Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 05)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 05)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
آج چار پانچ روز بعد سورج کا رخ روشن نظر آیا تھا اور لوگ اس کی دید کے لئے اس قدر ترسے ہوۓ تھے گرم كمبلوں اور ہیٹر کو چھوڑ چھاڑ کے بہت والہانہ انداز میں باہر نکلے تھے اور سورج کا دیدار کرتے ہی جسم میں طمانیت کا احساس اتر گیا تھا اور اس احساس کو مزید اپنے اندر اتارنے کے لئے وہ لان کے بیچوں بیچ کرسی ڈال کے دونوں پاؤں اپر چڑہا کر بیٹھ گئی تھی اگر چہ بادلوں کے سفید سفید ٹکڑے ابھی بھی کہیں کہیں دکھائی دے رہے تھے لیکن اس وقت جگر جگر کرتے سورج کے قریب جانے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔اسی لئے وہ بھی جم کے بیٹھ گئی تھی اور دو تین گهنٹوں تک اٹھنے کا کوئی ارادہ نا تھا۔
“سردی کے بہت سے چور دیکھے ہونگے لیکن تم سا چور آج تک نہیں دیکھا۔ “ارمغان شاہ دھوپ کی سمت چہرہ کر کے بیٹھے دیکھ کر قریب اگیا تھا۔
تو آپ کس چور کو انعام نہیں دینگے۔؟جو سب چوروں سے بڑا چور ہے۔ “اس کے چہرے پر مسکراہٹ اتر آئ تھی۔
دیں گے ضرور دیں گے لیکن اس وقت جب یہ چور کسی روز بارش میں نہاے گا۔ یا دهند میں صبح سویرے حویلی کی چھت پر دس دوڑيں لگاے گا۔ یا پھر۔۔۔۔۔۔۔یا پھر ہاں یاد آیا جب وہ تین بار نہاے گا اور پھر زكام اور چھینکوں سے مالا مال ہوکر ہم سے انعام مانگے گا ایسے کیسے دھوپ میں بیٹھے چور کو انعام تھما دیں۔؟
کیا۔ ؟وہ ارمغان شاہ کی شرائط پر چیخ اٹھی تھی اور جواباً وہ قہقہ لگا کر ہنس دیا تھا۔
ظاہر ہے انعام پانے کے لئے لوگ ریس میں حصّہ لیتے ہیں تیراکی میں حصہ لیتے ہیں تم بھی یہی سمجھ لینا کہ۔ ۔۔۔۔
“بس بس میں باز آئ آپ کے انعام سے۔ گویا انعام پانے کے لئے میں اپنے آپ کو مار ڈالوں وہ۔ ۔۔۔۔کیا بات ہے؟ وہ شاہانہ سے انداز میں بولی اور ارمغان شاہ ابھی بھی ہنس رہا تھا۔
“ایسا کیا کہہ دیا شہر زاد نے جو آپ کی ہنسی نہیں روک رہی۔؟خزینہ اس ہفتے کے تمام میگزین , ڈیلی نیوز پیپر اور مالٹوں سے بھری ٹوکری اٹھاۓ قریب آگئی تھی وہ ارمغان سے چھوٹی تھی البتہ حسان شاہ ،ثوبان شاہ اور زرینہ اس سے چھوٹے تھے۔
مجھ سے کیا پوچھتی ھو شہر زاد سے ہی پوچھ لو کہہ رہی تھی کہ اس دفعہ بارش بھی ہوگی اس میں نہاؤں گی۔”ارمغان شاہ خزینہ سے میگزین لیکر اپنی مسکراہٹ چھپا رہا تھا۔
“اور جب میں مر جاؤں گی تو آپ لوگ نعرا لگایں گے شہر زاد ۔۔۔زندہ باد۔ “وہ جل کے بولی تھی اب کی بار خزینہ کھلکھلانا شروع ہوگئ تھی رفتہ رفتہ حویلی کے بہت سے افراد لان میں جلوہ گر ہونے لگے تھے اور اچھی خاصی رونق لگ گئی تھی۔
ارمغان بیٹا مكتوم تمہارا ساتھ گیا تھا کہاں ہے؟
. میراں بی بی نے اندر سے آتے ہی استفار کیا تھا اس ا ستفسار میں تشویش تھی شہر زاد ان کی آمد اور پھر ان کی بات سن کر سنجیدہ ہوگئی تھی دو تین روز پہلے اسی مکتوم کی وجہ سے دونوں ماں بیٹی میں بدمزگی ہوگئی تھی اور اس کی ماں نے پہلی بار اس پر ہاتھ اٹھایا تھا اور اسے لعنت ملامت بھی کی تھی اور ابھی تک اس بدمزگی کے بعد ان میں کوئی بات نہیں ہوئی تھی میراں بی بی نے اس سے سلسلہ کلام ترک کیا ہوا تھا۔
” چچا سائن کے کسی کام سے اسلام آباد گیا ہوا ہے شام تک آجاۓ گا آپ آیے نہ ہمارے ساتھ بیٹھیے۔” ارمغان شاہ کرسی سے کھڑا ہوگیا تھا۔”
“نہیں بیٹھو تم لوگ میں فارغ نہیں ہوں۔” وہ اس کا كندها تهپک کر اندر کی طرف مڑ گئیں۔
“Taae meeran is very very nice women.
ارمغان نے دوبارہ کرسی پر بیٹھتے ہوۓ رشک آمز اور عقیدت بھرے لہجے میں کہا تھا اور کٹے ہوۓ سنگتروں پہ چاٹ مصالہ ڈال کر کھانے میں مصروف ہوگیا زرینہ اور ندرت بیگم نے کوفت سے ارمغان کی بات سنی اور نخوت سے سر جھٹک دیا تھا۔
“شام نے اپنےچہرے پہ سیاہ رات کا نقاب چڑہانا شروع کردیا تھا۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کو لوٹ چکے تھے ایک وہ تھا جو ابھی تک نہیں آیا تھا اور میراں بی بی اندر ہی اندر تلملا رہی تھیں چچا سائن (فیروز شاہ ) نے یہ جاننے کے باوجود وہ دو دن سے بخار میں مبتلا ہے پھر بھی اسے کام سے بھیج دیا تھا وہ یہ کام کسی اور سے بھی کروا سکتے تھے۔
“میراں بی بی کھانا لگ چکا ہے ٹھنڈا بھی ھو چکا ہے میں آپ کی بڑھاپے میں بیٹھے بیٹھے کھو جانے کی عادت سے حیران ہوں حالاںکہ یہ کام جوانی میں اچھے لگتے ہیں۔ ” پیر سائن نے نرمی سے بیوی کو متوجہ کیا تھا وہ دسترخوا ن پر بیٹھی تھیں لیکن دھیان نجانے کہاں پہنچا ہوا تھا۔
“میں مکتوم کا انتظار کررہی تھی اس کی طبیعت بھی خراب تھی اور ابھی تک نہیں آیا باہر بہت ٹھنڈ ہورہی ہے آپ فون کر کے اس کا پتہ کیجئے۔
“تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا ہم تو سمجھ رہے تھے اپنے کمرے میں ہے شاید۔ ۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی ہاتھ کھینچ چکے تھے اور ملازمہ کو فون لانے کا اشارہ کیا تھا۔
“السلام عليكم” اس نے ڈرائینگ روم میں قدم رکھتے ہی سلام کیا تھا اور میراں بی بی تیزی سے قریب آئیں تھیں شہر زاد نے کوئی بھی محبت بھرا جذباتی نظارہ دیکھنے سے قبل چہرہ جھکا لیا تھا۔
“آؤ بیٹا آؤ بیٹھو کھانا کھاؤ ہم تمہیں ہی کال کرنے والے تھے۔ ” پیر سائں نے اپنے برابر والی کرسی کی سمت اشارہ کیا تھا وہ ہمیشہ اسے اپنے برابر میں بٹھاتے تھے اور ایک مدّت انہوں نے مكتوم کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا تھا شاید اسی لئے ان کے اپنے بچوں کو بھی یہ شوق یہ آرزو ہوگئی تھی کہ وہ انہیں بھی مكتوم کی طرح کھانا کھلایں مگر انہوں آج تک اپنے بچوں کا شوق پورا نہیں کیا تھا۔
“ابھی بھوک نہیں ہے میں کچھ دیر آرام کرنا چاہتا ہوں آپ لوگ کھانا کھایں سوری میری وجہ سے آپ ڈسٹرب ہوۓ ۔ “اس نے سب سے معذرت کی تھی اور واپسی کے لئے مڑ گیا تھا۔ میراں بی بی اس حال احوال پوچھتیں فکرمندی میں اس کے ساتھ چلتے ہوۓ سیڑھیوں تک آئیں تھیں اور وہ سیڑ ھیوں پر قدم رکھتے رکھتے رک گیا تھا گردن موڑ کر دیکھا تو ان کے چہرے پر پریشانی کے سوا صرف اور صرف ممتا نظر آئ تھی۔
تائی امی آپ میرے لئے اتنا پریشان کیوں ہوتی ہیں؟ کیا حاصل میری فکر سے؟ آپ کو تو اپنے بچوں کی فکر کرنی چاہیے۔ توقیر شاہ ، عبیر شاہ ، شہر زاد سب کو آپ کی توجہ چاہیے میرے لئے تو ۔۔۔۔۔۔۔”
“دوہرے رشتے بھی بناتے ھو ایک طرف تائی ایک طرف ماں بھی کہتے ھو پھر پوچتے ھو پریشان کیوں ہوتی ہوں اور تیری فکر سے کیا حاصل ہوتا ہے، یہ تو ایک ماں کا دل ہی بتا سکتا ہے اپنے بچے کے لئے اسے فکر کر کے کیا ملتا ہے کیا حاصل ہوتا ہے تم بھلا کیا جانو گے؟ ان کا لہجہ بھیگ گیا تھا مكتوم نے بے چین سا ہوکر ان کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
“تائی ماں آئ ایم سوری میں آپ کو اداس نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن میں اپنے آپ کو پریشان بھی تو نہیں دیکھ سکتا۔ “
“لیکن تائی ماں سب کی تڑپ سے میرا وجود مکمل نہیں ہوگا میرا وجود اسی روز مکمل ہوگا جب میرے ماں باپ کا رشتہ واضح ہوگا جب میری ماں کے دامن سے غلیض دھبہ دھلے گا جب مكتوم شاہ کو مكتوم شاہ کہلانے میں جھجک نہیں ھوگی۔ ” وہ دکھ سے کہتا ان کا ہاتھ چھوڑ كر سیڑھیاں چڑھ گیا تھا۔ اس کی آنکھوں میں اتری سرخی اور چہرے پہ پھیلی اذیت کے عکس میراں بی بی کو بے کل کر گئے تھے ان کی ذات کو حویلی والوں نے ادھورہ کر کے رکھ دیا تھا کسی نے اسے بہت زیادہ پیار دیا تھا کسی نے صرف طنز و حقارت کے کچھ نا دیا تھا اور یوں اس کا ذہن دو حصّوں میں بٹ گیا تھا ایک وہ جوان سب رشتوں کو اپنا سمجھتا تھا اور ایک وہ جو اتنے رشتوں کے باوجود اپنے آپ کو تنہا اور اکیلا محسوس کرتا تھا۔ کبھی وہ بہت مظبوط ہوجاتا تھا ناقابل تسخیر چٹان کی مانند اور کبھی اتنا کمزور ہوتا کوئی بھی اس کی ذات کی اونچی دیوار کو زمین بوس کرنا چاہتا تو پل میں کرسکتا تھا اور یہ کام سب سے زیادہ اور اچھے طریقے سے شہر زاد کرتی تھی اور وہ اپنے ضبط کو قفل لگاۓ بے بسی کا لبادہ اوڑھے اپنی ذات کا مسمار ہونا خاموشی سے دیکھتا رہتا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوا تو بی بی جان کو اپنا منتظر پایا تھا۔
“جی بی بی جان آپ نے مجہے بلایا تھا۔”
“ادھر آؤ ہمارے پاس بیٹھو۔” انہوں نے بیڈ پر اس کے لئے جگہ بنائی اور اسے بیٹھنے کا کہا وہ متوازن قدم اٹھاتا ان کے قریب آکر بیٹھ گیا اور بی بی جان نے اس کا ہاتھ اپنے نرم نرم بوڑھے ہاتھوں میں لیکر تهپكنا شروع کردیا۔
اب کیا کچھ پڑھنا باقی رہ گیا ہے؟ کتنی ڈگریاں لے گا میرا شاہ پتر؟ وہ بچوں کی طرح پچکارتے ہوۓ پوچھ رہی تھیں۔
“اس سال سی ایس ایس میں کامیاب ہوجاؤں تو پریکٹیکل لائف میں آجاؤں گا اور کسی بہترین جاب کو ترجیح دوں گا آخر کب تک یوں جیا جاسکتا ہے۔؟
” کیوں کیا ہوا ہے؟
کچھ نہیں مجہے بھلا کیا ہوگا؟ وہ اپنے آپ پر ہنسا تھا۔
“پھر نوکری کی کیا ضرورت ہے؟”
“بی بی جان نوکری کی ہی تو ضرورت ہے۔ “
تو یہ باپ دادا کی جائیداد کس کے کام آے گی؟”
“باپ دادا میرے کام نہیں آے تو ان کی جائیداد لیکر کیا کروں گا۔؟ اس کے لفظ لفظ میں شکایتیں تھیں شکوے تھے بی بی جان دیکھ کے رہ گئیں۔
“اچھا چھوڑ ان باتوں کو تو یہ بتا کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے؟ “بی بی جان جهنجلا کر سر جھٹکا اور اپنے مطلب کی بات پر آگئیں تھیں انداز میں تھوڑا اشتیاق اور تجسس تھا۔
. کیوں؟ اسے تھوڑا تعجب ہوا تھا۔
“تیری شادی کرنا چاہتی ہوں تیرے پیر سائن بھی یہی کہہ رہے تھے۔ “
لیکن بی بی جان ابھی تو میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ “
“دیکھ شاہ پتر توقیر تجھ سے بڑا ہے اور پیر شاہ اس کی شادی کرنا چاہتا ہے لیکن وہ یہ بھی چاہتا ہے توقیر اور تیری شادی کی خوشی اکٹھی ہوجاۓ کلام شاہ اور خیام شاہ کے بیٹوں کی اکٹھی شادیاں ھوگی۔” بی بی جان پرجوش انداز میں بتا رہی تھیں لیکن وہ سنجیدگی کی لپیٹ تھا جو کہ ہمیشہ ہی رہتا تھا۔
“ایم سوری میں ابھی شادی کے لئے تیار نہیں ہوں۔ “
“دیکھ پتر اگر حویلی میں کوئی لڑکی پسند ہے تو بتادو ویسے بھی خزینہ تو پہلے ہی طلال کی منگ ہے اور شہر زاد کے لئے بھروز اور ندرت کہہ رہے تھے ارمغان خیر سے تجھ سے بھی بڑا ہے اور زرینہ ،حمرا ،نویرا ،امانہ جو بھی پسند ہے ابھی بتادو تاکہ تیری بات بھی پکی کردوں کم از کم نشانی تو ہوجاۓ تیری۔ “
“بی بی جان آپ کیوں نہیں سمجھ رہیں کہ مجہے ابھی شادی نہیں کرنی ۔ “
” کیا کوئی شهر کی لڑکی پسند ہے؟ بیبی جان سے ذرا محتاط سے انداز میں پوچھا تھا اور مكتوم شاہ ان کی اتنی اپنائیت اور معصومیت پر نرم ہوگیا تھا۔
“شہری لڑکیوں اور دیہاتی لڑکیوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا فرق تو بس ہماری سوچ میں ہوتا ہے کسی کو کم تر اور کسی کو بر تر بنادیتے ہیں لیکن میرے دل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے اور نا ہی ایسا کچھ سوچ رکھا ہے بس ابھی شادی کا ارادہ نہیں ہے ابھی میں ادھورہ نامکمل ہوں میری ذات ادھوری ہے کچھ حصّے بکھرے ہوۓ ہیں وہ سمیٹ لینے دیجیے پھر یہ کام بھی کر لیں گے۔
“اس کا لہجہ ٹہرا ٹہرا سا سرد منجمد جھیل سا لگنے لگا تھا بی بی جان خاک بھی نا سمجھی تھیں۔
“پھر پیر شاہ کو کیا کہوں؟ “
“ان سے کہیں میں ابھی شادی نہیں چاہتا ہوں آپ توقیر لا لا کی شادی کی تیاری کریں۔” وہ کہہ کر اٹھ گیا تھا اور بی بی جان مضحمل سی ہوگئں تھیں وہ ان کی خوشی کو ختم کر گیا تھا۔
“پھر بعد میں پیر سائن نے خود اس سے بات کی لیکن اس نے تب بھی انکار میں جواب دیا تھا اور پیر سائیں تو اس کی خوشی اس کی رضا چاھتے تھے جب وہ اس بات کے لئے خوش اور راضی نہیں تھا تو زور ذبردستی کا وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے چناچہ توقیر شاہ اور طلال شاہ کی شادی کے ہنگامے جاگ اٹھے۔
“حویلی میں مدّت بعد شادی کا ہنگامہ جاگا تھا سبھی لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے قابل تھا اس حویلی میں آخری شادی مومنہ کی ہوئی تھی اور شادی کے فورا بعد وہ اپنے شوہر احمد شاہ کے ساتھ انگلینڈ جا بسی تھی اور اتنے عرصے میں صرف دو مرتبہ پاکستان آئیں تھیں وہ بھی صرف مكتوم سے ملنے کے لیے، انہیں اپنے عزیز ترین بھائی کا بیٹا اپنے بھائی سے بھی زیادہ عزیز تھا ہفتے میں کئی بار فون کر کے اس کی خیریت معلوم کرتی رہتی تھیں احمد شاہ اور ان کے بچوں کو بھی مكتوم سے بہت لگاؤ تھا اور وہ اتنی چاہتوں پہ شادماں خاموش سا رہ جاتا تھا اور اب تو وہ لوگ پوری فیملی سمیت پاکستان آرہے تھے آخر شادیوں میں شرکت جو کرنا تھی۔
اے ادھر۔۔۔۔۔۔آؤ وہ دو تین سیڑھیاں طے کر چکا تھا جب حاکمانہ انداز اور تحقیر امیز لہجے میں پکارا گیا تھا وہ بنا مڑے ہی آواز کے مالک کو پہچان سکتا تھا وہ تین سیکنڈ اس نے نجانے کیا سوچا پھر پلٹ کر کسی رعایا کی طرح اس کی خدمت میں پیش ہوگیا تھا وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔
“لاہور کب جارہے ھو؟ “اس کے استفسار پر مكتوم شاہ نے اسے نظر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔۔کیوں کہ اس کے استفسار پر حیرت ہوئی تھی۔
میں تمھارے ساتھ جانا نہیں چاہتی نہ ہی تمہاری شکل دیکھنے کا شوق ہے کوئی اور کام تھا۔ “اس کی استفہامیہ اور استنجابیہ نظریں دیکھ کر وہ نخوت سے بولی تھی۔ “
فرائیڈے کو جاؤنگا۔” جواب مختصر تھا”
گاڑی کی چابی کہاں ہے؟
“میری جیب میں” وہ کچھ سمجھا کچھ نہیں سمجھا۔
لاؤ مجہے دو، انفیکٹ شادی کی شوپنگ کرنے کے لئے ہمیں روز اسلام آباد جانا پڑتا ہے سب مرد حضرات صبح صبح اپنی اپنی گاڑی لیکر نکل جاتے ہیں بعد میں پریشانی ہوتی ہے حویلی والی گاڑیاں بھی با با سائں نے اپنے شهر سے آنے والے دوستوں کو دے رکھی ہیں”
اس نے بڑی شرافت اور سعادت مندی سے چابی دے دی تھی۔
فرائیڈے کو تمہیں تمہاری گاڑی مل جاۓ گی۔” وہ شان بے نیازی سے کہتی اسے جانے کا اشارہ بھی کر چکی تھی۔
اس نے جانے سے پہلے اک نظر اس لڑکی کو بغور دیکھا جو اس کی ہی نہیں اس کے ماں باپ کی ذات کے بھی پرخچے اڑا کر رکھ دیتی تھی اور اس لڑکی نے مكتوم کے دل کا کوئی کونا ایسا نہیں چھوڑا تھا جہاں اس کے لفظوں کے نشتر نا لگے ہوں اس کے دل کے کونے کونے سے لہو رستا تھا اور اس لہو سے اس کی آنکھیں اس قدر سرخ ہوئی تھیں کہ وہ راتوں کو سو نہیں پاتا تھا آج تک مكتوم شاہ کی نیند پوری نہیں ہوئی تھی وہ کبھی سو ہی نہیں سکا تھا اس کی آنکھیں جلتی تھیں ابھی بھی جل رہی تھیں وہ شہر زاد کا پر غرور سراپا نگاہوں سے بهسم کر دینا چاہتا تھا لیکن وہ بے خبر بیٹھی اس کی گاڑی کی چابی گھماتی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی باہر خواتین کی آوازوں کا شور اٹھا تو تو اندازہ ہوگیا کہ وہ شاپنگ کر کے اگیں ہیں مكتوم تیزی سے لاونج کی حدود سے نکل گیا تھا اب یہاں دھماچوکڑی مچنے والی تھی کپڑے اور زیورات بکھرنے والے تھے۔
