Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Episode 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
دلِ دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر دو
وہ صدف آپا سے جان چُھڑواتا اندر بی جان کے رُوم میں آیا تو وہاں شہناز بیگم اور بی جان نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا۔
“آخر ایک دم سے آپ سب کو میری شادی کی فکر کیسے ستانے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اب کی بار کُچھ جھنجھلا اُٹھا تھا۔
“اقرب پچھلے چار سالوں سے تُم ہمیں ٹرخا رہے ہو پر اب بہت صبر کر لیا ہم نے،اب تُمہاری ایک نہیں سُنے گیں ہم،دیکھو تو تیس سال عُمر ہونے کو ہے تُمہاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بی جان اب کہ غُصے میں آئیں وہ بے بسی سے گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“ماما آپ اپنے دوسرے بیٹے پر اپنا یہ شوق کیوں نہیں پُورا کرتیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ تُم سے چھوٹا ہے اقرب،اس لئے پہلے تُمہاری ہو گی اور بہت جلد ہو گی۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر وہ مدد طلب نظروں سے بی جان کو دیکھنے لگا مگر وہ بھی ہری جھنڈی دکھاتیں اپنی بہو کی ہاں میں ہاں ملانے لگیں آخر اُنکی بھی یہ دیرینہ خواہش تھی۔
“مطلب کہ اس بار کوئی چُھوٹ نہیں ہے،اوکے ڈھونڈے لڑکی پھر،پر ایک بات بتا دُوں میں پسند میری ہی چلے گی۔۔۔۔۔۔۔”
“جو ہماری پسند ہے نہ بھائی جی یقینناً آپکی پسند بننے میں دیر نہیں لگے گی۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا مُسکراتے ہوئے کمرے میں داخل ہوئیں۔
“اوہ رئیلی،ایسی بھی کونسی پسند آ گئی آپکو۔۔۔۔۔۔”وہ تجسس سے بولا اس سے پہلے کہ وہ اُس کے بارے میں کُچھ بتاتیں اقرب کے بجتے فُون نے اُسکی توجہ اپنی طرف مبذول کروا لی وہ بی جان کے پاس سے اُٹھا اور سکرین پر روشن ہوتے نمبر کو دیکھ کر اُس کے ماتھے پر دو شکنیں اُبھریں تھیں۔
وہ کمرے سے باہر نکلتا موبائل کان سے لگاتا غُصے سے بولا۔
“کتنی دفعہ کہوں کہ مجھے کال مت کیا کرو پھر بھی تُم باز نہیں آتے،جو بھی بات ہو پر آج کے بعد تُم اس نمبر پر کال نہیں کرو گئے،میں شام تک ملتا ہوں تُم سے بائے۔۔۔۔۔۔۔.”کال کٹ کر کے موبائل جیب میں رکھتا اپنے کمرے کی طرف بڑھا اب اسے جانے کی تیاری بھی تو کرنی تھی۔
“_____________________“
“باری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی ہیوی بائیک کو وہ دھونے میں مصروف تھا جب ایک نسوانی آواز اُس کے کانوں میں پڑی جس کے تعاقب میں اُس نے دیکھا جہاں ہائما رائے اپنی ریڈ سوک کے پاس چست شارٹ جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس بالوں کو کُھلا چھوڑے فُل میک اپ میں اس کی نظر کی طلب میں کھڑی تھی باری نے پائپ کو وہی چھوڑا اور بڑی شان سے چلتا ہوا اس کے قریب آیا۔
“تُمہارا ہی انتظار تھا۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے اُس نے ہائما کے چہرے پر آئی آوارہ لٹ کو پھونک سے پیچھے کیا تھا جو اُسکی بات پر دلکشی سے مُسکرائی تھی۔
“قسمت والے ہو جو ہائما رائے کے انتظار میں ہو کر بھی جلدی مُراد پا گئے ہو،ورنہ تو لائنیں لگی ہوئیں ہیں انتظار کرنے والوں کی۔۔۔۔۔۔۔”
“اگر قسمت کا دھنی اسے کہتے ہیں تو پھر میں خُود کو خُوش نصیب سمجھنے میں ایک پل کی دیر بھی کیوں لگاؤں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے چہرے پر بکھری دلفریب مُسکراہٹ کو دیکھتا کہنے لگا۔
“مُجھے پٹا رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں میں شرارت تھی۔
“نہیں تُمہاری چال میں آنے کی کوشش کر رہا ہوں،ہائما رائے اپنا قیمتی وقت مُجھ نا چیز پر ضائع کیوں کر رہی ہے،اس بات کا مطلب سمجھا دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آؤ میرے ساتھ،سارے مطلب سمجھاتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی گاڑی کا فرنٹ ڈور اوپن کرتے ہوئے بولی باری نے ایک نظر اپنی بائیک کو مُڑ کر دیکھا اُسے لاک لگا کر اُسکی گاڑی میں بیٹھ گیا۔
“تُمہیں کہیں ایسا تو فیل نہیں ہو رہا کہ میں تُمہیں اغوا کر کے لے کر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی طرف دیکھ کر بولی جو ریلیکس ہو کر بیٹھا تھا۔
“باری کو اغوا کرنا اگر اتنا آسان ہوتا تو ہائما رائے یوں پچھلے ایک ماہ سے میرے پیچھے اپنا وقت برباد نہ کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے جواب پر ہائما رائے لاجواب ہوئی وہ اُسکی سوچ سے بھی زیادہ زہین اور مظبوط اعصاب کا مالک تھا۔
“ماننا تو پڑے گا خُوبصورتی اور وجاہت کے ساتھ اللہ نے تُمہیں دماغ بھی بہت دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“شُکر ہے اُس بابرکت ذات کا،ورنہ مجھ میں تو کوئی خوبی نہیں۔۔۔۔۔.”گاڑی انجانے راستوں پر گامزن تھی جن کو دیکھتا وہ پریشان نہیں ہوا تھا بلکہ پُرسکون ہوا تھا۔
“یہ تُم کہتے ہو نہ کہ تُم میں کوئی خوبی نہیں ورنہ دیکھنے والے قیامت کی نگاہ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ایک جگہ گاڑی روک کر گاڑی سے باہر نکلی اور اسے بھی نکلنے کا اشارہ کیا باری نے نکل کر دیکھا کوئی آدمی کھڑا انکی طرف ہاتھ ہلا رہا تھا وہ ہائما رائے کے پیچھے چلتا اُس آدمی تک آیا جس کو پہلی بار ہی وہ دیکھ رہا تھا۔
“یہی ہے وہ باری۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس آدمی سے بولی جو اب اُسکا معائنہ کر رہاتھا بیلو جینز پر سکائے شرٹ پہنے وہ اپنی بھرپور وجاہت سے اُس آدمی کو چونکا گیا تھا۔
“زہانت اور وجاہت ساتھ ساتھ۔۔۔۔۔۔”وہ اسے سہرانے لگا جس پر ہائما رائے نے جان لُٹاتی نظروں سے باری کو دیکھا جس کے چہرے پر سوالات کی بھرمار تھی۔
“میرا نام انوار صدیقی ہے میں بھی ایک ریس کا میدان سجاتا ہوں ہر اتوار،ہائما نے تُمہاری بہت تعریف کی تو مجھے بھی تُمہاری کارگردگی متاثر کن لگی،میں تُمہیں اپنی ٹیم میں شامل کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔”اُس نے باری کے ہر سوال کا جواب دے دیا تھا۔
“کیا بلیک کام ہے۔۔۔۔؟وہ اُس پر نظریں جمائے پوچھنے لگا۔
“جوا لگاتے ہیں،ہائما پچھلے ایک ماہ سے تُم پر لاکھوں کا جُوا لگا رہی تھی پر تُمہیں ملتے تھے صرف ہزاروں،پر اگر ہمارے ساتھ کام کرو گئے جتنے کا جوا لگے گا اُتنے ہی تُمہاری جیب میں آئیں گئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لاکھوں اچھے کھلاڑی ہیں نظر صرف مُجھ پہ ہی کیوں ٹکی۔۔۔۔۔۔۔؟باری کی بات انوار صدیقی ہنسا تھا۔
“بھئی مان گئے ہائما کھلاڑی تو تُمہارا ہر میدان میں ماہر ہے۔۔۔۔۔۔۔”باری کی طریف پر ہائما رائے کی گردن فخر سے بلند ہوئی۔
“تُمہارا ریکارڈ چیک کیا تو پتہ لگا کہ تُم نہ صرف اچھے کھلاڑی ہو بلکہ اچھے مُجرم بھی ہو پولیس کو چکما دینا ہر ایک کہ بس کی بات نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار باری کے چہرے پر مُسکراہٹ چمکی تھی۔
“مُجرم ہوں پر اتنا کسی کو حق نہیں دیتا کہ مجھے کوئی شکار کرے۔۔۔۔۔۔۔”
“اور میں نے تو کر لیا،اب کیسے بچو گئے۔۔۔۔۔۔۔”ہائما رائے اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھتی گویا ہوئی جس پ انوار صدیقی کے لبوں پر ایک معنی خیز ُمسکراہٹ آئی تھی۔
“اگر اسے شکار کرنا کہتے ہیں تو میری نظر میں آپ لوگوں سے بڑا بیوقوف کوئی نہیں۔۔۔۔۔۔۔”اپنے بازو سے ہائما رائے کا ہاتھ ہٹا گیا انوار صدیقی قہقہ لگا گیا۔
“بہت مزہ آنے والا ہے تُمہارے ساتھ کام کر کے،مان گئے تُمہیں،اچھا بھی ہائما اب میں چلتا ہوں اسے اتوار کو میدان میں لے آنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انوار صدیقی دونوں کو گُڈ بائے بولتا چلا گیا باری کی نظروں نے اینڈ تک اُسکا تعاقب کیا جو پیدل ہی چلا جا رہا تھا۔
“چلیں ہم بھی۔۔۔۔۔۔”ہائما رائے کے کہنے پر وہ سر ہلاتا اُس کے ساتھ چل دیا۔
“____________________“
سیٹھ عابد کو دن کے گیارہ بجے واٹس ایپ پر ایک ویڈیو میسج ریسیو ہوا اس نے ویڈیو کو اوپن کیا اور اگلے لمحے اسکی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جو عمل رات کی تاریکی میں ہر خوف کو پس منظر رکھ کر بڑی ڈھٹائی سے کیا جائے صُبح کے اُجالے میں اُسی کو دیکھتے ہوئے لوگ خُود سے بھی نظریں نہیں ملا پاتے یہی سیٹھ عابد کے ساتھ ہوا تھا وہ بنا دیکھے ہی اُسے بند کرتا اپنے آفس میں چکر لگانے لگا اُس کے ہر انداز میں اضطراب کا پہلو نمایاں تھا ماتھے پر چمکے پسینے کو صاف کرتا وہ زکی کا نمبر ملانے لگا۔
“میری سوچ کے عین مطابق رزلٹ آیا ہے،میں تُمہاری کال کا ویٹ ہی کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی مُسکراتی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے زکی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ لو جی،بدتمیزیاں تو آپ فرما رہے تھے اپنی رانی کے ساتھ اور الزام ہم پر سیٹھ صاحب دس از ناٹ فیئر سیٹھ عابد۔۔۔۔۔۔۔”وہ دل جلانے میں بہت ماہر تھا یہ سیٹھ عابد کو جلتا دیکھ کر اندازہ ہو گیا تھا۔
“تُمہارا مقصد کیا ہے زکی،اتنی گری ہوئی حرکت کرنے کی وجہ کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“گری ہوئی حرکت تو نہ کہیں سیٹھ صاحب،کیونکہ جتنے آپ میری نظروں میں گر گئے ہیں نہ اُس کے بعد تو یہ کُچھ نہیں ویسے میں سوچ رہا تھا اگر یہ ویڈیو غلطی سے آپ کی بیگم کے نمبر پر سینڈ ہو جاتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکراہٹ روکتا اُس کی بے بسی کا مزہ لینے لگا۔
“نہیں زکی تُم ایسا کُچھ نہیں کرو گئے،بولو کیا چاہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔”سیٹھ عابد فورًا لائن پر آیا تھا۔
“یہ ہوئی نہ بات،اجمل پٹھان کے ساتھ مُجھے کام کرنا ہے،اب آگے تُم سوچو کہ کیسے مُجھے اُس تک پہنچاتے ہو،بائے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے فُون بند کر دیا سیٹھ عابد دانت پیس کر رہ گیا۔
“دل تو کرتا سالے کو مروا دُوں پر پتہ نہیں سالے نے یہ ویڈیو کس کس کو دی ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر تھام کر وہی ٹک گیا۔
“اجمل پٹھان کے ساتھ یہ کام کیوں کرنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔؟اُس کے دماغ میں یہ خیال آ کر رُکا تھا۔
“_____________________“
اقرب چوہان شاپنگ کر کے نکلا تو رات کی سیاہی ہر طرف پھیل چُکی تھی وہ جینز کی پاکٹ سے گاڑی کی چابی نکالتا اپنی گاڑی کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی نسوانی چیخ پر اُس کے کان جلدی سے کھڑے ہوئے اُس نے آواز کے تعاقب میں نظریں گھُمائیں تو سامنے کا منظر اُسے اپنی طرف راغب کر گیا ایک لڑکی کو کوئی آدمی زبردستی کھینچ رہا تھا اقرب چوہان نے شاپنگ بیگز گاڑی کی چھت پر رکھے اور تیز قدم اُنکی طرف بڑھائے۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے چھوڑو اس لڑکی کو۔۔۔۔۔۔”اقرب نے غُصے سے اُس پچاس سالہ آدمی کو نہ صرف گھورا بلکہ اُس کے ہاتھ سے اُس لڑکی کا بازو بھی آزاد کروایا اُس لڑکی پر نظر پڑتے ہی وہ چونکا تھا یہ وہی پارک والی لڑکی تھی چونکی تو وہ بھی اسے دیکھ کر تھی۔
“تُم کون ہوتے ہو ہمارے بیچ بولنے والے،یہ منگیتر ہے میری،ہونے والی بیوی ہے میری ہٹو تُم راستے سے۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس آدمی کو اُسکی آمد ناگوار گُزری تھی اقرب نے اُسکی بات پر دُر عدن کی طرف دیکھا جو روتی ہوئی سر نفی میں ہلا رہی تھی۔
“مُجھے لگتا تو نہیں یہ آپکی منگیتر ہے پر اگر ہے بھی تو یہ کوئی طریقہ نہیں کسی کے ساتھ زبردستی کرنے کا،وہ آپ کے ساتھ نہیں جانا چاہتی تو اُسکی کوئی ریزن تو ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار اقرب کُچھ نرمی سے بولا تھا۔
“کوئی ریزن نہیں نکھرے دکھا رہی ہے ارے پیسہ دیا ہوا اس کے باپ کو،ایسے کیسے چھوڑ دُوں اس سونے کی چڑیا کو،چلو تُم۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُس کے لب و لہجے پر ناگواری سے اُس آدمی کو دیکھا تھا جو پھر سے اُسکی کلائی پکڑنے کے بجائے اس بار اُسے اُس کے بالوں سے پکڑا تھا۔
“چھوڑو مُجھے وحشی انسان،نہیں جانا مُجھے تُمہارے ساتھ چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے چلا رہی تھی اقرب سے رہا نہ گیا اس نے ایک کِک مار کر اُس آدمی کو زمین پر پھینکا تھا دُرعدن بھاگتی ہوئی اُسکی پُشت پر چُھپی تھی۔
“تُم نے مجھے مارا،مُجھے انوار صدیقی کو؟تُم جانتے نہیں میں کون ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“جو بھی ہو مُجھے جاننے کا کوئی شوق نہیں،لڑکی تُمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتی تُم زبردستی اُسے لے کر نہیں جا سکتے اس لیے چلتے بنو یہاں سے،ورنہ اس شاپنگ سنٹر میں جتنی پبلک ہے نہ سبکو بُلا کر ایسی پٹائی کرواؤنگا اس عُمر میں شادی کرنے کا بُھوت دماغ سے اُتر جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب سخت لہجے میں کہا انوار صدیقی نے ایک نظر پاس سے گُزرتے لوگوں کو دیکھا دوسری کڑھی نظر عدن پر ڈالی جیسے کوئی وارننگ دے رہا ہو وہ سمٹ کر اقرب کے پیچھے چُھپ سی گئی انوار صدیقی کھا جانے والی نظروں سے اقرب کے چہرے کو دیکھتا وہاں سے چلا گیا۔
“آپ ٹھیک ہیں۔۔۔۔۔۔”اقرب اُسکی طرف پلٹا جو رو رہی تھی۔
“ہاں میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔۔۔”دُرِعدن اپنے آنسو صاف کرنے لگی۔
“آئیے میں آپکو ڈراپ کر دُوں۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر اُس نے شش و پنج میں پڑ کر ایک نظر اپنی گاڑی کو دیکھا اقرب نے بھی اُسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھ کر کہا۔
“آپ کے پاس تو گاڑی ہے،اوکے آپ چلے جاؤ۔۔۔۔۔۔”
“نہیں،مُجھے ڈر لگ رہا ہے،وہ بہت بُرا ہے یقینناً کہیں راستے میں رُکا ہوگا یا ہمارے گھر۔۔۔۔۔۔۔”وہ خوف سے پھیکی پڑنے لگی نارینہ کو جب پتہ چلنا تھا کہ اُس نے اس کے عاشق کی سر بازار یوں دُھلائی کروائی ہے اُس نے کہاں بخشنا تھا اسے اور عدن کا باپ وہ تو پہلے ہی اپنا سارا بزنس اس آدمی کے ہاتھ میں دے کر کٹھ پتلی بنا ہوا تھا۔
“اتنا کیوں ڈرتی ہیں اُس سے،کھا تو نہیں جائے گا آپ کو اگر اتنا ہی تنگ کرتا ہے تو تھانے میں رپٹ درج کروا دیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کے مشورے پر ایک تلخ مُسکراہٹ اُس کے لبوں پر چمکی۔
“کیا رپٹ درج کرواؤنگی؟؟میرے باپ نے اپنے ڈوبتے بزنس کو بچانے کے لیے میرا سودا کیا ہے یا میری سوتیلی ماں نے اپنے عاشق سے میرا رشتہ طے کر کے اپنی وفاداری کا ثبوت دیا ہے،میرے باپ کی طرف سے آج مجھے وہ لے جائے یہ تو میں ہوں جو چیخ و پکار کر کے بچتی آ رہی ہوں اب تو گھر میں بھی عزت محفوظ نہیں ہے میری۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے رُخساروں پر آنسو چھلکے تھے جن کو دیکھ کر اقرب نے اپنے لب بھینچ لیے تھے۔
“کمال کا شخص ڈھونڈا ہے میرے باپ نے،دو بیویاں بھگتا چُکا ہے،جواری شرابی اور زانی سب کُچھ اُسکی ذات میں موجود ہے دل تو کرتا ہے قتل کر دُوں اُسکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کر دیں قتل اُسکا۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے جتنے آرام سے کہا تھا وہ اُتنا ہی چونکی تھی۔
“میں کیسے۔۔۔۔۔۔؟
“جیسے بھی زہر پلا دیں یا گولی مار دیں پر اس عذاب سے جان چُھڑوا لیں روز روز کے مرنے سے بہتر ہے ایک دفعہ ہی اُسے مار کر سکون لیں،پولیس کی فکر مت کریں میرا دوست ہے ایس پی باذل خان،فُل سپورٹ ملے گی۔۔۔۔۔۔۔۔”دُر عدن ابھی تک حیرانگی سے اُسے دیکھ رہی تھی وہ اتنی آسانی سے اسے یہ مشورہ کیسے دے سکتا تھا اس سے پہلے کہ وہ کُچھ کہتی اقرب چوہان کلک کی آواز پر کُچھ چونکا تھا اور ادھر اُدھر دیکھتا وہ عدن کو فراموش کر گیا جو حیرت سے اسے چاروں طرف دیکھتا دیکھ رہی تھی۔
“کسی نے ہماری تصویر لی ہے۔۔۔۔۔۔۔”اقرب اُسکی سوالیہ نگاہوں میں دیکھتا اسے ٹھٹھکا گیا۔
“ہماری تصویر؟کیوں۔۔۔۔۔۔؟وہ اب خُود بھی ادھر ا دھر دیکھنے لگی۔
“اسکا جواب ابھی نہیں دے سکتا میں،اوکے آپ جائیں اگر کسی قسم کی ضرورت ہوئی تو اس نمبر پر کال کر لیجئیے گا،بائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے اپنا نمبر دیتا اپنی گاڑی کے پاس آیا۔
“کسی نے اقرب چوہان کی تصویر لی ہے یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باقی کے الفاظ اُس کے مُنہ میں ہی رہ گئے تھے۔
“_______________________“
باذل علی خان کو ایس پی تعینات ہوئے ابھی کُچھ پی دن ہوئے تھے اُسکی پوسٹنگ لاہور کے اُس ایریا کی طرف ہوئی تھی جہاں مُجرم کھلے عام گھوم رہے تھے اُسکی نظر میں جو سب سے خاص چیز آئی تھی جس پر وہ کام بھی شُروع کر چُکا تھا وہ تھا ریشماں مائی کا کوٹھہ کہنے کو تو وہ طوائفوں کا اڈا تھا مگر وہاں جسم فروشی،وائٹ پاؤڈر اور لڑکیاں اغوا اور پھر اُنکو فروخت کرنے کا کام بھی ہو رہا تھا اور صرف یہاں تک نہیں بلکہ یہ کام بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا تھا باذل علی اس پر دن رات کام کر رہا تھا اور جو جو نام اس کے سامنے آئے تھے جو اُس ریشماں کے ساتھ لین دین کر رہے تھے اُن میں اجمل پٹھان اور زکی سرفہرست تھے اجمل پٹھان سے تو وہ صرف نام کی حد تک واقف ہوا تھا مگر زکی کو وہ تب جان گیا تھا جب اگلے دن وہ اس کے روبرو ہوا تھا۔
“تو تم ہو ایماندار ایس پی۔۔۔۔۔”وہ اسے سر سے پاؤں تک دیکھتا تمسخرانہ انداز سے بولا جس کے ماتھے پر دو شکنیں پڑیں تھیں۔
“یہ کونسا طریقہ ہے کسی کے آفس میں آنے کا۔۔۔۔۔۔۔”
“زکی کو اب پولیس والے طریقے سکھائیں گئے نہ جی اب اُتنے بُرے دن بھی زکی پر نہیں آئے ابھی۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر آج سے تُمہارے بُرے دن شروع ہو گئے زکی،کیونکہ تم میرے پہلے ٹارگٹ ہو جسے میں ہر حال میں اچیو کر کے رہونگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باذل خان مظبوط لہجے میں بولا زکی اُسکی بات پر یوں مُسکرایا جیسے کسی چھوٹے بچے کی بات پر مُسکرایا جاتا ہے بڑے ریلیکس موڈ کے ساتھ اُس نے جیب سے سگریٹ اور لائٹر نکالا سگریٹ کو ہونٹوں کے درمیان رکھ کر لائٹر کا شعلہ دکھا کر ایک لمبا سا کش لیا اور دُھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے اُس کی طرف دیکھا جو اسے گُھورنے میں مصروف تھا۔
“نئے ہو شاید اس لیے ایسا کہہ رہے ہو،جب یہاں کام کرو گئے زکی کو جانو گئے آئی ہوپ اُس دن یہ اکڑ بُھول جاؤ گئے کیونکہ تم جانتے نہیں ہو ایس پی زکی کس بلا کا نام ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں میں دیکھتا بنا کسی خوف کے بولتا باذل خان کو تپ چڑھا گیا۔
“جانتا ہوں تُم جیسوں کے ہاتھ بہت لمبے ہوتے ہیں پر جتنے بھی لمبے ہوں زکی جب کاٹنے والے پیدا ہو جائیں تو کاٹ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاہا بہت اچھا،کافی اعتماد ہے خُود پر،لیکن تُم یہ نہیں جانتے زکی اُن کاٹنے والوں کو اس قابل چھوڑتا ہی نہیں کہ وہ اُس پر نظر بھی رکھ سکیں،اینی ویز چلتا ہوں۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا کُرتا جھاڑتے ہوئے اُٹھا۔
“ریشماں مائی کے کوٹھے سے جتنا دُور رہو گئے ایس پی اتنا تُمہارے لیے اور تُمہاری وردی کے لیے اچھا رہے گا اور دُعا کیا کرو کہ آئندہ زکی سے ملاقات اچھے ماحول میں ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آخری کٹیلی نظر اُس پر ڈالتا بڑی شان سے چلتا اس کے آفس سے نکلا تھا باذل خان نے غُصے سے ہاتھ ٹیبل پر مارا۔
“یہ تو وقت بتائے گا زکی کسی کی وردی خطرے میں پڑتی یا تُمہاری زندگی۔۔۔۔۔۔”
“_______________________“
قُرت خٹک نے اپنے کلائی پر بندھی گھڑی پر ایک نگاہ ڈالی پھر پاپ کارن کھاتی ادھر سے اُدھر جاتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی وہ جسکا انتظار کر رہی تھی وہ اُسے کہیں دکھائی نہ دے رہا تھا تبھی ایک پرانے پھٹے کپڑوں میں ملبوس فقیر اسکے پاس آیا۔
“معاف کرو بابا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے کہتی پھر سے پاپ کارن کھانے میں مصرف ہو گئی مگر وہ جانے کے بجائے اُسے گُھورنے لگا۔
“سُنائی نہیں دیتا کیا،کہاں نہ معاف کرو۔۔۔۔۔۔”اب کہ وہ غُصے سے بولی تھی اور تب حیران رہ گئی جب اُس فقیر نے اس کے ہاتھ سے پارہ کارن کا مگ کھینچ لیا۔
“ابھی میرے اُتنے بُرے دن نہیں آئے کہ تُجھ سے بھیک مانگوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ آواز؟وہ ٹھٹھک کر اُس لمبی لمبی داڑھی والے بابے کو دیکھنے لگی جو پارپ کارن ہاتھ میں لیے اب اُسے کھانے میں مصروف ہو گیا تھا۔
“مُجھے لگا تم اپنی اصلی شناخت کے ساتھ آؤ گئے۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا بیوقوف سمجھ رکھا ہے مجھے،میرا چہرہ جتنا چُھپا رہے گا اُتنا تم سب کے لیے اچھا ہوگا۔۔۔۔۔۔”قُرت خٹک اُسکی بات پر سر اثبات میں ہلاتی اپنے بیگ سے ایک نوٹ نکال کر اُسکی طرف بڑھا گئی۔
“یہ لو۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے ہاتھ سے تھام گیا۔
“یہ نہ سمجھنا بھیک لی ہے تم سے،اس نوٹ کے اندر جو چُھپا ہے وہ لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا پارپ کارن ا سے واپس کر گیا۔
“خُوش رہو اللہ کامیاب کرے۔۔۔۔۔۔”اونچی آواز میں د عا دیتا وہ واپس سڑک پار کرتا اپنی جگہ پر جا کر بیٹھ گیا قُرت نے اُسے بیٹھے دیکھ کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“______________________“
