Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid NovelR50521 Dil Pe Lagay Zakham (Episode 06)
Rate this Novel
Dil Pe Lagay Zakham (Episode 06)
Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid
ایک بار میری بات تو سُن لو اتنا ہائپر کیوں ہو رہی ہو؟“ وہ اس کے چلانے سے بد مزہ ہوا ۔
” تم نے سنا نہیں مجھے کچھ نہیں سننا، جاؤ یہاں سے۔“ اس کی ڈھٹائی دیکھ کر وہ حلق کے بل چیخی تو یوں محسوس ہوا کہ حلق میں خراش آگئی ہو ۔
” کیا تم زبیر کو دیکھ دیکھ کر بور نہیں ہوتی۔ بڑا عجیب بندہ ہے ویسے…. چپ چاپ شادی کرلی اور بتایا بھی نہیں۔“
وہ اس کی بات کو خاطر میں لائے بغیر خباثت سے ہنستے ہوئے اس کے قریب چلا آیا۔
”دور… دور رہو مجھ سے ورنہ…. ورنہ میں چلاؤں گی۔ “ وہ اسے تنبیہ کر رہی تھی ۔وہ جانتی تھی کہ اس شور میں اس کی آواز اس روم سے باہر نہیں جائے گی۔
”تو چلاؤ…. میں بھی دیکھتا ہو تمہارے چلانے سے کتنے لوگ آتے ہیں ۔“ وہ ذرا آگے کو آیا تو زارا کے نتھنوں سے جانی پہچانی بو ٹکرائی اور یکدم اس کی گھبراہٹ میں اضافہ ہوا۔
اس بُو سے اسے کافی شناسائی تھی ۔اکثر زبیر نشے کی حالت میں جب گھر لوٹتا تو اس کے منہ سے بھی بالکل اسی طرح بو آتی تھی۔
وہ نشے میں تھا۔ اس نے دونوں ہاتھوں سے اسے پیچھے دھکا دیا اور اپنے کپڑے سنبھالتی دروازے کی سمت بڑھی ۔ وہ لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچا۔ زارا نے دروازہ کھولنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ زبیر اندر داخل ہوا ۔
جمشید کو وہاں دیکھ کر اس کے چہرے پر ناگوار لکیریں ابھریں اور اس نے غصّے سے زارا کو دیکھا ۔
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی زبیر کو دیکھتے ہی جمشید نے اپنا پینترا بدل لیا۔
”زبیر تم کہاں تھے یار ۔ تمہاری بیوی نے مجھے یہاں بُلایا مجھے لگا تم ساتھ ہو ۔یہاں آکر دیکھا تو تم تھے ہی نہیں تو سوچا بھابھی سے ہی بات کر لیتا ہوں ویسے زارا بھابھی بہت مذاق کرتی ہیں ۔کیوں زارا بھابھی؟“
وہ شاطرانہ انداز میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا تو زارا اس کی خباثت دیکھ کر روہانسی ہوگئی۔اس کے ہاتھ پیر پھولنے لگے۔
”تمہیں ولیمے کی بہت مبارک باد یار، چلو اب میں چلتا ہوں تم دونوں انجوائے کرو۔“
اس نے مسکراتے ہوئے زبیر کے شانوں کو تھپک کر کہا اور باہر نکل گیا ۔اس نے اپنی بھرپور اداکاری سے پورا معاملہ ہی پلٹ دیا ۔ زارا اس مکار آدمی کی چال بازی دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔وہ تو چلا گیا تھا لیکن وہ زبیر کی آنکھوں میں آیا غصّہ دیکھ سکتی تھی۔ زبیر اس سے کسی بھی قسم کی گفتگو کیے بغیر اسے بازو سے پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اسٹیج تک لے آیا۔ اس وقت سب کے سامنے اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا مگر زبیر کا ردِ عمل کا سوچ کر ہی اس کی حالت غیر ہو رہی تھی ۔
مہمان ڈنر کے بعد اپنے گھر روانہ ہوتے ہی وہ دونوں بھی گھر چلے آئے ۔شزا بھی اپنی کزن کے ساتھ ماموں کے گھر چلی گئی تھی ۔
★★★★★
“تم…. تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس جمشید سے بات کرنے کی؟“
گھر پہنچتے ہی زبیر اس پر برس پڑا تھا۔
”آ…. آپ میری بات کا یقین کریں زبیر ۔میں نے اُسے نہیں بلایا تھا میں تو….“
وہ بولتے بولتے رو دی تھی۔
زبیر کو آپے سے باہر دیکھ کر اسے کچھ سمجھ نہیں آیا تھا ۔پچھلے کچھ دنوں سے زبیر میں آئے بدلاؤ کو دیکھ کر وہ کتنی خوش تھی لیکن آج زبیر کو دوبارہ سے پرانے روپ میں دیکھ کر اس کی ہمت جواب دے گئی۔
” بس اب آگے ایک لفظ بھی مت کہنا تم۔ “ اس کے لہجے کی تلخی برقرار تھی زارا ہنوز نظریں جھکائے
روتی رہی۔
”تم بھی سب عورتوں جیسی نکلی۔ میری غلطی ہے جو میں نے سوچا تم ان سے مختلف ہو، معصوم ہو….. میں اپنے کیے پر پیشمان تھا مجھے لگا میں نے تم پر بہت ظلم کیے، تمہارے ساتھ زیادتیاں ہوئی ہیں
لیکن آج تمہاری اس حرکت نے ثابت کر دیا کہ میں کتنا غلط تھا تم اس کی حق دار ہو۔“
زبیر کی باتیں اس کی سمجھ سے باہر تھیں وہ اس کا موازانہ کس سے کر رہا تھا وہ نہیں جانتی تھی۔
” زبیر آپ میری بات کا یقین کریں مجھے لگا آپ نے بلایا ہے۔اس بچے نے مجھے یہی بتایا تھا کہ آپ ٹرائل روم میں ہیں ۔“
زارا دائیں ہاتھ سے آنسو پونچھے ہوئے اپنی صفائی دینے لگی ۔ یہ جانتے ہوئے کہ زبیر کو کسی قسم کی صفائی سے وہ نہ کبھی قائل کر پائی تھی اور نہ آج کر پاتی ۔
” جھوٹ…..جھوٹ مت بولو ، کونسا بچہ؟ میں نے کسی بچے کو نہیں بھیجا۔ مجھے تمہاری کوئی بات نہیں سننی۔ ہٹو یہاں سے ۔“
وہ غصے سے کہتا وہاں سے جانے لگا تو زارا نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑ کے اسے روکنا چاہا لیکن زبیر بے دردی سے اس کا ہاتھ جھٹک کر آگے بڑھ گیا تھا۔
وہ نہیں چاہتی تھی کہ زبیر پھر سے اسے غلط سمجھے ایک مشرقی بیوی کی طرح وہ ہر حال میں اپنا رشتہ بچانا چاہتی تھی۔
اس لیے اپنے دھتکارے جانے پر بھی وہ دوڑتی ہوئی کے سامنے راستہ روک کر کھڑی تھی
“زبیر پلیز میری بات کا یقین کریں میں بے قصور ہوں۔“ زارا کے چہرے پر نقش سچائی دیکھنے کی بجائے زبیر نے طیش میں آکر اسے دھکا دیا ۔زارا اپنا توازن برقرار نہیں رکھ پائی اور میز کے کونے سے جا ٹکرائی ۔میز سے ٹکرانے کی وجہ سے اس کے ماتھے پر گہرا زخم لگا اور اس میں سے خون رسنے لگا تھا۔ تکلیف کی شدت سے وہ کراہ کر رہ گئی ۔
اوپر جاتے ہوئے جب زبیر کی نظر فرش پر بیٹھی کراہتی زارا پر پڑی تو وہ الٹے پاؤں واپس آیا ۔اس کے ماتھے سے خون بہتا دیکھ کر وہ وہیں دو زانو بیٹھ گیا۔
ادھر اُدھر نظر دوڑانے کے بعد جب کچھ نہیں ملا تو اس نے اپنے پینٹ کی جیب سے ایک نیپکین نکال کر اس کے زخم پر رکھ دیے تاکہ خون رک جائے۔ پھر اسے پکڑے رہنے کا حکم دیتا کمرے کی اور بھاگا ۔وہ نیپکین کی مدد سے خون روکے لب بھینچے خاموشی سے ساری کاروائی دیکھتی رہی۔
کچھ دیر بعد وہ ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس لیے واپس لوٹا تھا ۔
کتنا عجیب تھا وہ خود ہی زخم دے کر اب مرہم بھی خود ہی رکھ رہا تھا۔
جب اسے یقین ہونے لگا تھا کہ زبیر کے پاس دل نہیں گویا پتھر ہے تب اس کے بدلتے رویے نے اسے جھوٹا ثابت کر دیا تھا اس کے اس بھیانک چہرے کے پیچھے کون سا راز تھا وہ اس بات سے بے خبر تھی
وہ ایسا کیوں ہے ؟ اس تلخی کی ایسی کونسی وجہ تھی جاننے کی چاہ رکھنے کے باوجود بھی کبھی پوچھنے کی ہمت نہیں کرسکی تھی ۔
درد کی ایک ٹیس سی اٹھی تھی اس نے دانتوں کو سختی سے دبائے درد پر قابو پانے کی کوشش کی اور پھر سامنے بیٹھے اس شخص کو دیکھا جو اس کی معمولی زخم پر دوائی لگانے کے بعد اس زخم پر پٹی کرنے میں مصروف تھا۔
میز پر ایڈ باکس رکھنے کے بعد وہ اس کے برابر میں وہیں زمین پر بیٹھ گیا تھا۔
زارا خاموشی سے اس کے آگے کا ردعمل دیکھنے کا انتظار کرنے لگی ۔ ان کے درمیان کتنے ہی لمحے خاموشی کے بیت گئے پھر زبیر نے بولنا شروع کیا۔
”مم…. میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچاؤں لیکن….“ اس کی آواز میں تھکن نمایاں تھی۔
وہ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھ رہی تھی۔
اُس نے زارا کے چہرے پر ایک نگاہ ڈال کر پھر سے اپنا سلسلہ کلام جوڑا۔
“لیکن میں چاہ کر بھی اپنے اس بھیانک ماضی سے نکل نہیں پا رہا۔ جس نے عورتوں کے ایسے روپ دکھائے ہیں کہ مجھے لگتا ہے دُنیا کی ساری عورتیں ایک جیسی ہیں ۔خود غرض ، دھوکے باز، اور یہی وجہ ہے میرا دماغ مجھے تمہارے خلاف ورغلاتا ہے۔
وہ درد سے چور لہجے میں بول رہا تھا زارا اس انکشاف پر حیران ہوئی۔
”وہ اسے اپنی ماضی سے جُڑی حقیقت بتا رہا تھا جس کے متعلق پوچھنے کی کبھی اس کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔
” ماں کا وجود تو سراپائے محبت ہوتا ہے لیکن میری ماں کو بھی مجھ سے محبت نہیں تھی۔
بچپن میں دوسرے بچّوں کی طرح میں بھی چاہتا تھا کہ میں باہر جاکر کھیلوں ، نئے نئے دوست بناؤں ۔
لیکن ان کی وجہ سے محلے کے سارے بچے مجھ سے دور بھاگتے تھے کوئی مجھ سے دوستی نہیں رکھنا چاہتا تھا۔
ماں اپنی اولاد کے لیے اپنی محفوظ ڈھال ہوتی ہے جس کے آغوش میں جاتے ہی بچہ ہر خوف سے آزاد ہو کر پر سکون ہو جاتا ہے۔
مائیں اپنے بچّوں کی خوشی کے لیے دنیا سے لڑ جاتی ہے لیکن ناجانے میری ماں کیسی تھی جس نے مجھے جنم تو دیا لیکن اس دنیا کی ٹھوکریں کھانے کے لیے چھوڑ دیا ۔
اور میرے باپ نے بھی ہمیشہ مجھے دھتکارا جیسے اس دنیا میں آکر میں نے کوئی غلطی کر دی ہو۔
دوسرے بچوں کی مائیں جب انھیں اپنے سینے سے لگائے گھومتیں ،انھیں پیار کرتیں تو مجھے ماں کی کمی شدت سے محسوس ہوتی تھی۔ میں نے اپنے باپ سے اپنی ماں کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا کہ میری ماں مر چکی ہے۔
میں رب سے شکوہ کرتا کہ اس نے میری ماں کو اپنے پاس کیوں بلا لیا مجھے بھی اپنے ساتھ لے جاتی۔
میری دادی جان نے بھی کبھی مجھے پیار سے گلے نہیں لگایا ۔
وہ مجھ سے شدید نفرت کرتی تھیں ۔اتنی نفرت کہ دن رات میرے مرنے کی دعائیں کرتیں ۔انھیں لگتا تھا میں اپنی آوارہ ماں پر گیا ہوں اور میں اس آوارہ لفظ پر ٹھٹھک جاتا۔
پھر ایک روز میرے باپ نے دوسری شادی کرلی ۔میں خوش تھا۔میں ہمیشہ اس کے آس پاس رہتا تھا ۔بھاگ بھاگ کر ان کی خدمت کرتا کہ کہیں وہ بھی مجھے چھوڑ کر نہ چلی جائے۔ امی جان کہتے میری زبان نہیں تھکتی تھی۔
لیکن مجھ پر جانثاری کرتی ماں نے ایک دن اپنا رنگ و روپ بدل لیا۔ اس دن جب انھوں نے مجھے گالیاں دیں تو میں حیران رہ گیا کہ مجھ سے کیا غلطی ہوئی ہے جو ان کا رویہ بدل گیا۔
پھر میں نے خود کو جھوٹے دلاسے دینا شروع کر دیا کہ ماں بس ذرا پریشان رہتی ہے اس لیے ورنہ وہ مجھ سے بہت پیار کرتی ہے ۔
