Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Ahle Dil Ho (Last Episode)

Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz

” وہ ابھی آفس کے لئے نکلے ہیں بلاتی ہوں آپ بیٹھیں” وہ فون سیٹ کی طرف بڑھنے لگی لیکن عبیر نے اس کا ہاتھ پکڑ کر ساتھ بٹھا لیا۔” انہیں کام پر جانے دو پھر کبھی چکّر لگا تو ان سے ملاقات ہوجاے گی ویسے ان کی کمپنی کافی ترقی کر گئی ہے ایک سلل میں کافی بزنس کیا ہے انہوں نے؟” عبیر شاہ ساری معلومات رکھے ہوے تھا وہ سر ہلا کر رہ گئی۔

“اماں سائیں اور بابا سائیں۔۔۔۔۔۔اور بی بی جان کیسی ہیں”

” بی بی جان تو اب اکثر بیمار رہتی ہیں اور اماں سائیں تم دونوں کو یاد کرتی رہتی ہیں لیکن پتہ نہیں کیا بات ہے شہرزاد اس واقع کے بعد بابا سائیں چپ ہوکر رہ گئے ہیں کچھ بھی نہیں بولتے ہر کام سے ہاتھ کھینچ لیا ہے ہر فیصلہ ہر اصول ہر پنچائیت چھوڑ دی ہے وہ خود کو خیام چچا کا تم دونوں کا مجرم سمجھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اتنے سال پہلے ان کے فیصلے اور زد کی وجہ سے خیام چچا کی جان چلی گئی اور پھر اسی وجہ سے مكتوم لالا بھی ماں باپ کے ساے سے محروم ھوگئے لیکن پھر بھی انہوں نے ان رسومات سے کنارہ نہیں کیا انہیں شمشاد خان کی بیٹی کی آہ لگی ہوگی ہوگی اس لئے ان کی بیٹی کی زندگی بھی تباہ ہوکر رہ گئی” عبیر شاہ کی بات سن کر اس کا دل مٹھی میں اگیا تھا”

. ” اگر انہیں احساس ہے تو وہ مجھ سے ملتے کیوں نہیں؟” اس کا لہجہ بھرانے لگا۔

. ” شاید انہیں ملنے پر اعتراض نہ ہو شہرزاد لیکن قبیلے والوں کو اعتراض ہوسکتا ہے وہ ہمارے قبیلے کا بائیکاٹ کردیں گے ہم دونوں یہاں کسی کام سے اے تھے لیکن موقع ملا تو رہ نہیں سکے اس لئے چوری چوری ملنے چلے اے اماں سائیں بھی تمھارے لئے فکر مند تھیں”۔

” یہ قبیلے والوں کا ڈر کب ختم ہوگا؟ وہ روہانسی ہوتی جهنجلا گئی تھی۔

” جب میں قبیلے سے باہر اور شہر کی لڑکی سے شادی کروں گا” عبیر شاہ کے لہجے میں عزم بھی تھا اور شرارت بھی وہ حیرت و بے یقینی کی ملی جلی کیفیت میں دیکھنے لگی تھی۔

” ہاں یار اب کسی اور کو بھی تو قدم اٹھانا چاہیے ہر بار خیام چچا اور مكتوم لالا بازی لے جاتے ہیں انشااللہ حالات بدلیں گے قبیلہ اپنی غلط اور فررسودہ رسم و رواج دیکھتا رہ جاۓ گا دوسروں کی زندگی کے فیصلے پورے قبیلے کو کرنے کا حق نہی ہے سب کےماں باپ اور بہن بھاٸیوں کو فیصلے کی اجازت ہونی چاہیۓ کسی باہر کے افراد کو مداخلت کا حق بلکل نہی دینا چاہیۓ کیوں کے تکلیف ہمیں ہوتی ہے دوسروں کو نہی مرہم بھی ہمیں رکھنا ہے اور ان شاء اللہ یہ کام ضرور ہوگا عبیر شاہ کے ارادے پختہ تھے طلال شاہ معنی خیز سے مسکرا دیٸے تھے

***********

وہ کیچن میں گٸ تو پتا چلا کہ وہ میٹھاٸی اور فروٹ کی ٹوکرییاں چھوڑ گٸے ہیں جو زولفی کیچن میں رکھ گیا تھا انہوں نے زولفی کو بھی بھاری بھرکم ٹپ دی تھی شام کو جب وہ واپس آیا تو یہ خوشی پہلی نظر میں ہی محسوس ہوگٸ لیکن پوچھا نہیمگر اس کے ہاتھ سے کوٹ لیتے ہوۓ خود ہی چہک اٹھی تھی۔

” آج۔۔۔۔۔۔آج عبیر لالا اور طلال لالا آے تھے بہت دیر بٹہے رہے” شہرزاد کی چہکار پر اس نے تسمے کھولتے ہوۓ سر اٹھا کر اسے دیکھا اتنی خوش وہ صبح اس کے آفس جانے سے پہلے تو نہیں لگ رہی تھی جتنی اس وقت دکھائی دے رہی تھی وہ سر جھکا کر دوبارہ تسمے کی گرہ کھولنے لگا۔

” آپ کو خوشی نہیں ہوئی؟” وہ سلپر پہن کر الماری کی طرف بڑھ رہا تھا جب اس کی بات پر ٹھہر کر اس کی سمت پلٹا۔

. ” میرے خیال میں سب کو اپنوں کی خوشی پہ خوشی ہوتی ہے کسی اور کی خوشی میں خوش ہونا کسی کو نہیں اتا اس لئے آپ کے اپنے آے تھے آپ کو خوش ہونے کا پورا حق ہے جبکہ میرا کوئی اپنا نہیں اس لئے مجہے کبھی خوشی نہیں ہوگی۔ ” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا لفظ چبا کر ادا کرتا پلٹ کر باتھ روم چلا گیا اور وہ جہاں کی تہاں بیٹھی رہ گئی تھی جو کچھ وہ کہ کر گے تھا وہ سچ ہی تو تھا وہ کب اس کی خوشی میں خوش ہوئی تھی کب حویلی والوں نے اسے اپنا ہونے کا احساس بخشا تھا کب کسی نے اس کو چاہتوں سے نوازا تھا سب نے ہمیشہ محض رشتہ نبھایا تھا کیوں کہ وہ ان کی اولاد کی اولاد اولاد تھا ان کا خون تھا اس اے آگے کچھ نہیں تھا اور وہ بھی اپنے دل میں اب ” کچھ نہیں” کے سوا کچھ نہیں رکھتا تھا شہزاد نے دونوں ہاتھوں میں سر تھام لیا تھا۔

۔۔،۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” پھپو اس نے میرے ساتھ دھوکہ کیا ہے میرے ساتھ کھیل کھیلا ہے وہ مجہے سزا دیں چاہتا تھا وہ انتقاماً مجہے قبول کرنے پر آمادہ ہوا تھا وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مسلسل مجہے سزا دے رہا ہے” وہ يكدم پھٹ پڑی تھی اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔

” کیا کہہ رہی ہو تم؟”

” ہاں ہاں سچ کہہ رہی ہوں اس سے بڑی سزا اور کیا ہوگی مجھ سے بات تک نہیں کرتا ، میں دن اس کے انتظار میں گزار دیتی ہوں لیکن وہ اتا ہے تو دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتا میں ایک سال اور تین ماہ سے اس کے پیچھے بھاگ رہی ہوں اور وہ مجھ سے بھگ راہ ہے وہ۔ ۔۔۔۔۔۔۔اگر ایسا ہی رہا تو

میرا دماغ پھٹ جائے گا پھپھو میں تھک جاؤں گی ۔۔۔۔پاگل ہو جاؤں گی میں اور برداشت نہیں کر سکتی ” شہرزاد آج اپنے صبر کا دامن چھوڑ بیٹھی تھی اور جوکچھ اپنے دل میں تھا مومنہ پھوپھو سے کہ ڈالا تھا انہوں نے بنا کچھ کہے فون بند کر دیا۔۔۔

مکتوم شاہ پچھلے ایک ہفتے سے بنکاک گیا ہوا تھا اور آج واپس آ رہا تھا اسی متعلق پھوپھو نے آج پوچھا تو وہ چڑ گئی تھی کہ مجھے اس کے آنے یا نہ آنے سے کوئی فرق نہیں پڑتااور پھر وہ انکے مزید استفسار پر پھٹ پڑی تھی

وہ اپنے آنے کی اطلاع صبح ہی دے چکا تھا لیکن جب وہ آیا تو شہرزاد کو دیکھ کر چونک پڑا۔وہ بیڈ پے لیٹی چہرے پے کلائی رکھے ھوے تھیاب پتا نہیں وہ سو رہی تھی یا محض بہانہ تھا مگر وہ اسکو جگا نہ سکا کیوکہ وہ ہر کام میں اسکی مدد کا عادی ہوگیا تھا جہاں تک آفس سے واپسی پر سلپر تک وہ پیش کیا کرتی تھی وہ بلامبالغہ ایک اچھی اور مکمل بیوی کے سانچے میں ڈھلی اسکی خدمت میں بلکل کوئی کوتاہی نہیں کرتی تھی اور آج وہ اتنی دور سے اتنے دنوں بعد آیا تھا اور وہ لاتعلق بنی سو رہی تھی مجبور ہوکر خودی سلپر پہننے پڑے اور کپڑے چینج کرنے چلا گیا۔۔۔۔۔

