Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 09,10)

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

شگفتہ بیگم کمرے میں آکے بیٹھ گئیں اور فرقان صاحب کا انتظار کرنے لگیں کیونکہ وہ جب سے آئے تھے ان کے ملنے والوں کا رش لگا ہوا تھا۔ ابھی بھی ان کے چند دوست آئے ہوئے تھے۔ انہیں بیٹھے ہوئے ابھی تھوڑا ہی وقت ہوا تھا کہ فرقان صاحب اگئے۔

آپ کے دوست چلے گئے

جی ابھی انہیں باہر تک چھوڑ کے ہی آیا ہوں۔

آپ کیلئے کھانا لاؤں۔

نہیں ابھی بھوک نہیں ہے تھوڑی دیر تک کھاتے ہیں۔

کیا ہوا آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں۔ فرقان صاحب حیران نہیں ہوئے کہ شگفتہ بیگم ان کے بغیر کہے کیسے جان گئیں۔ بس میں ایمان کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ وہ اس وقت رونا شروع ہو گئ بات صرف رشتے کی ہے یا کوئی اور بات ہے؟ کیونکہ آج وہ جس طرح روئ ہے میں پریشان ہی ہو گیا ہوں۔

آپ پریشان نا ہوں کیونکہ وہ واقعی بہت حساس ہو گئ ہے آپ کے بہت قریب تھی آپ کے جانے کے بعد بہت مشکل سے سنبھلی ہے اور منگنی کی بات پہ بھی اس لیے روئ ہے کہ وہ ابھی یہ سب ایکسپیکٹ نہیں کر رہی آپ پلیز اسے منع کر دیں۔ ایک دفعہ منگنی ہو جائے انسان اگلوں کی مرضی کے مطابق پھر شادی کرنے پہ مجبور ہو جاتا ہے اور میری ایک ہی بیٹی ہے میں نہیں چاہتی کہ اتنی جلد بازی میں اس کا رشتہ طہ کر دیں ابھی میری بیٹی کی عمر ہی کیا ہے کہ ابھی سے انہیں ان جھمیلوں میں ڈال دوں اس کی پڑھائ مکمل ہو جائے پھر دیکھیں گیں۔

میں آپ کی بات بھی سمجھ رہا ہوں لیکن کیا جواز دے کے انکار کروں کیونکہ حمزہ میں کوئ برائ بھی نہیں ہے۔

بس میرا دل مطمئن نہیں ہے آپ پلیز انکار کر دیں۔ فرقان صاحب نے بےاختیار ان کی طرف دیکھا۔

عائشہ کی وجہ سے؟

شگفتہ بیگم ایک لمحے کیلئے چپ ہو گئیں پھر بولیں جی آپ جانتے میں ماضی میں ان کی وجہ سے کتنی ازیت برداشت کر چکی ہوں اب بھی معافی مانگنے کے پیچھے اس کا کیا مقصد تھا میں نہیں جانتی لیکن مجھے اس پہ بالکل یقین نہیں ہے اور میں اپنی بیٹی کو اپنی جیسی کسی بھی صورتحال کا شکار نہیں کروانا چاہتی۔ فرقان صاحب جانتے تھے کہ شگفتہ بیگم کتنے سال ازیت میں رہی ہیں یہاں تک کہ عائشہ کی وجہ سے ان کی ماں نے بھی کئ سال ان کو قبول نہیں کیا۔ اسلیے انہوں نے تسلی دینے کے انداز میں ان کے ھاتھ پہ ھاتھ رکھا۔

چلیں ٹھیک ہے آپ اگر مطمئن نہیں ہیں تو میں انکار کر دیتا ہوں۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی کسی بھی بات سے شگفتہ بیگم کا زہن عائشہ کی طرف سے صاف نہی ہو گا۔

لیکن امی جی تو پھر سے ناراض ہو جائیں گیں کیونکہ عائشہ ان کی بھانجی ہے

فرقان صاحب ان کے کندھے پہ ھاتھ رکھتے ہوئے بولے آپ پریشان نا ہوں میرے لئے اپنے بیٹی کی خوشی سب سے اہم ہے آپ ہر پریشانی کو اپنے زہن سے نکال دیں اللہ بہتر کریں گیں کوئ بہترین راستہ دکھائیں گیں۔ شگفتہ بیگم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

ارے یہ کیا میں پہلے سے اپنی بیٹی کے آنسوؤں سے پریشان ہوں یہاں آپ نے بھی رونا شروع کر دیا۔ اور آگے بڑھ کے ان کے آنسو پونچھ دیے

سوری بس پرانا وقت یاد اگیا۔

فرقان صاحب ان کے دونوں ھاتھ پکڑتے ہوئے بولے وہ وقت گزر گیا ہے پلیز آپ گزرا ہوا وقت سوچ کے پریشان نا ہوا کریں بس اچھی باتیں یاد رکھا کریں میں ہوں نا آپ کے ساتھ۔

شگفتہ بیگم نے تشکر سے ان کی طرف دیکھا

میں نہیں جانتی کہ آپ کا شکریہ کیسے ادا کروں آپ زندگی کے ہر موڑ پہ میرا ساتھ نا دیتے تو میں ان حالات سے کبھی نا نمٹ پاتی آپ ضرور میری کسی کی گئ نیکی کا انعام ہیں

اچھا اچھا اب اتنی بھی تعریفیں نا کریں یہ سب میرا فرض تھا بس آپ رونا بند کریں اور مسکرا دیں اور کھانا لگائیں ایمان بیٹا کو بھی بلا لیں۔

_______

حمزہ اپنے کیس کی مصروفیت کی وجہ سے اس دفعہ دو ہفتے گھر نہیں جا پایا تھا۔ اس وقت بھی اسے گھر آتے آتے رات کے 12 بج گئے تھے۔ وہ اپنے گھر کے مین گیٹ کی ایک چابی ہمیشہ اپنے پاس رکھتا تھا اپنی آسانی کیلئے کیونکہ اس کی اکثر رات گئے ہی اپنے گھر واپسی ہوتی تھی تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وقت کوئ اس کی وجہ سے تنگ ہو۔ وہ دروازہ کھول کے ابھی لاؤنچ میں داخل ہی ہوا تھا کہ اسے سامنےسیڑھیوں سے عائشہ آتی ہوئ نظر ائ۔

وہ سلام کر کے پیار کیلئے اپنی ماں کے سامنے سر جھکاتے ہوئے بولا۔ ماں جی آپ ابھی تک جاگ رہی ہیں؟ وہ اس کا سر چومتے ہوئے بولیں بس بیٹا میرا دل کہ رہا تھا کہ ان تم آؤ گے تو بس سوئی جاگیر ہی تھی کہ گیٹ کھلنے اور گاڑی کے اندر آنے کی آواز آئ تو اٹھ کے آگئ ہوں کہ میرا بیٹا اتنی دیر بعد آیا ہے مل بھی لوں اور تمھیں کھانا بھی نکال دوں۔حمزہ اکثر اپنے گھر میں بغیر بتائے آتا تھا کیونکہ اس کی کام کی نوعیت ایسی تھی کہ اکثر اسے گھر پہنچتے پہنچتے بارہ یا 1 بج جاتا تھا تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس وقت تک عائشہ اس کے انتظار میں کافی رہیں۔ حمزہ محبت سے اپنی ماں کو اپنے بازو کے گھیرے میں لیتے ہوئے بولا۔ بس ماں جی اس دفعہ بہت مصروفیت تھی پچھلے ہفتے گھر آنے کا وقت ہی نہیں ملا۔

بیٹا ہر وقت اپنے سر پہ کام سوار رکھتے ہو۔ ماں کیلئے بھی وقت نہیں پہلے ہر ہفتے شکل تو دکھا جاتے تھے اب تو کچھ ماہ سے آتے بھی دو ہفتے بعد ہو۔

حمزہ اپنی ماں کی شکایت سن کے ہنستا ہوا بولا

بس ماں جی اس دفعہ معاف کر دیں اب سے پکا ہر ہفتے آنے کی کوشش کروں گا۔ کب سے آپ کو کہ رہا ہوں کہ آپ ہی زد چھوڑ کے لاہور آ جائیں میرے ساتھ پر آپ بھی میری نہیں سنتی

ہاں بیٹا لاہور آجاؤں جیسے یہاں تم اپنی ماں کو بھولے رکھتے ہو وہاں جا کے بھی حالت تو نہیں رہیں گے پھر یہاں تو پاس ہی تمھاری خالہ رہتی ہیں صباء بھی آجاتی ہے اپنے بچوں کے ساتھ تو دل لگ جاتا ہے وہاں کیا کروں گی سارا دن۔ حمزہ کی دفعہ اپنی ماں کو ساتھ چلنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کر چکا تھا لیکن وہ مانتی ہی نہیں تھیں۔

اچھا ماں جی صباء کیسی ہے کل اس سے بھی ملنے چلتے ہیں۔

بیٹا وو کونسا دور ہے صبح اسے پتا چلے گا تو دیکھنا خود ہی اجائے گی۔

میں اسے سرپرائز دوں گا کل خود جاؤں گا بچوں اور حسن سے بھی ملاقات ہو جائے گی

ٹھیک ہے بیٹا میں کھانا نکالتی ہوں تم نہا لو جا کے۔ اوکے ماں جی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان سو رہی تھی جب اسے اپنے بالوں میں اپنی ماما کی انگلیاں محسوس ہوئیں۔ پر اس کا ابھی اٹھنے کا کوئ ارادہ نہیں ہو رہا تھا اس لیے اس نے اپنے آپ کو سویا ہوا ہی پوش کیا۔ ایمان بیٹا آٹھ جاؤ

ماما سونے دیں نا ابھی

بیٹا آپ کے بابا حلوہ پوری کا ناشتہ لے کے آئے ہیں کہ رہے ہیں کہ ایمان کو بھی اٹھا لاؤ ٹھندا ناشتہ مزا نہیں دیتا۔ تو بیٹا آٹھ جاؤ آپ کے بابا آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔

بابا کا نام سن کے ایمان فوراً اٹھ گئ۔ آنکھیں ملتے ہوئ شگفتہ بیگم کے گلے لگ گئ ماما اتنے مزے کی نیند آرہی تھی

شگفتہ بیگم اسے پیار سے الگ کر کے ماتھا چومتی ہوئیں بولیں بیٹا میں برتن لگانے جا رہی ہوں آپ برش کر کے آجاو جلدی اور اب پھر سے سو نا جانا۔

اچھا ماما ایمان برے برے منہ بناتے اٹھ گئ۔

فریش ہو کے ایمان باہر آئ تو فرقان صاحب اس کے منتظر تھے اٹھ گئ میری بیٹی

جی سوری بابا جلدی نہیں اٹھا گیا اتنے مزے کی نیند آرہی تھی۔

کوئ بات نہیں بیٹا آؤ بیٹھو کھانا شروع کرتے ہیں

بابا آپ نے شروع نہیں کیا ابھی تک

نہیں بیٹا میں اپنی بیٹی کے بغیر کیسے شروع کرتا

شگفتہ آپ بھی آجائیں۔ ابھی انہوں نے چند ہی نوالے لیے تھے کہ اشعر کی آواز آئ ماموں میں بھی ہوں مجھ سے تو آپ نے نا شتے کا پوچھا ہی نہیں۔

ارے اشعر بیٹا آیا ہے۔ جب تک فرقان صاحب اپنی نشست سے اٹھتے اشعر ان تک پہنچ کے ان سے سلام لے بغل گیر ہو گیا۔

کیسے ہیں ماموں آپ مجھے امی سے پتا چلا تھا آپ کے آنے کا تو میں نے سوچا سب ہو آئیں پھر ہی آپ سے ملنے اووں گا آرام سے بیٹھ کے گپ شپ کریں گیں۔ فرقان صاحب گو پہلے بھی اپنے بھانجے کے بہت قریب تھے لیکن جس طرح ان کے جانے کے بعد اشعر نے ایمان کا خیال رکھا تھا وہ اس کے مشکور بھی تھے کیونکہ شگفتہ بیگم انہیں اشعر کے بارے میں بتاتی رہتی تھیں کہ وہ کیسے پڑھائ اور دوسری چیزوں کے معاملے میں ایمان کی مدد کرتا رہا ہے۔ فرقان صاحب سے مل کے وہ شگفتہ بیگم سے ملا کیسی ہیں آپ مامی؟

میں ٹھیک اللہ کا شکر تم سناؤ بیٹا کیسے ہو؟

میں ٹھیک اللہ کا شکر آپ کے سامنے ہوں۔ شگفتہ بیگم اس کی آنکھوں کے گرد پڑے حلقے دیکھ سکتی تھیں وہ باہر ابھی بھی ہنس کے بات کر رہا تھا لیکن وہ اپنی بیٹی کے ساتھ ساتھ اس کی تکلیف سے بھی واقف تھیں اور بیبس تھیں۔ شگفتہ بیگم سے مل کے اشعر نے ایمان سے رسمی طور پہ حال چال پوچھا آج پہلی دفعہ ایسا ہو رہا تھا کہ اسے ایمان سے حال چال پوچھنے کے لیے بھی الفاظ کا چناؤ مشکل لگ رہا تھا۔ جو انسان ہمیشہ اس سے بات کرنے اور رابطے میں رہنے کیلئے پرجوش رہتا تھا آج اس کے پاس لفظ کم پڑ رہے تھے لیکن وہ فرقان صاحب کو کچھ محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اسلیے جلد ہی خود پہ قابو پا کے فرقان صاحب کی طرف متوجہ ہو گیا۔ محبت اگر انسان کو بہت مضبوط بنا دیتی ہے نا تو اس سے دور ہونا انسان کی زندگی سے خوش ہونے کی ہر وجہ چھین لیتی ہے۔ انسان ایک ہی انسان سے اپنی ساری خوشیاں جوڑ لیتا ہے اس کے ساتھ ہونے سے اندھیری رات بھی روشن ہوتی ہے اور دور ہونے سے بہار بھی خزاں لگتی ہے۔ اور شگفتہ بیگم ایک ہی لمحے میں اپنی بیٹی اور اشعر کی ایک دوسرے پہ پڑنے والی نظر سے جان گئ تھیں کہ وہ دونوں ہی بظاہر جتنا بھی نورمل دکھنے کی کوشش کریں حقیقتاً ہیں نہیں۔

او بیٹا باتیں تو ہوتی رہیں گی ناشتہ شروع کرو گئ۔ ایمان بیٹا آپ بھی شروع کرو

ایمان جو اشعر کے آنے سے پہلے بہت مگن انداز میں ناشتہ کر رہی تھی اب صرف بابا کے کہنے پہ بیٹھ گئ کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ بابا کچھ محسوس کریں لیکن وہ ایک دو نوالے سے زیادہ کھا نہی پائ اور بابا اور اشعر کیلئے چائے بنانے کے ارادے سے اٹھ گئ۔

ایمان کو اٹھتا ہوا دیکھ کے فرقان صاحب بولے بیٹا ناشتہ تو ٹھیک سے کر کے اٹھو۔

ایمان مشکل سے اشعر سے نظر چراتے ہوئے بولی

بابا بس اور نہیں کھایا جا رہا صبح صبح اتنا بھاری ناشتہ کرنے کی عادت نہیں رہی نا۔ میں آپ کیلئے اور اشعر بھائ کیلئے چائے بنا کے لاتی ہوں

ایمان ہی جانتی تھی کہ اسے اشعر کیلئے بھای لفظ کا استعمال کرتے ہوئے کتنی ازیت ہوئ تھی لیکن اس نے اس وقت اشعر اور اپنے درمیان حدبندی کیلئے اور اسے یہ باور کروانے کیلئے کہ اب وہ اسے بھائ کے صیغے کے بغیر پکارنے کا حق نہیں رکھتی۔

اشعر نے ایک ملامت بھری نظر ایمان پہ ڈالی ایمان نے اس کی انکھوں میں ابھرتا تاثر دیکھ لیا تھا لیکن وہ نظری چرا کے کچن کی طرف چل پڑی۔ شگفتہ بیگم بھی اٹھ کے ایمان کے پیچھے چلی گئیں

ایمان جو بہت مشکل سے ضبط کر رہی تھی کچن میں آکے وہ اپنے آنسوؤں پہ قابو نا رکھ پائ اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے لیکن جلد ہی اس نے اپنے رونے پہ قابو پا لیا کیونکہ وہ نہی جانتی تھی کہ بابا اس کا رونا محسوس کریں۔ شگفتہ بیگم جب کچن میں آئیں تو ایمان چائے کیلئے پانی رکھ کے کپ نکالنے یں صروف تھی۔ شگفتہ بیگم کے پاس اس وقت الفاظ نہیں تھے جن سے وہ ایمان کو تسلی دے پاتیں۔ اسلیے چائے بن گئ تو وہ ایمان کہوں میں چائے ڈالنے لگی۔ چکپ ٹرے میں رکھ کے ایمان باہر جانے لگی تو شگفتہ بیگم بولیں بیٹا آپ روم میں چلی جاؤ میں تمھارے بابا کو بول دوں گی کہ تمھیں نین آرہی تھی تو تم سو گئ ہو۔

نہیں ماما میں ٹھیک ہوں اس طرح تو بابا کو عجیب لگے کا کہ میں چائے کا بول کے گئ تھی اور جا کے سو گئ ویسے بھی وہ میری اور اشعر کی دوستی سے واقف ہیں تو میرے گریز سے وہ کیا سوچیں گیں آپ فکر مت کریں میں ٹھیک ہوں۔ اگر ایک فیصلہ لیا ہے تو اس پہ قائم بھی تو رہنا پڑے گا۔ سچائی کو جتنی جلدی قبول کر لوں اتنا ہی میرے حق میں بہتر ہے۔

شگفتہ بیگم کو آج اپنی بیٹی پہ فخر محسوس ہوا کیونکہ وہ بہت مختصر سے وقت میں خود کو کسی حد تک سمبھالنا سیکھ گئ تھی۔ ایمان جانتی تھی کہ وہ اس وقت اشعر کو کمزور پڑ کے اور پریشان کر دے گی اس کے چہرے پہ پڑنے والی پہلی نظر سے ہی وہ جان گئ تھی کہ وہ اس کی طرح کس قدر بے سکونی کا شکار تھا۔

وہ جب باہر گئ تو بابا پوچھ رہے تھے بیٹا تم اس دفعہ فریش نہیں لگ رہے۔ اور کچھ کمزور بھی

اشعر نے ایمان کو آتے دیکھ لیا تھا اس لیے شکوہ کناں انداز میں بولا ماموں بس کچھ امتحان کی مصروفیت تھی کئی دنوں سے ٹھیک سے سو نہیں پایا ہوں اور بس کچھ پریشان ہوں؟

ایمان ایک لمحے کیلئے دھک سی رہ گئ کہ کہیں اشعر فرقان صاحب کو بتا ہی نا دے

کیوں بیٹا پریشانی کیسی

بس ماموں میں اپنے ایک دوست کی وجہ سے پریشان ہوں کافی عرصے سے میں اسے ایک بات سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں وہ مان ہی نہیں رہا آج بھی۔۔

بابا چائے ٹھندی ہو رہی ہے اور اشعر بھائ آپ میرے بابا کو اپنے دوست کی باتیں سنا کے پریشان نا کریں۔ ایمان کی نظروں میں خاموش التجا تھی کہ پلیز بابا کو کچھ نا بتائیں۔

اور اشعر جو ایمان کی خوشی کیلئے کچھ بھی کرنے کیلئے تیار ہو جاتا تھا آج بھی اس کی التجا نظرانداز نا کر پایا

بیٹا کیسی باتیں کر رہی ہو بیٹا بچے ماں باپ سے اپنے مسائل نہیں بانٹیں گیں تو کس سے بانٹیں گیں۔

نہیں ماموں زیادہ پریشانی والی بات نہیں ہے مجھے یقین ہے کہ وہ دوست جلد ہی مان جائے گا

چلو بیٹا نا مانا تو مجھ سے ملوا دینا میں جانتا ہوں کہ

آپ ضرور اسے کوئ اچھی بات ہی سمجھانے کی کوشش کر رہے ہو گے

جی ٹھیک ہے ماموں اگر وہ نا مانا تو آپ سے ملوا دوں گا۔

ایمان سے مزید وہاں رکا نہیں گیا تو بولی بابا میں کچن میں برتن رکھ کے آتی ہوں۔ پھر وہاں سے جانے کے بعد ایمان نے دوبارہ وہاں جانے کا رسک نہیں لیا۔ اور شگفتہ بیگم جو کچن میں آکے اشعر کیلئے کھانا بنانے کا بندوبستی کر رہی تھیں ایمان کو آتے ہوئے دیکھ کے بولیں کیا ہوا بیٹا؟

کچھ نہیں ماما اشعر بابا کو سب بتانے لگے تھے بہت مشکل سے انہیں روکا ہے۔

شگفتہ بیگم بھی ایک لمحے کیلئے پریشان ہو گئیں کیونکہ وہ یہ بات تو جانتی تھیں کہ مرد اپنی بیٹیوں سے جتنی بھی محبت کرتے ہوں ایسی باتیں سن کے ضرور ان کی نام نہاد غیرت جاگ جاتی ہے اسلیے وہ نہیں چاہتی تھیں کہ یہ بات اب فرقان صاحب تک پہنچے اسلیے انہیں نے اب خود اشعر سے بات کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

بیٹا تم فکر مت کرو میں اشعر سے بات کروں گی۔

………………………………

سب لوگ شام کی چائے پی کے فارغ ہوئے تھے کہ بابا کے دوست آگئے ان کا مل کے کہیں جانے کا ارادہ تھا تو بابا ان کے ساتھ چلے گئے تب تک ایمان اپنے آپ کو سمبھال چکی تھی۔ وہاں شگفتہ بیگم اور ایمان بیٹھی تھیں۔ شگفتہ بیگم نے بلا تمہیدبات کا آغاز کیا

اشعر بیٹا میں آپ کی اور ایمان کی ایک دوسرے سے پسندیدگی سے واقف ہوں اور آپ یہاں اگر اس مقصد سے آئے ہو کہ ایمان کے بابا کو سب بتا کے انہیں اپنے اور ایمان کے رشتے میں ہموار کرنے کی کوشش کرو گے تو اس کا کوئ فایدہ نہیں کیونکہ میں اور ایمان اب ایسا نہیں چاہتے

ایمان ایک لمحے کیلئے ساکن رہ گیا

لیکن مامی آپ جانتی ہیں میں فاطمہ کے ساتھ خوش نہیں رہ پاؤں گا یہ تو اس کے ساتھ بھی زیادتی ہو گی کہ میرے دل میں کوئ اور ہے اور میں شادی کسی اور سے کر رہا ہوں

دیکھو بیٹا نکاح سے پہلے کی محبت کی کوئ اہمیت نہیں ہوتی۔ آپ کی شادی ہو جائے گی تو آپ کو خود بخود فاطمہ سے محبت ہو جائے گی۔

لیکن مامی مجھے ایسا نہیں لگتا کہ میں فاطمہ کے ساتھ خوش رہ پاؤں گا اور کیا آپ کو ایمان اس فیصلے سے خوش لگ رہی ہے ؟ اس نے ایک نظر ایمان پہ ڈالی وہ اپنی اور ایمان کی جنگ اکیلے لڑ رہا تھا کیونکہ ایمان نے اس کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔

بیٹا میں جانتی ہوں ایمان بھی خوش نہیں ہے لیکن بیٹا میں وہ دیکھ پا رہی ہوں جو تم نہیں دیکھ پا رہے۔ انچاہا بن کے رہنا کبھی بھی آسان نہیں ہوتا بیٹا میں نے کئ سال اس چیز کی ازیت سہی ہے آپ کے سامنے ہی ہے آپ کی نانی نے مجھے ابھی تک ٹھیک طرح سے قبول نہیں کیا تو بیٹا جب وہ بھی اس رشتے کی حمایتی نہیں ہیں تو میں کیوں اپنی بیٹی کیلئے ساری زندگی کی تکلیف مول لے لوں۔ فرض کرو وہ زور زبردستی سے مان بھی جائیں تو بھی بیٹا آپ دونوں خوش نہیں رہ پاؤ گے کیونکہ بیٹا کسی کے ٹوٹے خوابوں پہ قائم شدہ رشتے زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتے۔ اگر آپ ایمان نے شادی کر لیتے ہو تو فاطمہ تو بے قصور ماری جائے گی نا بیٹا اس کا اس سب میں کیا قصور جو اسے بچپن کی منگنی ٹوٹنے کا دکھ ملے۔ اور بیٹا میں نہیں چاہتی کہ میری بیٹی کسی کی بددعاوں کے حصار میں رہے ساری زندگی۔ بیٹا اگر یہ رشتہ آپ کی والدہ اور میری ساس کی رضامندی سے ہوتا تو مجھے کوئ اعتراض نہیں تھا بیٹا اور بیٹا میں نہیں چاہتی کہ اب کسی کو میری تربیت پہ انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔ پہلے بھی بیٹا میں اپنی ساس کی ان باتوں سے ساری زندگی بہت دکھی رہی ہوں کہ می نے ان کا بیٹا پھانسی اور ان کی بیٹی کے حق پہ پردا ڈالا تو میں نہیں چاہتی کہ اب کوئ میری بیٹی کے کردار پہ انگلی اٹھائے آپ کہو گے کہ میں خودگرز ہو رہی ہوں لیکن بیٹا کچھ فیصلے وقتی تکلیف تو دیتے ہیں لیکن انسان کو ساری زندگی کی زلت سے بچا لیتے ہیں آپ بھی اس سچ کو جتنی جلدی قبول کر لو گے آپ کیلئے بہتر ہو گا۔ اور I m very sorryبیٹا میں آپ کا ساتھ نہیں دے پاؤں گی اور آج ایک ماں آپ سے التجا کرتی ہی کہ بیٹا آپ فاطمہ سے رشتے کیلئے مان جاؤ ورنہ میری بیٹی رسوا ہو جائے گی اور آپ خوش بھی نہیں رہ پاؤ گے اس احساس سے۔

اشعر کے پاس اب کچھ کہنے کیلئے بچا ہی نہیں تھا کیونکہ وہ یہ سب باتیں جانتا تھا لیکن بس اپنی طرف سے کوششیں کر رہا تھا لیکن اس لمحے اس نے جان لیا کہ ایمان اس کی قسمت میں نہیں ہے۔ اس سے مزید وہاں رکا نہیں گیا وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ ایمان اس سارے عرصے میں ایک لفظ بھی نہیں بولی۔

رات کے کھانے پہ فرقان صاحب اشعر کے بارے میں پوچھ رہے تھے کہ اسے بھی بلا لو کھانے کیلئے لیکن وہ شام کا نکلا واپس نہیں آیا تھا۔ شگفتہ بیگم بولیں بس وہ انگ ہی والا ہو گا آپ کھانا شروع کریں

یار وہ اجاتا تو ہی کھانا شروع کرتے۔

ابھی شگفتہ بیگم کوئ جواب دے ہی رہی تھیں کہ اشعر آگیا اور آ تے ہی سلام دعا کر کے بیٹھ گیا۔

بیٹا آپ ھاتھ دھو آئیں پھر کھانا کھاتے ہیں اشعر کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں دیکھنے والا ایک ہی نظر میں اس کے اندر چلنے والی توڑپھوڑ سے واقف ہو جاتا تو یہ بات فرقان صاحب کی نظروں سے کیسے دور رہ جاتی اشعر آٹھ کے جانے لگا تو فرقان صاحب بولے بیٹا تمھاری طبیعت تو ٹھیک ہے تمھاری آنکھیں بہت سرخ ہو رہی ہیں۔

جی ماموں بس سر میں شدید درد ہو رہی ہے شاید مایگرین ہے بس آرام کرو گا تو ٹھیک ہو جاؤں گا۔

فرقان صاحب مطمئن تو نہیں ہوئے لیکن اشعر کو وہاں سے جانے پہ پرتولتا دیکھ کے چپ ہو گئےوہ اپنے بھانجے کو جانتے تھے کہ اگر اس نے کچھ نا بتانے کا ارادہ کر لیا ہے تو وہ کچھ بھی کر لیں وہ نہیں بتائے گا

اس دوران ایمان نے نظر اٹھا کے نہیں دیکھا کیونکہ وہ اشعر کو ٹوٹا ہوا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ کھانا بہت خاموشی سے کھایا گیا۔ کھانے کے بعد اٹھتے ہوئے اشعر فرقان صاحب کے پاس آیا ماموں اللہ حافظ آپ اپنا خیال رکھیے گا صبح شاید ملاقات نا ہو سکے۔

کیوں بیٹا آج تو آئے ہو آپ اتنی جلدی جا رہے ہو ؟

جی ماموں بس گاؤں میں کچھ کام آگیا ہے اور حرا کی شادی کی کچھ تیاریاں باقی ہیں تو اس لیے جلدی جانا پڑ رہا ہے

تو بیٹا صبح ناشتے کے بعد نکل جانا۔

نہیں ماموں صبح فجر کے وقت نکلوں گا تو جلدی پہنچ جاؤں گا۔

چلو ٹھیک ہے بیٹا۔ وہ اٹھ کے اسے گلے لگاتے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ اسے جتنا بھی روکنے کی کوشش کریں وہ نہیں رکے گا۔ اشعر نے بھی کسی پہ نظر نہیں ڈالی اور وہاں سے چلا گیا۔ ایمان اور شگفتہ بیگم کتنی ہی دیر ساکت بیٹھی رہ گئیں پھر ایمان کو ہی ہوش آ ی ماما میں چلتی ہوں اپنے کمرے میں آپ بھی بابا کے پاس جائیں وہ انتظار کر رہے ہوں گیں۔

شگفتہ بیگم کمرے میں آئیں تو انہوں نے فرقان صاحب کو کچھ سوچتے ہوئے پایا وہ جانتی تھیں کہ وہ اشعر کے بارے میں سوچ رہی ہیں۔وہ ان کے پاس بیٹھتے ہوئے بولیں کیا سوچ رہے ہیں آپ فرقان صاحب؟

میں اشعر کے بارے میں سوچ رہا ہوں میں نے اس سے پہلے کبھی اسے اتنا الجھا ہوا اور پریشان نہیں دیکھا۔ صبح بھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ مجھے کچھ بتانا چاہتا ہے لیکن بتا نہیں پایا۔

آپ کی علطفہمی ہوگی اس نے بتایا تو تھا کہ نیند پوری نہیں ہو رہی تھکاوٹ کی وجہ سے

بحرحال میں جانتا ہوں کہ بات کوئ اور ہے عید میں بھی چند ہی دن رہ گئے ہیں کچھ دن تک گاووں چلتے ہیں پھر ہی جا کے میں پوچھوں گا۔

ایمان سو گئ ہے

جی ابھی گئ ہے سونے

چلیں ٹھیک ہے آپ بھی سو جائیں۔ شگفتہ بیگم نے شکر کیا کہ فرقان صاحب نے بات کو سمیٹ دیا تھا۔

Episode 10

عید کے موقع پر سب لوگ گاووں جمع تھے۔ کیونکہ عید کے پانچوں دن سے حرا کی مہندی تھی۔ ہر دفعہ آتے ہوئے ایمان جتنی خوش ہوتی تھی اس دفعہ اسے گاووں اجنبی اجنبی لگ رہا تھا لیکن وہ اپنے زہن کو اب پرانی کسی یاد میں الجھانا نہیں چاہتی تھی اسلیے وہاں سب لوگوں کے ساتھ کاموں میں مصروف رہتی تھی۔ اشعر بھی اب اس دن سے بہت بہتر تھا لیکن اس کی طبیعت میں عجیب سا ٹھہراؤ آگیا تھا وہی اشعر جو محفل کی جان ہوا کرتا تھا آتے جاتے چٹکلے چھوڑتا تھا اب خاموشی سے اپنے کاموں میں مصروف رہتا۔ اگر کوئ کام نہیں بھی ہوتا تو کسی نا کوئ کام نکال لیتا۔ ایمان کو دیکھ کے بھی اس نے کوئ خاص ریکشن نہیں دیا تھا بس سلام دعا کر کے خاموشی سے گزر گیا۔ ایمان نے بھی اس بات کو زیادہ سوار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ کیونکہ اس نے اپنے دل کو سمجھا لیا تھا۔ عید کے دوسرے دن سب لوگ صحن میں بیٹھے تھے کہ عائشہ نے پھر سب کے سامنے حمزہ اور ایمان کے رشتے کی بات کی

فرقان بھائ میں تو انتظار ہی کر رہی تھی آپ نے جواب ہی نہیں دیا۔

فرقان صاحب نے ایک لمحے کیلئے گہری سانس لی اور جوا دینے کیلئے خود کو تیار کرنے لگے۔ اس وقت اشعر اور ایمان بھی وہاں موجود تھے۔ اشعر نے ایک نظر ایمان پہ ڈالی لیکن جلد ہی ہٹا لی کہ اب میں حق نہیں رکھتا۔ جی عائشہ بہن ایسا ہے کہ مجھے آپ کا بیٹا تو پسند ہے اور رشتے میں کوئ برائ بھی نہیں لیکن میں اتنی جلدی اپنی بیٹی کی شادی کرنے کے حق میں نہیں ہوں

بھائ صاحب اگر آپ کو رشتہ پسند ہی ہے تو میں نے بھی بس ابھی منگنی کی ہی خواہش کی ہے شادی چند سال بعد ایمان کی پڑھائ ختم ہونے کے بعد کر لیں گیں۔

آپ کی بات ٹھیک ہے لیکن میں ابھی چاہتا ہوں کہ ایمان اپنی پڑھائ پہ توجہ دے منگنی سے اس کی توجہ بٹ جائے گی۔ اب کے بلقیس بیگم جو کافی دیر سے چپ بیٹھی تھیں

ائے ہائے پتر ساری کڑیاں دی مینگنیاں ہوںدیاں نے اے کی گل ہوئ پڑھائ وہ نال نال چلدج روے گی۔ بس پہلے وہ تو میری گل نہیں منی سی ہن میں چاہنی آ ں کہ اے رشتہ ہوجائے۔ تے فر تو میری گل موڑ دتی اے

وہاں موجود سب لوگ ایک لمحے کیلئے خاموش رہ گئے کہ بلقیس بیگم نے کس وقت کی بات کا زکر کس جگہ کیا ہے۔ شگفتہ بیگم کو اپنی ساس کی بات نے تکلیف دی کہ ابھی تک وہ مکمل طور پہ انہیں قبول نہیں کر پائی تھیں

فرقان صاحب جانتے تھے کہ انکار کرنا اتنا آسان نہیں تھا۔

ماں جی عائشہ پھر مجھے کچھ سوچنے کا وقت دیں۔

اچھا پتر سوچ لے پر جواب ہاں ہی ہونا چاہیدا۔

ایمان وہاں سے اٹھ کے چلی گئ۔ اس سے پہلے کہ بلقیس بیگم مزید بات کو طول دیتی عائشہ نے بات سمیٹتے ہوئے کہا ٹھیک ہے بھائ صاحب۔ آپ اچھی طرح سوچ لیں مجھے کوئ جلدی نہیں۔

ایمان اٹھ کے حرا کے پاس اگئ۔ ۔

بلقیس بیگم کا موڈ خراب تھا۔ سب لوگ اٹھ کے گئے تو عائشہ بہت محتاط انداز میں اپنی خالہ کے پاس ائیں۔ خالہ مجھے تو یہ ہی لگ رہا تھا کہ فرقان صاحب کو کوئ اعتراض نہیں لیکن شگفتہ ایسا نہیں چایتی۔ پہلے بھی اس کی وجہ سے فرقان صاحب سے میرا رشتہ ٹوٹ گیا اب وہ میرے بیٹا کا رشتہ نہیں ہونے دینا چاہتی۔ انہوں نے لوہا گرم دیکھ کے وار کیا تھا۔ کیونکہ وہ اپنی خالہ کی دکھتی رگ کو اچھی طرح جانتی تھیں اور یہ سب انہی کا کیا دھرا تھا۔

ہاں پتر مینوں وہ اے ہی لگدا پیا اے پر تو فکر نا کر ایمان تیری ہی نوں بنے گی۔

عائشہ اپنی شاطرانہ چال چل چکی تھیں۔ وہ بہت کینہ پرور تھیں وہ فرقان صاحب اور شگفتہ کو تو الگ نہیں کروا پائیں لیکن اب وہ ایمان کو تکلیف پہنچا کے اپنا بدلہ پورا کرنے کے چکروں میں تھیں۔ ایمان اور اشعر کی آپس میں دوستی اور چند ایک بار ان کی باتیں سن کے عائشہ نے ان کی ایک دوسرے میں دلچسپی کوبہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا تو تب ہی انہوں نے اشعر کے ہوسٹل جانے سے کچھ عرصہ پہلے اپنی خالہ کے زہن میں اشعر اور فاطمہ کے رشتے کی بات ڈال دی تھی اور ان کو اس بات کو سب سے پوشیدہ رکھنے پہ قائل کر لیا تھا کیونکہ وہ ایمان کو ویسے ہی ازیت دینا چاہتی تھیں جیسی انہوں نے فرقان صاحب کو ان سے رشتہ توڑ کر شگفتہ سے شادی کرتے ہوئے ہوئ تھی۔ اور اب بھی وہ اپنی خالہ کو بھڑکانے میں کامیاب ہو گئیں تھیں۔ اب وہ جانتی تھیں کہ کچھ بھی ہو جائے وہ اپنے ارادے میں ضرور کامیاب ہوں گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان گزر رہی تھی تو اس نے بلقیس بیگم کو کسی سے کہتے ہوئے سنا کہ میں مجھے لگتا ہے کہ فرقان تو چاہتا ہے کہ یہ رشتہ ہو جائے لیکن شگفتہ نے ہی اسے انکار کرنے کو بولا ہو گا۔ کیونکہ پہلے بھی وہ ہی میرے بیٹے کو مجھ سے دور شہر لے گئ تھی اب بھی ایسا ہی کر رہی ہے ماں بیٹے کو آمنے سامنے کھڑا کر رہی ہے۔

ایمان یہ نہیں دیکھ پا ہی کہ وہ کس سے مخاطب ہیں

ایمان کو ایک لمحے کیلئے بہت افسوس ہوا لیکن اگلے ہی لمحے اس نے ارادہ کیا کہ وہ بابا کو اس رشتے کیلئے ہاں کہ دے گی کیونکہ اگر اشعر نہیں تو اس کی جگہ کوی بھی ہو کیا فرق پڑے گا۔ وہ مزید اب اپنی ماں کیلئے کسی تکلیف کی وجہ نہیں بننا چاہتی تھی اکثر دادی اس کی پڑھائ کو اور کبھی اس کے زیادہ کام کاج نا کرنے کو نشانہ بناتی تھیں۔ تو اب وہ اس اردگرد سے شگفتہ بیگم کے پاس گئ کہ وہ انہیں ہاں کہ دے گی جا کے۔

وہ اس کمرے میں آئ جہاں شگفتہ بیگم بیٹھی تھیں

اور جا کے بولی ماما آپ عایشہ آنٹی کو ہاں کہ دیں مجھے کوئ اعتراض نہیں اس رشتے سے

لیکن بیٹا

ماما جب اشعر نہیں تو کوئ بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے اور ماما اپ جانتی ہیں کہ اگر بابا نےاب پھر انکار کیا تو دادی آپ کو ہی بلیم کریں گیں کہ ضرور آپ نے ہی انہیں منع کیا ہے۔ میں نہیں چاہتی کہ اب کسی بھی آپ کو میری وجہ سے برا بھلا کہے پہلے ہی میں آپ کو بہت پریشان کر چکی ہوں اور ماما جب اشعر نہیں تو کوئ بھی ہو کیا فرق پڑتا ہے اور ماما ایک طرح سے اچھا ہی ہے کہ شاید اس طرح میں اس فیز سے ہمیشہ کیلئے نکل جاؤں کیونکہ مجھے اپنے سامنے حمزہ نظر آئیں گے

لیکن بیٹا مجھے لگتا ہے کہ عائشہ یہ سب مجھ سے بدلہ لینے کیلئے کر رہی ہے آپ کے بابا سب سمبھال لین گیں

ماما آپ ٹینشن نا لیں جو تکلیف میرے نصیب میں لکھی ہے وہ تو مجھے مل کے رہے گی اور ہو سکتا ہے ایسا نا ہو آپ کچھ برا مت سوچیں پلیز سب ٹھیک ہو جائے گا انشاللہ کیونکہ اللہ اوقت سے زیادہ سکھ تو دیتا ہے لیکن برداشت سے زیادہ دکھ نہیں دیتا۔ یہ بات کہ کے ایمان انہیں کوئ بھی مزید بات کا موقع دیے بغیر وہاں سے چلی گئ۔ دل میں کہیں ٹیس ضرور اٹھی لیکن وہ مطمئن تھی۔ اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ وہ اب آگے بڑھے گی۔ کیونکہ وہ اپنے ماں باپ کو اپنی وجہ سے پریشان نہیں دیکھ سکتی تھی۔

_________

شگفتہ بیگم فرقان صاحب کے پاس آئیں جو کہیں باہر سے آ رہے تھے۔ میں آپ کو ہی ڈھونڈ رہی تھی؟

خیریت تھی؟ فرقان صاحب نے تشویش سے پوچھا

جی خیریت ہے آپ بس میرے ساتھ ائیں؟

شگفتہ انہوں اپنے کمرے میں لے آئیں جہاں شہر شفت ہونے سے پہلے ان کا بسیرہ تھا۔ جب بھی گاووں آتیں یہ ہی گھر ان کی ملکیت رہتا۔ وہاں پہنچ کے شگفتہ بیگم نے انہیں اشعر کے زکر کو چھوڑ کے ایمان کے ساتھ ہونے والی ساری بات بتا دی۔

اب آپ کیا کہتے ہیں؟

دیکھیں شگفتہ مجھے تو پہلے بھی اس رشتے پہ اعتراض نہیں تھا۔ حمزہ دیکھا بھالا لڑکا ہے اور مجھے اس کے کردار میں بھی کوئ جھول نظر نہیں آتا باقی رہی عائشہ کی بات تو وہ سب کے سامنے ماضی میں کی گئ اپنی غلطیوں کی معافی مانگ چکی ہے اگر ایک نئ شروعات کی خواہاں ہے تو مجھے نہیں لگتا تھا کہ ہمیں پیچھے ہٹنا چاہیے۔ لیکن میں بس آپ کے اور ایمان کی وجہ سے چپ تھا کیونکہ میں آپ کی ازیت سے واقف ہوں جو آپ نے پہلے عائشہ کی وجہ سے برداشت کی۔ اس لیے میں نہیں چاہتا تھا کہ میں اپنا فیصلہ آپ پہ مسلت کروں۔ باقی ایمان اگر مان گئی ہے تو آپ کیا کہتی ہیں کیونکہ بحرحال اپ کی رائے بھی میرے لیے بہت اہم ہے۔

میں نہیں جانتی کیوں لیکن میں ابھی بھی عائشہ پہ بھروسہ نہیں کر پا رہی۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حمزہ اگر عائشہ کا بیٹا نا ہوتا تو میں ایک لمحہ بھی سوچے بغیر ہاں کر دیتی کیونکہ وہ اچھی شہرت کا حامل ہے اور میں نے بھی اس کے کردار میں کوئ جھول نہیں دیکھا۔

چلیں میرا تو خیال ہے کہ آپ عائشہ کی کی گئ غلطیوں کو نظرانداز کر دیں۔ میں ماں جی اور عائشہ تک پیغام پہنچا دیتا ہوں کہ ہمیں اس رشتے سے کوئ اعتراض نہیں ہے۔

لیکن آپ انہیں یہ بات بھی اچھی طرح سمجھا دیں کہ ہم ابھی بس منگنی کریں گیں شادی ایمان کی پڑھائ ختم ہونے کے بعد اس سے پہلے کوئ ہم سے اس کی شادی کی ڈیمانڈ نہ کرے۔

اوکے ٹھیک ہے میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں کہ ایمان ابھی سکون سے اپنی پڑھائ مکمل کرے۔ شگفتہ بیگم ابھی بھی مطمئن نہیں تھیں لیکن انہی یہ اطمینان تھا کہ حمزہ اچھا انتخاب تھا۔

لیکن اگر مجھے کبھی بھی محسوس ہوا کہ عائشہ بیگم اس رشتے کی آڑ میں کوئ اور منصوبہ بنائے ہوئے ہیں تو میں ایک لمحہ نہیں لگاؤں گی یہ رشتہ توڑنے میں۔

جی اس صورت میں آپ کو یہ فیصلہ لینے کا مکمل اختیار ہو گا۔ آپ ہمیشہ کی طرح مجھے اپنے ساتھ پائیں گیں کیونکہ میرے لیے بھی سب سے پہلے اپنی بیٹی کی خوشی اہم ہے اس کے بعد کوئ اور۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن بعد حرا کی مہندی تھی۔ سب لوگ اس وقت موجود تھے۔ ایمان اپنے فیصلے کے بعد مطمئن تھی اس نے اپنا فیصلہ اللہ پہ چھوڑ دیا تھا اور ثابت قدمی کی دعا اللہ سے مانگی تھی۔ شگفتہ بیگم بھی اپنی بیٹی کا پرسکون چہرہ دیکھ کے قدرے مطمئن تھیں۔اس وقت عائشہ بیگم بھی یہاں موجود تھی۔ وہ بھی دیگر مہمانوں کی طرح ایک دن پہلے ہی گاؤں آ گئ تھیں۔ ان کی بیٹی بھی اپنے بچوں کے ساتھ موجود تھی۔ فرقان صاحب نے خود ہی بات کا آغاز کیا

عائشہ ہمیں اس رشتے سے کوئ اعتراض نہیں اشعر کے ساتھ ہی ایمان کی بھی منگنی کر دیتے ہیں آپ لوگوں کی خواہش کے مطابق

۔ بلقیس بیگم اور باقی سب بولے بھائ صاحب آپ نے اچھا فیصلہ کیا ہے۔

ایمان بھی اپنی دادی کا مسرور چہرہ دیکھ کے مطمئن تھی۔ اس فیصلے سے اس کے دل کے ایک کونے میں ابھی بھی درد کی ایک لہر اٹھی لیکن اس نے اس احساس کو خود پہ حاوی نہیں ہونے دیا۔ اور اپنے آپ کو حرا اور فاطمہ سے باتوں میں مگن کر لیا۔ وہاں موجود اشعر کو بھی اپنے دل میں درد کی لہر اٹھتی ہوئ محسوس ہوئی لیکن وہ بھی بےبس تھا۔ کچھ بھی اس کے ھاتھ میں نہیں تھا۔ تو اس نے بھی خود کو باور کروا لیا کہ غم کو خود پہ سوار کرنے کا کوئ فایدہ نہیں۔ دل میں ابھی بھی یہ خواہش تھی کہ کوئ معجزہ ہو جائے اور حالات اس کے اور ایمان کے حق میں ہو جائیں۔ اس نے ایک نظر ایمان کو دیکھا اوراس کے قدرے پرسکون انداز کو دیکھ اپنے دل کو ایک تھپکی دی کہ اگر وہ عورت ہو کے اتنی کمپوزڈ ہے تو وہ مرد ہو کے کمزوری کا ثبوت کیوں دے۔ اس نے آسمان کی طرف ایک نظر ڈالی اور دل ہی دل میں بولا کہ اللہ اگر تیرا یہ ہی فیصلہ ہے تو میں تیری رضا میں راضی ہوا ۔بس تو مجھے ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما۔

اسے اس لمحے اپنے بابا کی کہی ہوئ باتیں یاد آئیں کہ بیٹا جب بہت کوشش کرنے پہ بھی ایک چیز حاصل نا ہو تو جان لو کہ وہ تمھارے نصیب میں ہی نہیں یا ابھی وقت مناسب نہیں۔ پھر اللہ کی مرضی میں راضی ہو جاؤ کیونکہ اللہ سے شکایت کر کے اور شور شرابا کر کےبھی وقت گزر جاتا ہے اور صبر کر کے بھی۔ تو بہتر ہے کہ صبر کر کے اس کو راضی رکھو تاکہ وہ تمھیں اس سے بھی بہترین چیز کا حقدار بنا دے۔ اور بیٹا اللہ اپنے پسندیدہ بندوں کو ہی آزماتا ہے اور ہمیشہ اس چیز یا انسان سے آزماتا ہے جو اسے سب سے پیارا ہو۔۔

ہمیشہ ایسے ہی ہوتا تھا جب وہ بھٹکنے لگتا تھا تواللہ اس کے زہن میں اپنے بابا کی ہی کوئ پرانی بات ڈال دیتے تھے جس سے وہ پرسکون ہو جاتا تھا۔ اور اب بھی یہ ہی ہوا تھا۔ اشعر اور ایمان دونوں نہیں جانتے تھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ان کیلئے آزمایش تھی۔ اور آج کا انسان آزمائش اور سزا میں فرق نہیں جانتا۔ جو مشکل انسان کو اللہ کی طرف متوجہ کر دے وہ آزمائش اور جو دکھ اسے رب سے دور کر دے وہ اس کے گناہوں کی سزا۔ یہ بھی امتحان تھا اور اللہ کی آزمائش میں ثابت قدم رہنے والوں کیلئے راحتیں ہیں جو انقریب اس تک پہنچ جائیں گیں۔ سب لوگ باتوں میں مگن تھے۔ عشاء کی اذان ہوتے ہی دو فریق وہاں سے اٹھے ۔ ایمان کا رخ نماز پڑھنے کیلئے کمرے کی طرف تھااور اشعر کا مسجد کی طرف دونوں اس وقت اللہ سے ثابت قدمی مانگنے کے خواہشمند تھے۔ پیچھے سب لوگ منگنی کا وقت اور دیگر باتیں طہ کرنے میں مصروف تھے۔ بلقیس بیگم کا بھی رشتہ طہ ہوتے ہی خوشی کی کوئ انتہا نہیں تھی۔ وہ بلڈ پریشر اور جوڑوں کے درد کی مریضہ تھیں۔ دوائ بھی کوئ خود دکھے سے کھلا دے تو کھا لی ورنہ جب کوئ موجود نا ہوتا تو اکثر ڈنڈی مار جاتیں۔ اور کھانے میں بھی نمک کے استعمال سے پرہیز نہیں کرتی تھیں تو فرقان صاحب اس طرف سے بھی قدرے فکرمند رہتے تھے تو اپنی ماں کا مطمئن چہرہ دیکھ کے ان کو بھی اپنے دل میں اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا اور انہوں نے دل ہی دل میں اللہ کا شکر ادا کیا۔ منگنی کل مہندی کے دن ہونا قرار پائ۔ عائشہ ایمان کے مہندی میں پہنے جانے والے سوٹ اور دیگر جیولری کا اپنے گھر سے ہی بندوبستی کر کے آئیں تھیں۔ منگنی طہ ہونے پہ وہ مبارکباد دینے کیلئے شگفتہ بیگم کے گلے لگیں۔ شگفتہ بیگم کا دل ایمان کی پزیرائی دیکھ کے کچھ مطمئن ہوا ان کے زہن میں ابھی بھی کہیں شک تھا لیکن انہوں نے خود کو اس وقت کچھ بھی برا سوچنے سے باز کیا. عائشہ بیگم اس وقت اپنے گھر روانہ ہوگئیں کیونکہ انہوں نے ابھی اپنے کچھ رشتیداروں کو جلدی میں طہ کی جانے والی منگنی کیلئے انوایٹ کرنا تھا وہ دیر نہیں کرنا چاہتی تھیں اب مزید کہ کہیں پھر سے ان کا ارادہ نا بدل جائے۔

…………………….

ایمان اپنی ماما کے کمرے میں آگئ ۔ وزو کر کے دعا کیلئے ھاتھ اٹھائے پہلے تو کتنی ہی دیر وہ سب کیلئے دعائیں مانگتی رہی لیکن جب اپنے لیے دعا مانگنے کا وقت آیا تو اس کے زہن کی سطح مکمل بلینک تھی۔ کافی دیر یونہی گزر گئ پھر اس نے یہ الفاظ ادا کیے کہ اللہ میں تیری رضا میں راضی ہوئ تو بھی مجھے ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما میرے لیے آسانیاں فرما۔ مجھے اپنی پچھلی محبت بھول کے اس رشتے کو مکمل ایمانداری سے نبھانے کی طوفیق عطا فرما۔ دعا مانگ کے ایمان کچھ دیر سب کے درمیان بیٹھی پھر سونے کیلئے لیے لیے گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اے اللہ تو مجھے اپنی رضا میں راضی رہنے اور ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرما میں فاطمہ کے ساتھ انصاف کر سکوں۔وہاں اشعر کے بھی کم وبیش یہ ہی الفاظ تھے دعا مانگتے ہوئ۔ دعا مانگ کے دونوں کے ہی دل مطمئن ہو گئے تھے۔ اشعر کا ارادہ اس وقت اپنے گھر جانے کا تھا لیکن اسے اپنے دوست کا میسج موصول ہواکہ وہ ڈیرے والے مخصوص کمرے میں اس کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ گھر جانے کی بجائے وہاں چل پڑا۔ لیکن اس نے عثمان بھای کو کال کر دی کہ آج کی رات اس کی اپنے دوست کے ساتھ رکنے کا ارادہ ہے۔ فریدہ بیگم کو بھی بتا دے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان اپنی کلاس فیلوز اور کچھ وادڈ گروپ کے لڑکوں کے ساتھ اس وقت وارڈ میں موجود تھی اس وقت ڈاکٹر علی جو سرجری وارڈ میں سینیر رجسٹرار تھے۔ اس کی دوست فریحہ نے مریض کی ہسٹری سنائ تھی اس پہ سر سب کو اس کیس کی بارے میں پڑھانے میں مصروف تھے اور ایمان کے نمبر پہ بارا بار میسج ٹون بجتی جا رہی تھی۔ وہ کافی دیر سے اگنور کر رہی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اس وقت کون میسج کر رہا ہے لیکن وہ اس وقت کوئ جواب نہیں دے سکتی تھی۔ خاموش ماحول میں بار بار میسج ٹون بج رہی تھی اس نے کسی طرح نظر بجا کے اوور آل کی جیب سے موبائل نکالا اسے سایلنٹ کرنے کے ارادے سے کہ ڈاکٹر علی کی اس پہ نظر پڑ گئ انہوں نے اسے گھوری سے نوازا۔ گھبرا کے ایمان فون سایلنٹ پہ لگانا بھی بھول گئ۔ انہوں نے سخت سست سنائیں سب کو مخاطب کر کے بولے جب میں آپ سب کو اس سے پہلے بھی کئ دفعہ منع کر چکا ہوں کہ جب میں کلاس لے رہا ہوں تو کوئ مجھے فون یوزکرتا ہوا نا نظر ائے۔ لیکن آج کل کی جنریشن کا پتا نہیں کیا ہو گیا۔ ان کو بس اٹھتے جاگتے فون چاہیے کسی سینیر کی بات کی کوئ ریسپیکٹ ہی نہیں ہے۔

ایمان بولی

I am sorry sir.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *