Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 3

دلِ دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر تین
باری نے جب حارث کے گوش و گُزار سب کیا تو وہ حیران رہ گیا۔
“تُمہیں نہیں لگتا کہ دال میں کُچھ کالا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پوری دال ہی کالی ہے حارث،ویل دیکھتے ہیں کہ اصل کہانی کیا ہے اور کیا چُھپا ہے اس کے اندر ویسے بھی ہمیں تو بس پیسے سے مطلب ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ٹین پیک مُنہ سے لگاتا ہوا کندھے اُچکا گیا۔
“مجھے آج تک ایک بات سمجھ نہیں آئی باری،نہ تو تُمہاری کوئی فیملی ہے اور نہ کوئی خاص ضرورت،پھر تُم یہ جان لیوا بائیک ریسنگ کیوں کرتے ہو اور یہ بھی کہتے ہو کہ جوے کا ایک پیسہ بھی تُم پر حرام ہے حالانکہ ساری بات ہی جوئے کی ہے۔۔۔۔۔۔”حارث جو اسے چھ ماہ سے یہ سب کرتے دیکھ رہا تھا بلکہ کئی دفعہ وہ اُسکی مبہم باتوں اور پُراسرار حرکتوں پر حیران بھی ہو جاتا تھا اُسے ایسا لگتا تھا باری کسی کھوج میں ہے آج سے چھ ماہ پہلے وہ کوئٹہ کے اس علاقے میں آیا تھا جہاں اُس نے ایک چھوٹا سا گھر کرائے پر لیا تھا اُس گھر میں کُچھ خاص تھا تو وہ صرف باری کی سپورٹس بائیک جسے وہ کافی عزیز رکھتا تھا۔
“یہ بھی ایک راز ہے کبھی فُرصت میں بتاؤنگا ابھی تو تُم جاؤ یہاں سے ہائما رائے ادھر ہی آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”باری نے ایک طرف ریڈ سوک رُکتی دیکھ کر حارث سے کہا جو گہری سانس بھرتا وہاں سے چلا گیا۔
“ہائے باری۔۔۔۔۔۔۔”ہائما رائے وائٹ پینٹ پر ریڈ ٹی شرٹ پہنے اپنے پُرکشش وجود کے ساتھ اُس کے سامنے موجود تھی۔
“کیسے ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے ساتھ شیک ہینڈ کرتی پوچھنے لگی۔
“تُمہاری نظر سے دیکھوں تو بہت اچھا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی کالی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے مُسکرایا۔
“کیا میری نظر کافی نہیں تُمہیں یہ بتانے کے لیے کہ تُم بہت اچھے ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا چاہتی ہو باری سے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی آنکھوں سے پھوٹتی الوہی چمک کو دیکھتا پوچھنے لگا وہ دلکشی سے مُسکراتی اُس کی شرٹ کو مُٹھی میں بھینچتی اُسے اپنے قریب کرتی ایک ادا سے بولی۔
“باری سے باری کو چاہتی ہوں،کیا باری میرا ہونا چاہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“حُسن کے جال میں قید کرنا چاہتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی شرٹ اُس کی گرفت سے آذاد کرتا پیچھے ہٹا۔
“نہیں محبت کی زنجیر تُمہارے قدموں میں ڈالنا چاہتی ہوں۔……..”وہ اعتراف کر گئی جس پر باری حیران ہو کر دیکھنے لگا۔
“یہ اچانک محبت کہاں سے آگئی؟وہ بھی محض ایک دو ملاقاتوں میں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایک دو ملاقاتیں تُمہیں لگتی ہیں مجھے تو لگتا ہے جیسے برسوں سے میں تُمہیں جانتی ہوں،آج سے ایک ماہ پہلے جب تُمہیں پہلی دفعہ دیکھا تھا تب ہی میرے دل نے تُمہیں اپنا مان لیا تھا میں ہر روز تُمہیں دیکھتی تھی تم پر لاکھوں لُٹاتی تھی کہ شاید میں تُمہاری نظر میں آ جاؤں جیسے تُم میری نظروں میں سما گئے ہو،اب مجھے کہنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں ہو رہی کہ تم نہ صرف میرے دل میں ہو بلکہ میرے خوابوں میں بھی تُمہارا بسیرا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ جذبے سے بولتی چلی جا رہی تھی باری بے تاثر چہرہ لیے اُسے دیکھ رہا تھا۔
“آئی لو یو باری،میں تُم سے بہت بہت محبت کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“میرے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ ہائما رائے مجھ پر مرتی ہے۔۔۔۔۔۔”
“ہائما رائے نہیں،ماہی کہا کرو مجھے تم۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے ماہی۔۔۔۔۔۔”باری نے مُسکرا کر کہا جس پر وہ مُسکراتی ہوئی اُسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے دل کی حکایتیں سنانے لگی جو پوری دلجمعی سے سن تو رہا تھا مگر نگاہ اُسکی ہائما رائے کے پیچھے کھڑی اُس کی گاڑی پر تھی۔
_____________________
وہ اپنے آفس سے ابھی نکلا تھا جب اُسے صدف آپا کی کال آئی۔
“اقرب،جہاں بھی ہو جلدی سے گھر آؤ۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی بات مکمل کر کے کال کٹ کر گئیں اقرب نے کُچھ حیران ہو کر اُنکی افراتفری اور لب و لہجے پر غور کیا پھر گاڑی میں بیٹھتا اگلے آدھے گھنٹے بعد وہ اپنے گھر موجود تھا۔
“خیر تھی اتنا شارٹس نوٹس دیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا اُن پر نظر ڈالتا اُن کے ساتھ بیٹھے وجود پر نگاہ ڈالی تو حقیقتاً حیران رہ گیا تھا دُر عدن بی جان کے پاس بیٹھی اُسے دیکھ کر خُود بھی حیران رہ گئی تھی۔
“ہاں خیر تھی،اگر ایسے نہ کہتی تو تم رات کو ہی آتے گھر۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ ہمارے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ دُرعدن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
“اس سے متعارف کروانے کے لیے ہی بُلایا ہے،یہ دُرعدن ہے میرے گھر کے ساتھ ہی اسکا گھر ہے،میں نے تُمہیں بتایا تھا نہ کہ تُمہارے لیے میں نے ایک لڑکی پسند کی ہے تو وہ یہی عدن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر وہ حیرت زدہ ہی تو رہ گیا بے یقین آنکھوں سے عدن کے جھکے سر کو دیکھنے لگا۔
“ادھر آؤ مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا اسے ساتھ لیے بی جان کے رُوم میں چلی آئیں۔
“یہ لوگ کافی ماہ سے ہمارے ساتھ والے گھر میں رہ رہے بہت اچھے لوگ ہیں،عدن تو ہر روز مجھ سے ملتی ہے بہت اچھی لڑکی ہے بس مسلہ یہ ہے کہ اس کی ماما نورینہ سوتیلی ماں ہے وہ اور اس کے پاپا پیسوں کے لیے اسکی شادی ایک پچاس سالہ شرابی اور بدمعاش قسم کے آدمی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں،اس کے فادر کا سارا بزنس ٹھپ ہو رہا جسکی وجہ سے انوار صدیقی اس شرط پر ان کے بزنس میں انویسٹمینٹ کرے گا اگر عدن کی شادی اُس سے ہو گی اور آج اُسکا عدن سے نکاح تھا یہ میرے پاس روتی ہوئی آئی تو میں نے اسے بچانے کا حل تُمہاری شکل میں سوچا ہے اب تم بتاؤ کیا کہتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”انکی پوری بات سکون سے سنتا وہ پرسوچ نگاہوں سے سامنے بی جان کے ساتھ بیٹھی دُر عدن کو دیکھنے لگا جو اس وقت لیمن کلر کے سُوٹ میں بالوں کی چُٹیا کیے جس سے کُچھ بال نکل کر چہرے کے دائیں بائیں جھوم رہے تھے سادگی میں بھی خُوبصورت لگ رہی تھی بلکہ اپنے دلکش نقوش کی وجہ سے پہلے دن ہی اقرب کو وہ اپنی طرف متوجہ کر گئی تھی۔
“ویل جب آپ لوگوں کی پسند ہی چلنی ہے اس معاملے میں تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے،پر آپ اس نکاح کو کیسے روک سکتی ہیں آئی مین وہ اسکے پیرینٹس ہیں کُچھ بھی کرنے کا حق رکھتے ہیں وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“حق ہی تو چھیننا ہے ان سے،میں نے ماما اور بی جان نے فیصلہ کیا ہے کہ ابھی تم دونوں کا سادگی میں نکاح کر دیتے ہیں رُخصتی ان معاملوں کے نمٹ جانے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا کی پلاننگ پر اُسکا دماغ اش اش کر اُٹھا۔
“کیا بات ہے آپکی کوئیک سروس کی پر مائے سویٹ بہنا لڑکی کے باپ کی رضا مندی کے بغیر نکاح کیسے ہو سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہو سکتا ہے لاکھوں لوگ کرتے ہیں باپ کی مرضی کے بغیر اگر عدن کے فادر جیسے باپ ہوں تو کسی مرضی کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔”انکا اپنا ہی موقف تھا وہ گہرا سانس بھر کر رہ گیا۔
“میرا دماغ تو اس جھمیلے میں پڑنے سے انکاری ہو رہا،آپ لوگ ایسا کریں رشتہ لے کر اُنکے گھر جائیں جتنا ان کے فادر کا بزنس میں لوس ہوا اُتنا چیک بنا کر دیں آئی ہوپ وہ مان جائیں گئے اگر پھر بھی نہ مانے تو کورٹ میں پیش ہو سکتی ہے یہ یا کسی بھی ادارے سے ہیلپ لے سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تم اپنے یہ مشورے اپنے پاس رکھو اقرب،ہمیں اس کا یہی حل نظر آ رہا کہ تُمہارے ساتھ نکاح کر دیں بعد میں وہ کچھ بھی نہ کر سکیں گئے کیونکہ کوئی بھی اقرب چوہان کے خلاف جانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا کی بات پر وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا کندھے اُچکا گیا۔
“کمرے میں جاؤ فریش ہو کر آؤ مولوی صاحب آتے ہی ہونگے۔۔۔۔۔۔۔”وہ جیسے سب کچھ پہلے سے ہی تیار کر کے بیٹھیں تھیں وہ بے بسی سے سر نفی میں ہلاتا اپنے کمرے میں آ گیا ان تینوں عورتوں سے وہ کبھی جیت نہیں سکتا تھا تو آج کیسے جیت جاتا بھلا صدف آپا تو بات کرتیں تھیں مگر شہناز بیگ کے آنسو اور بی جان تو فٹ سے جذباتی ہو جاتی تھیں جس سے اقرب ہمیشہ ڈرتا تھا۔
_____________________
نکاح کی رسم ادا ہوتے ہی وہ کسی ارجنٹ کام سے چلا گیا تھا جب رات کو واپسی ہوئی تو صدف آپا اپنے گھر جانے کی تیاریوں میں تھیں۔
“آج رُک جائیں یہاں،میں جا کر احمد اور صمد کو بھی لے آتا ہوں۔۔۔۔۔۔”اقرب نے صدف آپا کے بیٹوں کا نام لیا جن کو وہ آج گھر چھوڑ آئیں تھیں۔
“بلکل نہیں،یہاں آ کر وہ سکول سے چھٹی مار لیتے ہیں اور سپورٹ بھی بی جان کی لیتے ہیں جن کے آگے کسی کی ایک نہیں چلتی؛گھر کونسا دُور ہے دس منٹ کا تو سفر ہے کل پھر آ جاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی بات پر وہ سر ہلا گیا۔
“کیا احسن بھائی لینے آئیں گئے آپ کو یا میں چھوڑ دُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں احسن آئیں گئے،اچھا تُم یوں کرو مُنہ ہاتھ دھو کر آؤ میں تُمہارا کھانا گرم کرتی ہوں۔۔۔۔۔۔”وہ کہتی ہوئیں کچن میں چلی گئیں اقرب نے نگاہیں چار سو گُھمائیں جیسے آنکھیں کسی کی متلاشی ہوں یہ نکاح کا رشتہ بھی انوکھا ہے ابھی چار گھنٹے پہلے وہ اس بندھن میں بندھا تھا لیکن پھر بھی اُس کے احساسات کُچھ عجیب سے ہو رہے تھے۔
وہ مُنہ ہاتھ دھو کر ڈائنگ ٹیبل پر آیا تو وہاں دُرعدن کو دیکھ کر ایک خوشگواریت کی لہر اُس کے پُورے وجود میں دوڑی تھی۔
“تُم دونوں کھانا کھاؤ میں تب تک ماما اور بی جان سے مل لُوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا ٹیبل پر کھانا سجاتیں چلی گئیں اقرب چوہان نے اپنی پلیٹ میں سالن نکالتے ہوئے دُر عدن کی طرف دیکھا جو ہاتھوں کو مسلتی سر جُھکائے بیٹھی تھی۔
“آپ کھانا کیوں نہیں کھا رہیں۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی آواز پر وہ چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے ٹھونستی پلیٹ پکڑ کر سالن ڈالنے لگی۔
“ابھی تک آپکے والد صاحب نے کوئی رابطہ نہیں کیا یا ابھی تک اُنکو آپکی غیر موجودگی کا احساس نہیں ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے پہلا نوالہ مُنہ میں ڈال کر گفتگو کا آغاز کیا۔
“میرا سیل آف ہے،ابھی تو وہ مجھے چند عزیزوں کے گھروں میں تلاش کر رہے ہونگے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ کو کیا لگتا ہے کہ اب بھی آپکو چُھپنے کی یا اُن سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔؟اقرب کا اشارہ جس بات کی طرف تھا وہ سمجھ گئی تھی۔
“میں نہیں چاہتی وہ یہاں آ کر کوئی تماشہ کریں یا وہ انوار صدیقی آپ کے ساتھ کُچھ غلط۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ایسا کبھی سوچنا بھی نہ،انوار صدیقی جیسے معمولی لوگ اقرب چوہان تک آنے کی کبھی ہمت نہیں کر سکتے،آپ کو ڈرنے کی یا کسی خوف میں مبتلا ہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ اب آپ اپنے گھر میں محفوظ ہیں کیونکہ اب آپ مسز اقرب چوہان ہیں۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کے مضبوط لہجے میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جو اُسے پُرسکون کر گئی تھی۔
“لگتا آپ کھانے پینے کے معاملے میں کافی لاپرواہ ہیں اس لیے تو دھان پان سی ہیں۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے گہری نگاہوں سے اُس کے سراپے کو دیکھا تھا وہ جز بز ہوتی نظریں جُھکا گئی تبھی صدف آپا انکی طرف آئیں۔
“احسن آ گئے ہیں میں چلتی ہوں اب،عدن میں پھر سے تُمہیں کہہ رہی ہوں کہ اب پریشان بھی نہیں ہونا اور رونا بھی نہیں اب بلکہ اب تم نے ریلیکس ہو کر رہنا ہے یہ تُمہارا گھر ہے،میں نے اقرب کے ساتھ والا رُوم تُمہارے لیے سیٹ کروا دیا ہے،میں کل پھر آؤنگی تا کہ تُمہاری شاپنگ اور ضرورت کی تمام چیزیں لے آئیں،اوکے گُڈ نائٹ۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکے رُخسار پر بوسہ دیتیں اقرب سے ملتیں چلی گئیں اقرب احسن سے ملنے کے لیے باہر چلا گیا جب وہ تین منٹ بعد اندر آیا تو شہناز بیگم عدن کی پیشانی چومتی اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئیں تھیں۔
“بہت ناانصافی کر گئیں میرے ساتھ،اقرب کے ساتھ والا رُوم دینے کے بجائے اقرب والا ہی دے دیتں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے پاس سے گُزرتا اُس کے بالوں سے کیچر اُتارتا سرگوشی کے انداز میں بولتا سیڑھیاں چڑھنے لگا رُخ موڑ کر دیکھا جس کے چہرے پر سُرخی چھا گئی تھی اقرب زیرلب مُسکراتا اُسکا کیچر ہاتھ میں لیے کمرے میں داخل ہو گیا۔
_____________________
وہ اس وقت کلب میں تھا ادھر اُدھر دیکھ رہا تھا جب اُسے کوئی چہرہ دکھائی دیا تھا جسکی تلاش میں وہ یہاں تک آیا تھا۔
“اے ہینڈسم،تھوڑا سا وقت چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”ایک لڑکی اپنی اداؤں کا جال بچھانے آ پہنچی۔
“وقت ہی تو نہیں میرے پاس۔۔۔۔۔۔”وہ نرمی سے کہتا اُٹھا اور اُس بندے کے پاس آ کھڑا ہوا۔
“کیسے ہو اجمل پٹھان۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کون؟پہچانا نہیں تُمہیں۔۔۔۔۔۔”اجمل پٹھان اسے سر سے لے کر پاؤں تک دیکھتے بولا جس پر وہ محفوظ مُسکراہٹ لبوں پر سجا گیا۔
“ویل مجھے پہچانتے کم لوگ ہی ہیں،ویسے مجھے زکی کہتے ہیں،سیٹھ عابد نے بتایا تُمہارے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیا مال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”سیٹھ عابد کا نام سُن کر وہ اپنے مطلب پر آیا تھا۔
“بہت۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی نے اُسے لالچ دیا۔
“پھر تو کام کے آدمی ہو۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھیں چمکیں۔
“یہ میرا کارڈ ہے،رابطہ کر لینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”جلدی میں کہتا وہ دائیں طرف چلا گیا اور وہاں جا کر خالی گلاس کو مُنہ لگاتے ہوئے مُڑ کر اُس بندے کی طرف دیکھا جو اب اجمل پٹھان سے بات کر رہا تھا زکی جسے کلب میں داخل ہوتا دیکھ کر وہ اپنا چہرہ چُھپا گیا تھا۔
“یہ یہاں کیا کر رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔؟وہ کن انکھیوں سے دیکھتا بُڑبڑایا پھر اُسے اور اجمل پٹھان کو ساتھ جاتا دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔
______________________
باری اپنی بائیک کو ریس دیتا ہوا دو بڑے جمپ لگاتا سب سے آگے نکلتا ریڈ ریبن کراس کر گیا تھا ہائما رائے خُوشی سے اُچھلتی اُسے جیت جی وِش کرنے لگی تبھی باری کی نگاہ ہائما رائے کے پیچھے بیٹھے انسان پر پڑی تھی جس نے بلیک پینٹ شرٹ پر بلیک ہُڈ پہن رکھا تھا جو سر کو ڈھانپے ہوئے تھا چہرے پر بلیک ہی ماسک تھا ہاتھوں پر ہی بلیک گلوز تھے باری کو جو چیز چونکانے کا باعث بنی تھی وہ تھی اُس کے ہاتھ میں دبا پسٹل جسے وہ گُھما رہا تھا اور پھر اُسکا نشانہ باری پر سیٹ کیا گیا تھا۔
“ہمیشہ کی طرح جیت تُمہاری۔۔۔۔۔۔”ہائما رائے آ کر اُس کے گلے میں اپنی باہنوں کا ہار بناتی اُسکی توجہ اُس طرف سے ہٹا گئی مگر باری نرمی سے اسے پرے کرتا اُس طرف دیکھنے لگا جہاں اب وہ انسان موجود نہ تھا۔
“میں ابھی آیا۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا کُرسیوں کی قطاروں پر سے چھلانگیں لگاتا بھاگتا ہوا مین گیٹ سے باہر نکلتا ادھر اُدھر دیکھنے لگا تبھی وہ انسان ایک گاڑی کی طرف لمبے لمبے ڈگ بھرتا جاتا دکھائی دیا۔
“بہت ڈرپوک دُشمن ہو یار،ایسے پیٹ دکھا کر بھاگنا اچھا نہیں لگا مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باری کی مُسکراتی آواز پر اُس وجود کے قدم تھمے تھے۔
“مارنا چاہتے تھے کہ خوفزدہ کرنا چاہتے تھے مُجھے؟ایک بات کی تو گارنٹی ہے مارنے کا ارادہ نہیں تھا تُمہارا ورنہ یوں خالی ہاتھ نہ جاتے۔۔۔۔۔۔۔”باری چلتا ہوا قریب آیا تھا وہ انسان یکدم غُصے سے باری کی طرف پلٹا تھا اور پسٹل اُس پر تان لیا تھا۔
“نو پلیز نہیں،ہی از مائے لائف نو۔۔۔۔۔۔۔۔۔”نہ جانے کہاں سے ہائما رائے درمیان میں آ کھڑی ہوئی تھی وہ جو کوئی بھی تھا سر نفی میں ہلاتا گاڑی میں بیٹھا اور چلا گیا۔
“تم جانتی ہو کون ہے یہ؟۔۔۔۔۔۔؟باری نے ہائما کو اپنے سوال پر نظریں چُراتے دیکھ کر اچھنبے سے دیکھا۔
