Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Dil Pe Lagay Zakham (Episode 04)

Dil Pe Lagay Zakham by Samreen Shahid

آج کام والی نہیں آئی تھی اس لیے کچن میں کھڑی وہ برتن دھو رہی تھی ۔

”مما مجھ سے یہ کام نہیں ہوتے؟ “ دو چار پلیٹ صاف کرنے کے بعد عائشہ نے پلیٹ کو پٹکنے کے انداز میں رکھتے ہوئے چیخ کر کہا ۔

عائشہ ندا نعیم کی پہلی اولاد تھی۔ جسے گھر کے کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی بلکہ وہ کام اس کے نزدیک کسی عذاب سے کم نہیں تھے۔

” کیوں نہیں ہوتے؟ دوستوں سے سارا سارا دن بیٹھ کر گپیں ہانکنے میں تو تمہیں بڑا مزہ آتا ہے اور گھر کے کام تم سے نہیں ہوتے۔“

ندا خاتون کچن میں پانی پینے آئی تھیں اپنی بیٹی کے تیور دیکھ کر طنزیہ بولیں۔

” ہاں تو کیوں کروں میں کوئی کام ؟ کس قدر گندا کام ہے یہ ۔“ اس نے اپنے ہاتھوں پر لگی چکنائی کو دیکھ کر تقریباً روتے ہوئے کہا ، کچھ دن پہلے ہی وہ مینو کیور کروا کے آئی تھی۔

”زارا بھی تو سارے کام اکیلے ہی کرتی تھی مجال ہے جو اُس نے کبھی ایک لفظ بھی کہا ہو اور تمہیں صرف ایک دن کرنے کیا پڑ گئے تمہارے نخرے ہی ختم نہیں ہو رہے ۔ “ انھوں نے ہر ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا ۔انھوں نے بے دھیانی میں زارا کا ذکر کیا۔ جس کا وجود ان کی آنکھوں میں کھٹکتا تھا۔

”ہاں تو کرواتی نا اسی سے۔ کیوں شادی کر دی اُس کی۔

کام والی سے تو ڈھنگ سے کچھ ہوتا ہی نہیں ہے اوپر سے چھٹی کرلیتی ہے ۔یہ فضول کام میں بالکل بھی نہیں کروں گی آپ ہی کریں اسے، میں جا رہی ہوں ۔“

عائشہ پلیٹ کو زور سے سنک میں پٹکتی بڑابڑاتے ہوئے کچن سے نکل گئی۔

ندا خاتون بیٹی کی بات سن کر صدمہ پہنچا۔ جس اولاد کی عیش و آرام کی زندگی کے لیے انھوں نے ایک یتیم کا حق مارا تھا آج وہی اولاد زبان درازی پر اتر آئی تھی ۔

انھوں نے ایک معصوم اور یتیم بچی کا حق مارا تھا۔ دولت کی ہوس نے انھیں اندھا کر دیا تھا اور جس کے لیے یہ سب کیا تھا وہ ہی ان کی عزت نہیں کر رہی تھی۔

آج عائشہ ان پر چلا کر گئی تھی ۔کل کو ظفر اور لائبہ بھی اس کے نقش قدم پر چلنے لگتے تب بھی وہ کیا کرسکتی تھیں۔ چالاکیاں چھوڑ کر اگر وہ اپنا دماغ ان کی اچھی تربیت میں لگاتیں تو آج یہ دن دیکھنا نہیں پڑتا ۔

سوچوں کی گرداب میں پھنسی وہ سنک میں پڑے برتنوں کو صاف کرنے لگیں۔ عائشہ ضدی تھی اور ان کے ہی لاڈ پیار نے اسے خود سر بنا دیا تھا ۔وہ جانتی تھیں وہ جس بات سے انکار کر دیں پھر کوئی اس کے سامنے اپنی ناک رگڑ لے تب بھی اس کی نہ کو ہاں میں نہیں بدل سکتا۔

★★★★★

نماز پڑھ کے وہ کپڑے استری کرنے لگی۔

کام کی تھکاوٹ تو تھی لیکن دوسری طرف زبیر کے ساتھ شادی کے اتنے دنوں بعد باہر جانے کی خوشی بھی تھی۔ زارا تھوڑی نروس تھی۔ یہ پہلا موقع تھا جب زبیر اسے اپنے ساتھ کہیں باہر لے جانے والا تھا۔ شادی سے پہلے پھوپھی کے ساتھ پھر بھی کہیں نہ کہیں چلی جایا کرتی تھی لیکن یہاں آنے کے بعد وہ نظر بند ہو کے رہ گئی تھی۔

وہ تیار ہوکر زبیر کا انتظار کر رہی تھی ۔ رات کے نو بجنے کو تھے لیکن زبیر کا کوئی اتا پتا نہیں تھا ۔ناجانے وہ دوپہر سے کہاں غائب تھا ۔

اس نے وہی جوڑا پہن رکھا تھا جو زبیر اس کے لیے لے کر آیا تھا۔ چوڑیاں اور ہلکے پھلکے میک اپ میں وہ بہت پیاری اور معصوم لگ رہی تھی۔

وہ تیار ہو کر کتنے ہی گھنٹے اس کا انتظار کرتی رہی ۔

ساڑھے نو بجے کے قریب جب وہ آیا تو آتے ہی شاور لینے چلا گیا تھا۔ وہ خاص اس کے لیے تیار ہوئی تھی لیکن اس نے زارا کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی ۔

زارا کے دل نے یہ خواہش کی کہ وہ اسے سراہے لیکن ایسا نہیں ہوا تھا زبیر نے تیار ہوتے ہی اسے چلنے کا حکم دیا تھا۔

اس نے ایک گہرا سانس لیا اور اس کے ساتھ آکر کار میں بیٹھ گئی۔ وہ چاہنے جانے کے خواب دیکھ رہی تھی جو ناجانے پورے ہوتے بھی یا نہیں۔

یہ سچ ہے کہ آنکھیں خواب دیکھ سکتی ہیں لیکن دیکھے گئے خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارنے میں بھی کبھی کبھار قسمت کا عمل دخل ہوتا ہے اور زارا اس معاملے میں بد قسمت ٹھہری تھی ۔

★★★★★

وہ اپنے کمرے میں لائٹ بند کیے صوفے پر بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔پورے کمرے میں سوائے ٹی وی لائٹ کے اور کوئی روشنی نہ تھی ۔رف سے حلیے میں ایک ٹانگ صوفے کے نیچے اور ایک صوفے پر فولڈ کیے میچ دیکھنے میں مگن تھا جب اس کے موبائل پر رِنگ ہوئی۔ اس نے نمبر دیکھے بغیر ہی کال کاٹ دی اور اپنا سارا دھیان ٹی وی پر لگا دیا۔

جب دوبارہ سے بیل کی آواز آئی تو اس سے ہاتھ بڑھا کر میز سے ریموٹ لے کر ٹی وی کا ولیم بند کردیا اور ہاتھ میں پکڑے پاپ کارن سے بھرے پیالے کو میز پر رکھنے کے بعد کال اٹھا لی۔

کال پر کافی دیر تک بات چلتی رہی پھر اس نے الوداعی کلمات کے ساتھ فون بند کردیا

اور اپنی جگہ بیٹھ کر سر صوفے کی پشت سے لگاتے ہوئے کچھ سوچنے لگا۔

وہ اتنے عرصے بعد اپنی ماموں ذاد سے ملنے والا تھا۔ پاکستان میں مقیم خالہ کا نمبر ملتے ہی اس نے سب سے پہلے ان لوگوں سے رابطہ کیا تھا کتنی عجیب اور نک چڑھی لڑکی تھی وہ۔ جس نے اتنے دنوں میں ایک بار بھی اس سے بات نہیں کی تھی۔ آئیر پورٹ میں اگر ان کا سامان گم نہ ہوتا تو وہ بآسانی اس سے رابطے میں رہ سکتا تھا۔ خالہ جان سے رابطے کی پہلی کڑی جڑی تو سب سے پہلے اسے ماموں جان کی وفات کی خبر ملی تھی۔ ان دنوں وہ لوگ جس طرح کے حالات کا سامنا کر رہے تھے اس افسوسناک خبر نے دہلا دیا تھا ۔ بھائی کی موت کا سن کر اس کی مما کا برا حال تھا اس کے لیے انھیں سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ پھر ایسے حالات بنے کہ بہت کوشش کے باوجود بھی وہ پاکستان نہیں آسکا ۔لیکن ان چار سالوں کے ٹیلی فونک رابطے میں زارا کی طرف سے کوئی مثبت رویہ نہ پاکر وہ حیران ہوا تھا۔

★★★★★

جب وہ دونوں پارٹی میں پہنچے تو کافی دیر ہوگئی تھی۔زبیر کے کولیک اُس کا انتظار کررہے تھے ۔ ان دونوں کو دیکھ کر اس کے چند دوست خوش اخلاقی سے ملے تھے ۔وہاں موجود تمام لوگ اپنی اپنی فیملی کے ساتھ آئے ہوئے تھے۔

زارا راستے میں یہاں کے بارے میں ہی سوچتی رہی تھی لیکن دوسری عورتوں کو دیکھ کر مطمئن ہوگئی تھی۔ اس کا ڈر کافی حد تک کم ہوگیا تھا وہ اکیلی لڑکی نہیں تھی جسے اس پارٹی میں مدعو کیا گیا تھا۔ زبیر اسے کچھ دیر میں آتا ہوں کہہ کر اپنے کسی دوست سے ملنے پتا نہیں کہاں چلا گیا تھا۔

ایک چالیس پینتالیس سال کے قریب آدمی سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے ناجانے کب سے اُسے ہی گھور رہا تھا۔

وہ وہاں سے ہٹ کر کچھ دور جا کر کھڑی ہوگئی اور زبیر کا انتظار کرنے لگی ۔

سگریٹ ختم ہوتے ہی اس نے دوبارہ سگریٹ سلگا لیا اور تنہا کھڑی زارا کی سمت بڑھ گیا۔

یہ وہ واحد آدمی تھا جو پوری پارٹی میں الگ تھلگ نظر آرہا تھا ۔باقی تمام افراد اپنی فیملی کے ساتھ آئے تھے لیکن جب زبیر نے اس کا تعارف کروایا تو اس کے ساتھ اس کی بیوی نہیں تھی ۔

اس کے چہرے پر سجی مسکراہٹ کو دیکھ کر زارا کا دل کیا کہ وہ کہیں چھپ جائے ۔عورت خود پر اٹھنے والی غلط نظر کو منٹوں میں پہچان جاتی ہے اس کی حس اسے باور کروا دیتی ہے کہ کون اسے بری نظر رکھتا ہے اور کون اس کی عزت کرتا ہے۔ زارا نے پہلو بدلا زبیر ناجانے کہاں چلا گیا تھا۔ویسے تو وہ اُسے ایک منٹ کے لیے تنہا نہیں چھوڑتا تھا۔

”ہیلو! کیسی ہیں؟“ وہ یہی سوچ رہی تھی جب وہ اس کے قریب کھڑا پوچھ رہا تھا ۔ سگریٹ کے دھواں نے زارا کو کھانسنے پر مجبور کر دیا۔اُس نے کھانستے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا ۔

”اوہ سوری! “سامنے کھڑے آدمی نے معذرت خواہانہ انداز میں کہتے اپنے ہاتھ میں پکڑے اس سگریٹ کو زمین پر پھینک کر پاؤں سے مسل دیا۔

” آپ زبیر کی وائف ہیں ؟

ویسے یقین نہیں آتا زبیر جیسے بندے کی اتنی خوبصورت بیوی بھی ہوسکتی ہے اس سے مجھ سے ملوایا بھی نہیں تو میں نے سوچا خود ہی آپ سے ملاقات کرلوں ۔“ اس نے خباثت سے مسکراتے ہوئے کہا تو زارا کو ٹھنڈے پیسنے آنے لگے ۔اُس نے درود پاک کا ورد کرتے تیزی سے وہاں سے نکل جانا چاہا مگر تب تک وہ آدمی ڈھٹائی سے اس کے راستے میں حائل ہوگیا تھا ۔

زارا کا پورا جسم کپکپانے لگا تھا بڑی مشکل سے وہ اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے ایک جھٹکے سے دوسری سائیڈ سے وہاں سے نکل گئی ۔

” رک جائیں نا۔ ہم میں کون سے کانٹے لگے ہیں ۔کچھ دیر ہم سے بھی بات کرلیں ۔“ دو چار قدم ہی آگے گئی تھی لیکن اس خبیث انسان نے پیچھے سے اس کی کلائی پکڑ کر اسے جانے سے روک دیا تھا۔

” یہ کیا بد تمیزی ہے؟“ زارا نے تقریباً چلا کر کہتے ہوئے اپنا ہاتھ کھینچ لیا لیکن وہ اتنی جلدی اپنی حرکت سے باز نہیں آنے والا تھا۔

”ارے آپ ڈر کیوں رہی ہیں؟“ زارا کی حالت دیکھ کر وہ محظوظ ہوا تھا اس کی شیطانی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی تھی۔ وہاں آس پاس بات کرتے لوگ یہ تماشہ دیکھ رہے تھے لیکن ان میں سے کسی نے بھی دخل اندازی کرنے کی زحمت نہیں کی۔ لوگوں کی خود پر اٹھتی معنی خیز نظروں سے بچنے کے لیے وہ تقریباََ دوڑتی ہوئی باہر کی جانب بڑھ گئی اور سامنے سے آتے زبیر سے ٹکرا گئی۔

اسے اس طرح دیکھ کے زبیر اپنے دوست سے معذرت کی اور اس کی طرف متوجہ ہو گیا۔ وہ پریشانی سے اپنے لب کاٹ رہی تھی۔

”کیا ہوا؟ تم اتنی ڈری ہوئی کیوں ہو اور اس طرح بھاگ کیوں رہی تھی؟“

”مجھے گھر جانا ہے ۔“ اس کے پوچھنے پر زارا نے بس اتنا ہی کہا۔

” کیوں ابھی تو آئیں ہیں ہم رکو کچھ دیر میں چلیں گے؟ “

زبیر اسے بتا رہا تھا یا پوچھ رہا تھا۔اس کشمکش میں اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

پھر اسے اپنے ساتھ لیے آگے بڑھنے لگا تبھی ایک آدمی اس کے قریب آ کر رکا۔ زبیر کے ساتھ کھڑی زارا پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے کے بعد وہ اس سے مخاطب ہوا۔

“ارے زبیر تم کہاں چلے گئے تھے ۔تمہاری بیوی اکیلے ڈر رہی تھیں شاید ۔“

اس بار اس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ نہیں تھی بلکہ وہ بے حد سنجیدگی سے بولا تھا۔اس کے حرکتوں نے ہی اسے خوف زدہ کیا تھا۔

”زارا! “ زبیر نے اس کا نام دہرایا۔ وہ اس کے چہرے پر خوف اور گھبراہٹ دیکھ چکا تھا۔ کسی نے اس سے کچھ کہا تھا یا وہ یونہی ڈر گئی تھی وہ اندازہ نہیں لگا پایا پھر سامنے کھڑے شخص سے مخاطب ہوا۔

”جی وہ کبھی اس طرح کسی تقریب میں نہیں آئی تھی۔میری غیر موجودگی میں پریشان ہوگئی ہوگی۔

شاید اس لیے ۔“

”اچھا! سامنے کھڑے دراز قد ، چوڑے جسامت کے حامل شخص نے اچھا کو لمبا کھینچتے ہوئے کہا اور سگریٹ منہ تک لے جا کر اس کے کش لیے ۔

کچھ دیر پہلے زارا سے بات کرتے اس نے سگریٹ کو پھینک کر پاؤں سے مسل دیا تھا۔ اس وقت اس کے ہاتھوں میں سگریٹ دیکھ کر معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس کا عادی تھا ۔

”ایک بات کہوں اگر بُرا نہ لگے تو ؟“

”جی بالکل پوچھیں جمشید صاحب !“

آپ اس طرح کہہ کر مجھے شرمندہ مت کریں ۔

زبیر نے مودبانہ انداز میں کہا ۔

”زبیر! تم نے شادی کرلی اور ہمیں بتایا تک نہیں۔“

جمشید نے شکوہ آمیز لہجے سے ان دونوں پر نظر ڈالتے ہوئے کہا۔

” شادی اتنی جلد بازی میں اور اتنی سادگی سے ہوئی کسی کو بتانے کا موقع ہی نہیں ملا ۔پھر میں نے سوچا ولیمہ میں سب کو بلا لوں گا۔

”کیوں زارا ؟”

اس نے جمشید کے ساتھ اپنی گفتگو میں زارا کو بھی شامل کیا جو اس کے پہلو میں کھڑی تھی ۔ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ جمشید جو زبیر کا کوئی عزیز معلوم ہوتا تھا ۔زبیر سے گفتگو کے دوران وہ مسلسل اسے ہی دیکھ رہا تھا اور وہ اس کی نظروں بچنے کے لیے وہاں سے اوجھل ہو جانا چاہتی تھی۔

”چلو ٹھیک ہے پھر تو میں ضرور آؤں گا۔ تم واقعی بہت خوش قسمت ہو، تمہیں اتنی خوبصورت بیوی ملی ہے ۔“

وہ زبیر سے مصافحے کے دوران ہنستے ہوئے بولا اور وہاں سے چلا گیا ۔

زبیر کو اس کا اس طرح زارا کی تعریف کرنا اچھا نہیں لگا لیکن وہ ضبط کرگیا ۔ وہ دونوں کچھ دیر وہاں رُکنے کے بعد گھر واپس آگئے تھے ۔

زبیر کپڑے تبدیل کرنے کے بعد جب کمرے میں آیا تو زارا کو روتے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔

”اب تم رُو کیوں رہی ہو؟“ وہ بیڈ تک آیا تھا اور بائیں سائیڈ بیٹھ کر گھڑی اتارتے ہوئے پوچھنے لگا

”و۔۔۔و۔۔۔وہ کک۔۔۔کچھ نہیں ۔“

زارا دونوں ہاتھوں سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔

”ہممم۔ لائٹ بند کردو مجھے نیند آرہی ہے ۔“

اس نے گھڑی اتار کر میز پر رکھتے ہوئے اسے لائٹ بند کرنے کا کہا تو زارا اپنی چوڑیوں کو ڈبے میں رکھ کر لائٹ بند کرنے کے لیے اٹھ گئی۔

”سُنو…..! “

”جی..!!“ زارا نے فوراً کہا۔

”تم پارٹی میں اس طرح بھاگ کیوں رہی تھی۔ جمشید بھائی کہہ رہے تھے تم ڈر گئی تھی؟ “ اس نے کچھ سوچتے ہوئے اس سے پوچھا۔

”وہ…. وہ میں اکیلی کھڑی تھی تو وہاں سب مجھے ہی گھور رہے تھے اس لیے میں ڈر گئی تھی۔“

اس نے سچ بتانے کے بجائے آدھی بات گول کر دی۔ وہ اب جمشید سے ملتی نہیں اس لیے اس نے گزری باتوں کو بھول جانا چاہا ۔وہ نہیں چاہتی تھی زبیر غصے میں کچھ غلط کر جائے۔

” کیوں ڈر کیوں گئی تھی تم بھی حد کرتی ہو۔ وہاں سب کے سب انسان ہی تھے۔اچھا اب لائٹ بند کردو، مجھے نیند آرہی ہے۔“

وہ سر جھٹک کر کہتا سونے کے لیے لیٹ گیا۔ ★★★★★

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *