Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

دلِ دُشمن
از
امرین ریاض
قسط نمبر ایک
اُسے آج بہت اہم میٹنگ میں بُلایا گیا تھا اس لیے وہ اُس کے بارے میں ہی سوچتا میجر رضا کے آفس میں داخل ہوا تھا جو کیپٹن علی اور کیپٹن احمر کے ساتھ کُچھ ڈسکس کر رہے تھے اس پر نظر ڈال کر اُنہوں نے گھڑی کی طرف دیکھا پھر اُسکی طرف ایسی نظروں سے دیکھا کہ وہ شرمندہ ہوتا سر ہی جُھکا گیا۔
“میرے ساتھ کام کرنے کے لیے سب سے پہلے آپکو وقت کا پابند ہونا پڑے گا،کین یو انڈرسٹنڈ کیپٹن مرتقوی یزدانی۔۔۔۔۔۔”اُنکا لہجہ سپاٹ تھا۔
“آئم صوری سر،یس سر۔۔۔۔۔۔۔”وہ بے بس لہجے میں بولا تو کیپٹن علی اور کیپٹن احمر نے بامُشکل اپنی مُسکراہٹ روکی تھی۔
“اوکے سٹ ڈاؤن۔۔۔۔۔”مرتقوی اُن دونوں کو گھورتا نشت سھنبال گیا۔
“جیسا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ یہ مشن ہمارے لیے بہت خاص ہے کیونکہ اس میں باہر کی قوتوں کے ساتھ ہمارے اپنے لوگ ملے ہیں،جو اپنے لالچ کے لیے اپنے ہی لوگوں کے دُشمن بن چُکے ہیں ہمیں باہر والوں کو پکڑنے کے لیے پہلے اپنے اندر موجود لوگوں کو پکڑنا ہوگا اور اُن کو پکڑ ہم تبھی سکتے ہیں جب ہم اُن پر پوری نظر رکھیں گئے اور ہمیں اس بات کا اندازہ ہو کہ اُن کے ساتھ کون کون اور کہاں تک ملوث ہے۔۔۔۔۔۔۔”میجر رضا نے اُنکو بتاتے ہوئے دیوار نصب ایل ڈی پر کُچھ انسانی اور جگہوں کی تصویریں دکھائیں اور ساتھ اُن کو سارا پلان بتانے لگا تقریباً کوئی دو گھنٹے کی لگاتار میٹنگ کے بعد جب میجر رضا نے سب کو ایک ایک ڈیٹیل اور اُنکا مشن بتا کر اُنکی طرف سوالیہ انداز سے دیکھا۔
“کسی کو کُچھ پوچھنا ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“نو سر۔۔۔۔۔”تینوں ایک آواز میں بولے۔
“دو ماہ کا وقت ہے،ہمارا ایک انٹیلی جنس آل ریڈی اس پر ایک سال سے کام کر رہا ہے اور یہ ساری انفارمیشن اُس کے تھرو ہی ہم تک پہنچی ہے،سب سے اہم یہ ہے کہ آپ کبھی بھی اپنا کانفڈینس لوز نہیں کریں گئے،کُچھ بھی ہو آپ لوگ پکڑے بھی جاؤ خُود پر بھروسہ رکھنا ہے اتنا تو آپ جانتے ہیں کہ اعتبار اپنے سگے بھائی پر بھی نہیں کرنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔”میجر رضا نے کہتے ہوئے مرتقوی یزدانی کو کُچھ جتایا تھا جو گڑبڑا گیا تھا۔
“اب آپ لوگ جا سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے کہنے پر تینوں اُٹھے اور اُسے سیلوٹ کرتے کمرے سے نکل گئے۔
“یار ایک تو مشن اتنا کنفیوز ہے اُوپر سے میجر رضا اس مشن کو ہیڈ کر رہے ہیں اُف۔۔۔۔۔۔۔”مرتقوی جس کی میجر رضا کے سنجیدہ مزاج اور غُصے سے جان جاتی تھی باہر آتا علی سے کہنے لگا۔
“یہ تو ہے پر اب زیادہ چوکس رہنا پڑے گا ورنہ ایک غلطی پر بھی میجر رضا ہمیں اس دُنیا سے اُٹھا سکتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔”علی کے مُنہ لٹکا کر کہنے پر مرتقوی گہرا سانس بھر کر اپنے کارڈ کی طرف دیکھا جہاں اُسکا نام پتہ سب غلط درج تھا۔
_____________________
اقرب چوہان اپنے معمول کی واک پر تھا وہ اپنے ٹریک پر چلتا ہیڈ فُون کانوں سے لگائے بلیک ٹریک سُوٹ میں وہ دوڑتا ہوا اب واپسی کے راستے کی طرف تھا تبھی اسکی نگاہ کی گرفت میں خُون کے قطرے آئے تھے جن کے تعاقب میں اس نے دیکھا تو نگاہ سیدھی بینچ پر بیٹھی ایک لڑکی کی طرف گئی جسکی اس طرف تو پُشت تھی مگر اُس کے پاؤں سے نکلتا خُون بے ساختہ اس کے قدم اُسکی جانب بڑھے تھے اُس نے ہیڈ فُون گلے میں ڈال کر اُس کے قریب آیا جو درد سے بلبلا رہی تھی۔
“کیا میں آپکی ہیلپ کر سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اُس لڑکی سے پوچھا اُس نے اپنا جُھکا سر اُٹھایا تھا اقرب اُسکا حسن دیکھ کر تھما تھا جس کی بیلو آنکھیں پانی سے بھریں ہوئیں تھیں۔
“کیا ہوا ہے آپکو۔۔۔۔۔”کہتے ہوئے اُسکی نگاہ اس کے پاؤں پر اُٹھی تھی جہاں ایک باریک کانچ کا ٹُکڑا اُس کے دائیں پاؤں میں گُھسا ہوا تھا جہاں سے خُون کا فواراہ نکل رہا تھا۔
“اوہ آپ کا تو پاؤں بہت ذخمی ہے،لائیں مُجھے دکھائیں۔۔۔۔۔۔”اقرب نے کہتے ہوئے گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا اور اُس کے پاؤں کو ہاتھ لگانا چاہا مگر اُس نے پاؤں کھینچ لیا تھا اقرب نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جو سر نفی میں ہلاتی رو رہی تھی اقرب نے گہرا سانس بھرا اور اُسکا پاؤں پکڑ کر اپنے سامنے کیا اور غور سے اُس کانچ کو دیکھنے لگا۔
“میں اب اسے نکالونگا درد بہت ہوگا پر برداشت کر لیجئیے گا اوکے۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ سر اثبات میں ہلاتی آنکھیں زور سے میچ گئ تھی اقرب نے جب اُس ٹکڑے کو نکالا وہ درد سے کراہ اُٹھی تھی اقرب نے اپنا رومال نکال کر اُس پر مظبوطی سے باندھ دیا۔
“درد تو ہوگی پر پہلے سے جلن کم ہو گی،گھر جا کر کوئی مرہم پٹی کر لیجئیے گا اور پین کلر بھی لے لیجئیے گا۔۔۔۔۔۔”اقرب کہتے ہوئے اُٹھا تھا۔
“آپکا شُکریہ۔۔۔۔۔۔”گلابی ہونٹ ہلے تھے۔
“ویلکم،اگر آپ بُرا نہ مانیں تو کُچھ کہوں۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ سر اثبات میں ہلاتی اُسے دیکھنے لگی۔
“اگر آپ اس ربڑ کی چپل میں واک کریں گی تو پھر روز ہی آپکو اس طرح کی درد سے گُزرنا پڑے گا کیونکہ یہ پارک ہے یہاں کانچ کے ٹکڑے اور کانٹے تو ہونگے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُسکی چپل کی طرف اشارہ کرتے بولا وہ شرمندہ سی ہو گئی۔
“میں واک کرنے نہیں آئی میں تو بس صُبح کی تازہ ہوا کھانے آئی تھی،پتہ نہیں کیسے یہ لگ گیا۔۔۔۔۔۔۔”
“کوئی نہیں آئندہ احتیاط کیجئیے گا۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتا ہوا پلٹ گیا وہ اُسکی پُشت کو دیکھتی آہستہ سے اُٹھی اور لنگڑا کر چلنے لگی مگر چلنا مُشکل تھا وہ بے بسی سے نم آنکھیں لیے وہی ٹک گئی۔
“ہر طرف سے تکلیف میری ذات کو کیوں ملتی ہے۔۔۔۔۔۔”وہ دلگرفتکی سے بولتی آنسو صاف کرنے لگی اقرب چوہان جو تب سے اسے ہی دیکھ رہا تھا گہرا سانس بھرتا اسکے نزدیک آیا۔
“کیا سہارے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔”اقرب کی بات پر وہ چونکی پھر سر نفی میں ہلا گئی وہ کیسے بتاتی کہ سچ میں ہی اسے سہارے کی ضرورت تھی۔
“اُٹھییے اور ہاتھ دیجیے۔۔۔۔۔۔”اقرب نے اس کے آگے ہاتھ پھیلایا وہ جھجکتی ہوئی اُس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر کھڑی ہوئی اور پھر اُس کے سہارے ایک پاؤں پر چلتی اپنی گاڑی تک آئی تھی جہاں ڈرائیور کھڑا تھا۔
“بس یہاں تک ہی،بہت شُکریہ آپکا۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتی ہوئی گاڑی میں ٹک گئی جس کا دروازہ ڈرائیور نے کھول دیا تھا۔
اقرب اُسکی جاتی گاڑی کو دیکھتا واپسی کی راہ اختیار کر گیا۔
_____________________
“جو سمجھایا ہے تُمہیں سمجھ آ گیا نہ قُرت۔۔۔۔۔۔”دوسری طرف سے کنفرم کیا گیا تھا۔
“جی سمجھ آ گیا آپ فکر نہ کریں اس دفعہ آپکو اس ٹارگٹ کو اچیو کر کے دکھاؤنگی۔۔۔۔۔۔۔”وہ مظبوط لہجے میں بولتی دوسری طرف والے کو خُوش کر گئی۔
“اوکے،تُمہیں ہم ساری لوکیشن سینڈ کر دیتے ہیں،اچھے سے کرنا سب،بائے۔۔۔۔”دوسری طرف سے کال کٹ کر دی گئی تھی وہ موبائل پینٹ کی جیب میں رکھتی آنکھوں پر سن گلاسز لگاتی اپنے پہلے ٹارگٹ کی تلاش میں چل نکلی تھی اس چیز سے بلکل بے خبر دو نظریں آل ریڈی اس کو دیکھتیں اپنا ٹارگٹ اوکے کر گئیں تھیں۔
____________________
وہ زخمی پاؤں کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی تو سامنے ہی اپنی ماں کے پاس بیٹھے انوار صدیقی کو دیکھ کر اُسکا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا جس کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح اسے دیکھ کر خباثت بھری مُسکراہٹ چمکی تھی۔
“عدن،کیا ہوا تُمہارے پاؤں کو۔۔۔۔۔۔”نارینہ کے چہرے پر تو نہیں لہجے میں ضرور پریشانی چمکی تھی۔
“اوہ مائے سویٹ ڈارلنگ،کیا ہوا،آؤ میں اپنی جان کو مرہم لگاؤں۔۔۔….”انوار صدیقی اپنے سیاہی مائل ہونٹوں کے ساتھ مشروب کا گلاس لگاتے ہوئے بولا جس نے کاٹ دار نظروں سے اُسے دیکھا تھا جس پر نارینہ کُچھ بوکھلا کر بولی۔
“عدن تُم اپنے کمرے میں جاؤ میں فضا کو بھیجتی ہوں تمہارے رُوم میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ انوار صدیقی کو آنکھوں سے اشارہ کرتی دُر عدن کی طرف متوجہ ہوئی جو دونوں پر قہر بھری نظر ڈالتی لڑکھڑا کر چلتی اپنے رُوم میں آئی تھی اسے انوار صدیقی پہلے ہی زہر لگتا تھا مگر جب سے اس کے کانوں میں یہ بات پڑی تھی کہ وہ اس سے شادی کا خواہش مند ہے تب سے تو اسکا دل اُسے قتل کر دینے کو چاہتا تھا مگر وہ چُپ تھی بلکہ یوں کہنا مناسب رہے گا کہ وہ بے بس تھی اپنے باپ اور اپنی سوتیلی ماں کی وجہ سے باپ کا تو وہ بزنس پارٹنر تھا اور ماں کا کہنے کو تو دوست تھا مگر وہ اچھے سے جانتی تھی کہ عاشق سے کم نہیں تھا وہ جانتی تھی کہ آج صُبح اُس نے نمودار ہونا ہے اس لیے وہ اُسکا سامنا نہ کرنے کی وجہ سے قریبی پارک میں چلی گئی تھی۔
“چھوٹی بی بی۔۔۔۔۔۔”فضا کی آواز پر وہ چونکی تھی پھر گہرا سانس لیتی اُسے فسٹ ایڈ باکس لانے کو کہتی وہ بیڈ پر لیٹ گئی تھی۔
____________________
“سرکار آئیں ہیں آج ہمارے غریب کھانے پر۔۔۔۔۔۔۔۔”ریشماں بائی اُسے اپنے کوٹھے پر دیکھ کر خُوشی سے پُھولے نہ سما رہی تھی جو سگریٹ کے کش لیتا اُسکی خُوشی کو نظر انداز کرتا مطلب کی بات پر آیا تھا۔
“مال کہاں ہے۔۔۔۔۔۔؟
“اندر ہے سرکار،آپ چل کر دیکھیں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”ریشماں اسے لیے ایک ہال نما کمرے میں آئی تھی جہاں پندرہ سولہ سال کی عُمر کی دس لڑکیاں یوں سہمی ہوئی کھڑی تھیں جیسے اُنہوں نے زکی کی شکل میں اپنی موت دیکھ لی ہو اور سچ بھی یہی تھا زکی اُن معصوموں کے لیے موت کا فرشتہ ہی تو بن کر آیا تھا۔
“تُمہارے کام سے میں بڑا خُوش ہوں ریشماں جیسے کا پیس کہو ڈھونڈ نکالتی ہو۔۔۔۔۔۔۔”زکی اُنکو سر سے پاؤں تک دیکھتا ریشماں کی طرف پلٹا جو اس کی بات سے یوں فخر سے سر تان کر کھڑی ہو گئی تھی جیسے اُس نے پتہ نہیں حسن کارکردگی کے گولڈ میڈل سے نواز دیا ہو۔
“سرکار بس آپکی نظر کرم چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے اچھے موڈ کو دیکھتی اپنے مطلب کی طرف آئی۔
“کس کام میں۔۔۔۔۔۔۔”اپنے بندوں کو اُن لڑکیوں کو لے کر جانے کا اشارہ کرتا وہ اسکی طرف پلٹا۔
“نیا ایس پی آیا ہے،کُچھ تنگ کر رہا ہے اُوپر سے کمینہ ایماندار بہت ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“ارے یہ پولیس میں کب سے ایماندار لوگ بھرتی ہونا شُروع ہو گئے،فکر نہ کرو مائی کرتے ہیں اُس ایماندار کا کُچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”زکی نے کہتے ہوئے اپنی جیب سے کُچھ نیلے نوٹوں کی دس کاپیاں نکل کر اُس کے ہاتھ میں دیں اُسکی جیسے آنکھیں اُبل کر باہر آنے کو تھیں۔
“بڑی مہربانی سرکار،آپ کا دیا ریشماں کے بھاگ جگا دیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“اور تُم لوگوں کے بھاگ سُلانے کا کام کرتی ہو مائی۔۔۔۔۔۔۔”اُس کا اشارہ ایک کمرے سے نکلتے سیٹھ عابد کی طرف تھا جو اپنی قمیض کے بٹن بند کر رہا تھا وہ اُسکی بات ماننے سے انکاری ہوا تھا اس بات سے بے خبر تھا کہ زکی کس بلا کا نام ہے۔
“یہ لیں سرکار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”اُس کے پیچھے کمرے سے نکلتی رانی اس کے قریب آتی اُسکی طرف ایک چپ پکڑاتے بولی زکی نے مُسکراتے ہوئے اُس کے ہاتھ سے وہ چپ لی۔
“ویلڈن۔۔۔۔۔۔۔”اُس نے سہراتے ہوئے اُس کے وجود پر ایک نگاہ ڈالی تھی جس کے تن پر لباس نہ ہونے کے برابر تھا۔
“سرکار آپکا ویلڈن نہیں چاہئیے آپ کا کُچھ ٹائم چاہئیے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اُس کے سینے پر ہاتھ رکھتی بڑی دلبرانہ نظروں سے دیکھتی بولی تھی۔
“ابھی تو تم سیٹھ عابد کو بھگتا کر تھکی ہوئی ہو پھر کبھی سہی رانی،آخر اس کام کا تُمہیں انعام بھی تو دینا ہے نہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ سگریٹ کا دُھواں اُس کے مُنہ پر چھوڑتا باہر آیا اپنی گاڑی میں بیٹھ کر وہ چپ اس نے اپنے موبائل میں ڈالی اور سکرین پر انگوٹھے کی مدد سے فنکشنز کو سیٹ کرتا سکرین پر چلتی سیٹھ عابد اور رانی کی رات کی کہانی دیکھنے لگا جب وہ لوگ حد سے گُزرنے لگے تو وہ سکرین آف کرتا موبائل جیب میں رکھ گیا۔
“سیٹھ عابد،بچارہ۔۔۔۔۔۔۔”ایک کمینی سی مُسکراہٹ اُس کے ہونٹوں سے چپک کر رہ گئی تھی۔
______________________
وہ شُروع سے ہی ریس کا بہترین کھلاڑی رہا تھا جُوا لگا کر کھیلنا اُسکا پسندیدہ مُشغلہ تھا جس کے جُرم میں وہ تین دفعہ جیل بھی جا چُکا تھا مگر اُس کا ہاتھ بہت اُوپر تک تھا جسکی وجہ سے دو گھنٹے بعد ہی وہ جیل سے باہر ہوتا تھا۔
“باری۔۔۔۔۔۔۔”اُسکا بہترین دوست حارث اُسے آوازیں دیتا آ رہا تھا باری نے پلٹ کر دیکھا جو پُھولی ہوئی سانسوں کو ہموار کرتا لمبے لمبے سانس لینے لگا۔
“میدان سے میں آیا ہوں سانس تُمہارا اُکھڑ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔”
“تُمہاری بائیک جب چھلانگیں مارتی اس ریت کے پہاڑوں پر سے قلابازی کھاتی نیچے کو آتی ہے تو یقین جانو میرا سانس بند ہونے لگتا ہے۔۔۔۔۔۔۔”وہ اس کے کپڑوں سے ریت کے زرے جھاڑنے لگا۔
“یہی تو اصل مزہ ہے،موت کو ڈاج دینا۔۔۔۔۔۔”وہ اپنے مُنہ میں چیونگم ڈال کر ادھر اُدھر دیکھنے لگا تبھی اُسکی نگاہ کسی چہرے پر پڑی تھی جسے دیکھ کر مُسکراتا وہ ہیلمٹ پہنتا اپنی بائیک پر بیٹھا اور حارث کو بائے بولتا بائیک کو کِک مارتا وہاں سے بائیک بھگا لے گیا تھوڑی دُور جا کر اُس نے بائیک روکی اور بنا پیچھے مُڑے وہی کھڑا ہو گیا جیسے یقین تھا کوئی چل کر اس کے تک ضرور آئے گا۔
“اچھے کھلاڑی ہو۔۔۔۔۔۔۔”وہ جو کوئی بھی تھی اس کے تک آ گئی تھی جس نے ہیلمٹ اُتارتے ہوئے اُس کی کاجل سے بھری آنکھوں میں نظریں گاڑیں۔
“میرے تک آنے کا مقصد۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دو ٹوک بات کرنے کا عادی تھا وہ جو کوئی بھی تھی اس کے انداز پر دلکشی سے مُسکرائی۔
“تُمہارے تک ابھی آئی کہاں ہوں مسٹر باری۔۔۔۔۔۔۔۔”اُسکی میں کوئی رنگ چمکا تھا۔
“میرے تک آنا کوئی مُشکل بھی نہیں مس ہائما رائے۔۔۔۔۔.”وہ بھی اُسی کے انداز میں بولا جو اس کے مُنہ سے اپنا نام سُن کر پہلے تو ٹھٹھکی پھر مُسکرا دی تھی۔
“نائس،مُجھے اچھا لگا کہ تُم میرے بارے جانتے ہو۔۔۔۔۔۔۔”
“جو لڑکی ایک ماہ سے مسلسل میری ہر ریس دیکھ رہی ہو،میری ریس پر لاکھوں روپیہ لگا رہی ہے پھر مجھے جیتتا دیکھ کر خُوش ہوتی واپس چلی جاتی ہے کیا میں اُسکے بارے کُچھ نہیں جانوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ دوبارہ اُسے اپنی نظروں کی گرفت میں قید کرنے لگا جو اس بات پر خُوش ہوئی تھی۔
“تو تُم مجھ پر نظر رکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔”
“بلکل نہیں،جس کی خُود کی نظریں باری پر ہوں اسے باری نظروں میں نہیں رکھے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”وہ پُر اعتماد تھا ہائما رائے کی آنکھوں میں پسندیدگی کے رنگ اُترے تھے جن کو دیکھتا باری زیرلب مُسکراتا اپنی بائیک کو کِک مارتا چلا گیا ہائما رائے اپنے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتی معنی خیزی سے مُسکراتی چلی گئی۔
______________________