Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 06,07)

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

بیٹا خود کو سنبھالو اور باہر آؤ۔ سب سے مل کے چلتے ہیں۔

جی مامامیں بس منہ دھو کے آتی ہوں۔

ٹھیک ہے بیٹا۔ شگفتہ بیگم پیار سے اس کا سر سہلاتے ہوئے باہر چلی گئیں۔

ایمان اب تک خود کو کافی حد تک سمبھال چکی تھی۔

وہ جا رہا ہے بچھڑ کے مجھ سے اداس تنہا اسے منا لو

جو میں نے روکا تو رو پڑے گا،اسے پکارو اسے بلا لو

اسے بتا دو محبتوں میں رہتے ہیں یہ لمحے آتے جاتے

چراغ بجھنے لگے اگر تو وفا یہ کہتی ہے پھر جلا لو

ملال کیسا شکستگی کا،اسے تو ہونا ہی تھا کسی کا

اگر وہ ہو بھی گیا کسی کا تو ایسے ہونے پہ خاک ڈالو

یہی تکازہ بھی ہے وفا کا،یہی روایت بھی ہے وفا کی

جو رو رہا ہے بچاؤ اس کو،جو مر رہا ہے اسے بچا لو

چلو یہ قصہ تمام کر دو،نہ تم ہمارے نہ ہم تمہارے

کسی کو پڑتا ہے فرق کیا ہے خاموش رہ لوکہ غل مچا لو

تمھاری یادوں کا وہ نشہ ہےکہ اب سنبھلنا ہوا ہے مشکل

میں واقعی ہوں اگر تمھارا تو گرتے گرتے مجھے سمبھالو

نہیں ضرورت مجھے کسی کی،کسی نے مجھے دیا ہی کیا ہے

جو چاہتے ہو یقین اس کا تو ہو کے تنہا خود آزما لو

یہ شایدتم کو نا ہو گوارہ میں تم سے واقف ہوں جان میری

میں بھٹک رہا ہوں تمھاری خاطر،تم اپنی خاطر مجھے بچا لو۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ باہر آئ تو وہاں عائشہ بیگم بھی جانے کیلئے تیار کھڑی تھیں۔ انہیں دیکھتے ہی شگفتہ بیگم کے حلق تک میں کڑواہٹ گھل گئ لیکن وہ اسے کچھ کہ نہیں سکتی تھیں کیونکہ وہ ابھی بھی ان کی ساس کی چہیتی تھیں۔ وہ سب سے مل کے اپنی ساس کے سامنے جھکیں

اچھا اما چنگا فر تسی چکر ماریا جے فر۔ ایمان نے لاہور نا واپس جانا ہوندا تے اسی رکتےکجھ اور دن ہن اجازت دیو۔

بلقیس بیگم سر پہ پیار دیتے ہوئے بولیں

اشعر نوں تے آ لین دے فر مل کے ٹر جائیں اودھے نال پتا نہیں کتھے ٹر گیا اے اے منڈا۔

ماں جی عثمان نال چلے جانے آں اے بس نکل گئ تے اگلی سویرے نکلے گی۔

شگفتہ بیگم خود اس وقت چاہتی تھیں کہ ایمان اشعر کو دیکھ کر ازیت کا شکار نا ہو۔ وہ جب بھی گاؤں آتے اشعر ہی انہیں بس سٹاپ تک چھوڑ نے جاتا تھا۔

چل ٹھیک اے پتر۔

عثمان پتر جا مامی نوں چھڈّ ایا۔

اسی وقت حمزہ عائشہ خالہ کا بیٹا داخلہ دروازہ کھول کے اندر آیا۔ سب سے سلام دعا کے بعد وہ شگفتہ بیگم سے ملا ان کے آگے پیار لینے کیلئے جھک گیا۔ انہوں نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولا ٹھیک ہو بیٹا؟

جی آ نٹی اللہ کا کرم ۔ آپ سنائیں ٹھیک ہیں اور ماموں کب تکا آ رہے ہیں۔؟

بیٹا میں بھی اللہ کا شکر ٹھیک ہوں۔ تمھارے ماموں عید سے پہلے آ جائیں گیں انشااللہ۔

اب اس کی نظر ایمان پہ پڑی۔ وہ پہلی دفعہ ایمان سے مل رہا تھا۔ کیونکہ وہ سی ایس ایس کے بعد لاہور میں ڈی ایس پی تھا۔ اپنی مصروفیت کے بنا پر بہت کم گاؤں آنا جانا ہوتا تھا۔ اب بھی عائشہ کے اسرار پہ آیا تھا کہ خالہ بلقیس تمھارا کئ دفعہ پوچھ چکی ہیں تو اس دفعہ جاتے جاتے ان سے مل جاؤ۔

شگفتہ بیگم ایمان کی زہنی حالت سے واقف تھیں اس لیے فوراً بولیں

یہ میری بیٹی ایمان ہے

او اچھا کیسی ہیں آپ؟

ایمان بامشکل اپنے زہن کو حاضر رکھتے ہوئے بولی

جی میں ٹھیک ہوں۔

ایمان اس کے پوچھنے پر اس سے بدلے میں حالچال بھی نا پوچھ سکی۔

آپ غالباً میڈیکل کالج کی سٹوڈینٹ ہیں

جی دوسرے سال میں ہوں۔

ایمان کو اس کے فضول کے سوالات سے کوفت ہو رہی تھی جو غالباً حمزہ نے محسوس کر لیا۔ اسلیے وہ اب بلقیس بیگم سے بات چیت میں لگ گیا۔

شگفتہ بیگم نے عثمان کو اواز دی

بیٹا ہمیں اڈے تک چھوڑ آؤ۔

تب ہی حمزہ کی بھی اپنی گھڑی پہ نظر پڑی۔

اچھا نانی امی۔ اچھا خالہ فریدہ اب ہمیں بھی چلنا چاہیے۔ ماں جی آپ بھی اپنا سامان لے آئیں ۔ آپ کو گھر چھوڑ کے مجھے ایک بہت اہم کیس کے سلسلے میں لاہور جانا ہے۔

فریدہ بیگم بولیں

کچھ دیر اور رکتے بیٹا؟

انٹی بالکل فرصت نہیں ہے۔ یہ کیس کا مسئلہ نا ہوتا تو ضرور رکتا۔

چلو ٹھیک ہے بیٹا۔

بیٹا شگفتہ تے ایمان نوں وی اڈے تے چھڈے آیا۔ جان ہی لگے ہو تے۔

شگفتہ بیگم کو ساس کی یہ بات بہت ناگوار گزری لیکن وہ ان کو منع نہیں کر سکتی تھیں۔ ان کی چھٹی حس انہیں اشارہ کر رہی تھی کہ عائشہ کے زہن میں جوئ کھچڑی پک رہی ہے۔ ورنہ وہ ایک دفعہ تو بلقیس بیگم کو منع کرتی پر اس وقت وہ یہاں سے جانا چاہتی تھیں جلداز جلد۔ اس لیے چل پڑیں۔۔ راستے بھر شگفتہ اور عائشہ بیگم کے درمیان کوئ بات نہیں ہوئ۔ اڈا بس دس منٹ کے فاصلے پہ تھا تو سفر جلدی ہی تہ ہو گیا۔ اور شگفتہ بیگم ایمان کو لے کے حمزہ کا شکریہ ادا کرتی ہوئیں اتر گئیں۔ حمزہ ان کے منع کرنے کے باوجود بھی ان کا سامان بس تک چھوڑنے آیا۔ اور ان سے پیار لے کے چلا گیا۔ اسے ایمان کی خاموشی تھوڑی عجیب بھی لگی کیونکہ اس کا پالا جتنی بھی لڑکیوں سے پڑا تھا وہ بہت باتونی تھیں۔ اس کی اپنی بہن باتیں کر کر کے اس کا سر کھا جاتی۔ پر اس نے اس خیال کو جھٹک دیا ہو سکتا ہے کہ وہ کسی بات کو لے کے پریشان ہو یا اجنبیوں سے زیادہ بات چیت کی قائل نا ہو۔ بحرحال مجھے کیا۔ وہ سر جھٹک کے گاڑی کی طرف چل پڑا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان گھر آنے تک سارے راستے یہ اشعر سے کی جانے والی باتیں سوچتے ہوئے ہوئ۔ وہ اشعر کے گھر جاتے ہوئے جتنی خوش تھی اب اتنی ہی دکھی تھی۔ بحرحال گھر جاتے تک وہ اپنے آپ کو کچھ سمبھال چکی تھیں۔ شگفتہ بیگم ایمان کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ رہی تھیں لیکن انہوں نے ایمان سے کوئ بات نہیں کی وہ اسے سنبھلنے کا موقع دینا چاہتی تھیں۔ انہوں نے پختہ ارادہ کر لیا تھا کہ وہ ایمان کو یہ دکھ خود پہ سوار نہی کرنے دیں گی اور اس کا بہت خیال رکھیں گی۔ ان کو گھر پہنچتے پہنچتے رات ہو گئ۔ شگفتہ بیگم ایمان کو اکیلا نہیں سونے دینا چاہتی تھیں اسلئے اس کے کمرے میں اس کے پلنگ پہ آ کے ساتھ لیٹ گئیں اور ایمان کا سر اپنے کندھے پہ رکھ لیا اور اس کے سر میں انگلیاں پھیرنے لگیں۔ ایمان کافی دیر سے سونے کی کوشش کر رہی تھی وہ تمام تکلیف دہ سوچوں سے آزاد ہونا چاہتی تھی آج کے دن اس نے اشعر اور اپنی باتوں کو اتنا سوچا تھا کہ اب اس کا زہن شل تھا لیکن نیند پھر بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ خوشی میں انسان کو نیند نہیں آتی اور غم سونے نہیں دیتا۔ شگفتہ بیگم ایمان کی حالت دیکھ رہی تھیں کچھ دیر انتظار کے بعد ایمان کو بہت پیار سے آواز دیتے ہوئے بولیں

بیٹا میں تمھاری حالت سے واقف ہوں حوصلہ رکھو۔ وقت بہت بڑا مرہم ہے وہ سب ٹھیک کر دے گا۔

ایمان دل ہی دل میں بولی

ماما اب کچھ ٹھیک نہیں ہو گا سب کچھ ختم ہو گیا۔

شگفتہ بیگم ایمان کا سر اپنے بازو پہ رکھتے ہوئے بولیں:

بیٹا تم جانتی ہو میں جب محض 12 سال کی تھی تو ایک کار حادثے میں تمھارے نانا نانی وفات پا گئے۔ ان کی میت پہ بیٹھے ہوئے میں نے انہیں بہت آوازیں دیں کہ مجھے چھوڑ کے مت جائیں مگر جانے والے بھی کبھی واپس آتے ہیں جو وہ واپس اجاتے۔ میں بہت مشکل سے زندگی کی طرف لوٹی۔ میری زمہداری میرے ماموں نے اٹھا لی کیونکہ انہیں اپنی بہن سے بہت محبت تھی۔ شروع کے دنوں میں تو مجھے اپنے غم سے ہی فرصت نہیں تھی جو مامی کے بدصورت رویے کا احساس ہوتا۔ وہ اٹھتے بیٹھتے ہر وقت ماموں اور مجھے کوستی کہ پہلے ہی 3 بیٹیاں ہیں آپ انے یک اور لڑکی کی زمہ داری لے لی۔ ان کے رویاں سے تنگ آکے میں نے سارے گھر کی زمہداری لے لی اور ماموں کو منع کر دیا کہ وہ مامی کے رویے پہ ان سے لڑنا چھوڑ دوں میں نہیں چاہتی کہ آپ دونوں کے درمیان لڑای کی وجہ بنوں۔ ماموں بہت مشکل سے ہی سہی پر میری بات مان گئے پر اس شرط پہ کہ مامی میری پڑھائ کے سلسلے میں رکاوٹ نہیں بنیں گی۔ اس کے بعد تو مامی جو پہلے ماموں کے ڈر سے کچھ درج رہتی اب بالکل ہی شیر ہو گئیں۔ ان کے دیکھا دیکھی ان کی بیٹیاں بھی نوکروں جیسا سلوک کرتی۔ وقت یونہی گزرتا گیا اور میں نے بی اے پاس کر لیا۔ مامی کی تینوں بیٹیوں کی شادی بھی ہو گئ۔ ان دنوں میں بہت مایوس ہو گئ تھی۔ کہ پھرانہی دنوں تمھارے بابا نے مامی کی سب سے چھوٹی بیٹی عصماء کی شادی میں مجھے پسند کر لیا اور رشتہ بھیج دیا۔ مامی میری شادی نہیں کرنا چاہتی تھیں کیونکہ اس طرح انہیں فری کی نوکرانی سے ھاتھ دھونا پڑتا۔ اس رشتے کے بعد ماموں اور مامی میں روز بحث ہوتی لیکن اس دفعہ جیت ماموں کی ہوئ اور میں شادی کر کے گاؤں چلی گئ۔ وہاں عائشہ آئے دن تمھاری دادی کے کان بھارتی رہتی کیونکہ تمھاری دادی اپنی بھانجی عائشہ کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھی۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ تمھارے بابا مجھے یہاں اپنے ساتھ شہر لے ائے۔ پھر عائشہ کی شادی ہو گئ اس کے بعد تمھارے بابا کے باقی سب بہن بھائیوں کے سمجھانے پر ان کے رویے میں کافی بہتری آئ کیونکہ تمھاری دادی زبان کی تیز ہی پر دل کی بہت اچھی ہیں۔ لیکن ابھی بھی عایشہ جب بھی آتی ہے ان کے زہن میں کوئ نا کوئی بات میرے خلاف ڈال جاتی ہے۔ لیکن بیٹا اس سارے عرصے میں تمھارے والد نے میرا بہت ساتھ دیا۔ وہ اپنی والدین کے بہت فرمانبرداری بیٹے ہیں لیکن جب انہیں بھی وہاں کے حالات سازگار نا لگے تو وہ مجھے یہاں لے ائے۔

بیٹا تمھیں یہ سب باتیں بتانے کا مقصد یہ تھا کہ ہر انسان کا آپ کی زندگی میں ایک کردار مقرر ہے جب وہ کردار ختم ہو جاتا ہے تو وہ انسان دور چلا جاتا ہے لیکن زندگی کسی کے جانے سے رکا نہیں کرتی۔ دنیا اچھے لوگوں سے بھری پڑی ہے ایک جاتا ہے تو اس کی جگہ پوری کرنے کیلئے کوئ دوسرا اجاتا ے اور ہو سکتا ہے دوسرا آنے والا انسان پہلے والے سے بہت بہتر ثابت ہو بس اللہ پہ یقین رکھو کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ اوقات سے زیادہ نوازتا تو ہے پر برداشت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ تو یقین رکھو کہ اللہ نے تمھارے نصیب میں اشعر سے بھی بہتر کوئ انسان رکھا ہے اور ویسے بھی بیٹا حق کے راستے پہ چلنا بہت مشکل ہے اور آج میری بیٹی نے جو فیصلہ لیا ہے اس سے میں ہی نہیں اللہ بھی تم سے خوش ہو گا تو وہ تمھارے ساتھ کبھی بھی کچھ برا نہیں ہونے دیگا انشاء اللہ۔

شگفتہ بیگم کی باتوں سے ایمان کافی ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھی۔ وہ اظہار تشکر کے طور پہ شگفتہ بیگم کے گلے لگ گئی۔

………………………………………….

اشعر ایمان سے بات کرنے کے ارادے سے گھر آیا تو اسے فریدہ بیگم سے پتا چلا کہ ایمان اور مامی جا چکے ہیں۔ اس نے بھی واپس اپنے ہاسٹل جانے کا ارادہ کیا کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ فریدہ بیگم اس کے ایمان سے بات کرنے سے پہلے اس سے رشتے کی بات کریں۔ اسلیے اس نے آتے ہی سامان پیک کرنا شروع کر دیا۔ فریدہ بیگم جو بات کرنے اس کے کمرے میں آ رہی تھیں اس کو سامان پیک کرتے ہوئے دیکھ کے حیران رہ گئیں اور بولیں بیٹا تم تو پرسوں رات کو جانے والے تھے تو ابھی سے سامان کیوں پیک کر رہے ہو؟

اشعر کو جھوٹ بولنا پڑا

وہ امی اچانک کل ایک ٹیسٹ آ گیا ہے کل تو اسلیے آج جانا پڑ رہا ہے۔ اور ان کو اور کسی بھی بات کا موقع دیے بغیر ان کے ماتھے کو چوم کے چل پڑا۔

اچھا ماما میں چلتا ہوں دادی کو میری طرف سے سلام کرنا اور اس طرح اچانک جانے پہ معزرت بھی کر لئے گا۔ اشعر اس وقت دادی سے ملنے کی غلطی نہیں کرنا چاہتا تھا۔

پیچھے سے شگفتہ بیگم بڑبڑانے لگیں عجیب ہے یہ لڑکا بھی۔ مجھے اپنی منگنی کی بات بھی نہیں بتانے دی اور باہر کو چل دیں۔

۔___________

ایمان ہوسٹل آکے اپنے آپ کو ہر وقت کسی نا کسی کام میں مصروف رکھتی تاکہ اسے اشعر کی یاد نا ائے۔ اگر اسے اس کی یاد آتی بھی تو یہ کہ کے جھٹک دیتی کہ اب وہ میرا نہیں رہا تو مجھے اسے سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ اس نے اس بات کا زکر فریحہ سے بھی نہیں کیا۔ شگفتہ بیگم پہلے سے زیادہ اس کا خیال رکھتی تھیں۔ اس پہ غصہ کرنا تو انہوں نے بالکل ہی چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ اب ایمان ان کے رویے سے پریشان ہو۔

آتے ہی ان کے سینڈاپ بھی شروع ہو گئے تھے اسلیے بھی وقت نہیں ملتا تھا زیادہ سوچنے کا۔ اسے گھر سے آئے ایک ہفتہ ہو گیا تھا ابھی ایک ہی پیپر ہوا تھا۔ اگلا 3 دن بعد تھا تو ایناٹومی کا پیپر دینے کے بعد سب لوگوں نے شام کو سو کے اٹھنے کے بعد باہر کھانے پہ جانے کا فیصلہ کیا۔ ایمان نے پیپر کے بعد آکے ماما کو پیپر اور شام کو باہر جانے کا بتانے کیلئے فون کیا۔

اسلام علیکم ماما کیسی پیں؟

میں ٹھیک الحمدوللہ بیٹا تم سناؤ اور پیپر کیسا ہوا؟

ماما پیپر بہت اچھا ہو گیااللہ کا شکر۔ میں نے آپ کو یہ بتانے کیلئے کال ملائ تھی کہ ماما ہم سب دوستوں کا شام کو اوٹنگ پہ جانے کا ارادہ ہے تو میں چلی جاؤں

ہاں بیٹا ضرور جاؤ۔ شگفتہ بیگم بھی یہ ہی چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی پرانی باتوں سے نکل جائے۔

اوک ماما میں آپ کو جانے سے پہلے بتا دوں گی۔ اب سونے لگی ہوں بہت نیند آرہی ہے اور سر بھی درد کر رہا ہے رات کو دیر تک جاگ کے پڑھتی رہی ہوں

اوکے بیٹا اللہ حافظ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کو تیار ہونے کے بعد وہ سب لوگ لیبرٹی آگئے تھے۔ ان کا وہاں پہلے کچھ شاپنگ کرنے کے بعد میکڈونلڈ سے کھانا کھانے کا ارادہ تھا۔ ایمان فریحا عائشہ اور حبہ سٹایلو سے جوتے دیکھنے کے بعد باہر جا ہی رہے تھے کہ ایمان کی نظر ایک جوتے پہ پڑی۔ اسے وہ بہت پیارا لگا۔ وہ کافی دیر سے اچھے جوتے کی تلاش میں بھی تھی۔ اسنے وہ جوتا نکلوانے کیلئے کہا۔ جوتا نکال کر پہننے اور سائز دیکھنے میں اسے پندرہ بیس منٹ لگ گئے۔ اپنی ہی دھن میں باہر جاتے ہوئے اس کی دوستوں کو اندازہ نہیں ہوا کہ ایمان ساتھ نہیں ہے۔ ایمان جوتا خرید کے باہر آئ تو ان تینوں کا کوئ نام و نشان بھی نہیں تھا۔ وہ اردگرد دیکھ کے بوکھلا گئی کیونکہ وہ کبھی اپنی دوستوں کے بغیر کہیں باہر نہیں گئ تھی۔ وہ اتنی بوکھلا گئ تھی کہ وہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ وہ آگے والی سب دوکانوں میں پھر کے انہیں تلاش کر چکی تھی لیکن ان کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ اس نے اپنے فون سے انہیں کال کر کے پوچھنے کا سوچا۔ ھینڈبیگ کھولا تو اسے یاد آیا کہ موبائل تو اس نے فریحہ کو پکڑایا تھا۔ اسے اپنی بے وقوفی پہ شدید غصہ آیا۔ اسے ایسا لگ رہا تھا کہ سب لوگ اسے گھور گھور کے دیکھا رہے ہیں۔ اسی اثنا میں وہ کسی سے ٹکرا گئ۔ اسے دن میں تارے نظر آگئے کیونکہ ٹکرانے والا انسان بہت مضبوط جسامت کا تھا۔ سامنے والے نے اسے سیدھا کیا اور بولا سوری محترمہ لیکن غلطی آپ کی تھی۔ اب اس لڑکے کی نظر ایمان پہ پڑی تو وہ اسے اس وقت یہاں اکیلے گھومتا دیکھ کے حیران رہ گیا کیونکہ اس وقت 9 بج رہے تھے۔ وہاں موجود کچھ لوگ ان دونوں کو ٹکراتے دیکھ کے رک گئے اور کچھ لوگ مسکراتے ہوئے گزر گئے۔

حمزہ کو چہرے یاد رہ جاتے تھے کیونکہ اس کا پیشہ ہی ایسا تھا۔

ایمان آپ یہاں اس وقت اکیلی کیا کر رہی ہیں؟

حمزہ اس وقت اپنے لیے کچھ ٹی شرتس اور دوسری ضرورت کی چیزیں لینے کیلئے موجود تھا۔

ایمان بدحواسی میں اسے پہچان نا پائ اور ایک دم گھبرا گئ کہ یہ اجنبی چہرہ کون ہے جو میرا نام بھی جانتا ہے۔

ایمان کی آنکھوں میں شناشائ کا کوئ رنگ نا دکھا تو وہ اپنا تعارف کرواتا ہوا بولا

میں ایس پی حمزہ ہوں۔ آپ کی آنٹی عائشہ کا بیٹا جو آپ کے والد کی خالہ زاد بہن ہیں۔

ایمان ایک دم حیران ہوئ کہ یہ مجھے کیسے جانتے ہیں۔ کیونکہ جس دن ان کی واپسی تھی گاؤں سے اس دن وہ اس قدر گمصم تھی کہ ایک سرسری سی نظر کے علاؤہ نظر ڈالنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔

حمزہ کی وضاحت پہ اسے یاد آگیا کہ وہ پہلے بھی اس سے مل چکی ہے۔

وہ اتنی دیر سے وہیں کھڑے باتوں میں مصروف تھے اب حمزہ کو ہی لوگوں کی نظروں کا خیال آیا جو اب اسے اور ایمان کو عجیب نظروں سے گھور رہے تھے۔ تو وہ ایمان سے بولا

چلیں چلتے ہوئے بات کرتے ہیں۔ آپ یہاں اکیلی کیا کر رہی ہیں۔ اکیلی آئ ہیں یا کوئ اور بھی ساتھ ہے؟۔ حمزہ کو ایمان کا پریشان چہرہ دیکھ کے حیرت ہوئ کیونکہ پچھلی ملاقات میں بھی اس نے کم وبیش اسے یونہی کھویا کھویا اور پریشان دیکھا تھا۔

ایمان کو اتنے لوگوں میں ایک شناسا چہرہ دیکھ کے کچھ حوصلہ ہوا۔

نہیں میں اپنی فرینڈز کے ساتھ آئ تھی۔ ہم سب لوگ سٹایلو شوپ پہ تھے مجھے ایک جوتا پسند اگیا۔ وہ خریدنے کیلئے وہاں مجھے بیس منٹ لگ گئے۔ مجھے تھا کہ وہ لوگ شاپ کی دوسری طرف موجود ہیں لیکن جب میں جوتا لے کے وہاں گئ تو وہ لوگ وہاں سے جا چکے تھے۔

حمزہ نے حیرت سے پوچھا

تو آپ انہیں کال کر کے بلا لیتی

ایمان شرمندگی سے بولی

میرا فون فریحہ کے پاس رہ گیا تھا

حمزہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اس کی بے وقوفی پہ کیسا ریکٹ کرے۔ لیکن ایمان کا پریشان اور شرمندہ چہرہ دیکھتے ہوئے اس نے اس کو کچھ سخت کہنے سے روک دیا

وہ چلتے چلتے حمزہ کی پارک کی ہوئ گاڑی تک پہنچ چکے تھے۔ حمزہ کا ارادہ تھا کہ وہ اسے اس کے ہوسٹل چھوڑ دے۔ لیکن اس سے پہلے اس نے اسے اپنی دوست سے رابطہ کرنے کیلئے اپنا فون اسے دیا

آپ میرے فون سے اپنی دوست کو کال کر لیں۔

ایمان نے اس کے ھاتھ سے فون لے کے پہلے فریحہ کے نمبر پہ کال کی نمبر بند جا رہا تھا

حمزہ کا اپنا سر پیٹ لینے کو دل چاہا کہ جیسی بے وقوف خود ہے ویسی ہی دوست بھی ہیں۔ایمان بولی

اس کا نمبر بند جا رہا ہے۔

حمزہ بولا آپ اپنے نمبر پہ کال کریں وہ تو بند نہیں ہے نا۔ وہ بہت ضبط سے کام لے رہا تھا

ایمان نے اپنے نمبر پہ کال ملائ بیل تو جا رہی تھی لیکن کوئ فون نہیں اٹھا رہا تھا۔

بیل تو جا رہی ہے لیکن فریحہ کال نہیں اٹھا رہی۔

ایمان کو یاد آیا کہ اس کا فون سایلنٹ پہ تھا لیکن وہ حمزہ کو یہ پتا نہیں سکتی تھی کیونکہ وہ پہلے ہی اس کے سامنے پہلے ہی بہت وقوفیاں کر چکی تھی۔

اچھا چلیں میں آپ کو ھاسٹل چھوڑ دیتا ہوں اس وقت دس بج رہے ہیں آپ راستے میں انہیں کال ملاتی رہیں۔ وہ لوگ بھی آپ کی غیر موجودگی میں پریشان ہو رہی ہوں گی۔

ایمان بس جی ہی کہ سکی۔ وہ حمزہ کی گاڑی میں بیٹھنے سے کچھ ہچکچا رہی تھی

حمزہ اس کی ہچکچاہٹ کو دیکھ کر اسے تسلی دیتا ہوا بولا

آپ مجھ پہ بھروسہ کر سکتی ہیں۔ ہم عزتوں کے محافظ ہیں عزتوں سے کھیلنے والے نہیں اور ویسے بھی آپ میرے خاندان کی فرد ہیں تو انسانیت کے ناطے بھی مجھے آپ کی مدد کرنی چاہیے تو آپ زیادہ نا سوچیں اور بیٹھ جائیں۔

ایمان اس کے سامنے مسلسل شرمندہ ہی ہوئ جا رہی تھی اور اسے اس وقت سے حیرت ہو رہی تھی کہ کیسے وہ اس کی ہر سوچ اس کے کہے بغیر جان رہا تھا۔ بہرحال اب اس نے خاموشی سے بیٹھ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

راستے بھر وہ کال ملاتی رہی اس کے ہوسٹل تک کا راستہ بامشکل 10 منٹ کا تھا لیکن رش کافی زیادہ تھا۔ اسلیے انہیں پہنچنے میں 20 منٹ لگ گئے۔ ہوسٹل کی گیٹ کے پاس پہنچ کے حمزہ نے گاڑی روک دی۔ ایمان گاڑی سے اترنے سے پہلے بولی آپ کا بہت شکریہ آپ نے اس وقت میری مدد کی میں بہت گھبرا گئ تھی۔

اٹس اوک تھینکس کی کوئ بات نہیں۔۔۔۔۔۔ اس سے پہلے کہ وہ بات پوری کرتا اس کے ھاتھ میں موجود فون بجنے لگا۔

یہ غالباً آپ کی دوست کی کال ہے اسے بتا دیں کہ آپ سہی سلامت پہنچ گئیں ہیں ہوسٹل

جی اچھا اور فون اٹھا لیا۔ ایمان کے ہی نمبر سے کال تھی۔ اسلام علیکم

اسلام علیکم کی بچی کہاں رہ گئ ہو ہم کب سے تمہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کے پاگل ہو رہے ہیں کہاں ہو تم؟ تم ٹھیک تو ہو؟

یار سانس تو لے لو۔ میں ٹھیک ہوں اور ہوسٹل کے گیٹ کے باہر کھڑی ہوں۔ آپ لوگوں کو کافی دیر سے ڈھونڈ رہی تھی کال بھی لیکن تم نے اٹھایا ہی نہیں۔

یہ کس کا نمبر ہے جس سے کال کر رہی ہو اور تمھیں ھاسٹل کس نے چھوڑا؟

یار ایک ریلیٹو کا نمبر ہے وہ راستے میں مل گئے تھے انہیں نے چھوڑا ہے اور تم زیادہ سوال جواب نا کرو۔ باقی دونوں کو بس یہ بتانا کہ میں ہوسٹل پہنچ گئی ہوں باقی باتیں ھاسٹل آ کے پوچھ لینا۔ ایمان حمزہ کے سامنے مزید کوئ بات نہیں کرنا چاہتی تھی اور فون حمزہ کو وآپس دے دیا۔

آپ کا بہت بہت شکریہ آپ نے۔۔۔۔

حمزہ ایمان کی بات کاٹتے ہوئے بولا آپ بار بار شکریہ نا ادا کریں بس اگلی دفعہ زمہ دار دوستوں کے ساتھ باہر نکلے گا اور فکر مت کریں میں جانتا ہوں لڑکی کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے تو آپ کی اس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا بس آپ کوشش کریے گا کہ اگلی دفعہ ایسی کسی صورتحال کہ نوبت نہ آئے میں چلتا ہوں اور اگلی دفعہ ایسی کوئ صورتحال اگر پیش آئے تو مجھے کال کر لیے گا۔ اللہ حافظ۔ اور ایمان کو کسی بات کا موقع دیے بغیر گاڑی میں بیٹھ کے چلا گیا۔

Episode 7

ایمان ابھی کمرے میں آکے منہ دھو کے بیٹھی ہی تھی کہ فریحہ آگئ اور آتے ہی اس کے سر پہ سوار ہو گئ

ایمان کی بچی آج تم نے کس قدر پریشان کیا غائب ہو کے تمھارا دماغ کیا گھاس چرنے گیا ہوتا ہے ہر وقت جو اس قدر غائب دماغی کا مظاہرہ کرتی ہو کہ تمھیں پتا ہی نہیں چلا کہ ہم لوگ کب باہر نکلے تھے۔

اب تم چپ کر جاؤ غلطی آپ لوگوں کی ہی ہے کہ مجھے لئے بغیر چلی گئ تھی سٹایلو سے اور تو اور باہر جا کے بھی خیال نہیں آیا کہ میں غائب ہوں

اب کے فریحہ نے شرمندگی کے مارے سر گرا لیا

سوری یار ہم لوگ باتوں میں اس قدر مگن تھے کہ اندازہ ہی نہیں ہوا کہ تم ساتھ نہیں ہو اور جب کافی آگے جا کے اندازہ ہوا تو تمھیں بہت ڈھونڈا اور کال بھی کی پر تم ملی ہی نہیں پوچھو مت ہماری حالت کتنی خراب تھی۔

ہاں تو فون بھی تو آپ میڈم کے پاس تھا نا اور اپنا فون بھی بند کیا ہوا تھا تو بندا رابطہ کیسے کرتا۔

اچھا یار اس بحث کو چھوڑا مجھے بتاؤ کس کے ساتھ آئ ہو۔؟

یار وہ عائشہ آنٹی کا بیٹا ہے ایس پی حمزہ وہ ہی ٹکرا گیا تھا اور مجھے پہچاننے کے بعد یہاں ہوسٹل چھوڑ گیا کیونکہ میں کب سے اس کے نمبر سے تمھیں کال کر رہی تھی اور تم میری کال ہی نہیں لے رہی تھی۔

فریحہ کا زہن ایس پی حمزہ اور آنٹی عائشہ پہ ہی اٹک گیا

یہ عائشہ آنٹی کون ہیں؟

یار بابا کی کزن ہیں خالہ زاد۔ حرا کی منگنی پر ان سے اور ان کے بیٹے سے ملاقات ہوئی تھی۔ اور تمھاری وجہ سے مجھے فضول میں اس ایس پی کی سنسنی بھی پڑی۔ور بات بدلنے کیلئے بولی کیونکہ وہ عائشہ کے بارے میں فریحہ کو کچھ بتانا نہیں چاہتی تھی اور فریحہ کا زہن عائشہ سے ہٹ بھی گیا

میری وجہ سے کیوں بہن؟

ہوسٹل چھوڑتے ہوئے جاتے جاتے مجھے سنا کے گیا ہے کہ اگلی دفعہ زمہ دار دوستوں کے ساتھ باہر نکلیے گا اور فکر مت کریں میں جانتا ہوں لڑکی کی عزت کتنی نازک ہوتی ہے تو آپ کی اس بات کا کسی کو بھی پتا نہیں چلے گا بس آپ کوشش کریے گا کہ اگلی دفعہ ایسی کسی صورتحال کہ نوبت نہ آئے میں چلتا ہوں اور اگلی دفعہ ایسی کوئ صورتحال اگر پیش آئے تو مجھے کال کر لیے گا۔

ایمان ٹیڑھے میڑھے منہ بناتے ہوئے بتانے لگی۔

اچھا نا سوری اگلی دفعہ ایسا نہیں ہو گا میں خیال رکھو گی اس بات کو یہیں ختم کرو اور ان دونوں کو بھی میں نے یہ کہ کے مطمئن کروا دیا ہے کہ تمھیں راست میں تمھارے ایک ریلیٹو مل گئے تھے انہوں نے ھاسٹل چھوڑ دیاتھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اللہ اللہ کر کے ایمان کے پیپر ختم ہوئے لیکن اس کا ایک دن ٹھر کے گھر جانے کا ارادہ تھا وہ نہیں جانتی تھی کہ گھر میں ایک زبردست سرپرائز اس کا منتظر تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشعر گھر سے ہوسٹل آیا تو اس کے بھی ایک ہفتے بعد سینڈاپ شروع ہو گئے تھے۔ اس کا ارادہ آتے ہی ایمان سے بات کرنے کا تھا اس نے اس مقصد کیلئے ایمان کو کال بھی کی لیکن یہ سوچ کے کاٹ دی کہ اس کے بھی کچھ دنوں تک پیپر ہیں اور ابھی بات کرنے کا کوئ فایدہ نہیں ہوگا الٹا نکسان ہی ہو گا وہ ٹھیک سے پڑھ بھی نہیں پائے گی۔ کیونکہ وہ ایمان کو جانتا تھا کہ اس وقت وہ جس قدر ڈسٹرب ہو گی وہ اپنے آپ کو زیادہ سے زیادہ کاموں میں مصروف کر کے خود کو ہر سوچ سے آزاد کرنے کی کوشش میں ہو گی۔ محبت کرنے والے کبھی جان بوجھ کے اپنے محبوب کی تکلیف کی وجہ نہیں بن سکتے وہ جانتا تھا کہ ایمان اس سے وہ سب کہتے ہوئے بھی کس تکلیف سے گزری ہو گی کیونکہ بےشک ایمان اس کی کسی پیار بھری بات کا جواب کبھی نہیں دیتی تھی لیکن اس کی ہر بات کو خاموشی سے ٹال دینے کے پیچھے بھی وہ اس کی محبت محسوس کر جاتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ محتاط رہنا اس کی نیچر ہے ۔اور وہ اپنے جذبات کے اظہار کے معاملے میں بہت اچھی نہیں تھی۔ لیکن وہ اسے اب اتنا جانتا تھا کہ اس کے بغیر کہے اس کی ہر تکلیف جان جاتا تھا۔ اسے اس کی شرمیلی نیچر سے بھی محبت تھی۔ کیونکہ محبت انسان کو اپنے محبوب کو ہر حالت میں ایکیسپٹ کرنے کی طاقت دے دیتی ہے۔ انسان کو اپنے محبوب کی اچھائی کے ساتھ ساتھ برائ سے بھی محبت پہ مجبور کر دیتی ہے۔ اور اشعر کو ایمان ہر حالت میں پسند تھی۔ اس نے خود سے وعدہ کیا تھا کہ ایمان کو کبھی کسی تکلیف کا شکار نہیں ہونے دیگا۔ تو اب کیسے وہ چپ چاپ برداشت کر لیتا لیکن سچ تو یہ تھا کہ وہ ایمان کو انوالو کیے بغیر آگے کچھ کرنا بھی نہیں چاہتا تھا۔ سچ تو یہ تھا کہ گھر سے آنے کے بعد سارے عرصے میں وہ اپنی تکلیف سے بھی زیادہ ایمان کی تکلیف پہ پریشان تھا۔ اور پیپر کا بہانا کر کے گھر والوں سے چند منٹ حال احوال سے زیادہ بات نہیں کرتا تھا کہ کہیں وہ اسے اپنی اور فاطمہ کے رشتے کی خبر نا بتا دیں اور وہ ابھی اسی بات سے بچنا چاہتا تھا۔

آج وہ بھی امتحان سے فارغ ہوا تھا تو اس کا اس موضوع پہ تفصیل سے بات کرنے کا ارادہ تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اب وہ بھی فارغ تھی ایگزام سے۔ اسلیے آج تقریباً ایک مہینے بعد اس نے ایمان کے نمبر پہ کال کی اس وقت شام کے 7 بج رہے تھے۔ اور ایسا پہلی دفعہ ہوا تھا کہ اس کے اور ایمان کی اتنی دیر بات نہیں ہوئ تھی۔ پہلے بھی فون وہ ہی کرتا تھا زیادہ تر ایمان کو اس نے خود ہی اسے منع کر رکھا تھاکہ وہ نہی چاہتا تھا کہ اس کا کوئ دوست بھی اس کے اور ایمان کے بارے میں پتا چلے کیونکہ اس کا کوئ نا کوئ دوست ہر وقت اس کے ساتھ ہوتا تھا اور اسے ایمان کی عزت اس سے محبت سے بھی زیادہ پیاری تھی۔ اشعر نے ایمان کے نمبر پہ کال کی کافی دیر بیل جاتی رہی لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا۔ وہ کافی دیر کال کرتا رہا لیکن ایمان نے کال نہیں اٹھای۔ اشعر تشویش کا شکار ہوا کیونکہ اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ ایمان اس وقت فون نا اٹھائے کیونکہ وہ اسوقت تک سو کے اٹھ جاتی تھی۔ بحرحال 8 بجے تک وہ وقتاً فوقتاً کال کرتا رہا لیکن ایمان نے فون نہیں اٹھایا۔ تو وہ بعد میں کال کرنے کا سوچ کے اپنے دوستوں کے پاس چلا گیا کیونکہ ان کا کہیں باہر جانے کا ارادہ تھا اس کا کہیں جانے کا ارادہ نہیں تھا کیونکہ وہ ایمان سے بات کرنا چاہتا تھا۔ اس نے انہیں ٹالنے کی بھی کوشش کی لیکن ان کی حیرت بجا تھی کیونکہ اس سے پہلے اکثر گھومنے جانے کا پلین وہ ہی بناتا تھا اور اس دفعہ وہ ہی انکاری تھی لیکن مزید سوال جواب سے بچنے کیلئے اس نے جانے کی حامی بھر لی۔ مونال میں بیٹھے ہوئے بھی وہ بار بار فون دیکھ رہا تھا کہ شاید ایمان اب اتنی زیادہ مسڈکالز دیکھ کے کال کرے۔ وہ لوگ 11 بجے واپس آئے لیکن ایمان نے کال نہیں کی۔ اب اسے اندازہ ہو گیا کہ ایمان بات نہیں کرنا چاہتی اسلیے کال نہیں کی کیونکہ اس سے پہلے اگر کبھی کسی مصروفیت کی وجہ سے ایمان کال نہیں اٹھا پاتی تھی تو بعد میں میسج کر کے بتا دیتی تھی اور کبھی کبھار فون بھی کر لیا کرتی تھی۔ ایک لمحے کیلئے تو اشعر نے ازیت کی شدید لہر اپنے دل میں اٹھتے ہوئے محسوس کی کہ ایسا وقت بھی آنا تھا کہ ایمان جو اس سے کبھی کہتی تو نہیں تھی لیکن اس کے میسجز اور کال کی منتظر رہا کرتی تھی اور یہ بات وہ ایمان کی اس کی آواز سنتے ہی لہجے کی کھنک سے جان جاتا تھا آج اس کی کال سننے کی بھی روادار نا تھی۔ کچھ وقت لگا اشعر کو خود کو سنبھالنے میں۔ لیکن اس نے ہمت نا یاری اور ایمان کو میسج کیا کہ

اگر اب تم نے میری کال اور میسج کا جواب نہیں دیا تو میں سمجھوں گا کہ میری تمھاری زندگی میں کبھی بھی کسی اہمیت نہیں رہی۔ کیا میں اتنا قصوروار ہوں کہ اب اور کسی رشتے کے ناطے نا سہی ایک دوست کی کی حیثیت سے تم مجھ سے بات کر لو۔۔۔۔۔۔

اور اس میسج کے بعد ایمان کے جواب کا انتظار کرنے لگا۔ لیکن کافی دیر گزرنے کے بعد بھی ایمان کا کوئ جواب نہیں آیا۔ اس نے دوبارہ کال کرنے کا سوچا لیکن اس وقت رات کا ایک بج رہا تھا اور ایمان باہر جا کے بات نہیں کر سکتی تھی اس لیے اس نے صبح بات کرنے کا ارادہ کیا۔ رات کو سوچتے سوچتے ناجانے کس پہر اس کی آنکھ لگ گئ لیکن جتنی دیر وہ جاگتا رہا اس کے جواب کا منتظر رہا۔

گونجے گی تیرے زہن کے گنبد میں رات دن

جس کو تو بھلا نا سکے وہ گفتگو ہوں میں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کا دل آج صبح سے عجیب طرح کی بے چینی کا شکار تھا۔ وہ اپنے دل کی کیفیت سے تنگ آکے سو گئ اور اور آج خلاف معمول دیر تک سوتی رہی کیونکہ ج تک پیپر چل رہے تھے تو وہ دانستہ اپنے زہن کو پڑھائ میں مصروف رکھتی تھی اور زہن میں آنے والے ہر خیال کو زہن سے جھٹک دیتی تھی لیکن جب سے ایگزام ختم ہوا تھا وہ چاہتے ہوئے بھی اپنے زہن کو مصروف نہیں رکھ پا رہی تھی۔ رات کو بھی وہ کافی دیر سو نہیں پائ تھی اشعر اور اپنے بارے میں سوچتے ہوئے وہ حیران بھی تھی کہ اشعر نے ابھی تک رابطہ نہیں کیا۔ ایک دفعہ تو وہ بدگمانی کا شکار بھی ہو گئ کہ اب اشعر کیوں اس سے رابطہ کرے گا یقیناً اب تک تو پھپھو اسے اس کے اور فاطمہ کے رشتے کے بارے میں بتا بھی چکی ہوں گیں تو اب تو اس کا ایمان سے رابطہ کرنے کا جواز بھی ختم ہو گیا۔ محبت اگر انسان کو خوشگمان بنا دیتی ہے تو ایک ہی لمحے میں وسوسوں کا شکار بھی کر دیتی ہے۔ انہی خیالات کو سوچتے سوچتے وہ بامشکل ایک دو گھنٹا ہی سو پائ تھی کہ صبح فریحہ نے اسے 8 بجے اٹھا دیا کہ ناشتے پہ چلنے کا پلین ہے تو جلدی اٹھ جاؤ اس نے بہت ٹالنے کی کوشش کی لیکن وہ فریحہ ہی کیا جو آسانی سے مان جائے۔اس نے منتیں بھی کی کہ سر میں شدید درد ہے لیکن پھر بھی اس نے ایک نا سنی کہ آ کے سو جانا کونسا کالج جانا ہے۔ مجبوراََ اسے اٹھنا پڑا۔ انہیں واپس آتے آتے 11 بج گئے۔ واپس آ کے اس نے ماما کو فون کیا انہیں اپنے سونے کا بتا کےایک بجے تک نماز پڑھ کے فون سایلنٹ پہ لگا کے سو گئ۔ اور خلاف معمول 8:30 تک سوتی رہی کیونکہ پچھلے بہت سے دن سے وہ بےارام رہی تھی اور اب اسے نیند کی اشد ضرورت تھی اسلئے وہ سوتی ہی رہ گئ۔ اس کی آنکھ بھی عجیب سے احساس سے کھلی۔ فون پہ تاہم دیکھا تو 8:28 منٹ ہو رہے تھے اور اشعر کی 20 مسڈ کالز تھیں۔ ابھی فون اس کے ھاتھ میں ہی تھا کہ پھر اس کی کال آنے لگی۔ وہ فون اٹھانے لگی تو اسے اپنے اور اشعر کی آخری ملاقات یاد آگئ اور وہ فون اٹھانے کی بجائے فون سائڈ پہ رکھ کے واشروم چلی گئ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ اگر اس نے فون یونہی پکڑے رکھا تو وہ اس کا فون اٹینڈ کئے بغیر رہ نہیں پای گی ۔ اس کا دل شدید ترین بیچینی کا شکار ہو گیا کیونکہ ایسا پہلی دفعہ ہو رہا تھا کہ اس نے دانستہ اشعر کی کال نہیں اٹھائی تھی۔ اسے اپنے جسم ایک دم سے بیجان محسوس ہوا اس نے منہ پہ ٹھنڈے پانی کے چھینٹیں ماری اور اپنی چینخوں کا گلا گھونٹ کے رونے لگی کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھی کہ فریحہ اسے روتا ہوا دیکھے۔ تقریبآ ایک گھنٹہ وہ واشروم کے شیشے کے سامنے روتی رہی پھر نہا کے باہر اگئ کیونکہ اس کی آنکھیں سرخ ہو گئ تھیں اور نہانے سے اسے افاقہ ہوا۔ وہ نہا کے باہر نکلی تو فریحہ باہر موجود تھی اس کی آنکھوں کو دیکھ کے تشویش سے بولی یہ تمھاری آنکھیں کیوں اتنی سرخ ہو رہی ہیں

ایمان سے اسے ٹالنے کیلئے جھوٹ بولا یار آج کافی دیر سوتی رہی ہوں نا 1 بجے کی سعی ابھی اٹھی ہوں اور زیادہ سونے کی وجہ سے سر درد ہو رہی تھی اور انار بھی سویا ہوا تھا تو آنکھوں پہ ٹھنڈے پانی کی چھینٹیں ماری ہیں تو اس لیے ریڈ ہو گئ ہیں۔۔

اس نے فریحہ کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا فریحہ پچھٹ ایک ماہ سے اس کے کھوئے کھوئے انداز دیکھ رہی تھی لیکن اس کے ہر دفعہ پوچھنے پر بھی وہ اسے ٹال جاتی اب بھی اسے ایمان کی بات پر یقین نہیں آیا لیکن وہ نہیں چاہتی تھی کہ جس بات کو لے کے وہ اتنی دیر روتی رہی ہے اس کو سوچ کے دوبارہ پریشان ہو جائے۔ اس لیے اس نے کل اس سے پوچھنے کا فیصلہ کیا۔

اچھا ویسے مجھے یقین تو نہیں آرہا لیکن تم کہتی ہو تو مان لیتی ہوں چلو میڈ میں کھانا کھانے چلتے ہیں 10 بجنے والے ہیں پھر کھانا بھی نہیں ملنا

یار مجھے بالکل بھوک نہیں ہے تم کھا آؤ

جی نہیں آپ میرے ساتھ چل رہی ہیں صبح بھی تم نے چند نوالے ہی کھائے تھے اور مجھے بتا ہے کچھ کھائے پیے بغیر ہی سو گئ ہونی ہو اسلیے نو اگر مگر اور بلا بس اور اس کو کھنچتے ہوئے ساتھ لے گئ۔۔ کھانا کھا کے وہ لوگ کافی دیر میس روم میں ہی بیٹھے رہے اور ایمان اپنے زہن کو بتانے کیلئے مسلسل ان سے ہنس بول رہی تھی کیونکہ وہ اپنا آپ اس وقت کسی کو دکھانا نہیں چاہتی تھی لیکن فریحہ اس کی اندر کی توڑپھوڑ سے انجان نہیں تھی اسے لگ رہا تھا کہ معاملہ کچھ اشعر سے متعلق ہی ہے لیکن کیا یہ نہیں جان پائے رہی تھی۔ لیکن اسے اس وقت یہ بھی غنیمت لگا کہ ایمان اب سب سے بول پا رہی ہے۔ ایمان فریحہ کی خود پہ وقتاً فوقتاً پڑنے والی نظروں کو دانستہ نظر انداز کر رہی تھی۔ کمرے میں آتے آتے انہیں گیارہ بج گئے ایمان نے آتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بھی فون دیکھا جاہاں اشعر کا میسج دیکھتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بھی وہ جواب لکھنے لگتی لیکن ہر بار سینڈ کرنے سے پہلے ڈیلیٹ کر دیتی۔ یونہی سوچتے سوچتے ناجانے رات کے کس پہر اس کی آنکھ لگ گئ لیکن پرسوں تو وہ ویسے ہی گھرجانے والی ہے تو جانے سے پہلے وہ اشعر سے دو ٹوک بات کرنے کا سوچتے سوچتے ہی سو گئی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صبح دس بجے اشعر کی آنکھ کھلی لیکن اسے اپنے فون پہ ایمان کی طرف سے کوئ میسج نا پا کے شدید مایوسی ہوئی لیکن محظ چند لمحوں کیلئے پھر اس نے مصمم ارادہ کیا کہ وہ ایمان سے بات کر کے رہے گا۔ تو اس نے 1 بجے تکا بامشکل انتظار کیا اور ایمان کو پھر سے کال ملا دی۔ اب کی بار پھر کال نہیں اٹھائی گئ۔ فون ایمان کے ھاتھ میں ہی تھا لیکن فون اٹھانے کا سوچتے سوچتے ہی کال کٹ گئ 2 منٹ بعد ہی دوبارہ کال آئ اور اب کی بار تیسری بیل پہ کال اٹھا لی گئ اور کال ریسیو کرتے ہی اشعر کی دکھ بھری آواز سنائ دی ایمان کیا میں اب تمھارے لیے اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتا کہ تم میرے میسج کا ہی جواب دے دو

ایمان چند سیکنڈ تو کوئ جواب ہی نہیں دے پائے اس کی طرف سے خاموشی کو دیکھتے ہوئے اشعر کو اپنے لہجے کا اندازہ ہوا کہ یقیناً ایمان کو اس کے لہجے سے تکلیف ہوئی ہو گی۔ محبت کرنے والے اپنے محبوب کی غلطی ہوتے ہوئے بھی کبھی اسے غلط نہیں مانتے جیسے ایمان کے فون اٹھانے کے بعد سے اشعر جو کل شام سے شدید ازیت کا شکار تھا ایمان کا جواب نا دینے کی وجہ سےاس کو بھلا کر اپنے لہجے کی وجہ سے ایمان کو پہنچنے والی تکلیف سے ایک دم پریشان ہو تھا۔

Im sorry Yar. جزبات میں کچھ زیادہ بول گیا۔ کیسی ہو یار۔؟

اب کے اشعر اپنے مخصوص محبت بھرے انداز میںں بولا۔ اشعر کے لہجے کی محبت کو محسوس کر کے ایمان کی آنکھیں ن ہو گئیں اور چند سیکنڈ خاموش رہنے کے بعد وہ انتہائی ہلکی آواز میں بولی

میں ٹھیک اللہ کا شکر آپ کیسے ہیں؟ اشعر نے اس کے لہجے کی نمی محسوس کر لی تھی اور اس کے لہجے کا درد اسے بھی شدت سے محسوس ہوا اور اس ایک لمحے یں اسے ایمان کی ازیت کا اندازہ بھی ہو گیا کہ اگر وہ کل سے بےچین تھا تو خوش وہ بھی نہیں تھی۔ اب تو اس کا ارادہ اور مضبوط ہو گیا کہ وہ اپنی اور فاطمہ کی شادی نہیں ہونے دیگا۔

مجھے کیسا ہونا چاہیے تھا یار پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ مہینہ بھر ہماری بات نہیں ہوئ اور اگر میں نے کوشش نہیں کی تو رابطہ تم نے بھی نہیں کیا۔

ایمان چند پل خاموش رہنے کے بعد بولی۔ اب بات کرنے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں ہمارے درمیان تو کیا بات کرتی۔

اگر ایک لمحے کیلئے اس رشتے کو ایک سائڈ پہ رکھ بھی دیں تو ہم اس سے پہلے بہت اچھے دوست ہیں ایمان۔ کم ازکم اس دوستی کے ہی بدلے رابطہ کر لیتی کہ تمھارے لفظوں سے میں کس ازیت کا شکار تھا۔ نا چاہتے ہوئے بھی اشعر شکوہ کر ہی بیٹھا۔

اشعر۔۔۔۔اس سے پہلے کہ ایمان کچھ بولتی اشعر بولا یار الگ ہونے کا فیصلہ تم اکیلے کیسے کر سکتی ہو۔ نا کچھ ڈسکس کیا بس فیصلہ سنا دیا کہ میں فاطمہ سے شادی کر لوں میں تو جیسے گوڈے گوڈے اس کے عشق میں مبتلا ہوں بس اتنی سی ہی محبت تھی کہ ایک زرا سی بات سے ہی اپنی محبت سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

اشعر۔۔

ابھی میری بات پوری نہیں ہوئ ایمان میں بات پوری کر لوں پھر کچھ بولنا۔ ایمان خاموش ہو گئ۔

یار مجھ پہ بھروسہ تو کیا ہوتا ایک بار میں نے کہا تھا کہ کچھ بھی ہو جائے میں تم سے اتنی آسانی سے دستبردار نہیں ہوں گا میں نانی امی کو سمجھاتا امی کی کو سمجھاتاوہ جتنا مجھ سے محبت کرتی ہیں مان جاتی لیکن تم نے مجھے کچھ بھی کرنا کا موقع ہی نہیں دیا بس فیصلہ سنا کے اگئ۔

اشعر میں آپ کو اکساتی کہ آپ جا کے پھپھو اور دادی سے ہمارے رشتے کی بات کریں کی آپ فاطمہ کی بجائے مجھ سے شادی کرنا چاہتے ہیں جانتے ہیں اس سے کیا ہوتا ایک اور محاظ میری ماں کے خلاف کھڑا ہو جاتا۔ دادی تو ابھی تک اس بات کو لے کے امی کیساتھ مکمل طور پہ نارمل نہیں ہو پائیں کہ بابا نے ان کی مرضی کے خلاف جا کے عایشہ آنٹی کی بجائے ان سے شادی کی ہے اب تو وہ پھر سے میری ماں کے پیچھے پڑ جائیں گی کہ یہ سب ماں کی ہی تربیت کا اصل ہے پہلے ماں نے بیٹے کو ورغلایا اب بیٹی نواسے کو اپنے گھر والوں کے خلاف جانے پہ ورغلا رہی ہے۔ آپ کو کیا لگتا ہے میں بہت خوش ہوں آپ کو ہو سب سنا کے اب کے ایمان کی آواز دکھ کی شدت سے بالکل ہلکی ہو گئ نہیں اشعر جتنی تکلیف میں اک ہیں میں بھی اتنی ہی تکلیف سے گزری ہوں لیکن میں اپنے ماں باپ کا مان نہیں توڑ سکتی ان کے بھروسے کی دھجیاں نہیں بکھیر سکتی۔ اور ایک دفعہ فرض بھی کریں کہ وہ لوگ آپ کے اور میرے رشتے کیلئے مان بھی جاتے ہیں تو کیا ہم اتنے لوگوں کا دل توڑ کے خوش رہ پائیں گے۔ نہیں اشعر ہم کبھی خوش نہیں رہ پائیں گے اس سب میں فاطمہ کا کیا قصور ہے جو یقیناً بجپن سے آپ کو سوچتی آ رہی ہے۔ میں کسی کا دل توڑ کے اپنے دل کو آباد نہیں کرنا چاہتی اس لیے پلیز آپ بھی اس رشتے کو قسمت کا لکھا من کے قبول کر لیں کیونکہ انسان خود سے تو لڑ سکتا ہے قسمت سے نہیں اللہ کے فیصلوں کے آگے انسان کی مرضی نہیں چلتی۔ یہ رشتہ ہمارے نصیب میں نہیں تھا میری ہی غلطی تھی جو میں نے کبھی جاننے کی کوشش نہیں کی کہ دادی کا جھکاؤ ہمیشہ سے فاطمہ کی طرف تھا تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مجھ سے آپ کا رشتہ کر دیتیں۔

اشعر جو اتنی دیر سے اس کی باتوں پہ خاموش تھا اب بولا

ایمان اس سب میں میرا کیا قصور ہے جتنی تم لاعلم ہو اتنی ہی میں بھی لاعلم ہوں۔ اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ اگر مجھے پتا ہوتا تو میں اس رشتے کی بات بھی کسی کی زبان پہ نا آنے دیتا۔

جی میں جانتی ہوں لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا اشعر ہمارا ساتھ یہیں تک تھا۔ میں دعا کروں گی کہ آپ مجھے بھول کے فاطمہ کے ساتھ ہمیشہ خوش رہیں اور آپ کو جلد ہی اس سے محبت ہو جائے۔

ایمان تم ایسی باتیں کیسے کر سکتی ہو۔

اشعر پلیز میں نے آپ سے آج تک کچھ نہیں مانگا پلیز آپ اس رشتے کیلئے مان جائیں میں اپنی وجہ سے مزید کوئ تماشا نہیں چاہتی

چاہے اس کیلئے تمھیں جتنی بھی تکلیف سے گزرنا پڑا اور میری خوشی کا کیا ؟ کیا میں فاطمہ کے ساتھ انصاف کر پاؤں گا۔ فاطمہ سے شادی نا کر کے صرف وہ دکھی ہو گی لیکن اگر ہماری شادی نا ہوئ تو کوئ بھی خوش نہیں رہ پائے گا کیونکہ مجبوری کے رشتے میں انسان کبھی بھی خوش نہیں رہ پاتا اور جب میں خوش نہیں ہوں گا تو میرے سے جڑے لوگ کیسے خوش رہ سکتے ہیں اس بارے میں سوچنا ایمان میں پھر کال کروں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *