Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

دل دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر گیارہ
اقرب پچھلے چار دن سے غائب تھا عدن ہر روز اُسکا انتظار کرتی تھی مگر وہ خُود تو نہ آیا مگر صدف آپا کو دو دن عدن کے پاس رہنے کے لیے بھیج دیا عدن دل مسوس کر رہ گئی کہ اسے ایک دفعہ بھی کال کرنا گواراہ نہیں کیا اور صدف آپا سے روز بات کر لیتا تھا۔
“کیا وہ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں یا کوئی اور پریشانی ہے جس کے لیے وہ مجھے پریشان نہیں کرنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسی طرح کی سوچوں میں اُلجھی تھی کہ ایک شام اقرب چوہان گھر چلا آیا جسے دیکھ کر عدن کھل اُٹھی وہ بھاگتی ہوئی اُس کے سینے سے جا لگی۔
“چار دن بعد آپ آئے ہیں اقرب،ایک دفعہ بھی مجھے کال کرنا گواراہ نہیں کیا آپ نے،اتنا مس کیا میں نے آپکو۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے ساتھ لگی شکوہ کرنے لگی جو اس کے انداز اور اس کی بے قراری پر حیران تھا کہ جب سے شادی ہوئی تھی کبھی عدن خُود سے اس کے قریب نہیں آئی تھی۔
“ایک کام میں بہت مصروف تھا۔۔۔۔۔۔”نرمی سے اُسے اپنے سے الگ کرتا شرٹ اُتارنے لگا اب اُسکا ارادہ شاور لینے کا تھا۔
“اتنے مصروف کہ میں بھی یاد نہیں رہی۔۔۔۔۔۔۔”حیرانگی سے سوال کرتی اُسے گہرا سانس لینے پر مجبور کر گئی۔
“یہ بات نہیں عدن،کسی ایسی جگہ سے کسی نے ڈسا ہے کہ نہ تو تکلیف ختم ہو رہی اور نہ ذخم بھرا جا رہا خیر چھوڑو اس بات کو تم جا کر کھانا لگاؤ میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“جی ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ مدھم انداز میں بولتی باہر چلی آئی اُس کے قدم کُچھ سست سے تھے۔
کھانا کھا کر اقرب کو اپنے کسی دوست سے ملنے جانا تھا تو اُس نے ساتھ عدن کو بھی لے لیا تا کہ اسے کچھ شاپنگ کروا سکے،مال سے واپسی پر وہ اُسے ساتھ لیے باذل خاں سے ملنے اُس کے بتائے گئے ایڈریس پر آیا۔
“کیسی ہیں بھابھی آپ۔۔۔۔۔۔۔۔”بازل کے استفسار پر عدن نے ہولے سے جواب دیا۔
“تُم نے مجھے کُچھ دکھانا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”بازل کے اشارے پر دونوں ایک صوفے پر ٹک گئے اقرب کے کہنے پر وہ سر ہلاتا دیوار گیر ایل ڈی کو آن کرنے لگا۔
“میں نے سُلطان رائے کے سارے کارناموں کی ویڈیو حاصل کر لی ہے،وہی تُمہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔”بازل خاں کہتا ہوا ایک کُرسی پر ٹک گیا تھوڑی دیر بعد کے منظر عدن کو نہ صرف چونکانے کے باعث بنے تھے بلکہ وہ لٹھے کی مانند سفید ہوتی چلی گئی سُلطان رائے کے اب تک کے سیاہ کارناموں سے بھری تھی کیا کُچھ نہیں تھا ڈرگز سے لے کر بچوں کے اغوا اور اُن کے ساتھ کیا جانے والا وحشیانہ عمل جوان لڑکیوں کی عصمت کے ساتھ کھلواڑ وہ مُنہ پر ہاتھ رکھتی روتی ہوئی رُوم سے باہر نکلی تھی اس سے آگے دیکھنا اُس کے بس میں نہیں تھا۔
“اوہ شٹ مُجھے عدن کو ساتھ نہیں لانا چاہئیے تھے وہ تو پہلے بہت ڈری ہوئی ہے،میں اُسے دیکھتا ہوں تُم سے بعد میں بات ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب عجلت میں بازل سے کہتا عدن کے پیچھے باہر آیا جہاں وہ ایک طرف کُرسی پر بیٹھی رو رہی تھی۔
“عدن کیا ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسکا رُخ اپنی طرف موڑا جس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا۔
“اوہ مائے گاڈ لڑکی اتنا چھوٹا دل،یہ تو ابھی کُچھ بھی نہیں ہے وہ لوگ تو اس سے بھی آگے نکل چُکے ہیں۔۔۔۔۔۔”
“کوئی اتنا کیسے گر سکتا ہے کوئی خوف کوئی ڈر نہیں۔۔۔۔۔۔”
“خوف خدا ختم ہونا ہی انسان کو حیوان بنا دیتا ہے تم چھوڑو اس سب کو اپنے زہن پر کوئی بوجھ نہ ڈالو،چلو تمہیں آج ڈنر اپنی پسند کی جگہ سے کرواتا ہوں۔۔۔۔۔”اُس کے آنسو صاف کرتا اُسے بہلانے لگا اور اگلے کُچھ لمحوں میں عدن کو اپنی باتوں میں لگاتا بہلا گیا تھا۔
_____________________
عدن ٹی وی لاؤنج میں بیٹھی چینل سرچنگ میں مصروف تھی کی ڈور بیل کی آواز پر پلٹ کر ہال کے دروازے کی طرف دیکھا اور اگلے لمحے ہی وہ کرنٹ کی طرح اُچھلی تھی۔
“جہانہ۔۔۔۔۔۔۔”اُس عجیب مخلوق کی موجودگی اپنے گھر میں دیکھ کر وہ حق دق تھی۔
“تُم یہاں کیوں آئی ہو؟کیا پاپا نے بھیجا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن اُس کے قریب آئی جو کُچھ عجیب سی نظروں سے اُسے دیکھ رہی تھی۔
“دیکھو یہاں سے فورآ چلی جاؤ،اقرب گھر آتے ہونگے اگر اُنہوں نے تُمہیں دیکھ لیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن کے لہجے میں کُچھ خوف تھا جسے جہانہ نظر انداز کرتی سیڑھیاں چڑھنے لگی عدن اُس کے پیچھے دوڑی۔
“یہ تُم جا کہاں رہی ہو،میں تم سے کُچھ کہہ رہی ہوں کہ یہاں سے چلی جاؤ جو بھی کام ہے میں پاپا سے بات کر لونگی۔۔۔۔۔۔”مگر وہ اس کی ان سُنی کرتی اس کے بیڈ رُوم میں داخل ہو گئی۔
“یہ کیا طریقہ ہے جہانہ،تم جانتی نہیں کہ تم میری بات سے اختلاف کر کے کتنا خطرہ مول لے رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کہ بار عدن غُصے میں آئی تھی مگر اگلے پل ہی وہ کُچھ ٹھٹکی تھی جب جہانہ نے اپنے سر سے وگ اور اپنے زیورات اُتارنے شُروع کر دئیے تھے اور جیسے جیسے وہ اپنے جسم سے چیزیں ہٹا رہی تھی ویسے ویسے ہی عدن کا رنگ اُڑتا چلا گیا کیونکہ جہانہ کے رُوپ سے نکلنے والا کوئی اور نہیں اقرب چوہان تھا۔
عدن اُسے پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھتی مُنہ پر ہاتھ رکھتی دم سادھے بیڈ پر بیٹھتی چلی گئی جو اب واشروم میں گُھس گیا تھا اس کے ساکت وجود پر ایک نگاہ بھی ڈالے بنا جب پانچ منٹ بعد فریش ہو کر اپنی اصلی حالت میں واپس آیا تب بھی عدن کو نظر انداز کر دیا جو ابھی بھی گُم صُم تھی شاید اپنی اصلیت کے کھل جانے کا اتنا بڑا شاک لگا تھا کہ وہ نہ تو نظر اُٹھا پا رہی تھی اور نہ ہی کُچھ بول پا رہی تھی۔
“مُرتقوی میرے خیال میں اب اس کھیل کا دی اینڈ ہو جانا چاہئیے،تُم لوگ اپنی اپنی جگہ پر الرٹ رہو میں بس آ رہا ہوں۔۔۔۔۔۔”شاید وہ کال پر بزی تھا پھر وارڈرب کی طرف بڑھا وہاں سے مختلف ہتھیار نکال کر اُنکو اپنی شرٹ پینٹ اور جوتوں میں رکھنے کے بعد ایک چوٹا سا بیگ لیا جس میں اُسکا لیپ ٹاپ وغیرہ تھا کمرے سے نکلنے سے پہلے ایک نظر اُس پر ڈالی جسکی آنکھوں سے آنسو پھسل رہے تھے اقرب کو پارک میں وہ پہلی ملاقات یاد آ گئی جب اسی طرح وہ اُسکی بھیگی نیلی آنکھوں سے دامن نہ چُھڑوا سکا تھا اقرب کے لبوں پر ایک تلخ مُسکراہٹ چمکی۔
“میں اپنے اُس مشن پر جا رہا ہوں جس مشن میں مجھے اپنے مدمقابل اپنی بیوی سے لڑنا پڑے گا اور یہ مشن جہاں مُجھے میرے دو سالوں کی محنت پر مُجھے سرخرو کرے گا وہی اس کے مکمل ہو جانے پر اقرب چوہان جیت کر بھی ہار جائے گا کیونکہ اس مشن میں میں نے اپنی بیوی اپنی محبت ہار دی ہے،یہ تو نہیں کہونگا کہ میری سلامتی کے لیے دُعا کرنا کیونکہ ہائما رائے تو اپنے باپ کی سلامتی کے لیے ہی دُعا کرے گی پر اتنا ضرور کہوں گا کہ اپنا خیال رکھنا تُمہیں تکلیف میں دیکھنے کی ہمت نہیں مجھ میں۔۔۔۔۔۔۔”اپنے الفاظ سے اُس کے سینے میں تیر برساتا وہ چلا گیا ہائما ایک جھٹکے سے اُٹھتے اُسے روکنے کو پیچھے گئی تھی مگر وہ تب تک گاڑی میں بیٹھتا چلا گیا۔
“ایسے نہیں اقرب بنا کوئی الزام بنا کسی صفائی کے آپ چلے گئے،مُجھے ایک دفعہ سُن تو لیتے۔۔۔۔۔۔۔”وہ وہی زمین پر بیٹھتی روتی چلی گئی۔
______________________
اقرب اُسے اپنے پیچھے بھاگتا دیکھ چُکا تھا اس لیے گاڑی کی سپیڈ تیز کر کے گیٹ سے نکال کر سڑک پر لا کر روک دی اور بالوں میں ہاتھ پھیرتا خُود کو پُرسکون کرنے لگا مگر عدن کے آنسو اُسے بُری طرح ڈسٹرب کر رہے تھے۔
“اتنے بڑے دھوکے کے بعد بھی یہ دل تُمہارے آنسووں پر بے چین ہو اُٹھا ہے یہ کیسی محبت ہے جو محبوب کے اتنے بڑے فراڈ پر بھی ختم ہونے کے بجائے میرے وجود کو گھائل کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑا کر رہ گیا پھر دو گہرے سانس لے کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔
“عدن ایک احسان کرنا اب میرے سامنے ہائما رائے بن کر مت آنا،تُمہاری اصلیت مُجھے اپنے سگے بھائی پر بھی آشکار نہیں کرنی۔۔۔۔۔۔۔”یہ میسج اُس کے نمبر پر سینڈ کر کے موبائل آف کیا اور اپنے پلان کے مطابق اپنے خفیہ ٹھکانے پر چلا گیا۔
_____________________
“آج سُلطان رائے نے سب کو بُلایا ہے میٹنگ کے لیے کیونکہ کل اُس کے مال کی سپلائی کا دن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ میسج سُلطان رائے کے تمام ساتھیوں کو اپنے اپنے سیل پر موصول ہوا تھا زکی اس پیغام کو پڑھتا مُسکرایا اور پھر سُلطان رائے کے پاس جانے کی تیاری کرنے لگا۔
“تو پھر آج زکی کا بھی کھیل ختم ہونے والا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی مُسکرا کر بولا تھا
_____________________
عدن کو اقرب کو کال کرنے کا خیال آیا تو اپنے موبائل کی تلاش میں کمرے میں آئی ٹیبل پر پڑا اپنا موبائل نکالا تو اقرب کے نمبر سے ملنے والا پیغام اُسکی آنکھیں نم کر گیا۔
“نہیں اقرب پلیز واپس آ جائیں میں آپ کو کھو نہیں سکتی پلیز آپ ایک دفعہ مُجھ سے بات کریں میں سب بتاتی ہوں بہت سارے چہروں کے پیچھے لوگ چُھپ کر آپ کو ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں پلیز اقرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے میسج اور کال کر کر کے تھک گئی مگر اُسکا نمبر تھا کہ مسلسل بند جا رہا تھا عدن وہی بیٹھ کر رونے لگی۔
“میں کیا کروں کیسے روکوں،اس وقت تو وہ میری بات پر یقین کیا میری شکل بھی نہیں دیکھیں گئے۔۔۔۔۔۔”
“ایسا کیوں سوچ رہی ہو عدن،تُمہاری اصلی شکل جان کر بھی اُس نے تُم سے مُنہ نہیں موڑا پھر بھی تُمہیں اس گھر سے نہیں نکالا اونچی آواز میں بات بھی نہیں کی اور تُم کہہ رہی ہو وہ تُمہاری بات نہیں سُنے گا۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے دل نے جیسے اُسے ڈپٹا تھا۔
“ہاں اگر اقرب چاہتا تو ہائما رائے کو استمال کر کے سُلطان رائے کو آسانی سے پکڑ سکتا تھا مگر اُس نے پھر بھی مُجھے عزت دی اس انسان کی بیٹی کو عزت دی جس نے نہ جانے کتنے گھروں کی عزتوں کے ساتھ کھیلا میں آپکو کبھی معاف نہیں کرونگی پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آنکھوں کو صاف کر کے وہ آُٹھ کھڑی ہوئی۔
“میں نے ایک بیٹی کا فرض ادا کر کے بہت گناہ کر لیے اقرب کا دل توڑ دیا اُسے دھوکہ دیا پر اب مُجھے ایک بیوی کا فرض ادا کرنا ہے اپنے شوہر کو بچانا ہے۔۔۔۔۔۔۔”حتمی فیصلہ کرتی وہ باہر کو چل دی۔
_______________________