Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 05)

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

سب لوگ دوپہر کےکھانے کے بعد فارغ تھے۔کافی دنوں سے بہت گرمی پڑ رہی تھی موسم بہت خوشگوار ہو گیا ٹھندی ہوا چلنے لگی تو سب لوگوں نے نہر کے کنارے واقع امرود کے باغ کی سیر کرنے کا سوچا۔ یہ پلین حرا کا تھا جو گھومنے پھرنے کی بہت شوقین تھی۔اس نے بڑوں کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی لیکن کوئ راضی نا ہوا۔ دادی نے اشعر کو اواز دی

جا پتر پیناں نوں نہر تے امرودا دے باغ پھرا لیا۔

جی اچھا دادی جی۔ اشعر بولا۔

نہر پہ جانے کیلئے حرا٬ عالیہ فاطمہ، انس،ایمان ااور عائشہ بیگم کی بیٹیاں فروا اور صالحہ شامل تھیں۔ اشعر خوش تھا کہ اسی بہانے اسے ایمان کے ساتھ کچھ وقت گزارنا کو مل جائے گا ۔ مہمانوں کی وجہ سے اسے ایمان سے زیادہ بات چیت کرنے کا موقع نہیں ملا تھا۔ایمان نے پہلے تو جانے سے منع کر دیا پھر دادی کی ڈانتنے پر تیار ہو گئ جانے کیلئے۔ ایمان کے منع کرنے پر اشعر کو حیرت ہوئ کیونکہ وہ صبح سے دیکھ رہا تھا کہ ایمان ضرورت سے زیادہ چپ تھی۔اشعر نےاشاروں میں پوچھنے کی کوشش بھی کی پر ایمان ٹال گئ اور فون پہ وہ اس وقت میسج کر کے پوچھ نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ گاؤں آکے ایمان اپنا فون زیادہ نہیں استعمال کرتی تھی کیونکہ اس کا فون اس کے چھوٹے بھائی انس کی پاس ہوتا زیادہ تر۔تو وہ موقع کی تلاش میں تھا کہ وہاں ایمان سے پوچھنے کا موقع مل جائے۔ وہ سب کے سامنے اسے جانے کیلئے کہ بھی نہیں سکتا تھا۔ اشعر کو دادی پہ بے اختیار پیار ایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ لوگ نہر پہ پہنچ گئے تھے۔ سب لوگ مستیوں میں مصروف تھے۔ حرا تو باقاعدہ درخت پہ چڑھ کر امرود توڑنے میں مصروف تھی۔ فاطمہ اور عالیہ حرا کے اتارے ہوئے امرود کیچ کرنے میں مصروف تھی۔ ایک دو دفع فاطمہ نے اسے بھی کہا کہ وہ بھی ان کے ساتھ امرود پکڑے پر وہ بس مسکرا کے ٹال گئ۔ ایمان بےدیھانی میں چلتی چلتی ان سے الگ نکل ائ تھی۔ تب ہی اشعر جو اس کی صبح سے غاہب دماغی کی کوئ وجہ تلاش کر رہا تھا اسے یہ موقع غنیمت لگااور وہ۔ایمان کے پیچھے آ گیا۔ ایمان اپنے آپ میں اس قدر مگن تھی کہ اسے اشعر کے قدموں کی آواز بھی سنائی نا دی۔ اشعر نے بالکل اس کے پاس آکر اس کو آواز دی مگر ایمان کو پتا نہیں چلا۔ جب 2 تین دفعہ بلانے پہ بھی ایمان متوجہ نا ہوئ تو اشعر کو اس کا کندھا ہلا کے متوجہ کرنا پڑا۔ اس سے پہلے کہ ایمان ڈر کے مارے چینخ مارتی اشعر نے اس کے منہ پہ ھاتھ رکھ کے اس کی چینخ کا گلا گھونٹا۔ایمان کا تنفس تیز ہو گیا ڈر کے مارے۔

یار میں ھاتھ ہٹانے لگا ہوں چینخنا مت اوکے؟

آپ نے تو ڈرا ہی دیا تھا ایمان گہرے سانس لیتے ہوئے بولی۔

یار کب سے تو آوازیں دے رہا تھا۔ پتا نہیں کن خیالوں میں کھوئ ہوئ ہو ۔ اسلئے تنگ آکے کندھا ہلا کے متوجہ کرنا پڑا۔ اب بتاؤ کیوں پریشان ہو۔ اس سے پہلے کہ کوئ ہمیں ڈھونڈتا ہوا اس طرف آ جائے۔

ایمان اس لئے تو آنا نہیں چاہ رہی تھی کیونکہ اسے ڈر تھا کہ یہاں اشعر ضرور اسے روک کر پوچھنے کی کوشش کرے گا۔

جی کچھ نہیں بس ایسے ہی خاموش رہنے کو دل کر رہا ہے۔

یار بلاوجہ تو خاموش رہنے کو دل نہیں کرتا۔ کسی نے کچھ کہا ہے دادی نے یا مامی نے نا یا کسی اور نے۔

نہیں کسی نے کچھ نہیں کہا۔ چلیں چلتے ہیں کوئ اس طرف آگیا تو کیا سوچے گا۔ ایمان نے اسے ٹالنے کی کوشش کی اور واپسی کے راستے کی طرف چل پڑی۔ تب اشعر نے اس کا ھاتھ پکڑ کے اسے روکا یار ایسے تو تمہیں جانے نہیں دوں گا۔ اس سے پہلے کہ وہ ایمان سے مزید سوال کرتا اسے ایک طرف سے انس آتا ہوا دکھائی دیا اس نے ایمان کا ھاتھ چھوڑ دیا۔ایمان نے شکر کیا کہ انس آگیا کیونکہ وہ اس وقت وہ اشعر کو کچھ بتانے کی حالت میں نہیں تھی۔ وہ اس خواب کو دوبارہ نہیں یاد کرنا چاہتی تھی۔ ایمان کی بھی انس پہ نظر پڑ چکی تھی۔ تب ہی انس ان کے پاس آتے ہوئے بولا آپی آپ یہاں ہیں اور وہاں سب لوگ پریشان ہو رہے ہیں آپ نے آگے آنا ہی تھا تو مجھے لی آتی ساتھ۔

تب ہی اشعر بولا ہاں یار میں بھی اسے غائب دیکھ کے ڈھونڈھتے ہوئے یہاں ایاہوں۔

ایمان شرمندہ ہوتے ہوئے بولی۔

سوری آپ لوگوں کو میری وجہ سے پریشانی اٹھانی پڑی۔ چلیں انس۔

اس نے اشعر کو مکمل طور پہ نظر انداز کر دیا۔ اشعر حیران تھا کہ آج سے پہلے اس نے ایمان کو اس طرح کوئ بات چھپاتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ وہ اچھا خاصا پریشان ہو چکا تھا پر اب کچھ ہو نہیں سکتا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایمان واپس آئ تو ماما واپس جانے کی تیاری کر چکی تھیں کیونکہ ایمان کو کل ہوسٹل کیلئے نکلنا تھا اس کی ویسی بھی ہفتے اور سوموار کی دو چھٹیاں ہو چکی تھیں اور جمع کو اس کا ٹیسٹ بھی تھا۔ ماما پہلے ہی ساری پیکنگ کر چکی تھیں۔ ابھی انہیں نکلنے میں چند گھنٹے باقی تھےوہ حرا کے پاس جا رہی تھی کہ پھپھو فریدہ کے کمرے کی طرف جاتے ہوئے اسے دادی کی آواز سنائ دی جو کہ رہی تھیں۔

فریدہ میرا خیال اے کہ اشعر دی وی حرا دے ویاہ تے منگنی کر دینے آں۔غزالا تیرا کی خیال اے۔ ویاہ تے فرقان وی آجاے گا۔

ایمان دھک سے رہ گئ۔ وہ تجسس کے ھاتھوں مجبور ہو کے دروازے کی ایک طرف کھڑی ہو گئ۔

جی اماں ٹھیک اے۔ فاطمہ دے پیپر وی مکمل هو جان گے ویاہ تو پہلاں۔

فریدہ تو اشعر نوں دس دئیں جان تو پہلوں اودھی منگنی بارے تے بس فر رشتے داراں نوں اشعر تے فاطمہ دی منگنی دا وی دس دیاں گے۔رشتا تے بچپن دا تہ سی بس عثمان دے کہن دی وجہ توں اشعر نوں نہیں دسیا کہ بچیاں دا ذہن خراب ہوندا اے۔اس سے زیادہ سننے کی ایمان میں سکت نہ تھی وہ بہت مشکل سے ماما کے پاس پہنچی۔ اب اسے اپنے خواب کا مطلب سمجھ ایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ وہاں سے بامشکل چلتی ہوئ ماما کے پاس آئ تو اسے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے وہاں اشعر حرا فاطمہ اور سلمان بھائی بیٹھے ہوئے نظر آئے۔ اس کی نظر فاطمہ کی طرف پڑی جو سب سے نظر بچا کے اشعر کی طرف پیار بھری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھی۔ اسے اب اتنے دنوں کی اس کی خوشی کی وجہ سمجھ آئ اور حرا کا اسے وقفے وقفے سے تنگ کرنا بھی۔ اسے وہاں کھڑا رہنا مشکل لگا۔ وہ روتے ہوئے وہاں سے چھت کی طرف دوڑھ گئ۔ اتنے میں اشعر اور شگفتہ بیگم کی ایمان پہ نظر پڑ چکی تھی۔ اشعر جانتا تھا کہ ایمان شدید پریشان ہے کسی بات کو لے کے۔ اس کے اس طرح وہاں سے جانے نے اسے مزید پریشان کر دیا وہ شگفتہ بیگم کو اشارہ کرتے ہوئے اٹھ گیا مامی آپ فکر مت کریں میں دیکھتا ہوں۔

شگفتہ بیگم ایمان کے وہاں سے روتے ہوئے جانے کی وجہ سے چکی تھیں کہ ایمان کو اشعر اور فاطمہ کی منگنی کے بارے میں پتا چل گیاہے۔ وہ بھی اس رشتے کے طہ ہو جانے سے واقف نہیں تھیں کیونکہ سب رشتہ داروں کے درمیان باقاعدہ کوئ رشتے کی بات طہ نہیں پائی تھی۔یہ بات بس فریدہ بیگم بلقیس بیگم اور غزالا اور اشعر کے والد کے درمیان تھی اور اشعر کے والد نے ہی آگے کسی کو بھی کہنے سے روکا تھا۔ بس فاطمہ کی طرف بلقیس بیگم کا رجحان دیکھ کر شگفتہ بیگم کو اندازا تھا کہ ایسا ہوگا۔اور وہ کئی دفعہ ایمان اور اشعر کی دوستی سے پریشان بھی ہو جاتی تھیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ایمان کا دل ٹوٹے۔ انہیں اشعر بہت پسند تھا۔ لیکن وہ فریدہ اور بلقیس بیگم کی طبیعت سے واقف تھیں وہ جانتی تھی کہ ایمان کتنی حساس ہے وہ تو ان کی باتوں پہ رو پڑتی تھی جو خالصتاً ایمان کی بھلائ کے لیے ہوتی تھیں تو اپنی دادی اور پھپھو کی باتوں کا سامنا کیسے کرتی۔ وہ جانتی تھیں کہ ایمان اشعر کو پسند کرتی ہے لیکن اس میں اس حد تک انوالو ہے اس کا اندازا انہیں ابھی اس کی حالت دیکھ کے ہوا تھا۔

اشعر ایمان کے پیچھے ایا۔ وہ چھت کی اس طرف موجود تھی جہاں عموماً کوئ چھت پہ آتا بھی تو اس کی نظر نا پڑتی۔ اشعر اس کے پاس وہاں آیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ بچپن میں بھی ایمان اکثر کھیلتے ہوئے وہاں ہی چھپتی تھی۔ اشعر وہاں پہنچا تو ایمان اپنی ٹانگوں میں منہ چھپا کے زاروقطار رونے میں مصروف تھی۔ اشعر کو دھچکا لگا وہ شدید ترین پریشانی میں اس کے قریب دوزانو ہو کے بیٹھ گیا اور اس کے سر پہ ھاتھ رکھا۔ایمان کی اتنی شدید گریازاری اسے کسی انہونی کا پتا دے رہی تھی۔

ایمان کیا ہو گیا ہے یار کیوں اس قدر شدت سے رو رہی ہو میں صبح کا سوچ سوچ کے پاگل ہو گیا ہوں اور تم کچھ بھی بتانے کو تیار نہیں۔ اشعر نے جنونی انداز میں اس کے بازو جھنجھوڑ دیے۔

ایمان غصے سے بولی میں آپ کو سمجھاتی تھی نا کہ دادی مجھے اور ماما کو پسند نہیں کرتی آج جان بھی لیا۔ کیونکہ سب ہی لوگ واقف تھے آپ کے اور فاطمہ کے رشتے سے بس ہمیں ہی انجان رکھا گیا اور اب سب ختم ہو گیا ہے کچھ نہیں بچا آپ پلیز کیا سے چلے جائیں۔

اشعر جو پہلی دفعہ ایمان کی اتنی بدتمیزی سے بات کرنے پہ حیران تھا اسے ایمان کی کوئ بات سمجھ نا آئی

ایمان یہ کیا کہ رہی ہو میں اور فاطمہ۔۔۔۔۔وہ بات پوری کئے بغیر ایمان کو بےیقینی سے دیکھنے لگا

ایمان پہلی دفعہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی جی آپ نے سہی سنا اور حرا کی شادی کے ساتھ ہی عید کے بعد آپ کی بھی منگنی ہے بہت بہت مبارک ہو آپ کو۔۔۔ اور خود اذیتی سے ہنسنے لگی۔

اشعر ایمان کی باتیں سن کے تیش میں آگیا ایسے کیسے یہ لوگ میری زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ میں اس رشتے کو نہیں مانتا میں ابھی جا کے امی اور دادی کو انکار کرتا ہوں تم بالکل پریشان نا ہو ایمان میں سب ٹھیک کر دوں گا۔میں سب ٹھیک کر دوں گا اور ساتھ ہی اٹھ کے جانے لگا جب ایمان نے پہلی دفعہ روتے ہوئےاس کا ھاتھ پکڑ کے روکا آ پ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ ہمارا ساتھ بس یہیں تک تھا۔

اشعر تیش میں ایمان کی طرف بڑھا اور اس کے کندھوں کو زبردستی جکڑتے ہوئے بولا ایک بات یاد رکھنا میرے جیتےجی تو میری شادی فاطمہ سے نہیں ہونے والی

میں نے تمہیں پہلے بھی کہا تھا کہ اگر تم راستہ بدلنا بھی چاہو گی تو میں اپنے قدم پیچھے نہیں ہٹاووں گا۔

ایمان کو اشعر کی جنونیت سے خوف آیا لیکن وہ جانتی تھی کہ اگر اب وہ کمزور پڑ گئ تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین کی عزت بھی مٹی میں ملا دیگی۔ اشعر کو روکنا بہت ضروری تھا۔

ایک لمحے کیلئے اس نے اپنی آنکھیں زور سے بند کی دل ہی دل میں اللہ سے مدد مانگی اور بولی۔

اشعر آپ جانتے ہیں میں نے ہمیشہ چاہا تھا کہ ہمارا رشتہ ہو تو ہمارے گھر والوں کی رضامندی سے ہو اس فیصلے میں سب کی مرضی شامل ہو پر یہ رشتہ جڑنا ہمارے نصیب میں نہیں لکھاتھا آپ کا رشتہ تو بجپ سے ہی فاطمہ سے طہ تھا بس مجھے خبر نہیں تھی اور اللہ کی قسم اگر مجھے پہلے پتا ہوتا کہ آپ فاطمہ کا نصیب ہیں تو میں کبھی اس رشتے کو اتنا آگے نا بڑھنے دیتی۔ اشعر کے اس کے کندھوں پہ جکڑے ھاتھ بےجان انداز میں نیچے گر گئے۔

ایمان ایک لمحے کو سانس لینے کیلئے رکى

اور آپ تو جانتے ہیں کہ کسی کی پینسل بھی میرے پاس رہ جائے تو جب تک میں وہ اسے واپس نا کر دوں چین سے نہیں بیٹھ پاتی تو کیسے میں کسی کی خوشیوں پہ ڈاکا ڈال دوں۔

میں نے آپ کے نام سے فاطمہ کے چہرے پہ انے والی مسکراہٹ دیکھی ہے وہ اپ کو بہت پسند کرتی ہےاور۔۔ اس سے پہلے کہ ایمان بات پوری کرتی اشعر ایمان کی بات کاٹتے ہوئے بولا

اور تمھاری محبت کا کیا؟کیا تمھیں اس بات سے کوئ فرق نہیں پڑتا کہ میں کسی اور کا ہو جاؤں۔؟

ایمان نے اشعر کے ان الفاظ سے شدید ازیت محسوس کی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ جس چیز کو سوچتے ہوئے بھی وہ ازیت کا شکار ہوتی تھی آج یہ وقت بھی آئے گا کہ اسے اپنے ھاتھوں اس محبت کا گلا گھونٹنا پڑے گا۔ لیکن اس وقت وہ صرف ایک بیٹی بن کے سوچ رہی تھی وہ جانتی تھی کہ اگر وہ اشعر کو اس رشتے سےابھی انکار کرنے سے منع نا کرتی تو ساری دنیا سے لڑ لے گا لیکن فاطمہ سے رشتہ نہیں جڑنے دیگا۔

وہ ہمت جمع کر کے مسکراتے ہوئے اشعر کی طرف دیکھ کے بولی

آپ کو کیا لگتا ہے کہ اگر ہمارا رشتہ جڑ بھی گیا تو کیا میں اس بات سے خوش رہ پاؤ ں گی کہ میری وجہ سے آپ کو اپنوں سے لڑنا پڑا میں کسی کے حق میں ڈاکا ڈالنے کی وجہ بنی۔ کسے کی بددعاوں کے حصار میں گھر نہیں بنا کرتے۔

کیا آپ نے سوچا کہ اگر آپ میرے لیئے س کے سامنے آواز اٹھائیں گے تو کوئ بھی آپ کو برا نہیں کہے گا سب مجھ پہ انگلی اٹھائیں گے میری ماما کو برا کہیں گیں ۔میرے بابا کو برا کہیں گیں کہ یہ ہے وہ بیٹی جس کیلئے اس کا باپ اپنا ملک رشتے چھوڑ کے باہر کے دھکے کھا رہا ہے۔ نہیں اشعر میں کبھی خوش نہیں رہ پاؤں گی۔

اشعر کے پاس اس کی باتوں کے جواب میں کہنے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ وہ ایمان کی ازیت کا اندازہ لگا سکتا تھا

کیا اب تم خوش ہو؟

نہیں ہوں لیکن یہ اطمینان تو ہے نا کہ میری وجہ سے کسی کا دل نہیں ٹوٹے گا

میرے دل کا کیا۔ یہ رشتہ ہم دونوں کی مرضی سے تہ ہوا تھا تو اسے توڑنے کا اختیار ایک فریق کو کیوں۔

ایمان اس کے اس سوال سے لاجواب ہو گئ۔ وہ کچھ نا بول پائی

اب تم چپ کیوں ہو۔ جواب دو

دیکھیں اشعر آپ کے اور فاطمہ کے رشتے میں ہی سب کی بھلائ ہے ویسے بھی نکاح سے پہلے کہ محبت کی کوئ حقیقت نہیں ہوتی۔ آپ کی شادی ہو جائے گی تو آپ جلد ہی مجھے بھول جائیں گے۔

یہ کہ کر ایمان اپنے آنسو پونچھ کے سیڑھیوں کی طرف چل پڑی۔ شگفتہ بیگم جو زیادہ دیر نیچے نہیں بیٹھ سکی تھیں وہ اوپر آگئیں تھیں اور ایمان اور اشعر کی باتیں حرف با حرف سن چکی تھیں۔

میں ویکھاں۔میرایار نا ویکھے

جے میں ناویکھاںتے اوویکھے

پرایڈے بخت کتھوں لیاواں

میرے ویکھن دےوچ ویکھے

_________

ایمان جو پہلے اشعر سے بات کرتے ہوئے شدید ترین ازیت کا شکار تھی اور مسلسل رونے میں مصروف تھی اب اس کی آنکھیں مکمل طور پہ خشک تھیں۔ اس کی حالت اس جواری کی سی تھی جو اپنے ھاتھوں اپنی ساری جمع پونجی لٹا آیا ہو۔ وہ اپنے قدموں پہ چل کے کیسے اس کمرے تک آئ جہاں اس کے اور شگفتہ بیگم کا قیام تھا وہ نہیں جانتی تھی۔ شگفتہ بیگم اس کے پیچھے آئیں کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ ایمان کو کوئ اس حالت میں دیکھے اور اس کے بارے میں غلط اندازے لگانا شروع کر دے۔ یہ بھی شکر تھا کہ سب لوگ برآمدے میں بیٹھے خوشگپیوں میں مصروف تھے۔ اس لیے کسی نے ایمان کی حالت پہ غور نہیں کیا۔ ایمان کا زہن اس وقت بالکل کورا تھا۔ سچ ہے کہ انسان جس چیز کو کھونے کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہتا جب وہ اس سے کھو بھی جائے تو چپ کر کر وہ ازیت برداشت کر لیتا ہے۔ وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ اللہ اسی چیز سے انسان کو آزماتا جو اسے بہت عزیز ہوتی ہے۔ شگفتہ بیگم جنہوں نے اپنی بیٹی کو ہر سرد گرم سے بچانے کی کوشش کی انہوں نے خود پہ گزرے کڑے وقت کی کبھی اسے بھنک بھی نہیں پڑنے دی نا ہی کوئ خاندانی مسائل اس کے سامنے بیان کئے تاکہ ان کی بیٹی کی معصومیت نا چلی جائے اور وہ ہر تکلیف سے محفوظ رہے لیکن وہ اپنی بیٹی کو اس ازیت سے بچا نہیں پائیں۔ وہ ایمان کے پاس جا کے بیٹھ گئیں۔ ان کے پاس ایمان کو دلاسا دینے کیلئے الفاظ نہیں تھے ۔ اسلئے انہوں نے چپ چاپ اسے اپنے گلے سے لگا لیا اور ماتھے پہ پیار کیا۔ اور ایمان جو کسی سہارے کے ہی تلاش میں تھی ماں کے گلے لگ کے پھوٹ پھوٹ کے رو پری۔ شگفتہ بیگم نے اسے کھل کے رونے دیا۔ جب ایمان کھل کے رو چکی تو پیار سے اس کے آنسو پونچھتے ہوئے بولیں

بیٹا میں تمھارے ساتھ ہوں۔ چلو اب گھر چلنا چاہیے۔ ۔۔

ان کی آنکھیں ابھی بھی نم تھیں لیکن وہ یہاں اپنا اور اپنی بیٹی کا تماشا نہیں لگوانا چاہتی تھیں۔

وہ جانتی تھی کہ ایمان کس تکلیف سے گزر رہی ہے۔ آج ایک بیٹی تو جیت گئ تھی لیکن ایک لڑکی ہار گئ تھی۔ ایمان جو رو کے قدرے بہتر تھی اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولی

جی ماما۔۔

آ جاؤ کے تقدیر کی زد میں جواک دن

معلوم ہو جائے گا خدا ہے کہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اشعر تو ایمان کے جانے کے بعد ہی لمبے لمبے ڈگ بھرتا گھر سے باہر چلا گیا کیونکہ اس کے اندر اس وقت اتنا شور تھا کہ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ ساری دنیا کو آگ لگا دے۔ اس کا زہن ایمان کے آخری الفاظ میں اٹک کے رہ گیا تھا

ویسے بھی نکاح سے پہلے کی محبت میں کوئ حقیقت نہیں ہوتی۔ آپ کی شادی ہو جائے گی تو آپ مجھے بھول جائیں گیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔

میں اور فاطمہ وہ جتنا اس بات کو سوچتا اس کی ازیت بڑھتی چلی جاتی۔ آج اسے کئ سالوں بعد اپنا آپ اکیلا لگا بالکل ویسا ہی جیسا اسے تب محسوس ہوتا تھا جب بابا اسے چھوڑ گئے تھے۔ رونا ازیت کی انتہا کو کہتے ہیں اور کہتے تو یہ ہیں کہ مرد نہیں رویا کرتا لیکن جب ازیت برداشت سے باہر ہو جائے تو وہ ہی اذیت درد کی صورت میں آنکھوں سے بہ جاتی ہے۔ اشعر بھی ازیت کے اس سٹیج پہ تھا جہاں وہ درد آنسو بن کے اس کی آنکھوں سے بہ رہا تھا۔ یہاں اس کو اس قدر روتا ہوا کوئ دیکھ لیتا تو وہ کبھی نا یقین کرتا کہ یہ وہ انسان ہے جو ہر وقت لوگوں کو ہنسانے میں مگن رہتا۔ وہ اتنی شدت سے اپنے والد کی وفات پہ رویا تھا۔اور اب وہ ازیت کی انتہاؤں کو پہنچتا ہوا اللہ کے آگے سجدہ ریز ہو گیا۔ وہ اس وقت اپنے دوست کے ڈیرے پہ تھا۔ اس کا دوست چودھری قاسم گاؤں کے چوھدری ریاست کا بیٹا تھا۔ وہ جب بھی گاؤں آتا دونوں اسی کمرے میں وقت گزارتے۔ قاسم اور اشعر کے علاؤہ اس کمرے میں کسی اور کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور اشعر کے پاس بھی اس کمرے کی چابی ہمہ وقت موجود رہتی ۔ اسے جب خاموشی سے امتحان کی تیاری کرنی ہوتی تو بلا جھجھک یہیں اتا۔ اور ابھی اشعر کو یہ کمرہ غنیمت لگا کیونکہ وہ اس وقت کسی کا سامنا کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔کافی دیر رونے کے بعد جب اس کا دل کچھ سوچنے سمجھنے کے لائق ہوا تو وہ ایک نئے جوش سے اٹھ بیٹھا اور خود سے کہنے لگا کہ میں ایمان یا کسی کو بھی یہ اختیار نہیں دوں گا کہ وہ میرے اور ایمان کے درمیان ائے۔ اب جو بھی کرنا ہو گا مجھے ہی کرنا ہوگا۔ لیکن اس کیلئے مجھے ایمان کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے کیونکہ میں کبھی نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے ایمان کی طرف کوئ انگلی اٹھے۔ میں ہار نہیں مانو گا۔ اسے بابا کی کہی ہوئی بات یاد آئ کہ

بیٹا کسی بھی کام میں کامیابی کیلئے ضروری ہے تو کوشش کرنا۔ کوشش کرنا انسان کے اختیار میں ہے اور کامیابی دینا یا نا دینا اللہ کے اختیار میں ۔ اپنی طرف سے پوری کوشش کرو اور نتیجہ اللہ پہ چھوڑ دو۔ تاکہ کل کو تمھارا ضمیر تمھیں ملامت نہ کرے کہ تم نے کوشش نہیں کی۔۔۔۔۔

تو میں کیسے بغیر کوشش کے ہار مان لوں۔ ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا مجھے ایمان سے بات کرنی چاہیے۔

اور ہماری زندگیاں اس کے حوالے ہیں

جو کچھ زایاں نہی کرتا جب اس کے سپرد کیا جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *