Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Last Episode)Part 1,2

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

حمزہ کو سب کچھ اپنی بہن سےپتا لگ چکا تھا۔ وہ دیکھ سکتا تھا کہ اس کی ماں شرمندہ ہے تو اس نے انہیں سمجھانے کا فیصلہ کیا کہ وہ سب سے معافی مانگ لیں۔ وہ گم صم بیٹھی تھیں حمزہ ان کے پاس آیا اور بولا

امی جی مجھے معاف کر دیں آپ کی سچائ بتانے کے علاؤہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا میں نے بہت کوشش کی کہ سب کو سچ بتائے بغیر ہی ایمان سے رشتہ توڑ دوں لیکن ایسا ممکن نہیں ہو سکا مجھے معاف کر دیں میں نہیں چاہتا تھا کہ آپ نفرت میں آندھی ہو کے ایک معصوم کی زندگی خراب کریں۔ اور ماں جی آپ کو یہ سب کر کے کیا ملا آپ نے ایمان کو تکلیف دینے کے چکر میں اپنے بیٹے کی خوشیاں داؤ پہ لگا دیں

عائشہ نے حیران ہو کے اپنے بیٹے کو دیکھا

ان کی آنکھوں میں لکھی تحریر دیکھ کے حمزہ بولا

امی جی میں فاطمہ کو بچپن سے پسند کرتا تھا۔ جس دن آپ نے مجھے اشعر اور فاطمہ کی منگنی کا بتایا میں اس دن آپ سے فاطمہ کے گھر میرا رشتہ لیجانے کی بات کرنے والا تھا لیکن اس کے رشتے کا سن کے میں چپ ہو گیا۔

اس لمحے عائشہ نے شرمندگی کے مارے آنکھیں بند کر لیں مکافات عمل شاید اس کا نام ہے انہوں نے دوسروں کی بیٹی کو تکلیف دینی چاہیے بدلے میں ان کا اپنا بیٹا تکلیف میں تھا اور اپنی سچائ سامنے آنے کے بعد وہ اپنے بیٹے سے نظر بھی نہیں ملا پا رہی تھیں۔ یہ سب سن کے وہ زار وقطار روتے ہوئے بولیں

بیٹا مجھے معاف کر دو میں نفرت میں اندھی ہو گئ تھی۔ حمزہ نے انہیں کھل کے رونے دیا جب وہ چپ ہو گئیں تو بولا

امی ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا آپ غزالہ انٹی اور نانی جان سے فاطمہ کا رشتہ مانگ لیں کیونکہ میں جانتا ہوں فاطمہ اشعر کے ساتھ خوش نہیں رہ سکے گی اور بغیر کسے متبادل کے بغیر سب کچھ جانتے ہوئے بھی شاید وہ لوگ اشعر اور فاطمہ کا رشتہ توڑنے کیلئے تیار نا ہوں

لیکن بیٹا میں

امی آپ کوشش تو کریں ان سے معافی مانگ لیں اس کے بغیر آپ کا دل بھی پرسکون نہیں ہو پائے گا۔ یہ کام مشکل تھا لیکن اب ان کے بیٹے کی بھی خوشیوں کا سوال تھا تو انہیں یہ کام کرنا ہی تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ ہی دن تک عایشہ بیگم دوبارہ گاووں گئیں۔ خوش قسمتی سے انہیں وہاں غزالہ بھی مل گئیں۔ حمزہ ان کے ساتھ ہی وہاں آیا تھا۔ عایشہ کو دیکھ کے سب لوگ منہ پھیر کے جانے لگے تو اشعر بلقیس بیگم کے ھاتھ تھامتے ہوئے بولا

مجھے معاف کردیں نانی امی میری وجہ سے آپ کی طبیعت اتنی خراب ہوئ

نہیں پتر تیری کوئ غلطی نہیں سی

ماں جی اگر آپ مجھے اپنا بیٹا سمجھتی ہیں تو پلیز ایک دفعہ عائشہ کی بات سن لیں۔ بلقیس بیگم بھی بھتیجی پہ ھاتھ اٹھا کے پریشان تھیں اور بھتیجی کے چہرے سے جان گئی تھیں کہ وہ شرمندہ ہے تو اسے ایک موقع دیتے ہوئے بولیں ٹھیک ہے پتر

عائشہ ماں جی کے پیر پکڑ کے بیٹھ گئیں ماں جی مجھے معاف کر دیں۔ میں نفرت میں آندھی ہو گئ تھی اپنی محبت کا ناجائز فائدہ اٹھاتی رہی اتنے سال مجھے معاف کر دیں اور زارو قطار رونے لگیں۔

ان کواس قدر تڑپ تڑپ کے روتا ہوا دیکھ کے وہاں موجود سب لوگوں کی آنکھیں بھی اشک بار ہو گئیں۔

نا پتر رو نا میں تینوں معاف کیتا اصل دکھ تے تو شگفتہ نوں دتا اے اودھے کالوں معافی منگ۔ بلقیس بیگم نے انہیں ساتھ لگا لیا۔ عایشہ نے باری باری غزالہ اور فریدہ سے بھی معافی مانگی انہوں نے بھی یہ ہی بات کی کہ شگفتہ سے معافی مانگو۔ انہوں نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ ان سے بھی معافی مانگ لیں گیں۔ کافی دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بھی عائشہ شرمندگی کے مارے فاطمہ کا رشتہ مانگنے کی بات نا کر سکی تو اشعر اپنی ماں کی جھجھک کو دیکھتے ہوئے غزالہ کے پاس گیا اور بہت احترام سے بولا

انٹی مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی

وہ حیرت سے بولیں ہاں بیٹا بولو

انٹی میں فاطمہ سے شادی کرنا چاہتا ہوں

لیکن بیٹا فاطمہ کا رشتہ تو۔

حمزہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولا انٹی میں جانتا ہوں کہ فاطمہ اور اشعر کا رشتہ بچپن سے طہ ہے لیکن آنٹی آپ کی بیٹی اشعر کے ساتھ خوش نہیں رہ پائ گی کیونکہ اشعر ایمان کو پسند کرتا ہے آپ اب یہ بات جان گئ ہیں

اب کہ وہ بلقیس بیگم کے سامنے جھکا نانی میں فاطمہ کو بہت خوش رکھوں گا کیونکہ جہاں ایمان اشعر ایک دوسرے کو بچپن سے پسند کرتا ہے میں بھی بچپن سے فاطمہ کو پسند کرتا ہوں میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں فاطمہ کو کبھی کوئ تکلیف نہیں پہنچنے دوں گاں۔

وہاں موجود فریدہ بیگم بولیں ٹھیک ہے بیٹا ہم فاطمہ سے پوچھ کے ہی کوئ جواب دے سکتے ہیں۔ حمزہ کی باتیں فاطمہ نے بھی سن لی تھیں۔ حمزہ اور عائشہ کے جاتے ہی فاطمہ اپنی ماں کے پاس آئ اور بولی ماں جی مجھے حمزہ سے شادی سے کوئ اعتراض نہیں جب اشعر مجھے پسند ہی نہیں کرتا تو میں اس کے ساتھ کیا خوش رہ پاؤں گی ویسی بھی شادی اس سے کرو جو آپ سے محبت کرتا ہو۔ اور میں جانتی ہوں کہ حمزہ کی محبت جلد ہی مجھے بھی اس سے محبت کرنے پہ مجبور کر دیگی۔ انہوں نے یہ بات بڑوں تک پہنچا دی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کچھ دن تک سب لوگوں کا اشعر کے لیے ایمان کا رشتہ لینے جانے کا ارادہ تھا۔ لیکن یہ بات اشعر اور ایمان سے چھپا کے رکھی گئ۔اس وقت سب لوگ فرقان صاحب کے گھر پہ موجود تھے۔ فرقان صاحب اور شگفتہ کو بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ کس مقصد کیلئے آئے ہیں۔ ان کے ساتھ عائشہ کو دیکھ کے شگفتہ ایک لمحے کیلئے ٹھٹکی لیکن وہ سب سے سلام لے کے انہیں اگنور کر کے فرقان صاحب کے ساتھ جا کے بیٹھ گئیں۔ انہوں نے ایمان کو وہاں سے بھیج دیا۔ فریدہ بیگم نے ہی بات کا آغاز کیا

شگفتہ آج میں اپنے بیٹے کیلئے ایمان کا ھاتھ مانگنے آئ ہوں

لیکن آپا اشعر کی تو فاطمہ سے منگنی ہونے والی ہے۔

وہ ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے بولیں میں جانتی ہوں لیکن ہم سب کا مشترکہ فیصلہ یہ ہے کہ جب اشعر اور ایمان ایک دوسرے کو پسند کرتا ہیں تو فاطمہ سے اشعر کا رشتہ کیوں جوڑا جائے

لیکن بھابھی میں نہیں چاہتی کہ میں فاطمہ کا رشتہ توڑ کے اپنی بیٹی کا دل آباد کروں۔

اس وقت بلقیس بیگم اور وہاں موجود سب لوگوں کو شگفتہ پہ رشک آیا کہ وہ اپنی بیٹی کی خوشی جاننے کے باوجود کسی اور کی بیٹی کا پہلے سوچ رہی تھیں۔ فرقان صاحب کے دل میں اپنی بیوی کیلئے عزت اور بھی بڑھ گئ۔ ہمیشہ وہ ان کی ڈھال بنا کرتے تھے آج انہوں نے یہ معاملہ اپنی بیوی پہ چھوڑ دیا کہ وہ اب یہ معاملہ طہ کریں گی۔

اب کے بلقیس بیگم بولیں پتر گل اے وے کہ حمزہ فاطمہ نال ویاہ کرنا چاہندا اے تے اسی فاطمہ کولوں پچھیا انہوں کوئ اعتراض نہیں۔

اب کے عایشہ شگفتہ بیگم کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولیں شگفتہ مجھے معاف کر دو میں تم سے بدلے لینے کے چکر میں اپنے بیٹے کا بھی دل اجاڑنے کے چکروں میں تھی۔ جیسے تمھاری بیٹی اشعر کو پسند کرتی ہے میرا بیٹا فاطمہ کو پسند کرتا ہے اور میری آنکھوں پہ نفرت کی پٹی پڑی تھی کہ میں اپنے بیٹے کی خوشی دیکھ نہیں پائ میں تم سے ریکوسٹ کرتی ہوں کہ تم اس رشتے کیلئے مان جاؤ اور مجھے معاف کر دو ۔ ویسے تو میں نے تمھیں بہت تکلیف دی ہے میں معافی کے لائق بھی نہیں ہوں لیکن پھر بھی تمھارا دل بہت بڑا ہے مجھے معاف کر دو تب ہی شاید میرے دل کو سکون مل سکے۔

شگفتہ بیگم کیلئے انہیں معاف کرنا اتنا آسان کام نہیں تھا لیکن ان کے آنسو اور جڑے ہوئے ھاتھ دیکھ کے انہوں نے اسے معاف کرنے کا ارادہ کر لیا۔