گرمی کے دنوں مجھے نیند نہیں آتی تھی میں صحن میں ٹہلنے نکلا تھا کہ اچانک مجھے دادی جان کے کمرے سے آوازیں آنے لگیں ۔ میں نے رک کر ان کے درمیان ہوئی گفتگو کو سننے کی کوشش کی ۔میرے بابا ، امی جان اور دادی جان آپس میں کچھ بات کر رہے تھے ۔
” اماں جی! آپ اس منحوس کو گھر میں رکھنا چاہتی ہیں تو میں اس گھر سے چلی جاؤں گی۔“ یہ کہنے والی میری سوتیلی ماں تھی جسے میں نے دل سے اپنی ماں تسلیم کیا تھا۔
اُس دن میں ساری رات میں سو نہیں پایا تھا۔
میں اس وقت اپنے اور سوتیلے میں فرق نہیں جانتا تھا لیکن جب دادی میری ماں کو گالیاں دے رہی تھیں اور مجھے برا بھلا کہہ رہی تھیں تو مجھے احساس ہوا کہ رشتوں میں بھی اپنے پرائے ہوتے ہیں ۔
جب کبھی میں گھر سے باہر کھیلنے نکلتا لوگ مجھ پر ہنستے اور بار بار کہتے میری ماں بہت بُری تھی تبھی مجھے چھوڑ کر چلی گئی ۔
اور میں یہ سوچ کے پریشان رہتا کہ وہ تو مر گئی تھی پھر بری کیسے تھی ۔وہ تمام لوگ جو مر جاتے ہیں کیا وہ سب کے سب برے ہوتے ہیں ۔میرا ذہن ان جملوں اور سوالوں کے گرد بھٹکا رہتا۔
ایک دن میری سوتیلی ماں نے مجھ پر چوری کا الزام لگایا اور حیرانی کی بات یہ تھی سچ جاننے کے باوجود بھی دادی نے بھی ان کا اس جھوٹ میں ساتھ دیا اور مجھے بہت مارا پیٹا۔
اُسی دن مجھ پر انکشاف ہوا کہ میری ماں میرے باپ کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ بھاگ گئی تھی اور مجھے ان کے درمیان مرنے کے لیے چھوڑ گئی تھی۔
لڑکی کے گھر چھوڑ جانے پر جو بدنامی ان کے گھر والوں کو اٹھانی پڑتی ہے وہ کسی بیوی اور ماں کے اسی اقدام پر ان کی اولاد کو اٹھانی پڑتی ہے۔ زمانہ ایسی اولادوں کو کبھی قبول نہیں کرتا۔
ہر انسان کا اپنا کردار ہوتا ہے نا لیکن وہ پہچانا دوسروں کی زبان سے ادا کیے فقروں سے جاتا ہے۔ میرا تعارف بھی اسی طرح کیا جانے لگا۔ اس وقت مجھے ان تین عورتوں سے نہ صرف شدید نفرت محسوس ہوئی تھی بلکہ لوگوں سے ہی اعتبار اٹھ گیا تھا۔
سوتیلی ماں نے مجھ پر الزام لگایا کیوں کہ وہ سوتیلی تھی لیکن میرا باپ وہ تو میرا اپنا تھا۔ اُس نے مجھ پر یقین کیوں نہیں کیا؟ “
” بتاؤ زارا….. کیوں نہیں کیا؟” وہ بھرائی ہوئی آواز میں زارا سے پوچھ رہا تھا ۔ وہ کیسے بتاتی کیوں نہیں کیا، شاید جب رشتوں میں یقین نہ ہو تو ایسا ہی ہوتا ہے اپنے بھی آپ کا یقین نہیں کرتے ہیں وہ سوچ کے رہ گئی ۔آج اس نے بھی تو اس پر یقین نہ کرکے یہی کیا تھا۔
وہ کچھ بھی نہیں بول پائی ۔جواب نہ ملنے پر زبیر نے دوبارہ سے کہنا شروع کیا۔
کاش انھوں نے میرا یقین کیا ہوتا ۔ میں اپنے بابا کو اس آس کے ساتھ دیکھتا رہا کہ وہ میری حمایت کریں گے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ مجھے مار پیٹ کر اسی وقت گھر سے نکال دیا۔
میں ان کی فریاد کرتا رہا اپنی بے گناہی کا یقین دلاتا رہا لیکن اس دن اس گھر کے دروازے مجھ پر بند کردیے گئے تھے۔
اس کے بعد میں گلی محلے میں بھٹکتا ، لوگوں کی گالیاں سننا میرا مقدر بن گیا ۔میں بھوک پیاس سے بلکتا رہا لیکن میرا باپ مجھے ڈھونڈنے تک نہیں آیا۔اسے اپنی اولاد سے کوئی غرض نہیں تھا کیوں کہ مجھے گھر سے بھاگی ہوئی عورت نے جنم دیا تھا۔ اس عورت نے میری روح کو زخمی کردیا اگر وہ میری باپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی تو اسے شادی بھی نہیں کرنی چاہیے تھی اور اگر شادی کرلی تھی تو کم از کم ایک ان چاہی اولاد کو پیدا کرکے یوں زمانے میں رلنے کے لیے نہیں چھوڑنا چاہیے تھا لیکن اس عورت نے نہ ماں باپ کی لاج رکھی ، نہ ایک اچھی بیوی بن سکی نہ اچھی ماں ۔ساری زندگی یہ سچائی میرے ساتھ چمٹی رہی کہ میں ایک آوارہ ماں کی اولاد ہوں اور اس اذیت نے مجھ سے میری خود اعتمادی چھین لی۔میں آج بھی خود کو اپنے بچپن میں کھڑا سسکتا ہوا محسوس کرتا ہوں۔
میں نے وہ شہر بھی چھوڑ دیا لیکن یہ تلخ ماضی اب بھی کسی آسیب کی طرح میرا پیچھا کرتی ہے ۔ایسا لگتا ہے آج بھی لوگ مجھ پر ہنس رہے ہیں میری بے بسی پر قہقہہ لگا رہے ہیں ۔
اس نے کرب سے آنکھیں موندلیں اور آنسوؤں کو حلق کے اندر اترنے دیا۔
خود کو سنبھالتے ہوئے اس نے زارا کے ہاتھ کو تھام لیا۔
”کیا تم بھی مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ گی؟ “ زارا جو سکتے کی حالت میں تھی اس کے استفسار پر چونک گئی۔
”تو کیا اسے اب بھی لگتا تھا کہ وہ اُسے چھوڑ کر چلی جائے گی۔“ اس نے افسوس سے اس کی جانب دیکھا۔
”بولو….. میں بالکل بھی اچھا نہیں ہوں۔
کیا تم بھی مجھے چھوڑ کر چلی جاؤ جس طرح سب چھوڑ گئے؟ “
” نن….نہیں “ زارا نے گھبراتے ہوئے جواب دیا۔
★★★★
صبح جب اُس کی آنکھ کھلی تو زبیر کمرے میں نہیں تھا۔ اُس کے سر میں عجیب سا درد محسوس ہورہا تھا ۔کچھ دیر یونہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ سُست روی سے اُٹھ کر واش روم میں چلی گئی۔
اب آئینے کے سامنے کھڑی وہ اپنا جائزہ لینے لگی اس کی آنکھیں سرخ ہورہی تھیں ۔اکثر رونے کے بعد ایسا ہوتا آیا تھا ۔اس نے اپنے چہرے پر بے شمار پانی کے چھینٹے مارے تاکہ کچھ افاقہ ہو ۔
کچھ لوگ قسمت کے مارے ہوتے ہیں درد جب ان کی زندگی کا حصّہ بنتا ہے تو لاکھ سر پھوڑ لے وہ ان کے وجود سے چمٹ جاتا ہے ۔پھر ان کے پاس کمپرومائیز کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا۔ بہت سے لوگ کہیں نہ کہیں اپنی زندگی کے بہت سے معاملات میں کمپرومائیز کرتے آئے ہیں وہ بھی کم عمری میں ہی اس کی اہمیت سمجھ گئی تھی ۔
وہ اکثر سوچتی تھی کہ اگر اس کے بابا زندہ ہوتے تو کیا تب بھی وہ اسی طرح زندگی میں کمپرومائیز کرتی ۔پھر خود ہی اپنی سُوچ کی نفی کردیتی ۔
کیوں کہ اس کے بابا نے اسے پلکوں پر بیٹھا کر رکھا تھا۔ اسے کسی چیز کی کمی نہیں ہونے دی تھی۔ اس کی فرمائش کرنے سے پہلے ہی اس کی من پسند چیزیں اس کے سامنے ہوتی تھیں ۔
اور سب سے بڑھ کر اُن کی آنکھوں میں اپنے لیے بے پناہ محبت دیکھ کر ہی مسرور ہوجایا کرتی تھی۔
یہاں بھی اُسے کسی چیز کی کمی نہیں تھی لیکن پیار دینے والا کوئی نہیں تھا ۔اس کی آنکھوں میں آئی نمی کو دیکھ کر تڑپ جانے والا کوئی نہیں تھا اور نہ ہی اس کے افسردہ ہونے پر کوئی اداس ہوتا تھا۔
وہ اکثر کہتے تھے کہ میری شہزادی کی زندگی میں کوئی شہزادہ ہی آئے گا جو اسے مجھ سے بھی زیادہ پیار کرے گا۔
اگرآج وہ حیات رہتے اس کی یہ حالت دیکھ کر ٹوٹ جاتے۔ ان کی روح بھی تو دیکھ کر غمگین ہوتی ہوگی ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ ہر ماں باپ اپنی بیٹی کے لیے ہزاروں خواب دیکھتا ہے ضروری تو نہیں وہ ساری کی ساری پوری ہو جائیں۔ اُن کی باتوں کو یاد کر کے وہ افسردہ ہو جایا کرتی تھی شاید جو لاڈلے ہوتے ہیں ان کا نصیب ہی ان کے لیے امتحان بن جاتی ہے۔
پانی گرنے کی آواز نے اس کی سوچ کے تسلسل توڑ دیا اس نے فورًا وضو کیا اور نماز پڑھ وہ سیدھا نیچے آئی۔
زبیر نیچے بھی نہیں تھا وہ اسے پورے گھر میں ڈھونڈ چکی تھی لیکن وہ اُسے کہیں نہیں ملا شاید وہ آفس جا چکا تھا۔
رات وہ اُسے اپنی زندگی کی ایک تلخ حقیقت بتاچکا تھا۔
زارا اُسے دیکھ کر اندازہ لگانا چاہتی تھی کہ اُسے اس پر یقین ہے بھی یا نہیں۔
لیکن وہ گھر میں تھا ہی نہیں۔
وہ معمول کے مطابق گھر کے کاموں میں لگ گئی۔
زبیر رات میں آیا تھا اسے بنا کچھ کہے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔
کھانے کا پوچھنے پر اُس نے صاف منع کردیا اور پھر یہ روز ہی ہونے لگا ۔اُس دن کے بعد سے زبیر نے اُسے مخاطب کرنا ہی چھوڑ دیا۔
وہ روزانہ صبح وقت پر اُٹھ کر اس کے لیے ناشتہ بتاتی اور خاموشی سے اس کے تمام کام کرتی ۔رات کے کھانے پر اس کا گھنٹوں انتظار کرتی تھی۔ وہ جس دن کھانا باہر سے کھا کے آتا تھا ان کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوتا تھا۔
ناجانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔ وہ سوچ کے پریشان رہنے لگی تھی۔
★★★★★
زیان کو گئے دو دن ہوگئے تھے ۔
اتنے کم عرصے میں ہی لائبہ اور ظفر کو اُس کی اتنی عادت ہوگئی تھی اس کے جاتے ہی وہ اسے مس کرنے لگے تھے۔ زیان کے آنے سے انھیں ان کا بڑا بھائی مل گیا جب تک وہ ان کے ساتھ رہا وہ دونوں اپنا ہر کام اس سے پوچھ کر کرتے تھے وہ انھیں بہترین مشورہ دیتا اور کامیابی پر دونوں خوشی سے اس سے لپٹ جاتے۔جبکہ اس کی اپنی بہن عائشہ نے کبھی بھی انھیں سراہا نہیں تھا۔
عائشہ کو وہ دونوں کم ہی مخاطب کیا کرتے تھے ۔وہ خود بھی پسند نہیں کرتی تھی کہ کوئی اسے تنگ کرے۔
آج جب لائبہ اسکول سے آئی تو ضد کرنے لگی کہ اُسے زیان سے بات کرنی ہے ۔
اس کے بے حد اصرار پر ندا خاتون نے اُس سے وعدہ کیا کہ وہ شام میں ان کی بات کروا دیں گی اور دونوں خوشی کے مارے چہک اٹھے تھے۔
شام میں وہ دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے ہوم ورک کرنے میں مصروف تھے جب ندا خاتون کمرے میں داخل ہوئیں ۔
”مما آپ!“
ظفر اپنی کتابیں بیگ میں ڈال رہا تھا ان پر نظر پڑتے ہی بولا۔
”کیوں میں نہیں آ سکتی ؟“ وہ اس کی بات کا بُرا مان گئیں۔
”آسکتی ہیں مما! ، میں نے تو بس ایسے ہی……“
ظفر خجل سا وضاحت دینے لگا۔
”ہممم…. زیان کی کال ہے تم دونوں بات کرنا چاہتے تھے نا! “
انھوں نے کہتے ہوئے اسے موبائل تھمایا اور وہاں سے چلی گئیں۔
زیان کا نام سن کر ڈرائنگ کرتی لائبہ اٹھ کے اس کے پاس چلی آئی تھی ۔وہ لوگ ادھر اُدھر کی بات کرتے رہے۔
”زیان بھائی! میں نے آپ کو بہت مس کیا۔ آپ پھر کب آئیں گے؟ “
لائبہ نے آخری جملہ افسردگی کے ساتھ ادا کیا۔
موبائل لاؤڈ اسپکیر پر تھا کال کی آواز پورے کمرے میں گونج رہی تھی۔
”ابھی تو کچھ کہا نہیں جاسکتا لیکن جیسے ہی میں کراچی شفٹ ہوجاؤں گا ۔تم دونوں سے روز ملنے آیا کروں گا ۔“ اس کی بات سن کر وہ دونوں خوشی سے اچھل پڑے تھے۔
★★★★★
آج آفس کی چھٹی تھی زبیر ناشتے کے بعد لاؤنج میں بیٹھا ٹی دیکھ رہا تھا جبکہ زارا کچن میں کھڑی اس کے لیے کیک بنا رہی تھی ۔
آج زبیر کی سالگرہ تھی اس کی شادی کو چند ماہ ہوئے تھے جب وہ اس گھر میں آئی تھی تو وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کا شوہر کیسا ہے ، کس مزاج کا ہے ؟
لیکن آہستہ آہستہ وہ اس کے مزاج سے آشنا ہوتی گئی ۔وہ ہر اُس کام سے اجتناب کرتی جو زبیر کی ناراضی کا باعث بنتا مگر اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی وہ اس پر غصّہ نکالتا یہاں تک کہ کئی بار وہ اُس پر ہاتھ بھی اُٹھا چکا تھا۔
اس کی پسند ناپسند کا اسے لبنٰی چاچی سے پتا چلا تھا اور اس کے سالگرہ کا بھی اسے انھوں نے ہی بتایا تھا۔
وہ زارا کے چہرے پر سجی مسکراہٹ کو کافی دیر سے دیکھ رہا تھا اسے اس طرح دیکھ کر اُسے خوش ہونا چاہیے لیکن وہ خوش نہیں تھا۔
دو دن پہلے جب وہ آفس کے لیے گھر سے نکلا تھا ۔اس کی گاڑی خراب تھی جس کی وجہ سے اس نے ٹیکسی لینا پڑتی وہ بس اسٹاپ پر پہنچنے کے ارادے سے نکلا تو اچانک کسی کے پکارنے پر چونک کے پلٹا۔ سامنے ایک لڑکا اس کی جانب دیکھتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔
اس کے رکتے ہی وہ اس کے قریب چلا آیا اور خوش دلی سے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے کیا تو زبیر نے اس کا ارادہ بھاپ کر اس سے ہاتھ ملا لیا ۔
”آپ اس گھر میں رہتے ہیں نا؟ “
آنے والے نے انگلی کے اشارے سے اُس کے گھر کی جانب اشارہ کرکے پوچھا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا۔
”معاف کیجیے گا لیکن میں نے آپ کو پہچانا نہیں “
وہ اس شخص کو یہاں پہلی بار ہی دیکھ رہا تھا اس لیے معذرت خواہانہ انداز میں بولا۔
”جی! میں چند ہفتے پہلے ہی یہاں سامنے والے گھر میں رہنے آیا ہوں اور خوش قسمتی سے آپ کے ہمسائے ہونے کا شرف حاصل کر چکا ہوں ۔“
اس لڑکے کی مخصوص مسکراہٹ کے ساتھ اس کی معلومات میں اضافہ کیا۔
”اوہ اچھا! یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ دراصل میں شہر سے باہر گیا ہوا تھا تو مجھے پتا نہیں چلا ۔“ اس نے بھی جوابی مسکراہٹ کے ساتھ وضاحت دی۔
”جی! آپ کی وائف سے بھی ملاقات ہوئی تھی۔
ایک دو بار گھر پر بھی گیا تھا شاید آپ اُس وقت نہیں تھے اس لیے انھوں نے مجھے گیٹ سے ہی واپس بھیج دیا۔“
”کون……زارا سے؟“ زبیر نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔
” جی ان سے ہی۔ آپ اتنے سوئیٹ ہیں جبکہ آپ کی وائف بالکل جگھڑالو قسم کی ہیں۔“
زبیر کی تعریف کرتے ہوئے اس نے زارا کے ساتھ اپنی لڑائی کو یاد کرتے ہوئے کہا تو زبیر کے چہرے پر ناگواری در آئی ۔اس نے ضروری کام کا بتا کے وہاں سے نکل جانا چاہا۔
” ایکسیوز می مسٹر زبیر! میں نے دیکھا آپ کی کار بند پڑ گئی ہے۔ میں بھی باہر ہی جا رہا تھا تو سوچا کیوں نہ آپ کو لفٹ دے دوں۔“
اس لڑکے کی آفر کو وہ قبول نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن اس دن نا چاہتے ہوئے بھی اس کے اصرار کرنے پر اسے اس کی مدد لینی پڑی تھی۔
ٹی وی پر چلتی بریکنگ نیوز کی تیز آواز اسے حال میں کھینچ لائی تھی۔
وہ تب سے یہی سوچ رہا تھا کہ زارا نے یہ بات اس سے کیوں چُھپائی تھی۔
پھر یکدم اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا۔ وہ ٹی وی بند کرکے صوفے سے اٹھا اور کچن میں کام کرتی زارا پر نظر ڈال کر بنا کچھ بتائے گھر سے نکل گیا۔
زارا نے اون سے کیک نکال کے اسے ڈیکوریٹ کیا اور باقی لوازمات تیار کرکے جب وہ لاؤنج میں آئی تو وہ وہاں سے غائب دیکھا۔
دن سے شام اور شام سے رات ہوگئی تھی لیکن زبیر کا کوئی آتا پتا نہیں تھا۔
آج وہ خاص اس کے لیے تیار ہوئی تھی۔ وہ پہلے ہی خوبصورت تھی ہلکے پھلکے میک اپ کے بعد وہ اور حسین لگ رہی تھی۔
اس کے انتظار میں وہ لاونج کے چکر کاٹتی رسٹ واچ پر بار بار نگاہ ڈال رہی تھی۔ ٹھیک آٹھ بجتے ہی دروازے پر بیل ہوئی تو اس نے بنا پوچھے ہی دروازہ کھول دیا۔ اسے لگا تھا کہ زبیر ہوگا۔
”ہائے مس زارا! کیسی ہیں؟“
سامنے زبیر کے بجائے جمیشد کو دیکھ کے اس نے دروازہ بند کر دیا جو اسے دیکھتے شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے گویا ہوا تھا۔
”مس زارا دروازہ کھولیں۔ میں زبیر کو سالگرہ وش کر نے آیا ہوں۔“
جمشید نے ہاتھ میں پکڑے باکس کو دیکھتے بند دروازے کی طرف دیکھتے ہوئے اندر موجود زارا سے کہا۔
جب بار بار کہنے پر بھی دروازہ نہیں کھولا گیا تو وہ وہاں سے چلا گیا۔
کچھ دیر بعد زبیر گھر میں داخل ہوا ۔
اچانک دروازہ کھولنے کی آواز سے زارا ڈر گئی تھی لیکن سامنے زبیر کو دیکھ کر اس نے پرسکون سانس لیا۔پر اس کے لڑکھڑاتے قدم دیکھ کے وہ افسردہ ہوگئی۔
وہ آج پھر نشے کی حالت میں گھر آیا تھا۔
کہتے ہیں کہ کسی کی فطرت کبھی نہیں بدلتی اگر فطرت میں برائی ہو تو وہ کسی مہلک بیماری کی طرح خون میں پھیل جاتی ہے۔
زبیر کو نشے کی بُری لت تھی جسے وہ کبھی نہیں چھوڑ سکتا تھا۔
وہ چلتے ہوئے پھر سے لڑکھڑانے لگا تو زارا نے آگے بڑھ کے اسے سہارا دینا چاہا لیکن اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے اپنے قریب آنے سے روک دیا۔
”وہیں رُک جاؤ تم! ایک قدم بھی آگے مت بڑھانا ۔سمجھی! “
وہ اتنی زور سے چیخا تھا کہ زارا اپنی جگہ پر ساعت کھڑی رہ گئی تھی۔ پچھلے کچھ دنوں سے اس نے زارا کو مخاطب کرنا چھوڑ دیا تھا۔اس کی خاموشی اسے چبھنے لگی تھی لیکن آج وہ اس کا پرانا روپ دیکھ رہی تھی۔
”زبیر……آپ اس طرح کیوں کہہ رہے ؟ “
اس نے اس کی آنکھوں میں خون اترتا دیکھ کے پوچھا۔حالانکہ وہ جانتی تھی کوئی بات تو ضرور ہے جس کی وجہ سے وہ پھر سے اس حالت میں گھر لوٹا تھا۔
”وہ جمشید یہاں کیا کر رہا تھا بولو! ، ہے کوئی جواب تمہارے پاس؟ “
پہلے ہی وہ کچھ دونوں سے اس لڑکے سے ہوئی ملاقات اور اس کی باتیں سوچ کر اندر ہی اندر پیج و تاب کھا رہا تھا اور ابھی آتے وقت جمشید کو گھر کے باہر دیکھ کر وہ بھڑک گیا۔
”ز….زبیر….. و….وہ یہاں آیا تھا! لیکن…….“
وہ منمنائی۔
”لیکن کیا؟ ہاں…. اُس دن تو بڑی قسمیں کھا رہی تھی کہ تم بے قصور ہو تو پھر آج وہ یہاں کیا کر رہا تھا؟“
اس نے حقارت سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔
” نن…… نہیں! آپ غلط سمجھ رہے ہیں زبیر!“ وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے اس کے قریب چلی آئی۔
جاری ہے
