Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Episode 13)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Episode 13)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
”اس میں کوئی ایک برائی تو نہیں…. نشہ کرتا ہے ، عورت پر ہاتھ اٹھاتا ہے اور کسی کو ایک بار نشے کی لت لگ جائے بہت کم ہی ہوتے ہیں جو اس سے چھٹکارہ حاصل کر پاتے ہیں۔ عورت پر ہاتھ اُٹھانا بزدل اور گھٹیا مردوں کی نشانی ہے ،اوپر سے اُسے شک کی لاعلاج بیماری ہے۔ میرا تو یہ سوچ کر ہی کلیجہ کٹ سا جاتا ہے کہ میری بچی نے یہ سب کیسے برداشت کیا ہوگا۔“
ان کی آنکھیں ایک بار پھر سے نم ہوگئی تھیں۔ انھیں لگا تھا اتنے سالوں سے وہ ہی آزمائش میں مبتلا تھیں ان کی فیملی نے دکھ جھیلے تھے لیکن زارا کی ساتھ ہوئی خونی رشتوں کی زیادتی نے انھیں غم زدہ کر دیا تھا۔
“مما… سنبھالیں خود کو! اگر آپ یوں ہمت ہار جائیں گی تو زارا کو کون سنبھالے گا۔ اسے آگے بہت کچھ فیس کرنا ہے۔ اُسے آپ کی محبت اور ساتھ کی ضرورت ہے۔“
وہ دونوں اس بات سے بے خبر تھے لیکن کہیں نہ کہیں دونوں ماں بیٹے زارا کی اس حالت کا ذمہ دار خود کو سمجھتے تھے۔
رات کے کھانے کے بعد زیان سیدھا ٹیرس پر آگیا۔ اوپر آنے سے پہلے وہ فہمیدہ خاتون کو چائے کے لیے کہہ چکا تھا ۔یوں ٹیرس پر آنا کم ہی ہوتا تھا مگر اس وقت اُسے ٹھنڈی ہوا اور کُھلی جگہ پر سانس لینے کی اشد ضرورت تھی تاکہ اندر کا سارا غبار ہوا میں تحلیل ہوجائے اور وہ اپنے اندر سکون اُتار سکے ۔
جس زارا سے وہ بچپن میں ملا تھا وہ بالکل شوخ ، زندہ دل اور زندگی سے بھرپور ہوا کرتی تھی لیکن اب جیسے وہ کہیں کھو سی گئی تھی اُس کا اس قدر سنجیدہ رہنا۔ بولتے بولتے چُپ ہو جانا اور ہر وقت گُم صم رہنا زیان کو بے چین کر رہا تھا۔
بس یہی بات تھی کہ وہ پریشان رہنے لگا تھا۔ ماموں کو کھو دینے کا غم تو تھا ہی ان کی پیاری بیٹی کی زندگی میں آئی اس خَلشِ کو وہ ٹھیک کرنا چاہتا تھا۔
وہ دیوار سے ٹیک لگا کر کھڑا آسمان پر موجود مکمل چاند اور ہر سو پھیلی روشنی کو دیکھتے ہوئے کسی خیال میں گم تھا کہ فہمیدہ خاتون نے اسے پُکارا۔
“آسود بیٹا! آپ کی چائے۔” اس نے مڑ کر انھیں دیکھا اور آگے بڑھ کر ان کے ہاتھ سے کپ لیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
” سوری اتنی رات گئے میں نے آپ کو پریشان کر دیا۔“ وہ معذرت خواہانہ انداز میں بولا۔
“یہ کیا بات ہوئی بیٹا! ماں کبھی اپنے بچوں کے کام کرتی تھکتی ہے!“ اُس کے اس طرح کہنے پر وہ بُرا مان گئی تھیں اور یہ سچ تھا انھوں نے زیان کو کبھی اپنی اولاد سے کم نہیں سمجھا تھا ۔انھوں نے ایک ماں کی طرح ہی اس کا خیال رکھا تھا۔
“بہت شکریہ آنٹی! آپ ہمیشہ مجھے لاجواب کر دیتی ہیں ۔اب آپ سو جائیں! رات بہت ہوگئی ہے ۔ میں بھی کچھ دیر میں سو جاؤں گا۔ شب بخیر!“ اس نے ان کا شکریہ ادا کیا اور چائے کی کپ اپنے ہونٹوں سے لگا لی۔
جب بھی اسے کسی قسم کی پریشانی ہوتی وہ تنہائی میں بیٹھ کر اس کا حل ڈھونڈتا تھا لیکن آج باوجود کوشش کے اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا اور اس کی بے چینی بڑھتی چلی جا رہی تھی۔
آسمان پر پورا چاند ہر طرف اپنی روشنی بکھیر رہا تھا کچھ دیر یونہی کھڑا رہنے کے بعد اس نے اپنے دوست کو کال ملائی۔ اس سے بات کرکے کچھ ہلکا پھلکا ہوا تو وہ یہ سوچ کر نیچے چلا آیا کہ اب سارے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اُسے خلع کے کاغذات کا انتظار تھا مگر اُس کے بعد آنے والی پریشانیوں سے وہ زارا کو کیسے بچائے گا ایسے بہت سے سوالات تھے جس سے وہ چھٹکارہ حاصل نہیں کر پا رہا تھا ۔
★★★★★
زارا کچن میں چائے بنا رہی تھی جب زیان پانی پینے کے لیے کچن میں داخل ہوا۔ اُسے دیکھ کر سلام کرتے وہ فریج سے جُھک کر پانی کا بوتل نکالنے لگا ۔
زارا اس کے چہرے پر پریشانی دیکھ سکتی تھی ۔ایک گہرا سانس بھرتے اس آہستہ سے سلام کا جواب دیا اور کپوں میں چائے نکالنے لگی۔ پانی کی گلاس واپس رکھتے ہوئے اُس کی خاموشی کا نوٹس لیتے اس نے خود ہی اس کا حال و احوال جاننا چاہا اور ساتھ حلیمہ خاتون کے متعلق پوچھا۔
”کیسی ہو؟ مما اُٹھ گئی ہیں؟”
”میں ٹھیک ہوں اور پھوپھو جان اپنے کمرے میں ہیں ۔“
اُسے زارا سے لاہور میں ہوئی پہلی ملاقات یاد آئی اس کا چڑ جانا ، لڑنا اور اسے دیکھتے ہی خوف کھانا ہر چیز جیسے اس کی آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی طرح چلتی محسوس ہوئی۔
”کیا زارا زبیر کو پسند کرتی ہے؟ “ اس نے سوچا پھر خود ہی اس کی نفی کر دی کیوں کہ اگر اس کے دل میں زبیر کے لیے کوئی خاص جذبات ہوتے تو وہ اُس سے خلع لینے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔
اور زبیر جیسا شخص تو بالکل بھی اُس کے لائق نہیں ہے ۔ اُس انسان کو تو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے ۔“
اس نے اپنی سوچ کے گھوڑے دوڑائے اور دل ہی دل میں سوچا۔
“تمہیں چائے پینی ہے ؟ “
اچانک سے پوچھے جانے پر اُس کی سوچ کے بے لگام گھوڑے رُک گئے ۔
وہ جو دیوار سے ٹیک لگائے کھڑا محو سوچ تھا سیدھا کھڑا ہوگیا سر کو جنبش دے کر زارا کے ہاتھ سے چائے کی کپ تھام لی۔ زارا ٹرے لیے کمرے کی جانب بڑھ گئی جہاں حلیمہ خاتون اس کا انتظار کر رہی تھیں ۔
★★★★★
جیسے ہی خلع کے کاغذات تیار ہوکر آئے زارا نے کسی بھی قسم کے تاثرات ظاہر کیے بغیر ہی خاموشی سے اس پر دستخط کر دیے ۔
پل میں اس کی دُنیا بدل گئی تھی وہ ایک شادی شدہ لڑکی سے طلاق یافتہ بن گئی تھی ۔اسے لوگوں کی عجیب نظروں اور طرح طرح کی سوالوں کا سامنا کرنا پڑتا کیوں کہ قصور کسی کا بھی ہو دُنیا عورت کو ہی غلط کہتی ہے۔
اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ جس ان چاہے رشتے کو وہ پوری ایمانداری سے نبھانے کی کوشش کر رہی تھی اس رشتے کا اختتام بھی ہوگا۔
دوسری طرف زیان جو بچپن سے ہی زارا کو پسند کرتا تھا یہ بات اب تک سب سے پوشیدہ تھی۔ وہ اس سے دور تھا لیکن وہ کبھی اس کی یادداشت سے محو نہیں ہوئی تھی۔اس نے سوچا تھا پاکستان پہنچ کے سب سے پہلے اس سے اپنے جذبات کا اظہار کرے گا پھر حلیمہ خاتون سے بات کرے گا لیکن یہاں پہنچ کر جب اسے زارا کی شادی کا علم ہوا تو اسے شاک لگا پر اس نے خود کو سنبھال لیا تھا کیوں کہ اسے زارا کی خوشی عزیز تھی اس نے کبھی نہیں چاہا تھا کہ زارا کی شادی ٹوٹ جائے اب جب ایسا ہوا تھا تو اسے چین نہیں مل رہا تھا ۔اس لیے زیان لاہور چلا گیا اور وہاں خود کو کام میں مصروف کرلیا تھا ۔ وہ جب بھی فارغ ہوتا اپنی مما کو فون کرکے ان کی طبعیت اور زارا کے بارے میں پوچھ لیتا تھا۔ جیسے تیسے دن گزر رہے تھے وہ اپنے کام میں مصروف ہوگیا تھا مگر اب بھی اُسے زارا کو لے کر پریشانی لگی رہتی تھی۔
پورے چار ماہ بعد وہ کراچی واپس لوٹنے والا تھا اور اُس نے جیسے ہی اپنے آنے کی خبر حلیمہ خاتون کو دی وہ خوشی سے کھل اُٹھی تھیں لیکن اس نے انھیں نہیں بتایا تھا کہ وہ آج ہی پہنچنے والا ہے۔
اسے اپنے پہلے کیس میں ہی بڑی زبردست کامیابی ملی تھی اُس کے بعد بھی وہ چند کیسز لڑ چکا تھا ۔ وہ پہلے ہی کراچی لوٹ جاتا مگر وہ زارا کی عدت پوری ہونے کا انتظار کر رہا تھا کیونکہ وہ اس سے مل کر بات کرنا چاہتا تھا۔
زارا اپنے کمرے میں بیٹھی کتاب کا مطالعہ کر رہی تھی جب حلیمہ خاتون نے دروازے پر دستک دی ۔
زارا نے انھیں دیکھ کر ہاتھ میں پکڑی کتاب سامنے میز پر رکھ دی۔
السلام علیکم… پھوپھو جان!
“آپ وہاں کیوں کھڑی ہیں ، پلیز اندر آئیں ۔” اس نے کہا تو حلیمہ خاتون اندر چلی آئیں ۔جواب دے کر وہ اس کے قریب آکر بیٹھ گئی تھیں ۔
“میں اب بالکل ٹھیک ہوں بس کل ذرا سر میں درد تھا اس لیے آرام کر رہی تھی اور صبح بھی میری آنکھ زرا دیر سے کھلی ، فہمیدہ کہہ رہی تھی کہ تم مجھ سے ملنے میرے کمرے میں آئی تھی ؟”
”جی….بس آپ کے پاس بیٹھنے کا دل کیا تو سوچا آپ کے پاس چلی آؤ ۔“ اس نے انھیں بتایا ۔
”آج میرے ساتھ باہر چلو ، تمہیں اچھا لگے گا اتنے دنوں سے یوں گھر میں بیٹھی بور ہوگئی ہوگی ۔“
انھوں نے کہا تو وہ بس خاموشی سے سر ہلا کر رہ گئی۔
شام میں وہ اسے شاپنگ پر لے کر گئی تھیں اور وہاں حلیمہ خاتون کے اصرار کرنے پر زارا کو مجبورًا دو چار ڈریس اپنے لیے لینے پڑے تھے۔
