان کون ہے آنٹی؟“ وہ وہاں سے جاتیں اس سے پہلے اس نے استفسار کیا ۔

” جس کے ساتھ تم یہاں آئی ہو وہی میرا بیٹا زیان ہے کیا تمہیں اب تک اس نے اپنا نام نہیں بتایا” انھوں نے قدرے حیرانی سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔

” لیکن فہمیدہ آنٹی تو اسے آسُود کہہ رہی تھیں؟“

اس نے الجھی ہوئی نظروں سے دیکھا۔

” فہمیدہ اور زیان کے دوست اسے آسُود کہہ کر بلاتے ہیں۔زیان آسُود ملک میرا اکلوتا بیٹا ہے اور ماشاءاللہ سے پیشے سے وہ ایک وکیل ہے۔“ انھوں نے اپنے بیٹے کے بارے میں خوش دلی سے بتایا۔

” اور آپ کا نام حلیمہ ہے؟“

زارا اپنے احساسات چُھپاتے ہوئے بولی۔ وہ تصدیق کرنا چاہتی تھی۔

” ہاں لیکن تمہیں کس نے بتایا ؟“

” و….وہ مجھے…“ وہ کہتے کہتے رک گئی۔

”ارے گھبرا کیوں رہی ہو یقیناً فہمیدہ نے بتایا ہوگا۔“

زارا کا دل کیا کہ وہ ان کے گلے لگ جائے پر اس نے ایسا نہیں کیا۔

وہ اتنے دنوں سے اپنوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی انجان تھی ۔اس کی مدد کرنے والا اور کوئی نہیں اس کا کزن اور نفیس سی شخصیت رکھنے والی اس کی سگی پھوپھو تھیں جسے اس نے بہت یاد کیا تھا۔

ان کے امریکہ چلے جانے اور پھر ان کی طرف سے مکمل لاتعلقی پر وہ عجیب سے کشمکشِ کا شکار تھی ۔ اس نے اپنے باپ کو ان کے بارے میں باتیں کرنے سنا تھا ۔ وہ اپنی بہن کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو جاتے تھے۔ اس لیے اپنوں کا دور جانا اسے ہمیشہ سے بہت غمگین کر دیتا تھا جب اس کے بابا اُسے چھوڑ کر چلے گئے تو وہ اس بات کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ ایسا سچ میں ہوا ہے ۔پھر اس پر رشتوں کی تلخیوں کا ایک بہت بڑا طوفان ٹوٹا اور وہ اس بھری دنیا میں بالکل تنہا رہ گئی۔

ایک بہادر اور پر اعتماد لڑکی کب اتنی بزدل اور کمزور بن گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔

ندا پھوپھو نے تو جیسے اسے اپنا مانا ہی نہیں تھا ۔اپنا مانتیں تو وہ کبھی اسے خود سے دور نہ کرتیں اور نہ ہی اس کے لیے زبیر جیسا ہمسفر چنتیں۔

ان سے ملنے سے پہلے اسے شکایت تھی کہ وہ بابا کے آخری دیدار کے لیے کیوں نہیں آئیں۔وہ لوگ کہاں تھے جب ندا پھوپھو نے اس کی رضامندی جانے بغیر زبیر جیسے شخص کے ہاتھ میں اسے سونپ دیا تھا۔ وہ اس سے اتنے بے خبر کیوں رہے جب اسے ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھے لیکن آج ان سے بات کرکے ساری شکایتیں دور ہوگئی تھیں۔

وہ انھیں بتانا چاہتی تھی کہ جسے وہ دیکھنے کے لیے تڑپتی رہیں وہ ان کے سامنے بیٹھی ہے لیکن خوشی اور دکھ میں وہ بے آواز آنسو بہاتی رہی۔ ان کے لمس کو محسوس کرکے خوش ہوتی رہی۔

” تم نے پھر سے رونا شروع کر دیا؟“ انھوں نے اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو دیکھ کر پوچھا۔

” آپ کا پیار دیکھ کر مجھے بابا کی یاد آگئی ۔“ اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے انھیں بتایا تو جواباً استفسار کیا گیا۔

” تمہارے بابا کہاں رہتے ہیں؟“

”میرے والدین اب اس دُنیا میں نہیں ہیں۔“

”اوہ! اللہ ان کی مغفرت فرمائے۔ تم ان کے لیے دعا کیا کرو۔ اولاد کی دعا والدین کی بخشش کا ذریعہ ہے اور خود کو کبھی اکیلا مت سمجھنا۔ میں ہوں نا ۔

چلو اب تم آرام کروں میں چلتی ہوں ۔“ وہ اسے آرام کا کہہ کر کمرے سے نکل گئیں۔ ان کے جاتے ہی وہ دوائی لے لیٹ گئی تھی۔

★★★★★

زیان کو دیکھتے ہی لائبہ اور ظفر کے چہرے خوشی سے کھل گئے وہ دونوں اس کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے ۔ آج معمول سے ہٹ کر نعیم صاحب بھی اس سے گرم جوشی سے ملے تھے۔ ان کی خوشی کی وجہ عائشہ تھی جو اب ایک اچھے گھرانے میں بیاہ کر جا رہی تھی۔ کچھ روز قبل وہ اور ندا فاروق کے گھر ڈے ہو آئے تھے ۔وہ انھیں بہت پسند آیا تھا ۔اس کے والدین بھی بہت ملنسار تھے ۔

ان کا خوش اخلاقی اور خوش مزاجی دیکھ کر انھیں یقین ہوگیا تھا کہ ان کی بیٹی وہاں جاکے بہت خوش رہے گی۔ جب انھیں عائشہ کی فاروقی کو لے کر پسندیدگی کا علم ہوا تھا انھوں نے تھان لیا تھا وہ اب ندا کی ایک نہیں چلنے دیں گے ۔ زارا کی شادی میں ان کی رضامندی شامل نہیں تھی لیکن ندا کی ضد نے انھیں خاموش کروا دیا تھا۔ اس وقت اگر وہ کوئی اسٹینڈ لے لیتے تو زارا کی شادی اس زبیر سے نہ ہوتی۔

فاروق کے گھر بھی وہ ہی بولتے رہے تھے ندا خاتون خاموش بیٹھی تھیں اور گھر آکے بھی انھوں نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

شام میں گھر پر ہی چند رشتے داروں کی موجودگی میں عائشہ کی شادی کی تاریخ کے لیے چھوٹا سا فنکشن تھا تو سارا دن تیاریوں کے نذر ہوگیا تھا۔ شام میں سبھی مہمانوں کی موجودگی میں شادی کی تاریخ طے ہوتے ہی سب کے چہروں پر خوشی بکھر گئیں ۔

عائشہ کے تو جیسے خوشی کے مارے پیر زمین پر نہیں ٹک رہے تھے۔ آج اس کی سب سے بڑی خواہش جو پوری ہوگئی تھی اب بس اسے اُس دن کا انتظار تھا جب وہ فاروق کے ساتھ ازدواجی رشتے میں بندھ جاتی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *