Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

دل دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر پانچ
صدف آپا اپنے بچوں سمیت آئیں ہوئیں تھیں اس لیے عدن کا دل کافی حد تک بہل گیا تھا ورنہ تو اپنے فادر کی پریشانی ہی اُسے کھائے چلی جا رہی تھی۔
“شُکر ہے آپ خُود آ گئیں ورنہ میں آپکو کال کر کے بُلانے والا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر جہاں صدف آپا اُسکی طرف متوجہ ہوئیں وہی دُرعدن کُچھ پریشان سے دکھائی دینے لگی تھی شاید وہ جانتی تھی کہ اقرب کیا کہنے والا ہے۔
“کیوں کوئی کام تھا۔۔۔۔۔۔”
“جی کام تو بہت خاص ہے آپ سے،پر پہلے وعدہ کریں پُورا کریں گی۔۔۔۔۔۔”
“ایسا بھی کیا کام اقرب۔۔۔۔۔۔۔”وہ کُچھ حیران ہوئیں۔
“پہلے وعدہ تو کریں۔.۔۔۔…”اُس نے کن انکھیوں سے عدن کے رنگ بدلتے چہرے کی طرف دیکھا۔
“اوکے وعدہ،اب بولو۔۔۔۔….”
“میں چاہتا ہوں کہ اب ہماری۔۔۔۔۔۔۔”
“صدف آپی وہ بی جان بُلا رہی تھیں آپکو،اُنکی بات سُن آئیں پہلے ورنہ وہ غُصے ہونگی۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن نے جلدی سے کہتے ہوئے انکی توجہ اقرب سے ہٹائی تھی۔
“ہاں میں اُنکی سُن آؤں،تُم یہی رُکو اقرب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بی جان کے رُوم کی طرف بڑھ گئیں اقرب نے مُسکراہٹ روکتے ہوئے عدن کو دیکھا جسکی نیلی آنکھوں میں خفگی کے اثرات تھے۔
“آپ ایسی ویسی کوئی بات بھی آپی سے نہیں کریں گئے۔۔۔۔۔۔”
“کونسی ایسی ویسی بات،بتاؤ تُم۔۔۔۔۔۔۔”
“جیسی بھی کرنے لگے تھے۔۔۔۔..”نگاہیں چُرائیں گئیں تھیں۔
“میں تو اپنے مطلب کی بات کر رہا تھا،تُمہارا تو نام بھی نہیں لیا میں نے۔۔۔……”وہ اُسے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا۔
“آپ کیا کہنے والے تھے اُن سے۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔”
“یہی کہ میرے کمرے کو کسی کے وجود سے آباد کریں۔۔۔۔۔۔۔”معنی خیز لہجہ اُس کے پُورے وجود میں ایک برقی سے دوڑا گیا وہ نظریں جُھکا گئی۔
“وہ ابھی پاپا ناراض۔۔..۔۔۔۔۔۔”
“اُنکو بھی منا لیں گئے پہلے تم تو مان جاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب اُس کے قریب ہوا تھا۔
“آپ۔۔۔۔۔۔۔۔”
“عدن۔۔۔۔۔۔۔”نام پُکارتے ہوئے ہاتھ بھی پکڑا گیا تھا۔
“جی۔۔۔۔۔۔۔”
“تھوڑا سا مُشکل ہو رہا یوں ساتھ رہ کر بھی دُور رہنا،تُم سمجھ رہی ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”آواز کی گھمبیرتا پر اُس کے گال سُرخ ہوئے تھے ہاتھ چھڑواتی اُٹھنے لگی مگر اقرب نے ایسا کرنے نہ دیا عدن کی جان جیسے مُشکل میں پڑنے لگی۔
“مُمانی جان،آپکو نانو بُلا رہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔”احمد نے اُسکی جان اس مُشکل سے نکال لی تھی اقرب کی گرفت سے اپنا ہاتھ نکالتی وہ چلی گئی اقرب نے گہرا سانس بھر کر احمد کو پکڑ لیا۔
“بھانجے اچھا نہیں کیا۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے گال چُومتا وہ زیرلب بڑبڑایا تھا۔
