Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 13)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 13)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
کیسے ہو بیٹا؟ مومنہ پھپو بات کررہی تھیں تقریباً پانچ منٹ بعد انہوں نے شہرزاد کو فون دینے کو کہا اور وہ جوتے پہن کر شہرزاد کی تلاش میں نظر دوڑاتا اپر اگیا کیوں کہ کچن کا دروازہ بند تھا اور موبائل کی سمت دھیان ہونے کی وجہ سے وہ بنا دستک دئے اندر چلا آیا تھا لیکن شہرزاد کو دیکھ نظر تو نظر ایمان بھی ڈانوا ڈول ہوگیا تھا آف وائٹ باریک سلکی نائیٹی میں اس کے ہوشربا سراپے کی حشر سامانیاں مكتوم شاہ کی رگوں میں لہو کی گردش تیز کر گئی تھیں وہ پہلی بار بے خودی میں اپنے قدم روک نہیں پایا تھا اور دوسری طرف شہرزاد اس اچانک افتاد پر شرم سے زمین میں گڑھ گئی تھی اس کے تو وہم و گمان میں بھی نا تھا کہ وہ یوں اچانک چلا آے گا وہ اپنی جگہ ھلنے کے قابل بھی نہیں تھی مكتوم شاہ کی نگاہوں کا استحقاق ایسا تھا کہ شہرزاد کی رنگت شرم سے سرخ پڑ گئی۔
” پھپو کا فون۔۔۔” اس نے بے حد گھمبیر آواز سے کہتے ہوۓ موبائل اسے تهمايا اور اسے حصار میں لے لیا شہرزاد آف موبائل اور مكتوم کی کھوئی کھوئی کیفیت دیکھ کر حیران ہوئی تھی اس کے حصار میں شدت سے اس کے منہ سے سسكی نکل گئی تھی وہ اس کی سسكی سن نہیں سکا تھا۔
” نفرت کرتی ہو نا مجھ سے؟” وہ اس کے وجود کو بانہوں میں بھینچ کر اس کا چہرہ سختی سے اپنے سامنے کر چکا تھا شہرزاد کے چہرے پر نجانے کس درد کس تکلیف کے اثار تھے کہ وہ مزید بپهر گیا تھا۔
. ” میں بھی تم سے نفرت کرتا ہوں اتنی نفرت کہ جی چاہتا ہے تمہیں جان سے مار ڈالوں قتل کردوں تمہارا” وہ اس کے بال مٹھی میں دبوچ چکا تھا اور وہ آنکھوں کی نمی چھپانے لگی۔
” میں نفرت کرتی تھی تو سب کچھ کر گزرتی تھی کسی کے دل کی پرواہ نہیں کرتی تھی آپ نفرت کرتے ہیں تو آپ بھی اظھار کریں جو چاھتے ہیں کر ڈالیے، مجہے جان سے مار کر اگر آپ کو سکوں ملتا تو میں ابھی یہ کام کر لیتی آپ کا سکون تو میری زندگی سے جڑا ہے میں ہوں تو آپ کو سکون ہے میں نہیں تو آپ۔۔۔۔۔
. ” جسٹ شٹ اپ میں بکواس نہیں سننا چاہتا۔۔۔۔۔۔۔وہ مشتعل ہونے لگا اور شہرزاد نے بے اختیار نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور ہاتھ میں پکڑا موبائل اس کی سامنے والی جیب میں ڈال دیا وہ ابھی بھی اس کے حصار میں تھی کیوں کہ اس حصار میں اس کی زندگی کا تحفظ تھا پھر وہ اس حصار سے نکلنے کی بیکار سی کوشش کیوں کرتی؟
