Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Episode 05)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Episode 05)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
لاوئج میں لگا فون بجے چلے جا رہا تھا مگر کسی نے اٹھانے کی زحمت نہیں کی تھی۔ آخر کار ندا خاتون کو لاؤنج میں آنا پڑا۔
” کب سے بیل بج رہی ہے لیکن مجال ہے کوئی اپنے کمروں سے نکل جائے۔“
انھوں نے بڑبڑاتے ہوئے ریسیور کان سے لگا لیا لیکن فون سنتے ہی ان کی بے زاری پل بھر میں مسکراہٹ میں بدل گئی۔ کچھ دیر بات کرنے کے بعد وہ فون رکھ کر عائشہ کو آواز لگانے لگیں جو اپنے کمرے میں بیڈ پر بیٹھی پیر کی انگلیوں پر نیل پینٹ کا آخری کوٹ لگانے میں مصروف تھی ۔ اس نے ماں کی آواز سن کر بھی ان سنا کر دی اور وہیں بیٹھی ناخنوں کی تراش خراش میں لگی رہی۔
ندا خاتون خود ہی آواز دیتی اس کے کمرے میں پہنچیں اور اسے بیڈ پر دراز دیکھ کر ایک دم سے پھٹ پڑیں ۔
” میں کب سے تمہیں آواز لگا رہی ہوں مگر مجال ہے تم کوئی جواب ہی دے دو ۔ ماں کی بات کو نظر انداز کرکے تم یہاں پڑی آرام فر ما رہی ہو۔تمہاری انہی حرکتوں کی وجہ سے میں سخت پریشان ہوں عائشہ!
اللّہ ایسی نافرمان اولاد کسی کو نہ دے ۔“
دوسروں پر ظلم و ستم کرنے والی اپنی اولاد کی نافرمانی کا رونا رو رہی تھیں ۔
”آپ کو تو ہمیشہ مجھ میں ہی بُرائیاں نظر آتی ہیں مما۔“ عائشہ خفگی سے کہتے ہوئے اٹھ گئی۔
البتہ ندا خاتون اس کی بات سن کر اسے افسوس کے ساتھ دیکھنے لگیں۔ اس سے کچھ کہنا ہی فضول تھا ۔
” اچھا سنو! زیان کا فون آیا تھا ، ایک دو دن میں یہاں پہنچ جائے گا۔“
انھوں نے خوشگوار انداز میں زیان کے آنے کی خبر دی تو عائشہ نے ماں کے خوشی سے کھلتے چہرے کی اور دیکھا۔
”تو…. آ رہا ہے تو آتا رہا اور اس میں خوش ہونے والی کونسی بات ہے مما؟ وہ کونسا ہم سے ملنے آتا رہا ہے۔ بیرون ملک جا کے اسے یہ یاد ہی نہیں رہا کہ ہم سے کوئی رشتہ بھی ہے اور اب اتنے سالوں بعد رابطہ ہوا ہے تو اس نے کبھی ہم سے بات کرنے میں دلچسپی نہیں دکھائی ۔ ناجانے کس بات کا غرور ہے ۔“ وہ جلے کٹے انداز میں بولتی رہی ۔ زیان کا ذکر سن کر اس کا اچھا خاصا موڈ آف ہوگیا تھا۔
”عائشہ!“ بیٹی کی بے زاری اور تیور دیکھ کر ندا خاتون نے اسے ڈپٹا۔ وہ کیا کچھ سوچ کر بیٹھی تھیں مگر اس کے تو مزاج ہی نہیں مل رہے تھے۔
”اس میں جھوٹ کیا ہے مما! سچ ہی تو کہہ رہی ہوں وہ فون پر بھی زارا کا پوچھتا رہا ہے۔“ اس نے غصے سے کہا۔
”وہ تمہارا بھی کزن ہے عائشہ اور اس کے لیے تم سب بھی اتنی ہی اہم ہو جتنی زارا ہے ۔
وہ اتنے سالوں بعد ہم سے ملنے آ رہا ہے اور تم اس طرح کی باتیں کر رہی ہو ۔بہت افسوس کی بات ہے ۔“
زیان ملک ان کا اکلوتا بھانجا تھا ان کی بڑی بہن حلیمہ ملک کا بیٹا ۔
اپنی بہن کی طرف سے اچانک رابطہ ختم ہونے کی وجہ سے وہ مایوس ہوگئی تھیں لیکن جب دوبارہ سے ان کی طرف سے رابطہ ہوا تو ان کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ ایک پڑھا لکھا ویل سیٹلڈ لڑکا وہ بیٹی کی نادانی کی وجہ سے ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھیں۔جب سے انھیں پتا چلا تھا کہ ان کی بہن مستقل پاکستان سیٹل ہونے کے ارادے سے آ رہی ہیں تو انھوں نے زارا کو جیسے تیسے کرکے اس گھر سے دور بھیج دیا تھا کیوں کہ وہ اپنی بہن کے مزاج سے خوب واقف تھیں۔ عباس بھائی کے وفات کے بعد تو زارا ان کے سامنے بے چاری بنی ہوتی اور ان کا سالوں سے دیکھا گیا خواب مٹی میں مل جاتا۔
” اونہہ…. اہم! آپ تو رہنے دیں مما اور اگر اس نے زارا کا پوچھ لیا تو آپ کیا بتائیں گی اسے؟“
عائشہ کو نئی فکر لاحق ہوئی اس کی بات سن کر ندا خاتون بھی سوچ میں پڑ گئیں انھوں نے تو اس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔
★★★★★
نعیم حسین کے گھر آج سب صبح سویرے ہی اُٹھ گئے تھے ۔ناشتے سے فارغ ہوکر گھر کے سبھی افراد کسی نہ کسی کام میں مصروف تھے۔ ندا خاتون کمرے میں کھڑی ملازمہ سے کونے کھدروں کی صفائی کروا رہی تھیں۔
”کلثوم….! بیڈ شیٹ بھی بدل دو ۔“
پھر ندا خاتون نے الماری سے پردے نکال کر دیے اور اسے میں تبدیل کرنے کی ہدایت کی۔
مالکوں کے آنکھ سے بچ بچا کر کام میں ڈنڈی مارنے میں ماہر کلثوم بی آج پکڑی گئی تھی اس سے بھی چُن چُن کر کام لیا جا رہا تھا۔
زیان آنے والا تھا اور وہ چاہتی تھیں کہ ہر چیز پرفیکٹ ہو ۔کوئی بھی کمی بیشی نہ رہے بس اسی لیے آج یہاں رہنے والا ہر فرد گھن چکر بنا ہوا تھا۔
زیان جب چھوٹا تھا تب سے وہ اسے اپنا داماد بنانے کا خواب دیکھ رہی تھیں ۔اپنی منہ پھٹ اور خود سر بیٹی کے لیے بیٹھے بٹھائے اتنا خوبصورت اور امیر لڑکا مل رہا تھا۔وہ کیوں کر یہ موقع ہاتھ سے جانے دیتیں۔
عائشہ کی پیدائش کے وقت انھوں نے باتوں باتوں میں حلیمہ خاتون کے کان میں یہ بات ڈال دی تھیں۔ حلیمہ خاتون نے تو بچوں پر چھوڑ دیا تھا لیکن انھیں پورا یقین تھا کہ ان کا یہ خواب ضرور سچ ہوگا۔ صفائی کے بعد وہ کلثوم کے سر پر کھڑی ہوکر مختلف قسم کے لوازمات بھی تیار کرواتی رہیں۔لائبہ اسکول سے آئی تو ماں کو تیاریوں میں مصروف دیکھ کر مسکرانے لگی اتنے عرصے بعد زیان آ رہا تھا اور وہ خود بھی زیان کے آنے کی خبر سُن کر بہت خوش تھی۔ اس نے اپنی ماں سے ہی اس کا کافی ذکر سن رکھا تھا وہ دو تین سال کی تھی جب وہ لوگ پاکستان سے امریکہ شفٹ ہوگئے تھے ۔ اس نے اس کی تصویریں ہی دیکھی تھیں اور کبھی کبھار فون پر بات کیا تھا۔
ظفر بھی کافی خوش تھا اس کے آنے کی خوشی میں وہ آج اپنا کرکٹ میچ کا پروگرام بھی ملتوی کر چکا تھا۔
اس گھر میں اگر کوئی نا خوش تھا تو وہ عائشہ نعیم تھی۔ نا جانے وہ اسے کیوں پسند نہیں کرتی تھی ۔وہ اس کا نام سنتے ہی بھڑک جاتی تھی اور ایسا بچپن سے ہوتا آیا تھا۔
شام چار بجے کے قریب اُس نے فون پر اطلاع دی کہ وہ شہر میں داخل ہوگیا ہے کچھ دیر میں پہنچ جائے گا۔
نعیم صاحب اپنے تمام معاملات سے الگ تھلک آفس کے کام کر رہے تھے۔
دو دن پہلے انھیں زیان کی آنے کی خبر ملی تھی گھر کے سارے کام ندا خاتون دیکھتی تھیں ۔ہر کام ان کی مرضی سے ہی ہوتا تھا انھیں بس بتایا جاتا تھا۔
وہ ندا کی فطرت سے واقف تھے۔ دولت پانے کی خواہش نے انھیں خود سر بنا دیا تھا۔ شادی ہوتے ہی ان پر انکشاف ہوگیا کہ آرام و آسائش والی زندگی کی خواہاں ہیں اور اس لیے محبت کی شادی کے باوجود وہ انھیں کم مائیگی کے طعنے دینے سے باز نہیں آتی تھیں۔
اپنے چھوٹے بھائی عباس کی وفات کے بعد ان کی جائیداد پر بھی قبضہ کرلیا بلکہ بے چاری زارا کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔
انھیں اس مادیت پرست عورت کو دیکھ کر شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوتا جو انھوں نے ان سے شادی کر کے کی تھی۔ وہ انھیں سمجھا کر تھک چکے تھے ۔ایسا کرنے پر ان کے درمیان جھگڑا ہوتا تھا جس سے گھر کا ماحول خراب ہوجاتا یہ سوچ کر انھوں نے سمجھانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ شادی ان دونوں کی مرضی سے ہوئی تھی اب شکایت کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا تھا۔
★★★★★
زبیر صبح کا گیا اب تک گھر نہیں لوٹا تھا اور زارا اُس کا انتظار کرتے کرتے وہیں صوفے پر سُو گئی تھیں۔
رات گئے جب زبیر واپس آیا تو ناک کرنے کے بجائے اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھول کر اندر چلا آیا اور خاموشی سے اپنے کمرے میں بڑھتے ہوئے اس کی نظر صوفے پر سوئی زارا پر پڑی تو وہ ٹھٹک گیا اور کمرے میں جانے کا ارادہ ملتوی کرتا وہ اس کی طرف چلا آیا ۔ اسے آوازیں لگانے پر بھی جب وہ نہ اٹھی تو اس نے اگے بڑھ کر اس کا ہاتھ تھپتھپایا۔
”زارا….. زارا اُٹھو!“
زارا نے اپنی خمار آلود آنکھیں کھول دی اور زبیر کو سامنے دیکھتے ہی ایک جھٹکے سے اٹھ بیٹھ گئی۔
”آپ….آپ کب آئے ؟“
”ابھی تھوڑی دیر پہلے آیا ہوں ۔ تم یہاں کیوں سو رہی تھی؟“ اس نے پوچھا۔
” میں آپ کا انتظار ہی کر رہی۔ پتا نہیں کیسے میری آنکھ لگ گئی ۔آپ فریش ہوجائیں ، میں کھانا لگاتی ہوں۔“
کھانے گرم کرنے کے ارادے سے وہ صوفے سے اٹھی تھی لیکن زبیر نے اُسے روک دیا۔
”نہیں……رہنے دو! میں کھانا کھا کر آیا ہوں ۔“
وہ اسے بتا کر اس کا ری ایکشن دیکھے بغیر کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا جبکہ زارا گہرا سانس خارج کرکے رہ گئی زبیر خود کھانا باہر سے کھا کر آیا تھا مگر وہ جو اس کے انتظار میں کب سے بھوکی تھی اُس نے پوچھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
★★★★★
زیان کا بھر پور استقبال کیا گیا ۔ جب سے وہ یہاں آیا لائبہ اور ظفر کے گرد دائرہ بنائے بیٹھے مختلف قسم کے سوالات کیے جا رہے تھے۔ وہ ان کے سوالوں کے جوابات دے کر تھک گیا تھا اور کچھ دیر آرام کرنا چاہتا تھا کیوں کہ مستقل ڈرائیونگ کی وجہ سے اس کی پیٹھ اکڑ گئی تھی۔
تبھی ندا خاتون ہاتھ میں اورنج جوس کا گلاس لیے ان تینوں کے پاس چلی آئیں ۔
“بچو! اب زیان بھائی کو آرام کرنے دو۔ میں دیکھ رہی ہوں جب سے زیان آیا ہے تم دونوں ایک لمحے کے لیے بھی چُپ نہیں ہوئے ۔”
ان کی بات سُن کر لائبہ اور ظفر کا چہرہ اُتر گیا البتہ زیان نے شکر ادا کیا تھا کیوں کہ وہ تھکاوٹ کے باوجود مروت میں کچھ بول بھی نہیں پایا۔
“جی خالہ جان! ٹھیک کہا آپ نے۔ باقی باتیں کل کریں گے بچو! “
اُس نے مسکراتے ہوئے میز پر رکھے جوس کا گلاس اُٹھا کر گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
“خالہ جان زارا کہاں ہے؟ کہیں نظر نہیں آ رہی؟
گھر میں نہیں ہے یا وہ مجھ سے ملنا نہیں چاہتی ؟”
جوس کا گلاس میز پر واپس رکھتے ہوئے اس نے آس پاس متلاشی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔ زیان اس سے مل کر گزشتہ ساری شکایتیں دور کرنا چاہتا تھا۔عباس ماموں کی فوتگی پر تعزیت کے لیے نہ آنے پر اس سے معذرت کرنا چاہتا تھا حالانکہ تب وہ اس بات سے بے خبر تھا اور امریکہ میں گزارے ماہ و سال کے قصے اور رابطہ نہ رکھنے کی مجبوری اور وجوہات بتانا چاہتا تھا مگر وہ جب سے آیا تھا وہ کہیں نظر نہیں آرہی تھی وہ سارے رستے یہی سوچتا آیا تھا کہ اب بھی وہ بچپن جیسی معصوم پری دکھتی ہوگی یا وقت نے اسے بدل دیا ہوگا۔ لائبہ ،ظفر اور عائشہ سے وہ آتے ہی مل چکا تھا ایک زارا ہی تھی جس سے اس کی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔
”کیا ہوا خالہ ؟ بتائیں نا کہاں ہے وہ ۔اچھا چھوڑیں میں خود ہی مل لیتا ہوں۔ “
ندا خاتون کو خاموش دیکھ کر وہ کہتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔ وہ اپنی خاموشی توڑتیں اس سے پہلے لائبہ بول پڑی ۔
“زیان بھائی۔ زارا آپی تو اب ہمارے ساتھ نہیں رہتیں۔ “
”یہاں نہیں رہتی مطلب ؟ “ وہ حیران ہوا تھا۔
“ان کی تو شادی ہوگئی ہے۔” اس بار ظفر نے بھی گفتگو میں اپنا حصّہ ڈالا۔
”لائبہ ، ظفر تم دونوں اپنے کمرے میں جاؤ۔“
”لیکن مما۔“ ندا خاتون جیسے ہوش میں آئی تھیں انھوں نے دونوں کا کمرے میں جانے کو کہا تو لائبہ کا منہ بن گیا۔
“میں نے کہا نا کمرے میں جاؤ! “ انھوں نے سختی سے کہا تو وہ دونوں وہاں سے نہ چاہتے ہوئے بھی اُٹھ کر اپنے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ شکر تھا دونوں عائشہ کی طرح نہیں تھے بلکہ اپنی ماں کا کہنا مانتے تھے۔
زارا کی شادی کا سُن کر وہ کافی اُلجھ گیا تھا۔
اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ اس کی شادی ہوگئی تھی وہ یہ سوچ کر آیا تھا کہ وہ یہاں آکر خوب باتیں کرے گا ۔اس کی ناراضگی دور کرے گا۔
اتنی کم عمری میں ان لوگوں کے علم میں لائے بغیر اس کی شادی ہو جائے گی اس کی سوچ بھی وہاں تک نہیں گئی تھی۔
”خالہ جان زارا کی شادی….. یہ کیسے ہوسکتا اور آپ نے ہمیں بتایا بھی نہیں؟“
” زیان دراصل سب کچھ اتنی جلدی میں ہوا کہبتانے کا موقع ہی نہیں ملا ۔ بہت اچھا رشتہ تھا تو ہم منع ہی نہیں کر پائے ۔وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے۔ میں پہلے بتانا چاہتی تھی لیکن اس حالت میں باجی کو پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے۔“
انھوں نے شکستہ انداز میں کہتے ہوئے معاملے کو سنبھالنے کی کوشش کی اور زیان کو پوری بات سے بے خبر رکھا۔
زارا ان کے آنکھوں میں اتنی کھٹکتی تھی کہ اس کی زندگی کو دُو بھر کردینے کا بھی انھیں ذرا افسوس نہیں تھا۔
رات میں جب زیان نے حلیمہ خاتون کو فون پر ساری تفصیلات سے آگاہ کیا تو وہ بھی کافی دیر تک تو سکتے کی کیفیت میں گری رہیں ۔
انھیں تو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ ندا انھیں بتائے بغیر زارا کی شادی کر سکتی ہے۔ انھوں نے اس کے متعلق پوچھنے کا ارادہ کرکے فون رکھ دیا لیکن وہ بے یقینی کی کیفیت میں گری سو نہیں پائی تھیں ۔
★★★★★
زبیر نے ولیمے کےلیے ایک چھوٹا سا پروگرام رکھا تھا جس میں اس نے سبھی جاننے والے کو مدعو کیا ۔
شزا ان دونوں کے ولیمے سے دو روز قبل ہی اس کے گھر پر آ کے ٹھہری تھی ۔وہ شاپنگ میں زارا کی مدد کروا رہی تھی ۔لبنٰی خاتون اپنی مصروفیت کی وجہ سے آ نہیں پائی تھیں جس کا انھیں بہت افسوس تھا۔
زارا نے اس معاملے میں بھی شزا کی پسند کو اہمیت دی تھی ۔جو بھی شزا پسند کر رہی تھی اس نے خاموشی سے اُس پر پسندیدگی کی مہر لگا دی تھی۔ اس سب چکروں میں دو دن کیسے گزر گیا پتہ ہی نہیں چلا ۔
زارا کے لیے یہیں خوش کن بات تھی کہ شزا اس کے ساتھ تھی۔ شزا کی کمپنی نے بہن کی کمی پوری کر دی تھی۔
زارا کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی شزا نے ضد کرکے پارلر سے اپوائنٹمنٹ لے لی تھی ۔صبح ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی وہ دونوں گھر سے نکل گئیں تاکہ شام میں وقت پر ولیمہ کی تقریب میں پہنچ سکے۔ زبیر اپنے دوستوں کے ساتھ ولیمہ کے سارے انتظامات دیکھ رہا تھا ۔
★★★★★
اُسے یہاں آئے دو دن ہوگئے تھے۔ لائبہ اور ظفر اسکول سے آتے ہی اس کے پاس دائرہ بناکر بیٹھ جاتے وہ سارا دن ان کی اُوٹ پٹانگ باتیں سُنتا رہتا۔
کبھی ان کے ساتھ گیم کھیلتا تو کبھی انھیں اپنے امریکہ میں گزارے دنوں کی کہانی سُناتا۔
آج بھی وہ ان کے ساتھ گراؤنڈ سے کرکٹ کھیل کے واپس لوٹا تھا۔
ندا خاتون کے منع کرنے پر بھی وہ دونوں اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے تھے جبکہ عائشہ صرف کھانے کے میز پر ہی اُسے نظر آتی تھی۔ سارا دن نا جانے وہ کہاں غائب رہتی تھی شاید وہ اس کے آنے سے خوش نہیں تھی۔وہ خاموشی سے اس بات کو نوٹ کر رہا تھا لیکن کسی کے سامنے اس بات کا ذکر نہیں کیا تھا ۔
رات میں نعیم صاحب بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر کچھ پروگرام دیکھ لیا کرتے تھے۔ وہ بالکل اس کے بابا جیسے ہی تھے دوسروں میں گُھل مل جانے والے۔ وہ ان کی کمپنی انجوائے کرتا تھا جیسے اپنے بابا کی موجودگی میں کیا کرتا تھا۔
زیان کے آنے سے سب گھر والے بے حد خوش تھے لیکن عائشہ کا رویہ اب بھی پہلے دن جیسا تھا وہ اس سے بات کرنا تو دور اس کے سامنے ہی بہت کم آیا کرتی تھی۔
اسی روٹین کے ساتھ ایک ہفتہ گزر گیا تھا اور آج وہ اپنے دوست سے ملنے لاہور جا رہا تھا جو کچھ عرصہ پہلے ہی امریکہ سے اپنی بہن کی شادی میں پاکستان آیا تھا۔ ندا خاتون کے ساتھ بچّے بھی اس کی واپسی کا سُن کر بہت اداس ہوگئے تھے۔ ان کے بس میں ہوتا تو اسے جانے ہی نہیں دیتے۔
★★★★★
ولیمے کی اس تقریب میں مدعو تمام افراد سے آہستہ آہستہ ہال بھرنے لگا تھا۔ زارا تھوڑی دیر پہلے پارلر سے سیدھا ہال پہنچی تھی ۔اُس نے گولڈن رنگ کا عروسی لباس پہن رکھا تھا ۔مہارت سے کیے گئے میک اپ میں وہ اور بھی حسین لگ رہی تھی۔ایسا لگتا تھا جیسے وہ کسی سلطنت کی شہزادی ہو ۔
زبیر بلیک رنگ کے تھری پیس سوٹ میں معمول سے مختلف نظر آرہا تھا ۔
وہاں موجود تمام نفوس کی آنکھوں میں زارا کے لیے ستائش تھی اور دل ہی دل میں وہ لوگ زبیر کی قسمت پر رشک کر رہے تھے اور بیٹوں کی مائیں زارا جیسی خوبصورت بہو پانے کی تمنا کر رہی تھیں۔
زبیر دوستوں کو دیکھ کر ان سے ملنے چلا گیا تو وہ اکیلی بیٹھی چہرے پر مسکراہٹ سجائے داد وصولنے میں مصروف رہی ۔
”آپ کا نام زارا ہے؟“ سات آٹھ سال کے قریب ایک بچے نے اس کی قریب آکر پوچھا تو اس نے سر اثبات میں ہلا دیا۔
”جی چھوٹے! میں ہی زارا ہوں آپ کیوں پوچھ رہے ؟“ اس کے استفسار پر بچے نے اسے بتایا کہ زبیر اُسے بلا رہا ہے۔
”کہاں ہیں وہ؟ “ اس کے پوچھنے پر بچے نے ٹرائل روم کی طرف اشارہ کیا اور وہاں سے بھاگ گیا۔ وہ اپنے قریب بیٹھی خاتون سے معذرت کرتی اسٹیج سے اُتر کر ٹرائل روم کی طرف بڑھ گئی جہاں اس بچے نے اشارہ کیا تھا ۔
دروازہ کھول کر وہ روم میں داخل ہوئی تھی تو وہاں زبیر کیا کوئی بھی نہیں تھا۔
” یہ زبیر کہاں گئے؟ اس بچے نے تو یہی کا بتایا تھا۔“ وہ پریشانی سے بولی۔
زبیر دوستوں سے ملنے کے بعد جب اسٹیج پر آیا تو زارا کو غائب دیکھ کر حیران ہوا اور اسے ڈھونڈنے لگا ۔
“شزا! “ کچھ فاصلے پر کھڑی شزا کو لڑکیوں سے گفتگو کرتا دیکھ کر اس نے پکار تو وہ ان سے معذرت کرتی اس کی طرف چلی آئی ۔
”جی بھائی! “
”شزا۔ زارا کہاں گئیں، تم نے دیکھا اُسے ؟“
”زارا بھابھی ، ابھی تو وہ یہیں تھیں ۔ ہاں کچھ دیر پہلے میں نے انھیں ٹرائل روم کی طرف جاتے دیکھا تھا۔ کیوں کیا ہوا بھائی اپ پریشان لگ رہے ہیں؟“ اس نے یاد آنے پر زبیر کی اڑی رنگت دیکھ کر پوچھا۔
”نہیں کچھ نہیں۔ تم انجوائے کرو! ۔“
اس نے مسکرا کر کہا اور خود ٹرائل روم کی طرف بڑھ گیا ۔
ٹرائل روم کو خالی پا کر زارا واپس جانے کے لیے مڑی لیکن سامنے شیشے میں اپنا سراپے پر نظر پڑتے ہی
وہ اک لمحے کے لیے حیران رہ گئی۔
آج وہ اس روپ میں واقعی بہت خوبصورت لگ رہی تھی۔ جب پارلر سے واپسی پر شزا ا نے اس کی تعریف کی تو اُسے لگا تھا وہ بس اس کا دل رکھ رہی ہے۔
وہ ان خیالوں میں گم تھی تبھی دروازہ کھول کر اندر کوئی داخل ہوا۔
” شاید زبیر ہوں گے۔“ وہ چونک کر پلٹی لیکن اندر داخل ہونے والا شخص زبیر نہیں تھا۔
”آ…آپ یہاں کیا کر رہے ہیں اور….. اور زا….. زبیر کہاں ہیں؟“ اس کی شکل دیکھتے ہی زارا خوف زدہ ہوگئی اور ٹوٹے پھوٹے الفاظ میں کہا ۔
اس کی گھبراہٹ دیکھ کر سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ پھیل گئی۔
”اوہ تو تم زبیر کا انتظار کر رہی تھی۔ پر سوری وہ تو یہاں نہیں ہے۔ میں نے ہی اس بچے سے کہہ کر تمہیں یہاں بلایا تھا۔“ اس نے مسکراہٹ کے ساتھ بتایا تو زارا کے اعصاب تن گئے۔
” تمہیں معلوم ہوتا کہ زبیر نے نہیں بلکہ میں نے بلایا ہے تو کیا تم آتی؟“
وہ کہتے ہوئے خباثت سے ہنسنے لگا اور زارا کا دل چاہا وہ کسی بھی طرح اس شخص کو یہاں سے غائب کر دے۔
”دیکھو ڈرو مت ۔میں یہاں تم سے بات کرنے آیا ہوں ۔ “
جمشید کہتے ہوئے وہ کچھ قدم آگے بڑھا تو زارا ڈر کے پیچھے ہٹ گئی۔
”مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ آپ جائیں یہاں سے ۔“اس بار وہ ہمت دکھاتے حلق کے بل چلائی تھی ۔
جاری ہے …….
