Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz NovelR50626 Aesa Ahle Dil Ho (Episode 12)
Rate this Novel
Aesa Ahle Dil Ho (Episode 12)
Aesa Ahle Dil Ho by Nabeela Aziz
او نو! یہ تو صبح سے بخار میں پڑی ہے اور دن بھر اکیلی۔۔۔۔۔” مكتوم کو اپنی صبح والی عجلت اورلیکن آج وہ گھر پہ ہی تھا غفلت یاد آتے ہی ندامت ہوئی۔ وہ کپڑے چینج کئے بنا ڈاکٹر کو بلا لایا اور پھر رات بھر اس کے سرہانے بیٹھنا پڑا تھا کل کی رات اس نے آنکھوں میں کاٹی تھی آج کی رات وہ کرسی سمبھال چکا تھا۔
” وہ کافی کمزور ہوچکی تھی اور متواتر اتنے دنوں سے ذہنی ٹینشن کا شکار تھی اس لئے اتنے شدید بخار میں اعصاب جواب دے گئے تھے ڈاکٹر نے انجکشن اور ڈرپ بھی لگائی تھی صبح تک اس کی نقاهت میں کافی افاقہ ہوا تھا وہ حواسوں میں لوٹ آئ تھی دوپہر کے بارہ بج رہے تھے آج وہ گھر پہ ہی تھا اسے حرکت کرتا دیکھ کر قریب اگیا۔
” اب کسی طبیعت ہے؟” شہرزاد نے اپنے اعصاب کنٹرول کرتے ہوۓ قریب جھکے مكتوم شاہ کو دیکھا تھا جو محض فارمیلٹی نبھانے کےلئے فکرمند نظر آرہا تھا اس کو چپ دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا پھر دن بھر خاموشی ہی چھائی رہی لیکن شام کو وحید کاظمی کی فیملی اچانک آگئی تب تو وہ قدرے بہتر ہوچکی تھی لیکن بخار اور کمزوری کے اثار ابھی بھی باقی تھے۔
” واہ بھئی آپ کی دلہن تو ایسی حالت میں بھی ہوش اڑا رہی ہے” رومینہ نے برملا اظھار کیا تھا شہرزاد نے ان کے ساتھ نیچے ڈرائنگ روم میں جانا چاہا مگر ان لوگوں نے روک دیا کہ باہر کافی سردی ہے وہ بیمار ہے اس لئے اس کے لئے بستر میں رہنا ہی ٹھیک تھا مكتوم البتہ وحید انکل کے پاس چلا گیا تھا۔
” آپ بیٹھیں ناں آنٹی” مسز کاظمی کو بھی اٹھتے دیکھ کر بے ساختہ شہرزاد کو بولنا پڑا تھا۔
” نہیں بیٹا تم لوگ بیٹھو ہم بوڑھے لوگ مس فٹ لگتے ہیں انجواے کرنے کے دن تم لوگوں کے ہیں” مسز کاظمی پیار سے شہرزاد کا گال تهپك کر مسکراتی ہوئی چلی گئیں وہ دل کی مریضہ تھیں کچھ عرصہ پہلے ان کا بائی پاس ہوا تھا اور ابھی بھی وہ مکمل ٹھیک نہیں ہوئی تھیں پھر بھی ان کے چہرے پر بشاشت اور سکون کا پہرہ تھا وہ بہت گریس فل تھیں شہرزاد کو اپنی ماں کا خیال آگیا اور آنکھیں نم ہوگئیں تھیں۔
” بھابی آپ کو آتے ہی بیمار نہیں ہونا چاہیے تھا بھائی تو بور ھوگئے ہونگے؟” امینہ نے معصومیت سے کہا تھا اور وہ لفظ بھابی پر چونک گئی ایک نیا رشتہ ایک نیا تعلق ایک نیا نام مل رہا تھا لیکن کس کے حوالے سے مكتوم شاہ کے ساتھ ایسا بندهن بندھ جاۓ گا اس نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا۔
“بھابی لگتا ہے آپ کو ابھی بھی آرام کی ضرورت ہے ہم نے آپ کو ڈسٹرب کردیا ہے” اسے سوچوں میں گم دیکھ کر امینہ اور رومینہ مایوسی ہوئی تھی اور شہرزاد چونک گئی تھی۔
” نہیں نہیں میرا دھیان کہیں اور چلا گیا تھا تم لوگ بیٹھو اتنے دنوں بعد فریش چہرے دیکھ کر اچھا لگ رہا ہے” اس نے رومینہ کا ہاتھ پکڑ لیا تھا” اور پھر دونوں بہنوں کی باتیں اور شرارتیں شروع ہویں کہ شہرزاد اتنے غم اور طبیعت خراب ہونے کے باوجود مسکرانے پر مجبور ہوگئی تھی وہ دو گھنٹے متواتر انہوں نے شہرزاد کو بھرپور کمپنی دی تھی بلاخر مكتوم ہی انکل کے کہنے انہیں بلانے آیا تھا۔
” بھابی ہم تو اپنے نیگ ولیمہ کے روز ہی لیں گے لیکن یہ تو بتایں بھائی سے آپ نے کیا لیا ہے؟ امینہ شرارت سے بولی تھی شہرزاد نے چہرہ جھکا لیا اس نے اسے اپنی عزت اپنی غیرت اپنا نام اور اعتماد سونپ دیا تھا اس کے علاوہ بھلا کس چیز کی ضرورت رہ جاتی تھی۔
” بھائی بھابی کو شوپنگ کب کروارہے ہیں؟” جاتے جاتے انہوں نے مكتوم کو اس بات کا احساس دلوادیا جو شاید اسے خود سے کبھی یاد نہ اتا کیوں کہ یہ سچ تھا کہ شہرزاد گھر سے کچھ بھی لیکر نہیں آئی تھی لیکن اس بات کا اسے دھیان ہی نہیں تھا اور وہ تین روز سے انہی کپڑوں میں نظر آرہی تھی اور اگلے دن اس نے سب سے پہلا کام یہی کیا تھا۔شہرزاد کو چلنے کا کہا مگر وہ انکار کر گئی اس میں اتنی سکت نہیں تھی کہ مارکیٹ جا کر اپنے لئے کچھ پسند کر لیتی سو مجبوراً مكتوم شاہ کو یہ مشکل ترین کام سر انجام دینا پڑا۔
” تمام شوپنگ بیگ سمیت وہ بیڈ روم میں آیا تھا وہ تولیہ سے منہ پونچھتی باتھ روم سے نکل رہی تھی۔
” ان چیزوں میں سے یقیناً بہت سی چیزیں کم ہونگی لیکن جو کچھ میرے دھیان میں آیا وہ لے آیا ہوں کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو بتا دینا لے آؤں گا۔
” وہ سب کچھ بیڈ پڑ ڈھیر کر کے چلا گیا تھا اور شہرزاد یونہی چیزیں دیکھنے لگی تین چار نفیس سے ڈریس ، سینڈل ، چپل ، تولیہ ، برش بلکہ ضرورت کی تمام اشیا موجود تھیں اور شہرزاد کا چہرہ سرخ اور نظر جھک گئی تھی جسے ہر چیز کا پتہ ہو اسے بتانے کا کیا فائدہ؟ وہ خفت سے سوچتی ہر چیز اٹھا کر الماری میں رکھنے لگی اور اتنے میں ٹیبل پر رکھا مكتوم شاہ کا موبائل فون بج اٹھا وہ موبائل اٹھا کر مكتوم کو دینے کا ارادہ رکھتی تھی مگر مومنہ پھپو کا نمبر دیکھ کر صبر نہ ہوا اور کال ریسیو کرلی۔
“ہیلو پھپو” اس کا لہجہ ایک پل میں بھیگا تھا۔
” شہرزاد کسی ہو بیٹا؟” مومنہ پھپو کو تمام حالات کا علم ہو چکا تھا۔
” میں۔ ۔۔۔۔۔میں بلکل ٹھیک” حلق سے آنسو اترنے لگے تھے ۔
” ارے نہیں میری جان روتے نہیں ہیں بہادر بنو اللہ تعالیٰ نے بہت کرم کیا ہے عزت بھی بچ گئی اور زندگی بھی انشااللہ آئندہ بھی بہتر کرے گا”۔ انہوں نے تسلّی دی تھی۔
” پھپو سب مجہے ۔۔۔۔ناپاک۔۔۔۔۔وہ کہتے کہتے رو پڑی اور اتنی شدّت سے روئی کہ مومنہ پھپو کچھ دیر بول ہی نہ پائیں تھیں وہ اس کا دکھ سمجھ رہی تھیں شہرزاد کا آغوا اس کے دامن کو مشقوق کر گیا تھا سب کی نظروں میں اس کی پاکیزگی فنا ہو چکی تھی۔
” بیٹا یہ سب کی گندی سوچ ہے گندی ذہنیت ہے تم پریشاں مت ہو بلکہ اللہ کا شکر ادا کرو مكتوم تمھارا ہمسفر بنا ہے اور وہ ایسی گھٹیا سوچ نہیں رکھتا وہ ہمیشہ تمہاری عزت اور قدر کرے گا مجہے اس پر فخر ہے اس نے اتنا بڑا اور مضبوط قدم اٹھا کر دل خوش کردیا ہے۔” وہ اسے سمجھا رہی تھیں اور انہوں نے اور بھی نجانے کیا کچھ سمجھایا تھا لیکن شہرزاد کچھ بھی نہ سن رہی تھی اس کے زخم پھر سے ادھڑ گئے تھے.
” شہر زاد ہمیں تم سے یہ امید نہیں تھی تم تو بلکل ہی ہمت ہار بیٹھی ہو ، بیٹا اپنے آپ کو سمبھالو حالات کو فیس کرو دیکھو وہ بھی تو ہے تمھارے لئے اتنے لوگوں کے سمنے ڈٹ گیا سب کچھ چھوڑ دیا ہے لڑکیوں کو ایک نہ ایک دن
سسرال جانا ہی ہوتا ہے اپنے ماں باپ بہن بھائی سب کو چھوڑنا ہی ہوتا ہے لیکن کوئی مرد کسی کے لئے اپنے اباؤ اجداد چھوڑ دینے کا حوصلہ کبھی نہیں کرسکتا جتنی اکیلی اور پریشاں تم ہو اتنا ہی اکیلا اور پریشان وہ بھی ہے لیکن پھر بھی ثابت قدمی کا ثبوت دے رہا ہے تم دونوں کو اچھے طریقے سے زندگی کی شروعات کرنی چاہیے پہلے بھی تم دونوں لاہور میں ہی رہتے تھے لیکن فرق اتنا ہے اب ساتھ ہو، ایک ساتھ چلو ایک دوسرے کا احساس کرو اگر احساس ہوگا تو محبت بھی ہوگی سمجھ رہی ہونا؟ وہ مدهم آواز میں شہرزاد کو سمجھا رہی تھیں اور حتیٰ لامکان ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کررہی تھی یعنی اب اسے مكتوم شاہ کے ساتھ مغرور سی کزن نہیں بیوی بن کر رہا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
” اور پھر وہ شہرزاد جو کبھی اپنے گهمنڈ ، غرور ، ہٹ دھرمی اور ضد سے نیچے آنے کا کبھی سوچتی بھی نہیں تھی اس نے اپنا آپ ہر چیز کے نیچے دبا دیا تھا وہ خاک ہوئی تھی سو اس نے اپنے آپ کو خاک کردیا تھا کیوں کہ وہ جان چکی تھی کہ انسان خاک ہے مٹی کا پتلا ہے اب وہ کانچ کا پیکر یا پتھر کا مجسمہ بننے کی کوشش کرے گا بھی تو اپنی ہی خاک کو دھول اڑاے گا اور جب اپنی ہی دھول اڑتی ہے تو بڑی تکلیف ہوتی ہے اور اس تکلیف کو وہ سہہ چکی تھی اس لئے اب خاک کو خاک سمجھنے کا ہنر اگیا تھا اور یہ بھی سمجھ اگیا تھا کہ وہ گزشتہ زندگی میں کیا کیا غلطیاں کرتی رہی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان غلطیوں سے اس وقت سمبھلتا ہے جب کوئی بڑی ٹھوکر کھاتا ہے وہ بھی یہ ٹھوکر کھا چکی تھی سو اب قدم سمبھل چکے تھے اور وہ مكتوم شاہ کے وسیع ظرف کی متعرف ہوچکی تھی وہ خود کو اس کے سامنے نظر اٹھانے کے قابل بھی نہیں سمجھتی تھی وہ اس کی مجرم اور گنہگار تھی اور اسی وجہ سے ابھی تک دونوں میں اجنبیت تھی اور یہ اجنبیت سب سے زیادہ مكتوم کی طرف سے تھی وہ اس تمام ضرورتیں پوری کر کے خود کو ابھی سے لا تعلق رکھے ہوے تھا مگر شہرزاد اس سے لا تعلق نہیں تھی اس نے اس گھر سے اور اس گھر کے مالک سے جڑے ہر تعلق کو قبول کرلیا تھا کیوں کہ وہی اس کی زندگی اور زندگی کا حاصل تھا اسے لگ رہا تھا کہ اسے بی وجہ ہی محبت ہو چلی ہے۔
” وہ مكتوم شاہ کی سرد و سپاٹ کیفیت سے کبھی کبھی گھبرا جاتی تھی لیکن پھر خود ہی اپنے آپ کو تسلیاں دینے لگتی تھی اور ان تسلیوں میں امینہ اور رومینہ کا بھی ہاتھ تھا وہ شہرزاد کا نئی زندگی کی شروعات میں کافی زیادہ ساتھ دے رہی تھیں اور انہوں نے مكتوم کے منع کرنے کے باوجود گھر ایک چھوٹی سی ولیمہ کی پارٹی رکھ لی تھی اور اس تیاری میں وحید انکل بھی پیش پیش تھے ان کی چار بیٹیاں تھیں دو شادی شدہ تھیں اور کینیڈا میں مقیم تھیں۔ اور دو ابھی تک غیر شادی شدہ اور ہواؤں میں اڑتی پھر رہی تھیں دونو ہی بی حد شرارتی تھیں ان کو دیکھ کر مكتوم کو زرش اور سحرش کا خیال اتا تھا اور پھر کبھی کبھی تو دل میں یہ خواہش بھی آہ بھر کہ رہ جاتی تھی کہ کاش میری بھی کوئی بہن ہوتی اور وہ اسے ڈھیروں پیار کرتا لیکن وہ جب اسے اپنا بھائی کہتیں تو اسے اچھا لگتا تھا۔ آج تو کچھ زیادہ چمک رہی تجین بیڈ روم میں گهسی ہوئی تھیں ۔
” دل تھام لیجئے ہم بھابی کو نیچے لا رہے ہیں” رومینہ نے شرارت سے چھیڑا تھا وہ وحید انکل کے سامنے ان کی چھیڑ چھاڑ سے نہ چاھتے ہوۓ بھی نروس ہونے لگا تھا۔
” کیوں شرم آرہی ہے” اتنے لوگوں کے سامنے شادی کے لئے لڑتے جھگڑتے شرم نہیں آئ” وحید کاظمی بیٹیوں سے بڑھ کر تھے۔
” انکل ایک بات پوچھوں؟” وہ شرٹ کے بازو فولڈ کرتے ہوۓ نارمل انداز میں بولا تھا۔
” پوچھو آج بہو کی خوشی میں اجازت ہے”
” آپ ایسے کاموں میں کچھ زیادہ ہی خوش رهتے ہیں کسی کی خفیہ شادی اور کسی کا چار دیواری میں ولیمہ کروا کے کہیں ایسا ہی کوئی خفیہ کام؟”مكتوم نے بات ادھوری اور ذو معنی کہی تھی اور وحید انکل کا قہقہ فلك شگاف تھا وہ اس کی چوٹ سے محفوظ ہوۓ تھے۔
” بیٹا چار چار بیٹیوں کا باپ ہوں اب ایسے خفیہ کام کروں بھی تو یہ پکڑ لیں گی اس لئے دوسروں کو دیکھ کر ہی خوش ہوجاتا ہوں” انہوں نے قریب آتی شہرزاد کے سر پر دست شفقت رکھا تھا اور مكتوم نے دیکھا کے وہ کس کے سر پر ہاتھ رکھ رہے ہیں اور اس دیکھنے دیکھنے میں سب کی نظروں میں اگیا تھا وہ گولڈن اور گرین كمبی نیشن کی انتہائی نفیس اور کامدار ڈریس میں تھی اور نفاست سے کئے گئے میک اپ اور هلكی پهلكی جیولری میں سچ مچ مدہوش کرنے کے در پہ تھی امینہ نہ چونکاتی تو یقیناً وہ نظر نہ ہی ہٹا پاتا۔
” نیگ ذرا بھاری والا تیار رکھیں اتنی محنت کی ہے ہم نے ” دونو بہنون نے انفارم کیا تھا اور وہ ان کی محنت اور محبت کا حق سمجھ کر سر ہلا چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس نام نہاد ولیمہ کی رات وہ کمرے میں ہی نہیں گیا تھا رات بھر ڈرائنگ روم میں سگریٹ پھونکتے ہوۓ سوچوں میں الجھا رہا تھا کیوں کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھا لینے کے بعد بھی شہرزاد کی طرف سے اپنا دل صاف نہیں کر سکا تھا اسے آج بھی اپنی ماں کے دامن پر اچھا لے جانے والے کیچڑ کے داغ بے چین کیے رکھتے تھے وہ آج بھی اس کی حقارت اور نفرت سوچتا تو پور پور جل اٹھتا تھا اس کی رگ رگ میں آگ بہنے لگتی تھی۔ وہ شہرزاد کی طرف مائل بھی ہونا چاہتا تو نہیں ہوسکتا تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا وہ اسے نا پسند کرتی ہے وہ شاید ارمغان کو چاہتی ہو اسے سوچتی ہو ایسے میں وہ اس پہ اپنا استحاق اور تسلط نہیں جمانا چاہتا تھا وہ اسے تو قبول کر چکا تھا لیکن اس کی بہت سی چیزوں کو قبول نہیں کر پا رہا تھا وہ عجب دوراہے پڑ کھڑا تھا اور یہ دوراہا تو جوانی کی پہلی نظر سے چلا آرہا تھا ایک طرف دل تھا تو ایک طرف دماغ ایک طرف شہرزاد تھی تو ایک طرف ماں باپ ایک طرف بے خودی تھی تو ایک طرف بے رخی اور وہ ہمیشہ اس “تو” کے بعد کو باتوں کو مانتا آرہا تھا اس نے ہمیشہ دماغ کا کہنا مانا تھا اس نے ہمیشہ ماں باپ کو چاہا تھا اس نے ہمیشہ بے رخی پہ . یقین رکھا تھا بے خودی کو تو وہ ہمیشہ خود ہی اپنے قدموں تلے روند ڈالتا تھا اسی لئے اب اس دوراہے سے خود کو ہٹانے کے لئے اپنے آپ سے ہی الجھ پڑ رہا تھا۔
” اور ایک وہ تھی جو اکیلی ہی سمبھل گئی تھی اور اپنے اچھے برے کو جاننے کے قابل ہوگئی تھی اس نے رات بھر اس کا کا انتظار کیا تھا وہ اتنا سنگدل ہوچکا تھا اس کو ایک نظر دیکھنے کی غرض بھی نہیں رکھتا تھا وہ اپنی موجودہ زندگی پہ دو آنسو بہا کر تلخی سے مسکرائی تھی۔
” جو بویا ہو وہ تو کاٹنا ہو پڑتا ہے محترمہ شہرزاد” اس نے خود کلامی سی کی اور آہستہ آہستہ تمام زیور اتارنے لگی تھی ایک اور صبح کنارے آلگی تھی اور ایک نیا دن نئی رات کو ڈھونڈنے نکل چکا تھا شاید اسے رات مل ہی جاتی مگر اپنا آپ گنوا کر بلکل ایسے جیسے محبت انسان کے دل کو کھا کر جوان ہوتی ہے پھر محبت تو رہتی ہے مگر دل نہیں رہتا اسی طرح رات تو رہتی ہے دن نہیں رہتا جیسے۔۔۔۔۔۔جیسے شہرزاد تو رہ گئی تھی مگر مكتوم نہیں رہا حالاںکہ وہی تو اسے ڈھونڈنے نکلا تھا اور ڈھونڈ کر خود کھو گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفتہ رفتہ خود بخود زندگی روٹین پر آتی چلی گئی تھی اور ان دونوں کو ہی پتہ نا چلا کہ کیسے سب کچھ نارمل اور اپنے اپنے مقام پر فٹ ہوگیا تھا اور وہ اپنا آفس سمبھال رہا تھا اور وہ گھر سمبھال چکی تھی اگرچہ مكتوم نے اسے یونیورسٹی جوائن کرنے اور اپنا آخری سیمسٹر کلئیر کرنے کی اجازت بھی دی اور اصرار بھی کیا تھا مگر وہ اونچے اونچے سپنے اور خود کو بہت آعلیٰ چیز سمجھنے کے دور سے نکل آئی تھی جب اسے اس چار دیواری کے لئے ہی جینا تھا تو وہ اس چار دیواری کو ہی اپنا بنا کر رکھنا چاہتی تھی اب خود کچھ بن دکھانے کا شوق جاتا رہا تھا اب بیوی بن کر دکھا دیتی یہی کامیابی تھی۔
” آج اتوار تھا اور وہ گھر پہ ہی تھا شہرزاد سارے کام کر کہ اپر چلی گئی تھی اس کا ارادہ بیڈ روم صاف کرنے کا تھا مگر مكتوم لاونج میں بیٹھا بے دھیانی اور سستی سے ٹی وی دیکھنے میں محو تھا اتوار کو کوئی کام نہیں ہوتا تھا اور وہ گھر پر بور ہوجاتا تھا ابھی بھی ڈھیلے ڈھالے براؤن کلر کے شلوار سوٹ میں وہ صوفے پہ نیم دراز لیٹا چینل سرچ کررہا تھا جب موبائل بج اٹھا تھا۔
