Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Episode 7
No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
دل دُشمن
از
امرین ریاض
(قسط نمبر سات)
آج صُبح سے ہی بارش زور و شور سے ہو رہی تھی اور عدن کی جان تھی کہ لبوں پر آئی ہوئی تھی اسے شروع سے ہی رات کی بارش اور بادلوں کی گرج چمک سے ڈر لگتا تھا اور ابھی بھی بادلوں کی گرگراہٹ اور بجلی کی چمک اُسکی جان ہولائے دے رہی تھی۔
“اقرب پلیز جہاں بھی ہیں آ جائیں۔۔۔۔”وہ اقرب کی واپسی کی دُعائیں کرنے لگی اُسے کال کرنے کا سوچ کر سیل اُٹھایا پر اگلے لمحے ہی خُود کو کوس کر رہ گئی کہ نمبر تو اُسکا اس کے پاس تھا ہی نہیں اور نہ کبھی اقرب نے اسے کال وغیرہ کی تھی۔
“اور اگر لائٹ چلی گئی تو۔۔۔۔۔۔”یہ سوچ کر ہی وہ خوف سے سفید پڑنے لگی تبھی اُسے کسی کے قدموں کی آہٹ محسوس ہوئی تو اقرب کا سوچ کر کُچھ پُرسکون ہو گئی جو دو منٹ بعد ہی کمرے میں داخل ہوا تھا۔
“شُکر ہے آپ آ گئے ورنہ میرا تو ڈر کے مارے دم نکل رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے بھی یہی خیال آیا تھا اس لئے تو کام اُدھورا چھوڑ کر بھاگا چلا آیا۔۔۔۔۔۔”وہ مُسکرا کر بولتا اُس کے قریب ہی بیڈ پر ٹک کر شوز اُتارنے لگا۔
“ویسے بہت ڈرپوک ثابت ہوئی ہو،اتنی سی بارش سے گھبرا گئی۔۔۔۔۔۔”وہ شرارت کے موڈ میں تھا اس لیے مُسکراتے ہوئے اُسے دیکھا جو اب کچھ خفگی سے دیکھ رہی تھی۔
“یہ اتنی سی بارش ہے؟اور بادلوں کی آواز سُنی آپ نے۔۔۔۔۔۔”
“ہاں تو؟اتنا زبردست ساؤنڈ کریٹ ہو رہا بارش اور بادلوں کی گرج چمک کا،میرا تو آئیڈیل موسم ہے بڑی خواہش تھی ساون کی پہلی بارش ہو اور میں اور میری بیوی اُس میں بھیگیں پر اُف بڑی ڈرپوک بیوی ملی مجھے تو اور بہت ان رومانٹک بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسے تپ دلانے کی کوشش کر رہا تھا جس میں وہ کامیاب بھی رہا تھا نیلی آنکھوں میں غُصہ جھلک رہا تھا وہ نروٹھے انداز میں بیڈ سے اُتر کر جانے لگی مگر اقرب نے اُس کی کلائی کو جھٹکا دے کر اسے اپنے اُوپر گرا لیا۔
“چھوڑیں مجھے۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا آپ چھڑوانے لگی مگر اقرب نے بیڈ پر منتقل کرتے ہوئے اُس کے گرد دائیں بائیں بازو رکھتے ہوئے اُسے اپنے احصار میں قید کر لیا۔
“اب چھوڑنا تو نا ممکن بن گیا ہے لڑکی۔۔۔۔۔۔”اقرب نے پیار سے اس کے چہرے پر بکھری چند لٹوں کو سنوارا تھا۔
“اقرب آپ کھانا نہیں کھائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے پر سے اُسکا دھیان بٹانا چاہتی تھی۔
“فل وقت تو تُمہاری قُربت کی پیاس پاگل کر رہی ہے۔۔۔۔۔۔”نہ صرف لب و لہجہ بہکا تھا بلکہ وہ بہکی بہکی حرکتیں بھی کرنے لگ پڑا تھا عدن اُسکی بڑھتی شوخ جسارتوں پر گھبرا اُٹھی تھی۔
“آپ،اقرب آپ نے۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر روکنے کی کوشش کی گئی تھی مگر وہ ان لمحوں کی گرفت میں قید ہوتا اُس کے چہرے پر جھکتا اُسکی بولتی بند کروا گیا تھا وہ تو کاٹو تو بندن میں لہو نہیں کی طرح سن ہو گئی تھی جو قُربت کے مدہوش کن نشے میں ڈوبتا ہر حد پار کر رہا تھا عدن کی ہر مزاحمت اُسکی بانہوں میں دم توڑتی چلی گئی جو دیوانہ وار اُس کے ایک ایک نقوش کو چُومتا اپنا ہر حق جماتا چلا گیا ہاتھ بڑھا کر لائٹ آف کرتا اس پر جُھکا جو مکمل سپردگی اُسے بخشتی آنکھیں موند گئی تھی ایک بارش باہر ہو رہی تھی تو ایک بارش اندر ہو رہی تھی جو عدن کے وجود کو اپنی محبت سے بھگوتی چلی گئی کہ اُسکا پور پور اس چاہت کی بارش میں بھیگ کر نکھر گیا تھا۔
“______________________“
رات کو دیر سے سونے کی وجہ سے اُسکی آنکھ بھی کافی دیر سے کُھلی تھی بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ اُٹھا تو ایک نگاہ عدن کی تلاش میں پُورے کمرے میں دوڑائی مگر وہ کہیں نہ تھی بیڈ سے اُٹھ کر وارڈرب سے کپڑے نکال کر واش رُوم میں گُھس گیا جب دس منٹ بعد فریش ہو کر آیا تب بھی عدن کو کمرے میں نہ پا کر کُچھ حیران ہوتا ٹاول کو سٹینڈ پر رکھ کر باہر آیا تو نگاہ عدن پر پڑی جو ییلو سُوٹ میں نکھری نکھری ڈرائینگ رُوم کے صوفے پر بیٹھی تھی نم بال پُشت پر بکھرائے موبائل کو ہاتھ میں پکڑے وہ کُچھ مضطرب سی لگی تھی۔
“عدن۔۔۔۔۔۔۔”بہت نرم پُکار تھی مگر وہ پھر بھی ڈر کر اُچھلی تھی گود میں پڑا موبائل زمین پر سجدہ ریز ہوا تھا اقرب نے مُسکراتے ہوئے اُسے دیکھا جو پہلے کُچھ گڑبڑائی تھی پھر شرم سے سُرخ پڑتی نظر کے ساتھ چہرہ بھی جُھکا گئی۔
اقرب چوہان اُس کے قریب آیا زمین پر پڑا موبائل اُٹھا کر صوفے پر رکھا اور پھر اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے کمرے میں لا کر بیڈ پر بٹھایا۔
“تم اب میری طرف دیکھ سکتی ہو،ویسے شکل اتنی بُری بھی نہیں میری۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے مسلسل جھکے سر پر چوٹ کر گیا۔
“نہیں وہ۔۔۔۔۔۔”کُچھ کہنے کے لیے نظریں اُٹھائیں تھیں مگر اُسکی شریر آنکھوں کو دیکھ کر پھر سے لال انار ہو گئی جو اُسکی شرمائی شرمائی کیفیت اور اداؤں سے محفوظ ہوتا اس کے خُوشبو بکھیرتے نم بالوں میں چہرہ چُھپا گیا۔
“بہت ظالم ہو یار اپنی ایک ادا سے ہی میرے ہوش و حواس چھین لیتی ہو۔۔۔۔۔۔”بوجھل لہجے کی گمبھیرتا نے عدن کے پُورے وجود میں ایک سنسی خیز لہر دوڑا دی وہ رفتہ رفتہ اُس کے پھر سے قریب جا رہی تھی جو اُسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ کر اُسکی دھڑکنوں کی رفتار بڑھا گیا تھا بہت جان لیوا قُربت تھی جس میں پھر سے وقت ریت کی طرح پھسلتا جا رہا تھا۔
“دل تو کرتا ہے تُمہیں اپنے سینے میں قید کر لُوں،قسم اٹھا کر کہتا ہوں اقرب چوہان کا جینا اب تُمہارے بیغیر مُشکل ہو جائے گا،دل میں اُتر کر روح میں اُترتی جا رہی ہو یار۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی نیلی آنکھوں کو باری باری چُومتا وہ اپنی ہار کا اعتراف کر گیا جو بڑی مُشکل سے اقرب سے خُود کو آزاد کرواتی اُٹھی تھی۔
“میں ناشتہ لگواتی ہوں آپ آ جائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بنا دیکھے بولتی وہ چلی گئی اقرب چوہان کو اُسکا رویعہ کُچھ عجیب سا لگا۔
“کہیں ناراض تو نہیں کہ میں نے عدن کو اُس کے پاپا کے مان جانے تک ٹائم دیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”یہ سوچ آتے ہی وہ خُود کو کوس کر رہ گیا کہ کیوں جذبات میں آ کر وہ بنا اُسکی مرضی پوچھے اپنا استحقاق جما گیا تھا۔
“منانا پڑے گا ورنہ اُسکا روٹھنا جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑاتا ہوا اُس کے پیچھے کمرے سے باہر نکلا۔
“______________________“
قُرت خٹک کی اداؤں نے آخر اپنا تیر مرتقوی یزدانی کے سینے میں پیوست کر ہی لیا تھا بڑھتی ہوئی ملاقاتوں کے ساتھ وہ ایک دوسرے کے کافی قریب آ گئے تھے دونوں ہی ایک دوسرے کو اپنے قریب لاتے ایک دوسرے کا کام آسان کر رہے تھے۔
“تُم نے کبھی اپنی فیملی کے بارے میں نہیں بتایا مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”قُرت کے سوال پر مرتقوی نے کندھے اُچکائے۔
“تم نے کبھی پوچھا ہی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“اب پوچھ رہی ہوں اب بتا دو۔۔۔۔۔”
“بتانا کیوں ہے اب ملاقات ہی کروا دُونگا تا کہ اب اس سے آگے بات چلائی جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی کے مہبم اشارے پر وہ دل ہی دل میں تمسخر اُڑاتی بظاہر مُسکرائی۔
“اوکے کیوں نہیں،تم یہ آرمی والوں کے ساتھ بہت دوستی کر کے بیٹھے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کیوں تُمہیں آرمی والے نہیں پسند۔۔۔۔۔۔۔۔؟جواب دینے کے بجائے سوال داغا گیا۔
“مُجھے پاک آرمی سے بہت پیار ہے پر مُجھے آرمی والے زہر لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی عجیب و غریب بات پر وہ حیرانگی سے دیکھنے لگا جو آرام سے پاستا کھانے میں مصروف تھی۔
“شُکر ہے تُمہیں میں زہر نہیں لگتا۔۔۔۔۔۔۔”بے اختیار زبان سے نکلا تھا۔
“تُم کونسا آرمی میں ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“آرمی والے کا دوست تو ہوں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے بات سھنبالی تھی اور کن انکھیوں سے اُسے دیکھا جو سر ہلاتی دوبارہ کھانے میں مصروف ہو چُکی تھی دونوں ایک دوسرے سے اپنی اصلیت چُھپا رہے تھے اور دل ہی دل میں مُسکرا دئیے تھے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کی اصلیت جانتے تھے اور دونوں اس چیز سے واقف نہ تھے۔
“کتنا بیوقوف ٹارگٹ ملا ہے اس بار۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اسکی طرف دیکھ کر مُسکرائی تھی۔
“دُشمن اُوپر سے بیوقوف کافی مزہ آنے والا ہے کیپٹن مرتقوی یزدانی۔۔۔۔۔۔۔”اسکی آنکھوں میں بھی تمسخر تھا۔
“_______________________“
“ایک تو جسے دیکھو جہانہ جہانہ کرتا پھر رہا ہے،جہانہ اتنی فارغ نہیں کہ سب کے بُلانے پر دوڑی چلی آئے ہاں۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے بالوں کو جھٹکے سے پیچھے کرتی سامنے موجود گارڈز کو گُھورنے لگی۔
“تُمہیں تو اس چیز کا شُکر کرنا چاہئیے کہ سُلطان نے تُمہیں خُود یاد کیا ہے،لوگ تو سلطان سے ملنے کے لیے ترستے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”اُن میں سے ایک گارڈ نے اسے اسکی خُوش قسمتی سے آگاہ کیا تھا۔
“تو جہانہ بھی کوئی معمولی ہستی نہیں ہے؛دبئی کے شیخ تک میرے دُر پر آتے ہیں،تم لوگوں کا سُلطان کیا چیز ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سلطان کی ان دیکھی پرسنالٹی سے زرا متاثر نہ تھی دونوں نے حیرانگی سے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر گاڑی کے سلطان ولا میں رُکتے ہی دونوں اُترے اور اُسکا دروازہ کھول کر اُسے بھی اُترنے کا اشارہ کیا۔
“بڑی گرمی ہے،امبریلا میرے سر پر کرو ورنہ میرا کلر خراب ہو جائے گا۔۔۔۔۔…”وائٹ روش پر اپنی اونچی ہیل سے ٹک ٹک چلتی اپنے آرٹی فیشل بالوں کو ہاتھ میں گُھماتی خُود کو شاید مس ورلڈ تصور کر رہی تھی۔
“مجھے تو سمجھ نہیں آ رہا سُلطان نے اس شی میل کے اندر دیکھا کیا،بس یہی کہ اپنی ہجڑوں کی پارٹی کا گُرو ہے یہ بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے پیچھے چلتے دونوں نے ایک دوسرے سے اظہار خیال کیا جو وہ کب سے سوچ رہے تھے۔
“صرف پارٹی کا نہیں گینگ کا گُرو ہے یہ،اور رائے صاحب کبھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسرے کی اطلاع پر وہ سر ہلا گیا۔
ایک بڑے سے ہال میں داخل ہوتی وہ ارد گرد دیکھنے لگی پھر صوفے پر دونوں پاؤں اُوپر کر کے آلتی پالتی مار کے اُن گارڈز کو دیکھنے لگی۔
“جاؤ جلدی بلاؤ اپنے سُلطان کو،اتنا فالتو ٹائم نہیں میرے پاس،رات کو کسی فنکشن پر بھی جانا مجھے اور ہاں کوئی ٹھنڈا ونڈا بھی پلاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔”اپنے ہاتھ میں پکڑے کلچ سے پان کی پُریا نکال کر مُنہ میں رکھ لی اور پان کو کھاتے ہوئے سیڑھیوں کی طرف دیکھنے لگی جہاں سے شاید سوٹڈ بوٹڈ سُلطان ہی چل کر آ رہا تھا ساٹھ کی عمر کا وہ آدمی اس کے قریب آ کر رُکتا اسے دیکھنے لگا جو بے تاثر چہرہ لیے پان کھانے میں مشغول تھی۔
سُلطان نے باریک بینی سے اُسکا جائزہ لیا پنک سُوٹ میں ڈوپٹہ گلے میں ڈالا تھا چہرے کا گُندمی رنگ جس پر میک اپ کی تہیں جمائی ہوئیں تھیں آنکھوں میں لمبا سا کاجل کانوں میں بڑے بڑے ایئر رنگز اور ہاتھوں میں رنگ برنگی چوڑیاں آرٹی فیشل بالوں کی چٹیا آگے کیے وہ اپنے حُلیے سے ہی اپنی زات کا پتہ دے رہی تھی۔
“اوہ تو تُم ہو جہانہ،نُور بازار کا گرو۔۔۔۔۔”سُلطان اُس کے سامنے والے صوفے پر براجمان ہوا۔
“جب ساری خبر ہے تُمہیں تو پوچھتا کاہے کو ہے،کام کی بات پر آؤ۔۔۔۔۔۔۔”ملازم کے ہاتھوں جوس کا گلاس لیتے ہوئے وہ کچھ رکھائی سے بولی تھی سُلطان کو اُسکا انداز کُچھ ناگوار گُزرا تھا مگر وہ اپنے فائدے کے لیے گدھے کو باپ کیا خُود بھی گدھا بن جایا کرتا تھا۔
“لوگ صرف تیری ظاہری شکل کو جانتے ہیں پر میں تُمہاری اصل شکل سے بھی واقف ہوں جہانہ۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان نے اپنی سگریٹ جلائی۔
“بتا کیا ہے اصل شکل میری۔۔۔۔۔۔۔”اُس کا وہی انداز تھا پُراعتماد۔
“یہی کہ تُم وڑائچ کے ساتھ اُسکے ہر اللیگل کام میں ملوث ہو چاہے وہ بچوں اور لڑکیوں کی اسمگلنگ ہو یا دو نمبر اسلحہ اور سفید پاوڈر کی بات ہو۔۔۔۔۔۔”اب کی بار وہ چونکی تھی اور اُسکا چونکنا سُلطان نے بھی نوٹ کیا تھا۔
“یہ سب تُجھے کس نے بتایا۔۔۔۔۔۔۔؟
“اجمل پٹھان نے،سُنا ہے وڑائچ کے مال کو ہر چیکنگ پوسٹ سے بحفاظت نکالنا صرف تُمہارا کام ہے اور یہی بات مجھے متاثر کر گئی تُم جانتی ہو جہانہ آجکل بہت سختی ہوئی ہے،آرمی اس دفعہ خُود پاکستان کے اندر کے حالات کا جائزہ لیتی ایکشن لے رہی ہے اور پچھلے ایک ماہ سے مُجھے مال بجھوانے میں کُچھ مُشکل آ رہی ہے اور میں بنا کسی کی نظروں میں آئے ہر کام کرنا چاہتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان سگریٹ کو جوتے سے مسل کر اُٹھ کھڑا ہوا۔
“وڑائچ کو چھوڑنا پڑے گا پھر تو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بڑبڑائی مگر اُسکی آواز سُلطان کے کانوں تک بخوبی پہنچ گئی تھی۔
“اُسے چھوڑنے کا انعام بھی دُونگا اور اُس سے ڈبل پیسہ ملے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان کے لالچ دینے پر اُسکی آنکھیں چمکی تھیں۔
“ٹھیک ہے سُلطان پر تم کبھی مُجھ سے فراڈ نہیں کرو گئے ورنہ جہابہ اگر کام آ سکتی ہے تو کام بگاڑ بھی سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے انداز میں وارننگ تھی۔
“اور سُلطان اپنے فائدے کو کبھی لات نہیں مارتا بے فکر رہو۔۔۔۔۔۔۔”سُلطان نے اپنے گاڑڈ کو اشارہ کیا اُس نے کُچھ نوٹ اس کے آگے ٹیبل پر رکھ دئیے۔
“______________________“
زکی سُلطان سے ملنے کے لیے بلکل تیار تھا مگر اجمل پٹھان نے اُسے کال کر کے آنے سے منع کر دیا تھا۔
“سُلطان ابھی دبئی چلا گیا واپسی دس دن کے بعد ہو گی اب تُمہیں انتظار کرنا پڑے گا زکی۔۔۔۔۔۔۔”اجمل پٹھان کی بات زکی کو بدمزہ کر گئی۔
“اوکے ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”کال بند کر کے اُس نے وڑائچ کا نمبر ملایا تھا۔
“کیا بنا زکی۔۔۔۔۔۔”وہ چھوٹتے ہی پوچھنے لگا۔
“سُلطان پاکستان سے باہر ہے اب دس دن لگ سکتے ہیں اُس سے ملنے کے لیے تب تک تم اپنا کام کرو۔۔۔۔۔۔۔”
“ابھی رات تک تو پاکستان میں تھا وہ،ضرور کسی ڈیل کی وجہ سے گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔”
“ہاں کیونکہ اگلے ماہ دبئی میں صحرائی کیمل ریس ہے اور تُمہیں پتہ اُس ریس کے لیے بچے اور لڑکیاں چاہئیے ہوتیں ہیں جو اس بار سُلطان فراہم کرے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی کے پاس ساری انفارمیشن تھی اور کیسے تھی یہ تو وڑائچ بھی نہیں جانتا تھا۔
“چلو ٹھیک ہے پھر،اب ویٹ کرنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔”وڑائچ کے کہنے پر زکی نے فُون بند کر کے بیڈ پر اُچھالا۔
“جو بھی کرنا ہے اس ایک ماہ کے اندر کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔”
“_____________________“
