Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 11)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 11)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
“میں کروں گا اس سے شادی۔ “مکتوم شاہ کی آواز اتنی بہت سی آوازوں کو يكدم ساکت کر گئی تھی سب نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تھا لیکن وہ اسے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی۔
اسے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا کے اتنے چاہنے والوں میں سے کوئی بھی آگے نہیں بڑھا سواۓ مكتوم شاہ کے ۔۔۔۔اور اس مكتوم شاہ کے جس کا بقول شہرزاد کے اپنا کوئی نام و نشان اپنی کوئی پہچان بھی نہ تھی جس کا کوئی حسب نسب نہیں تھا آج وہی مكتوم شاہ اس کی چادر سے اپنی عزت اور غیرت کا پلو باندهنے کو تیار کھڑا تھا۔
یہ تم کیا کہہ رہے ہو۔؟تم بھی تو شاہوں میں سے ہو تم بھی تو اسی خون اسی نسل کا حصّہ ہو تمہاری شادی اس سے کیسے ہو سکتی ہے۔؟مكتوم شاہ کے فیصلے پر سب سے پہلے چچا فیروز کو اختلاف ہوا تھا۔
“میں شاہوں میں سے ہوں یا نہیں میں نہیں جانتا البتہ انسانوں میں سے ضرور ہوں اور اس بات کا پکا یقین ہے اس لئے انسانیت کے خلاف کوئی کام نہیں ہونے دوں ۔۔۔۔۔۔۔پیر سائیں اجازت دیجیے قاضی صاحب نکاح شروع کریں۔
وہ آگے بڑھ کر صوفے پر بیٹھ گیا تھا اور بڑی سی چادر میں لپٹی وہ دھواں دھواں ہوگئی تھی۔ اس کا وجود پہلے ہی خاک کا ڈھیر بنا ہوا تھا اس کی ذات بھی دھجیوں میں بکھر گئی تھی اس کے غرور کے پرخچے اڑ گئے تھے اسے اندازہ نہیں تھا وہ شخص اس پر کرم کرے گا جس پر ہمیشہ وہ ستم کرتی آئ تھی۔اس کے باوجود مكتوم شاہ اس بھری محفل میں اس کے سامنے دیوار کی مانند ڈٹ گیا تھا۔
اس کا نکاح قرآن سے ہوگا تم مداخلت مت کرو۔”اب کے بار بڑے چچا نے لب کشائی کی تھی۔”
اس کا نکاح مجھ سے ھوگا یہ میرا آخری فیصلہ ہے اور اس فیصلے سے آپ لوگوں میں کوئی مجہے پیچھے نہیں ہٹا سکتا۔”مكتوم کا لہجہ بے لچک تھا اور وہ اپنے مقام پہ اپنے فیصلے پر ڈٹ چکا تھا۔”
پیر سائیں بے جان سے بیٹھے اپنی رسوا عزت اور اپنی بیٹی کی زندہ لاش پر کھڑے ہوکر رشتےداروں کو دیکھ رہے تھے جن کا کسی کو احساس نہیں تھا بس وہ تو مٹھیاں بھر بھر مٹی ڈالنے کو تیار تھے۔اب اس مٹی تلے ان کی عزت دب جاتی یا بیٹی ان لوگوں کو بھلا کیا فرق پڑتا تھا اور لوگوں کی اسی بے حسی اور اپنی اسی بے بسی پر چپ بیٹھے تھے بکل چپ ۔۔۔۔یوں جیسے یہاں ان کی بیٹی کا نہیں کسی اور کی بیٹی کا فیصلہ ہورہا ہو۔
“تم جانتے ہو یہ فیصلہ پنچائت نے کیا ہے۔یا اس لڑکی کو کاری کردیا جاۓ یا اس کا قرآن سے نکاح کردی جاۓ گا اور نکاح کے بعد یہ صرف ایک کمرے میں رہے گی۔جہاں سے نکلنا بھی اس کے لئے حرام ہوگا۔ “چچا فیروز شاہ نے مكتوم کو پنچائت کے فیصلہ سے آگاہ کرنا چاہا جس سے وہ پہلے ہی باخبر تھا۔”تو پھر آپ اسے کاری کردیں۔”مكتوم انتہائی سکون سے بولا۔ “سب نے چونک کر دیکھا۔
میں ٹھیک کہہ رہا ہوں کیونکہ آپ کے خیال میں آپ اسے کاری نہ کرتے ہوۓ رعایت کررہے ہیں۔اس کا نکاح قرآن سے کر کے اسے زندگی بخش رہے ہیں۔لیکن دونوں صورتوں میں آپ اپنے ہاتھوں سے اس کی زندگی ختم کررہے ہیں۔قرآن سے نکاح کرنے اور ایک کمرے میں قید کرنے کے بعد بھی آپ سمجھتے ہیں آپ کا فیصلہ درست ہے آپ اس کے ساتھ نرمی برت رہے ہے۔ ؟
چچا سائیں اس کمرے کی قید سے بہتر قبر اور نکاح سے بہتر موت ہوگی۔اس کے لیے جو آپ زندگی بخش رہے ہیں وہ زںدگی نہیں عذاب ہے۔ آپ ایک لاش کمرے میں بند کرنا چاہتے ہیں لیکن میں چاہتا ہوں اس لاش کو قبر میں دفن کردیں۔”مكتوم يكدم غصے سے بپهر گیا تھا۔وہ بچپن سے اس خاندان اور اس قبیلے کی عجیب عجیب اور سنگدلانہ اصول دیکھتا آرہا تھا لیکن آج تک بس نا چل سکا تھا کہ ان لوگوں کو بے رحم رسم و رواج سے روک لیتا۔آج جب موقع مل ہی گیا تھا تو مكتوم چپ نا رہ سکا تھا اور نا ہی پیچھے ہٹنے کا ارادہ رکھتا تھا۔
یہ باتیں ہم بھی جانتے ہیں یہ ہماری بیٹی ہے دشمن نہیں مگر بات اصولوں کی ہے فیصلہ پنچائت نے کیا ہے ا کا نکاح قرآن سے ہوگا۔
“اور اگر میں آپ کی پنچائت کے فیصلے کو نا مانوں تو ؟” مكتوم شاہ سب سے ٹکر لینے پر تلا ہوا تھا۔”
تو تمہیں یہ گاؤں یہ گھر یہ قبیلہ ہمیشہ کے لئے چھوڑنا ہوگا۔ہمارے فیصلوں سے یا اصولوں سے بغاوت کرکے تم یہاں نہیں رہ سکتے اور نا ہی اس لڑکی سے شادی کے بعد تمہیں یہاں رہنے دیا جاۓ گا۔یہ ہمارا ہی نہیں پنچائت کا بھی فیصلہ ہوگا۔ “
میرے خلاف آپ کا اور پنچائت کا جو بھی فیصلہ ہوگا مجہے منظور ہوگا۔”مكتوم بے حد سرد آواز میں بولا۔” وہاں موجود تمام افراد کو سانپ سونگھ گیا انہیں مكتوم شاہ سے اس انتہائی اقدام کی امید نا تھی۔وہ تو سمجھ رہے تھے اتنے سنگین فیصلے کو سننے کے بعد وہ اپنے ارادے سے بعض آجاۓ گا لیکن اس کے برعکس وہ اپنے ارادے پر قائم تھا۔
اگر آپ نے اس نکاح میں رضا مندی نہ بھی دی تب بھی میں یہ نکاح ضرور کروں گا آپ کے اصولوں کو میں کسی کی زںدگی سے کھیلنے نہیں دوں گا۔”مكتوم کے انداز میں رتی برابر بھی فرق نہ آیا تھا۔”
سوچ لو مكتوم شاہ سب رشتوں سے کٹ جاؤ گے۔
بڑے چچا نے اسے سمجھانا چاہا۔
چچا سائیں یہ تو رشتوں سے کٹ جاۓ گی۔آپ کو میرا خیال ہے اس کا کیوں نہیں؟ کیا میں مرد ہوں اس لئے؟ نہیں چچا سائیں یہ سب میرے ہوتے ہوۓ نہیں ہوگا۔
پیر سائیں آپ کیوں چپ ہیں۔؟اگر یہ آپ سب کی نظروں میں قصور وار ہے تو اسے قتل کر دیجیے کاری کر ڈالیے لیکن یوں قرآن سے نکاح لکھنا کس حدیث میں لکھا ہے۔؟یہ لیں قرآن اگر اس میں کسی عورت کا نکاح قرآن سے طے پانا لکھا ہوا ہو تو میں آپ کو نہیں روکوں گا آپ کر دیجیے نکاح ۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس سے پہلے مجہے اس فرسودہ اور ظالمانہ فیصلے کا کوئی ٹھوس وجود اور ثبوت دیجیے یہ قاضی صاحب بیٹھے ہیں یہ مجہے اس بات پر قائل کرلیں تو میں پیچھے ہٹ جاؤں گا بتائے قاضی صاحب اسلام میں یہ سب جائز ہے اگر ہے تو کونسی حدیث میں لکھا ہوا ہے۔بتائیے ۔۔۔وہ بولنے پر آیا تو ایک ہی وقت میں سوالات کی بوچھاڑ کرتا چلا گیا۔
معملہ خاصا گرم ہوگیا تھا مكتوم شاہ ان سب کے لئے پریشانی بن گیا تھا وہ کسی بھی فیصلے کسی بھی بات کسی بھی حکم کو ماننے کے لئے تیار نا تھا یوں بات خاصی پھیل گئی تھی حویلی کے زنان خانے میں بیٹھی عورتوں کو پتہ چلا تو حیران رہ گئی تھیں زندگی میں پہلی بار تو کوئی قبیلے سے بغاوت کررہا تھا اور بی بی جان کے ساتھ میراں بی بی بھی دھک رہ گئی تھیں کیوں کہ یہ سب سے قطع تعلق کرنے کا فیصلہ تھا اور دوسری طرف زرینہ تھی جسے یہ خبر سنتے ہی آگ لگ گئی تھی وہ پہلے ہی شہر زاد سے نفرت کرتی تھی اب مكتوم شاہ کو اس کے حق میں دیکھ کر کیسے برداشت کر لیتی اور ویسے بھی اب مكتوم اور اس کا حق تھا۔ اور اسی حق کی خاطر بھروز شاہ اور ارمغان شاہ بول پڑے تھے انہوں نے قاضی صاحب کو روک دیا تھا۔
تم زرینہ سے منسوب ہو اس لئے تم اسے نہیں چھوڑ سکتے۔ ان کی بات پر مكتوم نے پلٹ کر انہیں کاٹ دار نگاہوں سے دیکھا۔
” جس حد تک میں زرینہ سے منسوب تھا اس حد تک تم بھی تو شہرزاد سے منسوب ہو چکے تھے اور جب تم اپنی منگ چھوڑ سکتے ہو تو میں کیوں نہیں؟ اس کے تمام دلائل ٹھوس تھے دوسری بات کہنے کا کسی میں حوصلہ نہوں تھا آج وہ پہلے والے مكتوم شاہ سے يكسر مختلف مكتوم شاہ نظر آیا تھا اس نے آج تک حویلی کے کسی بھی معملے میں مداخلت نے کی تھی لیکن آج جب یہ کے بیٹھا تھا تو ہارنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ندرت چچی اور زرینہ نے کافی واویلا کیا تھا لیکن جو ہونا تھا اسے کون ٹال سکتا تھا اس نے سب کے سامنے بے خوفی سے ثابت قدمی دکھائی اور شہرزاد کو اپنی عزت بنا لیا اور پھر 5 منٹ بعد اس کا ہاتھ تھام کر نکل گیا تھا شہزاد کسی روبوٹ کی طرح اس کے ساتھ کھینچی چلی گئی تھی۔
” تائی ماں میرے لئے دعا کیجئے گا” وہ شہرزاد کے ساتھ ان کے سامنے آ کھڑا ہوا تھا میراں بی بی نے محبت سے اس کا ماتھا چوم لیا تھا جہاں بیٹی کی زندگی بچ جانے کی خوشی تھی وہاں مكتوم شاہ کا ہمیشہ کے لئے بچھڑ جانے جا دکھ تھا۔
” بی بی جان کو کبھی بیٹے پر (خیام شاہ پہ ) فخر ہوتا تھا آج اس مردانہ فیصلہ پر پوتے پر فخر ہوا تھا اس نے ثابت کردیا تھا کہ وہ خیام شاہ کی بہادر اور نڈر اولاد ہے جو کسی کی طوفان سے ٹکر لینے کی ہمت اور طاقت رکھتا ہے۔
” ہمیں اجازت دیجئے بہت دور جانا ہے” وہ ان کے سامنے جھکا تھا میراں بی بی اور بی جان سے دعا لی تھی پھر وہ شہرزاد کی طرف متوجہ ہوئی تھی اور جو امانتیں مكتوم کی ماں دیکر گئی تھیں وہ مكتوم اور شہرزاد کے حوالے کردیں اور اپنی کلائی کے کنگن اتار کر شہرزاد کو پہنا دئے تھے وہ بہت خوش تھیں مكتوم نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ سب ٹھیک ہوجاۓ گا شہرزاد کو کچھ بھی نہیں ھوگا سو اس نے وعدہ پورا کر دکھایا تھا۔ عبیر شاہ توقیر شاہ سب سے چھپ کر ان کو گاڑی تک چھوڑنے آے تھے نکاح نامہ پر سائن کرنے کے پندرہ منٹ بعد وہ اسے اپنے ساتھ لیکر حویلی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکل آیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” شب بھر بارش برسی تھی، شب بھر تکیہ بھیگا تھا اور وہ شب بھر سکون سے سویا تھا اسے پتہ نہیں تھا کمرے کے باہر کمرے کے اندر کیسے کیسے برسے ہیں اسے تو بس یہ خبر تھی وہ تھکا ہوا تھا اور یقیناً شہرزاد بھی اس تھکن کی لپیٹ میں سوئی رہی تھی اس لئے وہ اس کا دھیان کئے بغیر اٹھا اور باتھ روم شاور لیکر نکلا اور تیار ہوکر باہر چلا گیا تھا۔
” تم اپنی بیوی بچے کو لانا چاھتے تھے نا؟” اس نے ناشتے کے دوران ملازم سے کہا تھا۔
. ” جی صاحب”
” آج ہی لے آؤ پہلے ضرورت نہیں تھی میں گھر سے باہر ہوتا تھا مگر اب گھر کا کام زیادہ ہوا کرے گا اسی لئے کسی عورت کی ضرورت ہوا کرے گی”۔
” ضرور صاحب جی”۔۔۔۔۔وہ خوش ہوگیا تھا ہک تو بیوی بچے ساتھ رہتے دوسرا تنخواہ ڈبل ہوجاتی اسے بھلا کیا چاہیے تھا، ناشتہ کرنے کے بعد وہ آفس کے لئے نکل گیا البتہ جاتے جاتے ملازم کو ھدایت کر گیا تھا کہ بی بی جی سورہی ہیں اٹھیں گی تو ناشتہ بنا لیں گی تم بیوی بچوں کو لینے کے لیے جاسکتے ہو اور وہ بخوشی چلا گیا تھا۔ آفس آکر بھی وہ اپنا دھیان کام م نہیں لگا سکا تھا اس کی سوچ اس کے خیال پلٹ پلٹ کر حویلی والوں کی طرف جارہے تھے جو یقیناً اپنوں کے بھی اپنے نہیں تھے۔ وہ ایک ایک فرد کا رویہ سوچ رہا تھا کل اس نے شب چہروں سے نقاب اترتے دیکھے تھے وہ تو آج تک یہی سمجھتا آرہا تھا کہ صرف میرے ساتھ ہی ایسا ہوتا ہے مگر وہ تو اپنا ہی گوشت کھانے والوں اور خونپینے والوں میں سے تھے جن کو اپنے جسم کے بھی کوئی حصّے کٹ جانے کی تکلیف نہیں ہوتی تھی شاید اصول پرستی کے چکّر میں بی حس ہوگئے تھے اور اپنے آپ کو مضبوط ظاہر کرنے کی کوشش میں اندر سے کھوکلے ہوگئے تھے لیکن ابھی تک اس کھوکلے پن کو چھپانے کی سعی کررہے تھے۔
وہ جان چکا تھا حویلی کے در و دیوار بہت اونچے تھے مگر اس میں رہنے والے لوگ ایک دوسرے کے احساس اور محبت سے عاری ہوکر چوٹھے پڑ گئے تھے۔
” کس گہری سوچ میں ہو کیا ہوا خیریت تو ہے؟” وحید کاظمی جانتے تھے کہ قبیلے والے لوگوں کو کوئی نہ کوئی مصیبت پڑی رہتی تھی اس لئے پوچھ لیا تھا اور وہ خاموش ہوگیا تھا انہیں کیا بتاتا کیا کر کے آیا تھا۔
” یار تم مجہے بھی پریشان کررہے ہو بولو کیا مسلہ ہے؟”
” وحید کاظمی اس سے بہت بے تكلف تھے وہ بھی ان کی فرینڈلی اور زندہ دل طبیعت سے کافی خوش ہوتا تھا ایک سال ہونے کو آیا تھا ان کے ساتھ کام کرتے ہوۓ اب تو وہ ان کی فمیلی سے بھی کافی گھل مل گیا تھا ان کے اصرار پر اس نے سب کچھ بتا دیا تھا اب چھپانے کا بھلا کیا فائدہ تھا۔ ۔۔۔۔۔
” ارے۔۔۔۔۔۔۔یہ تو بہت اچھا اور بہادرانہ فیصلہ ہے شاباش دل خوش کردیا ہے ہم بھی بہو کی کمی محسوس کررہے تھے….”انہوں نے اسے گلے لگایا تھا انہوں نے اس کے فیصلے کو سراہا تھا۔
“ارے میرے بچے اداس کیوں ہوتے ہو میں ہوں نہ تمہارا انکل تمہارا دوست جب م تمھارے باپ کے لئے اپنا فلیٹ سجا سکتا ہوں تو تمھارے لئے تمہارا ہی گھر سجانا کون سا مشکل ہے تمھارے باپ کا نکاح کروایا تھا اب تمہارا۔ ۔۔۔۔۔۔۔ولیمہ کروا دیتا ہوں یہی سمجھو گا کہ اتنے ارسے بعد ولیمہ کی فرصت ملی ہے آنے دو امینہ اور رومینہ کو”۔ انہوں نے اپنی بیٹیوں کا ذکر کیا جو اپنی ماں کے علاج کے سلسلے میں دو ہفتے پہلے امریکا گئیں تھیں۔
“نہیں انکل”
تم اپنی “نہیں” اپنے پاس رکھو تمہارا خرچہ هرگز نہیں کروایں گے” وہ ڈانٹ چکے تھے اور وہ رخ پھیر گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‘ شام ڈھالے وہ گھر میں داخل ہوا تھا اس کا ملازم زلفی اپنے بیوی بچے کو لیکر آیا تھا وہ سیڑھیاں چڑھتے اپر آیا تھا اور دروازے پر دستک دے کر اندر داخل ہوا تھا ورنہ اپنے ہی بیڈ روم میں دستک دے کر آنا عجیب بھی لگ رہا تھا۔ مگر پہلی نظر بیڈ پر پڑتے ہی ٹھٹک گیا وہ جس حال حلیے میں اسے صبح چھوڑ کر گیا تھا وہ اسی پوزیشن میں تھی۔بریف کیس ٹیبل پر رکھ کر وہ تیزی سے قریب آیا تھا۔
“شہرزاد” اس نے قریب جھک کر اسے پکارا تھا لیکن اس پر اثر نہیں ہوا تھا۔ ۔۔۔۔۔اس نے جیسے ہی اس کی کلائی پکڑی جسم کو آگ چھو گئی تھی وہ بری طرح بخار میں جهلس رہی تھی۔…