“تُم بتا نہیں رہی کون ہے یہ اور مُجھے کیوں مارنا چاہتا تھا۔۔۔۔۔؟
“شاید میرے پاپا کا کوئی آدمی،اُنکو پتہ لگ گیا تُمہارا،وہ غُصے میں ہیں بہت،باقی باتیں میں کل بتاؤنگی تُمہیں ابھی مُجھے جانا ہوگا۔۔۔۔۔”وہ جلدی میں کہتی چلی گئ باری کو وہ کُچھ پریشانی میں مبتلا لگی تھی۔
______________________
قُرت خٹک چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتی آگے بڑھتی چلی جا رہی تھی رات کا اندھیرا ہر سُو پھیل رہا تھا وہ اس اندھیرے کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنے ٹارگٹ کو آسانی سے اچیو کر سکتی تھی کلائی پر بندھی گھڑی کو دیکھتے اُس نے موبائل پر کوئی کوڈ ملایا اور پھر سر دیوار کی اوٹ سے نکالتی اُس کا نتیجہ دیکھنے لگی جو اُسکے یقین کے مطابق سیکیورٹی کیمرے اپنی اوسط میں ہی رُک گئے تھے وہ دیوار پھلانگنے کا سوچتی ابھی چڑھنے لگی تھی کہ کسی نے اُس کی کنپٹی پر پسٹل رکھا تھا۔
“کوئی ہویشاری نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”مردانہ آواز پر وہ پلٹی تھی سامنے کوئی چھبیس سالہ خُوبرو مرد تھا۔
“آپ مُجھ پر کس حق سے پسٹل تان رہے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے موبائل سے اُس کوڈ کو ڈیل کرتی اپنے ازلی اعتماد سے بولی۔
“اتنی رات گئے یوں چوروں کی طرح مشکوک حرکتیں کرو گئی تو پسٹل ہی تانا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی یزدانی نے اُس کے حُلیے پر گہری نظر ڈالی تھی جو بیلو جینز پر وائٹ شرٹ پہنے اُوپر بلیک لیدر جیکٹ میں بالوں کو پونی میں مُقید کیے خُوش شکل لڑکی تھی۔
“مشکوک حرکتوں سے کیا مطلب ہے تُمہارا؟میں واک کررہی تھی یہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“رات کے گیارہ بجے واک؟وہ بھی آرمی کے کینٹ ایریا میں۔۔۔۔۔۔”مُرتقوی کو وہ کُچھ مشکوک لگی تھی۔
“ہاں تو کہاں لکھا ہے کہ یہاں پابندی ہے واک پر۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے گھورتے ہوئے واپس راستے کو ہولی۔
“کون ہو تُم۔۔۔۔۔۔”مُرتقوی اُس کے پیچھے آیا۔
“اندھے ہو نظر نہیں آ رہا لڑکی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنی ناکامی پر اس پر چڑھ دوڑی۔
“وہ تو مجھے بھی نظر آ رہا پر اس لڑکی کے رُوپ میں کیا چُھپا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی نے اُس پر جانچتی نگاہ ڈالی۔
“ویری فنی،کیا میں تُم سے پوچھوں کہ تُمہارے اس لڑکے والے رُوپ کے پیچھے کیا چُھپا۔۔۔۔۔۔۔”
“میں تو ایک عام شہری ہوں،آرمی میں میرا دوست ہے اُس سے گپ شپ کرنے آیا تھا،تُم بتاؤ کیا کر رہی تھی یہاں۔۔۔۔۔۔۔”
“میں ایک عام شہری ہوں اور واک کرتی کرتی یہاں آ گئی بس۔۔۔۔۔۔”وہ چبا کر بولتی اسے قہر بھری نگاہوں سے دیکھتی چلی گئی۔
“ایک عام لڑکی رات کے اس پہر یوں چوروں کی طرح کیوں گُھسے گی؟سر رضا کو بتانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”وہ پُرسوچ انداز میں اُسکی پُشت کو گُھورنے لگا۔
_____________________
“اماں اقرب نے کال کی آپکو؟کب تک آئے گا۔۔۔۔۔؟
“اتنا اچھا کہ بتا دے کب آئے گا دیکھو تو یہ لڑکا،پرسوں کا نکلا ابھی تک گھر نہیں آیا ایک وہ چھوٹا دو ماہ سے غائب ہے مجھے تو انکی سمجھ نہیں آتی یہ کرتے کیا ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دُر عدن بی جان کے پاس بیٹھی اُن سے باتیں کر رہی تھی جب شہناز بیگم کے استفسار پر بھڑک گئیں۔
“کیا کرتے ہیں وہ۔۔۔۔۔۔”دُر عدن جو اُس کے یوں غائب رہنے سے خُود حیران تھی پوچھنے لگی۔
“آوارہ گردی۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی آواز پر دُرعدن اُچھلی تھی جو اپنی مخصوص مُسکراہٹ لیے بی جان کے گلے سے لگا تھا۔
“میری جان آپ کو تو پتہ میری جاب ہی ایسی ہے،اور جہاں تک بات سنی کی ہے تو وہ نیکسٹ ویک تو چکر لگائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بی جان کو پیار سے بتاتا اُنکی ناراضگی پل میں دُور کر گیا۔
“میں تو دُلہن کے لیے کہہ رہی تھی،سارا دن بولائی بولائی پھرتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بی جان نے اُسکی توجہ دُرعدن کی طرف دلائی اقرب نے پُرشوق نظریں اُس پر ٹکائیں جو سر جُھکا گئی۔
“تو اُسکا علاج کیا میں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“بیوی کے لیے شوہر ہی اُسکی راحت اور خُوشی کا باعث ہوتا ہے،ہم لاکھ عدن کا دل بہلائیں پر اس وقت اسے تُمہاری زیادہ ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شہناز بیگم کی بات پر وہ سر ہلا گیا صدف آپا بھی اُسے یہی بات سمجھاتیں تھیں کال پر مگر اُسکی مصروفیت کی وجہ سے وہ اپنے اس رشتے کو وقت نہ دے پا رہا تھا۔
“اوکے جی،صوری میری جاب کا مسلہ تھا بٹ اب میں پوری کوشش کرونگا آپکی بہو کو خُوش رکھنے کی۔۔۔۔۔۔”
“مُجھے پتہ ہے میرا اقرب سب سے اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بی جان اُسکا سر چُوم گئیں۔
“بہو مُجھے زرا وضو کروا دو،مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بی جان اپنی اسٹک کے سہارے اُٹھتیں شہناز بیگم سے بولیں جو سر ہلا کر اُن کے ساتھ چل دیں۔
“کوئی شکایت ہے تو آپ بھی کر دیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اپنے سے پانچ انچ کے فاصلے پر بیٹھی عدن سے کہا وہ سر نفی میں ہلا گئی۔
“کیا کوئی پریشانی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔؟اقرب اُس کے چہرے پر ہی نظریں جمائے بولا۔
“بابا یاد آ رہے ہیں اُن پر کیا گُزر رہی ہو گی،میں بہت بڑا قدم اُٹھا گئی ہوں۔۔۔۔۔۔۔”دن رات اُسکو یہی بات کھائے چلی جا رہی تھی کہ وہ اپنی ذات سے اپنے بابا کو کتنا بڑا غم دے بیٹھی تھی۔
“اُٹھیں چلیں میرے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ گیا۔
“کہاں۔۔۔۔۔۔…؟وہ سوالیہ انداز سے دیکھنے لگی۔
“آپ کے بابا کے پاس چلتے ہیں،آئی ہوپ وہ نہ صرف آپ کو معاف کریں گئے بلکہ آپکی بات بھی سمجھیں گئے اور آپ بھی اس گلٹ سے باہر نکل آئیں گئیں۔۔۔۔۔۔”اقرب کی سنجیدگی پر وہ چونک اُٹھی.
“نہیں مُجھے نہیں جانا،وہ انوار صدیقی۔۔۔۔”
“اقرب چوہان کبھی ڈر کر نہیں چُھپتا،انوار صدیقی لاکھوں نبٹا چُکا ہوں میں،چلیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکا ہاتھ پکڑتا اسے گاڑی تک لایا۔
“ہمارا وہاں جانا ٹھیک نہیں پلیز آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ ڈر رہی تھی وہ جانتی تھی انوار صدیقی اس وقت غُصے سے بھڑکا ہوگا وہ اپنی وجہ سے اقرب کو کسی مُشکل میں ڈالنا نہیں چاہتی تھی۔
“عدن ہر ڈر کا مقابلہ کرنا چاہئیے ورنہ یہ خوف ہر خُوشی کے رنگ کو پھیکا کرتا رہے گا۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ پریشانی سے ہاتھ مسلنے لگی کہ اسے کیسے سمجھائے؟
______________________