” آپ تو بڑی سے بڑی باتیں برداشت کر لتے ہیں یہ ذرا سا سچ برداشت نہیں ہورہا؟ ” اس نے اس کے سینے پہ ہاتھ رکھ دیا تھا اس نے شہرزاد کو ایک جھٹکے سے خود سے دور کردیا وہ اس کے سکون اور اتنے یقین کو دیکھ کر پاگل ہی تو ہوا بیٹھا تھا لیکن یوں لڑ کھڑا کر بیڈ پر گرتے ہوۓ وہ ہلکے سے كراہی تھی اور وہ پلٹ کر واپس جاتے جاتے ٹھٹک گیا تھا۔ اس کی پشت پر ہلکا سا خون کا دهبا دیکھ کر وہ چونکا تھا کیوں کہ اس کی کمر پر ترچھی سی لکیروں میں تین چار داغ تھے وہ جھک کر ان داغوں کو چھونے سے خود کو روک نہیں پایا تھا۔
. ” یہ داغ یہ زخم کیسے ہیں؟” مكتوم حیرت زدہ ہوچکا تھا لیکن وہ یونہی اوندهے منہ گرے بے اختیار سسك اٹھی تھی وہ اس کے زخموں کو چھو رہا تھا۔
” شہرزاد میں کیا پوچھ رہا ہوں یہ کیا ہے یہ نشان کیسے ہیں” اس نے جھٹکے سے اسے كندهوں سے تھام کر سیدھا کیا اور اپنے سامنے کرلیا تھا۔
” جب میں کڈنیپ ہوئی۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔میں نی کھانا پینا بند کردیا تھا اور جب تین چار روز میں نے کچھ نہیں کھایا تو تو وہ عورت جو مجہے کھانا دینے آتی تھی اس نے ایک دن چھڑی سے مارنا شروع کردیا” وہ ہچکیوں سے بتا رہی تھی اور مكتوم کا دماغ ماؤف ہوگیا وہ بے یقینی سے دیکھ رہا تھا کہ اس نے کیسی کیسی اذیتیں سہی ہیں۔
” تو یہ ابھی تک ٹھیک کیوں نہیں ہوۓ؟”
” مم میں نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا لیکن۔۔۔۔۔۔ایک دن اماں سائیں نے میری قمیض پر خون کے دهبے دیکھ لئے تھے۔۔۔۔پھر انہوں نے ہی دو تین روز میری زخموں پر مرهم لگایا۔۔۔۔۔اور بعد میں، میں یہاں آگئی اور پھر کوئی مرہم نہیں لگایا مجہے اتنے دنوں سے نیند نہیں آتی تھی۔ میں نے کل زبیدہ سے مرهم منگوالیا اور ابھی بھی یہ مرهم لگا رہی تھی اور آپ۔۔۔۔۔وہ اپنے آنسو پونچھ کر سر جھکا کر اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی اور مكتوم کو ابھی تھوڑی دیر پہلے اپنی بانہوں کے حصار میں جکڑی شہرزاد کے چہرے کی تکلیف اور درد کی وجہ سمجھ آگئی تھی اور یہ بھی سمجھ اگیا کہ وہ دن میں نائیٹی کیوں پہنے ہوئی تھی اور پھر وہ کتنی ہی دیر بے آواز آنسو بہاتی رہی اور وہ خاموشی سے مرهم لیکر اس کے زخموں پر لگاتا رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غزل کا تعلق اس گروہ سے تھا جو لوگوں کی عزتوں کا سودا بڑی آسانی اور دیدہ دلیری سے کرتا تھا پہلے وہ کسی بھی بچے کو آغوا کر کے تاوان مانگ لتے تھے لیکن ان کو بچوں کے آغوا میں کچھ ہاتھ نہیں اتا تھا پھر انہوں نے لڑکیوں کا آغوا کرنے کا سوچا اور انہیں اچھی خاصی کامیابی ہوئی جس لڑکی کے گھر سے تاوان نہیں ملتا ان لڑکیوں کو غیر ملکی مردوں کو بیچ کر انہیں ان مردوں کی رات کا سامان بنا دیا جاتا تھا اور جب وہ لڑکی ہر ہاتھ میں بکنے لگتی اور اپنی خوبصورتی کھو دیتی تو اسے آزاد کر دیا جاتا تھا اور اس کاروبار میں ملک کے نامور حضرات کا بھی ہاتھ تھا جو دن کی روشنی میں معروف شخصیت کا چولہ پہن کر عزت اور ستائیش سمیٹتے لیکن اس دفعہ انہوں نے ہاتھ غلط جگہ ڈال دیا تھا۔
” وہ عورتیں جو اس کام میں استعمال ہوتی تھیں وہ جانتی تھیں وہ ایک سید زادی ہے وہ کسی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اس لئے اسے غلط نگاہ سے دور رکھتے ہوۓ محض تاوان پر اکتفا کیا تھا کیوں کہ غزل اتنے دنوں سے شہرزاد کو جانتی تھی وہ اس کی کلاس فیلو بن کر رہی تھی اور باقاعدہ پلاننگ کر کے اس روز اس کے ساتھ گاڑی میں آئ اور اس کا آغوا کروالیا تھا کیوں کہ وہ بہت عرصہ سے جانتے تھے اس آسامی سے بہت فائدہ ھوگا مكتوم شاہ اور توقیر شاہ نے کڑی سے کڑی ملا کر ان کے تمام فائدے مليا میٹ کر دیے تھے پورا گینگ بمہ ثبوتوں کے گرفتار ہوا تھا دو اور لڑکیاں بھی بر آمد ہوئیں تھیں لیکن ابھی بھی مكتوم شاہ اس معملے سے الگ نہیں ہوا تھا وہ ان لوگوں کو عبرتناک انجام تک پہنچا کر دم لینا چاہتا تھا۔وہ آج شہرزاد کے زخم اور تکلیف دیکھ کر پہلے سے زیادہ غضب ناک ہوگیا تھا وہ ان لوگوں کو سخت سزا دلانا چاہتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔
” زبیدہ ایک کپ چاۓ لے آؤ” وہ آتے ہی بیڈ پر بیٹھ گیا تھا انداز بے حد تھکا تھکا سا اور بوجھل تھا زبیدہ کمرے سے باہر نکل گئی تو وہ ٹائی کو ناٹ کھول کر وہیں آڑا ترچھا لیٹ گیا شہزاد زبیدہ کو پاس بیٹھاے اس سے باتیں کررہی تھی جب وہ اپنے وقت سے ایک گھنٹہ پہلے اگیا تھا اور شہرزاد کو نظر انداز کر کے زبیدہ سے مخاطب ہوا تھا یہ بیگانگی اور بےرخی ان دونوں کے درمیاں سے ابھی تک ختم نہیں ہوئی تھی وہ آٹھ مہینوں سے ندی کے دو کناروں کی طرح ساتھ ساتھ چل کر بھی ایک دوسرے سے بہت دور تھے حالاںکہ شہرزاد کچھ اپنے دل کی آمادگی سے اور کچھ مومنہ پھپو کی نصیحتوں سے کافی حد تک اس کی بیوی کے روپ میں ڈھل چکی تھی لیکن وہ ابھی تک ایک شوہر کے روپ میں نہیں ڈھلا تھا وہ آج اپنے آپ کو وہی مكتوم شاہ سمجھتا تھا جس سے شہرزاد کو چڑ اور نفرت ہوتی تھی۔
” وہ آنکھیں بند کئے یوں بے ترتیب سے لیٹے مكتوم شاہ کو
بڑی توجہ سے دیکھنے لگی تھی وہ بیڈ پر قریب ہی تو بیٹھی تھی ذرا سا ہاتھ بڑھا کر اس کے نین نقوش چھو سکتی تھی ( سب کہتے ہیں یہ خیام چچا کی کاپی ہے کیا وہ اتنے ہی خوبصورت تھے بلکل اس جیسے؟ ) وہ اسے دیکھتے ہوۓ سوچنے لگی اور جب تک زبیدہ آئ وہ شاید سو چکا تھا شہرزاد نے بھی اسے جگانا مناسب نہیں سمجھا اور پھر خود ہی جھک کر اس کے بوٹوں کے تسمے کھولنے لگی اس کے بوٹ اتار کر موزے بھی اتار دئے اس کے تھکے تھکے پاؤں کو ذرا سا سکون دینے اپنے ہاتھوں کی نرمیاں بخشنے لگی۔
” وہ جاگی سوئی کیفیت میں بھی مسرور ہونے لگا تھا” وہ اس کے پیروں کی انگلیاں اور تلوے سہلا کر اسے دل کھینچ لینے والا سکون بخش رہی تھی مكتوم کا دل چاہا اس کے نرم نازک ہاتھوں کو چوم لے اور اسے سینے میں بھینچ کر اپنی زندگی کی تمام خواہشیں تھام حسرتیں مٹا ڈالے ہر فاصلے کو يكجا کر ڈالے لیکن پھر وہی آٹھ ماہ سے چلی آنے والی انا آڑے آگئی تھی اور وہ اس اس دل موہ لینے والی ادا پہ دل مسل کر رہ گیا تھا اور ھنوز آنکھیں بند کئے انجان بنا رہا تھا اور یہ سب تو پچھلے کئی مہینوں سے چلا آرہا تھا وہ چاہے کچھ بھی کر لیتی وہ اگنور کر دیتا تھا وہ نظر اندازی کے فن سیکھ گیا تھا اسے قابل اعتناہی نہ جانتا تھا لیکن پھر بھی وہ ہمت نہیں ہارتی تھی شاید مكتوم شاہ کی برداشت اور خصلتیں اس میں سما گئیں تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوایل جنوری کے دن تھے موسم کی مستیاں عروج پر تھیں لیکن موسم کی بدلتی رنگت شہرزاد کو نیلا پیلا کر جاتی تھی عصر کے قریب موسم ٹھنڈا ہوا تو فوراً گرم شال اور سوئیٹر پہن لئے تھے اور مكتوم کو کھانا دینے کے فوراً بعد بیڈ روم کا رخ کیا تھا لیکن بھلا ہو وحید انکل کا وہ ادھر آ نکلے تھے سو مجبوراً اسے دوبارہ یخ موسم میں کچن کا رخ کرنا پڑا اور ان کے لئے چاۓ لے گئی مكتوم اس کے ہاتھ سے کپ پکڑتے ہوۓ اس کے ہاتھوں کی لرزش دیکھ چکا تھا یہ سردی کی كپكپی تھی وہ جانتا تھا کہ وہ سردی سے کس حد تک بھاگتی ہے ۔
” تم جاؤ ہم ابھی بیٹھیں گے” ۔۔۔۔۔۔دو روز بعد مكتوم کو آسٹریلیا جانا تھا اسی پروگرام کے متعلق ڈسکشن ہورہی تھی اور وہ مكتوم کی طرف سے اجازت پاکر شکر ادا کرتی بیڈ روم کی طرف بھاگی ابھی كمبل میں گھس رہی تھی جب فون بج اٹھا۔
” السلام عليكم پھپو ” وہ نمبر دیکھ چکی تھی۔
” کیا کررہی تھیں؟”
” سردی سے بچنے کی کوشش”
” ارے ہاں سردی تو یہاں بھی بہت ہے جب کبھی برف باری ہوتی ہے تو سوچتی ہوں شہرزاد یہاں ہوتی تو کیا کرتی؟ وہ بھی جانتی تھیں کہ وہ کتنا ٹھٹرتی ہے۔
” توبہ پھپو مجہے ڈرایں تو مت مجہے تو آج لاہور بھی مری سے کم نہیں لگ رہا” وہ جھر جھری لینے لگی۔ تم کبھی مری گئی؟
” نہیں کبھی فرصت نہیں ملی”
” تو اب چلی جاتیں مكتوم کے ساتھ ہنی مون ٹرپ ہوجاتا دونوں کا۔ ” مومنہ پھپو کی بات پر وہ ذرا سی تھم گئی تھی جو شخص سیدھے منہ بات کرنے کا روادار نہیں تھا وہ ہنی مون ٹرپ پلان کیسے کر سکتا تھا”
” شہرزاد کیا ہوا میری بات اچھی نہیں لگی؟”
” نہیں پھپو مجہے بھلا آپ کی بات کیوں بری لگے گی”
” کیا کوئی پرابلم ہے؟” مكتوم کے ساتھ ریلیشن کیسا ہے؟ ان کو تشویش ہوئی تھی۔
” سب کچھ ٹھیک ہے ڈونٹ وری” وہ ہلکے سے ہنسی۔
. ” انہوں نے فلحال تو اس بات کو چھوڑ دیا لیکن آئندہ مكتوم کی کلاس لینے کا ارادہ کر کے فون بند کردیا تھا” شہرزاد اپنی باتوں کو سوچتی بہت جلد سو گئی تھی بارش شروع ہوئی تو وحید انکل کو واپسی کا خیال آیا تھا اور جب وہ بیڈ روم میں آیا تو رات کے بارہ بج رہے تھے وہ گہری نیند سورہی تھی وہ لیٹنے کی بجاۓ بیڈ كراون سے ٹیک لگاے سگریٹ پی رہا تھا دھیان نجانے کہاں سے کہاں پرواز کررہا تھا اور اسی بے دھیانی میں اس نے نجانے کتنے سگریٹ پھونک ڈالے تھے دھویں کے مرغولے کمرے کو تاریک کرنے لگے تھے تھک کر سگریٹ ایش ٹرے میں مسل ڈالا۔ اور پھر اسی تھکن کے ہاتھوں نیند محسوس ہونے لگی تھی تکیہ درست کر کے کروٹ بدلی اور كمبل اپر کھینچ لیا تھا ابھی وہ پوری طرح نیند میں غافل نہیں ہوا تھا جب بری طرح سٹپٹا گیا تھا کیوں کہ وہ نیند کے باوجود سردی سے بچنے کے لئے کوئی گرم پناہ ڈھونڈ رہی تھی اور اس تلاش میں اپنی بے خبری کے عالَم میں وہ اس کے سینے میں چھپ گئی تھی اور وہ اپنی جگہ ساكت رہ گیا تھا اس کے ہوش فنا ہونے لگے تھے۔
” شہرزاد ۔۔۔۔۔۔اس نے اپنے جذبات کا طوفان اٹھتے دیکھا تو گھبرا کر اسے پکار بیٹھا تھا لیکن وہ گہری نیند سے کسمسا کر اور بھی قریب آگئی تھی اور مكتوم سچ مچ اتنی قربت سے پاگل ہوا اٹھا اس کا صبر ریت کی مانند ہاتھوں سے چھوٹتا جارہا تھا کہ کچھ شہرزاد کی بے خود کر دینے والی بے خبری اور کچھ اس کے وجود پہ ملکیت اور استحقاق کا احساس ایسے حاوی ہوا کہ دل میں کب سے چپ بٹہے جذبات ایک دم سے شوریدہ سر ھوگئے تھے اس کی بے نیازی، لا تعلق اور بے گانگی چند سیکنڈ میں ہی دھری کی دھری رہ گئیں تھیں وہ اسے خود سے الگ بھی کر سکتا تھا مگر اس وقت اتنا حوصلہ کہاں سے لاتا؟ جب وہ خود ہی اس کی پناہون میں آرہی تھی تو وہ کیسے نظر چرا لیتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جو پہلے ہی سردی سے نڈھال ہوجاتی تھی آج تو باقاعدہ کانپ رہی تھی اور مسلسل كپكپی کے باعث ایک کپ اور دو پلیٹیں بھی ٹوٹ چکی تھیں باہر بارش ابھی بھی زور و شور سے برس رہی تھی سردی کی منہ زوری عروج پر تھی ملازمہ ابھی تک نہیں آئ تھی اسے پتہ تھا کہ وہ ناشتہ خود بنا لیتی ہے اور اب تو مكتوم بھی اس کے ہاتھ کے کھانے کا عادی ہوگیا تھا لیکن آج وہ دونو ہی ایک دوسرے کے سامنے آنے سے كترارہے تھے شہرزاد مكتوم کو ایک مکمل شوہر کے روپ میں محسوس کر کے انوکھے سے احساسات میں گھری ہوئی تھی اور مكتوم شاہ شہرزاد کو باقاعدہ بیوی کا درجہ دے کر الجھ گیا تھا اسے لگ رہا تھا اس نے اپنا استحقاق جما کر اچھا نہیں کیا شاید شہرزاد ایسا نہ چاہتی ہو اور پھر بھی اس کے سامنے ہتھیار ڈال دئے ہوں یہی سوچ اسے ڈسٹرب کررہی تھی کیوں کہ رات کا خمار اترتے ہی پہلا حملہ سوچوں نے ہی کیا تھا اور سوچوں کے تسلسل کو موبائل رنگ نے توڑا تھا وہ لیٹ ہوچکا تھا اور وحید انکل متفکر ھوگئے تھے۔
” تیار ہوکر نیچے آیا تو وہ کچن میں مصروف دیکھائی دی گرم کپڑوں اور شال میں لپٹی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی مگر اب وہ کسی گستاخ حرکت کا حوصلہ نہیں رکھتا تھا سو آہستگی سے نظر چرا کر ناشتہ کرنے بیٹھ گیا۔
” کچن کا سودا سلف ختم ہوچکا ہے آپ زلفی کو مارکیٹ بھیج دیں” ایک نروس کر دینے والی خاموشی کا حصار تھا جو شہرزاد نے خود ہی توڑ ڈالا وہ كنفیوز جو ہونے لگی تھی۔ وہ ناشتہ کر کے اٹھا اور والٹ سے روپے نکال کر اس کی سمت بڑھا دئے۔
” جو کچھ منگوانا ہے منگوالینا ” وہ اسے ذمہ داری سونپ کر چلا گیا تھا اور وہ اس کے جاتے ہی برتن سمیٹنے لگی کچن سے فارغ ہوکر ڈرائنگ روم میں آئی اور کشن وغیرہ ترتیب سے رکھنے میں مصروف تھی جب بھاری قدموں کی چاپ سن کر يكدم پلٹی لیکن پلٹتے ہی اس کی چیخ نکل گئی۔
” عبیر لالا” وہ لپک کے آگے بڑھی اور عبیر شاہ کے کندھے سے لگ گئی دونوں کی آنکھیں نم ہوگئیں تھیں وہ چار بھیو۔ بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوکر بھی ان کی پیار محبت کے لئے ترس رہی تھی انہیں اچھی طرح اندازہ تھا عبیر شاہ نے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا پرے ایک سال اور ایک ماہ بعد وہ بہن بھائی ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
” کیسی ہو؟” عبیر شاہ نے اپنے آنسو پونچھ کر استفسار کیا تھا۔
” میرا خیال ہے تم صرف مجہے پہرہ دینے کے لئے لاے ہو جبکہ میں تو اپنی بہن سے ملنے آیا تھا” طلال شاہ عبیر کی پشت سے نمودار ہوا تھا۔
” طلال لالا آپ؟ ” اس نے بے یقینی سے دیکھا اس کی خوشی کی کوئی انتھا نہیں رہی تھی طلال شاہ نے اس کا سر تھپکا اور اس کے آنسو پونچھے۔
ہر وقت کا رونا دھونا بھی نحوست پھیلا دیتا ہے گھر کو جگمگانا چاہتی ہو تو ہمیشہ ہنستی مسکراتی رہا کرو” وہ جان بوجھ کر بڑی بوڑھیوں کی طرح بولے تو وہ بے اختیار ہنس پڑی اس ہنسی میں بھی آنسو گھل رہے تھے کیوں کے وہ جانتی تھی کہ جب وہ سب سے بچھڑی تھی تو کیا حالات تھے اور آج وہ کتنے اعتماد سے ان کے سامنے سر اٹھاے کھڑی تھی اور یہ سب صرف اس کے رب تعالیٰ کی اور اس شخص کی مہربانی اور عنایت تھی جو ایک سال بعد بھی اس سے لا تعلق خفا خفا اور الگ الگ رہتا تھا۔
“مكتوم کہاں ہے؟” طلال نے صوفے پہ بیٹھتے ہوۓ پوچھا طلال مكتوم کا ہم عمر تھا جبکہ عبیر شاہ چھوٹا تھا۔