______________________
باری ہائما رائے کے بھیجے گئے ایڈریس پر پہنچ چُکا تھا وہ کوئی دس مرلہ گھر تھا باہر کھڑے چوکیدار سے ہائما رائے کے بارے پوچھتا وہ اندر داخل ہوا تو اُسے کُچھ عجیب سا لگا وہاں ایک سکوت سا ہر سو پھیلا ہوا تھا۔
“ماہی۔۔۔۔۔۔”اُسے پکارتا وہ ہال میں داخل ہوا باریک بینی سے ہر طرف کا جائزہ لیتا وہ ہال کے سامنے والے رُوم کی طرف بڑھا جس کا ادھ کُھلا دروازہ اور فرش پر پڑا ڈوپٹہ اُسے اپنی طرف متوجہ کر گئے باری کو کسی گر بڑ کا احساس ہوا تھا اُس نے دروازہ کھول کر اندر جھانکا اور اگلے پل ہی وہ ششدر سا سامنے خُون سے لت پت ہائما رائے کو دیکھ رہا تھا۔
“با،باری۔۔۔۔۔۔۔”ہائما رائے جو شاید ابھی اپنی موت سے لڑتے ہوئے آخری سانس گن رہی تھی اُسکو پُکارنے لگی۔
“یہ یہ کیا ہوا؟کس نے کیا یہ۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ دوڑتا ہوا اُس کے نزدیک آیا اُس کا سر پکڑ کر اپنی گود میں رکھا اور اُس کے پیٹ سے نکلتے خُون کو دیکھتا وہ لب بھینچ گیا۔
“تُمہیں ہسپتال لے کر جانا ہوگا،اُٹھو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“نہیں،اب ہسپتال جانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ،تُم آ گئے باری،تُمہارا انتظار،آہ۔۔۔۔۔۔۔۔”درد سے وہ کراہ اُٹھی تھی۔
“ماہی یہ کس نے کیا تُمہارے سات،پلیز بتاؤ مجھے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“یہ،باری،تم چلے۔۔۔۔۔۔”اگلے الفاظ اُس کے مُنہ میں ہی رہ گئے تھے اور وہ دم توڑ گئی تھی باری اُس کے ساکت وجود کو دیکھتا دم سادھے بیٹھا رہ گیا اُس کے مضبوط اعصاب ایک دم سے جھٹک کر رہ گئے تھے کسی احساس کے زیر اثر اُس نے پلٹ کر دیکھا تو دروازے میں کھڑے اُس انسان کو دیکھ کر چونکا تھا وہی بلیک ڈھیلی ڈھالی پیٹ شرٹ پر بلیک ہُڈ اور ماسک سے چہرہ چُھپائے باری پر پستول تانے وہ انسان وہی تھا جو اس دن باری کو ریس کے میدان میں ملا تھا باری نے ایک نظر ہائما رائے کے بے جان وجود کو دیکھا دوسری نظر اُس انسان پر ڈال کر وہ اُٹھ کھڑا ہوا وہ یہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ اُسے ٹریپ کیا گیا ہے یا ہائما رائے کو؟؟؟
______________________
“ہائے مُرتقوی۔۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے جاگنگ ٹریک پر تھا جب اپنے پیچھے ایک نسوانی آواز پر مُڑا تھا قُرت خٹک کو دیکھ کر وہ حیران ہوا تھا۔
“تُم۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس رات کے بعد اب دیکھا تھا اس نے قُرت کو۔
“مجھے قُرت خٹک کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔”وہ اپنا ہاتھ اُسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولی مرتقوی نے ایک نظر اُس کے چہرے پر پھیلی مُسکراہٹ کو دیکھا اور ہاتھ ملا لیا۔
“یہاں پاس میں ہی میرا گھر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے ساتھ چلتے بتانے لگی۔
“میں ان کوارٹرز میں رہتا ہوں،میرا نام کیسے جانتی ہو تم۔۔۔۔۔۔۔۔”
“جاننا کچھ مُشکل تو نہیں تھا،بس جان لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
“تُم آرمی میں ہو کیا۔۔۔۔۔۔۔۔؟وہ اس کے ساتھ چلنے لگی جس پر مرتقوی کو کُچھ حیرت ہوئی اُس کی اتنی بے تکلفی پر۔
“نہیں آرمی والوں کا دوست ہوں۔۔۔۔۔۔۔”
“جُھوٹ تو مت بولو کیپٹن مرتقوی یزدانی۔۔۔۔۔”وہ دل ہی دل میں مُسکرائی۔
“کیا روز آتے ہو یہاں۔۔۔۔”
“تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی اپنی ناگواری نہ چُھپا پایا۔
“تا کہ تُمہیں کپنی دے سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔”
“مجھے کسی ایرے غیرے کی کمپنی کی کوئی ضرورت نہیں خاص طور پر کسی لڑکی کی تو بلکل نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سپاٹ انداز میں بولتا دوڑتے ہوئے اسکے پاس سے نکل گیا قُرت نے اپنی چھبتی نظریں اُسکی پُشت پر جمائیں۔
“تُمہیں تو یہ بعد میں پتہ چلے گا کیپٹن کہ تُمہیں کس چیز کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ واپسی کی راہ پکڑ گئی۔
_____________________
بی جان اور شہناز بیگم عمرہ ادا کرنے جا رہی تھیں اس لیے وہ جانے سے پہلے اقرب اور دُرعدن کی رُخصتی کر دینا چاہتے تھے تا کہ دونوں کو تنہا اس گھر رہنے میں پرابلم نہ ہو اس بات پر جہاں اقرب خُوش ہوا تھا وہی عدن کو ایک نئی فکر اور پریشانی لاحق ہو گئی تھی وہ ابھی رُخصتی نہیں چاہتی تھی جب یہ بات اُس نے صدف آپا سے کی تو وہ پیار سے اُسے سمجھانے لگیں۔
“میں سمجھ رہی ہوں تُمہاری کیفیت عدن،اپنے گھر والوں کی رضا کے بنا تُمہیں شادی شُدہ زندگی کا آغاز کرنا مُشکل لگ رہا ہے پر تُمہارے پاپا کو منانے میں ابھی وقت لگے گا اور اُس وقت کا انتظار کرنے میں تم اپنے اس رشتے کو نظر انداز مت کرو،ماما اور بی جان عمرہ کرنے کے لیے جا رہی ہیں اس لیے وہ چاہتی ہیں کہ رُخصتی ہو جائے تا کہ بنا کسی جھجک یا پریشانی کے تم لوگ ساتھ رہ سکو۔۔۔۔۔۔۔۔”
“ہم لوگ ویسے بھی تو رہ رہے ہیں نہ،ایک ماہ ہی تو ہے ہم ماما اور بی جان کے آنے کے بعد رُخصتی رکھ لیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”عدن کی بات پر وہ گہرا سانس بھر کر اس کے معصوم چہرے کی طرف دیکھنے لگیں کہ کس طرح اسے ان کے نازک رشتے کی نزاکت سمجھائیں ۔
“تُمہاری بات ٹھیک ہے پر عدن اب ساتھ رہنے کی اور بات ہے،ماما اور بی جان بھی تو ساتھ تھیں پر اُنکے جانے کے بعد تم دونوں کو تنہا اس گھر میں رہنا ہوگا،تم لوگ میاں بیوی ہو تنہا بھی رہ سکتے ہو مگر ہم تم لوگوں کو کسی آزمائش میں نہیں ڈالنا چاہتے،تم بیوی ہو اقرب کی وہ تم پر حق رکھتا ہے اور یہ حق کی کشش اقرب کو آزمائے ہم ایسا نہیں چاہتے تم سمجھ رہی ہو نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”صدف آپا نے نپے تلے انداز میں جو اسے سمجھانا چاہا تھا وہ سمجھ کر اُسکا چہرہ سُرخ ہوا تھا وہ بنا کُچھ کہے اُٹھ گئی تھی۔
“اب کیا کروں؟ہاں اقرب سے بات کر لونگی،آئی ہوپ وہ سمجھ جائیں گئے۔۔۔۔۔۔۔”یہ سوچ اُسے ریلیکس کر گئی۔
عدن اقرب چوہان سے بات کرنے کا موقع تلاش کرنے لگی مگر اقرب کُچھ دنوں سے گھر ہی نہیں آ رہا تھا اور جب وہ گھر آیا تب بھی عدن کو ٹائم نہ مل سکا کیونکہ صدف آپا نے شاپنگ میں بھی اسے اپنے ساتھ گھسیٹ لیا تھا اور پھر کب ان بھاگتے دنوں میں مہندی کا دن آن پہنچا اُسے پتہ بھی نہ لگا مہندی کا فنکشن بہت بڑے پیمانے پر ارینج کیا گیا تھا عدن مرجنڈا اور گرین کنٹراس کے جوڑے میں ملبوس اقرب کی ڈھیر ساری کزنز میں گری وہ کُچھ پریشان سی نظر آ رہی تھی۔
“ہیلو عدن بھابھی۔۔۔۔۔۔۔”ایک دلکش مردانہ آواز پر وہ سر اٹھا کر دیکھنے لگی کوئی پچیس سالہ خوبرو نوجوان تھا۔
“آئی ایم سنی،آپکا اکلوتا دیور۔۔۔۔۔۔”اُس کے تعارف کروانے پر عدن کے چہرے پر پہچان کے رنگ اُبھرے تھے کیونکہ وہ نہ صرف اُسکی تصویر دیکھ چُکی تھی بلکہ کئی دفعہ اُسکا نام بھی سُن چُکی تھی۔
“ویسے بھائی آپ نے جتنی بھابھی کی تعریف کی تھی بھابھی کو اُس سے بڑھ کر پایا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”سنی کی شوخ آواز پر جہاں عدن جھینپ کر سر جُھکا گئی وہی اقرب بھی مُسکراتا ہوا عدن کا شرمیلا رُوپ دل میں اُتارنے لگا۔
______________________
ڈیزائنر کے سُرخ لہنگے میں جس پر گولڈن بے تحاشا کام ہوا تھا گولڈ کی جیولری اور ہیوی میک اپ میں وہ آسمان سے اُتری کوئی حور لگ رہی تھی اقرب جو خُود بھی سکن کلر کی شیروانی پر سُرخ قلعہ پہنے اپنی بھرپور مردانہ وجاہت کے ساتھ پُورے ماحول پر چھایا ہوا تھا مگر جب نگاہ صدف آپا کے ساتھ سٹیج کی طرف آتی عدن پر پڑی تو کتنے پل ہی وہ دم بخود رہ کر اُسے دیکھتا رہ گیا جو اس کے دل کے تار ہلا گئی تھی وہ خُوبصورت تو تھی مگر اُسکی خُوبصورتی اقرب کے لیے اتنی جان لیوا ثابت ہو گی یہ اقرب کو اب معلوم ہوا تھا وہ یک ٹک اُسے دیکھنے میں مصروف تھا جو اپنے چہرے پر اُسکی مسلسل ٹکیں نظروں کو محسوس کرتی پزل ہو رہی تھی۔
اقرب چوہان کو کبھی کسی چہرے نے اس طرح اپنی طرف کھینچا نہیں تھا جتنا عدن اسے اپنے حُسن سے اسکے دل کو جکڑ چُکی تھی وہ محبت سے بھی شاید کُچھ اُوپر کی کیفیت میں مبتلا ہو چُکا تھا اپنے کمرے کی طرف جاتے اُسے اس چیز کا احساس ہوا تھا کہ وہ خُون کی طرح اس کے جسم میں گردش کرنے لگی تھی۔
_______________________
“زکی کو اریسٹ کر لیا گیا ہے اور اریسٹ کرنے والا ایس پی بازل خان۔۔۔۔۔۔”یہ خبر سب کے لیے بریکنگ نیوز ثابت ہوئی تھی کہ زکی کو کسی نے اریسٹ کرنے کی ہمت کی تو کی کیسے؟
اور صُبح سے پچاس فُون سُنتے بازل خان کو بھی اس چیز کا احساس ہو چُکا تھا کہ اُس نے زکی کو شاید گرفتار نہیں کیا تھا بلکہ کسی ایم این اے تو کسی وزیر کے اُس طوطے کو قید کر لیا ہے جس کے اندر سب کی جان تھی اس لیے تو کبھی کوئی کال کر رہا تھا تو کبھی کوئی تھانے چلا آ رہا تھا بازل غُصے سے اُٹھا اور اپنے قدم سلاخوں کے پیچھے بیٹھے زکی کی طرف بڑھا دئیے جو کُرسی پر ٹانگ پر ٹانگ جمائے بیٹھا ایک پاؤں ہلا رہا تھا اُسکا چہرہ بلکل پُرسکون تھا جیسے اپنے بیڈ رُوم میں بیٹھا سگریٹ کے لمبے لمبے کش لیتا ریلیکس ہو دُھویں کو ہوا کے سُپرد کرتا وہ اب اُسکی طرف متوجہ ہوا جو قہر بھری نظروں سے اُسے گھور رہا تھا۔
“تُمہیں کہا تھا نہ زکی کو گرفتار کر کے تم نے خُود اپنے اور اپنی وردی کے لیے مُشکلات پیدا کی ہیں،اس چیز کا احساس اب تک تو تُمہیں ہو گیا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
“ہاں ہو گیا احساس کہ میں نے بُڑائی کی اُس جڑ کو پکڑا ہے جس کے ساتھ بہت سے قانون کے محافظ بھی اپنا اصل چہرہ دکھا رہے ہیں کیا دیتے ہو ان کو جن کی رات کی نیندیں اُڑ گئی ہیں تُمہیں حوالات میں دیکھ کر۔۔۔۔۔۔۔۔”بازل خان کی بات پر وہ دلکش قہقہ لگا گیا جیسے اُسکی بات سے بہت محفوظ ہوا ہو۔
“یہی تو کمال ہے زکی کا،گرفتار ہوتا میں ہوں اور جان باقیوں کی جانا شُروع ہو جاتی ہے خیر چھوڑو اس بات کو،تم مجھے چھوڑنے کی تیاری کرو،ٹھیک پانچ منٹ بعد میں ان سلاخوں سے باہر ہونگا۔۔۔۔”
“کبھی نہیں زکی……….”بازل نے مضبوط لہجے میں سر نفی میں ہلایا زکی یوں مُسکرایا جیسے کسی چھوٹے بچے کی بات پر مُسکرایا جاتا ہے۔
“ویل اوکے۔۔۔۔۔۔۔”وہ سر ہلاتا پیچھے ہو گیا تبھی بازل اپنے بجتے فُون کی طرف متوجہ ہوا۔
“یس سر،جی سر بٹ،میرے پاس سارے ثبوت ہیں سر،اوکے سر،ٹھیک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”بازل خان نے موبائل جیب میں رکھتے جلتی نظر اُس پر ڈالی جو مُسکرا رہا تھا عجیب سا تمسخر تھا اُسکی نظروں میں جسے محسوس کر کے بازل لب بھینچ گیا۔
“کہا تھا نہ ایس پی،پر تُم بھی نہ بات ہی نہیں مانتے میری۔۔۔۔۔۔۔۔”
“دیکھ لینا زکی وہ دن دُور نہیں جس دن میں تُمہارا ان کاؤنٹر کرونگا۔..۔۔۔۔۔”
“اوہ رئیلی،پر افسوس یہ حسرت ہی رہے گی،میں چاہوں تو ایک منٹ میں یہ تُمہاری وردی اُتروا دُوں پر وہ کیا ہے نہ تم بہت ایماندار ہو اور مجھے ایمان دار لوگ کافی سُوٹ کرتے ہیں۔…….”
لبوں پر تھرکتی مُسکراہٹ غُصہ دلانے کو کافی تھی مگر بازل ضبط کرتا سپاہی کو لاک کھولنے کا اشارہ کرتا چلا گیا۔
_______________________
دروازے کو آہستگی سے بند کرتا بیڈ کی طرف بڑھنے لگا نگاہ گلاب کی لڑیوں کے پیچھے سر جُھکائے بیٹھی عدن پر ٹکی تھی جو خُود کو اُسکی نگاہ کی گرفت میں جکڑتا پا کر لرز کر رہ گئی تھی۔
“ایسے لگتا ہے جیسے آج چاند زمین پر اُتر کر آ گیا ہے۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے نزدیک بیٹھا وہ بے خُود سا اُسکی طرف دیکھتا کہہ گیا۔
“دُرعدن اقرب چوہان مجھے چاروں شانے چت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور یقین مانو اس وقت مجھے اپنی مات دکھائی دے رہی ہے کہ آج میں اپنا آپ ہار گیا ہوں تُم پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اسکے لہجے کی گھمبیرتا نے عدن کی دھڑکنیں اتھل پتھل کر دی تھیں اقرب بے اُسکا ہاتھ پکڑ کر لبوں سے لگایا جس پر وہ کچھ سمٹ کر پیچھے ہوئی۔
“بہت بُری بات عدن،اس طرح نہیں کرتے۔۔۔۔۔”پیار سے سرزنش کی گئی تھی۔
“وہ۔۔۔۔۔۔۔۔”پلکیں اُٹھا کر کُچھ کہنا چاہا تھا مگر اُسکی آنکھوں سے پھوٹتی روشنیوں پر زبان بند ہوئی تھی جس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے لبوں کی نرمی کو محسوس کیا تھا عدن کی جیسے جان جانے لگی تھی جسکا ہاتھ رینگتا ہوا ا سکی گردن پر آیا تھا اور اگلہ لمحہ عدن کے لیے قیامت بن کر ٹوٹا تھا جب وہ جُھکتے ہوئے اُسکی پیشانی پر اپنا دہکتا لمس چھوڑ گیا۔
“اس وقت خُود کو دینا کا سب سے خُوش قسمت انسان تصور کر رہا ہوں جس کے نصیب میں اللہ نے تُمہیں لکھ دیا۔۔۔۔۔۔”اسکے سامنے تکیہ سر کے نیچے رکھ کر لیٹ گیا اور اس کے چہرے کو گرفت میں لیتا اپنی نظروں کی پیاس بجھانے لگا عدن اُسکی نظر کی حدت سے پزل ہونے لگی۔
“مُجھے آپ سے کچھ کہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔”
“کہو نہ سُن رہا ہوں۔۔۔۔.۔۔۔”اُسکی چوڑیوں سے کھیلنے لگا۔
“وہ ابھی میں،یہ سب۔۔۔۔۔۔۔”اُسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کس طرح بات کرے جو اس کی قُربت میں مدہوش ہو رہا تھا۔
“اقرب آپ۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے مُنہ سے نکلتا اُسکا نام اقرب کو مسکرانے پر مجبور کر گیا اُسے آج سے پہلے اپنا نام اتنا اچھا نہیں لگا تھا جتنا عدن کے لبوں سے ادا ہوا اچھا لگا تھا۔
“جی اقرب کی جان۔۔۔۔۔۔”شوخ انداز میں کہتا اُس کی کلائی کو جھٹکا دیتا اُسے اپنے اُوپر گرا گیا وہ دھک سی رہ گئی۔
“ہر گُستاخی معاف۔۔۔۔۔۔”بوجھل آواز میں کہتا وہ واقع میں شریر گُستاخیوں پر اُتر آیا تھا اُس کے چہرے پر اپنی چاہت کے پھول کھلانے لگا جو اُسکی قُربت کی گرمی سے پگھلنے لگی تھی۔
“آپ،پلیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ بولنے کے قابل ہوئی تو اسکی بڑھتی شوخ جسارتوں کو بندھ باندھنے کے لیے بول اُٹھی۔
“مجھے آپ سے کُچھ کہنا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر پھر سے نزدیک کرنا چاہا تھا کہ وہ جلدی سے کہہ گئی۔
“کہو۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ توجہ سے سننے لگا۔
“وہ اصل میں مُجھے پاپا کی بہت فکر اور،اور وہ ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں میں چاہتی تھی کہ رُخصتی ان کے مان جانے کے بعد ہو مگر کسی نے میری ایک نہیں سُنی،آپ سے بات کرنی تھی پر آپ گھر ہی نہیں تھے۔۔۔۔۔۔”
“اب کیا چاہتی ہو تُم۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُٹھ کر بیٹھا تھا۔
“میں ابھی اس رشتے کو یہی رکھنا چاہتی ہوں جب تک پاپا نہیں راضی ہو جاتے تب تک پلیز۔۔۔۔۔۔”اُسکی بات پر اقرب نے ایک گہری سانس ہوا کہ سُپرد کی۔
“ہوگا تو کُچھ مُشکل پر تُمہارے لیے یہ بھی سہی،اب خُوش۔۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے نرمی سے استفسار کیا وہ مُسکراتی ہوئی سر ہلا گئی اور پھر اقرب نے چھوٹی چھوٹی باتیں کر کے اُسکی ساری جھجھک ختم کر دی۔
عدن جب لباس تبدیل کر کے آئی اقرب ٹرازور شرٹ میں ملبوس بیڈ پر لیٹا اپنے موبائل کے ساتھ لگا تھا عدن بیڈ کی دوسری طرف آ کر ٹک گئی اقرب نے اُسے لیٹتے دیکھ کر لائٹ آف کر کے ہاتھ بڑھا کر اُسے اپنے قریب کر لیا۔
“بے فکر رہو پاس سونے سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔”اقرب نے مُسکرا کر کیا جُھک کر اُسکی پیشانی چومی اور بانہوں میں لے کر آنکھیں موند گیا جبکہ عدن عجیب سے احساسات میں گری اُسے اتنا قریب دیکھ کر کتنی دیر تک سو نہ سکی۔