Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir NovelR50700 Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 04)
Rate this Novel
Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 04)
Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir
جی دادی بس وو وقت ہی نہیں ملدا۔ تسی سناؤ ٹھیک او۔ اس کی اس طرح سی ٹوٹی پھوٹی پنجابی بولنے پر اکثر سب لوگ بعد میں اس کا ریکارڈ لگاتے۔
مینوں کی ہونا بجلی چنگی آ ں۔ اے تینوں کی ہویا کمزور ہو گئی ایں۔ نی شگفتہ انہوں تو کج کھان نو نہیں دیندی ویکھ کڑی دا کی حال ہو گیا ای۔
ماں جی بس ہوسٹل دا کھانا کھاندی نہیں اے تے کار ہووے تے تیان دیاں نا آدھے کھان پین تے۔
شگفتہ بیگم دھیمی آواز میں بولیں۔
کیا وی سی فرقان نوں کہ کڑی نوں 12 جماعتاں پڑھا کے سیاہ کر دے پر میری سندا کون اے۔ بلقیس بیگم وقت کے ساتھ شگفتہ بیگم کے ساتھ کافی بہتر ہو گئیں تھی لیکن ابھی بھی ان کی زبان سے اکثر ایسے الفاظ نکل جاتے جو شگفتہ بیگم کو بہت تکلیف دیتے۔ وہ ان کے لاکھ اچھے رویے کے باوجود ابھی بھی اس بات کو دل سے لگا کے بیٹھج ہوئ تھیں کہ ان کی وجہ سے ان کا بیٹا انہیں چھوڑ کر شہر چلا گیا تھا حالانکہ فرقان صاحب شادی سے پہلے بھی شہر میں ہی رہتے تھے۔ لیکن اپنی بھانجی کے فرقان صاحب کی شادی کے شروع والے دنوں میں انہیں بھڑکانے کی وجہ سے وہ شگفتہ بیگم کے بہترین رویے کے اس سے پہلے کہ بلقیس بیگم کچھ اور کہتی فریدہ اور غزالا بیگم نے انہیں حرا کی شادی کی تیاریوں کی طرف متوجہ کر دیا۔ موقع کا فایدہ اٹھاتے ہوئے ایمان وہاں سے اٹھ کے چلی گئی۔ بلقیس بیگم کی روک ٹوک اور سخت رویے کی وجہ سے خاندان کے سب بچے ان سے ڈرتے تھے۔ صرف اشعراور فاطمہ ان کا لاڈلا تھے۔
ایمان سب سے مل لی تھی لیکن اسے اشعر کہیں نظر نہیں آیا۔ لیکن وہ جھجھک کی وجہ سے کسی سے پوچھ نہیں پائی تب ہی اسے سامنے سے اشعر اور سلمان بھائی آتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس نے سلمان بھائ کو سلام کیا اور ان کے آگے سر جھکایا۔ کیسے ہیں بھای آپ
میں ٹھیک ہوں تم سناؤ ایمان بہت دیر بعد آنا ہوا اس دفعہ؟
ایمان بولی جی بھائی بس پڑھائی کی وجہ سے فرصت نہیں ملتی بھائ
ہاں بھائی جانتا ہوں تمھاری اور اشعر کی پڑھائ کو بس سیاپا ڈالا ہوا ہے تم دونوں نے خود کو۔
(اس بات پہ دونوں کے چہرے پہ مسکراہٹ آگئ )اچھا میں چلتا ہوں بازار سے سودا لانا ہے۔ اشعر تم بھی مامی اور باقی سب سے مل کے بازار کا چکر مار لینا۔
جی بھائی آپ جائیں میں جاتا ہوں اب سے مل کے۔
اشعر بھائی کے جانے کے بعد بہت محبت سے ایمان کو دیکھتے ہوے بولا آج تو بڑے بڑے لوگ آے ہوئے ہیں ویلکم جی ویلکم بتائیں کیا خدمت کر سکتے ہیں آپ کی؟ اپنا حال چال سنائیں؟
ایمان اشعر کی شرارت سمجھ گئ اور بولی میں ٹھیک ہوں فلحال تو کسی خدمت کی ضرورت نہیں آپ اپنا کام کریں جا کے۔ یہ نا ہو کہ آپ کو ڈانٹ پڑ جاے بھائ سے۔ ایمان سلمان بھائ کی غصے والی طبیعت سے واقف تھی اور ابھی کچھ دیر تک سب مہمانوں کو کھانا کھلانے کا وقت شروع ہو جاتا
او ہاں یار بات تو ٹھیک کہ رہی ہو چلو یار بعد میں ملتے ہیں ابھی میں ممانی سے مل کے چلتا ہوں بازار۔ ایمان مسرور سی اندر حرا کے کمرے کی طرف چل پڑی۔
اندر آئ تو وہاں حرا کے ساتھ فاطمہ اور عالیہ بھی موجود تھیں۔سب لوگ وہاں بیٹھے حرا کو تنگ کرنے میں مصروف تھے۔ ایمان کو دیکھتے ہی فاطمہ بولی او ہو ڈاکٹر صاحبہ آئ ہیں آپ تو عید کا چاند ہی ہو گئ ہیں۔ بلکہ عید کا چاند بھی سال میں دو دفعہ آتا ہے تمہیں یاد ہے ڈاکٹر صاحبہ ہم آخری دفعہ آپ کے ایڈمیشن کے وقت ملے تھے۔
ایمان بولی جی جی بالکل چلیں میں تو گھر ہی نہیں ہوتی آپ کو کونسا توفیق ملی آکے مل لینے کی۔
ان کی بات کاٹتے ہوے حرا بولی یار بعد میں لڑ لینا اتنے عرصے بعد تو ہم تینوں اکٹھے ہوئے ہیں۔
اچھا جی جو حکم آپ کا دلہن صاحبہ۔
یار ابھی میں دلہن بنی کب ہوں۔ ابھی سے مت تنگ کرو یار۔ حرا بولی۔
او اچھا دل میں تو لڈو ہی پھوٹ رہے تمھارے حرا میڈم چلو تمھاری تو بتیسی کی وجہ سمجھ آتی ہے لیکن ایمان کے کس خوشی میں دانت نہیں اندر جا رہے۔؟
ایمان جو یہاں آکے ہمیشہ ہی خوش رہتی تھی ابھی اس کی زیادہ خوش ہونے کی وجہ باہر اشعر سے ملاقات تھی بولی
یار کافی دیر بعد آپ سب سے ملاقات ہو رہی ہے تو خوش ہوں۔
اچھا کہتی ہو تو مان لیتے ہیں۔ فاطمہ بولی۔
اچھا یار چھوڑو ان باتوں کو۔ حرا میڈم آپ کے سسرال والے کیوں نہیں اے ابھی تک؟
پتا نہیں یار
ائے رے بیتابیاں آجائیں گے بنو رانی لو آ بھی گئے۔ باہر سے آوازیں تو آ رہی ہیں چلو چل کے دیکھتے ہیں۔ حرا اور فاطمہ باہر کی طرف بھاگیں۔ جاتے جاتے حرا کو بولیں بنو رانی آپ کی قسمت کا فیصلہ جلد ہی آپ کو سنائیں گے۔ آپ یہیں بیٹھ کے انتظار کریں۔
ایمان اور فاطمہ باہر نکلی تو سب لوگ جمع تھے پھپھو فریدہ سامنے سے آ رہی تھی یا بچیو میں آپ لوگوں کو ہی بلانے آ رہی تھی۔ کچن میں ایک دفعہ سارا نظام دیکھ لو اور فاطمہ بیٹا سب اپنی نگرانی میں دیکھنا اور چائے بنانے کیلئے میں عائشہ کو بھیجتی ہوں۔
ایمان اور فاطمہ باورچی خانے میں ابھی آئ ہی تھیں کہ عائشہ اندر آئیں اور فاطمہ سے بات چیت کے بعد ایمان کی طرف متوجہ ہوئیں اور سناو بیٹا ٹھیک ہو۔ فرقان صاحب کیسے ہیں؟
آنٹی میں بھی ٹھیک ہوں اور بابا بھی ٹھیک ہیں۔
اچھا کب آرہا ہے فرقان؟
ایمان کو عایشہ کی بابا کے بارے میں اتنی بےتکلفے سے پوچھنا عجیب لگا کیونکہ بابا ان سے عمر میں بڑے تھے۔
آنٹی چھوٹی عید سے پہلے آ جائیں گیں۔
اچھا تو بیٹا کتنےسال رہ گئے تمھاری پڑھائ میں۔ شادی کب کر رہے ہیں تمھاری؟
ایمان کو ان کا اس کی شادی کے بارے میں پوچھنا اچھا نہیں لگا لیکن وہ جھینپتے ہوئے بولی آنٹی یہ تو ماما بابا ہی جانتے ہیں
اس سے پہلے کہ وہ کچھ اور سوال کرتی ایمان بولی آچھا آنٹی آپ چائے بنا دیں تب تک ہم یہ چیزیں ٹرالی میں سجاتے ہیں۔
تب ہی اشعردروازہ کھول کر اندر آیا خالہ امی جان کہ رہی ہیں کہ چائے اور سب لوازمات باہر لے آئیں۔ اور ایمان کو چھیڑنے کے ارادے سے اس کی طرف بڑھا لیکن عائشہ کو دیکھ کر کچھ بھی کہے بغیر باہر چلا گیا۔ ایمان کو عایشہ کا انداز ہمیشہ بہت الجھا دیتا تھا خصوصاً ان کا اس کی ماما کے ساتھ رویہ عجیب سا ہوتا تھا۔
وہ کئی دفعہ ماما سے پوچھنے کا سوچتی لیکن ہر دفعہ اس کے زہن سے نکل جاتا۔ بحرحال وہ ماما سے رات کو سوتے وقت پوچھنے کا ارادہ کر کے ٹرالی گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئ۔
وہاں سب سے ملنے کے بعد ایمان اٹھ کے چھت پہ چلی گئی۔ وہ عایشہ سے بات کرنے کے بعد سے الجھ گئی تھی۔ اسے عجیب سی بیچینی شروع ہو گئی جیسے کچھ ہونے والا ہے۔ وہ چھت پہ ٹہلتے ہوئے سورہ الناس کا ورد کرنے لگی کہ شاہد اس سے ہی کچھ بہتر ہو جائے۔ وہ ابھی کرسی پہ بیٹھے وقت گزاری کیلئے فون نکال کے کینڈی کرش کھیلنے لگی اس کا اب جب تک سب مہمان نا چلے جاتےنیچے جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا کیونکہ وہ زیادہ لوگوں کے درمیان گھبراہٹ محسوس کرتی تھی۔
تب ہی اشعر جو اوپر چھت پر واقع کمرے سے مہمانوں کیلئے کرسیاں لینے آرہا تھا اس کی نظر ایمان پہ پڑی۔
وہ کمرے میں جانے کی بجائے ایمان کے پاس آتے ہوئے بولا تم یہاں کیا کر رہی ہو سب تو نیچے ہیں؟
ایمان بری طرح گیم کھیلنے میں مگن تھی اشعر کی آواز سن کے ڈر گئی فون اس کے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے بچا۔
آپ ہیں میں تو ڈر ہی گئی تھی کہ پتا نہیں کون آگیا۔
ہاں یار میں ہوں تم یہاں کیا کر رہی ہو
وہ نیچے دل گھبرا رہا تھا تو اوپر آگئ۔
یار لوگوں میں گھلنا ملنا سیکھو ایسے کیسے چلے گا۔ اور ممانی بھی تمھارا پوچھ رہی ہیں۔
آپ چلیں میں آتی ہوں۔
اشعر جاتے جاتے پلٹا اور ایمان کی طرف بہت محبت سے دیکھتے ہوئے بولا یار مجھے لگ رہا ہے بات کچھ اور بھی ہے تم صرف مہمانوں کی وجہ سے اوپر نہیں ہو۔
ایمان اشعر کے درست اندازے پہ حیران نہیں ہوئ کیونکہ اپنے ماما بابا کے بعد اشعر ہی ان چند لوگوں میں تھا جس سے اسے کوئی بھی بات کرنی نہیں پڑتی تھی وہ خود ہی سمجھ جاتا تھا۔ اس لئے بھی ایمان اشعر جو اپنے دل کے بہت قریب پاتی تھی۔
ایمان بولی پتا نہیں کیوں دل گھبرا رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہے۔
اشعر ایمان کو تسلی دیتے ہوئے بولا یار پریشان مت ہو کجھ بھی غلط مت سوچو کیونکہ اللہ انسان کے گمان کے ساتھ چلتا ہے اور پلیز یہاں اکیلی بیٹھی رہی تو مزید گھبراہٹ کا شکار ہو گی مہمانوں کے پاس نہیں جانا تو مت جاؤ حرا کے پاس جا کے بیٹھ جاؤ وہ بھی اکیلی بیٹھی ہے۔
اچھا آپ چلیں میں جاتی ہوں نیچے۔
نہیں یار پہلے تم جاؤ نیچے پھر ہی میں جاؤں گا
ایمان جھنجھلاتے ہوئے بولی آپ کتنی زدی ہیں
اشعر ہنستے ہوئے بہت محبت سے بولا یہ تو ہے لیکن تم جانتی ہو میں ہر ایک کے ساتھ زد نہیں کرتا صرف انہی لوگوں کے ساتھ کرتا ہوں جو میرے دل کے بہت قریب ہوتے ہیں۔ اور آپ تو۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ اشعر بات پوری کرتا ایمان اس کی بات کاٹتے ہوئے بلش کرتے ہوئے بولی مجھے نیچے چلے ہی جانا چاہیے اب اس سے پہلے کہ آپ مزید پٹری سے اتریں اور نیچے کی طرف بھاگ گئ۔
اشعر اس وقت تک ایمان کو محبت سے دیکھتا رہا جب تک وہ نظر سے اوجھل نہیں ہو گئی۔
مہمان رخصت ہو چکے تھے اور حرا کی شادی اس کے تایا زاد ارسلان سے ہورہی تھی۔ اس کی شادی کی تاریخ عید کے دس دن بعد کی رکھی گئی تھی۔
یمان رات کو ماما کے پاس لیٹی تھی تو اسے عایشہ کے بارے میں ماما سے پوچھنا یاد ایا
ایمان جب بھی گھر ہوتی ماما کے بازو پہ سر رکھ کے سوتی ابھی بھی شگفتہ بیگم پیار سے ایمان کے سر میں انگلیاں چلا رہی تھیں جو ایمان کو بہت سکون دے رہی تھیں۔ شگفتہ بیگم کی آنکھ لگنے ہی والی تھی کہ ایمان بولی ماما بس آخری بات پوچھنی ہے ماما
بیٹا صبح نہیں پوچھی جا سکتی؟ یہ گاؤں ہے بیٹا یہاں سب جلدی سو جاتے آپ بھی سو جاؤ کل بات کرتے ہیں۔
ماما پلیز نا میں ہمیشہ آپ سے پوچھنا بھول جاتی ہوں پھر زہن سے نکل جائے گی۔
شگفتہ بیگم جھنجھلائے ہوئے بولیں اچھا پوچھو۔
ماما آپ کو عایشہ آ نٹی کیسی لگتی ہیں؟
شگفتہ بیگم ایمان کے سوال سے پریشان ہو گئیں کیوں کیا ہوا بیٹا تو ایمان نے ساری بات انہیں بتا دی۔ ساری بات سن کے شگفتہ بیگم بھی پریشان ہو گئیں کیونکہ وہ ایمان کی بتائ گئ باتوں سے پریشان ہو گئیں تھیں کہ یہ عائشہ کے دماغ میں اب کیا کھچڑی پک رہی ہے۔ بس وہ اپنی بیٹی کو ہر تکلیف سے بچانا چاہتی تھیں کیونکہ وہ اس کی معصومیت اور بھولے پن سے واقف تھیں اسلیے کی دفعہ فکر میں اسے زیادہ ڈانٹ دیتی تھیں اور اپنی ڈانٹ کے نتیجے میں اس کے آنسو دیکھ کے خود پریشان ہو جاتیں اور بے اختیار ہر وقت اللہ سے دعاگو رہتی کہ اللہ ایمان کی حفاظت کرے اسے ہر مصیبت سے بچائے۔ وہ ایمان کی اشعر کو لے کے پسندیدگی سے واقف تھیں لیکن کبھی ڈایریکٹ ایمان کو کچھ نہیں کہا کیونکہ انہیں اپنی بیٹی پہ پورا بھروسا تھا کہ وہ ایسا کچھ نہیں کرے گی جس سے ان کی تربیت پہ حرف ائے۔
شگفتہ بیگم کو خیالات میں گم دیکھ کر ایمان نے ان کا چہرہ اپنی طرف موڑا ماما بتائیں بھی نا. کہاں کھو گئیں ہیں؟
جی بیٹا کیا پوچھ رہی تھی آپ؟
ماما میں عائشہ آ نٹی کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔
بیٹا ابھی تک اس کے ہی وجہ سے تو تمھاری دادی اور میرے تعلقات کبھی مکمل طور پہ ٹھیک نہیں ہو پائے۔
کیا مطلب ماما؟ ایمان نے حیرت سے دریافت کیا
بس بیٹا پھر کسی دن تمہیں ساری بات بتاؤں گی۔ بس آپ ان سے بچ کے رہنا اور اگلی دفعہ اس نے کوئ بات کی تو اسی وقت مجھے بتانا۔ ٹھیک ہے؟
اوکے ماما۔ ایمان مطمئن تو نہیں ہوئ تھی لیکن ماما کی بات سمجھ گئ تھی۔
………………………………………
ایمان کو ابھی سوئے ہوئے تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کی کہ اس کی آنکھ ایک بہت برے خواب سے کھل گئ۔ وہ کافی دنوں سے عجیب وغریب خواب دیکھ رہی تھی۔ ابھی بھی اس نے فون نکال کے دیکھا تو فجر کا وقت قریب تھا۔ وہ پہلے ہی چند دنوں سے عجیب سی بیچینی کا شکار تھی۔ ابھی کے اس کے خواب نے مزید بیچین کر دیا۔ اس نے خوا دیکھا تھا کہ وہ اور اشعر بہت خوشگوار موڈ میں ایک سرسبز وشاداب جنگل میں ھاتھوں میں ھاتھ ڈالے باتیں کرتے ہوئے جا رہے تھے کہ اچانک اشعر نے اسے کہا ایمان آنکھیں بند کرو ایک سرپرائز ہے۔ ایمان نے جب تھوڑی دیر بعد آنکھ کھولی تو اشعر غائب تھا اور جنگل جو کچھ دیر پہلے بہت خوبصورت منظر پیش کر رہا تھا اب کالی سیاہ گھٹاؤں اور مسلسل پتوں کی اڑنے کی آوازوں سے خاصا خوفناک لگ رہا تھا۔ اور ایمان ڈر کے مارے بہت اونچی آواز میں اشعر کو پکارتے ہوئے دیواناوار بھاگ رہی تھی۔ جب اس نے اشعر کو کسی لڑکی کا ھاتھ پکڑے وھاں سے جاتے ہوئے دیکھا۔ وہ لڑکی کا چہرہ نہیں دیکھ پائی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔
وہ بھی تک پسینے میں شرابور تھی اور اس کی دھڑکنیں بہت تیز چل رہی تھیں
………………………….
ایمان کے خواب نے اسے بری طرح ڈرا دیا۔ وہ اپنے دل کی بیچینی کو ختم کرنے کیلئے سورہ الناس پڑھنے لگی۔ بیچینی تھوڑی سی کم ہوئ تو اسے یاد آیا کہ وہ رات کو نماز پڑھے بغیر ہی سو گئی تھی۔ وہ وضو کرنے کے ارادے سے اٹھی ہی تھی کہ شگفتہ بیگم جو ایمان کے بالکل ساتھ ہی لیٹی ہوئی تھیں ان کی ایمان کے اٹھنے کی وجہ سے آنکھ کھل گئی کہاں جا رہی ہو بیٹا اس وقت۔
ماما نماز پڑھنے جا رہی ہوں رات کو پڑھے بغیر سو گئی تھی تو ابھی آ نکھ کھل گئی۔ وہ اس وقت چھت پہ موجود تھی۔ ان کے گاؤں میں گرمیوں میں سب چھت پر سوتے تھے اور مہمانوں کے سونےکا انتظام بھی چھت پر ہی کیا گیا تھا۔ ابھی اذان ہونے میں 1 گھنٹا باقی تھا۔ نماز پڑھ کے بھی ایمان اسی خواب کے زیر اثر تھی۔ وہ اس وقت نیچے کچن میں موجود تھی کیونکہ باقی سب کمروں میں باقی لوگ موجود تھے جن کا چھت پر انتظام نہیں ہو پایا تھا۔ اور اسے اس وقت تنہائی میں نماز پڑھنے کیلئے یہ ہی جگہ مناسب لگی۔
اس نے دعا کیلئے ھاتھ اٹھائے تو بے اختیار اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اے میرے رب! تو جانتا ہے کہ مجھے تو کسی سے بھی اپنی دل کی بات ٹھیک سے کہنی نہیں آتی . میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوئ ہوں۔ میرے اللہ بہت دنوں سے میرے دل میں عجیب سی بیچینی تھی کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ نے میرے اور اشعر کا ساتھ نہیں چاہا۔ تو جانتا ہے میرے رب میں تجھ سے کبھی بھی اس ڈر کے مارے اپنے اور اشعرکے ساتھ کی دعا نہیں مانگ سکی کہ کہیں میرے اللہ تیری اور میرے والدین کی خواہش اس کے برعکس نا ہو۔ میں نے ہمیشہ چاہا کہ یہ رشتہ پروان چڑھے تو تیری رضا سے پروان چڑھے تو یہ بھی جانتا میرے رب کہ میں تیری بہت گناہگار بندی ہوں۔ میں کئی دفعہ اس رشتے سے نکلنے کی بھی کوشش کر چکی ہوں جو اس وقت قائم ہوا جب میں نادان تھی مجھے سمجھ نہیں تھی کسی بھی چیز کی اور اب میں بےبس ہوں اس احساس کو اس محبت کو اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کروں بھی تو نہیں نکال پاتی۔
میرے رب میں نے اس رشتے کو پچھلے اتنے سالوں سے جیا ہے اور اب اگر تیری رضا یہ ہے کہ میں بھول جاؤں تو میرے رب بھولنا میرے اختیار میں نہیں ہے میرے رب یا تو تو اس رشتے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور فرما اور اگر تو نے یہ رشتہ میرے لیے نہیں بنا تو میرے دل کو سکون دے کہ میں اشعر کے بغیر جینا سیکھ جاؤں کیونکہ تو جانتا ہے میں نہیں چاہتی کہ میری زندگی کا کوئ بھی فیصلہ میرے والدین میری وجہ سے مجبور ہو کے کریں ۔ جس طرح اب تک میں نے اپنی زندگی کے تمام فیصلے اپنے والد کی پسند سے کیے آگے بھی یہ ہی چاہتی ہوں۔ آگر اس رشتے کا ٹوٹنا ہی میری قسمت ہے تو اپنی اس رضا میں مجھے اور اشعر کو راضی رہنے کی توفیق عطا کر۔ مجھے ٹوٹ کے بکھرنے سے بچا لے ۔ مجھے اکیلا نا چھوڑنا۔ میری طاقت بن جا۔ میری طاقت بن جا مجھے سنبھال لے میرے اللہ۔۔
وہ کافی دیر رب کے سامنے اپنی باتیں کرتی رہی اس کے بعد اس کے دل میں سکو ن اتر گیا۔.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انسان سکون کیلئے در در بھٹکتا ہے عارضی سہارے تلاش کرتا ہے یہ بھول جاتا ہے صرف رب کی زات ہی ایسی ہے جو کسی بھی حالت میں انسان کو اکیلا نہیں چھوڑتی۔ انسان گناہوں سے لتھڑا اس کی بارگاہ میں جاتا ہے پر وہ نہیں دھتکارتا اپنی رحمت کی چھاؤں میں لپیٹ لیتا ہے۔ اور بیٹا جب مجھ سے کجھ نا کہ پاؤ تو اللہ سےاپنے دل کی باتیں کر لینا وہ ان باتوں کو بھی جانتا ہے جو انسان کہ بھی نہیں پاتا۔”
دعا مانگنے کے بعد آرام سے جا کے ماما کے پاس لیٹ گئی ابھی سورج نکلنے میں کچھ وقت تھا اسے بابا کی وہ باتیں یاد آئیں جو اس وقت انہوں نے اس سے کی تھیں جب ان کے جانے پر وہ بہت اداس تھی اور مسلسل اسی بات کی گردان کر رہی تھی کہ آپ نہ جائیں بابا آپ کے جانے کے بعد میں کس کو اپنی باتیں بتاووں گی۔وہ کافی دیر یہ ہی باتیں سوچتی رہی۔ جب سورج کی شعاعوں سے ماما کی آنکھ کھل گئی۔ انہوں نے کہا ایمان بیٹا آپ کب اٹھی ہو۔
بس ماما نماز پڑھنے کے بعد نیند ہی نہیں ائ۔
تو بیٹا مجھے بھی جگا دیتی نماز کیلئے
سوری ماما خیال ہی نہیں رہا
اچھا چلو نیچے چلتے ہیں۔
جی ماما چلیں۔ اس سارے عرصے میں پہلی دفعہ شگفتہ بیگم کی نظر ایمان کی آنکھوں کی طرف پڑی تو انہوں نے پوچھا
کیا ہوا بیٹا تم سوئ نہیں رات کو اٹھنے کے بعد۔ وہ جان گئ تھیں کہ ایمان پریشان ہے اور وہ ان کے پوچھنے پر بھی ٹال جاے گی لیکن جھوٹ نہیں بولے گی۔
بس ماما اس کے بعد نیند ہی نہیں آئ چلیں نیچے چلتے ہیں۔
اچھا بیٹا جا کے نہا لو فریش ہو جاؤ گی۔
جی ماما ایمان کو بھی یہ ہی ٹھیک لگا۔ نہانے سے اس کی آنکھیں بہتر ہو جاتیں۔
