Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Aesa Ahle Dil Ho (Episode 03)

Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz

“میں تمہیں پہلے بھی کہہ چکی ہوں میری موجودگی میں یہ گھسا پٹا اور خوش فہم گانا مت لگایا کرو کسی روز سارا ساؤنڈ سسٹم توڑ کر رکھ دوں گی۔ہونہہ۔اس سے تو بہتر ہے ایف ایم لگا دو۔۔۔۔۔۔وہ نخوت سے کہہ رہی تھی اسے اس گانے سے اس لئے چڑ تھی کہ وہ مكتوم شاہ کو پسند تھا اور وہ گاڑی میں کئی بار سنتا تھا۔

اس نے نہایت شرافت سے سی ڈی پلیئر آف کیا اور ایف ایم سرچ کرنے لگا۔

میں جانتا ہوں کہ تو غیر ہے مگر یونہی

کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے

کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہو میرے لئے

“پبلک ڈیمانڈ شو آن ایئر تھا اور وہاں بھی وہی گانا شہر زاد کا پارہ ہائی کررہا تھا وہ لب بھینچ کر باہر دیکھنے لگی مكتوم نے ایف ایم کو بھی خیر باد کہا اور گاڑی ایک ریسٹورانٹ میں پارک کی تھی۔

“میں اندر نہیں آؤں گی”شہر زاد نے فوراً اطلاع دی مجبوراً مكتوم تھوڑی بعد کھانے سے بھری ٹرے اٹھاۓ اگیا تھا۔ اور پھر جتنی دیر وہ گاڑی میں بیٹھی خانے میں مصروف رہی وہ باہر کھڑا گاڑی سے ٹیک لگاۓ سگریٹ سے دل جلاتا رہا تھا پھر برتن واپس کر کے آیا تو اس کے ہاتھ میں مختلف کولڈ ڈرنک کے ٹن ،چپس ،چاکلیٹ اور بسکٹ کے پیکٹ تھے۔ جو آکر اس نے اسے تھما دیے گویا وہ اگلے سفر میں لگنے والی بھوک کا انتظام کر کے آیا تھا۔

“مجہے اس کی شکل سے بھی نفرت ہے اور آپ ہر بار اسے لینے کیلئے بھیج دیتے ہیں۔ اتنے لمبے سفر میں اسے برداشت کرنا میرے لئے مشکل ہوجاتا ہے”شہر زاد میراں بی بی کے سامنے جهنجلا رہی تھی اور میراں بی بی اس کی باتوں سے جهنجلائی ہوئی تھیں۔ “

“مجہے صرف اتنا بتادو مكتوم کے خلاف تمھارے دماغ میں یہ خناس کس نے بھرا ہے۔ “

یہ خناس نہیں حقیقت ہے اماں سائیں ہمارا اس سے کوئی رشتہ نہیں پتا نہیں کون ہے کون نہیں، آپ لوگوں نے اسے سر پر چڑہا رکھا ہے کیا ثبوت ہے سواۓ ایک عورت کے کہنے کے وہ خیام شاہ کا بیٹا ہے اور بقول آپ کے ان کا قتل تو کالج لائف میں ہوگیا تھا پھر یہ بیٹا کہاں سے اگیا۔؟اور فرض کریں کسی عورت کے ساتھ ان کے نا جائز تعلقات تھے بھی تو کیا ہم” ان تعلقات” کو گلے کا ہار بنا لیں؟ بی بی جان ان پر جان چھڑکتی ہیں تو یہ ان کی ممتا کی مجبوری ہے وہ اپنے بیٹے کی اولاد کو ٹھکرا تو سکتیں نہیں چاہے جائز ہو یا نا جائز لیکن ہم تو مجبور نہیں ہیں نہ ہمیں اسے ذرا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔”میراں بی بی کا ہاتھ اٹھا اور بیٹی کے چہرے پر نقش ہوگیا تھا اس کی باتیں ان کی برداشت سے باہر ہوگئیں تھیں۔

“مجہے امید تھی کہ میری بیٹی میری اولاد جو اتنے بھرے پرے خاندان میں بھی الگ نظر آتی تھی اس کے سوچ اور خیالات بھی الگ ہونگے لیکن اتنے الگ ہونگے مجہے سن کر کراہت آنے لگے گی میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی،تف ہے میری تربیت پہ آج تمہاری باتوں سے اندازہ ہورہا ہے انتہائی گھٹیا سوچ ہے تمھاری لیکن ایک بات یاد رکھو جس طرح تم سید زادی ہو اسی طرح وہ بھی ایک سید زادہ ہے اگر اس کے سید زادے ہونے پر تمہیں شک ہوسکتا ہے تو یہ شک وہ بھی تم پہ کر سکتا ہے تمھارے پاس کیا ثبوت ہے تم سید زادی ہو؟ تمھارا باپ کون ہے؟ تمھارا حسب نسب کیا ہے؟ تمہیں بھی تو ایک عورت نے ججسے کبھی کوئی بھی نہیں جان سکتا نم دیا اور یہ بتایا تھا کہ کلام شاہ تمھارے باپ ہیں اس کے علاوہ کیا ثبوت ہے؟ پھر بھی تم سید زادی کہلاتی ہو؟

شاید اس لئے کہ یہ بھی قدرت کا ایک نظام ہے ہر انسان کو اس کی ماں سے ہی پتہ چلتا ہے کہ وہ کس کی اولاد کس کا خون ہے ورنہ سگا باپ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا یہ میری اولاد ہے اللّه نے اس بھید پر پردہ اپنے اور ماں کے بیچ رکھا ہے جسے کبھی کوئی بھی نہیں جان سکتا اس لئے اس بارے میں بولنے سے پہلے زبان سمبھال کر بات کرنا کیونکہ مكتوم شاہ کے ماں باپ مر چکے ہیں اور مرے ہوۓ لوگوں پر تھمت لگانے کی اجازت میں تمہیں کبھی نہیں دے سکتی اور نا ہی یہ حرکت اللّه تعالیٰ کو پسند ہے۔

میراں بی بی اپنی بیٹی جی چودہ روشن طبق کر چکی تھیں وہ اپنے چہرے پر ہاتھ رکھے بے یقینی سے انھیں دیکھ رہی تھی جنہوں نے کسی اور کی اولاد کی خاطر اپنی چہیتی بیٹی پر ہاتھ اٹھایا تھا۔میراں بی بی کی منگوائی ہوئی چیزیں دینے کے لئے آتے ہوۓ مكتوم شاہ کے قدم کمرے سے باہر ہی تھمے رہ گئے وہ ماں بیٹی کی گفتگو سن کر واپس لوٹ آیا تھا دل کا ایک کونا میراں بی بی کی اتنی محبت پر مشکور ہورہا تھا اور دوسرا کونا شہر زاد کی باتوں سے ناسور بن گیا تھا اور یہ سب کچھ تو تب سے ہورہا تھا جب سے اسنے ہوش سمبهالا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“سردار صابر شاہ اپنے علاقے اور اپنے قبیلے کے کرتا دھرتا مانے جاتے تھے ان کے حکم سے سرتابی آج تک نا ان کی اولاد کر سکی تھی اور نا ہی قبیلے کا کوئی فرد کر سکا تھا۔ان کے چار بیٹے کلام شاہ، خیام شاہ، بھروز شاہ اور فیروز شاہ تھے اور صرف ایک بیٹی تھی مومنہ شاہ۔

“کلام شاہ کی دلچسپی اپنے علاقے اپنے لوگوں سے تھی ان کے اپنے قبیلے کے رسم و رواج اور سب اصول بہت اچھے لگتے تھے کیوں کہ ان کے خیال میں ان کے سب اصول امیر غریب سب کے لئے يكساں تھے کوئی نا انصافی نہیں ہوتی تھی اور یوں کوئی بھی روایات کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا تھا سب ایک زنجیر کے ساتھ بندھے ہوۓ تھے کوئی کسی کے ساتھ زيادتی نہیں کر سکتا تھا لیکن اس کے بر عکس خیام شاہ کو ان کاموں میں بلکل دلچسپی نہیں تھی ان کا رجہان اپنی تعلیم کی طرف تھا باپ سے ضد کر کے کالج میں ایڈمشن لیا اور رہنے کے لئے شهر والے بنگلے میں آگئے۔ ۔۔۔۔انہی دنوں سردار صابر شاہ کے فیصلے پر کسی کو اختلاف ہوگیا بات بڑھتی گئی اور معملہ جانی دشمنی تک جا پہنچا اس بات کا خیام شاہ کو بھی علم ہو چکا تھا اس نے باپ اور بڑے بھائی کو بات در گزر کرنے کا مشورہ دیا لیکن ان میں سے کوئی بھی ماننے کو تیار نہیں ہوا تھا۔

“تو تم کیا چاھتے ہو بزدل اور بے غیرتوں کی طرح چپ کر کے بیٹھ جایں یہ فیصلہ سردار صابر شاہ نے کیا تھا کسی ایرے غیرے نے نہیں، کلام شاہ بھڑک اٹھے تھے” ۔

دیکھیے لا لا سائیں ! آخر بیٹی کا معملہ ہے اپنی بیٹی اپنے ہاتھوں سے دشمنوں کو سونپ دینا اتنا آسان نہیں ہے خون بہا میں دینے کے لئے کسی اور چیز کا بھی تو فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ۔۔۔۔وہ اپنے بڑے بھائی کو تحمل سے سممجها رہے تھے حلانکہ خود بھی پریشان تھے لیکن اپنی پریشانی دبا گئے تھے۔۔

خیام شاہ ۔۔ہمیں امید نہیں تھی تم اتنے بزدل ہوگئے ہو کیا تمہاری تعلیم نے تمہیں یہی سکھایا ہے۔ دشمن للكارے جواب بھی نا دو اور بزدل بن جاؤ۔کلام شاہ کو اپنے سے چھوٹے بھائی پر تاؤ آرہا تھا اور خیام شاہ کے چہرے کی رنگت پر ایک سایہ سا لہر گیا تھا پھر بھی اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹے تھے۔

لالا سائیں یہ بزدلی نہیں کسی کے ساتھ بھلائی ہے نیکی ہے آپ خود سوچیں اس باپ پر کیا گزر رہی ھوگی جس نے اپنی بیٹی کو لاڈ پیار اور ناز و نخروں سے پالا ہوگا اور اس کی شادی کے ہزاروں سپنے سجا رکھے ہونگے اور اب اس بیٹی کو غیروں کے دشمنوں کے حوالے کرنا”

بس بس خیام شاہ اپنی کتابی باتیں اپنے پاس رکھو ہمیں درس مت دو شمشاد خان کو سزا بھگتنی ھوگی تمہیں ہمارا ساتھ دینا ہے تو گھر پر رہو اور اگر ہماری پشت خالی کرنی ہے تو شهر چلے جاؤ ہم مر جایں گے تو جنازے میں آجانا ہمارا تم پر کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ “وہ کہہ کے چلے گئے تھے اور خیام شاہ ماؤف ہوتے دماغ کے ساتھ خالی خالی نظروں سے دیکھتے رہ گئے تھے۔ “

شاہ پتر کیا ہوا پریشان کیوں ہے ؟ بی بی جان کلام شاہ کو پیر شاہ اور خیام شاہ کو شاہ پتر کہتی تھیں۔ بھروز اور فیروز کے لئے صرف پتر کا لفظ استعمال ہوتا تھا۔

“بی بی جان لالا سائیں کیوں نہیں سمجھتے کہ اولاد کتنی پیاری ہوتی ہے بی بی جان وہ صاحب اولاد بھی ہیں پھر بھی اولاد کے احساس کو ختم کر کے بیٹھے ہیں۔ “

“ارے نہیں میرے شاہ پتر ! بس اس مسلہ کو انا ا مسلہ بنا بٹہے ہیں دونوں باپ بیٹا۔ “خیر دعا کرو اللّه بہتر حل نکالے۔”بی بی جان کے نرم ہاتھوں کا لمس ان کے بالوں میں گردش کررہا تھا وہ ان کے زانوں پر سر رکھے ہوئے تھے بی بی جان کو خیام شاہ سے بہت پیار تھا ان کا کہنا تھا کہ ان کے پانچ بچوں میں سے سب سے زیادہ صابر بچہ خیام شاہ کے سوا کوئی نہیں۔ انہوں نے کبھی عام بچوں کی طرح بات بات پر تنگ نہیں کیا تھا نہ ہی کبھی بے جا ضدیں منوایں تھیں صرف تعلیم کے معملے میں ضد کی تھی جو ایک مثبت نتایج رکھنے والی ضد تھی جس پر کسی کوئی پریشانی بھی نہیں ہوئی تھی۔

“آپ د عا کریں کہ میرا مسلہ بھی حل ہوجاۓ پتہ نہیں کیوں آج میرا دل بہت پریشان ہے۔”خیام شاہ کا دل نجانے کیوں اندر ہی اندر ڈوبا جارہا تھا انہیں یہ اپنی شکستہ سی کیفیت سمجھ نہیں آرہی تھی۔

“لا لا جی آپ خب آے؟مومنہ شاہ اندر داخل ہوئی تو خیام شاہ کو دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔

تمھارے آنے سے چند سال پہلے۔”مومنہ کے ماتھے پر پیار کرنے کے بعد ہاتھ پکڑ کر اسے بھی قریب بٹھا لیا بی بی جان اور مومنہ ہنس پڑی تھیں۔

“پڑھائی کیسی جارہی ہے۔؟خیام شاہ کو شروع سے معلوم تھا مومنہ کو پڑ ھنے کا شوق ہے اسی لئے جب اس کا کالج پیریڈ ختم ہوا تو اس کی وكالت کر کے اس کی یونیورسٹی جانے کا کیس جیت لیا تھا کلام شاہ کو اس پہ بھی اعتراض ہوا تھا لیکن خیام شاہ نے اس شرط پر اجازت دلوادی مومنہ روزانہ گھر سے یونیورسٹی جایا کرے گی اور باقاعدہ پردہ بھی کرے گی اور مومنہ کے لئے یہ بھی بہت تھا کہ پہلی بار کوئی سید زادی یونیورسٹی جارہی تھی۔

“اگر کوئی اونچ نیچ ہوئی تو ذمہ دار تم ہوگے۔” اس وقت بھی کلام شاہ نے مومنہ کی ذمہ داری خیام شاہ کے کندھوں پر ڈال دی تھی۔

“مجہے اپنی بہن پر اعتماد ہے۔” اسی لیے مجہے اس کی ہر ذمہ داری قبول ہے۔ انہوں نے اطمینان سے جواب دیا تھا اور آج مومنہ کو یونیورسٹی میں پڑھتے ہوۓ تقریبا ڈیڑھ سال ہوگیا تھا لیکن اس کی طرف سے کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی تھی اور خیام شاہ کو بہن پر فخر ہوتا تھا اس کا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت شاندار تھا اور ویسے بھی دونوں بہن بھائی کو ایک دوسرے سے کافی محبت تھی شاید دونوں کے خیالات ملتے جلتے تھے اس لئے یا پھر دونوں اپر نیچے پیدا ہونے والے بچے تھے اس لئے۔۔۔

“آپ کچھ پریشان لگتے ہیں کیا بات ہے۔؟ “بی بی جان اٹھ کر چلی گئیں تو مومنہ نے اپنائیت اور فکر مندی سے پوچھا تھا۔

“بس تم میرے لئے دعا کرو کہ جس کام کا ذمہ اٹھایا ہے اسے نبها سکوں اور میرا دل مطمین رہے۔ “خیام شاہ آج کل بیٹھے بیٹھے سوچوں میں گم ہوجاتے تھے۔

“آخر ایسی کیا بات ہے جس نے آپ کو پریشان کر رکھا ہے۔؟

“ارے پگلی تم کیوں ہلکان ہورہی ہو ایسی کوئی بات نہیں ہے ویسے ایک بات بتاؤ تمہاری برات نہ بلوا لیں تھوڑی رونق لگ جاۓ گی اور ویسے بھی احمد شاہ نے فون کر کر کے میرا دماغ خالی کر رکھا ہے۔ “اچانک موڈ میں شرارت بھرتے ہوۓ مومنہ کو چھیڑنے لگے احمد شاہ مومنہ کے مانگیتر اور خالا زاد کزن تھے خیام شاہ سے کافی انڈراسٹینڈنگ اور دوستی بھی تھی مومنہ اپنے بھائی کے منہ سے ایسی باتیں سن کر شرم سے سر جھکا گئی تھی۔

“شادی کے لئے دل اپنا چاہ رہا ہے تو بات کی واضح کرنی چاہیے یوں گھما پھرا کر دوسروں کی شادیوں کا قصہ چھیڑ کر کیا فائدہ۔؟

میراں بی بی کلام شاہ کی زوجہ تھیں لیکن اپنے مزاج کی وجہ سے بہن سے بڑھ کر نظر آتی تھیں۔

“ارے میراں بھر جائی دل کی بات پکڑ لی کب سے لوگوں کو سمجھانے کے چکّر میں ہوں کوئی اشارے نہیں سمجھتا۔خیام شاہ نے شگفتگی کا مظاہرہ کیا اور احتراما اٹھ کر اپنی جگہ میراں بھر جائی کو پیش کی تھی مومنہ فلور کشن پر بیٹھی ہوئی تھی دوسرا فلور کشن کھینچ کر اس کے مقابل بیٹھ گئے تھے۔

“تو پھر بولو کس کو بياه کر لائیں؟ میراں بھر جائی نے دلچسپی سے پوچھا تھا۔

“جیسا پیس بھروز لا لا کو ملا ہے ویسا نہیں چاہیے باقی سب ٹھیک ہے۔ “خیام شاہ کے لہجے میں مسکراہٹ اور شرارت رچی تھی بھروز شاہ اگرچہ خیام شاہ اور مومنہ سے چھوٹے تھے لیکن خاندانی مسائل کے نتیجے میں ہی ان کی شادی پہلے ہوگئی تھی مگر بیوی کے مزاج انگاروں سے کم نہیں تھے۔

“تم بے فکر رہو وہ ماسٹر پیس ہیں ان کی کاپی نہیں ہے۔میراں بھرجائی بھی ان کی بات سمجھ کر ہنس پڑی تھیں۔

“ویسے کیا خیال ہے اپنے لئے سادہ سا معصوم سا پیس خود ڈھونڈ لوں؟ انہوں نے باتوں باتوں میں بھرجائی اور بہن کا عندیہ لینے کے لئے تیر چھوڑا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *