Dil Dushman By Amreen Riaz Readelle50193 Last updated: 26 August 2025
No Download Link
Rate this Novel
Dil Dushman
By Amreen Riaz
شادی کے دوسرے دن ہی غائب ہوتا اقرب ابھی تک گھر نہیں آیا تھا آج بی جان اور شہناز بیگم کی فلائٹ تھی اور وہ دونوں مُسلسل غُصے سے اقرب کو کوس رہی تھیں۔ "دیکھو تو اُسے ابھی تک نہیں آیا،ہمارے جانے کے بعد یہ اس طرح عدن کا خیال رکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"شہناز بیگم کو رہ رہ کر اُس پر تاؤ آ رہا تھا۔ "ماما آپکو تو پتہ اُسکی جاب ہی ایسی ہے،میری بات ہوئی اُس سے وہ اتنے دن اس لیے نہیں آیا کہ سارا کام ختم کر کے پُورا ایک ماہ ریلیکس ہو کر عدن کو ٹائم دے سکے۔۔۔۔۔۔۔"ہمیشہ کی طرح صدف آپا نے ہی اُسکی سائیڈ لی تھی جس پر وہ دونوں کُچھ پُرسکون ہو گئیں۔ صدف آپا اور حسن بھائی اُنکو ائیرپورٹ چھوڑنے چلے گئے تو عدن اپنے کمرے میں آ کر سو گئ دو گھنٹوں بعد کھٹکے کی آواز پر اُسکی آنکھ کُھلی تھی آنکھیں کھول کر دیکھا تو اقرب کو وارڈرب سے کپڑے نکالتے پایا۔ "آپ اب آئے ہیں،بی جان اور ماما کتنا ویٹ کر کے گئیں آپکا۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُٹھ کر بیٹھتی خُود کو کچھ کہنے سے باز نہ رکھ پائی۔ "ابھی اُنکو مل کر سی آف کر کے آیا ہوں،کسی کام میں پھنس گیا تھا پھر وہی سے سیدھا ایئرپورٹ چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُسے بتاتا واش رُوم میں گُھس گیا عدن بال سمیٹ کر بیڈ سے اتری ٹائم دیکھا جہاں رات کے دس بج رہے تھے وہ ڈنر کے خیال سے کچن میں آئی جہاں خانسا ماں کھانا ٹیبل پر لگا رہا تھا کچھ ہی دیر بعد اقرب بھی بلیک شلوار سُوٹ میں نکھرا نکھرا سا ٹیبل پر آ پہنچا۔ "کیا تُم ڈنر کئیے بغیر ہی سو گئ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "ہاں میرا دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔"وہ مدھم لہجے میں بولی۔ "کیوں۔۔۔۔۔۔"اقرب نے گہری نگاہوں سے دیکھا وہ کُچھ بجھی بجھی لگی۔ "بی جان اور ماما کے بغیر دل نہیں لگ رہا میرا۔۔۔۔۔۔۔۔" "لڑکی ابھی سے؟ابھی تو کُچھ گھنٹے ہوئے اُنکو اور فکر نہ کرو تُمہارا دل لگانے کو میں ہوں نہ۔۔۔۔۔۔"وہ مُسکرایا۔ "آپ کا کیا بھروسہ،چاہے پھر سے غائب ہو جائیں۔۔۔۔۔۔۔"وہ اُس کے اچانک غائب ہو جانے پر چوٹ کرتے ہوئے بولی. "میری جاب ہی کچھ ایسی ہے یار۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ سر کھجانے لگا۔ "کیا جاب ہے آپکی؟آئی مین کیا کرتے ہیں آپ۔۔۔۔۔۔"جب سے وہ اس گھر میں آئی تھی دیکھ رہی تھی کہ وہ دس پندرہ دنوں کے لیے غائب ہو جاتا تھا کہاں ہوتا تھا یا کیوں وہ آج تک نہ سمجھ سکی تھی۔ "بزنس ہے باقی تفصیل پھر کبھی سہی،تُم یہ بتاؤ کہ تُمہارے پاپا سے بات ہوئی تُمہاری۔۔۔۔۔۔۔؟اقرب کے سوال پر وہ سر نفی میں ہلا گئی۔ "مُجھے نمبر دو اُنکا،میں ٹرائی کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔" "نہیں آپ رہنے دیں میں خُود ہی کر لونگی۔۔۔۔۔۔۔"وہ جلدی سے منع کر گئی اقرب چوہان ہاتھ نیپکن سے صاف کرتا اُٹھ کھڑا ہوا۔ "میں چاہتا ہوں کہ تم جلدی اُنکو منا لو کیونکہ اب انتظار زرا مُشکل ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے کان میں سر گوشی کے انداز میں بولتا اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا جبکہ عدن دھڑکتے دل کے ساتھ وہی بیٹھی رہ گئی۔ "___________________________________" انوار صدیقی غُصے سے بلبلاتا ہوا ادھر اُدھر کے چکر لگانے میں مصروف تھا تبھی اُسکی نگاہ اپنی طرف آتی قُرت خٹک پر پڑی۔ "کیا بنا۔۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ چھوٹتے ہی پوچھنے لگا۔ "ہو گیا کام۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ مُسکراتے ہوئے بولی انوار صدیقی نے پُرسکون سانس خارج کی۔ "ویری گُڈ۔۔۔۔۔۔۔"وہ حقیقتاً خُوش ہوا تھا۔ "اگلا ٹارگٹ۔۔۔۔۔۔"پوچھا گیا۔ "کیپٹن مرتقوی یزدانی۔۔۔۔۔۔"اُس کے لبوں پر مُسکراہٹ تھرک رہی تھی۔ "اور مجھے پُورا یقین ہے کہ تم اُس میں بھی کامیاب ہو جاؤ گی۔۔۔۔." "میں آپکو ناراض کرنے کا رسک کیسے لے سکتی ہوں بھلا۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "اور میں تُمہیں خُوش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑوں گا مائے سویٹ ہارٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔"صدیقی کا موڈ عاشقانہ ہوا تھا آنکھوں میں عجیب سی چمک لیے وہ قُرت کے اُوپر جُھکا تھا مگر وہ نرمی سے اُسے اپنے سے دُور کر گئی۔ "اُف قُرت ڈارلنگ ایک تو تم قریب آنے نہیں دیتی۔۔۔۔۔"وہ بدمزہ ہوا۔ "ابھی میں بہت خاص مشن پر ہوں سر،ابھی آپکا میرے قریب آنا ٹھیک نہیں ہوگا،مشن ختم ہو لینے دیں پھر جتنا کہے گئے قریب ہو جائیں گیں۔۔۔۔۔۔۔۔"قُرت نے اُسکی آنکھوں میں جھانکا وہ ہنستے ہوئے سر ہلا گیا۔ "چلو کوئی نہیں جہاں اتنا انتظار کیا وہی اور سہی۔۔۔۔۔۔" "ہائما رائے کو کس نے قتل کیا تھا سر۔۔۔۔۔۔۔۔"وہ اچانک پوچھ بیٹھی انوار صدیقی چونک کر اُسکی طرف مُڑا۔ "تُم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔"ا لٹا سوال کیا گیا تھا۔ "آرمی والے باری کو ڈھونڈ رہے تھے،اب ہائما رائے کی تلاش میں ہیں پر اُسکا تو قتل ہو چُکا ہے نہ،تو اِسے کون مار سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔" "باری،باری نے قتل کیا تھا ہائما رائے کو،کیونکہ باری آرمی کا ایجنٹ تھا۔۔۔۔۔۔۔"اُس کے انکشافات پر قُرت حیران ہوئی۔ "اگر وہ آرمی کا ایجنٹ تھا تو پھر آرمی والے اُسے ڈھونڈ کیوں رہے ہیں،دوسرا وہ ایک سال سے غائب کہاں ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟ "ان باتوں کا جواب تو تُمہیں آرمی والے ہی دے سکتے ہیں کیونکہ یہ اُنکی کوئی چال ہے جس میں وہ ہمیں اُلجھانا چاہتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"انوار صدیقی کی بات پر وہ بھی متفق ہوتی سر ہلا گئی۔ "اچھا اب تم جاؤ،ہمارا زیادہ دیر یہاں رُکنا ٹھیک نہیں۔۔۔۔۔۔"صدیقی کے اشارے پر وہ اپنی گاڑی کی طرف آئی۔ "ان سوالوں کے جواب جاننے کے لیے مجھے مرتقوی یزدانی کے قریب جانا پڑے گا۔۔۔۔۔۔"گاڑی چلاتے ہوئے یہی سوچ اُسکے دماغ میں تھی۔ "__________________________________"
