Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

دل دُشمن
از
امرین ریاض
(قسط نمبر چھ)
“حارث تُم ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں اس وقت اُسکی شاپ میں آئے تھے حارث جو کسی گاڑی کو ٹھیک کرنے میں مصروف تھا دو اجنبیوں کو دیکھتا اُنکی طرف آیا۔
“جی میں ہی حارث ہوں آپ لوگ۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں کو پہچاننے کی ناکام کوشش کرنے لگا۔
“ہمیں تم نہیں جانتے پر ہم تُمہیں جانتے ہیں،تم باری کے دوست ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔”اُن میں سے ایک بولا حارث باری کے نام پر چونکتا ہوا سر ہلا گیا۔
“ہمیں باری سے ملنا ہے کہاں ہے وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایک سال سے تو میں بھی اُسے ڈھونڈ رہا ہوں مجھے بھی نہیں پتہ وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے بتانے پر دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“کیا مطلب ہے تُمہاری بات کا؟وہ تُمہارا دوست تھا تو تُمہیں پتہ ہی نہیں وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“میں سچ کہہ رہا ہوں وہ میرا دوست تھا میں مانتا ہوں پر مجھے نہیں پتہ وہ اب کہاں ہے،آج سے ایک سال اور چھ ماہ پہلے وہ اسی طرح ایک دن میری شاپ پر آیا تھا اپنی بائیک ٹھیک کروانے پھر وہاں سے ہماری دوستی شُروع ہوئی اور ایک سال پہلے وہ اچانک غائب ہو گیا،میں نے کافی ڈھونڈا جہاں جہاں اُس کے ملنے کے امکان تھے مگر وہ نہیں ملا اور مجھے نہیں پتہ کہ وہ کہاں چلا گیا۔۔۔۔۔۔”حارث نے تفصیل سے بتایا دونوں نے اُس کے چہرے پر سچائی کی جھلک دیکھتے ہوئے سر اثبات میں ہلا دیا۔
“کیا تُمہارے پاس اُسکی کوئی تصویر یا تُم ہمیں اُسکی شکل بتا سکتے ہو۔۔۔۔۔۔”
“تصویر تو کوئی نہیں ہے میرے پاس اُسکی،ہاں اُس کی شکل و صورت بتا سکتا ہوں بہت زیادہ خُوبصورت تھا،کلین شیو رہتا تھا آنکھوں کا کلر لائٹ براؤن تھا ستواں ناک اور بھرے بھرے ہونٹ اس میں کوئی شک نہیں تھا وہ بہت زیادہ چارمنگ تھا اس لیے تو ہائما رائے مرتی تھی اُس پر۔۔۔۔۔۔۔۔”ہائما رائے کے نام پر دونوں چونکے تھے۔
“ہائما رائے۔۔۔۔۔۔۔؟
“ہاں وہ ریس دیکھنے آتی تھی وہی باری کی محبت میں مبتلا ہو گئی وہ اور حیرت کی بات ایک سال سے میں نے اُسے بھی ریس کے میدان میں نہیں دیکھا۔۔۔۔۔۔۔”حارث خُود بھی کنفیوز تھا یہ سب سوچ کر کہ وہ دونوں ایک ساتھ غائب ہوئے تو کیوں؟؟؟
“اچھا بہت شُکریہ تُمہارا،اب ہم چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں جانے لگے۔
“آپ لوگ کون ہیں اور باری کے بارے کیوں جاننا چاہ رہے تھے۔۔۔۔۔۔”حارث کی بات پر وہ اُسکی طرف مڑے۔
“ہمارا تعلق پاک آرمی سے ہے اور تُمہارا دوست باری کوئی عام انسان نہیں بلکہ قانون کا بہت بڑا مُجرم ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ دونوں اُسے حق دق وہی چھوڑ کر چلے گئے حارث ششدر سا اُنکی بات کا مطلب سمجھتا وہی کھڑا رہ گیا۔
_______________________
شادی کے دوسرے دن ہی غائب ہوتا اقرب ابھی تک گھر نہیں آیا تھا آج بی جان اور شہناز بیگم کی فلائٹ تھی اور وہ دونوں مُسلسل غُصے سے اقرب کو کوس رہی تھیں۔
“دیکھو تو اُسے ابھی تک نہیں آیا،ہمارے جانے کے بعد یہ اس طرح عدن کا خیال رکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شہناز بیگم کو رہ رہ کر اُس پر تاؤ آ رہا تھا۔
“ماما آپکو تو پتہ اُسکی جاب ہی ایسی ہے،میری بات ہوئی اُس سے وہ اتنے دن اس لیے نہیں آیا کہ سارا کام ختم کر کے پُورا ایک ماہ ریلیکس ہو کر عدن کو ٹائم دے سکے۔۔۔۔۔۔۔”ہمیشہ کی طرح صدف آپا نے ہی اُسکی سائیڈ لی تھی جس پر وہ دونوں کُچھ پُرسکون ہو گئیں۔
صدف آپا اور حسن بھائی اُنکو ائیرپورٹ چھوڑنے چلے گئے تو عدن اپنے کمرے میں آ کر سو گئ دو گھنٹوں بعد کھٹکے کی آواز پر اُسکی آنکھ کُھلی تھی آنکھیں کھول کر دیکھا تو اقرب کو وارڈرب سے کپڑے نکالتے پایا۔
“آپ اب آئے ہیں،بی جان اور ماما کتنا ویٹ کر کے گئیں آپکا۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کر بیٹھتی خُود کو کچھ کہنے سے باز نہ رکھ پائی۔
“ابھی اُنکو مل کر سی آف کر کے آیا ہوں،کسی کام میں پھنس گیا تھا پھر وہی سے سیدھا ایئرپورٹ چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے بتاتا واش رُوم میں گُھس گیا عدن بال سمیٹ کر بیڈ سے اتری ٹائم دیکھا جہاں رات کے دس بج رہے تھے وہ ڈنر کے خیال سے کچن میں آئی جہاں خانسا ماں کھانا ٹیبل پر لگا رہا تھا کچھ ہی دیر بعد اقرب بھی بلیک شلوار سُوٹ میں نکھرا نکھرا سا ٹیبل پر آ پہنچا۔
“کیا تُم ڈنر کئیے بغیر ہی سو گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“ہاں میرا دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”وہ مدھم لہجے میں بولی۔
“کیوں۔۔۔۔۔۔”اقرب نے گہری نگاہوں سے دیکھا وہ کُچھ بجھی بجھی لگی۔
“بی جان اور ماما کے بغیر دل نہیں لگ رہا میرا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“لڑکی ابھی سے؟ابھی تو کُچھ گھنٹے ہوئے اُنکو اور فکر نہ کرو تُمہارا دل لگانے کو میں ہوں نہ۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرایا۔
“آپ کا کیا بھروسہ،چاہے پھر سے غائب ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے اچانک غائب ہو جانے پر چوٹ کرتے ہوئے بولی.
“میری جاب ہی کچھ ایسی ہے یار۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر کھجانے لگا۔
“کیا جاب ہے آپکی؟آئی مین کیا کرتے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔”جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی دیکھ رہی تھی کہ وہ دس پندرہ دنوں کے لیے غائب ہو جاتا تھا کہاں ہوتا تھا یا کیوں وہ آج تک نہ سمجھ سکی تھی۔
“بزنس ہے باقی تفصیل پھر کبھی سہی،تُم یہ بتاؤ کہ تُمہارے پاپا سے بات ہوئی تُمہاری۔۔۔۔۔۔۔؟اقرب کے سوال پر وہ سر نفی میں ہلا گئی۔
“مُجھے نمبر دو اُنکا،میں ٹرائی کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔”
“نہیں آپ رہنے دیں میں خُود ہی کر لونگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ جلدی سے منع کر گئی اقرب چوہان ہاتھ نیپکن سے صاف کرتا اُٹھ کھڑا ہوا۔
“میں چاہتا ہوں کہ تم جلدی اُنکو منا لو کیونکہ اب انتظار زرا مُشکل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے کان میں سر گوشی کے انداز میں بولتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ عدن دھڑکتے دل کے ساتھ وہی بیٹھی رہ گئی۔
_______________________
انوار صدیقی غُصے سے بلبلاتا ہوا ادھر اُدھر کے چکر لگانے میں مصروف تھا تبھی اُسکی نگاہ اپنی طرف آتی قُرت خٹک پر پڑی۔
“کیا بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چھوٹتے ہی پوچھنے لگا۔
“ہو گیا کام۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکراتے ہوئے بولی انوار صدیقی نے پُرسکون سانس خارج کی۔
“ویری گُڈ۔۔۔۔۔۔۔”وہ حقیقتاً خُوش ہوا تھا۔
“اگلا ٹارگٹ۔۔۔۔۔۔”پوچھا گیا۔
“کیپٹن مرتقوی یزدانی۔۔۔۔۔۔”اُس کے لبوں پر مُسکراہٹ تھرک رہی تھی۔
“اور مجھے پُورا یقین ہے کہ تم اُس میں بھی کامیاب ہو جاؤ گی۔۔۔۔.”
“میں آپکو ناراض کرنے کا رسک کیسے لے سکتی ہوں بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اور میں تُمہیں خُوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا مائے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدیقی کا موڈ عاشقانہ ہوا تھا آنکھوں میں عجیب سی چمک لیے وہ قُرت کے اُوپر جُھکا تھا مگر وہ نرمی سے اُسے اپنے سے دُور کر گئی۔
“اُف قُرت ڈارلنگ ایک تو تم قریب آنے نہیں دیتی۔۔۔۔۔”وہ بدمزہ ہوا۔
“ابھی میں بہت خاص مشن پر ہوں سر،ابھی آپکا میرے قریب آنا ٹھیک نہیں ہوگا،مشن ختم ہو لینے دیں پھر جتنا کہے گئے قریب ہو جائیں گیں۔۔۔۔۔۔۔۔”قُرت نے اُسکی آنکھوں میں جھانکا وہ ہنستے ہوئے سر ہلا گیا۔
“چلو کوئی نہیں جہاں اتنا انتظار کیا وہی اور سہی۔۔۔۔۔۔”
“ہائما رائے کو کس نے قتل کیا تھا سر۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اچانک پوچھ بیٹھی انوار صدیقی چونک کر اُسکی طرف مُڑا۔
“تُم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔”ا لٹا سوال کیا گیا تھا۔
“آرمی والے باری کو ڈھونڈ رہے تھے،اب ہائما رائے کی تلاش میں ہیں پر اُسکا تو قتل ہو چُکا ہے نہ،تو اِسے کون مار سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“باری،باری نے قتل کیا تھا ہائما رائے کو،کیونکہ باری آرمی کا ایجنٹ تھا۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے انکشافات پر قُرت حیران ہوئی۔
“اگر وہ آرمی کا ایجنٹ تھا تو پھر آرمی والے اُسے ڈھونڈ کیوں رہے ہیں،دوسرا وہ ایک سال سے غائب کہاں ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“ان باتوں کا جواب تو تُمہیں آرمی والے ہی دے سکتے ہیں کیونکہ یہ اُنکی کوئی چال ہے جس میں وہ ہمیں اُلجھانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انوار صدیقی کی بات پر وہ بھی متفق ہوتی سر ہلا گئی۔
“اچھا اب تم جاؤ،ہمارا زیادہ دیر یہاں رُکنا ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔”صدیقی کے اشارے پر وہ اپنی گاڑی کی طرف آئی۔
“ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے مجھے مرتقوی یزدانی کے قریب جانا پڑے گا۔۔۔۔۔۔”گاڑی چلاتے ہوئے یہی سوچ اُسکے دماغ میں تھی۔
______________________
“کیا بات ہے،کُچھ غُصے میں لگ رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب چوہان نے کافی کا گھونٹ بھرتے ہوئے بازل کی طرف دیکھا۔
“یار وہی گھسا پیٹا قانون،ایک مُجرم کو پکڑتے ہیں اور اُس کے سارے محافظ جاگ پڑتے ہیں اگر یہی سسٹم پاکستان میں چلتا رہا تو کب ہم لوگ قاتلوں،ڈرگز مافیا اور ان کالے دھندے کرنے والوں کا صفایا کریں گئے؟سب سے تکلیف دہ بات یہی ہے کہ ہمارے اپنے ہی چند کاغذ کے ٹکروں کے لیے اپنا ایمان اپنا ضمیر بیچ کر اپنوں کے ہی دُشمن بنے بیٹھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”باذل خاں جس نے زکی کو پکڑنے کے لیے اُس کے خلاف ثبوت اکھٹے کر کے اپنا پُورا زور لگایا تھا اُسکا اتنی آسانی سے جانا ہضم نہ کر پا رہا تھا۔
“پر مجھے پُورا یقین ہے کہ جب تک تم جیسے ایماندار آفیسرز اپنا کام کرتے رہیں گئے تب تک یہ لوگ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“انشاءاللہ،زکی کو میں چُھوڑونگا نہیں اس دفعہ ایسا پکا ثبوت ڈھونڈوں گا کہ اُوپر تک بھی جانا پڑا تو میں جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اِسکا لہجہ پُراعتماد تھا۔
“اوکے ضرور،ویسے یہ زکی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب چوہان اس کے مُنہ سے کئی دفعہ اُسکا نام سن چُکا تھا اس لیے پوچھ بیٹھا۔
“دو نمبر بندہ ہے،ڈرگز سمگلر،لڑکیوں کا بیوپاری اور قتل و غارت ہر کام کرتا ہے وہ،کرپٹ سیاست دان اور بزنس مین کی کسی کمزوری پر ہاتھ ڈال کر اُنکو انگلیوں پہ نچانا اور اپنا کام نکلوانا اُسکا پسندیدہ مُشغلہ ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“پھر تو پہنچ اُوپر تک ہو گی اُسکی۔۔۔۔۔۔۔”
“ہے تو ایک رات بھی حوالات میں نہیں ٹھہرنے دیتے سالے کو۔۔۔۔۔۔”بازل کے لہجے میں اُس کے لیے نفرت صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“تُم کوشش کرو اپنی،اگر میری مدد کی ضرورت پڑی تو میں حاضر ہوں،اب اجاذت دو پھر کبھی ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
اقرب اُٹھ کھڑا ہوا تو باذل نے بھی اُسکی تقلید کی۔
“ساتھ ہی چلتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باذل نے اُس کے ساتھ ہی قدم بڑھا دئیے۔
_______________________
“ہاں بولو پٹھان۔۔۔۔۔۔”موبائل کان سے لگاتے ہوئے بولا۔
“تُمہارے لیے خُوشی کی خبر ہے زکی۔۔۔۔۔۔۔۔”اجمل پٹھان کی آواز کچھ پُرجوش تھی۔
“اور میرے کان ترس رہے اچھی خبر کے لیے۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پھر سُنو سلطان تم سے ملنے کے لیے راضی ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔”
“کیا واقع میں۔۔۔۔۔۔”وہ خُوش ہوا تھا۔
“سو فیصد سچ،میں نے اسے تُمہارے بارے بتایا کہ تم کتنا پاور فُل آدمی ہے تو وہ بہت امپریس ہوا تم سے۔۔۔۔۔۔”
“پٹھان صاحب دل جیت لیا آپ نے زکی کا،اسی خُوشی میں اگلے مال کا سارا پرافٹ آپکا۔۔۔۔۔۔”وہ سخی بنا جس پر اجمل پٹھان خُوش ہوگیا۔
“مہربانی،اب کل وہ ٹائم بتائے گا کہ کہاں ملے گا وہ تم سے،میں تُمہیں بتا دُونگا،اچھا پھر میں فُون رکھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”کھٹاک سے فُون بند کر دیا گیا زکی کے لبوں کو مُسکراہٹ نے چُھو لیا۔
“سُلطان رائے،مائے سویٹ ہائما رائے کے لونگ پاپا۔۔۔۔۔۔”وہ ہنسا تھا اور پھر ہنستا ہی چلا گیا۔
______________________
گاڑی خراب نہیں تھی مگر اُسے خراب کر کے وہ اُسی راستے میں کھڑی ہوگئی جہاں اُسکی سوچ کے مطابق مرتقوی یزدانی نے گُزارنا تھا اور بلکل ویسا ہی ہوا کُچھ دیر بعد اِسے مرتقوی کی گاڑی آتی دکھائی دی تو ہاتھ ہلا کر لفٹ مانگنے لگی۔
“ارے آپ۔۔۔۔۔”مرتقوی کے گاڑی روکنے پر وہ اُسکے فرنٹ دروازے پر جھکتی حیرانگی کا تاثر دینے لگی۔
“وہ اصل میں میری گاڑی خراب ہو گئی ہے کیا آپ مجھے لفٹ دیں گئے۔۔۔۔۔۔”اُسکی خاموشی پر وہ اپنے مطلب پر آئی۔
“جی آئیے۔۔۔۔۔۔”مرتقوی کے کہنے پر قُرت مُسکراتی ہوئی فرنٹ ڈور اوپن کر کے ٹک گئی۔
“بہت شُکریہ آپکا۔۔۔۔۔۔۔”
“اس میں شُکریہ والی کونسی بات ہے؟تُمہاری جگہ کوئی بھی ہوتا میں اُسے بھی لفٹ دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی کا لہجہ پچھلی ملاقاتوں کے برعکس تھا۔
“کہاں جا رہے تھے تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس پر گہری نگاہ ڈالی گئی تھی۔
“آفس سے گھر جا رہا ہوں،تم کہاں اُترنا پسند کرو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی سے تنگ آ گئے ہو کیا۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر مرتقوی نے حیرانگی سے دیکھا جو مُسکرا رہی تھی۔
“ابھی سے کیا مراد ہے تُمہاری؟کیا اس سے زیادہ سفر کرنے کی خواہش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اگر کہوں ہاں تو۔۔۔۔۔۔”لب و لہجہ دل افروز تھا وہ بھی مرتقوی یزدانی تھا لوگوں کے چہروں سے اُن کے دل کی کیفیت جان لیتا تھا۔
“تو میں حاضر ہوں دل و جاں سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ گاڑی کا موڑ کاٹتے ہوئے مُسکرا کر بولا جس پر قُرت زیرلب مُسکرادی دونوں اپنی اپنی نظر میں ایک دوسرے کو بیوقوف بنا رہے تھے بنا یہ سوچے کہ اصل میں کوئی اُن دونوں کو بیوقوف بنا رہا تھا۔
_______________________