Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Episode 9
No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
دل دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر نو۔۔
دُرعدن نے بی جان اور شہناز بیگم سے بات کر کے موبائل اقرب کو تھما دیا اور خُود اُس کے لیے کافی بنانے لگی۔
“آپ لوگ زیادہ سے زیادہ دُعا کریں گیں تو پھر ہی ہم آپ لوگوں کے آنے تک خوشخبری کا ارینج کریں گئے نہ۔۔۔۔۔”اقرب نے مُسکراتے ہوئے عدن کی طرف دیکھا جو اسکی بات کا مطلب سمجھتی سُرخ ہو گئی تھی اقرب بات مکمل کر کے اُس کی طرف متوجہ ہوا۔
“پتہ ہے ماما کیا بات کر رہی تھیں۔…..”اقرب کے سوال پر وہ سٹپٹا کر رہ گئی کیونکہ جو بات شہناز بیگم نے اقرب سے کی تھی وہ اُس سے بھی کی تھی۔
“آپ یہ کافی لیں نہ۔….”
“یہ جب بھی میں رومانٹک موڈ میں آتا ہوں تم میری توجہ کھانے پینے والی چیزوں کی طرف کیوں مبذول کرواتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب اُسکی بات پر بدمزہ ہوتا بولا تو عدن مُسکرا دی۔
“آپ تو ہر وقت رومانٹک موڈ میں ہی ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
“فائدہ میرے اکیلے کا رومانٹک موڈ میں آنے کا،موڈ تو تُمہارا ہی دیکھنا پڑتا ہے۔۔۔۔۔.”
“میں نے سُنا تھا فوجی بہت رومانٹک ہوتے ہیں آج دیکھ بھی لیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ روانی میں بولتی اُسے چونکا گئی۔
“تُمہیں کس نے بتایا کہ میں فوجی ہوں۔۔…….”اقرب کے سنجیدہ انداز پر وہ ٹھٹکی۔
“وہ صدف آپا نے،آپ کو بُرا لگا کیا۔…..”
“ارے بلکل بھی نہیں میری جان،میں تو خُود تُمہیں اپنے پروفیشن کے بارے بتانا چاہتا تھا پر کبھی فُرصت میں،تم میری بیوی ہو میرا لباس تُمہیں تو سب پتہ ہونا چاہئیے کہ تُمہارا شوہر کیا کرتا ہے اور کیا نہیں۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر نرمی سے کہا تو وہ مُسکرا دی ورنہ تو وہ ڈر گئی تھی کہ شاید اسے بُرا لگا تھا اُسکا سب جاننا۔
“اچھا تو ہم کیا بات کر رہے تھے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کُچھ بھی نہیں،بہت ٹائم ہو گیا اب سو جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کر بیڈ پر آ گئ اقرب نے بھی اُسکی پیروی کی تھی۔
“ایک تو یار تم سوتی بہت ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“کہاں سوتی ہوں اقرب۔۔۔…؟وہ لیٹتے لیٹتے اُٹھ بیٹھی۔
“رات کو،شاید تُمہیں کسی نے بتایا نہیں رات سونے کے لیے تھوڑی ہوتی ہے۔۔۔۔۔”اقرب نے اُسے اپنے قریب کیا تھا۔
“شاید آپکو علم نہیں کہ رات سونے کے لیے ہی ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اُسے دُور ہٹانے لگی۔
“وہ تو شادی سے پہلے ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔”اقرب نے آنکھ دبائی تھی وہ سُرخ ہوتی آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گئی۔
“اچھا ایک بات تو بتاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔”
“تُمہیں بچے کیسے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ آنکھوں سے بازو ہٹا کر اُسے دیکھنے لگی جو پہلے کی برعکس کُچھ سنجیدہ تھا۔
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔…..”
“میرے خیال میں ہمیں بچے کے متعلق اب سوچنا چاہئیے۔۔…”اقرب نے غور سے اُسکے شرماتے رُوپ کو دیکھا تھا۔
“سو جائیں آپ۔۔۔۔۔.”
