Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Episode 12
No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
دل دُشمن
از
امرین ریاض
(قسط نمبر بارہ)
مُرتقوی یزدانی موبائل ہاتھ میں لیے گُم صمُ سا بیٹھا تھا جب اقرب چوہان کمرے میں داخل ہوا۔
“تُمہیں تو اس وقت اپنی جگہ پر ہونا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے لیپ ٹاپ پر سُلطان رائے کے بنگلے کی لوکیشن سیٹ کی جہاں سب اکھٹے ہو رہے تھے بلکہ اقرب اُنکو اکھٹا کر رہا تھا اپنے جال میں پھنسانے کو۔
“جانے لگا ہوں،میں نے سب کیمرے سیٹ کر دئیے ہیں۔۔۔۔۔۔”
“گُڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب اب اپنے موبائل پر کُچھ ٹائپ کر رہا تھا۔
“بھابھی کو آپ صدف آپا کی طرف چھوڑ آتے،ہو سکتا دُشمن اُن پر کوئی اٹیک کرے جیسے پہلے کیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُرتقوی کی بات پر اقرب نے لب بھینچ کر سر جھٹکا تھا۔
“اُسے کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے،پہلے اٹیک ہوا نہیں کروایا گیا تھا،خیر چھوڑو اس بات کو تُم کیپٹن عُمر اور کیپٹن علی کی ساتھ کونکٹیڈ رہنا اور مُجھے تب تک پہچاننے کی غلطی مت کرنا جب تک میں نہ کہوں،مُجھے انوار صدیقی کا چہرہ پہلے بے نقاب کرنا ہے،اب جاؤ تُم۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات کو نہایت توجہ سے سُنتا وہ جانے لگا پھر مُڑ کر بولا۔
“اس سب کے بعد قُرت خٹک کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”شاید یہی اُسکی بے چینی تھی جو وہ تھوڑی دیر پہلے بھی گُم صُم تھا وہ جانتا تھا کہ وہ دُشمن ہے پھر بھی نہ جانے کیسے ناٹک کرتے کرتے وہ اُس پر دل ہار بیٹھا تھا اقرب نے اُس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی مُسکراہٹ روکی جس پر مُرتقوی نے نہایت خُفگی سے دیکھا۔
“دُشمن سے دل لگاتے ہوئے سوچنا تھا بھائی میرے۔۔۔۔۔۔۔”
“دل کو روکنا آسان ہے کیا،دُشمن کب دلِ دُشمن بن گیا پتہ ہی نہیں لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مُرتقوی کی بات پر اقرب کا خیال عدن کی طرف گیا تو گہرا سانس بھر کر بولا۔
“اگر دُشمن کا پتہ لگ بھی جائے تو کوئی فرق نہیں پڑتا اس دل کو،تم فلحال قُرت خٹک کو دل دماغ سے نکال کر اس مشن پر فوکس کرو۔۔۔۔۔۔۔”
“اوکے سر۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے پروفیشن میں واپس آتا اسے سیلوٹ کرتا چلا گیا تو اقرب بھی اپنے کام میں لگ گیا۔
“______________________“
دُر عدن سیدھی اپنے باپ کے پاس آئی تھی جو اپنے کمرے میں تیار ہو رہا تھا۔
“ارے میری بیٹی آئی ہے۔۔۔۔۔۔”وہ ٹائی لگاتے اس کے قریب آ کر اسے گلے سے لگانے لگے مگر وہ غیر محسوس طریقے سے پیچھے ہٹ گئی۔
“کیا بات ہے؟میری بیٹی مُجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے انداز میں تبدیلی نوٹ کر کے حیران ہوئے۔
“ایسی بات نہیں،آپ کہیں جا رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سُلطان رائے کی تیاری پر ایک تفصیلی نگاہ ڈالتے ہوئے پوچھنے لگی۔
“ہاں کُچھ دوستوں کے ساتھ میٹنگ ہے،آج کی رات بہت اسپیشل ہے آپ کے ڈیڈی کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوبارہ آئینے کی طرف مڑے عدن کے دل میں ایک نفرت کی لہر اُٹھی وہ جانتی تھی کہ آج کی رات کیوں اسپیشل ہے اس کے لیے۔
“کیا آج میٹنگ اُسی سلسلے سے جُڑی ہے جس کے بارے میں اُس دن اقرب بات کر رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔”اس کے سوال پر سُلطان رائے کے پرفیوم کی طرف جاتے ہاتھ ایک پل کو رُکے تھے۔
“کیسی باتیں کر رہی ہو میری جان،تُمہیں بتایا تو ہے کہ وہ صرف سازش ہے میرے خلاف ورنہ میں یہ اخلاقیات سے گرے کاموں کا سوچ بھی نہیں سکتا،مجھے یہی ڈر تھا کہ وہ میجر تُمہیں میرے خلاف ضرور کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اقرب تو کُچھ جانتے ہی نہیں کہ میں کون ہوں اور میرا آپ سے کیا رشتہ ہے،وہ مجھے آپ کے خلاف کیوں کریں گئے،میں صرف اُن تصویروں کی بات کر رہی ہوں جو باری کے دوست بازل خاں نے دکھائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اُن کے بارے بھی انوار تُمہیں اچھے سے بتا چُکا کہ وہ ایڈٹ کی گئی تھیں اقرب چوہان کے کہنے پر تا کہ اُن کو میرے خلاف استمال کیا جا سکے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولتے ہوئے اُس کے قریب آئے۔
“میری جان تُمہیں نہیں پتہ ان لوگوں کا،یہ ہمارے دُشمن ہیں اور ہمیں ان پر بھروسہ نہیں کرنا،ماہی نے کیا تھا نہ اپنے باری پر بھروسہ؟کیا انجام ہوا اُسکا؟اس اقرب چوہان نے اپنا مطلب نکال کر وہ چپ اُس سے حاصل کر کے مار دیا اُسے،میری بیٹی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے جُھوٹ اور مکاری کی آخری حد پر تھا آنکھوں میں آنسو تک لے آیا تھا جن کو دیکھ کر ہائما ہر بار کی طرح جذباتی ہونے کے بجائے بس خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔
“وہ میری بھی بہن تھی اور میں صرف اُسکی موت کا بدلہ لینے ہی اقرب چوہان تک گئی تھی اور ایسا کرنے کو آپ نے بولا تھا مگر میں ا سے مارنا چاہتی تھی پر آپ کو صرف وہ چپ چاہئیے تھے آخر ہے کیا اُس کے اندر۔۔۔۔۔۔؟اب کی بار وہ جھنجھلا کر بولی۔
“سو دفعہ بتا چُکا ہوں کہ اُس کے اندر میری بے گناہی کے ثبوت ہیں اگر تُم وہ چپ حاصل کر لیتی ہو تو میں سب کے سامنے لے آونگا کہ ان کاموں میں میرا کوئی ہاتھ نہیں،تم چاہتی ہو نہ کہ میں انوار صدیقی جیسے بندوں سے کنارہ کشی کر لُوں تو وہ صرف اسی طریقے ممکمن ہے ورنہ اقرب جیسے دُشمن سے بچنے کے لیے مجھے انکا سہارا لینا پڑتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ عدن کو پھر سے باتوں میں اُلجھا رہا تھا مگر وہ اب ساری حقیقت جان چُکی تھی۔
“آپ اپنی گرفتاری دے کر وعدہ معاف گواہ بن جائیں یقین کریں اقرب سے میں بات کر کے آپکو۔۔۔۔.”
“یہ کیا باتیں کر رہی ہو تم،اقرب ہمارا دُشمن ہے وہ کوئی اس ملک کا محافظ نہیں ہے بلکہ وردی میں چُھپا دُشمن ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“وہ میجر ہے،یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ وہ انوار صدیقی جیسے وطن دُشمن لوگوں کے خلاف ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ چٹخ کر بولی تو سُلطان رائے کے ماتھے پر دو ابھری لکیریں صاف دیکھی جا سکتی تھیں۔
“یہ تُمہیں اچانک ہو کیا گیا ہے،کہیں تم بھی تو ماہی کی طرح کسی پاگل پن پر تو نہیں اُتر آئی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُنکی نظروں میں شک تھا۔
“مجھے ابھی ان کو کُچھ نہیں بتانا ورنہ اقرب کے لیے مُشکل ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”ایک سوچ اس کے دماغ میں آئی۔
“مجھے بس آپکی فکر ہے اور میں کل تک وہ چپ لا کر آپکو دے دُونگی اور پھر وعدے کے مطابق آپ ان سب کو چھوڑ کر میرے ساتھ کسی اور ملک شفٹ ہو جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ بات بدل گئی جس سے سُلطان رائے خُوش ہو اُٹھا۔
“یہ ہوئی نہ بات میری بیٹی،اب جلدی سے واپس چلی جاؤ یہ نہ ہو اُسے شک ہو جائے اور ہاں آج رات سے کل رات تک کوشش کرنا کہ وہ گھر پر ہی رہے مجھے دبئی جانا ہے یہ نہ ہو وہ مجھے جانے نہ دے۔۔۔۔۔”
“جی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آنسو پیتی سر ہلا گئی۔
“وہ جہانہ بھی آج آئے گی کیا آپ سے ملنے۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں اُسی نے تو یہ میٹنگ رکھی ہے،تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“ویسے ہی،میں چلتی ہوں۔۔۔۔۔۔”وہ اُن کے کمرے سے نکلی۔
“میں آپکو یہ ہرگز نہیں بتا سکتی پاپا کہ نہ صرف وہ چِپ میرے پاس ہے بلکہ میں نے اُسے دیکھ بھی لیا ہے اور اُسے دیکھنے کے بعد مجھے آپ سے سوائے نفرت کے اور کوئی احساس نہیں ہو رہا،کتنی بے دردی سے آپ بچوں اور بچیوں کے ساتھ ساتھ اس ملک کے ساتھ بھی گھناؤنی سازشیں کر رہے ہیں،اور جو سب سے اذیت ناک پہلو آپکا میری آنکھوں کے سامنے آیا ہے وہ یہ کہ آپ نہ صرف لوگوں کے دُشمن ہیں اُنکے قاتل ہیں بلکہ اپنی سگی بیٹی ماہا رائے کے بھی قاتل ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنی آنکھوں سے چھلکتے آنسووں کو صاف کرتی وہ ہائما رائے سے عدن اقرب چوہان بنتی اُس بنگلے سے نکلی تھی جس میں اب سے کبھی نہ آنے کی اُس نے قسم کھا لی تھی۔
“______________________“
اقرب چوہان نے سارا سیٹ اپ کر کے ہر ساتھی کو اُنکی جگہ بنا کر وہ اپنے گیٹ اپ چینج کرنے لگا تبھی اُسکی چھٹی حس نے کُچھ اشارہ دیا تھا اُسے محسوس ہوا تھا جیسے کوئی آ رہا تھا جیب کو تھپتھپا کر گن کی موجودگی کا اندازہ لگاتا وہ تیز قدم اُٹھاتا
باہر کی جانب بڑھا تبھی اُسے سامنے سے بلیک اوور کوٹ میں ملبوس وہی انسان دکھائی دیا جسے وہ آج تک جان نہ پایا تھا اقرب نے غور سے دیکھا تو اُسے کچھ عجیب سا محسوس ہوا کہ نہ تو آج اُس انسان کے ہاتھ میں پسٹل تھا بلکہ آج اُس انسان کی چال بھی کچھ سست سی تھی اقرب کا پسٹل کی طرف جاتا ہاتھ پلٹ آیا کیونکہ اُسے آج اتنا یقین تھا کہ آج یہ انسان اسے مارنے نہیں آیا تھا۔
“حیرت ہے وہ دُشمن جسے میں آج تک نہیں جان پایا وہ اُس جگہ آن پہنچا جس کے بارے کوئی بھی نہ جان سکا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُس کے بلیک ہُڈ میں چُھپے چہرے کی طرف دیکھا۔
“کیونکہ یہ دُشمن اب دل دُشمن بن چُکا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ آواز وہ لاکھوں لوگوں میں بھی پہچان سکتا تھا حیرت کے شدید جھٹکے کے زیر اثر وہ اُسے دیکھ رہا تھا کو اب اپنے چہرے سے ماسک ہٹا چُکی تھی۔
“عدن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے ساکت لب ہلے تھے۔
“یا شاید ہائما رائے۔۔۔۔۔۔۔”وہ تمسخرانہ ہنسا شاید اتنے ماہ خُود کو بیوقوف بنائے جانے پر۔
“مُجھے پتہ ہے آپ بہت ناراض ہیں مُجھ سے،ہونا بھی چاہئیے آخر میں نے اتنا بڑا دھوکہ دیا آپ کو آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ناراض۔۔۔۔۔۔۔۔”ایک تلخ مُسکراہٹ اُس کے لبوں کو چُھو گئی۔
“تُمہارا ابھی پچھلا وار نہیں بُھول پا رہا تھا تو ایک نیا رُوپ لے کر آ گئ،مجھے ابھی بتا دو اور کتنے رُوپ ہیں تُمہارے مس ہائما سُلطان رائے۔۔۔۔۔۔۔۔”آخری الفاظ چبا چبا کر اُس نے مُنہ سے ادا کیے جن کو سُن کر عدن کو آج سے پہلے شاید اتنی تکلیف نہ ہوئی ہو۔
“دُرعدن اقرب چوہان بن کر آپ کے پاس اپنی صفائی کے لیے آئی ہوں،ایک دفعہ مُجھے سُن تو سکتے ہیں نہ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اب کی بار اُس کے لہجے میں التجا سی تھی۔
“کیا پتہ یہ بھی کوئی گیم ہو تم باپ بیٹی کی،مجھے یہاں روکنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں میں اپنے لیے بے اعتباری دیکھ کر وہ کٹ کر رہ گئی اُسکی آنکھیں بے اختیار چھلک پڑیں جن میں نمی بھی اقرب چوہان دیکھ نہیں سکتا تھا۔
“میں سُن رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے گویا اُسے معاف کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا عدن کے لبوں کو مُسکراہٹ چُھو گئی۔
“_____________________“
سُلطان رائے جو ایک عام سے سرکاری پروفیسر تھے مگر ان کے گھر دولت کی اتنی ریل پیل تھی کہ کبھی کبھی اُنکی بیوی بھی حیران رہ جاتی تھیں کہ آخر کون سے ایسے خاص زریعے ہیں جن کی بدولت وہ لوگ اتنے عیش و آرام والی زندگی بسر کر رہے ہیں مگر سُلطان رائے انکو کو ہمیشہ چُپ کروا دیتا تھا۔سُلطان رائے کی دو بیٹیاں ماہا رائے اور چھوٹی ہائما رائے وقت کے ساتھ بڑی ہوئیں تو ہائما رائے تعلیم کے لیے لندن چلی گئی جبکہ ماہا رائے ماں کے انتقال کے بعد گھر رہنے لگی تبھی اُسے اپنے باپ کی دوغلی شخصیت کا اندازہ ہوا،اُسے ریس بہت پسند تھی وہاں اُسکی ملاقات باری سے ہوئی جو نہ صرف ریس کا بہترین کھلاڑی تھا بلکہ حُسن وجاہت میں سب سے آگے تھا کُچھ ہی ملاقاتوں میں ماہا رائے کے دل میں اُتر گیا جب اُس کے باپ سُلطان رائے کو پتہ چلا تو اُس نے ماہا کو باری سے اپنا اصل نام چھپانے کا کہا اور باری کو اپنے ساتھ کام کرنے کا کہا جس پر ماہا رائے ایک دن باری کو انوار صدیقی سے ملوانے لے گئ۔
ماہا جب سُلطان رائے کے کہنے پر چلتی رہی مگر ایک دن ماہا کے سامنے سے سُلطان رائے کی اصل شکل بے نقاب ہو جاتی ہے جس میں باری اُسکی بہت مدد کرتا ہے ہائما کو اچانک اُس کے باپ کی کال آئی کہ وہ جلد پاکستان آئے ماہا کی جان کو خطرہ ہے دو دن بعد ہی وہ پاکستان تھی۔
“کیا مطلب پاپا،باری سے وہ بہت محبت کرتی ہیں اُن سے کیا خطرہ ہو سکتا ماہا آپی کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“یہی تو بات ہے جو وہ بھی سمجھ نہیں رہی،باری کوئی عام آدمی نہیں ہے وہ دُشمن ہے میرا،اصل میں یہ لوگ ملک دُشمن کام کر رہے ہیں اُس میں مجھے بھی شامل ہونے کا کہا تھا پر میں اپنے وطن سے غداری کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بیٹی اس لیے تو یہ مجھے بلیک میل کرنے کے لیے میری بیٹی کو میرے خلاف کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تو پاپا آپ پولیس کے پاس جائیے تا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پولیس کے پاس جانے کا کوئی فائدہ نہیں وہ بھی ان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے نے اُسے اپنی باتوں میں اس قدر اُلجھا لیا کہ وہ ماہا رائے کی بات پر بھی یقین نہیں کر پائی۔
“آپی آپ اُس بہروپئیے کی باتوں میں آ گئی ہیں آپکو پاپا بُرے لگنے لگے ہیں جنہوں نے آج تک ہمارے ساتھ کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی،پلیز وہ لڑکا اچھا نہیں وہ دُشمن ہے اور وہ نہ صرف آپکی جان کو خطرہ پہنچا سکتا بلکہ وہ پاپا کو بھی مارنے کا پلان بنا کر بیٹھا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“ہائما میری جان تم اس وقت پاپا کی باتوں میں آ چُکی ہو اس لیے تُمہیں میری بات پر یقین نہیں آ رہا،مجھے کُچھ دن کا ٹائم دو میں ثبوتوں کے ساتھ تُمہیں پاپا کی اصلیت بتاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔۔”ماہا کہتے ہوئے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
ہائما کو اب ماہا کی فکر تھی کہ کہیں وہ باری اسے نُقصان نہ پہنچائے اس لیے اُس دن وہ ریس کے میدان میں چلی گئی جہاں ہائما نے پہلی دفعہ باری کو دیکھا تھا ایک پل کو تو بھی مسرائمز ہو گئی تھی بلاشبہ وہ مردانہ وجاہت کا مُنہ بولتا ثبوت تھا۔
“اس نے اپنی خُوبصورتی سے ہی آپی کو اپنے جال میں پھنسایا ہے میں اُسکا قصہ ہی ختم کر دُوں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ آنکھوں اور دل میں نفرت لیے اُٹھی تبھی باری کی بھی اس پر نظر پڑی تھی ہائما بھی یہی چاہتی تھی کہ وہ اس ہجوم سے نکلے اور پھر عین اس کی سوچ کے مطابق وہ اس کے پیچھے آیا تھا۔
“بہت ڈرپوک دُشمن ہو یار،ایسے پیٹ دکھا کر بھاگنا اچھا نہیں لگا مُجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باری کی مُسکراتی آواز پر اُس کے قدم تھمے تھے اور وہ غُصے سے اس پر پستول تان گئی تھی مگر نی جانے ماہا رائے کہاں سے آ گئی تھی۔
“نو پلیز،ہی از مائے لائف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے التجائی انداز پر وہ سر نفی میں ہلاتی گاڑی میں بیٹھی اور چلی گئی۔
ہائما نے ہر کوشش کی ماہا کو سمجھانے کی اور باری سے دُور رکھنے کی مگر وہ محبت کے اُس مقام پر تھی جہاں سے واپسی کے لیے قدم موڑنا نا مممکمن سی بات ہو جاتی ہے اور پھر ایک رات جب سُلطان رائے نے اپنی پوری رضا مندی سے باری کو کھانے پر انوائٹ کیا تو ماہا کو حیرانگی ہوئی کیونکہ وہ تو حقیقت سے واقف تھی جبکہ دوسری طرف ہائما بھی اس فیصلے پر پریشان ہو گئی۔
“باری مجھے لگتا ہے پاپا کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ چُپ میرے پاس ہے اور میں تُمہیں دینے والی ہوں تم پلیز مجھے آ کر لے جاؤ جلدی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ماہا جسے کسی بہت گڑبڑ کا احساس ہو چُکا تھا باری کو کال کر کے وہ سب چیزیں پیک کرنے لگی تبھی سُلطان رائے کمرے میں داخل ہوا۔
