Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 08)

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

ایمان آج گھر جا رہی تھی۔ اس نے گھر پہنچ کے بیل بجائ تو دروازہ کچھ دیر بعد جس ہستی نے کھولا وہ ایمان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ ایمان یہ تو جانتی تھی کہ بابا عید سے پہلے آنے والے ہیں لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے گھر آنے پہ بابا دروازہ کھولیں گیں۔ وہ بےاختیار دوڈہ کے بابا کے گلے لگ گئ۔

اور رونے لگی۔ فرقان صاحب نے محبت سے اس کا ماتھا چوما اور بولے ارے میرا بچہ میں اپنی بیٹی کو سرپرائز دینا چاہتا تھا۔ اور یہ کیا آپ رو رہی ہو؟ آپ جانتی ہو کہ انہیں آپ کو روتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ آپ کے آنسو مجھے کتنی تکلیف دیتے ہیں۔ تو چلو رونا بند کرو شاباش۔ اور پیار سے اس کے آنسو صاف کر دیے۔

بابا یہ تو خوشی کے آنسو ہیں۔ آپ سے اتنے عرصے بعد ملی ہوں تو سمجھ نہیں آیا خوشی سے کیسے ریکٹ کروں۔

بیٹا میں آپ کی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھنا چاہتا بس میں چاہتا ہوں میری بیٹی ہمیشہ خوش رہے اور یونہی میری آنکھوں کی ٹھنڈک رہے۔

اور اپنے آنسو پونچھنے لگی آپ کب آئے بابا؟

بیٹا کل آیا ہوں اور ۔۔۔ اس سے پہلے کہ فرقان صاحب بات پوری کرتے ایمان ان کی بات کاٹتے ہوئے منہ پھلا کے بولی

میں بس اب ماما سے بھی بات نہیں کروں گی۔ مجھے کل بتا دیتی تو میں کل ہی آجاتی

بیٹا اس بیچاری سے ناراض مت ہو میں نے ہی منع کیا تھا تمھاری ماما کو بتانے سے۔ میں خود دیکھنا چاہتا تھا اپنی پیاری سی بیٹی کی پیاری سی مسکرائٹ جو مجھے دیکھ کے آپ کے چہرے پہ آئ ہے۔

تب ہی شگفتہ بیگم نے انہیں پیچھے سے آ کے ٹوکتے ہو ئے کہا کیا آپ دونوں باپ بیٹی کا یہیں کھڑے کھڑے ساری باتیں کر دینے کا ارادہ ہے چلیں اندر آئیں اور سوری بیٹا تمھارے بابا نے اپنے آنے کا بتانگ سے منع کیا تھا۔ ایمان ابھی بھی فرقان صاحب سے لپٹے لپٹے ہی اندر کی طرف چل پڑی چلیں پاپا اندر چلتے ہیں۔شگفتی بیگم کوباپ بیٹی کی اتنی محبت دیکھ کے اپنے اندر ڈھیروں اطمینان اترتا ہوا محسوس ہوا۔ وہ بولیں ہا باپ کے آتے ہی ماں کی ویلیو ختم۔

ایسا ہی ہے بس ماما۔ کوئ جیلس ہو رہا ہے بابا دیکھیں ایمان شرارت سے فرقان صاحب کےچہرہ کا رخ اپنی طرف کرتے اور شگفتہ بیگم کو زبان چڑھاتے ہوئے بولی اور زور سے فرقان صاحب کے سینگ میں منہ چھپا لیا۔ شگفتہ بیگم کی انکھوں میں اپنی بیٹی کی اتنی معصوم شرارت پہ نمی آگئ انہوں نے شکر ادا کیا کہ فرقان صاحب کے آنے سے اب وہ اپنی اداسی سے باہر اجائے گی کیونکہ وہ اسے ہاسٹل بھیج کے پیچھے سے بہت پریشان رہیں تھی اس کیلئے۔

چلو بیٹا اندر سب لوگ آپ کا ہی انتظار کر رہے ہیں کھانے کیلئے۔

اوکے ماما۔

وہ لوگ اندر آئے تو اندر پھپھو غزالہ،پھپھو فریدہ، حرا، احمد، عثمان، فاطمہ، عالیہ، ذیشان چاچو ، علی چاچو سب ہی موجود تھے۔ ایمان سب سے مل کے واپس اپنے بابا سے چپک کے بیٹھ گئ جیسے وہ ان کو چھوڑے گی تو وہ غائب ہو جائیں گیں۔ فرقان صاحب ہی ایمان سے بولے بیٹا آپ فریش ہو کے آجاو میں کہیں نہیں جا رہا پرامس ابھی کافی ٹائم آپے ساتھ ہی ہوں۔ بابا۔۔۔۔ بیٹا پلیز۔۔۔

ایمان نا چاہتے ہوئے بھی اٹھ کے اندر کی طرف چل پڑی۔ اسے سب لوگوں میں اشعر کی غیر موجودگی سے ایک عجیب طرح کا سکون ملا۔

…………………………………………………………..

ایمان منہ ھاتھ دھو کے بابا کے ساتھ آکے جڑ کے بیٹھ گئ جیسے اگر وہ دور جائے گی تو پھر سے ان کے دور جانے کا خدشہ ہو گا۔ اور فرقان صاحب بھی اپنی بیٹی کے جزبات سمجھتے ہوئے اسے اپنے بازو کے گھیرے میں لیے بیٹھے تھے۔ کھانا بہت خوشگوار موسم میں کھایا گیا۔ بڑی عید میں بس ایک ہفتہ باقی تھا اور سب لوگوں کو کل چلے جانا تھا۔ رات کے کھانے کے وقت سب لوگ ڈائننگ ٹیبل پہ موجود تھے تو دادی نے اور پھپھو فریدہ نے بات شروع کی۔

بھائ ہم نے سوچا ہے کہ حرا کی شادی کے ساتھ اشعر اور فاطمہ کی بھی منگنی کر دیں آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں

مجھے تو کوئ اعتراض نہیں ہے بلکہ یہ تو خوشی کی بات ہے۔ آپ غزالہ اور اشعر سے بات کر لیں اگر ان دونوں کو کوئ مسئلہ نہیں تو بسم اللہ کریں۔

شگفتہ بیگم فرقان صاحب کو دیکھنے لگیں کیونکہ ان کے انداز سے لگ رہا تھا کہ وہ اس رشتے کے بارے میں پہلے سے باخبر تھے۔ شگفتہ بیگم ایک لمحے کیلئے حیران ہوئیں کہ فرقان صاحب کو اگر معلوم تھا تو انہوں نے کبھی زکر کیوں نہیں کیا اگر انہوں نے پہلے شکر کیا ہوتا تو ان کی بیٹی کو اتنی تکلیف تو نا برداشت کرنی پڑتی۔ بحرحال اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا اس لمحے انہوں نے جانا کہ جو تکلیف قسمت میں لکھی ہوتی ہے وہ انسان کو مل کے رہتی ہے چاہے انسان اس سے بچنے کی کتنی بھی کوشش کرے۔ کھانے کے بعد کافی دیر اسی موضوع پہ بات ہوتی رہی لیکن شگفتہ بیگم نہیں چاہتی تھیں کہ ایمان اس موضوع پہ کی جانے والی باتیں سن کے مزید پریشان ہو۔ انہوں نے ایمان کے چہرے پہ انے والی ازیت بھانپ لی تھی اس لیے اسے وہاں سے اٹھانے کیلئے بولیں بیٹا جاؤ آپ برتن کچن میں رکھ آؤ ۔ ایمان جو بس موقع کی تلاش میں تھی اس نے اپنی ماں کو تشکر بھری نگاہوں سے دیکھا۔ اور آٹھ گئ سب لوگ باتوں میں مگن تھے کسی نے بھی ایمان کا وہاں سے اٹھ کے جانا محسوس نہیں کیا۔ برتن رکھنے کے بعد بھی شگفتہ بیگم نے ایمان کا زہن بٹانے کیلئے حرا کو اس کے ساتھ بھیج دیا۔ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ایمان مزید کچھ بھی سوچ کے پریشان ہو۔ حرا کے ساتھ باتوں کے دوران بھی ایمان ہوں ہاں میں جواب دیتی رہی۔ ایمان کا زہن ماؤف ہو رہا تھا اسے لگتا تھا کہ وہ یہ سچ ایکیسپٹ کر چکی ہے لیکن پھر سے اشعر کے رشتے کی بات سن کے اسے نئے سرے سے ازیت ہو رہی تھی۔ انسو ضبط کرنے کے چکر میں اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔کافی دیر سے ایمان کی غائب دماغی محسوس کرنےکے بعد حرا بولی

کیا ہوا ایمان تمھاری آنکھیں کیوں اتنی سرخ ہو رہی ہیں؟ طبیعت ٹھیک ہے؟

ہاں بس یار بہت نیند آرہی ہے نیند سے آنکھیں بند ہو رہی ہیں آج گھر آنا تھا نا تو رات بھر دوستوں نے سونے نہیں دیا اب زہن غنودگی میں جا رہا ہے

اس کی آنکھوں سے حرا کو اس کی باتیں سہی ہی لگیں

ہاں یار لگ بھی رہا ہے آکے بھی کاموں میں لگی رہی ہو اچھا تم سو جاؤ 12 بجنے والے ہیں۔

ایمان نے شکر کیا کہ وہ حرا کے مزید سوال جواب سے بچ گئ تھی۔ اور اس نے کچھ غلط اخظ نہیں کیا تھا۔ ایمان کا سر اس قدر دکھ رہا تھا ک کافی دیر کروٹیں بدلنے پہ بھی اسے نیند نہیں آئ مجبوراََ اسے درد کی گولی لے کے سونا پڑا۔ شگفتہ بیگم تقریبآ 2بجے ایمان کےکمرے میں آئیں تب تک وہ سو چکی تھی لیکن نیند میں بھی اس کے چہرے کا کرب وہ محسوس کر سکتی تھیں۔ لیکن انہیں نے شکر کیا کہ وہ سو گئی ہے۔

اگلا دن ان سب کی روانگی کا تھا وہ سب لوگ ناشتہ کر کے نکلنے ہی والے تھے کہ عائشہ اور حمزہ اگئے۔ ان کی آمد شگفتہ بیگم کو عجیب لگی انہیں خوف محسوس ہوا کہ یقیناً وہ اس وقت کسی خاص مقصد سے آئ تھیں۔ کیونکہ گاؤں میں ہی انہوں نے محسوس کر لیا تھا کہ ان کے دماغ میں کوئ پلین چل ہے۔ ایمان اب رات سے بہتر تھی۔ عائشہ اور حمزہ کو سلام کر کے ایمان جا کے ایک طرف بیٹھ گئ۔ حمزہ نے ایک گہری نظر ایمان پہ ڈالی۔ اسے اس دفعہ بھی وہ قدرے پریشان لگی۔ اس کے زہن میں اس سے پچھلی ملاقات آئ اس نے اس بات کا زکر کسی سے نہیں کیا تھا۔ ایمان کو بھی اپنی آخری ملاقات یاد آئ اور اس میں کی جانے والی اپنی بے وقوفیاں بھی اسے ایک دفعہ خوف محسوس ہوا کہ اگر حمزہ سب سے اس ملاقات کا زکر کر دے تو کیا ہو کیونکہ اس نے ابھی تک ماما کو بھی نہیں بتایا تھا کیونکہ گھر آکے بتانے کا ارادہ تھا۔ حمزہ نے اس کے چہرے کی سراسیمگی دیکھ لی تھی اور یہ بات بھانپ لی تھی کہ اسے ڈر ہے کہ وہ کہیں سب سے زکر نا کر دے۔ حمزہ کے چہرے پہ ایک لمحے کیلئے مسکراہٹ آئے لیکن پھر وہ سر جھٹک کے فرقان صاحب سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔

باتوں کے درمیان عائشہ سب کو مخاطب کر کے بولیں کہ خالہ اگر آپ اجازت دیں تو میں کچھ بات کرنا چاہتی ہوں

ہاں ہاں پتر بول میری اجازت دی کی لوڑ اے

فرقان بھائ میں اپنے بیٹے کیلیے آپ کی بیٹی کا ھاتھ مانگنا چاہتی ہوں۔ اگر آپ کو اور شگفتہ بیگم کو اعتراض نا ہو۔

ایک لمحے کیلئے وہاں موجود سب لوگ حیران رہ گئے کیونکہ عائشہ نے اپنے ارادے کا زکر کسی سے بھی نہیں کیا تھا۔ حمزہ بھی ایک لمحے کیلئے حیران ہوا کیونکہ اسے بھی اندازہ نہیں تھا جب حمزہ کو عایشہ نے ساتھ چلنے کیلئے کہا تو اسے ایک لمحے کیلئے ماں کے انداز سے کچھ عجیب لگا کہ وہ اتنا اصرار کر کے کیوں اسے ساتھ لیجانا چاہتی ہیں لیکن پھر اس نے زہن سے بات جھٹک دی۔ اب اسے سمجھ آیا یہ بات سن کے اس نے جہاں ایمان بیٹھی تھی وہاں نظر دوڑائی تو ایمان وہاں سے اٹھ کے جا چکی تھی۔ سب سے پہلے تو بلقیس بیگم ہی بولیں پتر اے تے بڑی چنگی گل اے فر عید دی بعد اشعر نال ایمان تے حمزہ پتر دی وی منگنی کر دینے آں

ماں جی میں ایمان تے شگفتہ توں مشورے دے بعد ہی فاینل جواب دیاں گا۔

پر پتر

ٹھیک ہے بھائ صاحب مجھے کوئ جلدی نہیں ہے اپنے ہی گھر کی بچی ہے۔ مجھے کچھ اور بھی کہنا تھا

جی بولیں

ماضی میں میں اگر شگفتہ بھابھی کا دل میری وجہ سے دکھا ہو تو اس کیلئے مجھے معاف کر دیں۔

فرقان صاحب بولے نہیں آپ کو معافی مانگنے کی کوئ ضرورت نہیں ہے میں جانتا ہوں اپنی بیوی کو وہ دل میں عناد رکھنے والوں میں سے نہیں ہے اگر ماضی میں کوئ مسئلہ رہا بھی ہے تو وہ آپ کو معاف کر چکی ہے ۔ انہوں نے تائید کیلئے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ شگفتہ بیگم کی انکھوں میں ان کی بات کی وجہ سے خوشی سے نمی آگئ کیونکہ انہوں نے اتنے بہترین انداز میں سب کے سامنے ان کی طرف سے جواب دیا تھا۔

ایمان جو پاس ہی بیٹھی تھی یہ باتیں سن کے وہاں سے اٹھ کے ہی چلی گئ ابھی تو وہ اشعر اور فاطمہ کی منگنی کی ازیت سے نہیں نکلی تھی اور اتنی جلدی اس کا نام کسی اور کے ساتھ جڑنے جا رہا تھا۔

شگفتہ بیگم جو عائشہ اور اپنی ساس کی باتیں سن کے ایک دم پریشان ہو گئیں تھیں انہوں نے فرقان صاحب کی بات سے سکون کا سانس لیا۔ ایمان کے اٹھ کے جانے پہ سب لوگوں نے اسے شرم سے تشبیح دیا لیکن وہاں موجود صرف دو فرد یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ شرم نہیں تھی تکلیف تھی۔ شگفتہ بیگم نے ایمان کے پیچھے جانا چاہا لیکن وہ اس طرح سب کے درمیان سے اٹھ کے بھی نہیں جا سکتی تھیں۔

اس کے بعد کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں ہوئیں اور سب جانے کیلئے تیار ہوئے۔ بلقیس بیگم اپنے بیٹے کے جواب پہ ایک لمحے کیلئے تیش میں آئیں لیکن وہ اپنے بیٹے کو غصہ نہیں دلانا چاہتی تھیں۔ شگفتہ بیگم بھانپ گئیں تھیں لیکن انہوں نے شکر کیا کہ بات ٹل گئ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان کافی دیر سے گمصم بیٹھی تھی۔ شگفتہ بیگم مہمانوں کو رخصت کرنے کے بعد سیدھا ایمان کے پاس آئیں کیونکہ وہ اس وقت اپنی بیٹی کی تکلیف سے واقف تھیں۔ اسلیے ایمان کے پاس جا کےاس کا چہرہ اپنے ھاتھوں کے پیالے میں لے کے اسے آواز دی ایمان بیٹا..

ایمان جو اتنی دیر سے بالکل چپ بیٹھی تھی شگفتہ بیگم کی مہربان آواز سن کے اس کی نظریں بےاختیار ان کی طرف اٹھیں اور اس کی آنکھوں سے کافی دیر سے رکے ہوئے آنسو جاری ہو گئے۔شگفتہ بیگم نے ایمان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ ایمان رندھی ہوئ آواز میں بولی۔

ماما کیوں سب مجھے سکون سے نہیں جانے دیتے میں نے کسی کا کیا بگاڑا ہے کیوں ہو رہا ہے ایسا میرے ساتھ ماما میں تو ابھی تک اشعر کے رشتے والی بات سے ہی نکل نہیں پائ اب یہ حمزہ سے رشتے والی بات پلیز ماما مجھے تھوڑا سا تو سنبھلنے کا موقع دیں پلیز آپ ان لوگوں کو منع کر دیں میں ابھی پڑھنا چاہتی ہوں۔ ایمان بلک بلک کے رو دی شگفتہ بیگم نے اسے بولنے دیا۔ کیونکہ وہ چاہتی تھیں کہ ایمان اپنی تکلیف پہ رو لے۔ کافی دیر رونے کے بعد ایمان چپ ہوئ تو شگفتہ بیگم اس کا سر اپنے کندھے سے اٹھا کے بولیں

بیٹا آپ فکر مت کرو میں آپ کے پاپا سے بات کرتی ہوں۔ میں آپ کے ساتھ ہوں امیں اپ کی تکلیف سمجھ سکتی ہوں اور ہٹا آپ اپنے بابا پہ بھی بھروسہ کرو وہ آپ سے جتنی محبت کرتے ہیں آپ کے ساتھ کچھ بھی غلط نہیں ہونے دیں گے اور کچھ بھی آپ کی مرضی سے نہیں کریں گیں۔ بیٹا آپ منہ دھو کے باہر آجاؤ آپ کے بابا اپنے دوست سے ملنے گئے ہیں وہ کہ رہے تھے کہ شام کو آکے آپ کے گفٹس دکھائیں گیں جو وہ آپ کیلئے لے کے آئیں ہیں اور میرا بچہ بہت بہادر ہے آب رونا نہیں میری جان۔ وہ پیار سے اس کا ماتھا چوم کے اسے واشروم چھوڑ کے آئیں اور اپنے ساتھ ہی باہر آنے کو کہا۔

ماما آپ چلیں میں آتی ہوں

نہیں بیٹا میں نہیں چاہتی کہ آپ اب دوبارہ رونا شروع کر دو ویسے بھی میں نے آپ کا فیورٹ کیک بنانا ہے تو آپ بھی آکے ہیلپ کرواؤ انہوں نے اچانک ہی یہ پلین بنایا تھا کہ اس طرح اس کا زہن بٹ جائے گا۔ اور واقعی وہ کچھ کامیاب ہوئ تھیں۔

کچھ دیر تک فرقان صاحب بھی اگئے۔ ان کو دیکھتے ہی ایمان نے رونا شروع کر دیا اور جا کے ان کے گلے لگ گئ۔ فرقان صاحب پریشان ہو گئے ایک دفعہ تو شگفتہ بیگم بھی پریشان ہوئ لیکن پھر انہوں نے بہتر سمجھا کہ ایمان خود ہی بات کر لے۔

وہ اس کے گرد بازو پھیلاتے ہوئے بولے میرا بچہ کیوں رو رہا ہے۔

بابا بس مجھے ابھی شادی نہیں کرنی۔

فرقان صاحب ہنسنے لگے بیٹا آپ کی مرضی کے بغیر تو کچھ نہیں ہو گا ابھی میں آپ کی شادی نہیں کر رہا بیٹا لیکن منگنی کرنے میں کوئ حرج بھی نہیں۔ حمزہ اچھا لڑکا ہے زمہداری اور قابل۔ بیٹا ابھی تو بس منگنی کریں گیں شادی آپ کی پڑھائ کے بعد ہی ہو گی۔

بابا میں کچھ نہیں جانتی مجھے ابھی منگنی بھی نہیں کروانی پلیز۔ میں ٹھیک سے پڑھ نہیں پاؤں گی۔

اب کے شگفتہ بیگم بھی بولیں ایمان ٹھیک کہ رہی ہے ہمیں اتنی جلدی نہیں ہے ابھی ایمان پڑھ رہی ہے آپ پلیز ان لوگوں کو منع کر دیں کہ ہمیں ابھی ایمان کی منگنی بھی نہیں کرنی ہے۔ فرقان صاحب چپ ہو گئے وہ ایمان کے سامنے ابھی بات نہیں کرنا چاہتی تھیں۔ شگفتہ بیگم نے مایرہ کو بلا لیا تھا تاکہ ایمان اکیلی نا رہے۔ وہ جانتی تھی کہ فرقان صاحب اس موضوع پہ کمرے میں جا کے بات ضرور کریں گیں۔ ابھی ایمان کی وجہ سے چپ ہو گئے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشعر گھر آگیا تھا اسے پتا چلا تھا کہ فرقان مامو آئے ہوئے ہیں لیکن اس کا کچھ دن ٹھر کے ان سے ملنے جانے کا ارادہ تھا۔ وہ پہلے اپنے گھر میں اپنی اور فاطمہ کے رشتے کے بارے میں بات کرنا چاہتا تھا۔

سب لوگ واپس آگئے تھے اس نے صبح اپنی امی سے بات کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ وہ ناشتے کے بعد جب سب لوگ اپنے کاموں میں لگ گئے فریدہ بیگم کے پاس گیا۔ امی جی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے میرے ساتھ کمرے میں ائیں۔ فریدہ بیگم کو اس کا انداز غیر معمولی لگا۔وک اس کے پیچھے کمرے میں آئیں

ہاں بیٹا بولو بلکہ پہلے میری سنو۔ اشعر جانتا تھا کہ وہ کیا بات کرنے والی ہیں۔ اس لیے اس نے انہیں بولنے دیا۔ بیٹا ہم نے سوچا ہے کہ حرا کی شادی کے ساتھ تمھاری بھی فاطمہ سے منگنی کر دیں۔

ماما آپ میرے سے پوچھے بغیر فاطمہ سے میری منگنی کی بات کیسے کر سکتی ہیں۔ فریدہ بیگم اپنے بیٹے کی شکل دیکھنے لگ گئیں۔

بیٹا تم سے پوچھ کے ہی تو رشتہ طہ کیا تھا۔ تمھاری بات تو تمھارے ہوسٹل جانے سے پہلے کی طہ ہے۔

تو ماما اس بات کا مجھے کیو نہیں پتا

بیٹا آپ سے پوچھ کے ہی طہ کی گئ تھی بس باقاعدہ کوئ منگنی نہیں ہوئ۔

یہ کب کی بات ہے۔؟

بیٹا جب آپ ہوسٹل جانے والے تھے تو رات کے وقت میں اپ کے پاس آئ تھی اور پوچھا تھا کہ بیٹا تمھیں فاطمہ کیسی لگتی ہے تو تم نے ہی جواب دیا تھا کہ ماما اچھی لڑکی ہے سب کی پرواہ کرنے والی اور سگھڑ اور میری اچھی دوست ہے۔ اشعر کو اپنی کہی باتیں یاد ائ۔ تو اس وقت ماما کا یہ مطلب تھا۔

ماما اگر مجھے پتا ہوتا کہ آپ میرے باتوں کا یہ مطلب لے رہی ہیں کہ میں فاطمہ کو پسند کرتا ہوں تو میں کبھی آپ سے وہ باتیں نا کرتا۔

اب کے فریدہ بیگم غصے میں آگئیں

اشعر فاطمہ میں کیا برائی ہے اچھی سلجھی ہوئی بچی ہے پھر خاندان کی بھی ہے۔ تمھاری اس سے اتنی دوستی بھی ہے

ماما دوستی ہونے کا یہ مطلب نہیں میں اس سے شادی کر لوں۔

بیٹا میں فاطمہ کے خلاف کوئی بات نہیں سنوں گیں ویسے بھی یہ رشتہ تمھاری نانی نے طہ کیا ہے تم نے بات کرنی ہے تو ان سے جا کے کہو۔ اور تم انکار کیوں کر رہے ہو۔ کہیں تم کسی اور کو تو پسند نہیں کرتے؟

اشعر ایک لمحے کیلئے اپنی ماں کے درست اندازے پہ حیران رہ گیا۔وہ بولا امی جی۔۔۔

اس سے پہلے وہ بات پوری کرتا فریدہ بیگم اس کی بات کاٹتے ہوئے بولیں

بیٹا بس مجھے کچھ نہیں سننا میری بہو بنے گی تو فاطمہ ہی بنے گی اور کوئ نہیں۔ وہ یہ بات کہ کے بڑبڑاتے ہوئے باہر چلی گئیں۔ عائشہ کا حمزہ کیلئے ایمان کے رشتے والی بات بتا ہی نہیں پائیں۔

اشعر ان کو اواز ہی دیتا رہ گیا لیکن وہ کچھ بھی سنے بغیر چلی گئیں۔اشعر کو اپنا زہن ماؤف ہوتا ہوا محسوس ہوا۔ اس کو یہ مرحلہ جتنا آسان لگ رہا تھا اتنا آسان نہیں تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر فریدہ بیگم نہیں سن رہی تو بلقیس بیگم اپنی پسندیدہ نواسی کے خلاف فیصلہ کیسے سنیں گیں۔ وہ جانتا تھا کہ وہ فاطمہ کے مقابلے میں سب کے سامنے ایمان کا نام رکھے گا تو ایمان اور شگفتہ بیگم کو جس قدر برا بھلا کہا جائے گا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بلقیس بیگم نے کتنی مشکل سے انہیں تسلیم کیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عائشہ فریدہ بیگم کے ساتھ ہی گاؤں روانہ ہو گئیں۔ کیونکہ ان کا کچھ دن بلقیس بیگم کے ساتھ رکنے کا ارادہ تھا۔ اور حمزہ کا عائشہ کو فرقان صاحب کی طرف چھوڑ کے لاہور جانے کا ارادہ تھا. وہ بھی حیران تھا کیونکہ عائشہ نے ان سے بھی زکر نہیں کیا تھا۔ لیکن اس وقت اس کے پاس ان سے دریافت کرنے کا وقت نہیں تھا۔ تو اس نے اتوار کو گھر جا کے ان سے بات کرنے کا ارادہ کیا۔ وہ زیادہ دیر ان باتوں کو زہن پہ سوار نہیں کر پایا اس کے فون پہ انسپکٹر بلال کا فون آگیا

اسلام علیکم سر آپ کب تکا پہنچ جاہیں گیں؟

بس رستے میں ہوں خیریت تھی

جی سر وہ آپ سے یونیورسٹی سے جو لڑکیاں غائب ہو رہی ہیں اس کیس کے سلسلے میں بات کرنی ہے آ اس گروہ کا ایک کارندہ ہمارے ھاتھ لگا ہے میں آپ کا انتظار کر رہا ہوں آپ آئیں تو مزید کوئ لائحہ عمل تیار کریں کیونکہ اس کے زریعے ان تک پہنچا جا سکتا ہے۔

ٹھیک ہے بلال میں بس 1 گھنٹے تک پہنچ جاؤں گا پھر اس کیس کو بھی دیکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *