Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Ahle Dil Ho (Episode 07)

Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz

“بیڈ روم کے علاوہ کوئی جاۓ پناہ جو نہیں ہے” ۔ وہ منہ کے زواے بگاڑتی ہوئی سیڑھیاں چڑھ گئی تھی اور ہمیشہ کی طرح دروازہ زور سے کھول کر بے دھڑاک اندر داخل ہوئی تھی لیکن اندر داخل ہوکر احساس ہوا کہ کسی بھی مرد کے کمرے میں عورت کو اور کسی بھی عورت کے کمرے میں مرد کو یوں بے دھڑک اور بنا اجازت نہیں جانا چاہئے وہ پہلی بار مكتوم شاہ کے سامنے شرمندہ ہوئی تھی اور جھجک بھی آڑے آگئی تھی اور وہ تیزی سے رخ موڑ کر شرٹ اٹھا چکا تھا وہ بھی مہندی کے فنکشن میں شریک ہونے کے لئے تیار ہورہا تھا۔

“جی فرمائیے” وہ شرٹ کے بٹن گریبان تک بند کر کے اس کی طرف پلٹا تھا۔

وہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ابھی تک پھول نہیں آے؟

وہ پھول حویلی کے مردان خانے میں رکھے ہیں وہ آدمی دے گیا ہے آپ ملازمہ کو بھیج کر منگوالیجیے۔ اور شہرزاد اس کے کمرے سے تیر کی طرح نکل گئی تھی بس اتنی سی بات کے لئے اتنی شرمندگی اٹھائی ذرا صبر کر لیتی تو نظر تو نیچی نہیں ہوتی پھول تو آجانے تھے چاہے دیر ہی سے سہی۔ اس نے دل ہی دل میں خود کو لعنت ملامت کی اور آئیندہ ایسا کوئی دھڑلا دکھانے سے توبہ کرلی تھی اور پھر خود بھی تیار ہونے چلی گئی تھی۔خزینہ اور طلال ایک ہی گڑھے کی مچھلیاں تھے جبکہ توقیر شاہ اکیلے تھے ان کی شادی ساتھ والے گاؤں میں ان کی خالہ کی بیٹی سے ہو رہی تھی جس کے ساتھ وہ بچپن سے منسوب تھے مہندی کی رسم بہت دھوم دھام سے ہوئی تھی۔

شہر۔ ۔۔۔۔۔زاد۔ ۔۔۔۔۔خزینہ اور زرش بیک وقت اسے دیکھ کر مبہوت رہ گئی تھیں نیوی بلیو اور رائل بلیو كمبی نیشن کے انتہائی قیمتی اور نفیس سے ڈریس میں ملبوس ہلکے سے ميک اپ کا ٹچ دیے وہ گھنے گھنگریالے بالوں کے ساتھ کچھ اور ہی غضب ڈھا رہی تھی اس کے تیکھے نین نقوش اور سیاہ چمک دار گردن کا احاطہ رکھنے والے بال سادگی میں بھی بے پناہ دلکش لگتے تھے لیکن آج تو ان کی چبھ ہی نرالی تھی۔

ارے مجہے تو لگتا ہے ارمغان لا لا بھی شادی کی ضد آج ہی کر بیٹھیں گے۔” خزینہ اور طلال کی شادی کل تھی اسی لئے خزینہ اپنے آپ کو چادر میں چھپا کر آج برات میں شریک ہورہی تھی کیوں کہ گھر پہ تنہا رہنے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ بھی توقیر شاہ کی شادی کا ہلا گلہ دیکھنا چاہتی تھی۔

” ارے شادی کی ضد تو بعد میں کریں گے پہلے پہلے اسے دیکھتے ہی بے ہوش ہونگے ویسے ارمغان لا لا کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔

سٹوپڈ اب بس بھی کرو ابھی ایسا اوٹ پٹانگ بولنے کی کوئی ضرورت نہیں بیٹھے بٹھاے رشتہ داریاں بنانے سے مجہے چڑ ہوتی ہے۔”

