Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

دل دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر آٹھ
جب وہ کچن میں آیا عدن ناشتہ ٹیبل پر لگوا رہی تھی اقرب کُرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا اور نظریں اس پر مرکوز کر دیں جو خفا خفا اسے اپنے دل کے قریب محسوس ہو رہی تھی۔
عدن اسکے اس طرح دیکھنے پر پزل ہونے لگی تھی خانسا ماں کے جانے کے بعد اقرب اُٹھ کر اس کے پاس چلا آیا جو فریج سے جوس نکال رہی تھی۔
“کیا ناراض ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”جگ اُسکے ہاتھ سے پکڑ کر شیلف پر رکھا اور اُس کے ہاتھ پکڑ کر استفسار کیا۔
“آپ کو اس سے کیا۔۔۔۔۔۔۔”انداز کُچھ نروٹھا سا تھا۔
“کیا کہا مجھے کیا؟مجھے تکلیف ہو رہی ہے یار تُمہارے اس گریز سے۔۔۔۔۔۔”
“تو۔۔۔۔۔”وہ اُسکی طرف دیکھ نہیں رہی تھی۔
“تو یہ کہ مان جاؤ پلیز کیا جان لو گی۔۔۔۔۔۔۔”بوجھل آواز میں کہتا اپنا سر اُس کے سر کے ساتھ ٹکڑایا عدن نے گھورتے ہوئے اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر پیچھے کرنا چاہا مگر وہ اور قریب ہو گیا۔
“آپ پھر سے تنگ کر رہے ہیں اقرب۔۔۔۔”
“اب صُلح ہو گئی ہے اب تو تنگ کر سکتا ہوں نہ میں۔۔۔۔۔۔۔”مُسکراتے لہجے میں کہا گیا۔
“آپکو کس نے کہا صلح ہو گئی ہے۔۔۔۔۔”اس کے حصار سے نکل کر جگ شیلف سے اُٹھا کر ٹیبل پر رکھا۔
“تو کیا نہیں ہوئی؟ویسے بھی عدن اگر تُم انصاف کرو تو قصور تُمہارا بھی تھا تُم نے مجھے روکا کیوں نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔”لبوں پر مُسکراہٹ آنکھوں میں شرارت عدن نے نا سمجھی سے اُسکی طرف دیکھا اور پھر جب بات سمجھ میں آئی تو سٹپٹا کر سُرخ ہوتی چہرہ جُھکا گئی اقرب قہقہ لگا گیا۔
_____________________
وڑائچ کو جب جہانہ کی سُلطان کے ساتھ کام کرنے کی خبر ہوئی تو وہ پہلی فُرصت میں اس کے پاس آیا۔
“تُم ایسا کیسے کر سکتی ہو جہانہ۔۔۔۔”شاید وہ ابھی بھی بے یقین تھا جہانہ نے ترچھی نگاہوں سے اُسے دیکھا۔
“جہانہ کو جہاں فائدہ نظر آئے گا وہی جائے گی وڑائچ،تُو بھی تو یہی کرتے ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں پر میں بھی تو تُمہیں فائدہ دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”
“ہر فائدے میں صرف دس فیصد اور وہ سُلطان چالیس فیصد دینے کو تیار ہے میں تو کہتی تو بھی سُلطان سے ہاتھ ملا لے فائدے میں رہے گا۔۔۔۔۔۔۔”اپنے بھڑکیلے ڈوپٹے کے پلو کو ہاتھ میں میں جھلاتی وہ وڑائچ کو غُصہ دلا گئی۔
“تم جانتی ہو کہ سُلطان ہمیشہ میرا دُشمن رہا ہے اُسکی وجہ سے اجمل پٹھان کے ساتھ میری لڑائی ہوئی اور تم کہہ رہی کہ اُس کے لیے کام کروں۔۔۔۔۔۔۔”
“غُصہ کاہے کو ہوتا میرے لال،میں تیرا کام بھی کر دیا کرو گی اور اُسکا بھی تُو ٹینشن فری ہو جا میرے شکر پاڑے۔۔۔۔۔۔۔”جہانہ اُسکی سُرخ رنگت کو لو دیتی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی۔
“سُلطان تُمہیں ایسا کرنے دے گا۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے سُلطان سے ڈرتی میری جوتی،جہانہ کی اپنی ٹور ہے مجھے لوگوں کو انگلیوں پر نچانا خوب آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا جس پر وڑائچ متاثر ہوتا مُسکرا دیا۔
“اری اوہ شبو،وڑائچ سائیں کو کوئی ٹھنڈا ونڈا پلا۔۔۔۔۔۔”اُٹھتے ہوئے شبو کو کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی۔
______________________
عدن کو شاپنگ پر جانا تھا اقرب گھر نہیں تھا اس لیے اُس نے صدف آپا کو کال کر کے بُلایا ساتھ اُنکے بیٹے احمد اور اسد بھی چلے آئے۔
“مُمانی جان ہمیں آئسکریم کھلائیں۔۔۔۔۔۔”مال کے اندر داخل ہوتے ہی وہ دونوں آئسکریم کا شور مچانے لگے عدن بہلا پھسلا کر جیسے تیسے اپنی شاپنگ مکمل کی صدف آپا نے اپنے گھر کی گُرو سری کی خریداری کرنی تھی ان تینوں کو جانے کا کہہ دیا تو عدن ان دونوں کو ساتھ لیے آئسکریم بار چلی آئی۔
“تم دونوں یہاں اپنی اپنی پسند کا فلیور آڈر کرو میں یہ شاپنگ بیگز گاڑی میں رکھ آؤں،زرا دھیان سے اوکے۔۔۔۔۔۔۔”اُنکو گلاس وال کے پاس والے ٹیبل پر بٹھایا دونوں نے سر اثبات میں ہلا دیا عدن مال کے باہر کھڑی گاڑی کے پاس آئی اور شاپنگ بیگز گاڑی کے اندر رکھ دئیے۔
جب وہ کُچھ دیر بعد وہ واپسی کے لیے پلٹی تو ایک فقیر اچانک اُسکی راہ میں حائل ہوا۔
“اللہ کے نام پر کچھ دیتی جاؤ،اللہ تُمہیں ہمیشہ سہاگن رکھے آباد رکھے۔۔۔۔۔”بنا فقیر کی دُعاؤں پر غور کیے وہ پریشانی سے ادھر اُدھر دیکھتی اپنے بیگ سے پیسے نکالنے لگی۔
“یہ لو بابا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لال نوٹ نکال کر اُسے پکڑایا اور احمد اور اسد کی طرف دیکھنے لگی جو گلاس وال کے اُس پار بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے۔
“اللہ تُمہیں بھی اس طرح کے بچے دے آمین ۔۔۔۔۔”وہ فقیر اُسکی نظروں کے تعاقب میں اسد لوگوں کو دیکھتا ہوا اپنے زہن کے مطابق دعا دینے لگا جس پر عدن گڑبڑائی پھر اس نے کُچھ گھور کر اس فقیر کو دیکھا اور پھر اُنکی طرف قدم بڑھا دئیے۔
_______________________
جب وہ ڈھیر سارے شاپنگ بیگز پکڑے گھر آئیں تو اقرب چوہان کو لاؤنج میں ہی بیٹھے پایا۔
“دیکھو تو گھر میں بیٹھے ہو اتنا نہیں ہوا کہ بیوی کو شاپنگ کروا لاؤں۔۔۔۔۔۔”صرف آپا نے گھورا جو احمد اور اسد کو پیار کر رہا تھا۔
“کُچھ ضروری کام تھا دوسرا آپکی بھابھی صاحبہ نے ہم سے زکر ہی نہیں کیا ورنہ ہر کام کو لات مار کر ان کے ساتھ جاتے ہم۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ عدن کو دیکھتا ہوا بولا جو صوفے پر بیٹھی ہیل سے پاؤں آزاد کر رہی تھی۔
“شوہر ہو اُس کے بن کہے ہر ضرورت پوری کرو اُسکی،اس چیز کا تُمہیں خیال ہونا چاہئیے کہ اُسے کس وقت کس چیز کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا اُسے سرزنش کرتی کچن کی طرف چلی گئیں اقرب نے عدن کو دیکھا جو چُپ سی بیٹھی اپنے پاؤں دبا رہی تھی اقرب اُٹھ کر اس کے قریب آیا اور اس کے پاؤں سہلانے لگا۔
“یہ کیا کر رہے آپ،چھوڑیں۔۔۔۔۔۔”وہ جلدی سے اپنے پاؤں سمیٹ گئی۔
“جب شُوہر تھک کر آتا ہے تو بیوی اُسکا خیال کرتی ہے اب تُمہارے پاؤں ہیل کی وجہ سے درد کر رہے ہیں تو کیا میں اپنے ہاتھوں سے اُنکو نرمی بھی نہیں بخش سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔”بہت نرم اور میٹھا لہجہ تھا عدن کتنی دیر ہی اُسے دیکھے گئی پھر صدف آپا کو آتے دیکھ کر وہ جلدی سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
“عدن جاؤ فریش ہو کر آؤ،خانسا ماں نے ڈنر ریڈی کر لیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا کے کہنے پر وہ سر ہلا کر اپنے کرنے کی طرف بڑھ گئی۔
“اقرب تُم بھی آ جاؤ،احمد اور اسد چلو مُنہ ہاتھ دھو کر آؤ تم دونوں بھی اور ہاں احمد میرے بیگ میں تُمہاری الرجی کی ٹیبلٹ ہے وہ یاد سے کھا کر آنا۔۔۔۔۔۔”صدف آپا تینوں کو کہتیں پھر سے کچن کی طرف پلٹ گئیں۔
“مجھے نہیں کھانی وہ۔۔۔۔۔”احمد نے مُنہ بسورا۔
“کیوں نہیں کھانی؟آؤ میں کھلاتا ہوں آپ کو،کہاں ہیں آپکی مما کا بیگ۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بیگ کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھنے لگا پھر صوفے پر پڑا ہینڈ بیگ پکڑ کر اُسکی ٹیبلٹ ڈھونڈنے لگا مگر جو چیز اُسکے ہاتھ لگی تھی وہ اُس کے چونکنے کا باعث بنی تھی۔
______________________
وہ تیز تیز قدموں سے اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچی تھی موبائل سے ٹائم کی طرف دیکھا جہاں انوار صدیقی کو دیا گیا ٹائم پُورا ہو گیا تھا تبھی وہ اُسے آتا دکھائی دیا۔
“اتنی دیر؟تُمہیں یہاں میرے پہنچنے سے پہلے موجود ہونا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔۔۔”وہ غُصے سے تیز لہجہ اختیار کر گئی۔
“تُمہیں تو پتہ ٹریفک کا مسلہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اچھا زیادہ مجھے نہیں سُننا،لاؤ دو مجھے جو پاپا نے بھیجا ہے۔۔۔۔۔”وہ اُسکی بات کاٹتی ادھر ا دھر دیکھتی بولی تو انوار صدیقی نے اپنے دائیں ہاتھ میں پکڑا چھوٹا سا پیک اُسے تھما دیا۔
“کیا تم اس چیز کو اُس تک پہنچا سکتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”انوار صدیقی کی بات پر ایک تمسخر بھری مُسکراہٹ اُس کے لبوں پر چمکی۔
“تم شاید ابھی ہائما رائے سے واقف نہیں ہوئے صدیقی اپنے دُشمن کو اُس کے بل میں جا کر مارنے کا اپنا ہی مزہ ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر انوار صدیقی بھی مُسکرایا تھا۔
“اوکے اب میں چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے وہ واپسی کو چل دی۔