Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Episode 10
No Download Link
Rate this Novel
Episode 10
دل دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر دس
وہ بھاگتا ہوا کمرے میں داخل ہوا جہاں عدن صوفے کے پاس زمین پر بیٹھی رونے میں مشغول تھی.
“عدن۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے قریب بیٹھا جو اُسے دیکھتی اُس کے گلے لگ گئی تھی۔
“تُم ٹھیک ہو نہ۔۔۔۔۔۔”اُسکی پیشانی چُوم کر اُس کے آنسو صاف کیے۔
“ہاں۔۔۔۔۔۔”روتے ہوئے سر ہلایا۔
“شُکر ہے،میری جان نکل گئی تھی عدن،میں ہر محاذ پر ہر حال میں لڑنے کا حوصلہ رکھتا ہوں مگر تُمہارے معاملے میں اب خُود کو بے بس تصور کرنے لگا ہوں میں اپنے پروفیشن میں اپنی فیملی کو نہیں لانا چاہتا مگر آج پہلی بار وہ لوگ میری فیملی میرے گھر تک پہنچ گئے جو میرے لیے ناممکن سی بات ہے کہ ایسا ہو کیسے سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے بیڈ پر بٹھا کر خُود باہر جانے لگا تا کہ چوکیدار سے گارڈز سے ساری جانچ پڑتال کر سکے وہ لوگ اتنی ہائی سیکورٹی کے ہوتے اس کے گھر تک اور عدن تک کیسے پہنچ گئے عدن کو دیکھنے اُسکی پریشانی میں وہ سیدھا کمرے میں آیا تھا اب اُسے ٹھیک حالت میب دیکھ کر وہ پُرسکون ہوتا اپنے اصل جون میں واپس آیا تھا۔
“میجر اقرب چوہان کے گھر میں گھسنا ممکن تو نہ تھا پھر وہ لوگ کیسے۔۔۔۔۔۔۔”بہت سارے سوالات اُس کے دماغ میں چل رہے تھے وہ عدن سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا مگر اُسکی حالت کا اندازہ لگاتا سب کینسل کرتا وہ باہر مین گیٹ پر آیا پر اُن سے ملنی والی اطلاع پر وہ چونکا تھا۔
“سر ہم سب گیٹ پر ہی تھے،کوئی مشکوک افراد اس طرف نہیں آئے بس بیکری والے ایک لڑکا اور لڑکی تھی وہ بھی جسے عدن بی بی نے کیک کا آڈر دیا ہوا تھا وہ کیک کی ڈلیوری کرنے آئے لڑکے کو ہم نے روک لیا لڑکی کو جانے دیا پانچ منٹ بعد وہ لڑکی واپس چلی گئی ان سب کے دوران اندر کیا ہوا ہمیں نہیں پتہ گارڈز اور سیکیورٹی کیمرے تو اپنی اپنی جگہ پر ہیں،یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ ہم زندہ رہتے ہوئے دُشمن کو اپنی بی بی تک جانے دیتے جو بھی ہوا اُن بیکری والوں کے بہروپ کی وجہ سے ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”گارڈ کی بات پر اقرب جو کُچھ سوچنے میں مگن تھا سر ہلاتا ہوا سیکیورٹی رُوم میں گیا کیمروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جس میں گیٹ پر موجود اُس لڑکے کی شکل تو صاف نظر آ رہی تھی مگر لڑکی کیپ میں سر جُھکائے اندر جا رہی تھی اُس کے ہاتھ کی تیسری اُنگلی میں پڑی انگوٹھی اقرب کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر گئی۔
“ہائما رائے زندہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”حیرت ہی حیرت تھی۔
“______________________“
“مُرتقوی یزدانی اور قُرت خٹک رات کے اس وقت کافی شاپ میں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے جب قُرت خٹک کے سیل پر انوار صدیقی کی کال آئی وہ ایک نظر مرتقوی پر ڈالتی کال بند کر گئی۔
“کس کی کال تھی قُرت۔۔۔۔۔۔۔۔؟مُرتقوی اس کے چہرے کے تاثرات کو غور سے دیکھنے بولا۔
“کسی دوست کی کال تھی،تُمہارے ہوتے مجھے اس ٹائم کسی کی کال سُننے کی کوئی ضرورت نہیں یہ وقت صرف ہمارا ہے۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھتی پیار سے اپنا لمس چھوڑ گئی۔
“تُمہاری یہی باتیں مُجھے دیوانہ بنا رہی ہیں کہ اب ایک پل کی جدائی بھی بڑی جان لیوا لگ رہی ہے،میرا دل تو اب مجھے شادی پر اُکسانے لگا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اگر وہ اداؤں کی کھلاڑی تھی تو مرتقوی یزدانی باتوں کا بہترین کھلاڑی تھا دو آنکھیں مسلسل ان پر نظریں گاڑے بیٹھی تھیں وہ وہ دونوں اس چیز سے یکسر انجان تھے۔
“تو روکا کس نے ہے کر لو شادی۔۔۔۔۔۔”
“تو دو پھر ایڈریس اپنے گھر کا کل ہی اپنے گھر والوں کو بھیجتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ فورًا سے پیشتر راضی ہوا۔
“ابھی اتنی بھی جلدی کیا ہے مرتقوی ابھی تو پوری زندگی شادی کے لیے پڑی ہے،تم پہلے مجھے اپنے گھر والوں سے ملوا لو۔۔۔۔۔”قُرت نے کہتے ہوئے اپنے موبائل پر آئے میسج کو پڑھا۔
“کوئی تم پر فوکس کر کے بیٹھا ہے،جتنی جلدی ہو سکے اپنا کام کرو اور نکلو یہاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔”میسج پڑھ کر موبائل کو ہینڈ بیگ میں رکھا اور مرتقوی کی طرف متوجہ ہوئی جو کہہ رہا تھا۔
“گھر والوں سے بھی ملوا دُونگا،کل یا پرسوں لے کر چلتا ہوں تُمہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے مجھے کال پر بتا دینا تا کہ میں تیاری کر لُوں آخر پہلی دفعہ اُن سے متعارف ہونا ہے۔۔۔۔۔۔”کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے بات ختم کی۔
“اچھا اب میں چلتی ہوں پھر ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“باہر تک تُمہارے ساتھ ہی چلتا ہوں میں۔۔۔۔۔۔”پیسے نکال کر ٹیبل پر رکھتا وہ بھی اس کے ہم قدم ہو گیا جو باریک بینی سے ارد گرد کا جائزہ لیتی اپنی گاڑی میں بیٹھی کافی بار سے کُچھ فاصلہ طے کر کے گاڑی روک دی بیک مرر سے اُس وجود کو اپنی طرف آتے دیکھتی گہرا سانس بھر کر رہ گئی۔
“کیا بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آنے والا سراپہ سوال تھا۔
“آج سے ٹھیک دس دن بعد جس راستے سے سُلطان نے اپنا مال دبئی پہنچانا ہے اُس راستے کی ساری سیکورٹی میجر اقرب چوہان کے زمعے ہے اور مرتقوی یزدانی بھی میجر اقرب کے ساتھ ہے کیونکہ وہ دونوں سگے بھائی ہیں۔۔۔۔۔۔۔”قُرت نے اب تک کی ساری انفارمیشن اُس کے گوش و گُزار کی۔
“اچھی بات ہے،بہت اچھی بات۔۔۔۔۔۔۔۔”انوار صدیقی خُوش ہوا۔
“مرتقوی یزدانی کو مُجھ پر شک ہے اور دوسری بات یہ کہ وہ لوگ انوار صدیقی کی اصل شکل تلاش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”قُرت کی بات پر وہ قہقہ لگا گیا۔
“اور اس تلاش میں وہ بُری طرح ناکام ہونگے۔۔۔۔۔۔”
“کیونکہ انوار صدیقی اصل میں تو۔۔۔۔.””
“خاموش قُرت ڈارلنگ،تُم نے شاید سُنا نہیں کہ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔۔۔۔۔”انوار صدیقی کی آنکھوں میں شرارت صاف محسوس کی جا سکتی تھی قُرت مُسکرا دی۔
“اب اقرب چوہان بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور مرتقوی یزدانی بھی،اس لیے اب ہمیں دُشمنوں سے کوئی خطرہ نہیں بس یہ دس دن نکل جائیں پھر نہ اقرب چوہان رہے گا اور نہ اُسکا بھائی۔۔۔۔۔۔”انوار صدیقی کی آنکھوں میں اقرب چوہان کا انجام صاف نظر آ رہا تھا۔
“______________________“
اقرب پُورے گھر کا جائزہ لیتا جونہی پورچ میں آیا ایک چیز پر نظر پڑتے نہ صرف اُسکے قدم رُکے تھے بلکہ اُسکی نظر بھی ساکت ہوئی تھی وہ تیز قدموں کے ساتھ اپنی ہیوی بائیک کے پاس آیا تھا جو اپنی اصلی شکل کھو چُکی تھی کسی نے بڑی بے دردی سے اُس پر اپنا ہتھیار استمال کرتے ہوئے اپنا غُصہ نکالا تھا اپنی پسندیدہ ہیوی بائیک کا یہ حشر دیکھ کر وہ سختی سے لب بھینچ گیا یہ اُس کے پاپا نے اُسے گفٹ کی تھی اُسے ریس بہت پسند تھی جسکی وجہ سے رضا چوہان نے اُسے بائیک گفٹ کی تھی جو اقرب کو اپنی جان سے بھی پیاری تھی۔
“کیا ہوا اقرب،اوہ نو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن اُسکا انتظار کرتی کمرے میں تھی کہ اُسے غائب پا کر اُس کے پیچھے باہر چلی آئی مگر اُسے ساکت بائیک پر نظریں جمائے دیکھ کر حیران و پریشان رہ گئی۔
“یہ سب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے چہرے کے عجیب سے تاثرات دیکھتی الفاظ مُنہ میں ہی روک گئی جو آگے بڑھتا بائیک پر لگی چٹ کو اُتار کر پڑھنے لگا۔
“یور برتھ ڈے گفٹ باری فرام ہائما رائے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُن سطروں پر نظریں پھیرتا برداشت کے بہت سے مراحل طے کر گیا۔
“یہ میرے پاپا کی طرف سے دیا گیا آخری گفٹ تھا جو مجھے میری جان سے بڑھ کر عزیز تھا اسکو جب بھی دیکھا پاپا یاد آئے اور دُشمن نے اُس پر ہی وار کر دیا،خیر دُشمن تھا نہ ہر احساس سے عاری،پر دُشمن کی اس غلطی کو کبھی معاف نہیں کرونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دلگرفتگی سے بولتا بائیک کو دیکھنے لگا جسے مرمت کر کے شاید پہلی حالت میں لایا جا سکتا۔
“یہ کیا کس نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جس نے بھی کیا اُس نے اپنی نفرت کی انتہا دکھا دی مجھے۔۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے اُسکی نظریں لوہے کے راڈ پر پڑی جس کی مدد سے بائیک کی یہ حالت کی گئی تھی دُشمن جتنا بھی شاطر دماغ کا تھا پھر بھی بہت بڑی غلطی کر گیا تھا۔
“عدن تُم جا کر سو جاؤ میں تھوڑی دیر تک آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پر وہ کیک۔۔۔۔۔.”
“اتنی بڑی برتھ ڈے سیلبریشنز ہو تو گئیں باقی کی صُبح سہی تُم جاؤ جا کر سو جاؤ۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ کُچھ تلخ ہوا تھا شاید اپنے اس نُقصان کو برداشت کرنا مُشکل ہو رہا تھا اُس کے لیے۔
وہ اُس پر ایک نظر ڈالتی جانے لگی مگر اُس کی آواز پر پھر سے رُکی۔
“عدن۔۔۔۔۔۔”
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُڑ کر دیکھا۔
“بے فکر ہو کر سو جاؤ اب میں یہاں ہوں تُمہیں کوئی ڈر نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکے پاس آ کر اُسکی پیشانی چُوم کر نرمی سے بولتااُس کے دل میں گڑھ کر گیا وہ نم آنکھوں سے اسے دیکھتی کمرے کی طرف بڑھی۔
اقرب نے پُرسوچ نظروں سے اُس راڈ کو دیکھا پھر اپنے کام میں لگ گیا۔
“_______________________“
ہائما رائے تیز قدم اُٹھاتی سُلطان رائے کی طرف بڑھی مگر اُس کے پاس ایک عورت کو دیکھ کر وہ وہی رُک گئی پانچ منٹ کے انتظار کے بعد وہ عورت واپسی کو مُڑی ہائما اُسے دیکھ کر حیران ہوئی جسے وہ عورت سمجھ رہی تھی وہ عورت نہ تھی بلکہ وہ مرد بھی نہ تھی وہ جہانہ تھی جو سی گرین لش پُش سُوٹ میں فُل میک اپ کیے لمبے بالوں کے ساتھ ایک ادا سے چلتی اس طرف آ رہی تھی۔
جہانہ جو پٹھان سے بات کرتی باہر کی طرف جا رہی تھی سامنے ایک خُوبصورت لڑکی کو دیکھ کر اُس کے قدم رُکے تھے۔
“یہ شہزادی کون ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”رُک کر گہری نگاہوں سے اُسکی طرف دیکھا۔
“یہ ہائما رائے سُلطان کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔۔۔”پٹھان نے بتایا۔
“اوہ تو یہ ہے ہائما رائے بہت سُن رکھا اس کے بارے۔۔۔۔۔۔۔”جہانہ مُسکرائی تھی ایک عجیب سی مُسکراہٹ تھی۔
وہ چلتی ہوئی اُس کے قریب آ کر رُکی جو کُچھ ناگواری سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“کیسی ہو ہائما رائے۔۔۔۔۔۔۔۔”جہانہ اپنی باریک آواز میں مُخاطب ہوئی ہائما نے دیکھا جس کی آنکھوں میں سرد مہری صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“تُم سے مطلب۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ نخوت سے بولتی جانے لگی۔
“مطلب کی باتیں تو آپ خوب جانتی ہیں ویسے بھی مطلبی لوگ ہماری باتوں کے مطلب کہاں سمجھیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی پُشت سے آواز اُبھری وہ نظر انداز کرتی آگے چل دی۔
“یہ کیا عجیب و غریب مخلوق تھی پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ناک چڑھا کر بولی۔
“ہاہا یہ جہانہ ہے،بڑی کام کی چیز ہے یہ بیٹا اور آپ کے پاپا بنا مطلب تو کسی کی طرف دیکھتے بھی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسے ساتھ لگا گئے۔
“تم سُناؤ بڑے دھماکے کر رہی ہو میجر کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں آپ کو اچھا نہیں لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے میں تو بہت خُوش ہوں بیٹا تم سے،اقرب چوہان نہیں جانتا کہ اُس نے کس کے ساتھ پنگا لیا ہے،میں تو کہتا ہوں جس طرح اُسکی بائیک کی حالت کی ہے اُسی طرح میجر کی زندگی بھی برباد کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آبھی نہیں پاپا ابھی تو میرا بدلہ پُورا نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔”دھیمی آواز میں بولی وہ سر ہلا کر اپنے موبائل پر آتی کال کو پک کرتے دوسری طرف چلے گئے۔
“کیسے کر دُوں باری کی زندگی برباد پاپا،اپنے باری کی پاپا جو ہائما رائے کی رگ رگ میں اُتر چُکا ہے جب بھی اُسے تکلیف دیتی ہوں میرے اپنے دل کے سو ٹکڑے ہو جاتے ہیں پر کیا کروں جو اُس نے میرے ساتھ کیا اُسکی سزا تو ملے گی اُسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آنکھوں میں آئے آنسوؤں کو اپنے اندر اُتارنے لگی۔
“_______________________“
“ہائما رائے زندہ ہے اوہ مائے گاڈ اتنا بڑا دھوکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے آفس میں بیٹھا وہ مسلسل اسی کے بارے سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا اُس کے دماغ میں آج سے ایک سال دو ماہ پہلے کی وہ رات کسی فلم کی طرح لہرانے لگی۔
جب وہ ہائما رائے کے ساکت وجود کو دیکھتا اُٹھا تو اُسکی نظر بلیک اورر کوٹ میں ملبوس اُس انسان پر پڑی جس نے ہمیشہ کی طرح پسٹل اس پر تانہ تھا۔
“ہائما کو مارنے کی وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔؟باری نے بنا کسی ڈر و خوف سے پوچھا۔
“میرے ساتھ دُشمنی کی وجہ تو سمجھ میں آتی ہے کہ تُم سُلطان کے آدمی ہو اور سُلطان میرا دُشمن ہے پر ہائما کو مارنے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باری باتیں کرتا کرتا غیر محسوس طریقے سے اُس انسان کے قریب آتا جا رہا تھا اس سے پہلے کہ وہ اُس تک جاتا پیچھے سے کسی نے فائر کھولا تھا اقرب اگر جلدی سے سھنمبلتا نہ تو گولی سیدھی اس کے سر پر لگتی وہ بھاگ کر دروازے کی اوٹ میں ہو گیا پھر اس کے دیکھتے دیکھتے ہی دو آدمی ہائما رائے کے ساکت وجود کو اور اُس انسان کو لے کر چلے گئے باری پہلے تو اُن پر فائر کرنے لگا پھر کُچھ سوچتا کھڑکی کے راستے نکل گیا۔
بجتے موبائل نے اُسکی توجہ اپنی طرف معبذول کروائی و گہرا سانس کھینچتا کال پک کر گیا دوسری طرف مرتقوی تھا۔
“بگ برو سُلطان پاکستان آ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں مُجھے اطلاع مل چُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔”اقرب چیئر سے اُٹھتا ونڈو کے پاس آ رُکا۔
“اب پھر کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پوچھنے لگا۔
“اُسی پلان پر چلیں گئے مرتقوی جس پر اب تک چلتے آ رہے ہیں،نو دن رہ گئے بس سُلطان کی آزادی کے جس دن اس نے دبئی لڑکیاں اور بچے سپلائی کرنے اُسی دن اُسکا دی اینڈ کیونکہ اُسکا اب زیادہ دیر زندہ رہنا ہمارےلوگوں کے لیے خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے،انوار صدیقی کے پیچھے لگا تو ہوا ہوں پر کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“چھوڑ دو اُسکا پیچھا تم بس اپنے کام پر توجہ دو کیونکہ میں نہ صرف ساری گیم سمجھ چُکا ہوں بلکہ مجھے سب کے اصلی چہرے بھی نظر آ گئے ہیں،ہم جسے مردہ تصور کر چُکے تھے وہ زند ہے ہائما رائے زندہ ہے وہ سب ایک گیم تھی جس میں مُجھے پھنسانے کی کوشش کی گئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب چوہان کے زہن کی سکرین پر ہائما کے ساتھ گُزارنے کے پل کسی فلم کی طرح چلنے لگے دوسری طرف مرتقوی حیران ہوا تھا۔
“اوہ تو آرمی والوں کے ساتھ گیم مہنگی پڑے گی اُن کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“انشاءاللہ،تُم اب کہاں ہو۔۔۔۔۔۔”
“وہی جہاں اس وقت مجھے ہونا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے ٹھیک ہے پھر ملتے ہیں جلد……..۔۔”اقرب نے کہہ کر کال بند کر دی موبائل جیب میں رکھتا اپنے آفس سے نکل گیا۔
“_______________________“
سُلطان نے زکی سے ملنے کی خواہش کی تھی وہ فورًا ہی اُس سے ملنے چلا آیا۔
“بہت نام سُن رکھا ہے تُمہارا زکی۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان اس سے مل کر حقیقتاً خُوش ہوا تھا کیونکہ اُسے زکی میں اپنی جھلک نظر آئی تھی وہی کمینہ پن مطلبی اور لالچی۔
“بام تو میں نے بھی بہت سُن رکھا آپ کا سُلطان جو دُنیا کی نظر میں انتہائی شریف پروفیسر سُلطان رائے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی کی بات پر وہ قہقہ لگا گیا۔
“شریف بن کر رہنا پڑتا ہے زکی ورنہ یہ قانون کے رکھوالے یہ خاکی وردی والے تو ایک پل بھی نہ جینے دیں ہم جیسوں کو،تُمہیں نہیں پتہ کن کن لوگوں کا ضمیر خریدنا پڑتا سیاست دانوں اور پولیس والوں کو خریدنا تو آسان مگر یہ آرمی والے اصل مُشکل تو ان لوگوں سے بچ کر کام کرنا ہے اور اسی چیز کے لیے مجھے تم جیسے لوگوں کی ضرورت ہے،آج سے ایک ہفتے بعد میری زندگی کا انتہائی اہم دن ہوگا وہ ایک دن مجھے عرب سے کھرب پتی بنا دے گا پانچ سو لڑکیاں اور دو سو چھ ماہ سے دو سال تک کے بچے جو اُس ریس کے لیے چاہئیے جو مجھے کہاں سے کہاں پہنچا دیں گئے پر فکر مت کرنا تم سب کو حصہ ملے گا۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان شاید زیادہ ہی خُوش تھا اس لیے پُرجوش ہو کر بے تکان بولے جا رہا تھا زکی سر ہلا گیا۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے اوکے میں بھی اس میں حصہ ڈالونگا اور مجھے خُوشی ہو گی اگر تم مجھے اپنا ساتھی بناؤ گئے تو۔۔۔۔۔.”
“ارے کیوں نہیں تم تو اپنے یار ہو اب اور سُلطان یاروں کا یار ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کُچھ دیر باتیں کر کے وہ اجازت لیتا اُٹھ گیا جہانہ جو سُلطان کے پاس آ رہی تھی اسے گہری نگاہوں سے دیکھتی سُلطان سے ہم کلام ہوئی۔
“پتہ نہیں کیوں مجھے لگ رہا یہ بندہ کہیں دیکھا میں۔۔۔۔۔۔۔”
“زکی ہے کافی اچھا انسان ہے دیکھ رکھا ہوگا کہیں تم نے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان ان سُنی کرتا اُٹھ گیا۔
“_—————“