“شہرزاد کو خوامخوا ارمغان شاہ کے ساتھ نتهی ہونا اچھا نہیں لگ رہا تھا کیوں کہ ابھی ے بات بڑوں کے درمیان تھی اور ابھی تک باہر نہیں نکلی تھی۔ “

“یہ وقت بٹے گا خیر تم جاؤ ہم آجاتے ہیں۔” خزینہ اور زرش کمروں کی طرف چلی گئیں اور شہرزاد بھی راهداری کا کونا مڑ چکی تھی لیکن اگلے ہی پل آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا اور مکتوم شاہ اپنے مظبوط ہاتھ سے اس کا نازک گداز بازو تھام کر اسے گرنے سے بچا گیا تھا۔۔۔۔

شہرزاد کو زیادہ تکلیف ناک کی چوٹ سے ہوئی تھی اس نے ناک پہ ہاتھ رکھے رکھے نگاہ اٹھا کر اسے دیکھا تھا اور اسے دیکھ کر غصہ عود کے آیا تھا لیکن مكتوم شاہ کے چہرے کے تاثرات اور ہاتھ کی مظبوط گرفت سے ٹھٹکا گئی تھی اس کی آنکھوں میں جلا دینے والی برف جمی تھی شہرزاد نے کبھی برف میں آگ نہیں دیکھی تھی لیکن آج وہ مكتوم شاہ کی آنکھوں میں برف اور آگ کو ایک ساتھ دیکھ رہی تھی اور وہ اسے ایک طرف دھکیل کر دوسری سمت چلا گیا تھا۔

“شہری کیا ہوا یہاں کیوں کھڑی ہو؟” عبیر شاہ اور نومیر شاہ وہاں سے گزرے تو اسے منہ پہ ہاتھ رکھا دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹایا تو اس کی ناک سے خون بہتا ہوا دکھائی دیا۔

“او نو یہ۔۔۔۔۔۔۔کیا ہے؟” عبیر شاہ نے فوراً رومال نکال کر اس کی طرف بڑہایا تھا وہ چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور ان چاروں کو ہی بہن سے بہت پیار تھا۔ عبیر شاہ اور نومیر شاہ جڑواں تھے اور دونوں ہی تعلیم کے سلسلہ میں امریکا ہوتے تھے ابھی بھی اپنے بڑے بھائی کی شادی میں شرکت کے لئے آے ہوۓ تھے۔

“تم لوگ یہاں کیوں کھڑے ہو؟ ندرت چچی پاس سے گزری تو دیکھ کر ٹھہر گئیں۔

“شہری کو چوٹ آئ ہے”۔ وہ اسے لیکر ڈرائنگ روم میں آ گئے تھے اور باہر زرش اور مومنہ پھپو مكتوم سے اس کی قمیض پر لگے لپ سٹک کے نشان کے بارے میں استفسار کررہی تھیں۔

“پھپو میں ایسی ویسی چیزوں سے کوئی دل چسپی نہیں رکھتا۔”

“ایسی ویسی چیزوں سے مطلب؟ زرش تنگ گئی تھی۔

“اس چیز کو استعمال کرنے والی۔” وہ لپ سٹک کے نشان کی طرف اشارہ کر کے چلا گیا تھا اور دونوں ماں بیٹی ہنس پڑی تھیں۔

“بار بار لوگوں کے استفسار اور اور زو معنی باتوں سے بچنے کیلئے وہ کپڑے ہی چینج کر آیا تھا اور کپڑے تو شہرزاد کو بھی چینج کرنے پڑے تھے کیوں کہ ان پر خون کا دهبا لگ چکا تھا لڑکیوں کو کافی افسوس ہوا تھا اس نقصان پہ۔ ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔،۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شادیوں کے ہنگامے سرد پڑے تو تو زندگی معمول پر آتی چلی گئی تھی مكتوم سی ایس ایس کے اگزیم دے چکا تھا اور اب مکمل طور پر فارغ تھا اور اس کا پہلا مشن وحید کاظمی سے ملاقات کا تھا جو اس کے لئے امریکا دريافت سے کم نہیں تھا لیکن یہی امریکا اسے مکھن میں بال کی طرح دريافت ہوگیا تھا وہ اسلام آباد کے ایک ہسپتال کے پارکنگ لاٹ سے اپنی گاڑی نکال رہا تھا جب گاڑی پچھلی گاڑی کے بمپر سے ٹکرا گئی تھی اور غلطی بھی پیچھے والے ڈرائیور کی تھی جو اگلی گاڑی کو بیک ہوتا دیکھ کر بھی گاڑی آگے لا رہا تھا اپنی گاڑی کا کوئی نقصان تو نہیں ہوا؟ یہی دیکھنے کے لئے وہ گاڑی سے اتر آیا تھا گاڑی پڑ ڈینٹ پڑ گیا تھا وہ تلملا کر دوسری گاڑی کے ڈرائیور کے پاس آیا تھا۔

“آپ گاڑی دیکھ کر نہیں چلا رہے؟ لہجہ سخت تھا لیکن سامنے نظر پڑتے ہی ساری سختی ہوا ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔صورت دونوں کو جانی پہچانی لگ رہی تھی وحید کاظمی نگاہیں اس کے خدو خال سے الجھ گئی تھیں۔

” آپ۔۔۔۔۔۔آپ وحید انکل؟ وہ بے یقین سا کھڑا تھا زبان بے ربط ہوگئی تھی۔

“تم خیام شاہ کے بیٹے ہو؟ وہ بھی گاڑی سے اتر آے تھے مكتوم نے ان کو تصویروں میں خیام شاہ کے ساتھ دیکھا تھا اور دھندلی سی شناخت ہوئی تھی یہی حال وحید کاظمی کا بھی تھا انہوں نے بھی خیام شاہ کے نین نقوش ذرا مشکل سے کھوجے تھے اور پھر دونوں ہی بڑی خوشی اور گرم جوشی سے بگل گیر ہوۓ تھے وحید کاظمی نے با قاعدہ اس کے ماتھے پر پیار کیا تھا آنکھیں بڑی تیزی سے نم ہوئی تھیں۔

“مكتوم جلدی آؤ دیر ہورہی ہے” گاڑی میں بیٹھے فیروز شاہ نے کہا۔

چچا سائں ۔۔۔۔۔۔وحید انکل ۔۔۔۔۔۔۔وحید کاظمی۔” اس نے لپک کے بے ربط سے الفاظ میں کہا اور گاڑی سے اترتے فیروز شاہ وحید کاظمی کو دیکھ کر حیران رہ گئے انہوں نے مدّت بعد ایک دوسرے کو دیکھا تھا بہت سال پہلے وحید کاظمی خیام کے ساتھ چند روز گاؤں میں گزرنے آے تھے اور خیام نے اپنے اکلوتے دوست کی آؤ بھگت کی تھی یوں سارے بھائیوں سے جان پہچان ہوئی تھی اور اب اتنے سال بعد؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” میری اور خیام کی دوستی کالج میں پہلے دن ہی ہوگئی تھی شاید یہ ہماری ذہنی ہم اهنگی تھی کہ ہمیں اجنبیت کا احساس ذرا بھی نہیں ہوا تھا ہم دو چار دنوں میں ہی بے تكلف ہوگئے تھے اور یہ ہماری بے تكلفی ہی تھی کہ میں اسے اپنی منگیتر کی باتیں سنانے لگا وہ میری باتیں دل چسپی سے سنتا تھا کیوں کہ اس نے خود کبھی کسی لڑکی میں انٹرسٹ نہیں لیا تھا لیکن ہماری سب سے کم عمر کلاس فلیو روحانہ مجید اسے ایسی بھائی کہ وہ ہواؤں میں اڑنے لگا تھا روحانہ مجید نقاب لیتی تھی اور وہ اس کی آنکھوں پر فدا ہوگیا تھا لیکن جب اسے اپنانے کی خواہش ہوئی تو اپنے قبیلے اور اصولوں کو سوچ کر پریشان ہوگیا۔

“مجہے نہیں لگتا روحانہ مجید میری زندگی کا حصّہ بنے گی”

“کیوں؟ مجہے اس بات کی وضاحت چاہیے تھی”

“با با سائں اور لا لا سائں میرا سر کاٹ دیں گے خاندان سے باہر کی عورت لانا اور وہ بھی شهر سے۔۔۔۔۔توبہ کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔اس کے انداز میں قطعیت ہوتی تھی ۔

“یار وہ لوگ تم سے بہت پیار کرتے ہیں مان جایں گے۔” میں نے سمجھایا تھا۔

“وہ مجھ سے پیار کرتے ہیں کوئی شک نہیں لیکن مجھ سے زیادہ پیار اپنے اصولوں اور رسم و رواجوں سے کرتے ہیں۔” وہ ابھی بھی انکاری تھا۔

” ویسے میں نے تو سنا ہے قبائلی لوگ بیٹوں کے معملے میں بڑے آزاد خیال ہوتے ہیں اور بیٹیوں کے معملے میں بڑے سخت اور تنگ نظر ہوتے ہیں۔” میں نے ڈرتے ڈرتے کہا تھا اور وہ میرا ڈر بھانپ گیا تھا اسی لئے ہنس پڑا۔

“یار لوگوں کی باتیں ہیں سرف ورنہ اپنی ناک اور پگڑی اونچا رکھنے کے لئے بیٹی اور بیٹا دونوں کو چھری تلے رکھنے سے گریز نہیں کرتے۔ وہ سخت جهنجلایا ہوا تھا رات بھر اس نے میرا سر کھاۓ رکھا اور صبح تک میں زچ ہوچکا تھا اسے مختلف آئیڈیاز بھی دیے مگر وہ کسی طور نہ مانا لیکن اگلے دو روز تک معملہ بلکل ہی الٹ ہو جاۓ گا ہمیں اندازہ نہیں تھا روحانہ مجید کالج سے غائب تھی میں نے اس کے کہنے پر خفیہ انداز میں ایک لڑکی سے اس کی غیر حاضری کا پوچھا تو پتہ چلا کہ اس کے والد کا شدید ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ ہسپتال میں ہیں روحانہ کی والدہ تو پہلے ہی حیات نہیں تھیں اب باپ کی حالت اسے پاگل کر گئی تھی ہم ہمت کر کے عیادت کو چلے گئے اور پھر مسلسل پانچ روز خیام نے مجید نیازی کی خوب خدمت کی روحانہ کا کوئی بہن بھائ اور رشتہ دار نہیں تھا وہ اکیلی تھی اور اس اکیلے پن میں خیام شاہ کا ساتھ پا کر مظبوط ہوگئی تھی۔

“ویسے بھی وہ دو سال سے خیام شاہ کی خاموش محبت کو محسوس کرتی آرہی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ تین چار دنوں میں اسے اپنے قریب سمجھنے لگی تھی لیکن ایکسیڈنٹ کے دو ہفتے بعد مجید نیازی کی موت اسے توڑ گئی تھی اور مجھے بھی ایسا لگا تھا خیام کو اس کا ساتھ دینا چاہئے عمر بھر کا ساتھ۔۔۔۔۔۔اور پھر میرے مشورے اور اصرار پر وہ اس سے شادی کے لئے راضی ہوگیا۔

“میں جانتا تھا کہ وہ دل سے ایسا ہی چاہتا ہے مگر گھر والوں کا سوچ کر رک جاتا ہے لیکن جب میں نے کہا کہ دل تیرا ہے، زندگی تیری ہے، فیصلہ بھی تیرا ہونا چاہیے تو وہ کچھ بہل سا گیا تھا اور ایک شب دونوں کی رضا مندی سے ان کا نکاح ہوگیا تو ہوا تھا لیکن اس نے شوق سبھی پورے کیے تھے روحانہ کے لئے زیوارات اور عروسی لباس خریدا ، میں نے اپنا فلیٹ ان کے لئے ڈیکوریٹ کردیا کیوں کہ روحانہ کے والد صاحب کراے کے مکان میں رہ رہے تھے اور اب وہ مکاں چھوڑنا تھا اسی لئے وہ دلہن کو اپنے شهر والے بنگلے پر بھی نہیں لے جا سکتا تھا کہ کہیں با با سائں اور لا لا سائں چھاپہ ہی نہ مار دیں یا پھر ملازم کچھ اگل دیں اسی ڈر سے وہ دلہن کو میرے گھر لے گیا چند روز روحانہ کو وہیں رکھنے کا ارادہ تھا کیوں کہ وہ اس کے لئے کوئی فلیٹ ڈھونڈ رہا تھا لیکن اتنی جلدی کوئی فلیٹ تو نہ ملا البتہ ہوسٹل میں کمرہ مل گیا روحانہ ابھی بھی کالج میں پڑھ رہی تھی اسے ہوسٹل میں چھوڑنے کے بعد وہ گاؤں چلا گیا اس کا ارادہ تھا کہ بھائیوں اور بہن کے زریعے ماں باپ کو روحانہ کے لئے موم کر لے گا۔

“لیکن حویلی جاكر پتہ چلا بھابی میکے گئی ہوئی ہیں اور بہن کے امتحان ہورہے ہیں وہ شهر آنے جانے اور امتحان کی تیاریوں میں مصروف ہے اس لئے ڈسٹرب نہیں کیا اور واپس اگیا لیکن واپس آکر یہ بھی بتایا کہ با با سائں نے کوئی فیصلہ کیا ہے جو شاید دوسری پارٹی کو ناگوار گزرا ہے اس لئے زندگی میں پہلی بار وہ اپنے فیصلے سے انحراف ہونے کی وجہ سے بپھرے ہوۓ تھے اور کچھ عرصہ ان سے بھی بات کرنے کا کوئی امکان نہیں، لہٰذا فلحال چپ ہی بہتر ہے اسی دوران کچھ مہینے گزر گئے۔ لیکن جیسے ہی روحانہ کی پرگننٹ ہونے کی خبر ملی تو وہ گھبرا گیا اور اس گھبراہٹ پر روحانہ بھابی اور میں پریشاں ہوگئے۔

“کیوں تمہیں بچے اچھے نہیں لگتے؟ ارے یار بچے میری جان ہیں میں لا لا سائیں کے بچوں کو اتنا پیار کرتا ہوں کہ وہ رو پڑتے تھے یہ تو۔۔۔۔یہ اپنا جگر گوشہ ہوگا اپنے سینے پر کھیلے گا لیکن یار ڈرتا ہوں کے بابا سائیں اور لالا سائیں میرا سینہ اس قابل ہی نہ چھوڑیں کہ۔۔۔۔۔۔۔

“بکواس بند کرو جاؤ کل ہی حویلی کے حالات دیکھو بھابی وگیرہ سے بات کرو۔” میں نے اسے جھڑک دیا تھا اور وہ اگلے ہی روز حویلی چلا گیا تھا ان دونوں مخالف پارٹی کے ساتھ آپ کے آپ کے حالات کافی خراب تھے اور انہی دنوں میں اپنے گھر والوں کے ساتھ کینیڈا جارہا تھا اچانک ہی ہمارے ٹکٹ کنفرم ہوکر آگئے تھے یوں بہت جلد مجہے پاکستان کو الوداع کہ دینا تھا لیکن اس کے جاتے ہی روحانہ بھابی کی طبیعت خراب ہوگئی انہیں سردی لگ گئی تھی اور مجہے ان کے وارڈن نے بلایا میں نے فورا حویلی فون کیا اور خیام کو بلا لیا۔

” خیریت تو ہے؟ اس کی متفكر الجھی الجھی پریشان سی حالت دیکھ کر میں قریب بیٹھ گیا وہ راهداری میں رکھے بینچ پر بیٹھا تھا۔

“بابا سائیں اور لالا سائیں نے شمشاد کو فیصلہ سنایا ہے کہ مخالف پارٹی کو خون بہا میں اپنی بیٹی دیدیں لیکن شمشاد کسی بھی صورت اس فیصلہ کو ماننے کو تیار نہ تھا۔

“کیوں وہ کیوں خون بہا دینا نہیں چاہتا جبکہ اس کے بیٹے سے قتل بھی ہوا ہے؟ میں مسلہ جانتا تھا۔

“ہوسکتا ہے اسے اپنی بیٹی بہت پیاری ہو بہت لاڈلی ہو اور تم جانتے ہو اپنی پیاری اور لاڈلی چیز کسی دوست کو دینے کا دل نہیں چاہتا یہ تو پھر دشمن کو دینے کی بات ہے۔”اسے شمشاد خان کا احساس سب سے زیادہ تھا۔

“وحید تم یقین نہ کرو گے جب سے مجہے باپ بننے کا احساس ہوا ہے میں کتنا خوش اور حساس ہوگیا ہوں ہر ماں باپ اور اولاد کے جذبات کی سمجھ آگئی ہے اور سچ پوچھو تو میں بابا سائیں اور لالا سائیں کے اس سنگدلانہ فیصلہ سے ذرا خوش نہیں ہوں لیکن جو کچھ حالات ہیں انہیں سمجھانا بہت مشکل ہے۔

“پھر کیا ہوگا؟ میں بھی متفكر ہوگیا تھا اور اندر روحانہ بھابی کو ہوش اگیا تھا۔

“جو کچھ ہوگا میں تمہیں صبح بتاؤں گا ۔” وہ کہ کر اندر چلا گیا رات ان کو ہسپتال میں رکھنے کے بعد ڈاکٹر نے ڈسچارج کردیا تھا اور بیڈ ریسٹ بتایا تھا ان کو دوبارہ ہوسٹل چھوڑا اور وارڈن کو بھاری رقم دے کر ان کا خیال رکھنے کی تاکید کی اور اس کے بنگلے اور آگئے۔

“میں اپنا سارا بینک بیلنس تمھارے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کررہا ہوں اور یہ روحانہ کے کچھ زیورات بھی تمھارے لاکر میں رکھوارہا ہوں اس کے علاوہ جو چند روز پہلے تم نے مجہے بنگلا دکھایا تھا وہ میں خریدنا چاہتا ہوں آج اور ابھی۔ اس نے اپنا لاکر کھول کر سب کچھ میرے سامنے رکھ دیا اور میری حالت عجیب سی ہوگئی۔

“یہ سب کیا ہے کیوں کررہے ہو؟”

“دیکھو کاظمی میرے لالا سائیں کو میرا اعتبار نہیں ہے وہ سمجھتے ہیں میں انہیں تنہا کر کے بھاگ رہا ہوں ان کی پشت خالی کررہا ہوں لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ مجہے ان سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں۔ میں تو انہیں ابھی تک بس اس لئے سمجهاتا آرہا ہوں کہ ایک بیٹی کا معملہ ہے اور کبھی کبھی بیٹیاں بیٹوں سے بھی زیادہ پیاری ہوجاتی ہیں وہ اس بات کو انا کا مسلہ نہ بنایں لیکن وہ نہیں مانے بہر حال میں انہیں تنہا تو نہیں چھوڑ سکتا تھا نا؟ “اسی لئے مجہے کال واپس گاؤں جانا ہے کوئی پتہ نہیں کب گولہ باری شروع ہوجاۓ اور کب قضا آجاۓ ہمارے علاقے میں زندگیوں کے کھیل ایسے ہی کھیلے جاتے ہیں اب دیکھو ہمارا کیا بنتا ہے بہر حال اپنے بیوی بچے کے تحفظ کے لئے میرے پاس جو کچھ بھی ہے چھوڑ کر جارہا ہوں معملہ سلجھ گیا تو آجاؤں گا تم سے سب کچھ لے لوں گا اور اگر نا اسکا تو تم یہ امانت میری بیوی بچے تک پہنچا دینا لیکن یاد رکھنا یہ امانتیں میری بیوی روحانہ کو دینی ہیں یا پھر میرے بچے کو۔ اس نے بریف کیس میرے سامنے رکھ دیا تھا اور پھر ایک دن کے اندر اندر اس نے ہزاروں کام نپٹا ڈالے تھے۔

“اچھا ایک بات تو بتاؤ یہ اتنے زیور اور روپے آے کہاں سے؟ میں پوچنے پر مجبور ہوگیا تھا وہ حسنے پر مجبور ہوگیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *