Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 10)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 10)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
اور سچ مچ دنیا کا قہر شروع ہونے کا مقام بھی آگیا تھا خاص طور پہ شہرزاد کیلئے۔۔۔۔۔۔۔مکتوم کے تمام شک و شبہات سچ ثابت ہوئے تھے۔وہ عورت ان کی آمد سے چوکنا ہو گئی تھی مگر تب تک وہ سارے انتظامات کرواچکا تھا۔۔۔وہ عورت فوکس ہو چکی تھی اور محض تین بعد پولیس ریڈ میں شہرزاد کو بازیاب کروالیا گیا تھا۔۔جس لمحے وہ پولیس آفیسرز کے ہمراہ رات کے تین بجے تاریک سے کمرے میں داخل ہوا تو نقاہت سے نڈھال شہرزاد چیخ اٹھی تھی۔۔۔۔۔۔
“مکتوم شاہ۔۔۔۔۔” وہ تیورا کے زمین پر گرنے والی تھی جب مکتوم نے مضبوطی سے اسے جکڑ لیا تھا۔پولیس آفیسرز جان چکے تھے کہ
گوہر مقصود مل چکا ہے تو سر جھکا کر باہر چلے گئے کیونکہ وہ توقیر شاہ کے دوست تھے اور ایک سیدزادی کی عزت کی قدر اچھی طرح جانتے تھے۔ان کی نظر پہلے بھی جھکی ہوئی تھی ابھی بھی جھکی ہی رہی۔مکتوم نے اپنی بانہوں میں جھولتی
شہرزاد کو بےبسی سے دیکھاجو آج دیوانہ وار اس کو دیکھ کر پیاسوں کی طرح لپکی تھی کیونکہ مکتوم کی صورت میں اسے کوئی تو اپنا نظر آیا تھا اور اپنی چادر کندھوں سے اتار کر اس کے گرد پھیلا چکا تھا اور جب وہ اسے اٹھا کر اپنی گاڑی تک لایا تو توقیر شاہ، ارمغان شاہ،طلال،ثوبان اور فیروز چچا تیر کی مانند اپنی اپنی گاڑیوں سے نکلے تھے۔
“اسے لے کر ہوسپٹل جانا ہو گا توقیر لالا آپ باقی انتظامات سنبھال لیں۔” وہ ایس پی ظفراللہ کی سمت اشارہ کر کے گاڑی میں بیٹھ گیا تھا ظہیر شاہ پہلے سے گاڑی میں موجود تھے۔یہ معاملہ اخبارات کی زد سے بچانے کیلئے انہیں ایس پی ظفراللہ کی ذاتی مدد لینا پڑی تھی۔مکتوم شاہ معاملے کو خاموشی سے سلجھانا چاہتا تھا جبکہ باقی سب لڑکے عورتوں کے اس گروہ کو گولیوں سے بھون ڈالنے کے در پے تھے۔انہیں اپنی عزت سے بڑھ کر کچھ عزیز نہیں تھا لیکن مکتوم کو پتہ تھا کہ اگر قتل و غارت مچی تو یہ معاملہ بہت دور تک چلا جائے گا اور ہو سکتا تھا کہ ہاتھ کچھ بھی نہ آتا۔اس لیے پولیس کی مدد ہے بہتر تھی۔یوں کئی عورتیں گرفتار بھی ہوئی تھیں۔دو اور لڑکیاں بھی بازیاب ہوگئیں جو شہرزاد کی طرح آغوا ہوئی تھیں۔۔
وہ بھی کافی اچھی فیملیز سے تعلق رکھتی تھیں۔ایک لڑکی لاہور کی رہنے والی تھی اور ایک اسلام آباد کی رہائشی تھی۔وہ بھی آغوا برائے تاوان میں قید کی گئ تھیں اور ان کے گھر واکوں سے بھی دو،دو ،تین،تین کروڑ تاوان مانگا گیا تھا۔
_________________________
کوئی پھول چنتا ہے کسطرح کوئی رھول ہوتا ہے کس طرح
یہ وقت وقت کی بات ہے تجھے زندگی بتائے گی
“اماں سائیں۔۔مم میں آج بھی پپ۔۔۔۔ پہلے جیسی ہی شہرزاد ہوں میرا دامن بالکل صاف۔” وہ بات کرتے ہوئے ہکلانے لگی تھی حلق میں گولا سا اٹک گیا تھا۔اتنے دنوی کی بےسکون آنکھیں درد کی اذیت پہ چھلک پڑی تھیں۔گویا زندگی اس مقام پر لے آئی تھی کہ اپنے دامن کی پاکیزگی کیلئے “صفائیاں” دینے کی نوبت آگئی تھی۔وہ آج ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو کر گھر آئی تھی۔۔تمام مردوں کی نظر جھکی ہوئی اور تمام عورتوں کا رویہ بےگانوں سا نظر آیا تھا۔صرف ماں اور بی بی جان ایسی ہستیاں تھیں جو اسے سینے میں بھہنچ کر روئی تھیں…اور اسکی حالت پر تکلیف محسوس کر رہی تھیں۔۔اس کیمے چہرے کی رونق،تازگی اور تمکنت نہ جانے کہاں کھو گئی تھی۔۔آنکھوں کے گرد متواتر بے خوابی کے باعث ہلکے بن گئے تھے۔۔۔ہونٹ خشک اور بال الجھے ہوئے تھے۔۔۔اس کے گرد مکتوم شاہ کی برائون رنگ کی گرم چادر لپٹی ہوئی تھی۔۔۔
“اماں سائیں ۔۔۔آپ کچھ بولتی کیوں نہیں؟” اس نے روتے ہوئے انھیں جنجھوڑ ڈالا تھا۔۔
“میں کیا بولوں پرسوں پنچائیت بیٹھے گی اور تیری قسمت کا فیصلہ جرگہ کرے گا”۔۔بےبی جان کی سسکیاں بھی نکل رہی تھیں اور وہ دپ بخود رہ گئی تھی۔۔۔
“پنچائیت۔۔۔۔لیکن کیوں اماں سائیں؟۔۔۔میرا تن من آج بھی میلا نہیں ہے۔۔۔میں ۔۔میں کیا آپ کو بتاؤں۔۔۔۔کیا آپ کو نظر۔” اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔۔اور میراں بی بی ڈوپٹے میں منہ چھپاتی روتی ہوئی وہاں سے چلی گئیں۔۔۔۔
“بی بی جان۔۔۔۔۔۔کیا آپ کو بھی مم میرا اعتبار نہیں ہے۔۔۔۔کیا آپ کو بھی نہیں پتہ کہ۔۔۔ میں بے داغ ہوں۔۔۔انہوں نے ضمصرف تاوان کی خاطر مجھے آغوا کیا تھا۔۔آپ، آپ ان لڑکیوں سے پوچھ لیں جو میرے ساتھ۔۔۔۔۔بی بی جان اللہ کیلئے مجھے بچا لیجئے۔۔۔۔” وہ تڑپ تڑپ کر رو رہی تھی۔۔اور اس کو سینے میں چھپا کر وہ بھی چپ نہ رہ سکی تھیں اور نہ جانیے انہوں نے کیا سوچ کر ارمغان اور اس کے ماں باپ کو کمرے میں بلالیا تھا۔۔۔۔۔
“تم لوگ حیران ہو گے کہمیں نے کیوں بلایا ہے۔۔۔”وہ ارمغان اور بہروز شاہ کو دیکھ رہی تھیں۔۔
“دراصل میں چاہتی ہوں کی ارمغان شہرزاد سے نکاح کر لے آج اور ابھی۔۔” انہوں نے جتنی آہستگی سے کہا تھا ندرت چاچی اتنے ہے زور سے اچھل پڑی تھیں۔
“یہ کیسے ہو سکتا ہے بھلا؟” لہجہ بے حد ہتک آمیز تھا بالکل اسطرح جیسے شہرزاد مکتوم کے ساتھ رکھتی تھی اور یہ سب کچھ ندرت چاچی کے ہی مرہون منت تھا وہ شہرزاد کے دل میں اس کےلئے نفرت ڈال کر اسے مکتوم کا دشمن بنانے مہں کامیاب ہو گئی تھیں۔اور آج تک اس کی دشمنی ہی بنی رہی تھی۔۔۔
“پنچائیت سے پہلے یہ سب کچھ ہو سکتا ہے اور ویسے بھی ہمیہ تمہاری ہونے والی بہو ہے”
“ہونے والی تھی۔۔ابھی ہوئی تو نہیں نہ۔۔۔ارمغان ابھی امشادی نہیں کرنا چاہتا۔۔ابھی آپ پنچائیت کا تو انتظار کر لیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتی ہے”۔۔
ندرت چاچی نے بڑی چالاکی سے ارنغان کو بچالیا تھا۔۔
“تم کیا کہتے ہو؟” بجبیجسن نے سر جھکائے بیٹھے ارمغان کو دیکھا تھا۔۔
“بی بی جان میں ابھی بہت ڈسٹرب ہوں کوئی بھی فیصلہ نہیں کر سکتا اورگر شہرزاد کا نکاح ہو بھی جاتا ہے تو ممکن ہے کہ جرگہ اسے قبیلے سے ہی نکال دے اور اپنے علاقے اپنے قبیلے سے جلا وطن ہونا کسی کےلئے آسان نہیں آپ پلیز اس بات کو رہنے دیں” وہ ہی کہ کر چلا گیا تھا۔۔اور بی بی جان خانوش سی بیٹھی رہ گئیں۔۔شہرزادکی قربانی کا دن سر پہ کھڑا تھا۔۔۔
________________
پھر پنچائیت بھی بیٹھی اور فیصلہ بھی سنا دیا گیا جس سے پیر سائیں مزید ڈھے گئے اور شیرزاد گم سم ہوگئی۔۔۔۔
کاری کر دیا جائے یا قرآن سے نکاح کرواکے عمر بھر کے لیے ایک کمرے میں نظربند کر دیا جائے۔۔۔تیسرا کوئی راستہ نہیں تھا کیونکہ ایک ایسی لڑکی جو آٹھارہ دن غیر مردوں کے شکنجے میں گھر سے باہر رہی اس کے لیے قبیلے میں کوئی جگہ نہیں تھی۔۔۔ ہاں قرآن سے نکاح کے بعد وہ الگ کمرے میں اپنوں سے دور رہ سکتی تھی ان اپنوں سے جو اندر ہی اندر اسے کاٹ ریے تھے۔۔۔زرینہ کے مطابق اسے کاری (زندہ درگور) کر دینا بہتر تھا کیونکہ اس کے خیال مہں شہرزاد جیسی خودسر لرکی کیلئے کوئی بھی رعائیت نہیں ہونی چاہیے تھی۔
جبکہ فروز شاہ اور بہروز شاہ کا خیال تھا کہ اس کا نکاح قرآن سے کر دیا جائے یوں اس کی زندگی بچ سکتی تھی لیکن ندرت چاچی اور چھوٹی چاچی کا کہنا تھا کہ ایسی ناپاکی کی پوٹلی کو گھر میں رکھنے کا کیا فائدہ نا جانے وہ کب تک زندہ رہتی اور ان کی انے والی نسل خومخواہ اس کے بارے سوال جواب کر تی رہتی سو اسکو کاری کر کے گھر کو پاک کر دینا چاہیے
توقیر شاہ اپنے کمرے میں قید تھےپیر سائیں الگ بت بنے بیٹھے تھے۔میراں بی بی الگ رو رو کر نڈھال ہو چکی تھیں اور شہرزاد تو پتھر کی مورت بن چکی تھی۔اسے پتہ تھا کہ جو کچھ پنچائیت نے کہ دیا ہے وہی کچھ ہو گا لیکن پتھر جامد دل و دماغ میں ایک موہوم سی امید باقی تھی کہ اسکا بہت اپنا اسے ضرور بچا لے گا اسکے بابا اور بھائی اسے یوں بے نوت نہیں مرنے دیں گے وہ اپنی لاڈلی کیلئے ڈھال بن جائیں گے مگر کوئی کچھ بھی نہیں جر سکتا تھا۔۔۔۔
قبیلے والوں کی پنچائیت کے فیصلے سے اختلاف کی ہمت نہ تھی اور اسکی مثال شمشاد خان اور خیام شاہ موجود تھے وہ شمشاد خان جو اپنی جان سے عزیز بیٹی دشمنوں کو سونپنے سے انکاری ہو گیا تھا جو پنچائیت کے فیصلے سے انکار کر کے اپنی جان ہار گیا تھا دوسی طرف خیام شاہ جو کلام شاہ کو بےرحم فیصلے سے باز رکھنے کیلئے کتنے دن اسکو سمجھاتا رہا مگر وہ نہ سمجھے تھے۔۔الٹا خیام شاہ اپنی جان ہار گئے تھے آج جب ان کی بیٹی پر بے رحم لمحہ آیا تھا تو وہ کیسے ڈھال بن جاتے کیونکہ ان اصولوں کو انہوں نے خود پروان چڑھایا تھا اب وہ اپنی بیٹی کو کیسے بچا سکتے تھے مگر سب اپنوں کا برحم رویہ دیکھر خاموش ہو گئے تھے خاص طور پر ارمغان سے انہیں یہ امید نہیں تھی۔۔۔۔۔………………
“کہاں چلے گئے ہو ہمیں چھوڑ کے دیکھو میدی شہرزاد پہ کیا بیت رہی ہے” مکتوم نے فون کیا تو میراں بی بی روپڑی۔۔۔۔۔۔
۔۔ وہ کچھ لمحے تو بول ہی نہ پایا پھر گہری سانس کھینچی اور انکو دلاسہ دیا۔۔
“تائی ماں یہ سب گڑھے ہم نے خود ہی تو کھودے ہیں ابہمیں رونے دھونے اور واویلہ کرنے ڈے کیا حاصل؟ آپ اپنے آپ کو بھی سنبھالیں اور شہرزاد کو بھی سمجھا ئیں شاید کوئی حل ںکل آئے.”
“اب کیا حل نکلے گا کیا حل نکل سکتا ہے کل۔۔۔۔۔۔کل اس کا نکاح ہو رہا ہے۔۔۔میراں بی بی شدت غم سے پھٹ پڑی اور مکتوم شاہ چونک گیا۔۔۔
“بتاؤ کیا حل نکلے گا۔۔۔۔وہ رو ریہی تھی اور مکتوم شاہ نے بنا کچھ بولے فون رکھ دیا۔۔۔۔وہ اس دن خہرزاد کو حویلی چھوڑنے کے بعد لاہور چلا آیا تھا اسنے نیا بزنس شروع کیا تھا اس کے لیے وقت ضروری تھا اسے پتہ تو تھا یہ سب ہو گا مگر مکمل یقین نہیں تھا کہ سائیں سرکار اس طرح پنچائیت کا فیصلہ مان لیں گے۔۔۔۔۔۔وہ آفس روم میں آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تائی ماں۔۔۔۔۔” میراں بی بی سجدے میں گری رو رہی تھی جب بھاری قدموں کی چاپ اور گھمںمبیر آواز سنائی دی شہرزاد بیڈ پر گھٹنوں میں سر چھپائے بیٹھی تھی ہلکی سی جنبش ہوئی مگر چہرہ اوپر نہ کیا۔۔۔۔میراں بی بی اس سے لپٹ کر ہمیوں روئیں جیسے اپنا بیٹا نظر آیا ہو۔۔۔۔
“تائی ماں کچھ نہیں ہو گا سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ شہرزاد نے اسکی بے معنی بے کار تسلی پہ شکستگی سے دیکھا تھا۔۔۔۔۔
نیچے مردان خانے میں سب مرد حضرات جمع ہو چکے تھے۔۔۔قازی صاحب کو لینے کیلئے گاڑی جا چکی تھی تھوڑی دیر میں ہی اسکی موت کا بلاوا آنے والا تھا اور وہ کہ رہا تھا سب ٹھیک ہو جائے گا وہ دوبارہ گھٹنوں میں منہ چھپا کر بیٹھ گئی۔۔اور سچ مچ پندرہ بیس منٹ بذومعد اسکو بلانے کیلئے ملازمہ آگئی تھی۔۔۔مکتوم شاہ بی بی جان سے ملنے گیا ہوا تھا اور وہ ہمت و امید کا دامن چھوتی ہارے قدموں سے باہر نکل آئی اسے آج بھی احساس نہیں ہوا تھا کہ وہ اتنے دنوں سے مکتوم شاہ کی گرم چادر استعمال کر رہی ہے۔۔۔۔اسی چادر کو لپیٹ کر وہ باہر نکل آئی تھی اسے آج کے بعد کسی سے نہیں ملنا تھا۔۔۔اسکے آنسوں خودبخود خشک ہو گئے تھے۔۔وہ سرد و سپاٹ ہو گئیں اور میراں بی بی اسکو جاتے دیکھ کر ساکت بیٹھی رہ گئیں۔۔
_____________&&&&&&_______
سیڑھیاں اتر کر سامنے راہداری میں اسکا سامنا مکتوم شاہ سے ہوا وہ بی بی جان کے کمرے سے آرہا تھا۔۔اسے بھی وہیں جانا تھا جہاں شہرزاد جا رہی تھی وہ ایک پل کی لئے اس کے پاس ٹھہر گیا پھر سر جھکا کر آگے بڑھ گیا نہ جانے کیوں شہرزاد کو اسکا پل بھر کی لئے ٹھہرنا اور پھر سر جھکا کر جانا بے چین کر گیا تھا اسکی رگوں پہ رنج کی لہر ڈور گئی وہ اسے کچھ کہنا چاہتہ تھی اسے روکنا چاہتی تھی مگر وہ رایداری عبور کر کے چلا گیا شہرزاد کو یوں لگا گمجیسے وہ بھی کچھ کہنا چاہتا تھا پھر ارادہ بدل کر چلا گیا وہ پہلی بار مکتوم سے بات کرنے کی خواہش کر ری تھی مگر وقت نہیں تھا حالات نہیں تھے۔۔وہ مردہ قدموں سے اپنے لیے تیارشدہ “کمین گاہ”میں داخل ہو گئی اسکے ہمراہ ایک ملازمہ بھی تھی…….
وہاں حویلی کے سب افراد موجود تھے سوائے عورتوں کے
“نکاح شروع کیجئے” بڑے چچا بہروز شاہ نے پہل کی
“پیر سائیں اجازت ہے؟” قازی صاحب نے اجازت چاہی مگر وہ کچھ نہ بولے۔۔۔
“لالہ سائیں دیر ہو جائے گی موسم خراب ہے۔۔۔ قازی صاحب کو گھر بھی چھوڑنا ہے۔۔۔فروز شاہ بھی بول پڑےمگر سائیں شاہ کیسے اتنی جلدی اپنا کلیجہ نوچ کر زنداں میں پھینک دیتے کچھ ہمت تو جمع کرنی تھی۔۔۔۔
“چچا سائیں شہرزاد کی شادی کسءمی اور سے نہیں ہوسکتی؟ جیا کوئی اور راستہ نہیں ہے؟” عبیر شاہ بہن کیلئے روہانسا ہو ریا تھا۔۔۔۔۔
“جو لڑکی اتنے دن اور اتنی راتیں گھر سے باہر رہی ہو وہ کسی سیدزادے کی زوجیت میں نہیں جا سکتی اور ویسے بھی کوں پنچائیت کے فیصلے کو ٹھکرا سکتا ہے اور اس لڑکی سے شادی کیسے کر سکتا ہے۔۔۔یہ لڑکی ہمارے خاندان سے باہر ہو چکی ہے۔”۔۔۔۔۔۔
“ایسے حالات میں کوئی اپنا تو قبول نہیں کرتا غیر تو پھر غیر ہوتے ہیں آخر عزت بےعزتی کا معاملہ ہے” بہروز شاہ کا لہجہ کھردرا تھا عبیر شاہ نے ارمغان کی طرف دیکھا وہ نظر پھیر گیا تھا۔۔۔۔