رات کا کھانا بھی زبیدہ نے لگایا تھااور زبیدہ کے بلانے پر ہی وہ نیچے آئی پنک کلر کے کاٹن کے ملگجے سے شکن آلود کپڑوں میں وہ کچھ ایسی ہی بکھری الجھی لگ رہی تھی۔سیاہ الجھے ہوئے گھنگھریالے بال اداس چہرے کے پہرے دار بنے ہوے تھےچہرے کی رنگت سرخ آنکھے سوجی ہوئی پپوٹے سرخ اور ابھرے ہوے تھے مدھم سی آواز میں سلام کر کے کرسی کھینچ کر بیٹھ گی پھر جتنی دیر بیٹھی رہی سر جھکاے رکھا وہ اندر ہی اندر اسکی کیفیت سوچ کر حیران ہوتا رہا پھر اسکی حیرانی ہوا ہو گئی وہ اکیلا ہی ڈرائنگ روم میں بیٹھا ٹائم پاس کر رہا تھا تبہی مومنہ پھوپھو کی کال آیی آج انکے لہجے کی نرمی مفقود تھی

“کام کیسا جا رہا ہے؟”

“جی بہت اچھا”وہ انکے لہجے میں الجھنے لگا۔

“گھر اور گھر والی کا کیا حال ہے؟”وہ بارے نپے تلے بات کر رہی تھیں۔

“وہ بھی بہت اچھے حال میں ۔۔۔۔”

“گویا تمہارے خیال میں سب کچھ اچھا ہی اچھا ہے ۔”

“پھوپھو آپ کہنا کیا چاہتی ہیں ؟”

“تم شہرزاد کو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟”وہ انکی بات پر ششد رہ گیا کچھ بولنے کے لئے لب کھولے بٹ بول نہ سکا۔

“سیدھی بات ہے مجھے لگی لپٹی رکھنے کی کیا ضرورت ہے جب تم اسکے ساتھ خوش نہیں تو کیوں خود کو اسکے ساتھ باندھ رکھا ہے یا پھر اسے قیدی بنا کر رکھنے میں انا کی تسکین ہوتی ہے ؟”

“پھوپھو کیا ہو گیا ہے آپ کو ؟”

وہ حقیقت میں پریشان ہو گیا۔”مجھے وہی ہو گیا ہے جو تمہے سال ڑیڑھ سال سے ہو گیا ہے میں سمجھتی تھی شائد تمنے واقعی شہرزاد کا احساس کر کے اس سے شادی کی

ہے اس کی زندگی عذاب ہونے سے بچائی ہے شاید تمھارے دل میں کوئی نرم گوشہ تھا لیکن تم نے تو میری سوچوں کی بھرپور نفی کی ہے تم نے دراصل شہرزاد کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے اس کی غلطیوں کی سزا دینے اور انتقام لینے کے لئے اس سے شادی کی تھی۔

” میں تم سے صرف یہ کہنا چاہتی ہوں اگر اسے یہی سزا دینی تھی اپنے گھر کی چار دیواری میں قید کر کے رکھنا تھا تو کیا وہ ایک کمرے کی قید بری تھی اس کے لئے؟ کیا ان قبیلے والوں کی سزا کم تھی جو تم بھی شامل ھوگئے؟ کبھی تمہیں خیال نہیں آیا کہ وہ کن حالات سے گزری ہے اور اس کے ساتھ تمہارا رویہ کیسا ہونا چاہیے؟ تمہیں تو اس سے محبت کا دعوی تھا کہاں گئی وہ محبت؟ کیا وہ محبت بھی ایک بھول تھی یا پھر تھی ہی نہیں جس کو تم نے لکھ لکھ کر ڈائریوں میں چھپایا اور پھر ان ڈائریوں کو چھپانا بھول گئے؟ آج وہ حقیقتیں کھولنے پر آئیں تو پھٹ پڑیں تو گویا وہ اس کے راز سے واقف تھیں اور اس کا مطلب تھا کہ میراں بیبی بھی اس کے حال دل سے بخوبی واقف تھیں بس اسکا بھرم رکھتی آرہی تھیں وہ ہمیشہ شہرزاد کا رویہ دیکھ کر چپ ہوجاتی تھیں ورنہ دونوں کی شادی کروانا ان کے لئے مشکل تو نہیں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔مكتوم نے ان کی بات سن کر گھری سانس کھینچی اور اپنے اعصاب ڈھیلے چھوڑ دیے تھے اب بھلا کیا چھپانا باقی تھا؟

” بولو ناں کہاں گئی تمھاری محبت؟” وہ اس کی خاموشی سے چڑ گئی تھیں۔

” میری محبت ابھی بھی وہیں ہیں پھپو میں آج بھی شہرزاد سے محبت کرتا ہوں اور میری یہ محبت میرے ساتھ قبر میں جاۓ گی لیکن میں اس محبت کا اظہار نہیں کر سکتا نہ اپنی زبان سے نہ اپنے کسی عمل سے کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ وہ مجہے کیا سمجھتی ہے اور مجہے کیا درجہ دیتی ہے جس کی نظر میں میرے ماں باپ اور میری کوئی عزت اور اہمیت نہیں میری محبت کی بھلا کیا اہمیت ہوگی۔

” اور ویسے بھی یہ ضروری تو نہیں کہ ہر بار میں اپنی اور اپنے جذبوں کی توہین کرواؤں وہ میری ہے۔ میرے پاس ہے۔ میرے لئے یہی کافی ہے اور آپ یہ وہم دل سے نکال دیں کہ میں اسے انتقام لینے اور اسے سزا دینے کے لئے قبول کرنے پر آمادہ ہوا تھا میں ایسا سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ میں اس کے لئے کچھ بھی نہ سہی لیکن وہ میرے لئے سب کچھ ہے” اس کی انتہائی تهمل سے کہی گئیں باتیں مومنہ پھپو کو حیران کر گئیں تھیں۔

“تو پھر ایسا کیوں کررہے ہو “

” پھپو میں نے کچھ نہیں کیا وہ اپنی زندگی جیسے چاہے جیے میں اسے روکنے ٹوکنے کا سوچوں گا بھی نہیں۔”

” چاہے وہ تم سے محبت کرے پھر بھی؟” انہوں نے چھیڑا تو وہ تلخی سے ہنس دیا تھا۔

” مكتوم تم اس سے بدگمان ہو جبھی تمہیں اسکی ہر اچھی۔۔۔۔۔؟”

” میں۔۔۔۔۔میں بدگمان ہوں؟ پھپو یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟ میں بد گمان ہوں کیا ابھی بھی میرا یا میری بد گمانی کا قصور ہے! دس سال ھوگئے مجہے اس کی نفرت اور حقارت سہتے ہوۓ دس سال اسنے میری زات کی دهجیاں ارئی ہیں دس سال اس نے مجہے ہر نظر میں گرایا ہے اور اپنے پراے کے سامنے مجہے ذلیل کیا ہے میں نظر اٹھا کر بات کرنا بھول گیا تھا میں ہر مقام سے گر گیا تھا میں حویلی میں ره کر کھانا پینا، سونا جاگنا خود پر حرام سمجھتا تھا پھپو مجہے حقیر کردیا تھا اس نے۔ مجہے قدمو تلے روندا ہے اس نے۔

میں پاگل ہو جاتا اگر مجھے تائی ماں کا سہارا نہ ملتا انہوں نے ہمیشہ میرے زخموں پر مرہم رکھا انہوں نے ہمیشہ میرے درد کو سمجھا میں بھی شاید پتھر ہوجاتا مگر اس دل میں محبّت اور احساس کی رمق باقی تھی کہ میں نے تایی ماں کے آنسووں کا خیال کر کے اس سے شادی کر لی میں اس سے محبّت کرتا تھا مگر اسے پانے کا خواب کبھی نہیں دیکھا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ میں اس کی نظر میں کیا ہوں اگر میں اسکو پانے کا سوچتا تو زرینہ کیلئے حامی کبھی نہ بھرتا لیکن یہ بھی شاید اس کے لئے ایک سزا تھی کہ ارمغان کو چھوڑ کر میری بیوی بننا پڑا ورنہ میں جانتا ہوں کہ اگر زرینہ میرے خواب دیکھ سکتی ہے تو شہر زاد بھی ارمغان کے لئے راضی ہی تھی اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو حالات مختلف ہوتے وہ یقیناً اپنی زندگی میں خوش ہوتی اگر مینے اسے مجبور ہو کر اپنایا تھا تو اسنے بھی مجھے مجبوری سے ہی قبول کیا تھا ورنہ مکتوم شاہ جیسے بے ذات شخص کو شوہر بنا لینے کا وہ کبھی بھولے سے بھی نہیں سوچ سکتی تھی۔

جب یہ سارا سودا ہی مجبوری کا ہے تو پھر میں کیوں خوامخواہ اسپر حق جتاتا رہا ہوں میں کبھی بھی اس پے مسلط نہیں ہونا چاہتا ہر انسان کو اپنی زندگی جینے کا پورا حق ہے میرا دل میری محبت میرے خیالات اسکی نفرت عداوت اپنی جگہ اسے آزادی ہے جیسے چاہے زندگی گزارے میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں شاید اپسے بھی نہیں ۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو بھتیجی کی فکر ہوئی تو فورن مجھے ڈانٹ دیا کیا اپنے کبھی میرے لئے اسے ڈانٹا ؟”غصّے سے مشتعل ہوتے مکتوم شاہ کے آخری بھوجلسے فقرے نے مومنہ پھپو کا دل مٹھی میں بھینچ ڈالا وہ ٹرپ گئی تھیں لیکن وہ فون بند کر چکا تھا اور صوفے پر گرنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا یوں لگ رہا تھا آج اس کے وجود پر تھکن کا بہت بڑا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو اور وہ اس پہاڑ تلے دبتا چلا جارہا تھا اس کی کیفیت بے پناہ بوجھل ہوگئی تھی۔ جسم و جاں پہ شکستگی غالب آنے لگی تھی اور یہ شکستگی تو کئی سالوں سے اس کے دل کا حصّہ بنی ہوئی تھی لیکن گزشتہ سال ڈیڑھ سال سے اس میں اضافہ ہوگیا تھا اور آج تو۔۔۔۔۔

” موبائل دوبارہ بجنا شروع ہوچکا تھا اس نے بند آنکھوں کے باوجود موبائل کا کینسل کا بٹن دبا دیا اور ہر طرف خاموشی ہوگئی۔ کچھ دیر بعد پھر اس کا شور شروع ہوگیا اور اس نے بنا دیکھے کان سے لگا لیا تھا

. ” دیکھو بیٹا تم اپنے مقام پر غلط نہیں ہو مگر جو گزر چکا اسے بھلا دینا ہی بہتر ہوتا ہے وہ جیسی بھی تھی اب تمھاری بیوی ہے اور تمہاری بیوی بن کر اسے کوئی ملال نہیں وہ بہت خوش ہے اور اپنی گزشتہ غلطیوں اور کوتاہیوں پر نادم ہے وہ غلط تھی جبھی آج تک تمھارے سامنے اس کی نظر جھکی رہی ہے تم نے جو کہا جو کیا اس نے شکایت نہیں کی۔

” دیکھو بیٹا ضروری نہیں ہر محبت کرنے والے کا دل اور صبر تمھارے جیسا ہو وہ نازک احساسا ت رکھنے والی نازک لڑکی ہے زیادہ دیر محبت میں بے رخی نہیں سہ سکتی جہاں تم نے اتنے سال اپنے دل اور ظرف کو وسیع کئے رکھا وہاں اب ایسا کرنے میں بھی کنجوسی مت کرو ۔۔۔۔وہ تمھارے لئے زمین بن گئی ہے ان کا آسمان بن جاؤ اسے مان بخش دو اور اپنی محبت کو صرف ڈائریوں میں نہیں دلوں میں لکھنے کا فن سیکھو محبت کاغذوں میں رہی تو بوسیدہ ہوجاۓ گی دلوں میں رکھو گے تو تازہ رہے گی اور ویسے بھی آج کل اس حالت میں اسے تمہاری محبتوں کی تازگی اور اپنائیت کی ضرورت ہے اس کا خیال رکھو تمہارا ہی فائدہ ہے۔

ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ وہ کمزور ہے اور ذہنی دباؤ بھی ہے کل اس کا دوبارہ چک اپ کروانا اور دوبارہ شکایت کا موقع نہ دینا کیوں کہ وہ اب پہلے والی شہرزاد نہیں ہے وہ اب صرف اور صرف تیری دیوانی ہے اور اس کی دیوانگی کا یہ حال ہے کہ تمہاری اک اک بات اور بے رخی بتا کر رو رہی تھی وہ صبر کرنے والوں میں سے نہیں ہے۔ اور نہیں سہہ سکتی۔ جو ہوگیا محبت کے صدقے بھلا دو اللہ‎ تمہیں خوش رکھے گا اور تم انشااللہ بہت کامیاب زندگی گزارو گے بس دل صاف اور کشادہ کر کے دیکھو۔۔۔۔۔۔۔

” انہوں نے اللہ‎ حافظ کہ کر فون بند کردیا تھا لیکن مكتوم کیلئے حیرتوں اور بے یقینی کے جہاں چھوڑ گئیں تھیں ان کے الفاظ اس کے دماغ میں ہلچل مچانے لگے تھے اک اک لفظ ذہن کے پردے پر ناچ رہا تھا۔ محبت، شہرزاد، شکایت۔۔۔۔۔۔حالت، ڈاکٹر چک اپ، دیوانگی ، صبر ، صدقہ وہ اک اک لفظ پہ چکرارہا تھا اور پھر جھٹکے سے اٹھ کر ڈرائنگ روم سے اپنے بیڈ روم کی طرف بھاگا تھا اندر آیا تو قدم تھم گئے وہ قالین پر بیڈ سے ٹیک لگاۓ بیٹھی گھٹنوں میں منہ دیے دھواں دار رو رہی تھی مكتوم کو اس کے رونے کی سمجھ نہ آئ وہ قریب چلا آیا تھا۔

” شہرزاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔” ابھی اس نے پکارا ہی تھا کہ وہ سچ مچ بکھر گئی۔

” مجہے معاف کردیں۔۔۔۔۔۔۔۔مجہے معاف کردیں میں آپ کی گنہگار ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں بد قسمت تھی اپنی ہی چیز اپنے قدموں سے ٹھکراتی رہی اس کی تذلیل کرتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے مكتوم کے پاؤں پکڑ لئے تھے اور وہ ہل گیا اس کی شہرزاد اس کے قدموں میں۔۔۔۔۔

” یہ کیا کررہی ہو” اس نے جھک کر اسے اٹھایا اور اپنے سامنے کھڑا کردیا ۔

” میں۔۔۔۔۔۔میں ساری زندگی آپ کے قدموں میں گزار دوں تو بھی معافی کی حقدار نہیں بن سکتی میں نے سچ مچ بہت گناہ کئے ہیں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مكتوم آپ نہیں جانتے کہ اس میں میرا بھی اتنا قصور نہیں تھا جتنا ندرت چچی اور زرینہ وغیرہ کا تھا۔

وہ ٹھٹکا اور چونک کر دیکھا تھا۔

” شاید۔۔۔۔۔۔۔۔ندرت چچی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ارمغان لالا مجہے پسند کرتے ہیں جبکہ بابا سائیں اور اماں سائیں کا رجهان آپ کی طرف تھا۔ وہ شاید میری شادی اپ سے ہی کرنا چاہتے تھے اس لئے ندرت چچی نے بیٹے کا رستہ صاف کرنے کے لئے مجہے آپ کے خلاف بھڑکانہ شروع کردیا تھا اس کام میں زرینہ اور کبھی کبھی حسان اور ارمغان لالا بھی شامل ہوتے تھے اور انہوں نے کچھ اس طرح مجہے بدظن کیا کہ میں آپ سے چڑنے لگی کیوں کہ اماں سائیں اور بابا سائیں ہم بہن بھائیوں سے زیادہ پیار اور توجہ آپ کو دیتے تھے اور اس ناانصافی کا غصہ میں آپ پر اتارنے لگی تھی میری ماں کا مجھ پر اثر نہیں ہوا مگر چچی مجہے اپنے رنگ میں رنگ گئیں میں وہی کچھ بولنے لگ گئی جو وہ بولتیں تھیں لیکن جب رشتوں کی بات ہوئی اور آپ کا رشتہ زرینہ سے طے ہوا تو وہ لوگ کافی خوش تھے اور میں حیران تھی ان کو جائیداد کا تنہا وارث مل رہاتھا خیام چچا کی ساری پراپرٹی آپ ہی کی تو تھی اور یوں ان کے ایک تیر سے دو نشانے لگے، بیٹی بھی اور بیٹا بھی، لیکن میرے کڈنیپ کے بعد ان کے رنگ ہی بدل گئے تھے، وہ نظر ملانا بھول گئے تھے۔

“بے شک۔۔۔۔۔ میرا رشتہ ارمغان لالا سے طے ہوا تھا لیکن میں خوابوں میں رہنے والی لڑکی نہیں تھی میں نے کبھی ان کے حوالے سے کچھ نہیں سوچا کیونکہ انسان انہی کے مطعلق سوچتا ہے جس کے ساتھ کوئی دل کا دھاگہ بندها ہو جبکہ میرے لئے وہ ارمغان لالا ہی تھے جب تک شادی نا ہوتی میں محبت کا نہیں سوچ سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔جب شادی ہوگی تو پھر محبت بھی ہوجاۓ گی۔

” میں اپنے دل کو محبت سے نہیں بچا سکی میں آپ کے بغیر نہیں ره سکتی میں آپ کی بے رخی سے مر جاؤں گی

میرا بھی کوئی اپنا نہیں آپ کے سوا۔ ۔۔۔۔۔۔پلیز مجہے معاف کردیں پلیز۔۔۔”

” وہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ رہی تھی اور مكتوم شاہ سکتے کی سی کیفیت میں کھڑا تھا اور اسے خاموش دیکھ کر اسے پھر سے رونا آنے لگا وہ اس شخص کے سامنے تمام عمر ہاتھ جوڑے کھڑی رہتی تو اف نا کرتی آج وہ اس کی محبت کی جهلك دیکھ چکی تھی اس محبت کی جو وہ شہرزاد سے بھی چھپاے پھر رہا تھا لیکن مومنہ پھپو اور مكتوم شاہ کے درمیان ہونے والی گفتگو نے آج یہ راز بھی عیاں کر دیا تھا وہ سب سن چکی تھی جب ہی ندامت کا احساس زیادہ تھا۔

. ” اس سے پہلے کہ وہ مایوس ہوجاتی مكتوم نے اس کے ہاتھ کھینچ کر انتہائی محبت اور شفقت سے چوم لئے تھے اور پھر اسی شدّت سے کھینچ کر بانہوں میں بھینچ لیا تھا۔

یہ بدن یہ نگاہیں میری امانت ہیں

یہ گھیسوئوں کی گھنی چھائوں ہے میری خاطر

یہ ہونٹ اور یہ بانہیں میری امانت ہیں

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے

کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لئے

وہ سرگوشی کہ انداز میں گنگناتا اسکا ہاتھ اپنے دل پے رکھے ہوے تھا اور شہرزاد اسکے بازو پر سر رکھے سونے کی تیاری کر رہی تھی مگر وہ آج شاید سونے کے موڈ میں نہیں تھا

“سو جاییں مجھے بھی نیند آ رہی ہی ۔”اسنے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر مکتوم نے اسکا ہاتھ اپنے رخسار پر رکھ لیا ۔

“یار مجھ سے باتیں کرو مجھے ابھی نیند نہیں آ رہی اسکا سچ مچ ابھی سونے کا ارادہ نہیں تھاوہ اس سے باتیں کرنا چاہتا تھا مگر شہرزاد پر نیند کی دیوی بری طرح سے مہربان ہو چکی تھی اور پھر اسکی گلابی آنکھوں کو دیکھ کر وہ بےساختہ مسکرایا ۔

“اوکے سو جاو “وہ اسکے بالوں کو سہلانے لگا لیکن کچھ دیر بعد بےساختہ کچھ یاد آنے پر پکار بیٹھا تھا۔

“شہرزاد پھوپھو بتا رہی تھیں کیه تم ڈاکٹر کے پاس گیئی ہو اور ابھی دوبارہ بھی چیکاپ کروانا ہے ۔کیا ہوا ؟تم ٹھیک تو ہو؟ وہ اسکے اچانک پکارنے پر نیند کے شکنجے سے باہر آیی۔پھر ٹھٹھک گیئی ۔پھر اسکی بات سمجھ کر جھجھک گی۔

آپ پھوپھو یا مسز کاظمی سے پوچھ لیجئے گا میں مسز کاظمی کے ساتھ ہی گیئ تھی۔ اسنے ٹالنا چاہا ۔”کیوں کویی پریشانی والی بات ہے؟ “وہ مفکر ۔ہوا “۔نہیں بلکہ خوشی والی بات ۔۔۔۔۔۔۔”وہ کہتے کہتے لب کاٹنے لگی اگر کمرے میں ملگجا سا اندھیرا نا ہوتا تو وہ اسکے چہرے پر بکھرنے والی شرم کی سرخی سے ہی سمجھ جاتا مگر اب بنا بتاے کویی رستہ بھی نہیں تھا ۔”ہاں بولو چپ کیوں ہوگیی ؟”

“وہ میں ۔۔۔۔۔پریگ۔۔۔ آ”آپ سمجھ کیوں نہیں جاتے “وہ جھنجھلا گیئی تھی”ہاں اب کہ بھی دو ” وہ اسکے اسرار کے باوجود بول نہیں پا رہی تھیاور اسکی جھجھک سے مکتوم کے دماغ میں جھماکا ہوا تھا ۔

“میں بابا بنے والا ہوں یہی کہنا چاہتی ہو ناں ۔؟”اسنے شرارت سے پوچھا تو شہرزاد اثبات میں سر ہلا کر جھجھکتے ہوےاسکے گریبان میں چہرہ چھپا گیئی تھی اور ووہ خوشی سے مسرور ہورہا تھا” تھینک یو شہرزاد تم نے میرے سارے گلے شکوے میری ساری تشنگی مٹا دی ہے اے اللہ‎ میرا تیرا گنہگار اس قابل نہیں تھا جتنا تونے مجہے نواز دیا ہے میرے گناہ معاف کردے ۔۔،۔” وہ خوشی کے ان لمحات میں اپنے رب کا شکر گزار ہورہا تھا۔

” آؤ فون کرتے ہیں” وہ يكدم اٹھ کر بیٹھ گیا تھا آج وہ اتنا خوش تھا کہ اتنی خوشیاں سنمبهالی نہیں جارہی تھیں اور وہ ان خوشیوں کو سب کے ساتھ بانٹنا چاہتا تھا۔

. ” کس کو؟”

” تائی ماں کو۔۔۔۔۔”

” اس وقت؟ شہرزاد کو اچھنبا ہوا۔

” ہاں اٹھو۔۔۔۔۔” وہ اسے اٹھا کر فون سیٹ کے قریب کھینچ چکا تھا۔

” اگر کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔۔۔۔؟” شہرزاد کو تشویش ہوئی تھی۔

. ” ہم اپنی ماں سے بات کریں گے پتہ چلتا ہے تو چلتا رہے ہم نے وہ گاؤں وہ قبیلہ اور وہ وہ حویلی چھوڑی ہے اپنے ماں باپ اور رشتے دار نہیں چھوڑے کم آن یار نمبر ڈائل کرو” وہ اسے نمبر ڈائل کرنے کا کہہ رہا تھا اور پھر رات کے تین بجے متواتر بجتے فون کو میراں بی بی نے ہی ریسیو کیا تھا۔

. ” آپ نانی بننے والی ہیں” مكتوم نے چوٹتے ہی سسپنس پھیلانے والے گھمبیر انداز اور لہجے میں کہا تھا اور میراں بی بی ہکا بكا ره گئی تھیں جبکہ شہرزاد اس کی شرارت پر ہنسی روک رہی تھی۔

” کون ہو تم؟”

” آپ کا بیٹا جو باپ بننے والا ہے”

” مكتوم؟ وہ خوشی سی چلائیں۔

” جی تائی ماں آپ کا مكتوم آپ کا بیٹا آپ کا داماد کیسی ہیں آپ؟” وہ اب اپنے اصل لہجے میں لوٹ آیا تھا اور پھر شہرزاد بھی باتوں میں شریک ہوگئی کبھی وہ فون چھین لیتا کبھی وہ فون جھپٹ لیتی اسی طرح باتوں اور شرارتوں میں مگن رات گزرنے کا پتہ ہی نا چلا تھا شاید خوشیوں میں یہی حال ہوتا ہے لمحے ہوا کی جھونکوں کی مانند گزرتے چلے جاتے ہیں سب کچھ سہل سا لگنے لگتا ہے بلکل ایسے جیسے انسان کے دل میں غم کا پہاڑ سرک جاۓ تو وہ کھلی فضاؤں میں لمبی لمبی خوشگوار سانسیں لینے لگتا ہے ان کے دلوں سے بھی غم کدورت اور شکایتوں کے پتھر ہٹ گئے تھے وہ بھی خوشی کی فضا میں کھل کر جی رہے تھے اور اس جینے میں ان کا بیٹا بھی شامل ہوچکا تھا۔

. ” جس روز شہرزاد نے خوبصورت بیٹے کو جنم دیا اسی روز توقیر شاہ میراں بی بی اور بی بی جان کو سب سے چھپ کر ملانے کے لئے لاے تھے پیر سائیں ملنے تو نہیں آے تھے مگر اپنے نواسے اور پوتے کا عقیقہ بڑی دھوم دھام سے کیا تھا۔

. ” پہلی سالگرہ پر مومنہ پھپو اور ان کی فیملی مكتوم شاہ اور شہرزاد کے گھر رہنے کے لئے آئی تھی وہ بے پناہ خوش تھے کیوں کہ ان کے اپنے بھی ان کی خوشیوں میں شریک ہوتے رهتے تھے بس ابھی باقاعدہ نہیں آے تھے مگر انہیں یقین تھا کہ ایک نہ ایک دن وہ ان سے ملنے سب کے سامنے آئیں گے اور تمام فرسودہ اور جاہلانہ رسم و رواج اپنا وجود کھو بیٹھیں گے کیوں کہ آدھا وجود تو ابھی بھی کھو ہی چکا تھا صرف آدھا باقی تھا اور اس آدھے جاہلانہ پن کو ختم کرنے کے لئے کسی اور بہادر اور ٹھوس فیصلہ کی دیر تھی بس کسی اور کو قدم آگے بڑھانا تھا صرف ایک قدم صرف ایک فیصلہ اور پھر اس قدم پہ اس فیصلہ پہ قائم رہنا تھا اپنی ذات پہ اعتماد رکھنا تھا اور اپنے رب پہ کامل یقین۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *