Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 08)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 08)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
پیدائشی اور جدی پشتی رئیس زادہ ہوں اور دوسری بات یہ کہ فضول خرچ نہیں ہوں جو کچھ دیکھ رہے ہو یہ میری جیب خرچ سے ہے۔” وہ اپنی سمجھداری پر کالر کھڑے کررہا تھا اور مجہے اس کی یہ سمجھداری اچھی لگی تھی۔
” لیکن خیام یہ سب تم روحانہ بھابی کے حوالے بھی تو کر سکتے ہو؟ میں نے بالآخر کہہ ہی دیا۔
” یقیناً کرسکتا ہوں لیکن وہ ابھی اپنے آپ کو اس قابل اور بہادر نہیں سمجھتی ہوسٹل میں کافی بور ہوچکی ہے بنگلے کی تعمیر کا کام تو تقریباً ختم ہو ہی چکا ہے بہت جلد اسے وہاں شفٹ کردیں گے اور ہاں تم ذرا جلدی پاکستان کا چکّر لگانا۔ ” ائیرپورٹ تک وہ مجہے سی آف کرنے آیا تھا اور اس کے کہنے کے مطابق وہ مجھ سی آف کرنے کے بعد ہوسٹل گیا تھا روحانہ بھابی سے ملنے وہ پھول اور گفٹ لینے گیا تھا کل سے ذرا بہتر ہو چکی تھیں اور گاؤں جانے سے پہلے وہ انہیں بھی کچھ تاکیدیں کر گیا تھا اور اپنے والٹ سے پچاس ہزار کی رقم بھی دے کر گیا تھا یعنی وہ گاؤں جانے سے پہلے اپنی ہر چیز دے گیا تھا حتیٰ کے وہ اپنے گلے کی چین اسے پہنا کر چلا گیا تھا یہ ساری باتیں اس نے مجہے آخری کال میں بتایں تھیں اور اس کے بعد میرا کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہوسکا ہم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بچھڑ گئے تھے۔
” پیر سائیں اور احمد شاہ ہچکیوں سے رو رہے تھے خود وحید کاظمی کے آنسو رخسار پر پھسل چکے تھے مردان خانے میں مکمل سکوت تھا حویلی کے تمام مرد اندر موجود تھے اور خیام شاہ کے دوست کی باتیں سننے کے لئے مردان خانے کی جالی کے ساتھ کھڑی عورتیں بھی رو پڑی تھیں اور شہرزاد جو مكتوم کی اصلیت جاننے کے لئے ایکسائیٹڈ ہورہی تھی اس کی اصلیت جان کر دم بخود رہ گئی تھی۔
” بیٹا میں تم سے شرمندہ ہوں تمہارا مجرم ہوں مجہے معاف کردو یہ تمھاری امانتیں جلدی نہیں لوٹا سکا مگر ان کی حفاظت اپنے مال سے بھی زیادہ کی ہے۔” وحید کاظمی مکتوم سے درخواست کررہے تھے جو پتھر کے مجسمے کی طرح ساکت بیٹھا تھا۔
” دیکھو بیٹا میں یہاں سے جاتے ہی مشکلات میں گھر گیا تھا میرے ماں باپ نے میری شادی کردی تھی مجہے اپنا گھر بنانا تھا اپنے بیوی بچوں کا بوجھ اٹھانا تھا لیکن ان لوگوں کو میرا بوجھ اٹھانا پڑ گیا میری ٹانگوں میں فریکچر ہوگیا تھا دو سال اس تکلیف میں گزر گئے انڈیا سے علاج کروانا پڑا پانچ سال بعد پاکستان آیا اور سب سے پہلے روحانہ بھابی سے ملنے کی کوشش کی کیوں کہ خیام کی زندگی کی امید تو میں پانچ سال پہلے ہی ختم چکا تھا اگر وہ زندہ ہوتا تو مجھ سے رابطہ ضرور کرتا ہوسٹل گیا تو پتہ چلا وارڈن نے روحانہ بھابی کو نکال دیا بے اب نجانے وہ کہاں تھیں البتہ وارڈن کے خیال میں وہ اپنے سسرال چلی گئیں تھیں اور یہ سن کر مجہے اندر ہی اندر تسلی ہوئی تھی پھر تقریباً دس سال بعد میں واپس آیا اور یہاں حویلی میں بھی آیا مكتوم کے بارے میں پتہ چلا تو خوشی ہوئی تھی لیکن روحانہ بھابی کی وفات کا سن کر افسوس ہوا تھا اس روز آپ لوگ کسی شادی میں شرکت کے لئے پشاور گئے ہوۓ تھے مجہے مایوس لوٹنا پڑا اور تب سے اب تک میری بیوی بیمار ہے جس کے بعد مجہے کسی چیز کا ہوش نہیں رہا بچوں کی دیکھ بھال، کاروبار کی دیکھ بھال، بیوی کا علاج وگیرہ اس لئے اتنی تاخیر ہوئی پلیز مجہے معاف کردو۔۔۔۔۔۔۔وہ نادم ہورھے تھے اور مكتوم کے تاثرات ہنوز پتھر تھے۔
” یہ تمھارے ماں باپ کا نکاح نامہ، یہ نکاح کے دن کی تصویریں، یہ کاغذات ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن مكتوم کے پتھر مجسمے جان پڑ گئی تھی اسے صرف تصویریں اور نکاح نامہ دکھائی دے رہا تھا اور کسی چیز کی طلب نہیں تھی۔
” یہ خیام کی پرسنل ڈائریاں اور یہ تمھارے بنگلے کے پیپر ہیں جب اس نے یہ بنگلا خریدا تھا تب تکمیل کے آخری مراحل میں تھا اب یہ ایک مکمل تیار شدہ بنگلہ ہے میں جب بھی پاکستان آتا تھا بنگلے کی دیکھ بھال ضرور کرتا تھا اور ایک چوکیدار بھی رکھا ہوا تھا اب تم مالک ہو جو چاہو کر سکتے ہو۔”
” وحید کاظمی سب کچھ اسے تفصیل سے بتا رہے تھے اور مكتوم دل دل میں اللّه کے حضور سجدہ میں گر گیا تھا اور باہر کان لگاۓ کھڑی عورتوں کے سنگ شہر زاد جھاگ کی طرح بیٹھ گئی تھی مكتوم کو آئینہ دکھاتے دکھاتے خود آئینہ دیکھ چکی تھی کہ مكتوم کے باپ نے اس کے باپ (پیر سائیں) پڑ جان واری تھی الٹا وہ لوگ مكتوم کے مقروض نکلے تھے حساب کتاب کرنے بٹہے تھے الٹا لینے کے دینے پڑ گئے ۔۔۔۔۔۔۔اور آج ایک بار پھر خیام شاہ کی جواں مرگ پہ حویلی کی ہر آنکھ اشک بار تھی ہر دل میں درد نئے سرے سے اتر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔
اے خاموش کھلا کے مالک تمہاری قسم
بزم جہاں میں تجھ سے زیادہ تنہا ہوں
ریزہ ریزہ ٹوٹ چکا ہوں اندر سے
گھر سے باہر گردن تان کر چلتا ہوں
” مكتوم شاہ پچھلے پانچ روز سے سخت بخار میں پهنک رہا تھا وحید کاظمی کی حویلی میں آمد اور پھر نئے انکشافات ہونے کا اس نے نجانے کیا اثر لیا تھا کہ اسی روز سے جیسے آگ میں جل رہا تھا۔
مومنہ پھپو ، زرش، سحرش، حمرا ، نویرہ، احمد شاہ ، میراں بی بی سب نے اس کا بہت خیال رکھا تھا لیکن وہ بلکل چپ ہوگیا تھا اس کی قوت گویاوئی جیسے کم ہوگئی تھی اور کسی کو کچھ پتہ نہ چلا کہ اس پر کس چیز کا اثر ہوا ہے وہ پہلے ہی کم گو اور سنجیدہ تھا لیکن اب تو ان دونوں کیفیت کی حدوں کو چھو رہا تھا کوئی بھی اس سے بات کرتا وہ جواب ہی نہیں دیتا تھا بلآخر پیر سائیں کو ہی بولنا پڑا تھا۔
” ہم جانتے ہیں تمہارا دکھ بہت بڑا ہے ہم پوری دنیا اٹھا کر تمھارے قدموں میں رکھ دیں پھر بھی کمی دور نہیں کر سکتے لیکن بیٹا ہمیں اپنے دکھ میں شریک کرو گے تو تمہارا بوجھ کچھ نہ کچھ۔۔۔۔
” پیر سائیں میں لاہور جانا چاہتا ہوں” وہ ہمیشہ جانے سے پہلے اجازت لیتا تھا لیکن آج اجازت کا طریقہ کچھ اور تھا لہجہ سرد تھا وہ چپ ہوگے تھے اور چپ تو حویلی کے تمام افراد ہوچکے تھے سب کی زبانیں بند ہوچکی تھیں سب کے نشتر تو شاید رک گئے تھے لیکن جو نشتر دل میں اتر چکے تھے ان کو نکالنا ممکن نہیں تھا کیوں کہ وہ بہت گہرائی میں اتر چکے تھے جن کو اگر نکالا بھی جاتا تو دل کی حالت چھلنی نظر آتی تھی۔ “لیکن تمھارے ایگزیم تو ختم ہوچکے ہیں اب تم۔ ۔۔۔۔۔۔۔
” اب میں اپنی زندگی شروع کرنا چاہتا ہوں اور میرا خیال ہے۔ ۔۔۔۔۔
“مكتوم تم یہ سب کیا کررہے ہو کیا کہہ رہے ہو؟ اس حویلی میں تمہارا برابر کا حصّہ ہے تمھاری زںدگی یہیں سے شروع ہوتی ہے اور۔ ۔۔۔۔۔
“میں ہمیشہ کے لئے نہیں جارہا پیر سائیں یہ حویلی یہ گاؤں یہ قبیلہ میرے باپ کی آبائی وراثت ہیں میرے بابا نے اگر موت سے ڈر کر شهر کا رخ نہیں کیا تو میں بھی کچھ کرنا کا نہیں سوچ سکتا۔” اس نے انہیں روک دیا تھا اور اس کی بات سے انہیں اطمینان ہوا تھا۔
” واپس کب آؤ گے؟
“جب آپ نے حکم کیا” اس نے ہمیشہ کی طرح سعادت مندی سے ان کا دل رکھ لیا وہ بہت خوش ہوۓ تھے اور مكتوم شاہ ان سے اجازت لیکر لاہور چلا گیا تھا اب اسے اپنی زندگی بنانی تھی اپنا مستقبل سوچنا تھا۔
۔………*……….*……..
” آگہی کے مختلف روپ ہوتے ہیں مختلف شکلیں ہوتی ہیں کبھی کبھی انسان کسی چیز کی آگہی سے عذاب میں آجاتا ہے اور سوچتا ہے اس آگہی سے بے خبری اچھی تھی آگہی سے کیا پایا؟ بے قراری سے بے قراری اور پچھتاوا ہی پچھتاوا اور کبھی کبھی یہی آگہی راحت بن جاتی ہے لمحہ بہ لمحہ شعور میں اترتی ہے تو سکون دے جاتی ہے دل و دماغ سرشار سے ہوجاتے ہیں تب لفظ “آگہی” بھی بڑا دلکش لگتا ہے لیکن کبھی کبھی یہی آگہی انسان کے لئے بلکل خالی پن لیکر آتی ہے انسان سب کچھ جاننے بوجھنے کے بعد بھی خالی رہ جاتا ہے نہ عذاب ملتا ہے نہ راحت جاں بس فقط خالی پن ہوتا ہے اور انسان ہوتا ہے یہی تیسرے روپ کی آگہی مكتوم شاہ کے دل و دماغ پڑ ثبت ہوگئی تھی وہ ابھی بھی خالی تھا بلکل جامد بس ایک ہی مقام پڑ ٹہرا ہوا ہر سرد و گرم سے بے بہرہ ہر احساس سے دور ہر جذبے سے پرے۔ ۔۔۔۔۔۔۔جیسے کسی اور کی زندگی جی رہا ہو اور اس زندگی سے کوئی مطلب کوئی سروکار ہی نہ ہو بس جینے کی ذمہ داری نبھانا تھی اور جیسے تیسے نبھ رہی تھی۔
” اگرچہ اسے گورمنٹ کی طرف سے بہت اچھی پوسٹ آفر ہوئی تھی لیکن اس نے یہ افر ٹھکرا دی تھی چند پرائیویٹ اداروں نے بھی اس کی ذہانت کے لئے اپنے در کھولے تھے لیکن اس نے یہ در بھی بند کردیے تھے۔
” دماغ ٹھکانے پر تو ہے یہ کیا کررہے ہو اپنے ہاتھوں سے اپنا کیریئر تباہ کررہے ہو؟ توقیر شاہ لاہور آے ہوۓ تھے ساری تفصیل جاننے کے بعد حیرت سے چلا اٹھے۔اور نجانے کیا کیا بولتے رہے اور وہ خاموشی سے سنتا رہا اور جب وہ خاموش ہوۓ تو آہستگی سے بول اٹھا۔
“میں بزنس کرنا چاہتا ہوں” انتہائی مختصر سی اطلاع تھی۔
“کیا بزنس؟ لیکن وہ سی ایس ایس؟ وہ کسی اچھی پوسٹ پر کام کرنے کا ارادہ؟ وہ کیا ہوۓ؟ یہ اچانک بزنس کا خیال کیو؟ توقیر شاہ نے بیک وقت کتنے سوال داغ دیے تھے۔
. ” جو کچھ بھی میں چاہتا ہوں وہ مجہے کسی اچھی پوسٹ سے حاصل نہیں ہوگا میں پابند ہوکر رہ جاؤں گا جبکہ میں بہت آگے جانا چاہتا ہوں جس کے لئے پابند نہیں آزاد ہونا لازم ہے اور یہ آزادی بزنس میں ہوتی ہے نوکری اور عہدوں میں نہیں ہوتی۔ ۔
“لیکن اچانک تمہارا ارادہ کیوں بدلہ؟ توقیر شاہ نے اس کی بات کاٹ دی
“کیوںکہ یہ میرے بابا کا خواب ہے۔ “وہ کرسی سے کھڑا ہوگیا تھا توقیر شاہ کی آنکھوں میں ابھی بھی الجھن تھی۔
” بابا کا خواب کے مطلب؟ ” ٹوقیر شاہ کے سوال پر اس نے خیام شاہ کی دائری اٹھا کر سامنے کی تھی وہ سمجھ گئے تھے۔
“لیکن اس کے لئے تو تمہیں۔ ۔۔۔۔
“میرے بابا نے میرے لئے اتنا تو ضرور چھوڑا ہے کہ میں اس وقت کسی بھی کمپنی میں پچیس فیصد کا حصّہ دار بن سکتا ہوں۔
“اس کے لہجے میں مضبوطی اور اعتماد تھا یعنی وہ سچ چکا تھا اسے اب وہی کرنا تھا ٹوقیر شاہ نے مزید کچھ نا کہا اور یوں باہمی مشورے سے وحید کاظمی اور مكتوم شاہ نے بزنس شروع کردیا وحید کاظمی کا بزنس پہلے ہو کافی اچھا جارہا تھا لیکن اب اسے وسیع پیمانے پر پھیلانے کا منصوبہ تیار ہوا تھا اور دونوں فریقین ہی ایک دوسرے کے ساتھ 100% مطمئن تھے اور کام کا آغاز اعتماد اور ديانتداری سے ہوا تھا۔
“بزنس میں الجھ کر مكتوم شاہ پہلے سے زیادہ گم ہوگیا تھا مہینوں اس کی صورت نظر نہیں آتی تھی وہ کبھی کراچی کبھی اسلام آباد میں ہوتا، جب بی بی جان اور پیر سائیں کو دوبارہ سے اس کی شادی کا شوق ہوا تھا۔ اور انہوں نے پہلی فرصت میں ہی اسے گاؤں بلوالیا تھا۔ وہ کراچی سے بائی ایئر اسلام آباد پہنچا اور اپنے گاؤں کا رخ کیا تھا چاہے کچھ بھی ہو گاؤں میں داخل ہوتے ہی بہت سکون کا احساس ہوتا تھا۔
“السلام عليكم” اس وقت سب ہی لاونج میں بٹہے تھے جب وہ اچانک آیا تھا۔
“بسم اللہ بسم اللہ” میراں بی بی والہانہ لپكی تھیں”۔
” اے ہے میرا شاہ پتر آیا ہے۔” بی بی جان بھی اٹھنے کی کوشش کرنے لگیں گھٹنوں میں درد جو رہتا تھا اور وہ میراں بی بی سے مل کر ان کے قریب جھک گیا تھا شہرزاد نے اسے تیکھی اور تنکیدی نگاہ سے جانچا تھا۔ وہ پہلے سے زیادہ صحت مند اور اجنبی لگ رہا تھا اس کے چہرے کی رنگت میں تازگی اور ایک عجیب سا سنہرا پن تھا اب ایسا کیا ہے کہ وہ یوں الگ نظر آرہا ہے شاید اسے اپنی زات پہ قرار اگیا تھا اسے اپنے ہونے کا مان مل گیا تھا پہلے وہ صرف مكتوم شاہ ہوتا تھا اب سید زادہ مكتوم شاہ ہوگیا تھا۔
“تیرے پیر سائیں نے بلایا ہے تجھے کہ اب تیری اور شہرزاد کی شادی سے فارغ ہی ہی جانا چاہیے۔ ۔۔۔۔۔بی بی کی بات نجانے کہاں سے شروع ہوئی تھی لیکن اس جملے سے دھماکہ کر گئی تھی شہر زاد نے خیالات سے چونک کر دیکھا تھا اور اس سے بھی زیادہ مكتوم شاہ نے چونک کر دیکھا دونوں کی نگاہ ٹکرا گئی تھی۔
“ارمغان کو بھی شادی کی بڑی جلدی ہے کہتا ہے شہر زاد کے امتحان ہوں یا نہیں مجہے شادی کرنی ہی کرنی ہے اور تم جانتے ہو زرینہ بھی اس سال یونیورسٹی سے فارغ ہوجاۓ گی۔۔۔۔۔۔۔ندرت چاچی نے بڑے پیار سے مكتوم شاہ کو ہاور کروادیا تھا کہ تمھارے لئے ذرینہ کو منتخب کیا گیا ہے اور ارمغان کے لئے شہر زاد کو۔۔۔۔۔۔ “بی بی جان ابھی اسے دم تو لینے دیں آتے ہی اسے پریشان کردیا” میراں بی بی خود اس کے لئے جوس لیکر آئیں تھیں مكتوم شاہ کے کھانے کا خیال وہ خود رکھتی تھیں یہ کام کبھی ملازموں پہ نہیں چھوڑا تھا۔
“اس میں پریشانی کی بات کیا ہوئی بھلا اس کی شادی کا ذکر کررہے ہیں ماشاءالله جوڑیاں دونوں ہی پیاری ہونگی۔ ” جواب بی بی جاں کی بجاۓ ندرت چاچی نے دیا تھا”۔ آخر ان کو بٹہے بیٹھاے دو ہیرے مل رہے تھے ایک شہر زاد کی صورت ایک مكتوم کی صورت مگر میراں بی بی کو مكتوم اور ذرینہ کے حوالے سے یہ فیصلہ پسند نہیں آیا تھا وہ مكتوم کی پسند سے اس کی شادی کرنا چاہتی تھیں مگر ابھی تک واضح انداز میں اپنی پسندیدگی کا اظہار نہیں کیا تھا کیوں کہ ابھی مكتوم کی راے لینا تھی۔ شہر زاد ہاتھ میں پکڑا اخبار ٹیبل پر رکھ کر وہاں سے چلی گئی تھی ۔وہ بھی نظر جھکا چکا تھا۔
“مجہے آپ کا فیصلہ منظور ہے آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں” وہ زرینہ کے لئے رضا مندی دے چکا تھا اور پیر سائیں اس کے فیصلہ پر خوشی سے جیسے نازاں ہوگئے مگر میراں بی بی صبر نہیں کر سکی تھیں۔
” یہ کیا کیا ہے جب تم زرینہ کو پسند نہیں کرتے تو پھر۔ ۔۔۔۔۔۔۔
” تائی ماں یہاں بیٹھیں ” اس نے انہیں كندهوں سے پکڑ کر اپنے سامنے بیڈ پر بٹھا دیا اور خود دو زانوں بیٹھ گیا۔
” آپ یہاں کے رسم و رواج جانتی ہیں نہ؟ اور یہ بھی جانتی ہیں کہ کوئی لڑکی خاندان سے باہر کی نہیں لا جاسکتی۔
” لیکن بیٹا خاندان میں اور بھی لڑکیاں ہیں زرینہ تمھارے ساتھ نہیں جچے گی وہ کافی چالاک اور بد دماغ لڑکی ہے تم اس کی باتیں نہیں جانتے۔
” ہاں تائی ماں یہی تو بات ہے کہ میں اس کی باتیں نہیں جانتا۔ کیوں کہ جن کی باتیں ہم جانتے ہیں شادی تو اس سے بھی نہیں کر سکتے۔” میراں بی بی چپ ہوگئیں تھیں وہ ان کے ہاتھ پکڑ کر اپنے چہرے پر رکھ چکا تھا۔
” میرے ساتھ تو کوئی بھی سج جاۓ گی چاہے اس حویلی کی کوئی نوکرانی میری دلہن بنا دیں۔اس نے دل چسپی سے کہا اور میراں بی بی اٹھ کر چلی گئی تھیں۔
” امتحانوں کے بعد منگنی کا ارادہ تھا کیوں کہ ابھی وہ فارغ نہیں تھا اور ویسے بھی ابھی شہر زاد اور زرینہ کے امتحان قریب تھے اور پھر پانچ چھ ماہ کے وقفے سے شادی کو پلاننگ ہوئی تھی وہ کل آیا تھا اور آج واپس جارہا تھا اور اسے میٹنگ میں شریک ہونا تھا۔
” شاہ پتر شہر زاد کو بھی لاہور جانا ہے ٹھہر جاؤ اسے بھی ساتھ لے جانا” بی بی جان نے اسے اٹھتے دیکھ کر کہا تھا۔
لیکن مجہے ابھی لاہور نہیں جانا میں پہلے اسلام آباد جاؤں گا اور پھر لاہور اس لئے آپ یہ ذمہ داری کسی ملازم کو سونپ دیں” ۔
“اس نے ذرا سا جھک کر ان سے دعا لی تھی”
“پتر اسے ضروری کام ہے_
بی بی جاں مجہے اپنے ضروری کام کی فکر ہے آپ کی شہر زاد کے لئے تو ہزاروں ملازم قطار میں کھڑے ہیں کسی کو بھی حکم کردیں ویسے بھی حویلی میں اور بھی مرد حضرات رهتے ہیں یہ کام آسانی سے کر سکتے ہیں”۔ وہ کہہ کر نکل گیا تھا اور شہر زاد کھول کر رہ گئی تھی جی چاہ رہا تھا مكتوم شاہ کو گولی سے اڑا دے۔ ۔۔
ہونہہ ہماری بلی ہمیں ہی میاؤں” اس نے تمسخر سے کہا۔ گھٹیا انسان کی سوچ گھٹیا ہی ہوتی ہے ذلیل کمینہ۔۔۔۔۔وہ بڑ بڑا تی ہوئی پیر سائیں کو فون ملانے لگی کہ اسے چھوڑنے کا انتظام کروایں۔
