Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir NovelR50700 Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 11)
Rate this Novel
Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 11)
Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir
نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہو گا I m sorry
اس کی گھبرائے ہوئے شکل دیکھ کے ڈاکٹر علی کو اس پہ رحم اگیا۔
اوکے آپ ابھی پنا فون بند کریں یا سایلنٹ موڈ پہ لگائیں اور یہ لاسٹ وارننگ ہے نیکسٹ ٹایم آپ سمیت جوبھی مجھے کلاس میں فون استعمال کرتا ہوا نظر آیا تو میں اسے اپنی کلاس میں بیٹھنے کی پرمیشن نہیں دوں گا۔ فریحہ نے ایمان کو گھورا کیا ضرورت تھی تمھیں فون یوز کرنے کی جانتی بھی ہو ڈاکٹر علی کو۔ ایمان نے اس کی گھوری کو اگنور کیا اور خود کو کوسا کہ آج ہی اس نے فریحہ کے کہنے پہ فون سایلنٹ پہ نہیں لگایا تھا اور آج ہی اس کی کلاس ہو گئ۔ اسے بار بار ٹیکسٹ کرنے والے پہ بھی غصہ ارہا تھا ۔ اللہ اللہ کر کے کلاس ختم ہوئی لیکن اس دوران اس نے فون دیکھنا تو دور کی بات پوکٹ کو ھاتھ بھی نہیں لگایا۔ اس نے شکر کیا کہ سر نے اس کی کیس پریزینٹیشن نہیں لگائی تھی کیونکہ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ اپنی کلاس میں جس کو بھی ڈنتتے سزا کے طور پہ پریزینٹیشن لگا دیتے۔ اور ان کے سامنے پریزینٹیشن سے بہت سے سٹوڈنٹ تو ایک طرف جونئر ڈاکٹرس کی بھی جان جاتی تھی کیونکہ وہ کوئ بھی غلطی برداشت نہیں کرتے تھے۔
اللہ اللہ کر کے کلاس ختم ہوئی اس دوران ایمان دعائیں ہی مانگتی رہی کہ اس کی پریزینٹیشن لگانا سر بھول جائیں جیسے ابھی تک ان کو یاد نہیں تھا۔ لیکن یہ اس کی غلط فہمی تھی۔
سب لوگ کلاس کے ختم ہونے پہ باہر جانے لگے تو ڈاکٹر علی نے پیچھے سے ایمان کو آواز دے کے روکا
اور ڈاکٹر صاحبہ۔ اس وقت ایمان کے ساتھ فریحہ تھی باقی سب لوگ جا چکے تھے۔ ایمان اور فریحہ ڈرتے ڈرتے پیچھے مڑی۔ تو ڈاکٹر صاحبہ آپ کل بیڈ نمبر 2/5 کا کیس پریزینٹیشن کریں گی اوکے۔ اپ اپنا نام بتا دیں ان کیس میں کل کلاس نہیں لے سکا تو ڈاکٹر اسد کو انفارم کر دوں گا۔
سر ایمان فرقان۔
اوکے آپ اب جا سکتی ہیں۔
باہر نکلتے ہی فریحہ نے ہنسنا شروع کر دیا۔
ہاہاہا اور فون استعمال کرو
ایمان فریحہ کے بازو پہ زور سے مارتے ہوئے چینخی یہ سب تمھاری وجہ سے ہوا ہے۔
میری وجہ سے کیوں بھائ میں نے تو نہیں کہا تھا کہ ڈاکٹر علی جیسے سڑیل انسان کی کلاس میں فون یوز کرو حد ہو گئ ایک تو ھتھوڑے جیسا ھاتھ ہے اور اتنی زور سے مارا ہے اور اپنی غلطی پہ بلیم بھی مجھے کر رہی ہو۔
تمھارے ہی کہنے پہ فون سایلنٹ سے ہٹایا تھا اور واپس سایلنٹ پہ لگانے کیلئے فون نکالا تھا کہ سر کی نظر پڑ گئی کیونکہ وہ موصوف بار بار میسج کر رہے تھے۔
تو ایسا کہو نا غصہ جیجا جی پہ تھا جو مجھ معصوم پہ نکل رہا ہے
آپ بھی کوئ اتنی معصوم نہیں ہیں۔ اوپر سے یہ منحوس پریزینٹیشن۔ دینی بھی ہٹلر کے جانشین ڈاکٹر علی کو ہے اب تو سستے میں چھوٹ دیا کل پکا مجھے ھارٹ اٹیک ہی آنے والا ہے سی سی یو میں ابھی سے جا کے ایک بیڈ بک کروا لو۔
یار فضول باتیں نا کر اچھا اچھا سوچ دیکھ لینا کل کوئ میجر سرجری آ جانی ہے اور وہ تشریف ہی نہیں لائیں گے۔ ڈاکٹر اسد کو پریزینٹیشن دینا تو آسان کام ہے۔
یار اللہ کرے ایسا ہی ہو جائے۔چلتے چلتے ایمان کو اپنا فون دیکھنے کا خیال اگیا۔ اس نے پوکٹ سے فون نکال کے دیکھا تو 20 مسڈ کالز تھیں۔ ابھی وہ فون کرنے کا سوچ ہی رہی تھی کہ کال آگئ
کال اٹھاتے ہی ایمان شروع ہوگئ آپ کی زات کو سکون نہیں ہے کب سے میسج پہ میسج کریں جا رہے ہیں اور اب فون دیکھا ہے تو 10 مسڈ کالز کونسا ضروری کام پڑ گیا ہے
یار سکون کا سانس تو لو فون اٹھاتے ہی بولنا شروع کر دیا نا سلام نا دعا
تو اور کیا کروں مجھے آپ پہ غصہ ہی بہت آرہا ہے۔ آپ کی وجہ سے مجھے آج ڈاکٹر علی سے ڈانٹ پڑی اور پریزینٹیشن بھی لگ گئ۔
ارے میری وجہ سے کیوں؟
ایمان نے اسے ساری بات بتائ۔
ساری بات سن کے آگے سے ہنسی سنائ دی۔
ایمان ناراضگی سے بولی پہلے ڈانٹ پروائ اب آپ میرا مزاق اڑا رہے ہیں۔
یار سوری میں مزاق نہیں اڑا رہا بات ہی اتنی فنی ہے۔ اب تو ایمان کو بھی ہنسی آ رہی تھی
آپ میسج کیوں کر رہے تھے باربار؟
یار تم نے ہی تو کہا تھا کہ فری تھی کلاس نہیں ہو رہی تو بات کرتے کرتے اچانک غایب ہو گئ تھی تم تو میں پریشان ہو گیا تھا کہ پتا نہیں کہاں غایب ہو گئ ہو اور اتنے زیادہ کہاں بس 10 میسج ہی کئے تھے تم نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا۔ اب کے پھر وہ شرارت سے گویا ہوا۔
ایمان کو پتا تھا کہ وہ اب جان بوجھ کے تنگ کر رہا ہے۔ اسلیے بولی آپ کو کوئ کام نہیں ہے یا بس مجھے میسج یا بات کرتے رہنے کا ہی کام ہے۔
یار اس سے بڑا بھی کوئ کام ہے۔
اچھا اچھا زیادہ باتیں نا بنائیں میں ہوسٹل جا رہی ہوں بیت بھوک لگی ہے آپ کی مہربانی سے کل پریزینٹیشن بھی دینی ہے کچھ دیر سو کے دوبارہ ہاسپٹل آکے کیس بھی پریپیر کرنا ہے۔
یار میں اجاووں ہیلپ کرانے
جی نہیں ہیلپ تو آپ نے خاک کرنی بس اسی طرح باتوں میں ہی لگائیں گے۔
انتہائ کوئ بےمروت لڑکی ہو یار۔
جی بالکل۔ اچھا میں رکھتی ہوں فون
اچھا سنو تو آ ل۔دا بسٹ فور پریزینٹیشن۔
تھینکس اللہ حافظ
اچھا سنو تویار میں پریپیر کروا دوں گا آکے۔ آخر وائف ہونے کی حیثیت سے اتنا تو حق رکھتی ہو تم ۔ پھر جس مشکل میں میں نے ڈالا ہے تو اس سے نکالوں گا بھی میں ہی یار۔ تم بس سو جاؤ جا کے اٹھو گی تو میں آ جاؤں گا۔
___________
ایمان آ کے کھانا کھا کے سو گئ۔ وہ مسلسل سوتی ہی رہتی گر اسے 6 بجے اشعر کی کال نا اتی۔ کال بھی اس نے دوسری بیل پہ اٹھائ۔ پہلی بیل پہ تو اس کی آنکھ کھلی وہ یہ ہی سوچتی رہ گئ کہ آواز کہاں سے آرہی تھی کیونکہ فون اس کے تکیے کے نیچے پڑا تھا۔ وہ دوبارہ سونے ہی والی تھی کہ دوبارہ بیل بجی اب کی بار اسے اندازہ ہوا کہ اسی کا فون بج رہا ہے جو تکیے کے نیچے پڑا تھا۔ اس نے فوراً فون نکال کے کال اٹھائ۔ کال اشعر کی تھی۔ یار اب اٹھ بھی جاؤ۔ تمھیں تو مجھے کال کر کے بلانا تھا الٹا اٹھانا مجھے پڑ رہا ہے تمھیں۔
چلو تیار ہو کے وارڈ آجاؤ میں انتظار کر ریا ہوں تمھارا
ایمان ابھی بھی نیند میں ہی بول رہی تھی۔
وارڈ کیوں۔؟
یار جاگ جاؤ۔ یاد کرا دوں آپکی ایک عدد پریزینٹیشن ہے کل جس کی تیاری کرنے کیلئے آپ نے وارڈ آنا تھا اور میں نے آپ کی مدد کرنی تھی۔
پریزینٹیشن کا نام سن کے ایمان کی آنکھیں پوری کھل گئ۔اس نے اپنے سر پہ ھاتھ مارا۔
سوری اشعر میں بہت گھری نیند سو رہی تھی رات کو لیٹ سوئی تھی نا تو ابھی جاگ نہیں اپائ۔
میں بس 10 منٹ میں آتی ہوں
یار بریک لو اتنی بھی جلدی نہیں ہے تم آرام سے 7 بجے تک اجاو۔ نہاؤ تاکہ زہن فریش ہو چائے پیو اور آجاؤ۔ میں تیاری کروا دوں گا یار۔ اتنی ٹینشن نا لو زوجہ محترمہ۔
اشعر جانتا تھا کہ اب ایمان کو ٹینشن شروع ہو جانی کیونکہ پریزینٹیشن سے اس کی کتنی جان جاتی تھی وہ واقف تھا۔
ایمان جھینپ گئ۔
اوکے اشعر میں آپ کو فریش ہو کے بتاتی ہوں۔
اوکے اور اکیلی ہوسٹل آنے کی کوئ ضرورت نہیں میں ہوسٹل سے تمھیں پک کر لوں گا
۔ اوکے۔
نکاح کے بعد سے اشعر ایمان کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھتا تھا۔ اشعر کو اس کے کیرنگ انداز پہ بہت پیار ایا۔ کیونکہ وہ اس وقت واقعی اکیلی نہیں جانا چاہتی تھی۔ اس سے پہلے کہ کسی کو کہتی اشعر نے پہلے ہی اسے آکے لے جانے کی بات کر دی۔
تھینکس اشعر۔
یو آر ویلکم مائ ڈیر۔
ایمان چند لمحے وہاں کھڑی مسکراتی رہی پھر فریش ہونے چل دی۔
تقریباً پونے 7 بجے اس نے اشعر کو فون کیا
اسلام علیکم اشعر میں تیار ہوں آپ اجائیں۔
اوکے یار تم گیٹ تک آجاو میں باہر تمھارا انتظار کر رہا ہوں۔ایمان تب اپنے روم سے نکل چکی تھی۔ آپ نے تو 7 بجے کہا تھا اتنی جلدی آگئے اپ۔
ہاں یار میں جانتا تھا کہ تمھیں تیار ہونے میں اتنا ہی وقت لگے گا۔ تو میں پہلے ہی اگیا۔
چلیں ٹھیک ہے میں بس پہنچنے ہی والی ہوں۔
باتیں کرتے کرتے ایمان گیٹ تک پہنچ گئ اشعر باہر ہی چہل قدمی کر رہا تھا۔ اسے دیکھتے ہی ایمان نے سلام کیا۔ اسلام علیکم اشعر۔
اس کی آنکھوں سے جھلکتی محبت نے اسے نروس کر دیا۔ وعلیکم اسلام یار بندہ حال چال ہی پوچھ لیتا ہے آخر کو آپ کے سرتاج ہیں۔
ایمان نروس ہوتے ہوئ بولی اشعر آپ پھر شروع ہو گئے پلیز بس کریں اس وقت مجھے پہلے ہی ٹینشن ہو رہی ہے اور آپ ایسی باتیں کر کے مجھے اور ٹینشن دے رہے ہیں۔
اشعر تسلی دینے کے انداز میں ایمان کا ھاتھ تھامتے ہوئے بولا یار ٹینشن کیوں لیتی ہو بس ایک گھنٹے میں کیس پریپیر ہو جائے گا۔ میں کس کھیت کی مولی ہوں۔
تب ہی پاس سے گزرتی ہوئی لڑکیوں کے ایک گروپ نے عجیب سی سمائل پاس کی اور ان میں سے ایک لڑکی بولی اوہو۔
ایمان نروس ہوتے ہوئے بولی اشعر پلیز میرا ھاتھ چھوڑ دیں وہ سب کیا سوچ رہی ہوں گی۔
اشعر ایمان کا ھاتھ اور مضبوطی سے پکڑتا ہوا بولا تو یار میں نے اپنی بیوی کا ہی ھاتھ پکڑا ہوا ہے۔
اشعر یہ تو ہم لوگ جانتے ہیں باقی لوگ تو نہیں نا۔ اشعر جو صرف ایمان کو تنگ کرنے کیلئے اس کا ھاتھ پکڑ کے چل رہا تھابجائے اس کا ھاتھ چھوڑنے کے اس کو اپنے ساتھ لے کے ان لڑکیوں تک پہنچا اور بولا۔
ایکسکیوز می گرلز
وہ سب ایک دم پلٹی
جی۔
مجھے آپ سے یہ کہنا تھا کہ نیکسٹ ٹائم یہ فضول سی سمایل اور اس اوہو کہنے سے پہلے اگلے انسان کا رشتہ ضرور جان لیجئے گا۔ اپنی بیوی کا ھاتھ پکڑنے کیلئے مجھے آپ کی یا کسی کی بھی اجازت کی ضرورت نہیں ہے۔
وہ سب لوگ حقابقا اشعر کی شکل دیکھنے لگی۔ یہ سب کہ کے اشعر ایمان کا ھاتھ پکڑ کے وہاں سے چل پرا۔
اشعر آپ کو ان کو اتنا سب سنانے کی کیا ضرورت تھی۔
بس یار میں نہیں چاہتا کہ میری بیوی کسی بھی وجہ سے ایمبیریس ہو۔
لیکن اشعر۔
بس یار اب بات ختم ہو گئی۔ تم پریشان نا ہو۔ میرے ہوتے ہوئے میں بلاوجہ کسی کو بھی تمھیں پریشان نہیں کرنے دوں گا۔ اور غلطی میری تھی۔ مجھے پبلک پلیس میں اس طرح تمھارا ھاتھ نہی پکڑنا چاہئے تھا۔ I am sorry.۔
کیا ہوگیا ہے اشعر آپ حق رکھتے ہیں میرا ھاتھ پکڑنے کا اور آپ میرے لیے جس کس سے لڑتے رہیں گیں۔ آپ کی اتنی محبت پہ مجھے رشک آتا ہے میں آپ جتنی محبت مجھ سے کرتے ہیں میں اتنی محبت آپ سے کبھی نہیں کر سکتی۔ میں نے تو تب بھی آپ کا ساتھ نہیں دیا تھا جب آپ ہمارے لیے لڑنا چاہتے تھے۔ مجھے کئ دفعہ اس بات کا گلٹ ہوتا ہے۔ ایمان کی آنکھوں میں نمی چمکی اشعر نے اردگرد ایک نظر دوڑائی۔ وہ اس وقت ھاسپٹل سے تھوڑا ہی دور تھے۔ اشعر نے ایک گہری سانس اور ایمان کا ھاتھ پکڑ کے اسے اپنی گاڑی کی طرف لے گیا جو تھوڑی ہی دور پارک تھی۔ اور گاڑی وہاں سے قدرے سنسان جگہ لے آیا جہاں وہ اس سے بات کر سکتا تھا۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی ایمان نے رونا شروع کر دیا
حد ہو گئ پاگل لڑکی۔ ایویں فضول میں رونا شروع کر دیا یار میں نے بس تمھیں ایموشنل کرنے کیلئے وہ تقریر جھاڑی تھی کہ اب ایمان مجھے منانے کی کوشش کرے گی اور شاید کچھ میٹھی باتیں سننے کو ملیں یہاں تم نے تو مجھے ہی پریشان کر دیا۔
یار پہلے تو رونا بند کرو۔ اشعر نے بہت پیار سے اس کے آنسو صاف کر دیے۔ اب میری طرف دیکھو۔ یار مجھے فخر ہے کہ تم میری بیوی ہو۔ اور یقین مانو تمھارے اس وقت سب کی خاطر اپنی محبت چھوڑ دینے کے عمل نے میری نظر میں تمھاری عزت اور مقام کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میرا انتخاب اتنا بہترین ہے جو اپنی خوشیوں سے پہلے دوسروں کی خوشیوں کی پرواہ کرنا جانتی ہےاور آج کے بعد کبھی خود کو برا مت سمجھنا نا ہی کہنا ورنہ مجھ سے برا کوئ نہیں ہوگا۔ آپ کے اس وقت کے لیے گئے عمل نے مجھے باور کروا دیا تھا کہ زندگی میں اگر کبھی کچھ غلط بھی کرنے لگوں تو تم مجھے کبھی غلط راستے پہ چلنے نہیں دو گی۔ اور ایک بات کہوں مجھے اپنے لئے تمھاری محبت پہ رشک آتا ہے کیونکہ محبت یہ نہیں کہ اپ ہر وقت محبت کے اظہار کیلئے I love you کہتے رہو بلکہ اصل محبت تو وہ ہے جو محبوب کو کچھ بھی غلط کرنے سے روکتی ہے۔ اگر اس وقت تم مجھے نا روکتی تو آج ہم اس طرح ساتھ نا ہوتے۔ کہ ہر انسان ہمارے رشتے سے خوش اور مطمئن ہے۔ تو اس لحاظ سے تو تمھاری محبت مجھ سے زیادہ گہری ہوئ نا یار۔ اشعر کا ایک ھاتھ ابھی بھی اس کے چہرے پہ تھا اور دوسرا تسلی دینے کے انداز میں اس کے کندھے پہ دراز تھا۔ ایمان جس کافی دیر سے رونا بھول کے اشعر کو سن رہی تھی اور ایک تک دیکھی جا رہی تھی اسے اب اپنی پوزیشن کا اندازہ ہوا۔ تو وہ جھینپ کے پیچھے ہو گئ۔ پیچھے ہونے سے اشعر کا ھاتھ اس کے چہرے سے ہٹ گیا۔ اور مسکرا کے اپنا بازو اس کے کندھے سے ہٹا لیا۔ اور بات بدلنے کیلئے بولا
بس یہ سارے نا پڑھنے کے بہانے ہیں۔
ایمان کو اب اپنی پریزینٹیشن کا خیال آیا
جی نہیں آپ ہی مجھے باتوں میں لگائے ہوئے ہیں بس اب ہاسپٹل چلیں۔
چلو یار ہسٹری اور ایگزامینیشن میں پہلے سے کر چکا ہوں تم بس میرے ساتھ ایک دفعہ بل کے فاینڈنگز دیکھ لو پھر میں باقی پڑھا دیتا ہوں۔
ایمان نے حیرت سے اشعر کی طرف دیکھا
آپ نے یہ سب کب کیا.
جب آپ جناب سو رہی تھیں۔
ایمان کو اس لمحے اشعر کی محبت پہ رشک ایا۔ کیونکہ وہ ایسے ہی بغیر محسوس کرائے اس کا خیال رکھتا تھا۔
ایمان کی نظروں سے جھلکتی شکر گزاری اشعر کی نظروں سے چھپی نہیں تھی لیکن اس نے کچھ نا کہا کیونکہ وہ ایمان کی ان باتوں کو بھی جان جاتا تھا جو وہ کہ بھی نہیں پاتی تھی۔ اسے ایمان ایسے ہی اس کی تمام اچھائیوں برائیوں سمیت پسند تھی۔ ایک گھنٹے میں کیس پریپیر کروا کے اشعر نے ایمان کو ھاسٹل چھوڑ دیا۔ ھوسٹل کے گیٹ کے اندر داخل ہونے سے پہلے ایمان بولی
تھینکس اشعر ۔
اس سے پہلے کہ ایمان کچھ اور بولتی اشعر اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
خالی خالی تھینکس سے کام نہیں چلے گا۔
ایمان بولی تو پھر
دیر وائف آپ کل میرے ساتھ ڈنر پہ جا رہی ہیں۔ ماموں اور مامی سے میں پرمیشن لے چکا ہوں تو یار اب نو اگر مگر۔
ایمان جو انکار کرنے والی تھی اپنی جھجھک کی وجہ سے وہ چپ رہ گئ۔ اور بےچرگی سے بولی
اوکے
اس کے معصوم سے اوکے پہ اشعر ہنس دیا
اور بولا اچھا یار اب جاؤ کہیں میرا ارادہ بدل جائے اور میں آج ہی نا تمھیں ڈنر پہ لے جاؤں۔ ایمان ایک قدم پیچھے ہٹتے ہوئے بولی
جی نہیں آپ اکیلے ہی ڈنر کریں ان میں جا رہی ہوں۔ اور اس کو زبان چڑھاتے ہوئے بھاگ گئ۔ پیچھے سے اسے اشعر کا قہقہ سنائ دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
3سال پہلے:
آج جمع تھا اور سب لوگ ایمان اور حمزہ اور اشعر اور فاطمہ کی منگنی کی تیاریوں اور حرا کے رات میں ہونے والے فنکشن کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ عائشہ جو رات کو منگنی کی تیاریوں اور اپنے کچھ مہمانوں کو منگنی کیلئے انوایٹ کرنے کے ارادے سے گھر آگئیں۔ انہیں اشعر کو فون کر کے منگنی کا بتانا تھا۔ آج جمع تھا اور حمزہ اس دفعہ تو 3 ہفتوں سے گھر نہیں آیا تھا۔ تو انہیں یقین تھا کہ اس ہفتے تو ضرور وہ آئے گا لیکن اسے ابھی تک منگنی کا نہیں پتا تھا وہ ابھی حمزہ کو کال ہی کر رہی تھیں کہ صباء اندر کمرے سے باہر آئ وہ حرا کی شادی کے لیے اپنے میکے ہی رکی ہوئ تھی یہیں سے شادی کے سارے فنکشن اٹینڈ کرنے کا پلین تھا۔
ماما آپ بہت خوش نظر آ رہی ہیں آج
صباء کی بات سے وقتی طور پہ ان کا زہن حمزہ کو فون کرنے سے ہٹ گیا تھا کیونکہ بیل تو جارہی تھی لیکن حمزہ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔ تو انہوں نے اسے تھوڑی دیر بعد چوبارہ کال کرنے کا سوچا۔ اسی وقت حمزہ جو بس گاڑی پارک ہی کر رہا تھا نے حال میں قدم رکھا۔ حال میں ٹی وی فل والیم میں چل رہا تھا اسی لیے صباء اور عائشہ کو اس کی گاڑی کی آواز نہیں ائ۔ اور شاید ان کا وقت خراب تھا اور حمزہ کو پہلی دفعہ اپنی ماں کے گندی ذہنیت سے واقفیت حاصل کرنی تھی جو ان کو حمزہ کی آمد کا پتا نہیں چلا۔ کیونکہ انسان خود کو عقل قلعہ سمجھتا ہے وہ اگر مسلسل اپنی غلطیوں پہ بھی پکڑ کا شکار نہیں ہوتا تو سمجھنے لگ جاتا ہے کہ میں حق پہ ہوں اور اسے اپنی غلطی کا کبھی احساس نہیں ہوتا وہ چالوں پہ چال چلتا ہے لیکن یہ بھول جاتا ہے کہ اگر وہ چالباز ہے تو اللہ اس سے بہتر چال چلنے والوں میں سے ہے۔ اگر کسی طرف سے انسان کی پکڑ نہی ہو رہی تو اللہ انسان کو مہلت دے رہا ہے کہ شاید میرا بندہ مجھ سے معافی مانگ لے تو اس کے اعمال کی وجہ سے اس پہ پڑنے والی تکلیف سے اسے بچا لوں لیکن انسان خود گناہ کر کے خود پہ ظلم کرتا ہے۔ جب کہ اللہ اپنے بندوں پہ کبھی ظلم نہیں کرتا. انسان جب گناھ کرتا ہے تو اس کی زندگی درجہ با درجہ بدتر کی طرف جاتی ہے پہلے اس کی آخرت خراب ہوتی ہے پھر آخری مرحلہ دنیاوی زلت کی طرف آتا ہے۔ جب انسان کے گناہ دنیا والوں کے سامنے آنے لگتے ہیں اور اپنے گناہوں وجہ سے زلت و خواری کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور عائشہ پچھلے کئ سالوں سے مسلسل اپنے بدلے کی آگ میں جل رہی تھیں۔ اور شگفتہ بیگم نے کبھی پلٹ کے انہیں جواب نہیں دیا تھا۔ اور ظلم پہ صبر کرنے والوں کا بدلہ اللہ لیتا ہے۔ ظلم پہ خاموشی اختیار کرنے والوں کا صبر ظالم کی آخرت ہی نہیں دنیا بھی برباد کر دیتا ہے۔
اشعر جو آگے بڑھ کے ماں کو سرپرائز دینا چاہتا تھا ان کی بات سن کے ایک لمحے کیلئے تجسس کے ھاتھوں وہی کھڑا رہ گیا. کیونکہ اس کی ماں بہت عجیب انداز میں ہنستے ہوئے بولیں ہاں بیٹا خوش تو ہونا بنتا ہے نا میرا۔ بات ہی ایسی ہے میرا برسوں کا خواب پورا ہونے والا ہے؟
کونسا خواب ماں جی؟
صباء نے حیرت سے پوچھا حمزہ بھائ اور ایمان کی شادی کا خواب
نہیں بیٹا۔ ایمان کہاں میرے اتنے ہونہار بیٹے کے لائق ہے میں تو بس اس شادی سے شگفتہ کو تکلیف پہنچانا چاہتی ہوں
کیا مطلب ماں جی؟ حرا جانتی تھی کہ عایشہ شگفتہ بیگم کو پسند نہیں کرتی لیکن اس کی وجہ نہیں جانتی تھی تو آج اسے پوچھنے کا موقع ملا تو پوچھ ہی بیٹھی۔
کیا مطلب ماں جی اس رشتے کے ہونے سے انہیں تکلیف پہنچانے کا کیا تعلق۔
میری بھولی بیٹی تعلق یہ ہے کہ اس رشتے کے ہونے سے سب سے زیادہ تکلیف شگفتہ کو ہی ہو گی کیونکہ اسے اچھی طرح اندازہ ہے کہ میں اپنے بیٹے کی شادی صرف اس سے بدلہ لینے کیلئے اس کی بیٹی سے کر رہی ہوں۔ ایک دفعہ اسے آجانے دو ہمارے گھر اسے اپنے بیٹے کی نظروں میں زلیل و رسوا کر کے اس گھر سے نکال دوں گی جیسے شگفتہ فرقان صاحب کو پھانس کے لے اڑی تھی۔
لیکن ماما آپ کی تو بابا سے پسند کی شادی نہیں تھی۔ نہیں بیٹا میری بچپن سے فرقان صاحب سے منگنی ہو چکی تھی لیکن شادی سے کچھ عرصہ پہلے ایک تقریب میں شگفتہ نے فرقان کو اپنی اداؤں میں پھانس لیا اور وہ رشتہ توڑ کر شگفتہ سے شادی کی زد کر بیٹھے۔
لیکن ماما شگفتہ آنٹی تو بہت سیدھی لگتی ہیں مجھے نہیں لگتا انہو نے فرقان انکل کو پھانسی ہو گا۔
ایک ہی بات ہے نا وہ جانتی تھی کہ فرقان میرا منگیتر ہے پھر بھی اس نے انہیں مجھ سے چھین لیا۔ میں نے کتنی کوشش کی خالہ کو بھڑکانے کے ان کا رشتہ تڑوانے کی پر کامیاب نہیں ہو سکی۔ اب ہی تو مجھے موقع ملا ہے اسے اس کی بیٹی کے زریعے تکلیف پہنچانے کی۔ میں جان گئ تھی کہ اشعر اور ایمان ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں۔ اسلیے میں نے خالہ کے دماغ میں اشعر اور فاطمہ کے رشتے کی بات ڈالی اور اس بات کو سب سے چھپانے کی بات کی حتاکہ اشعر کو بھی کبھی بتانے نہیں دیا۔
کیوں ماں جی اشعر کو کیوں نہیں پتا نہیں لگنے دیا؟
کیونکہ اگر اسے پتا چل جاتا تو اس کی اور ایمان کی محبت اتنی پروان نا چڑھتی اور اس کی بیٹی کو اس تکلیف کا اندازہ ہوکہ کتنی تکلیف ہوتی ہے جب کسی کو بچپن سے پسند کیا جائے اور وہ آپ سے دور ہو جائے۔ اور مجھے خوشی ہے کہ میں کامیاب ہوئ۔ جس دن اشعر مجھے لینے آیا تھا حرا کی شادی کی تاریخ طہ ہو رہی تھی اس دن میں نے ایمان اور اشعر کی باتیں سنی تھی۔
کونسی باتیں ماں جی۔
عایشہ نے ایمان اور اشعر کی اس دن کی چھت کی ساری باتیں سنا دیں۔ حمزہ ان سارے انکشافات اور اپنی ماں کا روپ دیکھ کے سکتے میں تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ اس کی ماں کی رحمدل طبیعت کے پیچھے یہ گھناؤنا چہرہ چھپا تھا۔ اس میں اور سننے کی ہمت نہیں تھی وہ الٹے قدموں واپس چلا گیا۔ اسے اب اس دن کی ایمان کی غائب دماغی کی وجہ سمجھ ائ۔ وہ سیدھا گیراج میں گیا اور گاڑی لے کر چلا گیا۔ اس کے دماغ میں جھکڑ چل رہے تھے بڑی سے بڑی مشکل میں بھی اس کے اعصاب مضبوط رہتے تھے لیکن اپنی ماں یہ روپ وہ برداشت نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ بہت دیر غایب دماغی کی حالت میں گاڑی چلاتا رہا لیکن اس نے ارادہ کر لیا کہ وہ اب ایمان جیسے معصوم لڑکی کو اپنی ماں کی وجہ سے کسی ازیت کا شکار نہیں ہونے دیگا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ یہ سب باتیں بلقیس بیگم کو بتا کے رہے گا تاکہ ایک بےقصور انسان کو تکلیف پہنچنے سے بچا سکے۔ شاید اسی طرح اس کی ماں کے گناہوں کا کفارہ ہو سکے۔ اس کی ماں کی شاخوں کی لپیٹ میں اس کی خاموش محبت بھی آگئ تھی۔ اسی طرح ایک دفعہ اپنی ماں کو گاؤں چھوڑنے جاتے ہوئے اس کی ملاقات فاطمہ سے ہوئ تھی اور وہ جو بہت پریکٹیکل بندہ تھا اس سے پہلی نظر کی محبت کا شکار ہو گیا۔ اس ے بعد سے وہ یہاں بس فاطمہ کو ایک نظر دیکھنے کیلئے گاووں آتا اور جب کبھی اسے وہ نظر آجاتی اس کی خوشی کی کوئ انتہا نا رہتی جتنے سال اشعر اور ایمان کی محبت پروان چڑھی اتنے ہی سال اس کے دل میں بھی فاطمہ کی محبت بڑھتی رہی اور جب اس نے سوچا کہ اب فاطمہ کو اپنا بنا لینا چاہیے تو اسے پتا چلا کہ فاطمہ کا تو رشتہ بچپن سے اشعر سے طہ ہو چکا ہے۔ اسے بھی بہت تکلیف ہوئ تھی یہ بات سن کے اسلیے اس نے مزید اپنے آپ کو کاموں میں مصروف کر لیا تھا۔ لیکن عائشہ اپنی سازشوں میں اس قدر مصروف رہتی کہ وہ اپنے بیٹی کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں لگا پائیں۔سچ ہے کہ جب ہم دوسروں کیلئے گھڑا کھودتے ہیں تو خود اس میں گر جاتے ہیں۔ عایشہ نے کسی اور کی بیٹی کو تکلیف پہنچانے کے منصوبے بنائے لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کو بھی اسی تکلیف کا شکار کر رہی تھیں۔ بحرحال یہ دنیا مکافات عمل ہے انسان جو بوتا ہے وہ ہی کاٹتا ہے۔ حمزہ ایک نتیجہ پہ پہنچ کے اشعر کے گھر چل پڑا۔ کیونکہ اب جو بھی کرنا تھا اسے ہی کرنا تھا۔
