Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Episode 4
No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
دل دُشمن
از
امرین ریاض
(قسط نمبر چار)
وہ اُس سے ایڈریس پوچھتا گاڑی عدن کے گھر کے سامنے روک کر اُسے اُترنے کا کہتا خُود بھی گاڑی سے اُتر گیا۔
“پلیز واپس چلتے ہیں،کُچھ دن بعد آ جائیں گئے۔۔۔۔۔۔”وہ آخری بار اسکا ارادہ بدلنے کی کوشش کرنے لگی تھی۔
“جو کام کُچھ دن بعد کرنا ہے وہ ابھی ہو جائے تو اچھا نہیں،اور آپکو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں میں ہوں نہ آپ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے عدن کا ہاتھ پکڑا اور اُسے لیے اندر چلا آیا جہاں ہال میں ہی اُنکو نارینہ بیٹھی مل گئی جو ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر ایک جھٹکے سے اُٹھی تھی۔
“اوہ تو آ گئی تُو ہمارے مُنہ پر کالک مل کر،اس کے ساتھ مُنہ کالا کر کے آئی ہو نہ،لگتا جس کا دل بھر گیا جو اب تُمہیں چھوڑنے آ گیا۔۔۔۔۔۔۔”نارینہ نے زہر خند نظروں سے عدن کو دیکھا تھا۔
“کس قدر واہیات الفاظ استمال کر رہی ہیں آپ،بنا کُچھ پوچھے بنا کُچھ جانے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کو اُسکا لہجہ اور انداز ایک آنکھ نہ بھایا تھا۔
“اب اور جاننے کو کُچھ رہ گیا ہے کیا؟تین راتیں باہر گُزار کر آنے والی لڑکی کے ساتھ اسی انداز میں بات کی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ بھی تو سوچیں کہ وہ کیوں یہ تین راتیں باہر گُزارنے پر مجبور ہوئی تھی؟آپ لوگ جس دلدل میں اسے جھونکنے والے تھے کیا اُس کے بعد بھی یہ ایسا قدم نہ اُٹھاتی تو کیا کرتی؟کیسے بے حس والدین ہیں آپ پیسے کی خاطر کس طرح آپ لوگ اپنی بیٹی کی پوری زندگی داؤ پر لگا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے نرمی سے اُنکو قائل کرنا چاہا تھا۔
“واہ بھئی واہ کیا عاشق ڈھونڈا ہے تُم نے،اس کے اسی بھاشن پر تُم اس کے ساتھ بھاگی ہو گی ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔”نارینہ کے لہجے میں تمسخر تھا عدن تو بس سُرخ چہرہ اور نم آنکھیں لیے اقرب کی پُشت پر چُھپی رہی تھی۔
“مُجھے آپ سے کوئی بحث نہیں کرنی،عدن کے پاپا کہاں ہیں اُنکو بُلائیے۔۔۔۔۔۔”وہ نارینہ کے حُلیے اور باتوں سے ہی جان گیا تھا کہ وہ کس قسم کی عورت تھی اور ایسی عورتوں کے ساتھ اُلجھنا اُسے پسند نہ تھا۔
“نہیں ہیں یہاں وہ اور ویسے بھی اگر ہوتے بھی تو اس بے شرم اور ذلیل لڑکی کو گھر بھی نہ گُھسنے دیتے جو اپنے باپ کی عزت کو رول کر عیاشیاں کرتی پھر۔۔۔۔۔۔”
“مائینڈ یور لینگویج مس،آپ جانتی نہیں کہ آپ کس کے بارے اور کس کے سامنے کیا کہہ رہی ہیں اگر آپ عورت نہ ہوتیں تو یہ زبان ہی گدی سے کھینچ نکالتا جس سے آپ میری بیوی کے خلاف زہر اُگل رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس قدر درشت لہجے میں اُسکی بات کاٹ کر بولا کہ نارینہ جہاں پھیکی پڑی وہی عدن بھی کُچھ سہم گئی تھی۔
“یہ میرا کارڈ ہے،اس کے پاپا آئیں تو اتنا پیغام دے دیجیے گا کہ عدن اس وقت اپنے شوہر کے ساتھ اپنے گھر میں موجود ہے اور اگر وہ باپ بن کر آتے ہیں تو ٹھیک اگر آپکی زبان کے مطابق آئیں گئے تو میری بیوی سے بدتمیزی تو دُور کی بات اُس پر بُری نظر بھی پڑی تو میں وہ آنکھیں بھی نکال لونگا کیونکہ عدن اقرب چوہان کوئی عام لڑکی نہیں رہی اب،مائینڈ اٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سپاٹ انداز میں وارننگ صاف محسوس کی جا سکتی تھی نارینہ تو اُس کی آنکھوں سے نکلتے شعلوں پر ہی سُن رہ گئی تھی۔
“آؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”گُم صُم عدن کا ہاتھ پکڑتا وہ جیسے آیا تھا ویسے ہی اُسے لیے چلا گیا۔
“______________________“
“باری میں آج بہت خُوش ہوں،تُم جانتے ہو پاپا کو ہمارے رشتے پر کوئی اعتراض نہیں وہ تُم سے ملنا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”باری نے سُوئی جاگی کیفیت میں کال اٹینڈ کی تھی مگر ہائما رائے کا چہکتا لہجہ سماعتوں سے ٹکرایا تو وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ کر بیٹھ گیا تھا۔
“اوہ رئیلی وہ مُجھ سے ملنا چاہتے ہیں،مطلب اُنکو کوئی اعتراض نہیں۔۔۔۔۔۔”وہ پہلے تو اپنے مطلب کی بات کرتا خُوش ہوا تھا مگر پھر اپنا انداز بدل گیا تھا۔
“ہاں تُمہیں ایڈریس سینڈ کر رہی ہوں تُم رات کو وہی آ جانا ساتھ ڈنر بھی کریں گئے اور آج کی رات میں تُمہارے ساتھ گُزارنا چاہتی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا لہجہ شہد آگہیں تھا۔
“اوکے تُم کر دو میں آ جاؤنگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکا انداز نظر انداز کر گیا۔
“کال بند کر کے باری نے موبائل سائیڈ پر رکھا پھر پُرسوچ نظریں باہر کے منظر پر ٹکا دیں۔
“کیا کوئی اتنی آسانی سے میرے روبرو آ جائے گا یا باری کو ٹریپ کرنے کی یہ کوئی کوشش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”گہرا سانس بھرتا وہ اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہوا۔
“یہ نمبر سینڈ کر رہا ہوں اس وقت کی لوکیشن سینڈ کرو مُجھے۔۔۔۔۔۔”کہہ کر اس نے کال کٹ کر دی اور اپنے کپڑوں کی طرف متوجہ ہو گیا اور پھر وہ لباس منتخب کیا جو دیکھنے کی حد تک لباس تھا مگر اُس کے اندر کُچھ ایسے راز تھے جن کو صرف وہ ہی جانتا تھا۔
“______________________“
وہ ڈنر کے بعد چہل قدمی کرنے لان میں جانے لگا تو ساتھ عدن کو بھی آواز دے دی۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے قریب آئی۔
“اٹھائیس سال ہوگئے اکیلے واک کرتےہوئے اب ساتھی مل گیا ہے اُس کے بعد بھی اکیلے واک کرنا کتنا بُرا فعل ہے۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ زیر لب مُسکرا دی۔
“اس ٹائم واک۔۔۔۔۔۔؟وہ رات کی پھیلتی سیاہی کو دیکھنے لگی۔
“تو کیا اس ٹائم لوگ واک نہیں کرتے۔۔۔۔۔۔؟
“کرتے ہونگے میں نے کبھی دیکھا نہیں۔۔۔۔۔۔”
“تو اب ساتھ بھی دئیجیے اور مجھے واک کرتے ہوئے دیکھیں بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُسکا ہاتھ پکڑ کر اُسے ساتھ لیے چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا لان میں چلا آیا عدن اُس کے مضبوط ہاتھ میں چُھپے اپنے ہاتھ کو دیکھ کر عجیب سے احساس سے دُوچار ہو گئی۔
“مجھے نیند آ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا ہاتھ اُسکی گرفت سے نکالتی نگاہیں پھیر گئی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا۔
“میرے پاس آپکی نیند کو بھگانے کا طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ رُک کر بولا۔
“کیا۔۔۔۔۔۔۔”عدن متوجہ ہوئی جو زیرلب مُسکرا رہا تھا۔
“نیند کو بھگانے کے لیے رومینس اور رومانٹک گفتگو کافی خاصیت رکھتی ہے۔۔۔۔۔۔”بڑا پُرحدت انداز تھا اُسکی نیند کیا اُسکا دماغ بھی بھک سے اُڑ گیا تھا وہ سُرخ ہوتی جانے لگی مگر اُسکا ہاتھ اُُسکی گرفت میں آ گیا تھا۔
“ہے مسز اقرب،ایسے تو نہ جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”کیا دلکش التجا تھی دُرعدن کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔
“اگر تُم اجازت دو تو کیا رُخصتی کا کہہ دُوں،ہمیں اب ایک ہو جانا چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”دھیمے لہجے کی فرمائش تھی عدن کو پتہ بھی نہ لگا کب اُس نے آہستہ سے اسے اپنے اتنے قریب کیا تھا کہ دُرعدن کی پُشت اُس کے سینے سے جا لگی تھی۔
“مُجھے لگتا ہے مجھے محبت ہو رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”مدھم سرگوشی اُس کے کان کے پاس اُبھری تھی عدن تو بلکل ساکت تھی جیسے جان ہی نہ رہی تھی۔
“پلیز مکمل کر دو۔۔۔۔۔۔۔”پُر تپش لہجہ اُس کے رُخسار گرم کر گیا وہ اُس کی گرفت سے نکلتی بھاگتی ہوئی اپنے کمرے میں آ کر لمبے لمبے سانس لیتی بیڈ پر گری تھی۔
“______________________“
قُرت خٹک اپنی ناکامی سے کڑھتی غُصے سے بل کھاتی مرتقوی کو کوسنے اور گالیوں سے مسلسل نوازتی ادھر سے اُدھر چکر لگا رہی تھی۔
“کمینہ،پتہ نہیں کہاں سے بیچ میں آ گیا۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اپنے مُنہ سے اور کُچھ نکالتی بجتے سیل نے اُسکی توجہ اپنے طرف کھینچی۔
“اوہ شٹ،کیا جواب دُوں انکو۔۔۔۔۔۔”سکرین پر چمکتے نمبر کو دیکھ کر اُسکی سانس ر
کی تھی پھر گہرا سانس لیتی کال اٹینڈ کر گئی۔
“کام ہوا کہ نہیں۔۔۔۔۔”پوچھا گیا قُرت نے اپنے سُوکھے لبوں کو تر کیا۔
“وہ دراصل میں۔۔۔۔”
“مطلب ناکام ہو گئی،ویل یہ لاسٹ موقع تھا اب نیکسٹ فیل ہوئی تو معاف نہیں سیدھا صاف کیا جائے گا،سمجھ تو گئی ہو گی تُم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”کافی بے لچک انداز تھا۔
“آئم صوری،نیکسٹ ٹائم میں اپنی۔۔۔۔۔۔۔”
“اس طرح کے بے مقصد الفاظ مُجھے نہیں سُننے۔۔۔۔۔۔”کھٹاک سے فُون بند کر دیا گیا۔
“اُف۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر تھام گئی۔
“مسٹر کیپٹن مرتقوی یزدانی کیوں نہ پہلا نوالہ تُمہیں ہی بنایا جائے،تم نہیں بچو گئے میرے ہاتھ سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ خیال میں اُس سے مخاطب ہوئی جس کی وجہ سے اُسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
“______________________“
ہائما رائے اپنے موبائل کو دیکھتی کسی گہری سوچ میں گُم تھی تبھی اس کے ہاتھ میں موجود موبائل وائبریٹ کرنے لگا تھا ادھر اُدھر دیکھتی وہ کال اٹینڈ کر گئی۔
“جی پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف اسکا باپ تھا۔
“مُبارک ہو تم کافی حد تک کامیاب ہو گئی ہو اپنے مقصد میں۔۔۔۔..”
“مجھے آدھی اُدھوری کامیابی کی کوئی خُوشی نہیں،میں خُوش تب ہوونگی جب اپنے دُشمن کو چاروں شانے چت کر کے اس دُنیا سے اُسکا صفایا کرونگی۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے لہجے میں نفرت صاف محسوس کی جا سکتی تھی۔
“وہ بھی ہو جائے گا،پہلے اُس کام تک تو رسائی حاصل کر لو جس کے لیے تُم اُس تک گئی ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی آپ فکر نہ کریں پاپا،بس کُچھ دن تک وہ سب کُچھ میرے ہاتھ میں ہوگا اور وہ دن اُس کا آخری دن ہوگا۔۔۔۔۔”ہائما رائے کا مظبوط لہجہ اُس کے باپ کو نہال کر گیا۔
“شاباش میری بیٹی،مُجھے تم پر ہمیشہ فخر تھا اور رہے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“آپ کو اپنا وعدہ یاد ہے نہ پاپا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے پوچھنے پر اُسکا باپ گڑبڑایا تھا مگر وہ محسوس نہ کر سکی۔
“ہاں کیوں نہیں بھلا،تُم کرو اپنا کام اور ہاں زرا دھیان سے وہ بہت خطرناک ہے اگر اُسے زرا بھی بھنک پڑ گئی تو وہ ہمیں چھوڑے گا نہیں۔۔۔۔۔۔”
“اُسکی آپ فکر نہ کریں مُجھے پتہ ہے اُسے کیسے ہینڈل کرنا ہے۔۔۔۔۔۔۔”ہائما نے اُنکو تسلی دیتے ہوئے فُون بند کر دیا۔
“______________________“
اجمل پٹھان سے ڈیل کر کے اُٹھا تھا جب اجمل پٹھان کی بات پر وہ کُچھ چونک کر اُسکی طرف پلٹا تھا۔
“انوار صدیقی تُم سے ملنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“مُجھ سے پر کیوں۔۔…۔۔”
“اسی کام کے سلسلے میں،میں نے اُسے بتایا تُمہارے بارے میں،اگر تُم زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہو تو اُس کے ساتھ کام کرو،اُسکا واسطہ بہت اُوپر تک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہاری بات مان کر اُس سے مل لیتا ہوں،کیونکہ مجھے تو ہر اُس کام میں دلچسبی ہے جس میں پیسہ ہو۔۔۔۔۔۔۔”زکی کے کہنے پر اجمل پٹھان مُسکرایا۔
“تو سمجھو انوار صدیقی تُمہارے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوگا۔۔۔۔۔۔”
“چلو دیکھ لیتے ہیں وہ میرے لیے سونے کی چڑیا ثابت ہوتا ہے یا میں اُسے آسمانوں تک پہنچاتا ہوں۔۔۔۔۔۔”وہ معنی خیزی سے بولا جس کو بنا سمجھے اجمل پٹھان ہنس دیا۔
“لگتا تُمہیں پیسے کی بہت خواہش ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“پیسے کی نہیں سُلطان کی۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی نے سگریٹ کا بڑا سا کش لیا۔
“سُلطان۔۔۔۔۔۔۔..”اجمل پٹھان حقیقتاً حیران ہوا تھا۔
“ہاں سُلطان بہت نام سُن رکھا اُسکا،اس بلیک دھندے کے بازار میں سب سے بڑا بیوپاری ہے وہ،کمال ہے تُم نہیں جانتے اُسے۔۔۔۔۔۔”زکی نے اُس کے چہرے کے اُتار چڑھاؤ غور سے ملاحظہ کیے تھے۔
“جانتا ہوں بس نام کی حد تک،انوار صدیقی ضرور جانتا ہوگا اُسے۔۔۔۔۔۔۔”
“چلو پھر تُم بھی اُس سے ملنے کی کوشش کرو میں بھی کرتا ہوں دیکھتے ہیں کس کی مُراد بر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ادھ جلے سگریٹ کو جوتے سے مسلتا وہ اُٹھ کھڑا ہوا۔
“مال پہنچ جائے گا نہ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جب پیسہ پہنچ جائے گا تو مال بھی پہنچ جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی نے اُس سے کہتے ہوئے باہر کی راہ لی۔
“______________________“
