Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 02)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 02)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
“اگر آپ کے خیال میں میں جھوٹ بول رہی ہوں یا آپ کے دل میں کوئی شک ہے تو آپ بھی سب کی طرح۔ ۔۔۔۔۔۔
“بس آگے ایک لفظ نا کہنا۔”مكتوم يكدم سخت لہجے میں بولتا ہوا اس کی سمت پلٹا تھا۔ “
“میں جانتی ہوں ہر شخص کی سوچ آزاد ہے۔جہاں انسان نہیں بھی چاہتا چلی جاتی ہے لیکن اس سوچ سے پہلے میں آپ کو اپنے بارے میں سب کچھ۔ ۔۔”
“لیکن میں تمہارے بارے میں کچھ نہیں جاننا چاہتا کیونکہ تمھارے ماں باپ ،تمھارے بھائیوں ،تمھارے نیک ،باكردار ،با اصول اور آعلیٰ خاندان کی طرح مجہے تمہاری صفائیوں اور وضاحتوں کی ضرورت نہیں۔ آئندہ کبھی سوچنا بھی مت کہ مكتوم شاہ تم پہ شک کرتا ہے یا تمہیں جھوٹا سمجھتا ہے کل جو بھی تھا گزر گا آج تم میری عزت ہو اور مجہے اپنی عزت پر اعتماد ہے یہ ا عتماد کبھی متزلزل نہیں ہوگا اس لئے اب تم سو سکتی ہو۔ “مكتوم انتہائی دو ٹوک انداز میں ہاتھ اٹھا کر بولا تھا اور وہ خاموش ہوگئی۔وہ شخص عجیب شخص تھا کبھی غصے اور اجنبیت سے بھرا ہوا اور کبھی اعتماد ،مان اور اپنائیت سے مالا مال۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے ایک بار پھر اپنی حالت زار پر رونا آنے لگا تھا مگر اب کنٹرول کرنا پڑا کیوںکہ بلکل قریب ہی تو وہ سورہا تھا۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شہرزاد پڑھنے کے لئے لاہور جارہی ہے۔ “زرینہ کی اطلاع پر حمرا يكدم اچھل پڑی تھی۔ “
لاہور ۔؟
جی ہاں لاہور کی پنجاب یونیورسٹی کو عزت بخشنے کا ارادہ ہے اور پیر سائیں نے اجازت بھی دے دی ہے ۔ان کی ساری پابندیاں صرف ہمارے لئے ہیں اپنی بیٹی کے لئے کھلی چھوٹ ہے۔ “زرینہ کے لہجے سے جلن اور بدگمانی کی بو آرہی تھی جبکہ حمرا کو خوشی ہوئی تھی۔ “
اس میں ان کا کیا قصور هے پڑھنے کیلئے کوشش ہمیں کرنی چاہئے تھی کالج کے بعد ہم ہی آرام سے گھر بیٹھ گئیں تھیں۔ انہوں نے نہیں کہا اگر انہوں نے پابندی عائد کرنی ہوتی تو کالج ہی نا جانے دیتے۔ اور ایک بات تم بھول رہی ہو کہ مومنہ پھپو نے بھی ماسٹر یونیورسٹی سے کیا تھا۔
“اچھی طرح جانتی ہوں اپنی بہن اور بیٹی کے لئے ہی تو۔ ۔۔،”
پلیز زرینہ تم کیوں خوا مخوا بات کو بڑہا رہی ہو اگر تم بھی پڑھنا چاہتی ہو تو ابھی بھی وقت ہے جاكر کہہ دو پیر سائیں سے وہ تمہیں منع نہیں کریں گے۔ “زرینہ اور حمرا کی تکرار خاموشی سے سنتی خزینہ رہ نا سکی اور بلاخر بول ہی پڑی تھی۔خزینہ ،زرینہ کی بڑی بہن اور حمرا کی ہونے والی بھابی تھی۔
” اگر انہوں نے منع کردیا۔؟وہ جیسے ان کو دیکھانا چاہتی تھی کہ پیر سائیں صرف اپنی اولاد کا بھلا سوچتے ہیں کسی اور کی انہیں کوئی پرواہ نہیں۔ “اگر انہوں نے منع کردیا تو تم جیتیں ہم ہارے۔”۔۔۔۔
یہ کیا بات ہوئی بھلا بلکہ یہ کہو کہ اگر مجہے پڑھنے کی اجازت نہیں ملی تو شہرزاد بھی لاہور نہیں جاۓ گی۔” اس نے خزینہ اور حمرا کو چیلنج کیا تھا وہ دونو ایک دوسرے کی صورت دیکھ کر رہ گئیں۔
“ٹھیک ہے ہم شہرزاد کو بھی نہیں جانے دیں گے۔”انہوں نے حامی بهرلی۔”
“ہاے کیا ہورہا ہے۔؟” اچانک شہرزاد اندر داخل ہوئی تھی۔”
“جو ہونا چاہیے”زرینہ اس کے پاس سے گزر کر باہر چلی گئی تھی اور شہرزاد آگے بڑھ کر خزینہ اور حمرا کے کے قریب بیڈ پر آبیٹھی۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے میرے ساتھ ہی ایڈمشن لے لیتی۔”شہرزاد کو جان کر خوشی ہوئی تھی یوں شہرزاد کا ووٹ بھی زرینہ کے حق میں چلا گیا تھا۔
“لیکن ویکن کچھ نہیں جو پڑھنا تھا پڑھ لیا اب آرام سے گھر بیٹھو اب کیا شہرزاد کے نقش قدم پر چلتے ہوۓ حویلی کی تمام عورتیں اٹھ کر یونیورسٹی چلی جایں گی۔؟ارمغان شاہ کا لہجہ بہت سخت تھا محترم زرینه کے بڑے بھائی تھے۔
“مگر پیر سائیں مجہے اجازت دے چکے ہیں۔ “
“تم نے اجازت مانگی انہوں نے دیدی اب میں منع کررہا ہوں تو تم کہیں نہیں جاؤ گی بات ختم۔”
“لیکن لالا جی شہرزاد بھی تو پڑھنے کیلئے جارہی ہے وہ بھی اتنی دور۔ ۔۔۔۔۔
“اگر شہرزاد خدا نخواستہ مر گئی تو کیا تم بھی مر جاؤ گی۔؟
ارمغان شاہ جهنجلا چکا تھا زرینہ بے بس ہوگئی اور اپنی اسی بے بسی پہ کھولتی ہوئی وہ باہر نکل آئ لیکن رات کھانے کے وقت پیر سائیں نے دوبارہ یہ قصہ چھیڑ دیا تھا۔
“کیوں ارمغان شاہ تمہیں زرینہ کے آگے پڑہنے پر کیا اعتراض ہے۔؟”پیر سائیں کا ٹہرا ہوا نرم لہجہ زرینہ کے لئے حمایت لئے ہوۓ تھا خزینہ اور حمرا نے زرینہ کو بیک وقت دیکھا وہ نظر چرا گئی تھی۔
یہ میری بہن ہے اسے میں جانتا ہوں یہ بہت جزباتی ہے اور جزباتی لوگ دنیا کے اس جنگل میں یا تو آگ لگاتے ہیں یا پھر آگ کی نظر ہوجاتے ہیں اس لئے میں نہیں چاہتا اسے کوئی نقصان ہو کوئی تکلیف ہو۔ جس کے لئے بہتر یہی ہے کہ یہ گھر میں رہے۔”ارمغان شاہ کے جواز پر سب کو حیرانی ہوئی تھی۔
تو کیا شہرزاد جذباتی نہیں ہے؟ “زرینہ جھٹ سے بولی تھی اور ارمغان شاہ نے ملامتی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا۔
تمہارے جذباتی پن کا یہی ثبوت دیکھ لو کہ تم سے خاموش نہیں بیٹھا جارہا۔ارمغان شاہ کی بات سے وہ سٹپٹا گئی تھی جبکہ پیر سائیں اور باقی سب بے ساختہ مسکرا دئے تھے۔
میرا خیال ہے کہ زرینہ کو اب اجازت مل ہی جانی چاہیے۔”میراں بی بی نے بھی نرمی سے حمایت کی اور پھر اسے اجازت تو مل گئی لیکن اسلام آباد یونیورسٹی کیلئے اور ویسے بھی لاہور یونیورسٹی کے ایڈمشن ڈیٹ آج سے چار روز قبل ختم ہوگئی تھی البتہ فائن آرٹس کے داخلے اوپن ہوچکے تھے لیکن وہ فائن آرٹس میں دل چسپی نہیں رکھتی تھی اپنی ہی ضد گلے پڑ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مكتوم شاہ کہاں ہو اس وقت؟ وہ اپنی جیب سے چابی نکال کر گاڑی سٹارٹ کررہا تھا جب اچانک ہی پیر سائیں کی کال آگئی تھی۔ “جی میں بس نکل ہی رہا ہوں آپ نے جو کام دئے تھے وہ سارے ہوگئے ہیں۔ “مكتوم نے اسلئے کے وہ پریشان نہ ہوں فوراً وضاحت دی۔ارے کاموں کو گولی مارو آتے ہوۓ شہرزاد کو ہوسٹل سے لیتے آنا۔ اس کے اگزیم ختم ہوگئے ہیں۔ “پیر سائیں نے جو کام کہا وہ اسے خاموش کرنے کے لئے کافی تھا۔
“ہیلو سن رہے ہو نہ۔؟”
جی لے آؤں گا۔مكتوم نے سنجیدگی سے کہتے ہوے کال بند کی تھی۔ اب اسے اسلام آباد کا رخ کرنے سے پہلے شہرزاد کے ہوسٹل جانا تھا۔
وہ کبھی بھی شہرزاد کو لینے کیلئے دل سے رضا مند نہیں ہوتا تھا۔ ہمیشہ مجبوری اور مروت کے مارے جانا پڑتا تھا۔ اور وہ ہمیشہ اسے دیکھ کر ناک بھوں چڑہاتی تھی اور جہاں موقع ملتا وہاں طنز کے تیر چھوڑنے سے بھی باز نہ آتی تھی۔ مكتوم نے ہوسٹل کے احاطے میں گاڑی پارک کی اور نیچے اتر کر گہری سانس کھینچی جیسے اپنے آپ کو برداشت کے لئے تیار کررہا ہو پھر ذرا سمبھل کر قدم آگے بڑھا دیے تھے وارڈن اسے جانتی تھیں اس لئے ڈرائنگ روم میں لے آئیں تھیں۔
“آپ بیٹھیں میں آپ کے لئے چاۓ اور شہر زاد کو بھجواتی ہوں”
شکریہ چاۓ کی کوئی ضرورت نہیں جلدی نکلنا ہے۔ آپ پلیز شہر زاد کو بلوادیں وہ یقینا تیار ہی ھوگی۔مكتوم نے وارڈن کو خاطر مدارت سے روک دیا تھا ایک دفعہ پیر سائیں یہاں آچکے تھے اور اس ہوسٹل کی مزید ترقی کے لئے بھاری رقم بھی دے کر گئے تھے۔ اس حوالے سے وہ کچھ زیادہ ہی مہمان نواز ہوجاتی تھیں اور جب سے شہر زاد یہاں آئ تھی سب سے زیادہ آمد مكتوم شاہ کی ہوئی تھی کبھی وہ اسے کیش دینے آتا کبھی اسے لینے آتا کبھی اسے چھوڑنے کے لئے آتا تھا ۔کیوں کہ وہ بھی لاہور میں ہی رہتا تھا اور آج کل سی ایس ایس کی تیاریوں میں مصروف تھا اور پیر سائیں اکثر شہر زاد کے کام اس کے زمے لگا دیتے تھے۔
چند منٹ بعد ڈرائنگ روم میں محترمہ شہر زاد کی تیکھے نقوش سے مزید صورت دکھائی دی تھی جن میں سے چند نقوش مكتوم شاہ کو دیکھنے کے بعد مزید تیکھے ہوگئے تھے اس نے اس کے قریب آکر سامان سے بھرا بیگ پٹخ دیا تھا۔
باقی سب مر گئے تھے کیا۔؟
یہ تو جاکر ہی پتا چلے گا بس آپ کے چلنے کی دیر ہے۔
مكتوم سرد مہری سے کہتا اس کا بیگ اٹھا کر نکل آیا تھا اور وہ اس کے جواب میں تلملا تی ہوئی اس کے پیچھے نکلی تھی ایسا شازو نادر ہی ہوتا تھا کہ مكتوم اس کی جلی کٹی باتوں کے جواب میں کچھ کہتا مگر جب کہتا تو آگ لگا دینے کی حد تک کہتا۔ اور وہ گھنٹوں نہیں دنوں اور مہینوں کے حساب سے سلگتی رہتی تھی۔
یہ آدمی کون ہے شہر زاد کے ساتھ؟”ہوا کے دوش پہ کوئی نسوانی آواز راهداری سے نکلتے ہوۓ شہر زاد اور مكتو م شاہ کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔
“شہر زاد تو کہہ رہی تھی ہمارا ملازم ہے لیکن مجہے تو وہ کہیں سے بھی ملازم نہیں لگتا۔” جواباً دوسری آواز نے جو کچھ بیان دیا وہ مكتوم شاہ کے لئے مر جانے کے مترادف تھا اور شاید شہر زاد کے ان طعنوں سے وہ مر ہی جاتا اگر اس کے دل میں یہ طنز اور طعنے ختم کرنے کی جستجو اور آرزو نہ ہوتی وہ اس وقت بھی ضبط کر گیا تھا۔
ویسے یار پرسنالٹی تو غضب کی ہے۔اس لئے تو کہتے ہیں خان زادے اور سید زادے ہوتے بہت خوبصورت ہیں اور دور سے ہی پہچانے جاتے ہیں اور ان کی پہچان ان کی آنکھوں سے ہوتی۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ تم لوگ اپنی بکواس بند نہیں کر سکتیں ہر ایک پر فدا ہونا ہر ایک پر کمنٹس کرنا تم لوگوں پر فرض ہو چکا ہے۔”شہر زاد چلتے چلتے جھٹکے سے پیچھے مڑی تھی اور اپنے پیچھے آتی اپنی کلاس فیلوز سے الجھ پڑی تھی وہ بھی اسی ہوسٹل میں رہتی تھیں شہر زاد کی ان سے اچھی خاصی ہاے ہیلو تھی۔لیکن اس وقت اسے وہ دونوں زہر لگ رہیں تھیں۔مکتوم شاہ کے قدم بھی ٹھٹک گئے تھے۔ اس نے ذرا کی ذرا گردن موڑ کے غصے سے بھری شہر زاد اور حیرت سے ہکا بكا ان دونوں لڑکیوں کو دیکھا پھر آگے بڑھ کر اپنی گاڑی نکالنے لگا تھا گاڑی نکالنے کے بعد اسے دس منٹ اس کا انتظار کرنا پڑا تھا اور جب وہ گاڑی میں آکر بیٹھی تب بھی بڑ بڑا رہی تھی وہ خاموشی سے گاڑی روڈ پر ڈال چکا تھا تقریبا آدھا سفر طے کرنے کے بعد وہ اکتا گئی تھی۔
“مسٹر ڈرائیور مجہے بھوک لگ رہی ہے براہ مہربانی کچھ کھلا دیجیے۔”اس کے انداز میں طنز تھا۔
اب اسلام آباد پہنچ کر ہی کچھ کھانے کو ملے گا یہاں قریب کوئی بھی اچھا ریسٹورانٹ نہیں ہے۔”وہ گاڑی کی سپیڈ بڑہا تے ہوۓ بولا اور ساتھ ہی اس کا دھیان کھانے سے ہٹانے کیلئے سی ڈی پلیئر آن کردیا تھا.
. کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے
. کہ جیسے تجھ کو بنایا گیا ہے میرے لئے
تو اب سے پہلے کہیں ستاروں میں بس رہی تھی کہیں
. تجھے زمین پر بلایا گیا ہے میرے لئے
“مکتوم شاہ کا بے حد پسںدیدہ گانا گونجنے لگا تھا اور شہر زاد کے تیور بگڑنے لگے تھے۔