“نہیں پہلے بتاو اگر تم ابھی بچوں کی زمعےداری میں نہیں پڑنا چاہتی تو ہم ویٹ کر لیں گئے۔۔۔۔۔۔۔”عدن نے اقرب کی بات پر سر نفی میں ہلاتے ہوئے اپنا سر اُس کے سینے میں چُھپایا تھا۔
“مجھے بچے بہت پسند ہیں اور میرا دل کرتا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔”
“کہ۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے مُسکراتی آنکھوں سے دیکھا۔
“کہ اب آپ سو جائیں۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے کہنے پر اقرب ہنسا تھا۔
“آپ کے اس اقرار کے بعد اب نیند تو نہیں آئے گی اس لیے اب آپکو میرے موڈ کا خیال کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے لائٹ آف کر کے اُس کے گرد اپنا حصار تنگ کیا تھا۔
“______________________“
“مجھے میجر رضا سے ملنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی یزدانی سیدھا اُن کے ہیڈ کوارٹر آیا۔
“میجر رضا چوہان اس وقت بزی ہیں۔۔……..”چوکیدار کی اطلاع پر وہ گہرا سانس بھرتا انتظار کرنے لگا اور پھر پندرہ منٹ کے انتظار کی مشقت کے بعد اُسے اندر بُلا لیا گیا۔
“کیپٹن مرتقوی آپ سے جب کہا تھا کہ مشن کے دوران آپ مجھ سے نہیں مل سکتے تو پھر بھی آپ۔۔۔۔۔۔۔”اقرب چوہان نے سخت نظروں سے دیکھا۔
“صوری سر،اصل میں ایک خبر ایسی تھی کہ مجھ سے رہا نہیں گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”میجر اقرب رضا نے اُسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔
“قُرت خٹک کے بارے بات کرنی تھی۔۔۔۔۔”
“کون قُرت خٹک۔۔۔۔۔”اقرب کی سوالیہ نظریں اُسکی طرف اُٹھیں۔
“انوار صدیقی کے لیے کام کرتی ہے آرمی سے کُچھ انفارمیشن چاہتی ہے اور اُسکا اگلا ٹارگٹ میں ہوں۔۔۔.۔۔۔”
“تو نظر رکھو اُس پر اور ساتھ خُود ٹارگٹ بننے کے بجائے اُسے اپنا ٹارگٹ بناؤ۔۔۔۔۔”اقرب چوہان کی بات میں جو اشارہ تھا وہ سمجھتا ہوا سر ہلا گیا۔
“ہائما رائے کا کُچھ پتہ چلا۔۔۔۔۔”اقرب چوہان کے پوچھنے پر مرتقوی نے اب تک کی حاصل کی ساری معلومات اُس کے گوش و گُزار کیں۔
“اُس رات ہائما رائے مر گئی تھی یا بچ گئی تھی اس راز سے پردہ صرف ایک شخص اُٹھا سکتا ہے اور وہ ہے باری،پر اُسکو ڈھونڈنے میں ہم ابھی تک ناکام ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“باری۔۔۔۔۔”اقرب زیرلب بڑبڑایا پھر اُٹھتا ہوا ونڈو کے پاس آ کھڑا ہوا۔
“باری اُس رات وہاں گیا تو تھا پر کیا زندہ واپس آیا یہ بھی کسی کو نہیں پتہ۔۔۔۔۔”مرتقوی بھی اُٹھ کھڑا ہوا۔
“تُم ہائما رائے کو فلحال چھوڑو اور انوار صدیقی کا پتہ لگواؤ،اور اصل شکل کونسی پے انوار صدیقی کی یہ بھی جاننا ضروری ہے کیونکہ باری کو جو انوار صدیقی ملا تھا وہ کوئی اور تھا،عدن کو تنگ کرنے والا انوار صدیقی اور تھا اور قُرت خٹک کے ساتھ جو تصویر میں دکھا وہ کوئی اور تھا مجھے اصل والا انوار صدیقی چاہئیے۔۔۔۔۔۔”
“اوکے میں دو دن تک پتہ لگواتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی نے کہا اور اُسے سیلوٹ مارتا باہر چلا گیا جبکہ اقرب چوہان کی پرسوچ نظریں ہائما رائے کی تصویر پر اُلجھ گئیں۔
“_______________________“
آج اقرب چوہان کی سالگرہ تھی یہ بات دُر عدن کو صدف آپا سے معلوم ہوئی تھی اور وہ اقرب کو سرپرائز دینے کا سوچتی مُسکراتی ہوئی صدف آپا سے مل کر پلان بنانے لگی۔
“جب تک پاپا زندہ تھے وہ ہر سال اپنی برتھ ڈے بہت بڑے پیمانے پر سیلبریٹ کرتا تھا مگر پانچ سال ہوگئے پاپا کی ڈیتھ کو اُس کے بعد تو وہ بلکل بدل کر رہ گیا ہے یہ تو تم سے شادی کے بعد پھر سے جیسے پُرانا اقرب جاگ گیا ہے۔۔۔۔۔”
“اور میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ اقرب پھر سے اپنی ہر خُوشی کو سلیبریٹ کریں بلکل پہلے کی طرح۔۔……”وہ مُسکرا کر عزم سے بولتی صدف آپا کو خُوشی سے نہال کر گئی۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے،تو پھر آج کی رات تُم اُس کے لیے اسپیشل بناؤ کل کا دن ہم سب مل کر اُس کے لیے اسپیشل بنائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔”
صدف آپا کی بات پر وہ ایگری ہوتی سامان کی لسٹ بنانے لگی پھر ڈرائیور کو لسٹ تھمائی مگر کُچھ سوچ کر اُس کے ساتھ خُود بھی چل دی۔
وہ اقرب کے لئے گفٹ پسند کر رہی تھی تبھی کوئی لڑکی اُس کے پاس آ کھڑی ہوئی عدن نے ایک سرسری سی نظر اُس پر ڈالی پھر اپنی توجہ گفٹ پر مبذول کی اور شاپ کیپر کو پیک کرنے کا کہہ کر بیگ سے پیسے نکالنے لگی۔
“اوہ تو شوہر کے لیے گھڑی پسند کی جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ لڑکی واچ کو پکڑتے ہوئے مُسکرا کر بولی۔
“جی آپ کون۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن نے اچھنبے سے اس کے بے تکلفانہ انداز کو دیکھا۔
“یہ سوال اپنے شوہر سے پوچھنا بہت تفصیل سے جواب دے گا تُمہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب۔۔۔۔۔۔”وہ نہ سمجھی۔
“ہائما رائے کو جانتی تو نہیں ہو گی تُم۔۔۔۔۔۔”وہ بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتی عدن کو حیرانگی میں مبتلا کر گئی وہ اُسے پہچاننے کی ناکام کوشش کرنے لگی۔
“کون ہائما رائے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ویل یہ تو باری ہی بتا سکتا تُمہیں کہ ہائما رائے کون ہے اور تُمہارے شوہر کا اُس سے کیا رشتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی باتوں میں کُچھ راز تھا جس کو دُر عدن سمجھنے کی ناکام کوشش کرتی پیمنٹ ادا کرتی وہاں سے چل دی۔
“ارے مسز اقرب چوہان،اتنی جلدی بھی کیا ہے جانے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آگے بڑھ کر اُسکا راستہ روک گئی۔
“آخر آپ ہو کون اور مجھے تنگ کرنے کا مقصد۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار عدن جھنجھلا کر کہہ اُٹھی جس پر وہ مُسکرائی۔
“یہ بھی جا کر اپنے شوہر سے پوچھنا کیونکہ وہ بہتر بتا سکے گا۔۔۔۔۔.”
“آپ کا میرے شوہر کے ساتھ کیا تعلق ہے۔۔۔۔۔۔”
“یہ بھی اپنے شوہر سے پوچھنا۔۔۔۔۔۔”اُس کے چہرے پر پُرسراریت بھری مُسکراہٹ چمک رہی تھی۔
“ہائما رائے ہو آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ باری سے پوچھنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب یہ باری کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن چڑ گئی اس فضول سی بحث سے۔
“باری؟ارے تُمہیں نہیں پتہ؟کمال ہے کیسی بیوی ہو اپنے شوہر کے نک نیم کو بھی نہیں جانتی تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ طنزً ا مُسکراتی وہاں سے چل دی جبکہ عدن حیران پریشان سی اُسکی پُشت کو تکتی رہ گئی۔
“____________________“
گھر آ کر بھی عدن کُچھ پریشان سی اُس لڑکی کے بارے سوچتی رہی اور رات کو جب اقرب آیا تو وہ چاہنے کے باوجود بھی اُس لڑکی کا زکر اقرب کے سامنے نہ کر سکی۔
“کیا بات ہے عدن کُچھ پریشانی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب اُس کے چہرے کے اتار و چڑھاؤ کو دیکھتا پوچھنے لگا۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر نفی میں ہلاتی مُسکرائی۔
“ڈنر میں آج سب کُچھ میری پسند کا بنا کیوں؟تُم نے اپنی پسند کا بھی کُچھ بنوا لینا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”فروٹ ٹرائفل سے لُطف اندوز ہوتے وہ کہنے لگا۔
“کیا پتہ جو آپکی پسند ہو وہ ہی میری بھی ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ تو پھر بہت اچھی بات ہے،آج کلر بھی میری پسند کا پہنا ہے کیوں۔۔۔۔۔؟اقرب کے لبوں پر شرارتی مُسکان تھی جیسے وہ سب جانتا ہو کہ آج اُسے اسپیشل ٹریٹمنٹ کیوں مل رہی ہے۔
“ویسے ہی آج موسم اچھا تھا تو ریڈ کلر پہن لیا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کندھے اُچکا کر بولتی پانی پینے لگی۔
“میرے دل کا موسم بھی آج بہت اچھا ہے۔۔۔۔۔۔”لہجہ معنی خیز تھا۔
“وہ تو ہمیشہ ہی اچھا ہوتا ہے آپ جا کر کمرے میں آرام کریں مُجھے صدف آپا سے کُچھ کام ہے میں اُن کو کال کر کے آتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ملازمہ کو برتن اُٹھانے کا اشارہ کرتی ڈرائینگ رُوم کی طرف بڑھ گئی اقربب نے پُرسوچ نظروں سے اُسکی پُشت کو دیکھا اسے عدن کے انداز کُچھ مشکوک سے لگے۔
“آج میرا برتھ ڈے ہے شاید سرپرائز کے چکروں میں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکراتا ہوا اپنے کمرے کے طرف بڑھ گیا۔
“______________________“
اُس نے کلائی پر بندھی گھڑی کی طرف دیکھا جہاں رات کے گیارہ بج رہے تھے وہ ایک نظر بند ہوتی گاڑی پر ڈال کر گہرا سانس بھرتا موبائل نکال کر نمبر ملانے لگا تا کہ گھر سے دوسری گاڑی منگوا سکے۔
تبھی اُسکی آنکھیں کسی گاڑی کی تیز روشنی سے چیندھیا گئیں تھیں آنکھوں کے آگے ہاتھ رکھتا وہ خُود کو اُس گاڑی کی ہیڈ لائٹس سے بچانے لگا اُس گاڑی کا دروازہ کُھلا تھا اور اندر سے پہلے دو گارڈز نکلے پھر وہ تیسرا وجود نکلتا اقرب چوہان کو چونکا گیا تھا ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ بلیک لونگ اوور کوٹ میں ملبوس ہاتھوں اور چہرے کو بلیک ماسک میں چُھپائے سر پر ہُڈ پہنے اس کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا۔
“ہماری طرف سے تُمہاری سالگرہ کا تحفہ،دی اینڈ میجر اقرب رضا چوہان۔۔۔۔۔۔۔”اُن میں سے ایک گارڈ بولا اقرب نے اُس بلیک ہُڈ والے کی طرف دیکھا جس نے پسٹل کا رُخ اُسکی طرف کیا تھا اقرب بنا کسی خُوف اور ڈر کے اُن تینوں کی طرف دیکھنے لگا پھر پلک جھپکتے ہی اقرب نے پھرتی دکھاتے ہوئے نہ صرف اک کِک لگا کر پسٹل نیچے پھینکا تھا بلکہ اُس بلیک ہُڈ والے انسان کو اپنے شکنجے میں لیتا اپنا پسٹل اُس کے سر پر تان گیا تھا۔
“تُم لوگوں کی جوئی بھی ہویشاری اس کا سر پھوڑنے کا باعث بن سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے دونوں کو اس پر پسٹل تانے دیکھ کر وارن کیا پھر اُس وجود کی طرف نگاہ کی جو خُود کو چھڑوانے کی پوری کوشش میں لگا ہوا تھا۔
“اب تُمہارا کھیل ختم،اُس رات باری کے ہاتھوں تو بچ نکلے تھے تم پر اب اقرب چوہان کی گرفت سے خُود کو نکال نہیں پاؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُسے گاڑی کے بونٹ پر پٹخا تھا تبھی اُس کے جیب میں پڑا موبائل بجنے لگا وہ جانتا تھا کہ عدن کی کال ہے اس لیے اگنور کرتا اُس کے چہرے سے ماسک اُتارنے کے لیے ابھی ہاتھ بڑھائے تھے کہ اُس کے کانوں میں عدن کی آواز پڑی۔
“اقرب،اقرب پلیز مجھے بچائیں پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔”موبائل کے لاؤڈ سپیکر سے آتی عدن کی آواز اُسے جھنجھوڑ گئی تھی اقرب نے پیچھے مُڑ کر دیکھا ایک گارڈ کے ہاتھ میں موبائ تھا جس کے سپیکر سے عدن کی آواز آ رہی تھی۔
“اقرب پتہ نہیں یہ کون لوگ ہیں پلیز اقرب آ جائیں پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ رو دی تھی۔
“اگر چاہتے ہو کہ تُمہاری بیوی زندہ رہے تو چھوڑ دو اسے ورنہ۔۔۔۔۔۔”اُس نے موبائل کی طرف اشارہ کیا تھا اقرب کی گرفت خُود بخود اُس وجود پر ڈھیلی پڑی تھی وہ وجود جھٹکے سے خُود کو اس سے چھڑواتا گاڑی کی طرف آیا تھا۔
“اگر میری بیوی کو کُچھ ہوا نہ تو تم سب کی لاشیں بچھا دُونگا،یہ تم لوگوں کی بُھول ہے کہ تم لوگ میری بیوی کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہو۔۔۔۔۔”اقرب نے سخت لہجہ اختیار کیا۔
“ہماری اُس سے کوئی دُشمنی نہیں اس لیے گھر جاؤ وہ سیو ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہی گارڈ بولتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا پھر اقرب کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ لوگ اُس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے۔
اقرب نے موبائل نکالا جہاں عدن کی مسڈ کال تھی وہ پھرتی سے اُسے کال ملاتا ٹیکسی میاں بیٹھتا گھر کی طرف روانہ ہوا۔
“_______________________“