“میں نے بہت کوشش کی تُمہیں اس سب سے دُور رکھنے کی مگر تم اس وقت میری سب سے بڑی دُشمن بن چُکی ہو اُس لڑکے کے ساتھ مل کر جو مجھے کوئی ایجنٹ لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہاں وہ پاک آرمی کا آفیسر ہے میجر اقرب چوہان اور میں اُسے آپ کے بارے سب کُچھ بتا چُکی ہوں کیونکہ میں اب آپ کی بیٹی بن کر نہیں بلکہ اس قوم کی بیٹی بن کر دکھاؤنگی اور آپ کا اصل چہرہ نہ صرف اس دُنیا کو بلکہ ہائما کو بھی بتا دُونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”ماہا نڈر انداز میں بولتی سُلطان رائے کی حیوانیت کو بلاوا دے گئی۔
“ہائما کو سب بتانے کے لیے تم زندہ رہو گئ تو پھر نہ کیونکہ میں اپنے کام میں جب اپنی محبوبہ بیوی کو مار سکتا ہوں تو بیٹی کو کیوں نہیں بیٹی بھی وہ جو اپنی ماں کی طرح کُھلم کھلا اعلان جنگ کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے کے انکشاف پر وہ اپنی جان کی فکر چھوڑ کر اپنی ماں کی موت پر بلک اُٹھی۔
“کیا ماما کو آپ نے مارا،مطلب اُنکو ہارٹ اٹیک نہیں تھا ہوا،تم اتنے ظالم کیسے ہو سکتے ہو سُلطان رائے کہ تُمہیں اپنی بیوی پر زرا رحم نہیں آیا؟آخر رحم آ بھی کیسے سکتا تھا جو دوسروں کی جان لینے کا شوقین ہو وہ اپنوں کو بھی نہیں بخشتا،اس وقت مجھے اپنے آپ سے نفرت ہو رہی ہے کہ میری رگوں میں آپ کا گندہ خُون دوڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“فکر نہ کرو بہت جلد تم بھی اپنی ماں کے پاس جانے والی ہو کیونکہ تُمہارا زندہ رہنا میری موت کی وجہ بن سکتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میری موت بھی اب تُمہیں نہیں بچا سکتی سُلطان رائے کیونکہ وہ چِپ جس کے پاس ہونی چاہئیے تھی اُس کے پاس جا چُکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”لبوں پر تمسخرانہ ہنسی لیے اُس نے سُلطان رائے کے فق چہرے کی طرف دیکھا اور پھر اگلے ہی لمحے وہ سُلطان رائے کے پستول سے نکلتی دو گولیوں کا شکار ہوتی وہی لڑھک گئی سُلطان رائے انوار صدیقی کو کال ملاتا وہاں سے چل دیا۔
جب باری اس کے پاس آیا تو وہ چند سانسوں کی محتاج تھی۔
“باری یہ چپ،یہاں سے دُور چلے جاؤ،آہ،چھوڑنا مت انکو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اپنے ہاتھ میں دبی چِپ اُسکے سُپرد کرتی وہ آخری ہچکی لیتی آنکھیں بند کر گئی باری ابھی ساری صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا تبھی ہائما کوسُلطان رائے نے کال کی کہ باری نے ماہا کو آج کوئی نقصان پہنچانا ہے اُس کے پاس جاؤ جب ہائما انوار صدیقی کے ساتھ آئی تو ماہا کو مردہ حالت میں دیکھ کر پتھر کی ہو گئ اُس نے پسٹل نکال کر باری کو مارنا چاہا مگر انوار صدیقی اُسے وہاں سے لے گیا۔
“اُس نے میری بہن کو مار دیا اور تم مجھے یہاں لے آئے ہو،مجھے اُسے قتل کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ روتے ہوئے چیخ اُٹھی۔
“میری بچی حوصلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے نے انوار صدیقی کو جانے کا اشارہ کیا اور ہائما کو اپنے ساتھ لگا لیا۔
“دل تو میرا بھی کر رہا کہ اُس باری کو زندہ گاڑ دُوں جس نے میری پھولوں جیسی بیٹی کے ساتھ پہلے زیادتی کی پھر اُسے مار دیا۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان رائے نے جلتی پر تیل چھڑکنے کے لیے اپنے سے بات بنائی جس پر ہائما تڑپ اُٹھی تھی۔
“لیکن ہمیں پہلے اُس سے وہ چِپ حاصل کرنی ہے جس میں میری بے گُناہی کے اور ان کے کالے کرتوت کے سب ثبوت ہیں تا کہ ہم یہ ملک چھوڑ کر کہیں اور شفٹ ہو جائیں،کیونکہ میں اب بہت ڈر گیا ہوں ایک بیٹی کو کھو چُکا ہوں تُمہیں کھونے کا حوصلہ نہیں مُجھ میں۔۔۔۔..”سُلطان رائے بہترین اداکار تھا اور ہائما اس کی اداکاری میں اُلجھتی چلی جا رہی تھی۔
“_______________________“
“اور پھر وہاں سے آپ کے ساتھ نفرت کا سلسلہ شروع ہوا،میں کُچھ نہیں جانتی تھی جیسے جیسے پاپا مجھے کہتے رہے میں کرتی چلی گئی،مُجھے وہ چِپ حاصل کرنے کے لیے آپ کے قریب ہونا تھا اس لیے مُجھے دُرعدن بن کر آپ سے ملنا پڑا بلکہ صدف آپا کے ہمسائے بن کر اُن کے نزدیک ہو کر ایک مظلوم لڑکی کی کہانی بنائی آپ سے شادی کے بعد جہاں آہستہ آہستہ آپ میرے دل میں جگہ بناتے چلے گئے ویسے ہی مجھے پاپا کے کردار میں کُچھ عجیب سا لگنے لگا مگر میں سب چیزوں کو اگنور کرتی بس وہ چِپ ڈھونڈنے میں لگی تھی تا کہ جتنی جلدی ہو سکے ان سب چیزوں سے جان چُھڑوا کر باہر چلی جاؤں کیونکہ میں اپنے دل کو روک نہ پا رہی تھی جسے آپکی عادت ہوتی چلی جا رہی تھی اور یہ چیز مجھے بے چین کر رہی تھی آپکی سالگرہ والی رات بھی بس اپنے دل کے بدلاؤ پر مجھے غُصہ آیا تھا اور میں نے وہ غُصہ آپکی بائیک پر نکالا کہ سارا قصور اُس بائیک کا تھا نہ آپ ریس لگاتے نہ ماہا آپی آپ کو دیکھتیں اور نہ وہ سب ہوتا،اُسی رات پاپا نے کال کی دو آدمی بھیج رہا ہوں اقرب کا کام تمام کرو کیونکہ وہ مُشکلیں کھڑی کر رہا ہمارے کام میں،میں جب آپ تک گئی تو ہر لمحے میرے دل نے مجھے کوسا کہ میں کیا کر رہی ہوں،پھر جو آپ کو کال ہوئی وہ ریکارڈ تھی جو کسی ایسی ہی صورتحال کے لیے تھی،میرا دل بدل گیا تھا میں بدل گئی تھی کئی دفعہ تو ایسا ہوتا تھا کہ میں بُھول ہی جاتی تھی کہ میں کس سازش کے تحت آپ کی زندگی میں آئی،اُن دنوں کی ہی بات ہے کہ وہ چِپ میرے ہاتھ لگی جسے شاید میں نے دیکھنے کا فیصلہ ٹھیک کیا تھا اور اُسے دیکھنے کے بعد میری آنکھوں کے سامنے سے سارا پردہ ہٹ گیا تھا اور جب میں ماہا آپی کے رُوم میں گئی تو میرے لیے لکھ کر چھوڑا گیا خط جس پر سارے انکشاف تھے کہ پاپا یہ جاننے کے بعد اُسے مار دیں گئے،اور یہی بات میں نے پاپا کے مُنہ سے بھی سُن لی تھی ایک دن کہ وہ مجھے بھی صرف استمال کر رہے ہیں،میں یہ سب کُچھ آپکو بتانا چاہتی تھی مگر ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ میں نے خُود آپ سے دھوکہ کیا میں کیسے آپکو اعتبار دلا سکتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی آنکھوں سے آنسو لگا تار بہہ رہے تھے اقرب خاموش بیٹھا نظریں کسی غیر مری نُقطے پر جمائے بلکل چُپ تھا۔
“میں آپ سے معافی مانگتی رہونگی معاف کرنا نہ کرنا یہ آپ کی مرضی مگر پلیز اس وقت مجھ پر اعتبار کریں کیونکہ جو میں جانتی ہوں وہ آپ نہیں جانتے اقرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“میں سب کُچھ جانتا ہوں،آج نہیں بلکہ پہلے سےہی۔۔۔۔۔۔”وہ یکدم بول اُٹھا تھا عدن نے حیرانگی سے دیکھا جو کہہ رہا تھا۔