وہ سب کو دیکھتے ہوئے بولیں ٹھیک ہے مجھے اس رشتے سے کوئ اعتراض نہیں اور عائشہ میں نے تمھیں معاف کیا اللہ بھی تمھیں معاف کرے۔ انہوں نے بہت دقت سے یہ الفاظ بولے تھے زبان سے تو معاف کرنے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن دل سے سب بھلانے میں ابھی کچھ وقت لگنا تھا۔ وہیں بیٹھے بیٹھے سب لوگوں نے اشعر اور ایمان کی بھی منگنی طہ کردی حرا کی مہندی والے دن جو کہ ایک ہفتے بعد تھی۔ لیکن بلقیس بیگم نے یہ بات اشعر اور ایمان سے چھپائے رکھنے کی درخواست کی۔ کیونکہ انہیں اشعر سے اس بات کا گلہ تھا کہ اس نے انہیں بھی اپنی پسندیدگی کا نہیں بتایا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حرا کی مہندی سے پہلے حرا کا نکاح اور اشعر اور حمزہ کی منگنی ہونا طہ پائ تھی۔ اس سب کے بارے میں اشعر اور ایمان کو بھنک بھی نہیں لگنی دی گئ تھی۔ ان کو عین وقت پہ ہی بتانے کا ارادہ تھا۔ البتہ ایمان اس بات پہ حیران تھی کہ اس کا مہندی پہ پہنے جانے والا جوڑا فریدہ پھپھو نے کیوں بھیجا تھا۔ اور یہ کہ کسی نے اشعر اور فاطمہ کج منگنی کی بھی بات نہج کی تھی لیکن اس نے اس بات پہ زیادہ غور نہیں کیا کیونکہ اس کے امتحان ایک ماہ بعد تھے اور وہ دادی کی طبیعت کی وجہ سے زیادہ پڑھ نہیں پائ تھی اسلیے اس کا ارادہ تھا کہ حرا کی شادی سے پہلے خوب پڑھ لے۔ پڑھائ کی وجہ سےایمان لوگ مہندی کی صبح ہی وہاں پہنچ پائے۔ وہاں سب لوگ افراتفری میں تھے کسی نے ایمان کو زیادہ لفٹ نہیں کروائی کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ شام سے پہلے کسی کے بھی منہ سے اسے اپنی منگنی کا پتہ چلے۔ ایمان جس کے بھی پاس جا کے بیٹھتی وہ بہانے سے تھوڑی دیر بات کر کے اٹھ کے چلا جاتا۔ اسی طرح شام کے 4 بج گئے۔ ان کا شام 6 بجے سے پہلے دونوں منگنیاں کر کے پھر حرا کا نکاح کرنے کا ارادہ تھا۔ نکاح کی ارینجمنٹ گاووں کے گھر کے بڑے سے صحن میں ہی کی گئی تھی۔ چاروں طرف بہت ہی خوبصورت سے آف وائٹ ٹیننت لگا کے سامنے کی طرف ایک سٹیج بنا دیا گیا تھا اور لوگوں کے بیٹھنے کیلئے میش اور کرسیاں رکھ دی گئ تھیں جن پہ ریڈ کلر کے کور تھے۔ اشعر اور عثمان اور فرقان صاحب صبح سے سارے کاموں میں مصروف تھے۔ فرقان صاحب اپنی نگرانی میں مہمانوں کیلئے کھانا بنوانے میں مصروف تھے اور اشعر سٹیج کی سجاوٹ اور ٹیبل اور کرسیوں کی ارینجمنٹ اپنی نگرانی میں کروا رہا تھا۔ ایمان تنگ آ کے اپنی ماما کے کمرے میں بیٹھ گئ کیونکہ اسے کوئ کام بھی نہیں کرنے دے رہا تھا۔ تقریبآ 4 بجے کے قریب شگفتہ بیگم عجلت میں کمرے میں آئیں اور ایمان کو فریدہ بیگم کا لایا ہوا لباس اور جیولری نکال کے دی۔

بیٹا تم تیار ہو جاؤ

لیکن ماما ابھی تو دو تین گھنٹے پڑے ہیں حرا کی مہندی شروع ہونے میں

ہاں بیٹا لیکن تم اپنی دادی اور فریدہ آپا کو جانتی ہو نا کہ تھوڑی سی بھی دیر ہو جائے تو وہ ناراض ہوتی ہیں تو میں چاہتی ہوں کہ تم پہلے سے تیار ہو کے بیٹھ جاؤ میں بھی بس کپڑے بدلنے ہی لگی ہوں۔

اوکے ماما۔

ایمان کپڑے پکڑ کے واشروم کی طرف چل پڑی۔ وہ چینج کر کے آئ تو اتنی دیر میں باہر بیوٹیشن اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ باہر آئ تو بیوٹیشن کو دیکھ کے حیران رہ گئ۔

آپ ادھر بیٹھ جائیں پہلے آپ کا میک اپ کروں پھر ئیر سٹایل بنا دیتی ہوں۔

لیکن ماما صرف مہندی ہے پہلے ہی ڈریس اتنا ہیوی ہے اس پہ میک اپ مجھے نہیں کروانا۔

ایمان چپ کر کے میک اپ کروا لو اور ہیر سٹائل بھی اب میں کوئ اگر مگر نا سنیں۔ انہیں اب اسے گھرکنا پڑا کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ایمان کو زیادہ میک اپ نہیں پسند

لیکن ماما

اب کے شگفتہ بیگم اس کے کندھے پہ پیار سے ھاتھ رکھتے ہوئے بولیں میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی آج بہت خوبصورت لگے۔

ماما کے اتنے پیار بھرے اسرار کے بعد ایمان چپ ہو گئ ۔ ڈیڑھ گھنٹے کی محنت کے بعد ایمان مکمل تیار بیٹھی تھی۔ شگفتہ بیگم اسے وہیں بٹھا کے یہ کہتے ہوئے باہر چلی گئیں کہ بیٹا ابھی باہر مت آنا میں آتی ہوں تو انا۔

اب جب ماما آئ تو ان کے ساتھ فریدہ بھی تھیں۔ فریدہ اس کی طرف بڑھ کے بہت پیار سے بولیں میری بیٹی بہت پیاری لگ رہی ہے اور اس کا ماتھا چوم کے باہر چلی گئیں۔ ایمان کو اب دال میں کچھ کالا لگ رہا تھا لیکن اسے سمجھ نہیں ایا۔ایک لمحے کیلئے اس کے زہن میں یہ خیال آیا کہ کہیں اس کی حمزہ کے ساتھ منگنی تو نہیں ہے ابھی جو یہ سب لوگ اس قدر پر اسرار ہو رہے ہیں۔ ابھی وہ یہ سوچ ہی رہی تھی کہ شگفتہ بیگم آگئیں اور اسے لے کے باہر چلی گئیں اور سٹیج پہ بٹھا دیا۔ وہاں اس وقت ایک طرف فاطمہ بھی اسی کی طرح تیار بیٹھی تھی اور اور اس وقت حمزہ بھی موجود تھا۔ سب مہمان بھی اس وقت کرسیوں پہ براجمان تھے ایمان ایک لمحے کیلئے اتنے مہمانوں کو دیکھ کے نروس ہوئ کیونکہ وہ اس سے پہلے اس قدر تیار نہیں ہوئ تھی۔ وہ اس وقت ریڈ اور گرین کانٹریکٹ کے نیٹ کے شرارے اور شارٹ فراک میں ملبوس تھی۔ اس کے ساتھ ہی میچنگ جیولری اور ھاتھوں میں بریسلٹ تھا۔ اشعر جو سارے انتظامات دیکھ رہا تھا۔ سٹیج کی طرف آتے ہوئے اس کی ایمان پہ نظر پڑی ایک دفعہ تو وہ ایمان کو اتنا سجا ہوا دیکھ کے ٹھٹھک کے رک گیا کیونکہ اس سے پہلے اس نے ایمان کو اتنا تیار نہیں دیکھا تھا۔ ابھی وہ دیکھنے میں ہی مگن تھا کہ پیچھے سے فریدہ بیگم آئیں اور اسے کھینچ کے اس کے کمرے میں لے گئیں بیٹا میں کب سے تمھیں ڈھونڈ رہی ہوں اچھا نہیں لگتا سب مہمان موجود ہیں اور دولہے کا بھائ ایسے ہی گھوم رہا ہے۔

کمرے میں جا کے اشعر نے اپنی ماں سے سوال کیا

ماں جی آپ نے پہلے نہی بتایا کہ آج میری اور حمزہ کی انگیجمنٹ بھی ساتھ ہے۔

بس بیٹا وہ تمھاری دادی کا پلین تھا کہ بچوں کو سرپرائز دیا جائے تم تیار ہو کے باہر آجاؤ۔ بس حرا کے سسرال والے بھی آنے والے ہیں۔

اشعر بےدلی سے تیار ہو کے باہر کی طرف چل پڑا۔

اشعر باہر آیا تو وہاں سٹیج پہ ایک طرف ایمان اور فاطمہ موجود تھیں دوسری طرف ایک طرف حمزہ موجود تھا۔ اشعر کو بھی حمزہ کے ساتھ بٹھا دیا گیا۔ اس وقت دادی اور اشعر اور ایمان کےگھر والے سب سٹیج پہ آکے بیٹھ گئے۔ دادی نے کہا چلو پتر بسم اللہ کرو مولوی صاحب وہ بس آندے ہی ہون گے۔ چل عائشہ پتر فاطمہ نوں اپنے پتر دے ناں دی انگھوٹی پا۔

عائشہ اٹھیں اور فاطمہ کے ھاتھ میں انگھوٹی ڈال دی ادھر سے غزالہ اٹھیں اور حمزہ کے ھاتھ میں انگھوٹی ڈال دی۔ اشعر اور ایمان حیران ہو کے دیکھنے لگے کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ انکے حیران پریشان شکلیں دیکھ کے وہاں موجود سب کی ہنسی چھوٹ گئ۔ اب کہ فریدہ بیگم بولیں سرپرائز بیٹا۔

ماما جو میں سمجھ رہا ہوں کیا وہ سچ ہے۔ اشعر ابھی بھی بےیقین تھا۔ بےیقین تو ایمان بھی تھی لیکن وہ اشعر کی طرح سوال کرنے کی ہمت نہیں کر پائ۔

اب کے بلقیس بیگم اشعر کے پاس آئیں اور اس کے کان مڑور کے بولیں پتر اے تیری سزا سی تو آنی وڈی گل اپنی دادی توں لکائ۔

اشعر اپنے کان چھڑاتے ہوئے بولا معاف کر دیو دادی اج توں بعد کوئ چیز نہیں لکاواں گا۔ اس کی شرکت بنتے دیکھ کے وہاں موجود سب لوگ ایک دفعہ پھر ہنس پڑے۔ اب کے ایمان کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ اگئ۔

چلو فریدہ منگنی کی رسم ادا کر لیں پھر حرا کا نکاح بھی کروانا ہے۔ فریدہ بیگم انگھوٹی لے کے ایمان کی طرف بڑھیں ابھی وہ انگوٹھی پہنانے ہی والی تھیں کہ اشعر بول پڑا

ماں جی ایک منٹ

فریدہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے اشعر کی طرف دیکھا۔ ایک ہی لمحے میں اشعر کے چہرے کی رونق لوٹ آئے تھی۔ اس کے چہرے پہ نظر آنے والی خوشی کو دیکھ کے فریدہ بیگم نے دل ہی دل میں ماشاءاللہ کہا اور اس سے نظر ہٹا لی کہیں انہیں اس کی ہی نظر نا لگ جائے۔

ماں جی منگنی کس کی ہے؟

بیٹا تمھاری۔ فریدہ بیگم کو اس کے بےتکے سوال پہ حیرت ہوئ

تو انگوٹھی کسے پہنانی چاہییے؟

اب کے فریدہ بیگم نے فرقان صاحب اور بلقیس بیگم کی طرف دیکھا انہوں نے سر کے اشارے سے کہا کہ ٹھیک ہے۔ تو فریدہ بیگم بولیں

بیٹا افکورس تمھیں۔

اب کے اشعر ایک لمحے کا نتظاد کیے بغیر اپنی سیٹ سے اٹھا اور ایمان کے ساتھ موجود جگہ پہ جا کے بیٹھ گیا فاطمہ کو پہلے ہی وہاں سے اٹھا کے دوسرے صوفے پہ بٹھا دیا گیا۔

اب انگوٹھی پہنانے سے پہلے اشعر کو خیال آیا کہ اسے سب سے پوچھنا چاہیے تو وہ فرقان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ماموں جی آپ کو تو کوئ اعتراض نہیں۔

وہ ہنس کے بولے

نہیں بیٹا ایمان عنقریب آپ کی بیوی بننے والی ہے مجھے کیا اعتراض ہو گا۔ اور آپ پہلے میرے بہت پیارے بیٹے ہو داماد تو اب بن رہے ہو تو بسم اللہ کرو۔

اشعر نے ایمان کی طرف جھک کے اس کا ھاتھ پکڑا اور انگوٹھی ال دی۔ اس کے ساتھ ہی اشعر نے ھاتھ آگے بڑھا دیا۔ ایمان نے کنفیوز ہو کے سب کی طرف دیکھا۔ سب کے چہرے پہ اسے مسکراہٹ نظر آئ اس نے جھجھکتے ہوئے اشعر کی انگلی میں انگوٹھی دال دی۔ اس کے بعدحرا کا نکاح پڑھا دیا گیا۔ نالے کے بعد دعا کے بعد ابھی مولوی صاحب کے جانے میں کچھ وقت تھا کہ اشعر فرقان صاحب اور اپنی ماں کی طرف بڑھا کہ

ماموں جی امی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔

وہ دونوں اس کے ساتھ ہو لیے۔ ہاں بیٹا بولو۔

اشعر ماموں کے پاس آتے ہوئے جھجھکتے ہوئے بولا۔

ماموں میں چاہتا ہوں کہ آپ آج میرا اور ایمان کا نکاح کردیں رخصتی اس کی پڑھائ کے بعد کر دیجئے گا یا جب آپ چاہیں۔ میں نہیں چاہتا کہ اب کوئ اور رکاوٹ ہمارے درمیان آئے پلیز ماموں جی آپ مان جائیں۔ فرقان صاحب کو اشعر کی اپنی بیٹی کیلئے اتنی محبت دیکھ کے رشک ایا۔ وہ پیار سے اس کے کندھے پہ ھاتھ رکھتے ہوئے بولے ۔

ٹھیک ہے بیٹا مجھے کوئ اعتراض نہیں۔ بس ماں جی اور باقی سب سے فریدہ تم پوچھ لو۔

فریدہ بیگم نے اپنی ماں کے کانوں میں یہ بات ڈالی انہیں کوئ اعتراض نہیں تھا۔ فرقان صاحب نے شگفتہ کو بتا دیا۔

ایمان جو ابھی اپنے کمرے میں آکے ٹھیک سے خوشی محسوس بھی نہیں کر پائی تھی۔ کہ شگفتہ کے ساتھ باقی خواتین آگئیں اور آتے ہی اسے بیڈ پہ بیٹھنے کا حکم دیا اور اس کے چہرے پہ چادر ڈال دی۔ شگفتہ بیگم اس کے سر پہ ھاتھ رکھتے ہوئے بولیں بیٹا آپ کا نکاح ہے۔ بس مولوی صاحب آنے ہی والے ہیں۔

تب ہی مولوی صاحب اندر آئے اور نکاح کے کلمات ادا کر کے اس سے قبول ہے کہنے کا بولے ایمان بہت کانپتی ہوئ آواز میں تین دفعہ قبول ہے کہ پائ۔ اس کے بعد اس سے دستخط کروا کے مولوی صاحب باہر چلے گئے۔ ایمان نکاح ہوتے ہی روتے ہوئے اپنی ماں کے گلے لگ گئ شگفتہ بیگم کی بھی آنکھیں نم تھیں۔

وہاں اشعر جو بےچینی کا شکار تھا مولوی صاحب کو باہر آتے دیکھ کے اس کے دل میں سکون اتر گیا ۔ اشعر سے بھی سائن کروائے گئے۔ اس کے بعد دونوں دلہنوں کو سٹیج پہ لایا گیا۔ اشعر کے چہرے سے تو مسکراہٹ ہٹنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ وہاں موجود سب لوگ اس کی چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کے خوش ہو رہے تھے۔ ایمان کو سٹیج پہ لایا گیا تو حمزہ نے اسے ھاتھ پکڑ کے اوپر چڑھایا۔ ایمان اس لمحے بہت کنفیوز ہوئ کیونکہ وہ اشعر کی نظروں کی محبت سے خود کو اس وقت پگھلتا ہوا محسوس کر رہی تھی۔ تصویریں اور سلامی کے بعد فاطمہ کی مہندی کا فنکشن شروع کیا گیا۔ ایمان تو اشعر کی نظروں سے کنفیوز ہو کے ماما کو کہ کے کمرے میں چلی گئ۔ لیکن کمرے میں بھی بہت لوگوں کا رش تھا تو وہ ماما کو کہ کے چھت کی طرف چل پڑی۔ آج ماما بھی اس قدر خوش تھیں کہ انہوں نے اسے رات کے اس وقت چھت پہ جانے سے بھی منع نہیں کیا۔ کیونکہ وہ اپنی بیٹی کی کیفیت سمجھ رہن تھیں۔ اشعر بھی سب سے نظر بچا کے شگفتہ بیگم کی طرف ایا۔

مامی میری بیگم کہاں گئیں۔

بیٹا بریک لو ابھی نکاح ہی ہوا ہے رخصتی تو نہیں۔ چلو آج تم نہیں مل سکتے بیٹا اسے میں نے چھپا دیا ہے ۔ وہ اسے تنگ کرتے ہوئے بولیں۔

کیا مامی آپ بھی ظالم سماج بن رہی ہیں۔

شگفتہ بیگم ہنستے ہوئے اس کے سر پہ تھپڑ لگاتے ہوئے بولیں بیٹا اپنے پسندیدہ مقام پہ ہے۔

اشعر سمجھ گیا کہ چھت پہ ہوگی۔

اشعر تشویش سے بولا اس وقت چھت پہ کیا کر رہی؟

بیٹا تمھاری بیگم ہے تمھاری ہی طرح اس کے سکرو بھی ڈھیلے ہیں

۔ شگفتہ بیگم کو اس کی محبت پہ پیار ایا۔ آنہیں یقین تھا کہ ان کی بیٹی اب محفوظ ھاتھوں میں ہے۔

وہ ایمان سے ملنے کے ارادے سے پلٹنے ہی لگا تھا کہ رکتے ہوئے مامی سے بولا میں ایمان سے مل سکتا ہوں آپ کو کوئ اعتراض تو نہیں۔

نہیں بیٹا مجھے کیا اعتراض ہو گا وہ اب تمھاری بیوی ہے۔ بس دھیان رکھنا اس وقت سب مہمان موجود ہیں۔ آپ جاؤ میں کسی کو چھت پہ نہیں آنے دوں گی۔

اشعر ان کے گلے لگ کے بولا۔ مامی یو آر گریٹ اور بھاگ گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ سب سے نظر بچا کے سیڑھیاں چڑھتا ہوا اوپر چلا گیا۔ اوپر جا کے ایمان اسے حسب معمول اوپر موجود کمرے کی پچھلی طرف ملی۔ اسے جب بھی سب سے چھپنا ہوتا تو وہ یہیں چھپتی کیونکہ چھت پہ آنے والا کوئ انسان بھی جب تک اس طرف نا آتا اسے چھت پہ کسی کی موجودگی کا پتا نہیں چلتا تھا۔ ایمان وہاں موجود دیوار کی طرف منہ کیے چھت پہ موجود چاند کی طرف دیکھ رہی تھی۔

اشعر کو شرارت سوجی وہ دبے پاؤں چلتا ہوا اس کے پیچھے جا کے کھڑا ہو گیا اور اس کی آنکھوں پہ ھاتھ رکھ لیا۔

ایمان تو ایک دم سے ڈر گئ لیکن چند لمحے جب آنے والا کچھ نہج بولا تو وہ جان گئ کہ یہ اشعر کی ہو گا کیونکہ صرف وہ ہی اسے اس ٹھکانے سے واقف تھا۔ تو کچھ سیکنڈ بعد وہ اپنے دل کی دھڑکن سنبھالتے ہوئے بولی

اشعر اپ۔

اشعر اس کے صحیح گیس پہ حیران نہیں ہوا۔ اب کے وہ اس کا رخ اپنی طرف کرتے ہوئے اور اس کی کندھوں پہ ھاتھ رکھتے ہوئے بولا۔

جی میں زوجہ محترمہ اور کون آپ کے اس ٹھکانے سے واقف ہے۔ اور آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں۔

وہ میں۔۔۔۔

اشعر ایمان کی بات کاٹتے ہوئے بولا کیا میں۔ میں جانتا ہوں میرا ہی انتظار کر رہی تھی تم۔ اشعر کو ایمان کا شرمایا شرمایا چہرہ بہت مزا دے رہا تھا۔ اسلیے وہ اسے مزید کنفیوز کر رہا تھا۔

ایمان سٹپٹا کے بولی

part 2

نہیں ایسی تو کوئ بات نہیں ہے میں بس کچھ دیر کیلئے اکیلا رہنا چاہ رہی تھی نیچے س لوگ بہت تنگ کر رہے تھے۔ وہ نہیں کہ پائ کہ سب لوگوں کے تنگ کرنے سے زیادہ وہ مسلسل اسے گھور کے اسے زیادہ تنگ کر رہا تھا۔

اشعر جانتا تھا کہ وہ اس سے ہی بھاگ کے یہاں چھپی تھی۔ اسلیے وہ اس کا چہرہ اٹھاتے ہوئے بولا

زوجہ محترمہ اب اپ مجھ سے بھاگنا چھوڑ دیں مجھے پتا تھا کہ منگنی کے بعد تو تم نے بالکل ہی ھاتھ نہیں آنا تو اس لیے میں نے ڈایریکٹ نکاح کروا لیا۔

ایمان مسلسل اس کی نگاہوں سے پزل ہو رہی تھی۔ جب اس سے کوئ جواب نا بن پڑا تو بولی

اشعر پلیز آپ مجھے تنگ نا کریں۔ اب کے اشعر کھل کے ہنسا۔ اس کی ہنسی سے ایمان کے چہرے پہ بھی ہلکی سی مسکراہٹ آگئ لیکن اس نے فوراً ہی چھپا بھی لی۔ اشعر جب کافی دیر ہنس چکا تو اب کے سنجیدہ ہوتے ہوئے بولا۔ خوش ہو۔

خوشی کا تو پتا نہیں لیکن مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا ۔ اب اشعر اس کے ساتھ ہی جا کے کھڑا ہو گیا تھا۔ کیونکہ وہ مزید اسے کنفیوز نہیں کرنا چاہتا تھا۔

یار یقین تو مجھے بھی نہیں آرہا لیکن یہ ہو چکا ہے تو ہم پہ اب سجدہ شکر واجب ہے۔

جی آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔

سوری یار میں تمھارے لیے کوئ تحفہ نہیں لا پایا۔

کوئ بات نہیں آپ کو پتا تھوڑی تھا بعد میں دے دینا۔ لیکن دینا ضرور۔

یہ کہتے ہی ایمان نے دانتوں تلے زبان دبا لی کیونکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس نے اشعر سے کسی بھی چیز کی فرمایش کی ہو ہو کوئ گفٹ کی بات بھی کرتا تو ایمان ٹال دیتی۔

اس کا ایک دم سے خاموش ہونا اشعر نے محسوس کر لیا تھا اور اسے اس کا ایسے کہنے پہ بہت خوشی بھی ہوئی تھی۔

یار چپ کیو کر گئ تم حق رکھتی ہو اب مجھ سے کچھ بھی کہنے کا۔ اور میں سے تحفے لینا بھی اب تمھارا حق ہے تو اس میں گھبرانے کی کوئ ضرورت نہیں ہے۔ اشعر نے اتنے پیار سے اسے کہا کہ اس کی آنکھوں میں خوشی کے مارے نمی اگئ۔ اشعر اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا۔

لو جی اب رونا شروع کر دیا۔ یار خوشی کے موقع پہ رونا

سوری یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔

تم لڑکیاں بھی عجیب ہو دکھ میں بھی روتی ہو اور خوشی میں بھی۔

آپ نہیں سمجھے گیں۔ اچھا اب نیچے چلتے ہیں کوئ آ ہی نا جائے اب ایمان کو وقت گزرنے کا احساس ہوا۔

یار کوی نہیں آئے گا مامی پہرا دے رہی ہیں۔

کیا؟ آپ نے ماما کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا۔

ایمان شرارت سے ہنستے ہوئے بولی

جی اب آپ کی کوئ ویلیو نہیں رہی اور اپنا کالر جھاڑا شوخی میں۔

اوہو ماما کیا سوچ رہی ہو گی آپ اتنی دیر سے ادھر ہیں۔ اب کے اسے عجیب سی شرم ائ

میری جھلی محبوبہ میں ان سے پوچھ کے آیا ہوں لیکن اب واقعی چلتے ہیں نیچے میری بہن کی مہندی چل رہی ہے تم بھی جاو۔

پلیز اب آپ آپ مجھے گھور گھور کے کنفیوز نہیں کریں گے۔

اوکے کوشش کروں گا۔ اشعر ہنستا ہوا بولا۔۔

اچھا ٹہرو میں پہلے جاتا ہوں تم کچھ دیر بعد انا۔

اوکے۔

ایمان نیچے ای تو سب لوگ حرا کو مہندی اور تیل لگانے میں مصروف تھے۔ ایمان بھی ان کے پاس جا کے بیٹھ گئ۔ اب اس کے چہرے پہ اطمینان تھا۔ اس کے چہرے کی مسکراہٹ دیکھ کے فرقان صاحب اور شگفتہ بہت خوش تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اگر اپنی نیت صاف رکھے تو اسے کسی بھی کام میں ناکامی نہیں ہوتی۔ شادی کے سارے فنکشن گزر گئے۔ اشعر کی چھیڑ چھاڑ جاری رہی۔ فنکشن اٹینڈ کر کے ایمان گھر آگئ اشعر بھی اپنے فورتھ ائیر کے پیپر کی تیاری میں مصروف ہو گیا۔ یونہی وقت گزرتا۔ منگنی ککے کچھ ماہ بعد فاطمہ کی بھی شادی ہو گئ۔ اشعر کا فاینل ایر بھی کمپلیٹ ہو گیا۔ لیکن اس نے ھاؤس جاب کیلئے جناح ھاسپٹل کا انتخاب کیا کیونکہ وہ اب ہر لمحے ایمان کے ساتھ رہنا چاہتا تھا تاکہ وہ کسی بھی مسئلے کا شکار نا ہو۔ وہ اسے ہتھیلی کا چھالہ بنا کے رکھتا۔ اسے کہیں بھی جانا ہوتا تو اشعر خود اسے لے جاتا وہ پڑھائ کو لے کے پریشان ہوتی تو خود اسے پڑھا دیتا یا کہیں باہر لے جا کے اس کا زہن بٹانے کی کوشش کرتا۔ یہاں تک کہ جب آگے ٹریننگ کیلئے ھاسپٹل کے انتخاب کا فیصلہ کرنے کی باری آئی تو اس نے ایمان والے ھاسپٹل کا ہی انتخاب کیا۔ اور ایمان بھی اس سارے عرصے میں اشعر کی اس قدر عادی ہو چکی تھی کہ اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی اس سے کرتی البتہ اشعر کا ابھی بھی پٹری سے اتر جانا اسے کنفیوز کر دیتا۔ لیکن اب اس نے اس سے لڑنا بھی سیکھ لیا تھا جو بات پسند نا آتی تو اس سے لڑنے بھی بیٹھ جاتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کے دو دن بعد فائنل ایر کے ایگزام تھے اور اس کے بعد رخصتی متوقہ تھی۔ حسب معمول اپنی پڑھائ کا رونا رونے کیلئے اس نے اشعر کو فون کیا۔

فون اٹھاتے ہی بولی

اشعر مجھ سے کچھ پڑھا نہیں جا رہا سب اتنا ڈرا رہے ہیں کہ میڈیسن کا پیپر بیت گندا آتا ہے میں کیسے کروں گی۔

اچھا یار رونے نا شروع ہو جانا ابھی۔ بس چند مریض رہ گئے ہیں میں ڈیڑھ بجے تک آتا ہوں۔ اشعر اس وقت مصروف تھا اس لیے زیادہ بات نہیں کر پایا۔

1:40 تک اشعر نے اسےفون کیا۔ یار میں گیٹ پہ کھڑا ہوں اپنی بکس لے کے آجاو۔ میں انتظار کر رہا ہوں

اوکے میں آتی ہوں

ایمان اپنی بکس لے کے نیچے چل پڑی جاتے ہوئے فریحہ بولی کدھر میڈم

یار وہ نیچے اشعر آئے ہیں میں ان کے پاس جا رہی ہوں

اوکے ہار ایک تو تمھیں ایگزام میں بھی عشق سوجھ رہا ہے

خبردار کوئ فضول بات کی ایک تو کب کا ایگزام کا خوفناک نکشہ کھینچ کھینچ کے مجھے ہولائ جا رہی ہو اوپر سے فضول باتیں۔

یار میں کب فضول باتیں کر رہی ہوں فریحہ شرارت سے بولی۔ لوگ ایکگزام میں پڑھتے ہیں اور تم اپنے مجازی خدا سے باتیں بگھارنے جا رہی ہو۔

حد ہو گئ اتنی دیر کی تمھارے ساتھ پڑھنے کی ہی کوشش کر رہی ہوں تم پڑھا کم ڈرا زیادہ رہی ہو تو بہتر ہے میں ان سے ہی جا کے پڑھ لوں ۔

اوکے اللہ حافظ میں تو چلی اشعر کا دوبارہ فون آرہا ہے۔

کہاں رہ گئ ہو یار۔

بس اگئ اشعر وہ فریحہ نے باتوں میں لگا لیا تھا۔

اوکے۔ میں نیچے ہی ہوں آجاو۔

اشعر نے پہلے تو اس کے ساتھ کیفے سے کھانا کھایا پھر اسے ھاسپٹل کے قریب واقع پارک کے قدرے پرسکون گوشے میں لے گیا جہاں کوئ آتا نہیں تھا۔ پھر کتابیں نکال کے اسے امپورٹنٹ ٹوپکس ریوایز کروانے لگا اور ایگزام کے حوالے سے کچھ پوائنٹس بتائے۔ انہیں پڑھتے پڑھتے شام کے 6 بج چکے تھے لیکن تب تک ایمان کی کافی تیاری ہو چکی تھی۔ ایمان کی تیاری اچھی تھی لیکن ویسے ہی وہ ایگزام کے دنوں میں گھبراہٹ کا شکار ہوجاتی تو ایسے ہی اشعر اسے پڑھا کے اس کی پریشانی دور کرتا۔ اب کے موبایل سے ٹایم دیکھتے ہوئے ایمان بولی

میں تھک گئی ہوں کچھ دیر کی بریک لے سکتے ہیں۔

ہاں ٹھیک ہے یار جسے بھی کچھ دیر تک ازان ہو جائے گی چلو کیفے سے چائے پی کے میں تمھیں باقی تیاری مکمل کروا دیتا ہوں

نہیں اشعر اب آپ جا کے ریسٹ کریں۔ سوری کل آپ کی لانگ کال تھی اور میں نے آپ کو اپنے پنجوں میں ڈال دیا اب آپ جا کے ریسٹ کر لیں۔ آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں

نہیں یار میں بالکل فریش ہوں اور اس وقت میری تھکن سے زیادہ تمھارا ایگزام امپورٹنٹ ہے مجھے رات دیر تک بھی تمھارے ساتھ جاگنا پڑے تو مجھے کوئ مسئلہ نہیں ہوگا۔ چھوڑو ان باتوں کو چلو کیفے چلتے ہیں۔

نہیں اشعر بس چائے پی کے آپ ھاسپٹل جا کے آرام کریں ویسے بھی میری زیادہ تر تیاری تو آپ نے کروا ہی دی باقی کل سہی۔

پکا نا اب پریشان تو نہیں ہو گی۔

آپ کے ہوتے ہوئے میں پریشان نہیں ہو سکتی۔

ایمان بہت کم ایسے جملے بولتی تھی لیکن ابھی وہ اشعر کی اپنے لیے فکر کو دیکھتے ہوئے خود کو یہ کہنے سے باز نہیں رکھ پائ۔

اشعر کو لگا کہ اس کی ساری رات بھر مریضوں کیلئے جاگنے کی ساری تھکن اس ایک جملے سےدور ہو گئی ۔