دو تین گھنٹے لگے تب جاکے وہ دونوں بہت سی چیزیں لینے میں کامیاب ہوئی تھیں ۔
گھر پہنچ کر وہ دونوں باتیں کرتیں راہ داری سے چلتیں لاؤنج میں داخل ہوئیں تو سامنے زیان کو دیکھ کر حیران رہ گئیں وہ صوفے پر ایک ٹانگ پر ٹانگ چڑھائے مسکراتے ہوئے ملک صاحب سے بات کر رہا تھا۔
” لو یہ دونوں بھی آ گئیں!“
ملک صاحب کی ان پر نظر پڑی تو انھوں نے کہا۔ زیان بھی انھیں دیکھ کر مسکرانے لگا پھر اُٹھ کر سلام کرتا حلیمہ خاتون کے گلے لگ گیا۔
”کیسی ہیں مما؟“ اس نے ان سے الگ ہوتے ہی پوچھا۔
” میں تو بالکل ٹھیک ہوں زیان! لیکن تم تو کل آنے والے تھے نا ؟“
اسے یہاں اچانک دیکھ کر انھیں خوشی ہوئی تھی اور وہ حیران بھی تھیں کیوں کہ اس نے انھیں نہیں بتایا تھا کہ وہ آج ہی آ جائے گا۔
” میں آپ کو سرپرائز دینا چاہتا تھا مما! کیا آپ کو اچھا نہیں لگا؟“ اس نے الٹا استفسار کیا۔ ماں کے پوچھنے پر اس کا پہلی والی ساری گرم جوشی مانند پڑ گئی تھی۔
” تمہیں یہاں دیکھ کر میں خوش نہیں ہوں گی؟ لیکن تمہیں مجھے بتانا چاہیے تھا میں تمہارے لیے کچھ خاص بناتی۔“ انھوں نے افسردگی سے کہا۔
” کھانا تو ہم آج باہر کھائیں گے، کیوں زارا؟“
اس نے زارا جو مخاطب کیا تو اس نے سر ہلانے پر اکتفا کیا۔
” ٹھیک ہے میری جان!“
حلیمہ خاتون اس کے گال تھپکتے ہوئے بولیں تو وہ کھل کر مسکرایا۔
”ہیلو زارا! کیسی ہو تم ؟“ وہ اس کی طرف بڑھا تھا ۔زارا حلیمہ خاتون کے پیچھے شاپنگ بیگ لیے کھڑی دونوں ماں بیٹے کے مابین ہونے والی گفتگو سن رہی تھی۔
” ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو؟“
” میں بالکل ٹھیک ٹھاک!“ اس نے پر مسرت انداز میں بتایا۔
“ارے….. میں بھی یہیں کھڑا ہوں۔ تم ماں بیٹے کا میل ملاپ ہوگیا ہو تو کوئی مجھے بھی پوچھ لے۔“
ملک صاحب خود کو نظر انداز ہوتا دیکھ انھیں یاد دلانے لگے تو سب کی ہنسی چوٹ گئی۔
ملک ہاؤس کی در و دیوار میں ہنسی گونج رہی تھی ایسا لگتا تھا بہت عرصے بعد اس گھر کی خوشیاں لوٹ آئی تھیں۔
★★★★★
زیان باغیچے میں کھڑا پھولوں کی تراش خراش میں مالی بابا کی مدد کر رہا تھا۔وہ چلتی ہوئی اس تک آئی اور اس کی جانب چائے کا کپ بڑھاتے ہوئے کہا۔
“تمہاری چائے؟“
” بہت شکریہ! مجھے یوں روز اچھی چائے پلانے کے لیے۔“ اُسے یہاں دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرایا اور اس کے ہاتھ سے چائے کی کپ لیتے ہوئے اس کا شکریہ ادا کیا اور چائے کی سپ بھرنے لگا۔
”زارا!“ وہ جانے کے لیے پلٹی تو اس نے اسے پکارا تو اس نے سوالیہ نظروں سے اس کی اور دیکھا۔
”اگر تمہیں کوئی بھی پریشانی ہے تو مجھ سے مت چھپانا۔ تم بلا جھجھک مجھ سے بات کر سکتی ہو۔“
اس نے زارا کی خاموشی کا نوٹس لیتے ہوئے اُسے اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔
”مجھے کوئی پریشانی کیوں ہوگی زیان؟“ وہ اس کے استفسار پر حیران ہوئی۔ وہ زبیر کو یاد نہیں کرنا چاہتی تھی۔ ان دونوں کے درمیان کبھی ایسا کچھ تھا ہی نہیں جسے یاد کیا جاسکے۔
” تم اتنی خاموش کیوں ہوگئی ہو ؟“ اس نے چائے کی خالی کپ کو آگے بڑھ کر چار فٹ اونچی دیوار پر رکھا جو وہاں حال ہی میں اٹھائی گئی تھی۔
” مجھے خاموش رہنا اچھا لگتا ہے۔“ اس نے نارمل انداز میں بتایا۔
” پہلے تو تم ایسی نہیں تھی ۔ بچپن میں کوئی بمشکل ہی تمہیں چپ کروا سکتا تھا۔ وہ زارا کہیں کھو گئی ہے۔ میں اُسے مس کرتا ہوں۔ “
اس نے ماضی میں جھانکتے ہوئے ہنستی مسکراتی زارا کو تصور میں لاتے ہوئے کہا۔
” وقت ایک سا نہیں رہتا زیان۔ وہ وقت بہت پیچھے چلا گیا ہے۔ ان سالوں میں بہت کچھ بدل گیا ہے اور شاید میں بھی۔ مجھے کبھی اپنی نظروں سے دور نہ کرنے والے بابا خود مجھ سے دور ہوگئے ہیں۔“ اس نے اداسی سے کہا تو اس کے لہجے میں بسی اداسی نے زیان کے اندر دھواں سا بھر دیا۔
” سوری زارا… میں تمہیں دکھی نہیں کرنا چاہتا تھا۔“ وہ بولتے بولتے رک گیا تاکہ اس کے تاثرات دیکھ سکے۔پر اس کا چہرہ سپاٹ تھا۔
” میں خوش ہوں زیان! جو کچھ بھی ہوا میری قسمت میں لکھا تھا اس میں تمہارا یا پھوپھو جان کا کوئی قصور نہیں ہے۔ اس لیے تم دونوں سوری نہ کیا کرو مجھ سے۔“
وہ اپنی بات مکمل کرکے جا چکی تھی اور زیان سوچ میں پڑ گیا تھا کہ کیا اسے زارا کو اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہئیں یا مزید انتظار کرنا چاہیے۔
ان کے درمیان پھر کوئی بات نہیں ہوئی تھی۔ وہ اسے وقت دینا چاہتا تھا۔ زارا نے حلیمہ خاتون کے کہنے پر دوبارہ سے پڑھائی شروع کر دی تھی اور زیان اپنے کام میں اتنا مصروف ہوگیا تھا کہ گھر آتے آتے بھی اسے رات ہو جاتی تھی۔
وہ روز ناشتہ کیے بغیر ہی آفس کے لیے نکل جاتا اور رات دیر سے گھر واپس لوٹتا ۔آج اتوار تھا اور اس کی چھٹی تھی اسی لیے ناشتے کی ٹیبل پر سبھی ایک ساتھ بیٹھے ناشتہ کر رہے تھے۔
” ندا کا فون آیا تھا۔ کل سے عائشہ کی شادی کی تقریبات شروع ہو جائیں گی۔“ کل رات انھیں ندا خاتون کا فون آیا تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ عائشہ کو وہ اپنی دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں۔
”زیان ہوسکے تو کچھ دنوں کے لیے اپنے کام سے چھٹی لے لو۔“ وہ زیان سے مخاطب ہوئیں ۔
” لیکن میرا جانا ضروری ہے کیا؟ “
وہ جوس کا گلاس خالی کرتے ہوئے بولا۔
” ضروری ہے تبھی کہہ رہی ہوں کچھ دنوں کی چھٹی لے لو تم! اور مجھے کچھ نہیں سننا۔ کل ہم ندا کی طرف چل رہے ہیں۔ اس لیے نو مور ایسکیوزز۔“ انھوں نے غصے میں کہتے بات ہی ختم کر دی وہ چپ ہوگیا۔
”ایسے موقعے بار بار کہاں آتے ہیں۔ چلو مزہ آئے گا۔“ ملک نواز نیپکِن سے ہاتھ پونچھتے ہوئے بولے تو اس نے سر ہلا دیا۔
” اور تم اپنی روٹین ٹھیک کرو۔“ وہ اس کی پچھلے ایک ہفتے کی معمول کو دیکھ کر واقعی پریشان تھیں زیان صبح سویرے گھر سے نکل جاتا اور رات گئے واپس لوٹنا جب سب سُو چکے ہوتے۔ نہ ٹھیک سے کھاتا تھا۔ انھوں نے ناراضی سے کہا۔
” سوری مما! مجھے کسی کیس کے سلسلے میں ایسا کرنا پڑا۔ خیر اب سے میں جلدی آیا کروں گا پرامس…. ٹھیک ہے ۔”
وہ انھیں جانچتی نظروں سے دیکھنے لگا آیا وہ اب بھی ناراض ہیں یا نہیں۔
” چلو اب اپنا کھانا ختم کرو۔“ انھوں نے کہا تو دل نہ چاہتے ہوئے بھی اپنی پلیٹ خالی کرنے لگا کیونکہ انھیں دوبارہ ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔
دوسرے دن وہ سب جب وہاں پہنچے تو ان کا کھلے دل سے استقبال کیا گیا۔
زیان اور زارا کو یہاں دیکھ کر لائبہ اور ظفر کا خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں رہا تھا۔ وہ دونوں ہی انھیں پسند تھے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد سبھی اپنی اپنی تیاریوں میں لگ گئے۔ کوئی پارلر تو کوئی مارکیٹ جاکر اپنی ضرورت کی اشیاء خرید رہا تھا۔
جب شام ہوئی تو مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا زارا کی ضد پر عائشہ کا نکاح عباس وِلا میں ہو رہا تھا۔عائشہ خود بھی یہی چاہتی تھی آج عائشہ بھی ان دونوں سے بہت گرم جوشی سے ملی تھی۔
لان کو رنگ برنگے برقی قمقوں سے سجایا گیا ان کی روشنی میں پورا عباس ویلا جگمگا رہا تھا اور سارے انتظامات نعیم صاحب اور زیان نے اپنی نگرانی میں کروائے تھے ۔
سب کے چہرے خوشی سے دمک رہے تھے ان میں زارا بھی شامل تھی۔ عائشہ کو اس نے ہمیشہ اپنی بہن مانا تھا اور آج اس کی زندگی کا خوبصورت دن تھا۔ وہ اس کے لیے خوش تھی۔
زیان کچھ فاصلے پر کھڑا کسی سے بات کر رہا تھا جب اس کی نظر زارا پر پڑی ۔اسے یوں مسکراتا دیکھ کر وہ بہت خوش تھا۔
وہ ہاتھ سینے پر باندھے کھڑا محویت سے زارا کو دیکھ رہا تھا جو کچھ فاصلے پر کھڑی لڑکیوں کے ساتھ کام کروا رہی تھی۔ وہ بلاشبہ ہنستی ہوئی بہت پیاری لگتی تھی۔
” کاش یہ مسکراہٹ یونہی تمہارے چہرے پر زینت بنی رہے ۔“ اس نے دل سے دعا کی ۔ لڑکے والوں کی آمد کا شور پھیلا تو وہ ان کے استقبال کے لیے ان کی جانب بڑھ گیا۔
کھانے کے بعد کافی شور شرابا مستی مذاق کا سلسلہ جاری رہا پھر دھیرے دھیرے سب اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ چند رشتے دار ان کے گھر پر ہی ٹھہرے تھے ۔ جن میں ملک فیملی بھی شامل تھی ۔
