Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Ahle Dil Ho (Episode 06)

Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz

دریاے اٹک کے پل سے گزرتے ہوے شہر زاد نے سب سے پہلے وہ سی ڈی ڈسک باہر پھینکی جس میں مكتوم شاہ کا فیورٹ گانا ” کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے” تھا۔ پھر اس کا لایٹر اٹھا لیا بے حد سیاہ رنگ کا بہت نفیس اور سادہ لایٹر بھی اکثر اس کی مٹھی میں نظر آتا تھا اس نے وہ بھی پانی کی وسیع آغوش کے حوالے کر دیا تھا رفتہ رفتہ وہ اپنی ناگوار اشیا کو باہر اچھالتی گئی تھی اور ڈرائیو کرنے والا اس کا ماموں زاد کامران اسے روکتا رہ گیا تھا شہر زاد نے بطور خاص دوسرے گاؤں سے صرف ڈرائیور بنا کر بلایا تھا کیوں کہ حویلی والے سب مصروف تھے اور وہ چاہتی تھی کہ کوئی صبح سے شام تک اس کا ساتھ دے سکے تاکہ وہ سکون سے شاپنگ کر سکے۔

“یہ کیا کررہی ہو کسی کی پرسنل چیزیں یوں ضائع کرنا سرا سر بدتمیزی ہے۔ ” کامران کو برا لگا تھا” ۔

اس وقت یہ گاڑی میری ہے اور اس میں میری پسند کی اشیا رکھی جا سکتی ہیں میں جسے چاہوں اٹھا کر باہر پھینک سکتی ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔تمہیں بھی۔ “وہ تنگ کر بولی کامران اس سے دو تین ماہ چھوٹا تھا اسی لیے با آسانی رعب جما لیتی تھی۔

“مجہے پتہ نہیں تھا تم کسی سازش کے تحت مجہے یہاں بلا رہی ہو ورنہ میں اپنی گاڑی بھی لا سکتا تھا۔”

” خیر سازش تو میں نے کوئی نہیں کی بس پجارو وغیرہ میں سفر کرنے کی عادی ہوں اس لئے کار کا سفر عجیب لگتا ہے اس لئے تمھاری کار کو اعزاز نہیں بخش سکی۔ ” وہ بات ہی اتنے تفاخروغرور سے کرتی کہ سامنے والا جھلس کر رہ جاتا۔ “

“جیسا اعزاز تم مكتوم شاہ کی گاڑی کو بخش رہی ہو میں باز آیا ایسے اعزاز سے۔” اس نے کانوں کو ہاتھ لگاۓ تھے اور وہ يكدم کھلکھلا کر ہنس پڑی تھی۔ “

ارے نہیں تم تو میرے پیارے اچھے سے کزن ہو تمہاری گاڑی کو نقصان پہنچانے کا میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ “اس نے اپنائیت کا اظہار کیا۔”

تو کیا مكتوم شاہ تمھارے کزن نہیں ہیں جو ایسا دشمنوں والا سلوک کرتی ہو؟ ” کامران کا سوال اسے يكدم کوفت میں مبتلا کرگیا تھا۔”

مكتوم شاہ میرا کزن نہیں ہے۔ یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو۔ “لہجہ انتہائی سخت ہوچکا تھا”

پھر تم اسے مكتوم کیوں کہتی ہو؟ کامران کے دوسرے سوال پر چونک گئی تھی وہ اسے مسکراتی نظروں سے دیکھ رہا تھا نکتہ بڑا اہم تھا۔ بڑے غور کا تھا۔

وہ پانچ دن کا تھا جب ہماری حویلی میں آیا تھا اور آج پچیس سال ہوگئے ہیں ہماری حویلی میں رهتے ہوۓ ان پچیس سالوں میں ہم نے صرف اور صرف اسے دیا ہے یوں سمجھ لو خیرات دی ہے اور اس “خیرات” میں یہ “شاہ” بھی شامل ہے ورنہ خود اس کا کوئی حسب نسب نہیں کوئی نام و نشان نہیں ہے وہ ایک بے بنیاد بے وجود انسان ہے کیوں کہ انسان کا وجود اس کے ماں باپ سے ہوتا ہے اور ماں باپ کی اسے خبر ہی نہیں ہے۔ اس کا لہجہ انتہائی تحقیر لئے ہوے تھا۔

“لیکن تمھارے بابا سائن”

“میرے بابا اندھے ہیں بھائی کی محبت میں دیوانے ہوگئے ہیں ذات پات چال ڈھال جانچ پرکھ سب بھول گئے ہیں اور ان کی ہی دیوانگی تھی ایک عورت کی اموشنل بلیک میلنگ پر نجانے کس کی اولاد کو گھر اٹھا کر لے آے اور وہ عورت اپنے گلے کا طوق ان کے گلے میں ڈال کر اللّه کو پیاری ہوگئی اور نشانی کے طور پر چند زیورات اور چچا خیام کے گلے کی چین تھما گئی اب کیا پتہ وہ چین انہوں نے اپنی بیوی کو دی تھی یا پھر اس نام نہدی نہادی بیوی کو کہیں سے ملی تھی ضروری تو نہیں کہ وہ چین ان کے نکاح کا ثبوت ہو اگر ثبوت دکھانا ہی تھا تو نکاح نامہ کی اوریجنل نا سہی فوٹو کاپی ہی دکھا دیتیں کم از کم دل تو مطمئن ہوجاتا نا ہونہہ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ جل کر کہہ رہی تھی۔

“شاید تم بھول رہی ہو کہ جب ایک انسان بستر مرگ پر ہوتا ہے تو وہ جھوٹ بولنے کا سوچ بھی نہیں سکتا بلکہ اس نے ساری زندگی میں جو جھوٹ بولے ہوتے ہیں ان کی معافی مانگنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے اپنے رب سے بھی اور رب کے بندوں سے بھی۔ “کامران نے ایک اور پوانٹ نکالا تھا۔”

“یہ تمہاری سوچ ہے ورنہ میری سوچ یہی کہتی ہے کچھ لوگ مرنے کے بعد بھی اپنے عیبوں پر پردہ رکھنے کے لئے آخری سانس تک جھوٹ بولتے ہیں۔ تاکہ ان کی اچھائی کا گراف نیچے نہ گرے۔” شہر زاد کو اس معملے پر مطمئن کرنا یا پھر چپ کرانا مشکل تھا اس لئے کامران نے مغز ماری کرنے کی بجاے سر جھٹکا اور گاڑی ایک شاپنگ مال کے آگے پارک کر دی تھی وہ اسلام آباد پھنچ چکے تھے اور اب اس کی شاپنگ کا ااور کامران کے صبر آزما وقت کا دورانیہ شروع ہو چکا تھا اسی لیے تو وہ اسے ساتھ لائی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“جی کس سے ملنا ہے آپ کو؟ ” گیٹ پہ بیل دینے کے چند سیکنڈ بعد ایک صورت نظر آئ تھی جو یقینا گھر کے ملازم کی تھی۔

وحید کاظمی صاحب سے۔۔۔۔۔اس نے بہت سمبھل کے یہ نام لبوں سے نکالا تھا یہ نام ہی اس کی زندگی کی واحد امید رہ گئی تھی اس کا دل بری طرح دھڑک رہا تھا وہ چند روز پہلے بھی آیا تھا لیکن وہ یہاں نہیں تھے اور چوکیدار نے بتایا تھا کہ چند دنوں میں آنے والے ہیں اسی لئے وہ چوکیدار کو اپنا سیل نمبر دے گیا تھا کہ جب وہ آئیں تو مجہے اطلاع کردینا یا پھر ان سے کہیں کہ رابطہ کریں اور آج اتنے دنوں بعد وہ خود ہی اگیا تھا۔

“وہ تو چلے گئے صاحب جی”

کیا؟ “کہاں چلے گئے” اسے کرنٹ چھو گیا تھا

“واپس امریکا اور کہاں؟ ملازم کو اس کی حالت پر حیرانی ہوئی تھی۔

“کب آے تھے اور۔ ۔۔۔۔۔اور کب گئے ہیں؟ اس کے چہرے پر موت کی سی ویرانی چھا گئی تھی۔

“آٹھ روز قبل آے تھے اور کل چلے گئے بیگم صاحبہ بہت بیمار ہیں اس لیے رک نہیں سکے۔

“او میرے خدا کیوں میری اذیت کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جارہا ہے؟ اس نے سر پکڑ لیا۔

“کیوں صاحب جی خیریت تو تھی؟ ملازم کو پریشانی ہونے لگی تھی۔

وہ۔ ۔۔۔۔۔وہ چوکیدار کہاں ہے میں اسے نمبر دے کر گے تھا۔”اسے چوکیدار پر تاؤ آیا تھا۔

“ام ادھر ہے صاحب” ۔مكتوم کے عقب سے آواز ابھری وہ تلملا کر پلٹا ۔

“میں تمھیں نمبر دے کر گیا تھا تمھارے وحید صاحب آئیں تو مجہے بتا دینا پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر تم نے بتایا کیوں نہیں؟ تم جانتے ہو تم نے میرے ساتھ کیا دھوکہ کیا ہے؟

خالص پشتون زبان میں بولتا وہ اس پٹھان چوکیدار کو نگل جانے کے در پے تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کر ڈالے۔

ام کو معافی دے دو ام سے غلطی ہوگیا آپ کی نمبر کپڑے کی جیب میں دھل گیا ای۔ “چوکیدار اس کے شدید غصے اور اشتعال کی حالت دیکھ کر ہاتھ جوڑ چکا تھا اور وہ مٹھیاں بھینچ کر اپنے بپهرے ہوۓ اعصاب کنٹرول کرنے لگا وہ کبھی بھی اس طرح غصے میں نہیں آتا تھا لیکن یا معملہ ہی ایسا تھا اس سے اب اور برداشت نہیں ہورہا تھا وہ جلد از جلد اپنی بے کنارہ ذات کو کی۔ کنارہ دینا چاہتا تھا اپنے سے زیادہ اپنی ماں کی ذات کو متعبر کرنا چاہتا تھا جس کے لئے وحید کاظمی سے ملنا ضروری تھا باوجود اس کے کہ پیر سائں کو یقین اور اعتبار تھا اور اس کی ماں کی سچائی اور رشتے کو دل سے مانتے تھے جب ہی آج تک وحید کاظمی کو کھوجنے کی خاص کوشش نہیں کی تھی۔ مگر مكتوم شاہ کے لئے یہ سب کھوجنا اور جاننا بے حد ضروری ہو چکا تھا۔

“مجہے وحید صاحب کا امریکا والا کونٹکٹ نمبر دے دو میں خود رابطہ کرلو گا۔ “اس نے قدم موڑنے سے پہلے کہا تھا” ۔

معافی چاہتا ہوں صاحب جی انہوں نے نمبر دینے سے منع کیا ہے ہاں ان سے ایک بار پوچھ لوں پھر دے دوں گا آپ دوبارہ آجائیے گا۔ ۔۔۔۔۔۔ملازم نے شرمندگی سے کہا تھا مكتوم شکست خوردہ قدموں سے چلتا گاڑی تک اگیا تھا گاڑی میں بیٹھا تو شکستگی کا احساس اور بڑھ گیا تھا۔ اس کی گاڑی ہر چیز سے خالی پڑی تھی شہر زاد نے اس کی گاڑی کو بے دردی سے ویران کیا تھا اور وہ دیکھ کر بھی اسے کچھ نا کہ سکا تھا افسوس اسے اپنی چیزوں کے ضائع ہونے پہ نہیں شہر زاد نفرت اور تنفر سے ہوا تھا اس کا جی چاہ رہا تھا کہ اس گاڑی سمیت کسی پہاڑی سے گر کر اپنی جان دیدے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نماز پڑھ چکے ہو؟ میراں بی بی بی نے اندر داخل ہوتے ہوۓ پوچھا تھا وہ نماز پابندی سے پڑھتا تھا اور یہ عادت اسے میراں بی بی سے ہی ہوئی تھی۔

“نہیں”۔ لفظ تو اس نے ایک ادا کیا تھا لیکن ٹوٹ پھوٹ ہزاروں جذبات میں محسوس ہورہی تھی ہر جذبہ ہر احساس ٹوٹا بکھرا سا لگ رہا تھا۔

“مكتوم خیریت بیٹا کیا ہوا ہے؟ وہ اس کے قریب آگئیں تھیں اس نے چہرہ مزید جھکا لیا تھا کہ وہ اس کی شکستہ حالت نا دیکھ سکیں۔

“میں کیا پوچھ رہی ہوں؟ “وہ تشویش سے پوچھ رہی تھیں اور تھوڑی سی دیر میں وہ ان کی گود میں سر رکھ چکا تھا اور میراں بی بی نے اس کے وجود کو دیکھا جو چٹانوں سا مضبوط لیکن اندر سے بھر بھری سی ریت کی مانند بکھر رہا تھا۔

“میرے لیا دعا کیجئے تائی ماں میں بہت بے سکونی میں ہوں۔۔۔۔۔۔میں بہت اکیلا ہوں مجہے سکون چاہیے مجہے صبر چاہیے ۔۔۔۔۔۔” وہ گھمبیر بوجھل آواز سے کہتا اندر ہی اندر لرز رہا تھا اور اس کی بے سکون تھکی تھکی آنکھوں سے چند بے آواز آنسو پسل کر ان کی اغوش میں جذب ہوگئے تھے۔ وہ اپنے آپ کو کافی حد تک قابو کر چکا تھا ورنہ تو دھاڑیں مار مار کر رونے کو دل کررہا تھا اور میراں بی بی اس کے بالوں میں کندھے پہ ہاتھ پھیرتی خاموش بیٹھی تھیں۔ باہر حویلی کے حال کمرے میں ایک رونق کا سماں تھا روزانہ سارے كزنز اکٹھا ہوجاتے تھے اور خوب ہلا گلہ کرتے تھے لیکن اس ہلا گلہ میں وہ شریک نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ تو عام حالات میں بھی اپنے کمرے میں ہوتا تھا۔ سب کے درمیاں بیٹھ کر شہر زاد کے کبھی ندرت چاچی کے طنز سہنا کافی دشوار ہوجاتا تھا اسی لئے خلوت نشینی ہی بھلی تھی کچھ آنسو اور کچھ لفظ بہا کر وہ کچھ نہ کچھ رلیکس ہو ہی گیا تھا۔

. “تائی ماں ۔۔۔۔۔۔

“ہوں بولو؟ “وہ اس کے بال انگلیوں سے سنوار رہی تھیں۔ لیکن اس کے بولنے سے پہلے دروازہ زور سے بجا اور پھر زور سے کھل بھی گیا تھا شہرزاد اندر داخل ہوئی تھی اور پھر ماں بیٹے کا یہ سین دیکھ کر وہ جی جان سے جل گئی تھی اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے تھے ناک بھوں کے زاوے بھی بگڑ گئے تھے۔

“تمہیں بڑے چچا نے مردان خانے میں بلایا ہے یہ چونچلے بعد میں کرا لینا۔ ” وہ انگارے چباتی چلی گئی تھی اور مكتوم نے چہرہ جھکا لیا تھا وہ تو پہلی بار دل سے یوں بے اختیار ہوا تھا کہ ایک ممتا کا سہارا ملتے ہی بکھر گیا تھا ورنہ تو ہمیشہ اپنے آپ کو قابو میں رکھتا تھا۔

“میرے بس میں ہوتا اگر تو میں اس لڑکی کی زبان کاٹ ڈالتی نجانے کس بدبخت نے اسے پٹی پڑھائی ہے۔ “میراں بی بی اپنی بیٹی پر پھنکاررہی تھیں۔”

نہیں تائی ماں سب کو اپنی مرضی سے کہنے سننے کا حق ہوتا ہے شاید وہ بھی گلط نہیں کہتی آخر کچھ تو ہو جو میرا۔ ۔۔۔۔۔۔۔

“بس کرو مكتوم شاہ کس ناهنجار کی باتوں کو دل پر لے رہے ہو۔۔۔جاؤ جاکر بات سنو۔ ” وہ اپنی اکلوتی بیٹی کو کوستی ہوئی چلی گئیں اور وہ سلیپر پہن کر باہر نکال آیا۔۔۔۔دل کا کچھ غبار کم ہو چکا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اسے لاہور آے ہوۓ ہفتہ ہو چکا تھا ان شادیوں کے فوراً بعد ہی اسے سی ایس ایس کے پیپر دینا تھے اسی لئے وہ مکمل يكسوئی سے تیاری میں لگا ہوا تھا کیوں کہ اسے پتہ تھا ایسے هنگاموں میں حویلی میں رہ کر تیاری هرگز نہیں ہو سکے گی لیکن اس ایک ہفتے میں میراں بی بی نے کئی بار اسے آنے کے لئے کہا تھا پیر سائں بھی اس کی کمی محسوس کررہے تھے اس کا ارادہ مہندی مایوں والے دن جانے کا تھا لیکن پیر سائں کے اصرار پر اسے تین چار روز قبل واپسی کی راہ لینی پڑ رہی تھی اور وہ ہمیشہ کی طرح سب کے درمیاں جاتے ہوۓ اپنے صبر و برداشت کو مظبوط تر کرنے کی کوشش کررہا تھا آج موسم خاصا خنک سا ہورہا تھا اور لاہور سے دیر سے نکلنے کی وجہ سے حویلی پہنچتے ہوۓ کافی گہری شام راستے میں بچھ گئی تھی اور اس گہری شام کے رستوں کو ٹھنڈے بادلوں کے آنسو بھگو گئے تھے اسلام آباد سے اس کے گاؤں تک بارش نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا اور وہ اس سفر کو تنہا ہونے کی وجہ سے سکون سے طے کر آیا تھا اپنے انتظار میں محو میراں بی بی اور بی بی جان کی بے چینی کا بری طرح احساس تھا۔

. “اس لئے اتنے پر خطر راستوں کے باوجود گاڑی تیزی سے ڈرائیو کررہا تھا اور سچ مچ اتنی شدید سردی کے باوجود اندرونی مین گیٹ کے پاس متفكر کھڑی نظر آئیں تھیں۔

“وہ گیراج میں گاڑی پارک کر کے بارش کی بوچھاڑ سے بچتا ان تک آیا تھا۔

“بسم اللّه”۔ انہوں نے اسے دیکھتے ہی خالصتاً ماؤں والا جملہ بے ساختہ کہا تھا اور وہ ان کے سامنے جھک گیا تھا کیوں کہ وہ اس کے كندهوں پر ہاتھ پھیرنے کے بعد ماتھے پر پیار بھی کرتی تھیں۔

. “اس لئے کہتی ہوں جس روز حویلی آتے ہو شهر سے جلدی نکلا کرو اتنا سفر ہوتا ہے دیر ہوجاتی ہے ۔”

آپ کیسی ہیں؟ پیر سائں اور بی بی جان کہاں ہیں؟ وہ ان کے ہمراہی میں اندر آتے ہوۓ پوچھ رہا تھا ہال کمرے سے ڈھولک کی آواز اور لڑکیوں کے ” ماہیے”اور” ٹپے” باہر تک سنائی دے رہے تھے میراں بی بی کے قدم ہال کمرے کے باہر تھم گئے تھے۔”اندر جاؤ” انہوں نے اسے اشارہ کیا تھا۔

میں؟

“ہاں تم “

لیکن تائی ماں۔۔۔۔

“ارے پگلے اپنی ہی لڑکیاں ہیں کونسی غیروں کی ہیں۔ وہ ان کے اصرار پر اکاجہ گیا الجھ گیا تھا وہ اسے لڑکیوں کے اس جنگل میں بھیج رہی تھیں جس کی قیامت خیزییاں باہر تک سنائی دےرہی تھیں۔

“اب کب تک کھڑے رہو گے اتنی سردی ہے باہر”

انہوں نے اسے اندر دھکیل ہی دیا تھا اور اندر سے شگوفے اور شرارے يكدم تھم سے گئے تھے. ڈھولک پر تھاپ لگانے والی شہر زاد کی ماموں زاد اور کامران کی بہن کا ہاتھ فضا میں ہی رہ گیا تھا وہ سب پر ایک سر سری سی نظر ڈال کر پلٹنے والا تھا جب نظریں پلٹنے سے انکاری ہوگئیں تھیں دوسری طرف بھی یہی حال تھا۔

پھپو! اس کے لہجے میں خوش كهنكی تھی۔

“مكتوم میری جان”۔ وہ والهانہ آگے بڑھیں اور اس کے چوڑے وجود کو اپنی ممتا بھری اغوش میں سمانے کی کوشش کی تھی اور اسے گلے لگا کر اس کے بالوں پر ماتھے پر پیار کرتے ہوۓ رو پڑی تھیں وہ اسے جب بھی دیکھتی تھیں خیام شاہ کا سراپا يكدم آنکھوں میں بس جاتا تھا وہ ان کی منہ بولتی تصویر تھا وہی قد کاٹ وہی رنگ و روپ وہی نین نقوش وہی لب و لہجہ بس فرق تھا تو اتنا کہ خیام شاہ کے ہر انداز میں ہر بات میں استحقاق ہوتا تھا لیکن مكتوم ہر استحقاق سے خالی دستبردار نظر آتا تھا دل کے ہاتوں بے اختیار جذبات اور دلی خواھشات کے ہاتھوں مجبور ہوکر اگر وہ ذرا بہل جاتا تھا خوش ہوجاتا تھا تو تھوڑی دیر کوئی زہر احساس کے سمندر میں اتر کر پورے سمندر کو زہر زہر کر دیتا تھا۔ابھی بھی وہ بہت خوش تھا۔

“لا لا سائں ہم بھی پڑیں ہیں راہوں میں۔” زرش اور سحرش دونوں بیک وقت خفگی سےبولی تھیں کیوں کہ وہ مومنہ پھپو سے نظر اور دھیان ہٹا نہیں رہا تھا۔

پھپو ان پاگلوں کو بھی لے آئیں؟ ” وہ ذرا خوش گوار موڈ میں انہیں تنگ کرنے کے لے بولا تھا اور وہ منہ پھلا گھورنے لگی تھیں پھر يكدم ہنستی ہوئی دونوں آکر اس کے کندھے سے لگ گئیں تھیں۔اور شہر زاد کی تمسخرانہ نگاہیں اس کی خوشی کو پھر سے نگل گئیں تھیں ڈھولک پر تھاپ پڑنا شروع ہوگئی تھی۔

میریا جی ماہیا جانی

وے کیارے فصلاں دے

لاکے ہٹ جانا جانی

اے کوئی کم نئی اصلاں دے

میریاں جی ماہیا جانی

وے کیارے تھوماں دے

لاکے ٹر جانا جانی

اے کوئی کم نئی قوما دے

“مكتوم ان چیزوں سے انجان اور بے خبر ہونے کے باوجود اصلاں ( اصل ، نسل ) اور قوماں ( ذات پات ) کے طعنے کو اچھی طرح سمجھ گیا تھا اس نے لڑکیوں کے ساتھ مل کر جان بوجھ کر اس کی موجودگی میں یہ ٹپے گاے تھے لیکن پھر بھی شہر زاد اپنا کام نکال چکی تھی وہ اس کی طنزیہ اور تمسخرانہ نظریں دیکھ چکا تھا۔

ابھی وہ کوئی اور تیر چھوڑنے والی تھی مكتوم پلٹ کر باہر نکل گیا وہ اپنی فتح مندی پر اکیلی ہی کھلکھلا کر ہنسی تھی اس نے مكتوم شاہ کی خوشی کو آگ میں جھونک دیا تھا وہ باقی کا وقت بھی مومنہ پھپو کے پاس کمرے میں بیٹھا رہا مگر وہ پہلی سی خوشی واپس نہیں آئ تھی سینے میں جلن کا احساس ہورہا تھا اور جلن ایسی تھی جس کا مرهم نہیں مل رہا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھول کہاں ہیں ؟ اس نے ہال کمرے میں رکھی مہندی کی پلیٹوں کو دیکھ کر کہا تھا کیوں کہ ابھی تک سارے فنکشن کی تیاری میں صرف پھول نظر نہیں آے تھے باقی سب کچھ موجود تھا سب لڑکیاں اپنے اپنے کمروں میں تیار ہورہی تھیں۔

“مكتوم لا لا کہہ رہے تھے دس پندره منٹ تک پھول پہنچ جایں گے تم یوں کرو ایک بار پھر انہیں یاد دہانی کروادو ۔” حمرا نے پاس سے گزرتے ہوۓ اطلاع فراہم کی تھی۔

” یہ آپ کے مكتوم لا ۔۔۔۔۔۔۔لا ملیں گے کہاں؟ اس نے صاف طنز کیا

“اپنے بیڈ روم میں۔ ” حمرا بولی”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *