Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لئے
گلوکار کی بھاری آواز سماعت سے ٹکرائی تو وہ يكدم چونک گیا۔ اس کی حساسیت بے دار ہوگئی تھی۔ یہ گانا اگرچہ اسے بے حد پسند تھا لیکن اس وقت وہ یہ گانا هرگز نہیں سننا چاہتا تھا۔ کیونکہ جب وہ یہ گانا سنتا تھا اسے کسی کے طنز بھی سننا پڑتے تھے۔اور آج جبکہ طنز بھی خاموش تھے پھر بھی اس نے گانا بند کردیا تھا۔ اور وہ جو لٹے پٹے مسافر کی طرح خاموش بے بس اور تہی داماں بیٹھی تھی اس کو سی ڈی پلیئر بند کرتا دیکھ کر ایک دم سے ضبط کھو بیٹھی اور اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کر رو پڑی اور اس کی ہچکیوں کی آواز سننے کی باوجود وہ بے تاثر سے انداز میں ڈرائیونگ میں مصروف رہا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ وہ اپنی بے بسی پر رو رہی ہے ورنہ اپنی حرکتوں پر نادم وہ هرگز نہیں تھی۔
اسے روتے ہوۓ نجانے کتنی دیر گزر گئی تھی۔جب اچانک گاڑی کا انجن بند ہوگیا اس نے سر اٹھایا تو گاڑی ایک خوبصورت ریسٹورانٹ "ٹیولپ"کے سامنے کھڑی تھی۔ یہ ریسٹورانٹ دریا جہلم کے عین کنارے پر موجود تھا گویا وہ جہلم پوھنچ چکے تھے۔
آؤ کچھ کھا لیتے ہیں ابھی سفر آدھا باقی ہے اور ٹائم بھی کافی ہورہا ہے۔"وہ جیسے کھانا کھانے کی وضاحت دے رہا تھا۔ "
مجھے بھوک نہیں ہے۔ "یہ فقرہ وہ سفر کے دوران پہلی بار سن رہا تھا۔ "مجھے بھوک نہیں ہے۔ "ورنہ تو اس کی بھوک کا عالَم یہ ہوتا تھا کہ اسے چھوٹے موٹے دھابے پر گاڑی روکنا پڑتی تھی۔ اور آج اتنے بہترین ہوٹل پر آکر بھی اسے بھوک نہیں تھی۔ اب کی بار اس کی حالت پر رونا مكتوم شاہ کو آیا تھا۔ کسی نے سچ کہا تھا بادشاہ فقیر ہوجاۓ تو فقیروں کو بھی اس پر ترس آجاتا ہے۔ بلکل اسی طرح مكتوم شاہ کو بھی اس پر ترس آیا تھا۔ کیوں کے وہ بھی کسی ملکہ سے کم نہیں تھی مگر۔۔۔۔۔
بھوک نہیں ہے تو چاۓ پی لو بارش تیز ہورہی ہے اس لئے سردی بھی بڑھ جاۓ گی۔ مكتوم شاہ سچ مچ اس پر ترس کھا رہا تھا۔ ورنہ اس کی منت کرنے کا ارادہ هرگز نا تھا۔ بس همدردی نبھا رہا تھا۔ ویٹر کو کھانا آرڈر کرنے کے بعد وہ موبائل نکال کر کسی سے بات کرنے لگا تھا بات کرتے کرتے مكتوم کی نظر اس پر پڑی تو ٹھٹک گیا اس کا سر جھکا ہوا تھا اور آنسو کے قطرے شفاف ٹیبل کی سطح پہ ایک نئی بارش برسا رہے تھے جو باہر کی سرد بارش سے بلکل مختلف تھی گرم گرم نمکین سی ۔۔۔۔۔۔۔موبائل بند کر کے مكتوم پوری طرح سے اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
"محترمہ آپ اس وقت ایک ہوٹل میں ہیں جو پبلک پلیس ہے۔ آپ کا گھر یا میری گاڑی نہیں ہے جو آپ اپنا شوق پورا کررہی ہیں ابھی زںدگی پڑی ہے روتی رہیے گا۔ "مكتوم کا لہجہ استہزائیہ ہوگیا تھا جس سے وہمزید بلبلا اٹھی تھی۔
دیکھو مجہے مشکوک مت بناؤ میں لوگوں کو صفائیاں نہیں دے سکتا۔ مكتوم نے لفظ "صفائیاں" پر خاص زور دیا تھا۔ اور وہ اس لفظ سے جیسے زمین میں گڑھ گئی اگر چہ وہ اس پر چوٹ نہیں کرہا تھا۔ پھر بھی مكتوم کی بات اس کے دل میں چبھ گئی تھی اور پھر باقی تمام راستے وہ یونہی ساکت و صامت رہی تھی لاہور پوھنچ کر وہ جس گھر میں آئ وہ گھر اس کے کے لئے يكسر اجنبی تھا ایک چوکیدار تھا جو ان کو دیکھتے ہی چاق و چوبند ہوگیا تھا۔
صاحب کھانا لیکر آؤں۔ ؟
نہیں کھانا کھا کر آئیں ہیں تم جاؤ آرام کرو ۔۔۔۔۔
ایم سوری مجہے خیال ہی نہیں رہا آؤ تمہیں اپر چھوڑ دوں ۔"مكتوم اسے چپ چاپ کھڑا دیکھ کر تیزی سے آگے بڑھا تھا۔ اور وہ مكتوم کے پیچے سیڑھیاں چڑھتی ہوئی ایک بیڈ روم کے سامنے آ رکی تھی مكتوم دروازے کا ہینڈل گھما کر اندر داخل ہوا اور تمام لائٹس آن کردیں۔
"یہ بیڈ روم میرا ہے اور اس کے علاوہ میں نے کوئی اور کمرہ سیٹ نہیں کیا اور نا ہی فرنیچر رکھوایا ہے۔ چند دن مجہے تمکو اور تمہیں مجھکو برداشت کرنا پڑے گا اور ایک ساتھ رہنا پڑے گا اس لئے جتنے دن تم یہاں رہو گی یہ کمرہ تمہارا بھی اتنا ہی ہوگا جتنا میرا۔ ۔۔۔۔۔مكتوم نے اپنے شاندار سے بیڈ روم کی طرف اشارہ کیا تھا جس کی سجاوٹ ہی سے مکین کی نفاست،پسند اور آعلیٰ ذوق کی ترجمانی ہورہی تھی۔ اور وہ ہر چیز کو بس چپ چاپ دیکھے جارہی تھی پھر مكتوم تو کپڑے بدلنے چلا گیا لیکن وہ بیڈ پر بیٹھی اپنی سابقہ سوچوں میں چکرانے لگی۔
مكتوم واپس آیا تو اسے کسی غیر مرعی نقطے کو گھورتے ہوئے پایا تھا۔ رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی وہ ایک چبھن محسوس کررہی تھی اور اس چبھن دینے والے کانٹے کو نکالنا چاہتی تھی اسی لئے جب مكتوم سونے کے لئے لیٹا تو اس نے بے حد آہستگی کے ساتھ بولنا شروع کیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *