Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir NovelR50700 Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 02)
Rate this Novel
Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 02)
Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir
اس کو گھر سے آئے ہوئے ہفتہ ہونے کو آیا تھا اور وہ بہت چاہتے ہوئے بھی اشعر کو میسج نہ کر پائی۔ناہی اشعر کا کوئی میسج آیا۔وہ اسی وجہ سے پریشان تھی اور فریحہ کافی دیر سے اسے کھویا ہوا دیکھ رہی تھی۔اور آج اس کا پورا ارادہ تھا کہ وہ ایمان کے پچھلے پورے ہفتے سے جھنجھلاے اور کھوے کھوے رہنے کی وجہ دریافت کر کے رہیں گئیں۔
ایمان کی غائب دماغی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فریحہ اپنے ساتھ ایمان کابھی کیک فریج سے نکال کر کھا گئی اور خالی پلیٹ لاکرام ان کے سامنے رکھ دی۔اور بولی ایمان یار کیک کھا لو۔اور زور سے ایمان کا کندہ ہلادیا ۔
ایمان زور سے کندھا ہلائے جانے پر بڑبڑاتے ہوئے غصے سے بولی کیا آفت آگئی ہے کبھی تو تھوڑی دیر سکون سے بیٹھنے دیا کرو۔میں پہلے ہی پریشان ہوں۔
اب اس کی نظر سامنےپڑی خالی پلیٹ پر پڑی تو فریحا کو بولی بھوکڑ میرا کیک کہاں ہے؟
وہ تو میں کھا گئی۔کب سے فریج میں پڑا، کسی کے کھائے جانے کا انتظار کر رہا تھا میں نے سوچا کھاہی لوں یہ نہ ہو ضائع ہو جائے۔ فریحہ نے اطمینان سے بتایا تھا.
بہت کمینی ہو تم ہر دفعہ ایسا ہی کرتی ہو۔ ایمان نے اس کو گھورا تھا.
یار مجھےتمہارا خیال آجاتا ہے کہ کہیں تم کیک کھا کھا کے اورموٹی نا ہو جاو۔ اس نے ہنسی دبائی تھی..
اچھا چھوڑو اس بات کو یہ بتاؤ کہ کس بات پر پریشان ہو اور کیا سوچ رہی ہو اتنی دیر سے ؟
کچھ نہیں یار ویسےہی… میں بس سونے کا سوچ رہی ہوں۔ طبیت عجیب لگ رہی ہے.. ایمان نے بہانہ کیا تھا.
اس سے پہلے کہ فریحا اور کچھ بولتی اس کے موبائیل پر گھر سے فون آیا اور وہ یہ کہتے ہوئے با ہر چلی گئی
مما کا فون ھے سن کے آتی ہوں۔
فریحہ جب کال سن کے واپس آئ تو ایمان بڑبڑا رہی تھی کہ بات سمجھنے کی کوشش کیے بغیر بلاوجہ ناراض ہو گیا ہے.
اب میں کیا کروں اور یہ بات اندر آتی ہو ئ فریحہ نے سن لی کون ناراض ہے؟ اس نے ایمان کو دیکھا تھا جو کہی اور ہی تھی..
اشعر… ایمان ٹرانس میں تھی..
اشعر کون؟ فریحہ حیران تھی..
میرا کزن۔ ایمان ابھی بھی سوچوں میں گم تھی…
اوووو۔۔ فریحہ اونچے نے شرارت سے کہا تھا.
ایمان کو اب ہوش آیا کہ وہ کیا بول گئ ہے۔ اس لئے اس نے ناظرین چرائیں تھیں.
آپ مجھے بتانا پسند کریں گی کہ یہ کیا معاملہ ہے۔شک تو مجھے پہلے سے ہی تھا۔ فریحہ نے آنکھیں مٹکا کر کہا تھا.
کچھ نہیں ہے.. یار کچھ بھی تو نہیں… ایمان کی آواز میں بیزاری تھی.
مجھے ٹالنے کی کوشش نہ کرو میں جانتی ہوں تم پچھلے ایک ہفتے سے پریشان ہو اور جب سے گھر سے آئی ہوئی یونہی کھوئی کھوئی ہو۔ اس شرافت سے بتاؤ کیا بات ہے… فریحہ نے اس کا چہرے دیکھا تھا جو اس کی پریشانی ظاہر کرنے کے لئے کافی تھا.
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ تم نہ کچھ بھی سوچتی ہو..اور پلیز مجھے سونے دو صبح کلاس کے لیے اٹھنا بھی ہے…
ایمان نے اپنی جگہ پی لیٹتے ہووے کہا تھا۔
لیکن فریحہ نے اسے لیٹنے نہ دیا اور دکھ سے بولی یار مجھے بہت افسوس ہو رہا ہے کہ دوسال کی دوستی کے باوجود تم مجھ پر آج تک اتنا سا بھروسا نہیں کر پائی کہ اپنی پریشانی کی وجہ ہی بتادو۔تمہیں کیا لگتا ہے کہ میں بیوقوف ہوں کہ جان نہیں پاؤں گی۔میں آج تک اس انتظار میں تھی کہ تم خود مجھے بتاؤ گی لیکن نہیں۔
میں بہت دن سے جانتی ہوں کوئی ہے۔ اور مجھے لگتا ہے آج پھر تم اسی بندے کے میسج کا انتظار کر رہی ہو۔
اور پلیز اب مجھے جھٹلانے کی کوشش مت کرنا کہ میرا اندازہ غلط ہے۔
ایمان جانتی کہ اب فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے تو بولی ہم ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔
یار میں نے اس کو ناراض کر دیا ہے اور مجھے سمجھ نہیں آ رہا کہ اب کیا کروں۔ اس لئے پلیز ابھی اس بات کو یہاں ہی ختم کر دو اور پلیز اور کچھ مت پوچھنا پھر کسی دن تمہیں ساری بات بتا دوں گی آج نہیں پلیز۔ فریحہ جو اسے بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن اس کی پریشانی کو دیکھتے ہوے بولی بولی آچھا ٹھیک ہے کیا یاد کرو گی آج تمھیں بخشا۔ تم اپنے اشعر صاحب کو پہلے منالو اور ابھی پلیز سو جاؤ صبح ڈاکٹر یاسمین کا لیکچر ہے اور وہ ایک منٹ لیٹ آنے پر بھی get out کہ کر ساری کلاس کے سامنے بے عزت کر دیتی ہیں۔ایمان اشعر کو I am sorry کا میسج کر کے جواب کا انتظار کرتے کرتے سو گئ۔ اس نے آنکھیں بند کیں تھیں.. مجبوراًفریحہ کو بھی لیٹنا پڑا تھا.
…………………………………….
صبح کلاس میں اسے اشعر کی طرف سے پیغام ملا بڑا جلدی نہیں خیال آ گیا آپ کو؟ تم فارغ ہو جاؤ رات میں بات کرتے ہیں۔ایمان نے شکر کیا کہ جواب تو آیا۔ تب ہی پاس بیٹھی فریحا بولی مان گئے آپ کے اشعر صاحب؟ لگتا تو ہے اسی لیے آپ کی بتیسی نکل رہی ہے۔
فری کی بچی چپ کر جا۔ ایمان نے اسے چھپ رہنے کا اشارہ کیا تھا ابھی میم یاسمین نے باہر نکال دینا ہے.۔
تب ہی میڈم یاسمین بولی you stand up miss the girl in red dupatta….
ایمان کی بچی تجھے بول رہی ہیں… اٹھ جا… فریحہ جو نقاب میں تھی جھٹ سے بولی تھی.
جی میم۔ ایمان ڈرتے ہوے بولی تھی وہ جانتی اب اس کی شامت آئ ہے..
get out of my class. میں پہلے بھی کئ دفع کہ چکی ہوں جب میری کلاس ہو تو کوئ بولتا ہوا نہ نظر آے۔
ایمان کا اندازہ میم کی بات نے سہی سبط کیا تھا.
سوری میم… دوبارہ ایسا نہیں ہو گا.. ایمان شرمندہ ہوئی تھی.
no sorry just get out. میم نے کافی چلّا کر کہا تھا. یہی واضح تھی کہ ایمان چپ کر کے منہ نیچے کر کے باہر چلی گئ۔
………………………………………….
ہاسٹل آ تے ہی ایمان رونے میں مشغول تھی اور فری سے ناراض ہونے کا ارادہ کر چکی تھی۔ تب ہی فری کمرے میں آئ ارے یہاں تو بن موسم برسات ہو رہی ہے۔ I am sorry Yar.
ایمان منہ بسورتے ہوے بولی میری اتنی بےعزتی ہوئ۔ ایمان نے روتے ہوے کہا تھا.
یار… چھوڑو روز کسی نا کسی کی بےعزتی ہوتی ہے۔وہ نعمان لوگوں کے گروپ کا نہیں پتا کس طرح تمام اساتذہ کے ناک میں دم کیے رکہتے ہیں اور کی دفعہ کلاس سے نکالے جا چکے ہیں۔
اس سے پہلے کہ ایمان کچھ اور بولتی فریحہ اسے کھینچتی ہوئ لے گئ کہ چلو کھانا کھا کے اتے ہیں پیٹ میں چوہے دوڑہ رہے ہیں۔
رات کے وقت اشعر کا میسج ملا۔ جی اب بولیں، 3 دن بعد آپ کو خیال آیا ہے..
ایک تو آ پ بلاوجہ ناراض ہوتے ہیں اور اوپر سے نخرا بھی دیکھاتے ہیں۔ اس نے جواب سینڈ کیا تھا.
بلاوجہ ناراض ہو رہا ہوں۔ اشعر کا میسج ملا۔
جی بالکل۔ آپ بس اوور ریکٹ کر رہے ہیں۔ ایمان نے میسج بھیجا۔
اشعر جو پچھلے 3 دنوں سے اسی بات کو سوچ رھا تھا تم ٹھیک کہ رہی ھو میں اس دن جزباتی ہو گیا تھا۔
اچھی بات ہے آپ کو احساس تو ہوا۔ ایمان نے مسکراتے ہوے میسج ٹائپ کیا اور بیھج دیا..
اشعر کی یہ عادت بہت اچھی تھی کہ وہ بات کو طول نہیں دیتا تھا۔ اور اگر غلطی پہ ہوتا تو مان جاتا تھا۔۔
دوسری طرف ایمان نے سکون کا سانس لیا۔پھر تھوڑی بہت بات کر کے ایمان سونے لیٹ گئی.
……………………………………..
اشعر MBBS کے چوتھے سال میں تھا۔اور اپنے بھن بھائیوں میں تیسرے نمبر پہ تھا۔اس سے بڑی ایک بہن ردا تھی جو اس کی خالا کے بیٹے سے منسوب تھی۔ بی-اے کے بعد فارغ تھی سب سے بڑا بھائ والد کی وفات کی بعد سے اپنے والد کی مین مارکیٹ میں واقع کپڑے کی دوکان سنبھال رہا تھا اور میٹرک سے آ گے پڑھائ میں دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے پڑہ نہیں پایا اور سب سے چھوٹا بھائ میٹرک کا طالب علم تھا۔
اشعر بہت پراعتماد طالبعلم تھا۔ اور اپنی کلاس کا کلاس رپریزینٹیٹو تھا اور کلاس میں بہت مقبول تھا۔
ابھی بھی وہ کل کے ENT کے ٹیسٹ کی تیاری کر رہا تھا کہ اسے خیال آیا ایمان سے بات ہوئے کافی وقت گزر گیا ہے تو اپنے کمرے سے باہر نکلا تاکہ ایمان کو فون کر سکے۔ کیو نکہ وہ اب تیاری کر کے دوستوں کے ساتھ باہر گھومنے جانے کا ارادہ رکھتا تھا وہ کسی بھی امتحان کو سر پہ سوار نہیں کرتا تھا۔ وہ فون کرنے کے لئے قدرے پرسکون گوشے میں ایا۔ اور ایمان کو کال ملائ۔ دوسری بیل پہ ایمان نے فون اٹھایااور پھولی ہوئ سانس سے بولی اسلام علیکم۔
وعلیکم السلام سانس کیوں پھول رہی ہے تمھاری؟ وہ کچھ پریشن ہوا تھا.
وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے آئ ہوں اوپر۔ اس نے اپنی سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی تھی.
کہاں تھی؟ اس نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا.
نیچے دوست پڑھا رہی تھی۔بایوکیمسٹری کا ٹیسٹ ہے۔ ایمان نے معلومات فرہام کیں تھیں
یار بایوکیمسٹری بھی کوئ پڑھتا ہے؟ ٹیسٹ کب ہے؟ ااس نے فورا پوچھا تھا.
گلے ہفتے۔ ایمان نے مسکرا کر جواب دیا تھا..
اتنی دیر پہلے کون پڑھنا شروع کرتا۔ اشعر کو حیرت ہوئی تھی.
اب میں آپ جیسی نہیں بن سکتی نا۔ آپ تو پروف میں بھی گھوم پھر لیتے ہیں۔ اس ا ہنستے ہوے کہا تھا..
ہاں یہ تو ہے۔میرا کل ٹیسٹ ہےاور میں ابھی باہر ہی جا رہا تھا دوستوں کے ساتھ ٹاپ مجھے کرنا نہیں جتنا پڑھنا تھا پڑھ لیا۔
اچھا تمہیں بتانا تھا کہ ردا کی شادی کی تاریخ تہ کر نے جا رہی ہیں امی۔
ایمان بولی ٹھیک۔ وہ ابھی بھی اپنے ٹیسٹ کے بارے میں سوچ رہی تھی… اس لئے بہت رسپونس نہیں دے سکی تھی.
اچھا اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ٹیسٹ کیلئے ابھی chill کرو۔
اور میں چلتا ہوں اس سے پہلے دوست بلانے آجاو۔
اوکے۔ایمان بولی تو اس کی آواز میں خوشی تھی.. چہرے پے تازگی۔
وہ ایسی ہی تھی چھوٹی چھوٹی باتوں پہ رو دینے والی، تو کبھی پریشان ہونے والی تو کبھی بہت خوش ہو جانے والی…
___________
ایمان جہاں اشعر سے بات کرنے کے بعد کئ دن خوش رہتی تھی وہاں کہیں دل میں یہ بیچینی بھی رہتی تھی کہ وہ جس رشتے کے تحت اشعر سے بات کرتی تھی اس رشتے کا علم اسکے والدین کو نہیں ہے ہالانکہ وہ اشعر سے ایسی کوئ بات نہیں کرتی تھی جس سے اس کا زمیر اسے ملامت کرے لیکن پھر بھی وہ عجیب سی بیچینی کا شکار رہتی تھی۔ کئ دفعہ اس کا دل چاہتا کہ وہ ماما کو سب سچ سچ بتا دے مگر ہمت نہیں جتا پاتی تھی۔ وہ پھر سے اکیلی ہونے سے ڈرتی تھی۔ اسے ابھی بھی وہ وقت یاد تھا جس وقت اسے اپنے گھر والوں کے ساتھ کی بہت ضرورت تھی لیکن وہ خود ہی روز ٹوٹتی پھر خود ہی ہمت جٹا کے نورمل ہونے کی کوشش کرتی۔ اور اس عرصے میں وہ نا چاہتے ہوئے بھی اشعر کے قریب ہوتی چلی گئی۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ آٹھویں جماعت کی طالبعلم تھی اور وہ سب سے زیادہ اپنے بابا کے قریب تھی۔ اسے اپنی بات بابا کے علاوہ کسی سے بھی اپنے دل کی بات کرنے کی عادت نہیں تھی حتاکہ اپنی ماما سے بھی نہیں۔ اور اگر کبھی بابا مصروف ہوتے تو وہ خود ہی اندر ہی اندر کڑھتی رہتی۔ وہ اپنے خاندان کی باقی لڑکیوں کی طرح زیادہ خوبصورت نہیں تھی۔ لیکن پڑھائ میں اچھی تھی۔ اور وہ سارا دن اپنے ہی مشاغل میں مصروف رہتی۔ وہ اپنی ماما کے بجائے بابا کے اس لیئے بھی قریب تھی کہ جب بھی ماما اسے کسی بھی بات سے ڈانتتی بابا اسے یہ کہ کے بچا لیتے کہ جب سر پہ پڑے گی تو سب سیکھ جائے گی۔
اسکی ماما دیگر ماؤں کی طرح ہر وقت اس بات کو لے کے پریشان رہتی کہ اسے پڑھائ کے ساتھ گھر کے کاموں میں بھی دلچسپی لینی چاہیے اور کچہ نہیں تو کھانا بنانا ہی سیکھ لے۔ کی دفع جب ماما اس کی ہرکتوں سے بہت تنگ آ جاتی تو بولتی فرقان صاحب اپنے لاڈ پیار میں اسے بگاڑ دیں گے میں مانتی ہوں کہ پڑھائ اپنی جگہ مگر لڑکی کی اصل پہچان اس کے سگھڑاپے سے ہوتی ہے اور اگر ابھی یہ کام نہیں سیکھے گی تو بعد میں بھی نہیں سیکھ پاے گی۔اور فرقان صاحب بولتے کہ دیکھویہ کام سیکھنے کیلئے ساری عمر پڑی ہے بس میری بیٹی ایک دفعہ ڈاکٹر بن جائے تو سارے کام سیکھ لے گی۔ اور اگر تم سے کام نہیں ہوتا تو میں کاموالی رکھ دیتا ہوں لیکن پلیز میری بیٹی کو پڑھنے دو۔ شگفتہ بیگم غصے سے بولتیں بات کو اپنی مرضی کا رنگ دینا کوئ آپ سے سیکھے۔ اچھا ٹھیک ہے آپ دونوں باپ بیٹی اپنی مرضی کریں۔ فرقان صاحب جب شگفتہ بیگم کو زیادہ ناراض ہوتا دیکھتے تو ایمان کو اشارہ کرتے کہ بیٹا جی آپ کی ماما اب زیادہ گرم ہو رہی ہیں تو آپ اب ان کو منانے کے کوشش کرو۔ اور ایمان جو بےشک ماما کی روکٹوک کی وجہ سے اپنے بابا کے زیادہ قریب تھی ماما سے بھی بہت محبت کرتی تھی۔ ان کی ناراضگی اسے بیچین کر دیتی۔ وہ فوراً ماں کے گلے لگ کے بولتی ماما promiseمیں سب سیکھ لوں گی آپ ناراض نہ ہوں اور پیار سے ان کے گال چوم لیتی۔ اتنے میں ہی شگفتہ بیگم راضی ہو جاتیں۔
فرقان صاحب اور شگفتہ بیگم کبھی بھی اپنے خاندان کے کسی لڑائی جھگڑے یا اور کسی بھی معاملے میں ایمان کو شامل نہ کرتے نا اس کے سامنے کسی بھی بات کا زکر کرتے۔ اس لیے ایمان بہت معصوم تھی۔ اور اس کے دل میں کسی کے لیے بھی عناد نہیں تھا۔ فرقان صاحب اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے اور اپنی لگن سے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے 4 بہن بھائی اور تھے. فرقان صاحب کے بعداب سے بڑی بہن فریدہ بیگم تھیں۔ ان کے 4 بچے تھے۔ سب سے بڑے سلمان۔ وہ پڑھائ میں زیادہ دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے میٹرک کے بعد سے اپنے والد عثمان صاحب کے ساتھ ان کی کپڑے کی فیکٹری چلا رہے تھے۔ان سے چھوٹا اشعر تھا جو اپنی فرمانبرداری کی وجہ سے اپنے والد کے بہت قریب تھا اور اپنے والد کی خواہش پر سب میڈیکل کی تعلیم حاصل کر رہا تھا اس سے چھوٹی حرا تھی جو بی-اے کے بعد اب پرائیویٹ اردو میں ماسٹرز کر رہی تھی۔۔ سب سے چھوٹا انس تھا جو میٹرک کا طالب علم تھا۔
فریدہ بیگم سے چھوٹی غزالا تھیں جن کی دو بیٹیاں تھیں۔ فاطمہ جو حرا اور ایمان کی ہم عمر تھی اور انگلش میں ماسٹر کر رہی تھی۔ اس سے چھوٹی عالیہ تھی جو میٹرک کی طالبہ تھی۔۔
غزالا سے چھوٹے ذیشان تھے جو اپنے گاوں میں اپنے والد کی زمین سنبھالتے تھے اور ان کے دو جڑواں بچے تھے علی اور احمد جو 5 سال کے تھے۔ سب سے چھوٹے لقمان تھے جو ابھی غیر شادی شدہ تھے۔
ایمان کی والدہ شگفتہ بیگم اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھیں ان کے ماں باپ کا انتقال بچپن میں ہی ہو گیا تھا اور ان کی پرورش ان کے ماموں نے کی تھی ان کی ممانی ان سے بالکل سوتیلوں والا سلوک کرتیں۔ وہ فرقان صاحب کے دور کے رشتےداروں میں سے تھیں۔ ایک تقریب میں وہ فرقان صاحب کو اپنے دھیمے مزاج کی وجہ سے اس قدر بھائیں کہ وہ اپنی بچپن کی منگنی توڑ کے والدہ سے شگفتہ بیگم کی زد کر بیٹھے اور ان کی والدہ بلقیس بیبی بہت دلبرداشتہ ہوئیں لیکن وہ اپنے بیٹے کو خود سے بدگمان نہیں کرنا چاہتی تھیں اس لیے اس رشتے کے لیے مان گئیں۔ اور شگفتہ بیگم کی ممانی جو ان کو بس سر سے اتارنا چاہتی تھیں بہت زیرک خاتون تھی بلقیس بیبی کی ناپسندیدگی دیکھتے ہوئے رشتے کے لیے مان گئیں۔
اور یوں فرقان صاحب اور شگفتہ بیگم کی شادی ہو گئی لیکن بلقیس بیگم جو اپنی بھنجی عائشہ سے اپنے بیٹے کی شادی کروانا چاہتی تھیں کبھی شگفتہ بیگم کو بہو کے روپ میں دل سے قبول نہیں کر پائیں۔ شگفتہ بیگم اگر اپنی خدمت گزاری سے اپنی ساس کے دل میں تھوڑی سی جگہ بنا پائ تھی ایمان کی شادی کے 6 سال بعد پیدائش نے حالات مزید خراب کر دیے اور بلقیس بیگم مسلسل اپنی بھانجی عائشہ کی شگفتہ بیگم کے خلاف بھڑکانے کی وجہ سے بھی کبھی اپنی بہو کے قریب نہ ہو پائیں۔ ایسے میں صرف فرقان صاحب کی چھوٹی بہن غزالا اور سب سے چھوٹے بھائی علی کی ہی اپنی بھابھی سے بہت بنتی تھی۔ غزالا جو اپنے گھر میں فریدہ بیگم کی وجہ سے ہمیشہ دبی دبی رہتی کیونکہ انہیں ہر بات میں تم تو ابھی چھوٹی ہو کہ کے ٹال دیا جاتا اور فریدہ بیگم پہلی اولاد ہونے کی وجہ سے بہت اہمیت تھی ہر کام ان کے مشورے سے کیا جاتا۔ اس لیے وہ اپنے گھر سے زیادہ بھابھی کے ساتھ پائ جاتیں کیونکہ وہ غزالا کی ہر بات کو بہت توجہ سے سنتی اور ان کی فرمائشوں کو فرقان صاحب کے ذریعے بلقیس بیگم سے پورا کرواتیں۔
اور علی بہت چھوٹی عمر سے پڑھائ کی وجہ سےاپنے بھائ کے ساتھ شہر میں رہتا تھا اور ایمان کی پیدائش سے پہلے انہوں نے علی کی ماں کی طرح دیکھ بھال کی۔ اور بعد میں بھی اس کا بہت خیال رکھا۔
……………………………………………
ایمان کافی دیر سے کتاب سامنے سوچے جا رہی تھی کہ آگے کیا ہو گا۔ کبھی کبھار وہ عجیب سی بے چینی کا شکار ہو جاتی۔ اسے اپنا آپ بہت غلط لگتا۔ جیسے کچھ دیر پہلے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی کلاس فیلو فرح کی سالگرہ منانے باہر گئ ہوئ تھی۔ وہاں سے آنے کے بعد سے پریشان تھی۔ کیونکہ وہ رش والی جگہوں پہ جا کے ویسے ہی گھبراہٹ کا شکار ہوتی تھی۔ اور ابھی بھی فریحہ کے کہنے پہ ان کے ساتھ گئ تھی۔ وہاں انہوں نے اپنی کلاس فیلو ثناء کو اپنے سے سینئر کلاس کے فاروق کے ساتھ ایک قریبی میز پہ بیٹھا دیکھ لیا تھا۔ ایمان اپنی 5 سہیلیوں کے ساتھ وہاں ڈنر کرنے آئ ہوئی تھی۔ جہاں فائزہ جس کی نظر سب سے پہلے ان پہ پڑی رازداری سے بولی بہنو اپنی سے پچھلی میز پر مت دیکھنا۔ کیوں بھئ۔ عائشہ بولی۔اور فوراً پیچھے مڑ کے دیکھا۔ اس کے دیکھا دیکھی فریحہ٬عائشہ،فرح اور ایمان نے بھی مڑ کے دیکھا۔اب ثناء کی بھی ان پہ نظر پڑ چکی تھی۔ اور وہ ہلکی آواز میں فاروق سے کچھ بولی جس پہ وہ جلدی سے بل ادا کر کے وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جاتے ہی فائزہ بولی کہا بھی تھا تم لوگوں کو کہ پیچھے مڑ کے نا دیکھنا کچھ اینٹرٹینمنٹ ہی ہو جاتی ان کی رومینٹک باتیں ہی سن لیتے۔ ارے دیکھو یار سب کے سامنے کتنی معصوم بنتی ہے اور اب یہاں۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ بات پوری کرتی ایمان بولی یار پلیز بس کرو اس بات کو یہیں ختم کر دو یہ ثناء کا ذاتی معاملہ ہے اگر ہم اسے جا کے منع نہیں کر سکتے تو ہمیں کوئ حق نہیں ہے کہ ہم اس کی برائ کرتے پھریں اور ویسے بھی ہم یہاں فرح کی سالگرہ منانے آئے ہیں۔
یار تم تو کسی بات کا مزا بھی لینے نہیں دیتی پتا نہیں لڑکیاں کیسے اپنے گھر والوں کو دھوکا دے لیتی ہیں۔ اس بات پہ ایمان کے ذہن میں یہ سوچ آئ کہ میں بھی تو اپنے والدین سے سچ چھپا کے انہیں دھوکا ہی دے رہی ہوں۔ اور تب سے وہ وہاں سب کے درمیان ہوتے ہوئے بھی وہاں موجود نہیں تھی۔ فریحہ اس بات پہ ایمان کی غائب دماغی کو دیکھتے ہوے بولی آچھا چیلھوڑو نا یار ایمان ٹھیک کہ رہی ہے ہم یہاں اچھا وقت گزارنے اے ہیں وہ ہی کرتے ہیں۔
واپس آکے بھی وہ غائب دماغ ہی رہی تھی وہ مسلسل یہ ہی سوچ رہی تھی کہ وہ بھی تو بات چھپا کے اپنے گھر والوں کو دھوکا دے رہی ہے۔ یہ ہی باتیں سوچتے ہوے وہ یہ ارادہ کرتے ہوئے اٹھی کہ اب سے وہ اشعر سے کوئ رابطہ نہیں کرے گی۔ وہ بس کچھ دن ہی اشعر سے بات کر کے خوش ہوتی اس کے بعد اس پہ ایسی ہی سوچیں حملااور ہوتی تھیں۔ اور اسی لیے اس کی پڑھائ میں کارکردگی بھی بری طرح متاثر ہوئی تھی ۔ اس کا ذہن ہر وقت حالت جنگ میں رہتا اور وہ اس وقت کو کوستی جب اس کے والد4 سال پہلے دبئی گئے تھے۔ اور اس عرصے میں ایمان خود کو بہت اکیلا محسوس کرتی کیونکہ وہ ہر وقت اپنے بابا کے ساتھ رہتی تھی جب وہ گھر ہوتے کچھ سمجھ نا آرہی ہوتی تو ان سے ہی پڑھتی۔ اسے آج بھی وہ دن یاد تھا جب اسے پتا چلا تھا کہ بابا دبئی جا رہے ہیں تو وہ سارا دن روتی رہی تھی اور رات کو جب بابا گھر آئے تو ان کو دیکھتے ہی کمرے میں بھاگ گئ تھی۔ فرقان صاحب بہت حیران ہوئے اور شگفتہ بیگم سے بولے ایمان کو کیا ہوا یار؟ شگفتہ بیگم بولی آپ تو جانتے ہیں ایمان آپ کے علاؤہ کسی کے قریب نہیں ہیں۔ اور صبح اس نے مجھے غزالا کو بتاتے سن لیا تھا کہ آپ دبئی جا رہے ہیں تب سے روئ جا رہی ہے کہ میں بابا سے بات نہیں کروں گی اور آپ کہیں نہیں جا رہے۔
