Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13 Part 1

دل دُشمن
از
امرین ریاض
آخری قسط 13 پارٹ 1
“آج سے تقریباً دو سال پہلے مجھے ایک اسائمنٹ دی گئی تھی جس پر کام کرتے ہوئے میں کوئٹہ پہنچا اور بائیک ریس میں حصہ لیا،وہاں مجھے ہائما رائے نامی لڑکی ملی پہلے تو میں اُسے اگنور کرتا رہا کیونکہ مجھے کسی بھی فائدے کے لیے عورت کا استمال کرنا یا اُسے دھوکہ دینا اچھا نہیں لگتا پر جب میں اُس کے قریب ہوا اور سُلطان رائے کے بارے میں اُس کے شکوک و شہبات سُنے تو مجھے لگا کہ مجھے نہ صرف اُسکی مدد کرنی چاہئیے بلکہ اس کے پاپا کو بچانے کے لیے بھی کوشش کرنی چاہئیے مگر مجھے نہیں پتہ تھا کہ سُلطان رائے گناہ کی اس دلدل سے نکلنا ہی نہیں چاہتا،پھر ماہا نے مجھے انوار صدیقی سے ملوایا اُس کے بعد کی کہانی کا تُمہیں پتہ ہے کہ اُس چپ کو حاصل کرنے کے لیے تُمہیں میرے خلاف کیا اور یوں ظاہر کروایا جیسے میں نے ماہا کا قتل کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کہتے ہوئے کُرسی پر ٹکا۔
“مجھے سُلطان رائے اور اُس کے تمام نیٹ ورک کے خلاف ثبوت تو مل چُکے تھے مگر مجھے یہ جاننا تھا کہ ہمارے سرکاری لوگ کس حد تک ان کے ساتھ ملوث ہیں جس کی وجہ سے فلحال کسی بھی ایکشن کے ہمیں خاموش رہ کر ان پر نظر رکھنی پڑی،اُسی دوران تُم مجھ سے ملی میں نہیں جانتا تھا کہ تم کون ہو اور کس مقصد کے تحت میرے تک آئی ہو ہر کام سوچ سمجھ سے کرنے والا اقرب چوہان تُمہارے معاملے میں لا پرواہی برت گیا تھا،ایک دو ملاقاتوں میں تُم مجھے اچھی لگنے لگی تھی اور پھر نکاح کے بعد تو سیدھا میرے دل میں اُترتی چلی گئی تُم،ولیمے کے بعد جب تُم نے مجھ سے ریلشن کے لیے ٹائم مانگا تھا تب بھی مجھے کچھ کنفیوزن ہوا تھا پر میں نے اپنے کسی بھی خیال کو یہ کہہ کر جھٹک دیا کہ شاید واقع میں تم ابھی اس ریلشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے والد کی رضامندی کی خواہش مند ہو،اُس کے بعد جب مجھے تم پر شک کرنے کا خیال تب آیا جب میں نے تُمہیں انوار صدیقی کے ساتھ دیکھا۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ نہ سمجھی سے اُسے دیکھنے لگی۔
“تُمہیں وہ فقیر یاد ہے جب تم صدف آپا کے ساتھ شاپنگ پر گئی تھی جس نے احد اور احمد کی طرف دیکھتے ہوئے تُمہیں بچوں کی دُعا دی تھی،وہ میں ہی تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب آپکو تب سے پتہ چل گیا اور انوار صدیقی کا بھی کہ وہ کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تب یہ اندازہ نہیں تھا کہ تم ہائما رائے ہو بس یہ لگا کہ تم دُشمن کے ساتھ ملی ہوئی ہو پر سالگرہ والے دن میں نے اپنی ایک کو لیگ کو تُمہارے پاس بھیجا تھا ہائما رائے بنا کر کیونکہ میں تُمہارا ری ایکشن دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا تم ہائما رائے کی کچھ لگتی ہو پر تب میں حیران رہ گیا کہ تم نے یہ بات مجھ سے تو شیئر نہ کی پر اپنے والد صاحب کو میسج کر دیا کہ کوئی لڑکی ہائما بن کر مجھ سے ملی ہے تب مجھے لگا کہ تم ہی ہائما ہو پھر جب تم نے مجھے سپرائز دیا تھا میری بائیک پر حملہ کر کے تب ایک غلطی کر دی تم نے وہ یہ کہ جب ایک لڑکی کیک ڈلیور کرنے آتی ہے وہ پھر واپس کیوں نہیں جاتی کیونکہ ہمارے گھر میں باہر جانے والے ہر راستے میں کیمرہ لگے ہیں پھر جس لوہے کہ ریڈار سے تم نے بائیک کی وہ حالت کئ اُس پر فنگر پرنٹس بھی تُمہارے تھے اور باقی کی کہانی تو تم جانتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی باتوں پر وہ شرمندگی سے سر جُھکا گئی۔
“اچھا فلحال تم جاؤ باقی باتیں بعد میں،مجھے جانا ہے لیٹ ہو رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے۔۔۔۔۔۔”
“پاگل ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بچکانہ بات پر وہ شاید حیران ہوا تھا۔
“یہی سمجھ لیں لیکن مجھے آپ کے ساتھ جانا ہے کیونکہ میں اب سُلطان رائے پر اور اعتماد نہیں کر سکتی وہ آپ کو کوئی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوہ رئیلی۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرایا
“تُمہیں ابھی بھی یہ خُوش فہمی ہے کہ سُلطان رائے تُمہارے سامنے آنے سے مجھ پر کوئی وار نہیں کرے گا تو یہ تُمہاری غلط فہمی ہے کیونکہ جو اپنی بیوی اور ایک بیٹی کو مار سکتا ہے وہ دوسری کو بھی مارتے ہوئے ایک پل بھی سوچنے میں نہیں لگائے گا اس لیے تم گھر جاؤ کیونکہ مجھے اپنا فرض اور محبت دونوں کی سلامتی درکار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب چوہان کے کہنے پر وہ چُپ سی ہو گئ۔
“تم نکلو میں تُمہیں کیپٹن احمد کے ساتھ بھیج رہا ہوں جو میرے آنے تک گھر ہی رہیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے میں جا رہی ہوں مگر آپ کو مجھ سے ایک وعدہ کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے اچانک کہنے پر وہ کندھے اُچکا گیا۔
“ہاں بولو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ کو ہر قسم کے حالات سے مقابلہ کر کے ہمارے لیے ایسے ہی آنا پڑے گا جیسے آپ جا رہے ہیں کیونکہ آپ جس دُشمن کے بیچ جا رہے ہیں اُسے آپکی جان کی زرا پروا نہیں پر مجھے ہے اور میں آپکو کھونا نہیں چاہتی اقرب۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں سے آنسو بے اختیار ہوئے تھے اقرب نے گہرا سانس لے کر لب بھینچ لیے تھے پھر آگے بڑھ کر اُسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا۔
“میں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر اللہ نے میری زندگی اور کامیابی لکھی ہے تو میں انشاءاللہ کامیاب ہو کر تُمہارے پاس آؤنگا اب تم جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی پیشانی چُوم کر اُسکا چہرہ ہولے سے تھپتھپایا تھا پھر اُسے کیپٹن احمد کے ساتھ بھیج کر وہ جہانہ بن کر سُلطان رائے کے ٹھکانے پر پہنچ گیا تھا۔
_______________________
“آؤ آؤ جہانہ تُمہارا ہی انتظار ہو رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے اسے دیکھ کر خُوش ہوا اقرب نے چاروں طرف دیکھا جہاں وہ سب لوگ موجود تھے جو اقرب کو مطلوب تھے انتظار تھا تو صرف انوار صدیقی کا جس نے دو منٹ بعد ہی اپنے قدم رکھے تھے۔
“آئیے آئیے ایس پی بازل علی خان عُرف انوار صدیقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جہانہ کی آنکھوں اور چہرے پر تمسخر کی ایک واضع جھلک تھی جس پر باذل علی خاں کچھ عجیب سا محسوس کر گیا مگر پھر سُلطان رائے کی طرف متوجہ ہوا جو کہہ رہا تھا۔
“ہے تو یہ باذل علی خان ہی لیکن میں نے اسے انوار صدیقی کا نام دیا ہے تا کہ یہ دُنیا سے چُھپا رہے اور میں اسے اس لیے چُھپایا رہا کیونکہ یہ میرے لیے بہت خاص چیز تھی جس کے زریعے مجھے دُشمن کی ہر چال کا نہ صرف پتہ چلتا تھا بلکہ اُس چال کو اُلٹنا کیسے ہے یہ بھی جان جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باذل خاں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا جس پر باذل کے چہرے پر کمینی سی مُسکراہٹ آئی جسے اقرب نے سرد نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“میں نے تو جہانہ کے بہت چرچے سُنے ہیں رائے صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باذل خاں کی نگاہیں جہانہ پر تھیں۔
“ہاں بہت کام کی چیز ہے اُنکو دو منٹ میں اُلو بنا لیتی ہے جن کو ہم بیس سالوں میں نہ رام کر پائے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ تو بس جہانہ کے دائیں ہاتھ کا کھیل ہے کیونکہ دھوکہ دینا میری نظر میں تو کچھ مُشکل کام نہیں کیوں ایس پی باذل خاں جیسے آپ دے رہے ہیں اپنے عہدے کو اپنی فیملی کو بلکہ سب سے زیادہ اقرب چوہان کو،کیونکہ وہ تو آپ پر اندھا اعتماد کرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاہاہا،اقرب چوہان میرا جگری دوست،کیا کروں جہانہ اپنا کام ہی ایسا ہے،اب دیکھو نہ یہ چپ جسے سُلطان رائے حاصل کرنے میں ہزار جتن لگاتا رہا مگر حاصل نہ کر سکا اور میرے میٹھے سے دھوکے نے ایک منٹ میں یہ چپ اقرب چوہان سے حاصل کر لی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خُوشی سے اپنی کمینگی کا اظہار بڑے فخر سے کر رہا تھا اقرب کے لبوں پر طنزیہ مُسکراہٹ آ گئی کیونکہ وہ اس نقلی چپ کو جانتا تھا جو جان بوجھ کر اسے دی گئی تھی۔
“ویل یہ باتیں تو ہوتی رہیں گی اب کام کی بات پر نہ آیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کب سے خاموش بیٹھا زکی بول اُٹھا جسکی ہاں میں ہاں پٹھان نے بھی ملائی۔
“ہاں جہانہ کیوں بلوایا تم نے ہمیں یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے اور باذل خان نے بھی اپنی اپنی نشست سھنبال لی۔
“جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کل مال سپلائی ہونا ہے تو وہاں کون کون کس کس جگہ پر کھڑا ہوگا اور کسی کی کیا ڈیوٹی ہو گی زرافہ سمجھانا ہے تم لوگوں کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر یہ سب تو رائے پہلے ہی بتا چُکا کہ کس کو کونسی جگہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی کے لب ہلے۔
“ہاں وہ بتا تو چُکا ہے پر میری اطلاعات کے مُطابق اس پلان میں ہمیں ردو بدل کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مطلب ہے تُمہارا جہانہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رائے کُچھ پریشان ہوا۔
“مطلب یہ کہ اقرب چوہان کی ٹیم ہمارے پلان کو جان چُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا،ایسے کیسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سب کے چہروں پر یہی سوال تھا۔
“ایسا نہیں ہونا چاہیے جہانہ اس دن کے لیے میں نے کب سے انتظار کیا ہے،میرا خواب تھا یہ تم نہیں جانتی اس کو کرنے کے لیے میں بے اپنی بیوی اپنی بیٹی تک کی جان لے لی صرف اس لیے کہ وہ کہیں میرے کامیابی کے راستے میں رکاوٹ نہ بن جائے تم جانتی ہو اس ڈیل سے مجھے کتنا فائدہ ہوگا سو عرب کا،میں امیر ترین آدمی بن جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لیکن شاید تم یہ نہیں جانتے کہ اس ڈیل کے نہ ہونے سے ہمیں ہماری قوم کو ہمارے ملک کو کتنا فائدہ ہو گا تُمہارے جیسے درندے سے جان چُھوٹ جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب اپنی آواز میں بولتا سب کو ٹھٹھکا گیا۔
“اقرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باذل پھٹی پھٹی آنکھوں سے اُسے دیکھ رہا تھا جو اپنے تن پر سجے چمکیلے لباس سے آزاد ہو رہا تھا بلیک چست پینٹ پر بلیک ٹی شرٹ میں وہ اقرب چوہان تھا جو وگ سر سے اُتار کر پاس لگے بیسن پر ریلیکس انداز میں مُنہ دھو رہا تھا وہ ساکت اس کی طرف دیکھتے اپنے پسٹل کی تلاش میں جیبیں کنگھالنے لگے۔
“وہ یہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے خالی پسٹل ٹیبل پر پھینکے۔
“اتنا بڑا دھوکہ اتنا بڑا جال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”رائے ابھی تک بے یقین تھا۔
“یہ تو کچھ بھی نہیں رائے،جو تم اتنے سالوں سے سب کو دیتے آ رہے ہو اور جو یہ میرا دوست سب کو دیتا آ رہا ہے اصل دھوکہ تو اُسے کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے خشمگیں نگاہوں سے اُسے دیکھا جو شرمندہ ہو گیا تھا۔
“تم نہیں جانتے میجر کہ تم نے اپنی اصلیت دکھا کر کتنی بڑی غلطی کر دی،یہ رائے کا ٹھکانہ ہے اس سے تم بچ نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔”
رائے کہتا اپنے موبائل کی طرف بڑھا مگر وہ بھی اقرب اپنے قبضے میں لے چُکا تھا پھر رائے اور باذل دروازے کی طرف بڑھے کو بند تھا اقرب مُسکراتا ہوا کُرسی پر براجمان ہو گیا۔
“میں بیوقوف تو بلکل بھی نہیں ہوں رائے۔۔۔۔۔۔۔”
“بہت بڑے بیوقوف ہو میجر جو تن تنہا شیر کی پھٹکار میں آ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے نے کہتے ہوئے اپنے کوٹ سے پسٹل نکال کر سیدھا اُسکی طرف تان لیا تھا۔
_
نیٹ ورک خراب ہونے کی وجہ سے ایپی اپ لوڈ نہیں ہو رہی تھی۔
اس لیے دو پارٹ میں اپ لوڈ ہو گی۔