Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Episode 11)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Episode 11)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
گڈ مارننگ مما!“ اس نے آتے ہی کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے کہا ۔ وہ پچھلے کچھ دنوں سے بے حد مصروف تھا۔ آج کام سے چھٹی تھی مگر نیند نہ آنے کی وجہ سے وہ صبح صبح ناشتے کے لیے چلا آیا۔
” گڈ مارننگ! اچھا ہوا تم اٹھ گئے۔ آج تو تم گھر پر ہی ہو نا؟“ حلیمہ خاتون نے کپ میں چائے انڈیلتے ہوئے اس سے پوچھا۔
” جی مما! نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا سب کے ساتھ ناشتہ کرلوں! “ اس نے ٹوسٹ پر جیم لگاتے ہوئے انھیں بتایا۔
” چلو اچھی بات ہے۔ ناشتہ ختم کرو۔ پھر تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔“ ملک صاحب نے آملیٹ کا ٹکڑا کاٹتے ہوئے اسے مخاطب کیا تو وہ سر ہلا کر جوس کے گھونٹ بھرنے لگا۔
ملک صاحب کل صبح کی فلائٹ سے آئے تھے اور زیان کاموں میں اس قدر مصروف تھا کہ ان دونوں کے درمیان ٹھیک سے بات نہیں ہو پائی تھی۔
ناشتے کے بعد وہ اور زیان لاونج میں بیٹھ کر پاکستان میں شروع کیے جانے والے بزنس کے متعلق بات کرتے رہے۔ زارا کمرے میں جاچکی تھی اور حلیمہ خاتون اپنی بہن ندا سے بات کرنے کے بعد سیدھا لاؤنج میں چلی آئیں ۔
” آپ دونوں شام میں فری ہیں؟“ انھوں نے بیٹے اور شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
” آج کہیں باہر جانے کا پروگرام ہے کیا؟“ زیان نے ماں کے استفسار سے اندازہ لگایا تو ملک صاحب مسکرانے لگے۔
” ندا کی طرف جانا ہے اگر آپ دونوں مصروف نہیں ہیں تو میں سوچ رہی تھی کہ آج کیوں نہ اُس کی طرف چکر لگا لوں۔“ وہ جب سے یہاں آئی تھیں ندا خاتون سے صرف فون پر ہی بات ہوئی تھی ۔اس لیے وہ چاہتی تھیں کہ جاکے مل آئیں۔
” لنچ کے بعد نکلتے ہیں پھر۔“ ملک صاحب نے موبائل میز پر رکھتے ہوئے کہا تو انھوں نے اثبات میں سر ہلایا۔
وہ لوگ دوپہر کے کھانے کے بعد ندا خاتون کی طرف نکل گئے تھے ۔ حلیمہ خاتون چاہتی تھیں کہ زارا بھی ان کے ساتھ چلے لیکن زارا آرام کرنا چاہتی تھی اس لیے انھوں نے زیادہ اصرار نہیں کیا۔
وہاں پہنچ کر گئے دنوں کی یاد تازہ کرتے انھیں وقت کا پتا ہی نہیں چلا ۔ رات کا کھانا بڑے خوشگوار ماحول میں کھایا گیا تھا۔ آج رات وہ یہاں رکنے والے تھے اس لیے رات کے اس وقت بھی گھر کے سبھی افراد جاگ رہے تھے۔
★★★★★
صبح ناشتہ کرکے نعیم صاحب آفس کے لیے نکل گئے تھے اور ملک صاحب نیوز چینل سرچ کر رہے تھے جبکہ دونوں بہنیں باتوں میں اس قدر مگن تھیں جیسے گزرے دنوں کی کسر پوری کر رہی ہوں اور وہ دونوں بچے کے ساتھ بیٹھا پرانی البم دیکھ کر خوش ہو رہا تھا تبھی کلثوم بی نے آکر ندا خاتون کے کان میں سرگوشی کی اور وہ معذرت کرتیں وہاں سے اٹھ گئیں۔
” زیان بھائی اس میں زارا آپی بھی ہیں۔“ لائبہ نے ایک اور البم کھولتے اسے بتایا ۔اس البم میں اس وقت کی تصویریں تھیں جب وہ امریکہ میں تھا اور ان گزرے دنوں کا حصہ نہیں بن پایا تھا۔
اس سے پہلے کہ وہ ساری تصاویر دیکھ پاتا اس کا موبائل بجنے لگا۔کال سننے کے ارادے سے وہ اٹھ کر لاونج سے باہر چلا آیا۔ اس کے ایک کلائنٹ کی کال تھی جس کے لیے وہ کچھ دنوں سے کام کر رہا تھا ۔وہ موبائل جیب میں اڑستا جیسے ہی آگے بڑھا تو اس کی نظر اس آدمی پر پڑی جس سے کچھ دیر پہلے ندا خالہ بات کر رہی تھیں۔ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پایا تھا کیوں کہ اس کی طرف اس کی پشت تھی۔
” کون ہیں آپ ؟ رک جائیں! “ زیان نے دبے پاؤں اس کا پیچھا کرتے اسے آواز لگائی تو باہر جاتے زبیر کے قدم تھم گئے۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے بالکل قریب آگئے تھے ۔
”تم…..تم یہاں کر رہے ہو؟“ زبیر کو یہاں دیکھ کر اسے حیرانی ہوئی۔
”کیا مطلب ہے تمہارا۔ ہٹو میرے راستے سے!“ زبیر نے عجلت میں وہاں سے نکلنا چاہا۔ اسے عاصم سے پتا چلا کہ زارا کراچی میں ہے اور اس کی تصدیق کے لیے اس نے فوراً ندا خاتون کو کئی بار کال ملائی لیکن اُن کا نمبر مسلسل بند جا رہا تھا۔ بس اسی لیے وہ کراچی آیا تھا اور یہاں آکر بھی اسے مایوسی ہوئی تھی کیوں کہ زارا یہاں بھی اسے نہیں ملی تھی۔
” خالہ جان! مما! یہاں آئیں۔“ زبیر کو یہاں دیکھ کر حیرانی ہوئی اور اس نے سب کو راہ داری کی طرف بلایا ۔ ندا خاتون زیان کی آواز سن کے وہاں پہنچیں تو زبیر کو اپنے سامنے دیکھ کر یکدم پریشان ہوگئیں ۔انھیں لگا تھا وہ زبیر کو خاموشی سے بھگانے میں کامیاب ہوگئی ہیں لیکن وہ زیان کی نظروں میں آگیا تھا اور زیان دروازے کے قریب کھڑا اسے باہر جانے سے روکے کھڑا تھا۔
” آپ بتائیں خالہ جان! یہ آدمی یہاں کیا کر رہا ہے؟“ زیان کی آواز معمول سے تیز تھی۔ زبیر کو دیکھتے ہی اسے ساری بات سمجھ آ گئی تھی اور یہی سوچ کر اس کا ذہن ماؤف ہو رہا تھا۔
” مم…..میں نہیں جانتی یہ کون ہے ؟“ ندا خاتون نے ہکلاتے ہوئے صاف جھوٹ کہا۔ پریشانی سے ان کے ہاتھ پاؤں پھول گئے تھے۔
” جھوٹی عورت! تم نہیں جانتی کہ میں کون ہوں؟ ہاہاہا۔“ وہ ندا خاتون کو پلٹتے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔
” تمہاری بھیتجی بھی تم پر ہی گئی ہے ۔جھوٹ فریب تو تم لوگوں کی گھٹی میں ہے ۔پر میں اسے ڈھونڈ لوں گا سمجھ گئی تم!“ وہ باورانہ انداز میں کہتا زیان کو دھکا دے کر وہاں سے چلا گیا اور زیان زبیر کے کہے فقرے میں الجھ کر رہ گیا۔
اس کا مطلب زارا کو دیکھ کر جو اسے شک ہوا تھا وہ کوئی شک نہیں بلکہ حقیقت تھی۔ اس کی شکل میں مماثلت نہیں بلکہ وہ ہی اس کی کزن زارا عباس تھی۔
” اوہ میرے خدایا! یہ سب کیوں کیا آپ نے خالہ جان! ہم سب سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں کہا آپ نے؟“ پتھر کی مورت بنی ندا خاتون سے پوچھا ۔آج پہلی بار اسے معاملات کی سنگینی کا احساس ہوا تھا۔
”آپ نے ہمیں بتائے بغیر اس کی شادی کر دی تب بھی ہم مطمئن تھے کہ اس کا آپ سے خونی رشتہ ہے ۔آپ نے جو بھی فیصلہ کیا ہوگا وہ اس کے لیے بہتر ہی ہوگا۔ آپ ہمیں اس سے بات کروانے سے ٹالتی رہیں صرف اس لیے کہ وہ کینیڈا نہیں بلکہ یہیں پاکستان میں تھی۔“
” میرا یقین کرو میں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا ۔وہ زبیر…..“ انھوں نے ہوش میں آتے ہی خود کو ڈیفینڈ کرنے کی کوشش کی۔
” کیا ہوا زیان! تم کس طرح بات کر رہے ہو تم اپنی خالہ سے؟“ حلیمہ خاتون اور باقی سب شور سن کر راہ داری کی طرف چلے آئے تھے اور زیان کو ندا خاتون سے بلند آواز میں بات کرتا دیکھ کر انھوں نے اسے ڈپٹا تھا۔
” مما آپ خود ہی پوچھیں ان سے کہ انھوں نے زارا کی زندگی کیوں برباد کی؟“
” یہ تم کیا کہہ رہے ہو زیان ؟ صاف صاف بتاؤ مجھے۔“ وہ اس کی بات کا مطلب نہیں سمجھ پائیں۔
” زبیر آیا تھا زارا کو ڈھونڈتے ہوئے یہاں ۔اگر آج میں اسے یہاں نہیں دیکھتا تو نجانے کب تک یہ ہم سے جھوٹ بولتیں“
” ندا کچھ بولو بھی ۔ زیان کیا کہہ رہا ہے؟“
انھوں نے ندا کو خاموش دیکھ کر استفسار کیا۔
”زیان تم غلط سمجھ رہے ہو مجھے ۔میں ایسا کیوں کروں گی؟ میں اس کی سگی پھوپھی ہوں ۔“
ندا خاتون کے اوسان خطا ہونے لگے تھے ۔وہ آج بری طرح اپنے ہی جال میں پھنس گئی تھیں۔
”اگر آپ سچ میں نہیں جانتی تھیں تو پھر آپ نے جھوٹ کیوں کہا کہ وہ کینیڈا میں ہے؟“ اس نے غصے سے پہلو بدلتے ہوئے کہا تو حلیمہ خاتون اپنی بہن کو دیکھ کر اس کی طرف لپکیں۔
” وہ بچی کس اذیت سے گزری ہے۔ تمہیں اندازہ بھی ہے ندا!
تم نے ایسا سوچ بھی کیسے لیا کہ اس کا باپ مر گیا ہے تو تم اس کے ساتھ کچھ بھی کروں گی اور کوئی پوچھنے نہیں آئے گا۔ افسوس ہو رہا ہے مجھے تمہیں اپنی بہن کہتے ہوئے۔“ وہ انھیں دونوں ہاتھوں سے جھنجھوڑتے ہوئے بول رہی تھیں ۔اپنی بہن کی خود غرضی کا انھیں شدید صدمہ پہنچا تھا ان کی سانس بولتے بولتے پھول گئی تھی۔
” آپا! میرا یقین کریں میں….. “ سچ کھل جانے کے باوجود اپنے کیے پر پشیمان ہونے کی بجائے وہ اب بھی اپنی بات پر ڈٹی تھیں۔
حلیمہ خاتون نے آگے بڑھ کر انھیں تھپڑ مار دیا اور وہ سکتے کی حالت میں کھڑی انھیں دیکھے گئیں۔ان کی بہن نے آج سے پہلے کبھی ان پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا۔
” گھر چلو زیان! اب ہم ایک منٹ بھی یہاں نہیں رکیں گے.“ انھوں نے اپنا فیصلہ سنایا اور شکستہ قدموں سے چلتے ہوئے باہر نکل گئیں۔
ڈرائیونگ کرتے وہ زارا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ اسے زارا سے پہلی ملاقات یاد آئی۔ وہ زبیر کے ڈر سے اس سے الجھنے سے ڈرتی تھی اور جب وہ کپ دینے کا بہانا کرکے اس کے پاس گیا تھا تاکہ اُس سے پوچھ سکے کہ وہ اتنی ڈری ہوئی کیوں ہے۔ اُس دن اس کا التجائی انداز دیکھ کر ہمت نہیں کر پایا کہ اس سے پوچھ سکے ،جب وہ لاہور سے کراچی آرہا تھا اسے تیار دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا کیوں کہ جب وہ صاعقہ آنٹی کے ساتھ مارکیٹ گئی تھی تب اُس نے اچھی طرح چادر میں خود کو چُھپا رکھا تھا اور جب بھی وہ اسے مخاطب کرتا تو وہ گھبرا جاتی تھی ۔
ایک بجے کے قریب وہ سب گھر پہنچے تھے اور آتے ہی حلیمہ خاتون نے فہمیدہ سے زارا کے متعلق پوچھا تھا۔
”باجی صاحبہ! وہ تو چلی گئیں۔“ جواب ملتے ہی وہ بے چین ہوگئی تھیں۔
” مما آپ بیٹھے میں بات کرتا ہوں ۔“ اس نے انھیں صوفے پر بٹھاتے ہوئے کہا۔
” وہ کہاں گئی ہے کچھ بتایا اس نے آپ کو؟“
زیان نے پانی کا گلاس حلیمہ خاتون کو دیتے ہوئے فہمیدہ بی سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ زارا اپنے کسی دوست کے گھر گئی ہے۔
” تم نے اسے جانے کیوں دیا ؟“ حلیمہ خاتون کے لیے خود کو سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔اسے یہاں نہ پا کر وہ رو پڑیں ۔
” مما! خود کو سنبھالیں۔“ زیان نے آگے بڑھ انھیں خود سے لگائے تسلی دی ۔
” وہ مل جائے گی حلیمہ! پرسکون ہو جاؤ ورنہ تمہاری طبعیت بگڑ جائے گی۔“ ملک صاحب کے سمجھانے پر بھی ان کے رونے میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
” میں تمہاری مما کے پاس ہوں ۔تم جاؤں زیان! دیکھو زارا کہاں ہے۔ “ ملک صاحب نے اس سے کہا تو وہ اسی وقت گھر سے باہر نکل گیا۔
سڑک پر گاڑی دوڑاتے وہ تذبذب کا شکار تھا ۔وہ اسے ڈھونڈتے کافی آگے نکل آیا تھا ۔ یہ وقت آفس کی چھٹیوں کا ہوتا ہے اس لیے سڑک پر گاڑیوں کا ہجوم تھا ۔جیسے ہی سگنل کھلنے پر وہ آگے بڑھا سڑک کے کنارے لوگوں کا ہجوم دیکھ کر اس نے گاڑی روک دی۔
” ایسکیوز می! یہاں کیا ہوا ہے؟“ اس نے ماتھے پر آئے پیسنے کو صاف کرتے ہوئے وہاں کھڑے ایک آدمی سے پوچھا۔
”کسی لڑکی کا بہت بُرا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔ پتا نہیں کون ہے۔ خون بہت بہہ گیا ہے۔“ اس آدمی کی بات سن کر وہ گھبراہٹ کے مارے کچھ بول ہی نہیں پایا۔
” زارا تم کہاں ہو؟“ خود کو اس جگہ پر گھیسٹتے ہوئے لاتے اس کی حالت بگڑ رہی تھی ۔
ہاتھ کے اشارے سے لوگوں کو ہٹاتا وہ اُس مقام پر پہنچا جہاں وہ لڑکی نیم مردہ حالت میں پڑی تھی ۔ اُس کا چہرہ دوپٹے سے چھپا ہوا تھا۔ ایمبولیس ابھی ابھی پہنچی تھی اور عملہ اسے وہاں سے اٹھا رہے تھے۔
” یہ زارا نہیں ہو سکتی۔“ وہ بڑ بڑاتے ہوئے اس نے پہلو بدلا تو وہ اسے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی نظر آئی ۔
”خدا کا شکر ہے زارا! تم ٹھیک ہو۔“وہ دل ہی دل میں خوش ہوا تھا پھر ہجوم کو چھانٹتے اس کی طرف بڑھتے ہی اسے آواز لگائی تو وہ چونک گئی۔
” تم! تم یہاں کیا کر رہے ہو!“ اس نے پوچھا۔
” بہرحال یہ سوال تو مجھے تم سے پوچھنا چاہیے؟“
وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑا اس سے پوچھ رہا تھا۔
” کیا مطلب؟“ اس نے ناسمجھی کا مظاہرہ کیا۔
” مطلب یہ کہ کسی کو بتائے بغیر تم اس طرح کہاں جا رہی ہو؟ “ اس نے مسکراہٹ دبائے کہا تو زارا نے اپنی نظریں جھکا لیں۔ اسے معلوم تھا کہ اگر وہ بتا کر جائے گی تو وہ لوگ اسے کہیں جانے نہیں دیں گے۔ اس لیے ان کی غیر موجودگی میں وہ گھر سے نکل آئی تھی ۔اس نے سوچا تھا کہ وہ یہاں سے سیدھا اپنی دوست کے گھر جائے گی اور کچھ دن وہاں رک کر اپنا مستقل ٹھکانہ ڈھونڈے گی لیکن چوکیدار سے پتا چلا تھا کہ وہ کسی رشتے دار کی شادی کے سلسلے میں شہر سے باہر ہیں۔
” کیا مجھے بتایا چاہیے تھا ؟ “ اس نے نظر چڑاتے ہوئے کہا۔
” ہاں بالکل! کیا ہم بات کر سکتے ہیں؟“
وہ دونوں اس بھیڑ سے نکل کر اب سڑک کے کنارے چلے آئے تھے۔
” کیا بات کرنی ہے تمہیں؟“ اسے سائے کی طرح ساتھ چلتا دیکھ کر وہ جھنجھلا گئی۔
سچ معلوم ہونے کے باوجود اس نے وہاں رکنا مناسب نہیں سمجھا کیوں کہ وہ زبیر سے اچھی طرح واقف تھی۔ وہ اپنی وجہ سے اپنوں کو کسی بھی پریشانی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی۔
”کہاں جا رہی ہو ؟“ اس نے پوچھا۔
”اپنی دوست کے گھر! “ وہ نظریں جھکائے آہستگی سے بولی ۔
“چلو! میں تمہیں ڈراپ کر دیتا ہوں۔ اسی بہانے میری اُن سے ملاقات بھی ہو جائے گی۔“ وہ کہتے ہی آگے بڑھ گیا پر وہ اپنی جگہ سے نہ ہلی تو اس نے اسے آواز لگائی۔
” تم وہاں کیوں کھڑی ہو ۔ اب دیر نہیں ہو رہی تمہیں ؟“ زیان نے اسے بلایا تو غصے میں آگئی۔
” آخر تم میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو؟“
وہ اسے باور کرنا چاہ رہی تھی کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔
“میں تمہارا پیچھا نہیں کر رہا ، بس تمہاری مدد کرنا چاہتا ہوں ۔“
اس پاگل لڑکی کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا جیسے سامنے کھڑی اُس لڑکی کی بے وقوفی پر افسوس کر رہا ہو ۔
” تمہیں میری مدد کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، میں خود ہی چلی جاؤں گی۔”
وہ یہاں ضبط کیے کھڑی تھی مزید کچھ دیر یہاں رکتی تو اس کا ضبط ٹوٹ جاتا ، وہ رو پڑتی اور خود کو کمزور نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
“اور کتنے جھوٹ بولو گی زارا عباس!
آخر تم یہ مان کیوں نہیں لیتی کہ جھوٹ بول بول کر تم تھک گئی ہو؟”
اس نے زیان کی لفظوں پر غور کیا تو اس کے بڑھتے قدم یکدم تھم گئے ۔ وہ کیسے جانتا تھا کہ وہ زارا عباس ہے۔ اسے لگا اسے سننے میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔
” کیا کہا تم نے؟“ اس نے تصدیق کے لیے پوچھا۔
” یوں بُت بنی کھڑی رہنے سے کچھ نہیں ہوگا مجھے جواب چاہیے۔ تمہیں کیا لگا تم ہم سب سے چھپاؤں گی تو ہمیں کچھ پتا نہیں چلے گا۔
چلو مان لیا دوسروں سے جھوٹ بولنا تمہارے لیے بہت آسان ہے مگر کیا تم خود سے جھوٹ بول کر نہیں تھکتی؟
وہ اسے چُپ دیکھ کر بلند آواز میں بولا۔ اس کی بے وقوفی پر اسے بہت غصہ آ رہا تھا۔
” تو اور کیا کرتی میں؟ بتاؤ کیا کرتی میں ۔ تنگ آچکی ہوں سب کے سامنے جھوٹا ناٹک کرکے ۔ تم سب بھی تو مجھے تنہا چھوڑ کر چلے گئے تھے۔ بابا بھی چلے گئے۔
کون تھا میرا اپنا جس کے ساتھ میں اپنی تکلیف ، اپنا غم بانٹتی۔“ وہ غصے سے چیخ رہی تھی اور وہاں سے گزرتے لوگ ان دونوں کو مڑ مڑ کے دیکھ رہے تھے ۔
”زارا! میری بات سنو!“ اسے اس حالت میں دیکھ کر اس نے اسے چپ کروانا چاہا۔
” چھوڑو مجھے! تم لوگوں نے تو کبھی یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی کہ میں یہاں زندہ بھی ہوں یا مر گئی۔“ وہ بولتے بولتے وہیں سڑک پر بیٹھ گئی تھی ۔ آنسو اس کے رخسار کو تر کر رہے تھے ۔ ایسا لگتا تھا کہ ابھی بہت بڑی مسافت طے کر آئی ہوں ۔آنکھوں میں درد ہی درد تھا۔
وہ اپنے سامنے کھڑی اس نازک سی لڑکی کو اس حال میں دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ وہ کیا کچھ دل میں چھپائے اکیلے ہی غم سہہ رہی تھی۔اُسے شکایت تھی کہ وہ کیوں نہیں آیا اور ہونی بھی چاہیے وہ لوگ اس سے ملنے نہیں آ سکے تھے۔
“زارا! پلیز زارا چپ ہوجاؤ ۔مجھے معاف کر دو اور گھر چلو ،تمہیں جو بھی شکایتیں ہیں گھر چل کے کرنا یہاں لوگ دیکھ رہے ہیں۔ مما تمہارا انتظار کر رہی ہیں۔ وہ بہت پریشان ہیں۔ پلیز چلو!“ وہ اسے وہاں سے اٹھا کر اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہہ رہا تھا۔
حلیمہ خاتون کا سنتے ہی اسے نا چاہتے ہوئے بھی اس کے ساتھ آنا پڑا۔ وہ زیان کے ساتھ گھر پہنچی تو اسے دیکھ کر حلیمہ خاتون اسے گلے لگائے روتی رہیں۔ اس سے بے خبر رہنے کی معافیاں مانگتی رہیں۔ زارا نے پہلے ہی انھیں معاف کر دیا تھا۔ انھیں دیکھ کر زارا نے سوچ لیا تھا کہ وہ پچھلی باتوں کو یاد کرکے اپنوں کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گی بلکہ وہ اب زندگی میں آگے بڑھنا چاہتی تھی۔