__________

ایمان اور اشعر کے ایگزام خیریت سے گزر گئے۔ اس کے ایگزام کے ایک مہینے بعد شادی کی تاریخ رکھی گئ۔ اور آج ان کی شادی کا دن تھا۔ اشعر اپنے دوستوں سے جان چھڑا کے کمرے کی طرف بڑھا تو اس نے کمرے کے سامنے اپنی بہن سمیت سب شریر کزنز کو کھڑے پایا۔ ہم۔اپ کو اس وقت تک اندر نہیں بڑھنے دیں گیں جب تک آپ ہمیں ہمارا نیگ نہیں دے دیتے۔ اب کونسا نیگ بھائ میں ایک غریب سا ڈاکٹر ہوں پہلے ہی آپ لوگ مجھے دودھ پلائ کی رسم میں کافی لوٹ چکی ہو اب میں پھوٹی کوڑی نہیں دینے والا۔ تب ہی شور سن کے حمزہ جووہاں سے گزر رہاتھاوہی چلا آیا۔حمزہ یار مجھے اپنی تھانےدارنی بیوی سے بچاؤ۔ آخر کو ایس پی ہو تمھارے پولیس میں ہونے کا کچھ تو فائدہ ہو مجھے بچا ان چڑیلوں سےتیری شادی پہ ان چڑیلوں سے میں نےہی تجھے بچایا تھا نا اب تیرا احسان اتارنے کی باری ہے چل شاباش انہیں لے کے جا یہاں سے۔ وقت کے ساتھ حمزہ اور اشعر کی دوستی بہت گہری ہو گئ تھی

حمزہ ہنستے ہوئے بولا اوکے باس

اب وہ فاطمہ کو پکڑتے ہوئے بولا یار نا تنگ کرو نا میرے دوست کو میری عزت رکھ لو ہماری شادی کے دن اس کی کوششوں سے میں تمھارے پاس اسکا تھا کمرے میں ورنہ تمھاری خونخوار دوست حرا تو مجھے تم سے کبھی ملنے نا دیتی۔ یہ باتیں سن کے حرا جو دروازے کا ہینڈل پکڑے کھڑی تھی غصے سے دروازے سے دور ہٹ کے حمزہ کی طرف ائ۔ حمزہ بھائ آپ

موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اشعر دروازے کا ھینڈل کھول کے ہنستے ہوئے اندر چلا گیا۔ جاتے ہوئے وہ حمزہ کو آنکھ مار کے بولا

شکریہ برو۔

حمزہ ہنستے ہوئے فاطمہ کو اپنے بازو کے گھیرے میں لے کے فاطمہ کے کمرے میں لے گیا۔

کمرے میں آکے فاطمہ خفگی سے بولی یہ تو چیٹنگ ہوئ نا آپ کو اپنی بیوی کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔

حمزہ اپنے کان پکڑتے ہوئے بولا سوری مسز حمزہ کا احسان تو چکانا تھا نا مجھے اور یار تم نیگ مجھ سے لے لو۔ تم سے مجھے پیسے تو پیارے نہیں ہیں۔ یہ کہتے ہوئے حمزہ نے اپنا والٹ نکال کے فاطمہ کے ھاتھ میں رکھ دیا۔

اب کے فاطمہ ہنستے ہوئے اس سے والٹ پکڑ کے واپس اس کی پوکٹ میں ڈالتے ہوئے اس کے گلے لگتی ہوئ بولی مسکا لگانا تو کوئ آپ سے سیکھے۔ تھینک یو حمزہ میری زندگی اتنی خوبصورت بنانے کیلئے مجھے اتنا پیارا بیٹا دینے کیلئے۔ وہ ایک پیار بھری نظر اپنے سوئے ہوئے 1 سال کے بیٹے احمر کی طرف ڈالتے ہوئے بولی

حمزہ اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے بولا یار تمھیں خوش رکھنا میرے فرائض میں سے ہے اور میں دوسروں کو انصاف دلاتا ہوں تو اپنی بیوی کے حقوق میں کوتاہی کیسے کروں۔ فاطمہ طمانیت سے مسکرا دی۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی وہ حمزہ سے محبت کرنے لگی تھی جس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشعر کمرے میں آیا تو ایمان کھڑکی سے باہر دیکھنے میں اس قدر مگن تھی کہ اسے اشعر کا اندر آنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ وہ پیچھے سے ایمان کے گرد بازو لپیٹتے ہوئے بولا

کیا سوچا جا رہا ہے ڈیر مسز؟

ایمان مسکراتے ہوئے بولی

آپ کب ائے؟

ابھی جب آپ اپنی سوچوں میں مگن تھیں۔ کیا سوچا جا رہا ہے۔

بس میں یہ سوچ رہی ہوں کہ اللہ کتنا مہربان ہے۔ ایک وقت تھا جب ہمارے ملنے کی کوئ امید بھی مجھے نظر نہیں آتی تھی اور آج ہم ساتھ ہیں۔

ہاں یار میں بھی وہ وقت یاد بھی نہیں کرنا چاہتا بس تم بھی اب اس وقت کو یاد مت کرو۔ صرف اچھی باتیں یاد رکھو۔ کیونکہ اب ہم ساتھ ہیں ہمیشہ کیلئے اب تو بس موت ہی ہمیں الگ کر سکتی ہے۔

ایمان اب کے تڑپ کے پیچھے کو پلٹی اور اس کے ہونٹوں پہ ھاتھ رکھتے ہوئے بولی آج ہماری شادی کا پہلا دن ہے اور ابھی سے آپ مرنے کی باتیں کرنا شروع ہو گئے۔

اشعر ہنستے ہوئے اس کا ھاتھ اپنے ہونٹوں سے ہٹا کے اسے چومتے ہوئے بولا۔ سوری یار۔اب نہیں کروں گا۔چلو شکرانے کے نوافل ادا کرتے ہیں جب ہم اللہ سے شکوہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے تو شکر ادا کرنے میں دیر کیوں کریں کہ اس نےہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کی نعمت دی۔

جی آپ ٹھیک کہ رہے ہیں۔ وہ دونوں نوافل ادا کرنے چلے گئے۔

اب ان کی زندگی یونہی ایک دوسرے کی سنگت میں گزرنی تھی۔ کیونکہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ویسے بھی اللہ کا وعدہ ہے کہ ہر رات کی صبح ضرور ہوتی ہے اور جو لوگ اللہ کی آزمائش میں ثابت قدم رہتے ہیں تو اللہ انہیں لازمی انعام سے نوازتا ہے۔

(ختم شد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *