Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Ahle Dil Ho (Episode 09)

Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz

تم نے کسی دباؤ میں اکر تو یہ رشتہ قبول نہیں کیا؟ مومنہ پھپو نے پہلی فرصت میں اسے کال کر کے پوچھا تھا۔

” نہیں پھپو مجھ پر بھلا کون دباؤ ڈالے گا۔ اس نے نرمی سے جواب دیا۔

” تو پھر ایسا کیوں کیا؟ مومنہ پھپو کو بھی میراں بی بی جیسی بےچینی ہورہی تھی۔

” کیا کیا ہے اپنی چچا زاد سے شادی کی ہامی بھری ہے اور بس۔ ۔۔۔

” مكتوم تم جانتے ہو میں ایسا کو کہہ رہی ہوں میں نی ہمشہ تمھآرے لئے شہر زاد کو سوچا ہے اور اس بات کا ذکر میں نے میراں بھرجائی سے بھی کیا تھا وہ بھی یہی چاہتی تھیں مگر وہ اس خوف سے چپ تھیں کہ شہر زاد کا رویہ کبھی بھی تمھارے ساتھ اچھا نہیں رہا اور تم دونوں میں ذہنی ہم اهنگی نہیں ہے اس لئے انہوں نے تم سے اس خواہش کا اظھار نہیں کیا مگر تم نے زرینہ کے لئے رضا مندی دے کر مجہے یہ یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ ذہنی ہم اهنگی تمھارے اور زرینہ کے بیچ بھی نہیں ہے جب قریب سے ایک دوسرے کو جانو گے تو سب کچھ ہوجاۓ گا اور اگر زرینہ سے ہم اهنگی ہوسکتی ہے تو شہرزاد سے کیوں نہیں وہ بھی تو۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

” پلیز پھپو میں اور شہرزاد ندی کے دو کنارے ہیں جو کبھی نہیں مل سکتے میرے لئے زرینہ ہی بہتر ہے کم از کم اس نے کبھی میرے سامنے میری ماں پہ انگلی تو نہیں اٹھائی ناں؟ اس نے انتہائی دو ٹوک لہجے میں کہہ کر مومنہ پھپو کو خاموش کرادیا تھا لیکن وہ اتنی جلدی اور آسانی سے چپ ہونے والی نہیں تھیں۔

” دیکھو مكتوم میں صرف اتنا سوچتی ہوں کہ کلام شاہ اور خیام شاہ زندگی کے کسی مقام پر تو جڑ جایئں ایک ساتھ مل بیٹھیں ایک دوسرے کے ہوجایں یہ کیا ہوا کہ ہمیشہ ان بھائیوں کو ہی ایک دوسرے سے اختلاف ہوا ہے کبھی اپنی زندگی میں کبھی اپنی اولادوں کی زندگی میں۔۔۔۔۔۔مومنہ پھپو کا لہجہ بی حد خفگی لئے ہوے تھا مكتوم نے ایک گہری سانس کھینچی تھی۔

” پھپو آپ جانتی ہیں ہمارا قصور کہیں بھی نہیں ہوتا اختلاف کا پہلو تو شروع سے پیر سائیں کی طرف سے آرہا ہے کبھی وہ گرم مزاج ہوا کرتے تھے اب ان کی اولاد گرم مزاج ہے اور خیام شاہ کل بھی احساس کرنے والوں میں سے تھے آج بھی اسی صف میں کھڑے ہیں آکر دیکھ لیں۔۔۔۔۔انداز بے تحمل آمیز تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہا تھا وہ سچ ہی تو تھا خیام شاہ مكتوم کی صورت آج بھی اپنے مقام پر قائم تھے جو کچھ ہمیشہ ہوتا کلام شاہ کی طرف سے ہوتا چاہے وہ خود ہوتے چاہے شہرزاد۔۔۔۔۔۔

” لیکن مكتوم تم”۔۔۔۔۔۔۔

” ایم سوری پھپو جو کچھ آپ سوچ رہی ہیں ایسا نہیں ہوسکتا شہرزاد کو ارمغان کی دلہن بننا ہے اور وہ اسی کو دلہن بنے گی”۔ اس نے آخری دفعہ بات واضح کر کے فون بند کردیا تھا اور پھر صوفے پر ڈھے سا گیا تھا وہ کراے کے فلیٹ سے اپنے بنگلے میں شفٹ ہوچکا تھا پہلے اپنا بیڈ روم اور ڈرائنگ روم سیٹ کرایا تھا پھر کچن وغیرہ سیٹ کئے تھے اور ویسے بھی آج کل اسے تھکن اتنی زیادہ ہوجاتی تھی کہ باقی گھر کو سیٹ کروانے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” مبارک ہو مكتوم شاہ چچا بن گے ہو”۔توقیر شاہ نے سر شاری سے اطلاع پہنچائی تھی۔

” خیر مبارک آپ کو بھی مبارک ہو آپ پاپا بن گئے ہو۔ مكتوم نے ذرا سا مسکرا کر موبائل ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا چابی نکال کر رائیٹ ہینڈ سے گاڑی کا لاک کھولنے لگا۔۔۔۔۔۔

” مٹھائی لیکر جلدی پہنچو جب تک تم نہیں آؤ گے میں منہ میٹھا نہیں کروں گا۔ توقیر شاہ نے اتنے مان سے کہا کہ وہ اتنی مصروفیات ہونے کے باوجود انکار نہیں کرسکا۔

” اوکے میں آرہا ہوں”۔ اس نے کھڑے کھڑ ے فیصلہ کیا اور گاڑی نکال کر موبائل ڈیش بورڈ پہ ڈال دیا لیکن اگلے پانچ منٹ بعد موبائل پھر بج اٹھا تھا۔

” شہرزاد کو بھی لیتے آنا اس وقت کسی اور کو لینے بھیجیں تو رات ہوجاۓ گی”۔ انہوں نے وہ بوجھ اس کے کندھوں پر ڈالا جس سے وہ ہمیشہ جان چھوڑاتا اور کھار کھاتا تھا اس نے اب کی بار موبائل ڈیش بورڈ پر بری طرح پٹخا تھا وہ شہر زاد کا کبھی سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن یہ لوگ ہر بار اسے ذلیل ہونے کے لئے بھیج دیتے تھے۔

” ارے شاہ صاحب اتنے دنوں بعد تشریف لائیں ہیں خیریت تو تھی ناں؟ ” وارڈن اسے دیکھ کر خوش ہوئی تھی”

” جی خیریت تھی آپ شہرزاد کو اطلاع کردیں۔

. ” جی ابھی کرتی ہوں۔ ” وہ پلٹ گئیں اور وہ بجاۓ بیٹھننے کے یونہی ٹہلنے لگا چھ سات منٹ بعد وہ وہاں تشریف لے آئ۔

. ” السلام عليكم” وہ خود ہی بول پڑا تھا۔

” میں ہمیشہ کہتی ہوں مجہے لینے کوئی اور کیوں نے اتا؟

” یہ سوال آپ اپنے با با اور بھائیوں سے کریں تو بہتر ہوگا وہ کسی اور کو لینے کیوں نہیں بھیجتے؟ وہ روکھا سا بولا

” تم مجہے لے جانے سے انکار کیوں نہیں کرتے۔ وہ غرائی تھی۔

” آپ کو لے جانے سے انکار کروں تو برا بنو گا سب کی نظروں میں۔ اس نے سراپا اسے دیکھا اور نظریں جھکا لیں

” تم اچھے کہاں سے ہو؟

جہاں سے آپ نے نہیں جانا۔ “برجستہ جواب مل رہے تھے”

” میرے سامنے فلسفہ مت جھاڑو۔”

” آپ کو کیا پتہ محترمہ شہرزاد کون دل لٹا رہا ہے کون فلسفہ؟

” چلیے دیر ہورہی ہے۔ “وہ آگے بڑھ گیا تھا”

” میں تمھارے ساتھ نہیں جارہی” پیچھے سے اس کی آواز سن کر اس کے قدم ٹھٹک گئے تھے اس نے پلٹ کر استہفامیہ نظروں سے دیکھا۔

” تم جاسکتے ہو” اس نے انتہائی بی مروتی سے کہا۔

” آپ جانتی ہیں آپ کے گھر میں بھتیجا آیا ہے اور آپ۔۔۔۔۔

” بھتیجا ہمارے گھر آیا ہے فکر مجہے ہونی چاہئے کہ مجہے جانا ہے یہ نہیں تم کون ہوتے ہو سمجھانے والے اور ہاں یہ غلط فہمی دل سے نکال دو کہ شہرزاد کبھی تمھیں عزت بخش سکتی ہے ہونہہ۔۔۔۔ وہ تلملا کر کہتی اپنی نفرت اس سمت اچھال کر چلتی بنی تھی اور مكتوم شاہ نجانے کتنے ہی لمحہ وہاں سے ہل نہیں سکا تھا وہ تو بس شہرزاد کی نفرت کے جواز ڈھونڈتا رہ جاتا۔

” مكتوم شہرزاد کہاں ہے؟”

وہ میرے ساتھ نہیں آئی۔ اس نے توقیر کے سوال کا مختصر جواب دیا اور مٹھائی لیکر اس کا منہ میٹھا کیا۔

” کیوں نہیں آئ؟ پیر سائیں کو لاڈلی کی کمی محسوس ہوئی سب ہی موجود تھے صرف وہ نہیں تھی۔

” آئ ڈونٹ نو”۔۔۔اس نے سر سری سا جواب دیا تھا اور پھر میراں بی بی اور ان کی گود میں دبے بچے کی طرف متوجہ ہوگیا تھا۔

. ” زرینہ پتر ذرا فون دے جاؤ ہم خود پتہ کرتے ہیں کیوں نہیں آئ” انہوں نے زرینہ کو کام سونپا جو نظر بچا کے مكتوم کے وجیہہ سراپے کو دیکھ رہی تھی۔

” جی پیر سائیں” وہ کھڑی ہوئی اور ان کا موبائل لاکر ان کی سمت بڑھا دیا۔

” بیٹا آئ کیوں نہیں؟ لہجہ میں بے پنہا لاڈ تھا۔

آپ کو میرے آنے نا آنے سے کیا مطلب آپ کو گاڑی بھجوانا مشکل ہوجاتا ہے”۔

” ارے مكتوم گیا تو تھا”

ہونہہ آپ کا مكتوم ۔۔۔بھر حال میں صبح صبح تیار ہوجاؤں گی ڈرائیور بھیج دیجئے گا۔” وہ کافی غصے میں تھی موڈ آف تھا۔”

” اور پھر اگلی صبح ڈرائیور اسے لینے گیا تھا ہوسٹل سے لیکر بھی آیا تھا۔۔۔۔۔لیکن اسے حویلی لیکر نہیں آسکا۔۔۔۔۔اور حویلی میں بھونچال اگیا ڈرائیور ماتھے پر بنے اتنے بڑے گومڑ اور زخم کے ساتھ تھر تھر كانپ رہا تھا جبکہ توقیر شاہ اور پیر سائیں ساکت کھڑ ے تھے۔

” شہرزاد اغواء ہوگئی” ندرت چچی نے دو ہتھڑ مار کر سینہ پیٹا تھا اور “شاہ حویلی” کی شان و شوکت پر اندھیرا چھا گیا تھا۔

” یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” ارمغان شاہ بھی ہل کر رہ گیا اور اس ساری قیامت سے بے خبر مكتوم شاہ ، زھیر شاہ کے ساتھ زمینوں پر نکلا ہوا تھا جب ثوبان نے انہیں ایمرجنسی میں کال کر کے واپس حویلی بلایا تھا جہاں ڈرائیور جو صدیوں سے ان کا وفادار چلا آرہا تھا اس کی پوری نسل اس حویلی کی خدمت میں گزر گئی تھی بے تحاشا روتے اور گڑ گڑاتے ہوے صفائی دے رہا تھا۔

” کیا ہوا ہے پتر سائیں؟ مردان خانے میں داخل ہوتے ہی اسے ماحول کی سنگینی کا احساس ہوگیا تھا.

” شہرزاد بی بی کی ایک سہیلی بھی تھی اسے اسلام آباد آنا تھا لیکن گاڑی نہیں تھی اس لئے بی بی نے انہیں بھی چلنے کا کہا تھا اور اس کا بیگ بھی رکھوالیا وہ بھی ساتھ ہی اغوا ہوگئی شاہ سائیں میرا یقین کریں”

” شہرزاد اغوا؟ مكتوم کے سر پر دہماکہ ہوا تھا اور اس سے پہلے کے وہ اس دھماکے کے زیر اثر رہتا پیر سائیں کو صوفے پر گرتے دیکھا اور اعصاب مزید جهنجا اٹھے۔

” بابا سائیں” توقیر فواً لپكا لیکن تب تک مكتوم ان کو سمبھال چکا تھا وہ ہوش کھو چکے تھے اور نبض ڈوب رہی تھی۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

” اور پھر چوتھے روز ان کو ایک بلینک کال موصول ہوئی رفتہ رفتہ ان كالز کا سلسلا بڑھ گیا اور اگلے دو روز بعد ان كالز کا مقصد ظاہر ہوا تھا۔ “دو کروڑ تاوان”۔ توقیر شاہ اس ایک جملے کو سن کر پتھرا گئے تھے تو کیا یہ اغوا تاوان کے لئے ہوا تھا؟ تاوان لینے والے کون تھے؟ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کس کو پتہ تھا کہ وہ اونچی فیملی سے تعلق رکھتی ہے اور اتنا تاوان مل سکتا ہے؟ کس نے روپوں کی خاطر ان کی عزت کی دهجیاں اڑا دی تھیں۔ اگلے چھ روز تک ایسی کوئی کال موصول نہیں ہوئی تھی جبکہ پوری حویلی اس کال کا انتظار کررہی تھی اور تاوان دینے کے لئے تیار تھی آج شہرزاد کو آغوا ہوۓ ایک ہفتہ پانچ دن ہوگئے تھے اور پیر سائیں ابھی تک ہسپتال میں تھے مكتوم شاہ ارمغان اور طلال کو لیکر شہرزاد کی تلاش میں نکلا ہوا تھا۔ وہ لڑکی جو شہرزاد کے ساتھ آغوا ہوئی تھی وہ اسلام آباد کی رہنے والی تھی اور شہرزاد کی کلاس فیلو تھی رفتہ رفتہ معلومات اکٹھی کرتے کرتے وہ وہاں پہنچ گئے تھے جہاں جاکر جھٹکا لگا تھا۔

” بیٹھیے شاہ جی” وہ عورت بڑے شاہانہ انداز سے مخاطب ہوئی تھی۔

“پچھلے دنوں آپ کی کوئی شاگرد آغوا ہوئی؟

” جی دو ہفتے پہلے کی بات ہے” اس عورت نے اطمینان سے کہا ارمغان اور طلال حیرت زدہ رہ گئے تھے جبکہ مكتوم بی تاثر رہا تھا۔

” آپ نے اس کی خیر خبر لی؟”

. ” خیر خبر لینا اتنا آسان نہیں”

” what dou you mean?”

” شاہ جی ایک عورت ہوں مکان کراے پر چڑھا رکھا ہے لڑکیاں کمرے استعمال کرتی ہیں تو کرایہ دیتی ہیں ہیں جب جی چاہا آجاتی ہیں جب جی چاہا چلی جاتی ہیں۔

اپنا انسٹیٹیوٹ ہے جس کی وجہ سے اتنی مصروفیت رہتی ہے کہ دوسروں پر نظر رکھنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور نا ہی اتنا بینک بیلنس ہے کہ اپنی کسی شاگرد کے آغوا کا تاوان بھر سکوں نہ لاکھ نہ دو لاکھ اکٹھا ایک کروڑ میں کہاں سے دے سکتی ہوں؟

لیکن آپ پولیس کو اطلاع تو دے سکتی ہیں ناں آپ کی تو کافی جان پہچان ہوگی۔ مكتوم ذرا سی بات میں ہی اپنا نشتر چھوڑ چکا تھا۔

” ضرور دے سکتی ہوں لیکن جو فون كالز مجہے موصول ہوئی ہیں ان میں یہی دھمکی دی گئی ہے اس معملے میں پولیس کو انوالو نہ کیا جاۓ ورنہ دونوں لڑکیوں کی عزت اور جان کو خطرہ ہو سکتا ہے اور پولیس کے پھنچنے تک وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔” وہ مكتوم کی نگاہیں اور لہجہ محسوس کر کے بھی نظر انداز کررہی تھی۔

“گویا آپ اس لڑکی کو اس مصیبت میں تنہا چھوڑ چکی ہیں”

” اور کر بھی کیا سکتی ہوں سواۓ دعاؤں کے” لہجہ مصنوئی افسردگی کا خماز تھا”

” لیکن ہمیں آپ کی کچھ مدد چاہیے”

جی کہئے؟ وہ عورت متوجہ ہوئی”

“اب کی بار آپ کو کال موصول ہو تو آپ کہہ دیجئے کہ ہم تاوان دینے کے لئے تیار ہیں جگہ بتا دیں رقم پہنچ جاۓ گی ہم دونوں لڑکیوں کو چھڑا لیں گے چاہے تین کروڑ دینا پڑیں” مكتوم مطلب کی بات پر اگیا تھا پھر اور بھی کافی کچھ طے کیا اور وہاں سے مطمئن ہوکر باہر آیا۔

” یہ عورت ہماری کیا مدد کر سکتی ہے یہ چند ہزار کے لئے کسی کی بھی ہو سکتی ہے۔ ” ارمغان کو گاڑی میں بیٹھتے ہی بولنے کہ خیال آیا تھا۔

” ہمارے پوانٹ کی بات تو تم نے خود کہہ دی چند ہزار کے لئے جو عورت کچھ بھی کر سکتی ہے لاکھ دو لاکھ کے لئے کسی کے آغوا میں شریک بھی ہو سکتی ہے۔

” یعنی؟ طلال کو جھٹکا لگا”

” ہاں شہرزاد کے آغوا میں اس عورت اور اس لڑکی کہ بھی ہاتھ ہے اور شہرزاد انہی کے شکنجے میں ہے البتہ اس عورت کی کچھ اور لوگ بھی پشت پناہی کررہے ہیں یہ اکیلی اتنا بڑا رسک نہیں لے سکتی تھی کیوں کہ ہمارا بیک گراؤنڈ ان سے چھپا ہوا تو نہیں ہے۔

تو پھر ہم اسے ہی دھر لٹے ہیں دیر کرنے کہ کیا فائدہ؟ ارمغان کو طیش اگیا تھا۔

” نہیں اس طرح وہ شہرزاد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں ہمیں ذرا صبر اور دھیان سے کام لینا ہوگا اور ہاں آج کے بعد اس عورت پر مکمل پہرا ہوگا مگر انتھائی خفیہ اس کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھنا ہوگی اس کی تمام فون كالز ریکارڈ کرنا ہونگی یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں اپنا اثرورسوخ آزمانا ہوگا پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے۔۔۔۔۔۔کہتے ہوۓ اس کا لہجہ بہت دھیما ہویا اور سوچ بھٹک کر بہت آگے چلی گئی تھی جہاں سے دنیا کا قہر شروع ہوتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *