Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 01)

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

ایمن کافی دیر سے پارک میں بیٹھے ڈوبتے سورج کو دیکھی جا رہی تھی۔

ہوسٹل میں آنے کے کچھ عرصے بعد سے اس کا معمول تھا کہ جب بھی گھبراہٹ کا شکار ہوتی ہوسٹل کے قریب واقع پارک میں آء کر اسی مخصوص بینچ پہ آء کہ بیٹھتی اور جب تک دل ہلکا پھلکا نہ ہو جاتا اپنے کمرے میں واپس نہ جاتی۔ آج بھی اپنی ماما سے بات کرنےکے بعدایمن پریشانی میں بیٹھی تھی کہ ایک بال اڑتی ہوئ آئ اور اس کی ٹانگ پہ لگی۔وہ غصے میں مارنے والے کی خبر لینے کے ارادے سے اٹھی ہی تھی کہ ایک بہت ہی پیارا پانچ چھ سال کا بچہ بھاگتا ہوا آیا اور پھولی سانسوں سے بولا: آنٹی سوری لگی تو نہیں؟ پلیذ مجھے بال دیں دیں۔اس کی معصوم شکل دیکھ کر گال کھینچتے ہوئے اس کا نام پوچھ کر اسے بال واپس کر دی۔

وہ بچہ جس کا نام ھادی تھا ایمن کے گالوں پہ پیار کرتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے آنٹی آپ کتنی اچھی ہیں اپنی ماما کی طرف بھاگ گیا۔اب تاریکی کو دیکھتے ہوئے ایمن کو وقت گزرنے اور نماز کے قضا ہونے کا خیال آیا اور وہ ہوسٹل کی طرف چل پڑی۔اپنے کمرے میں پہنچتے ہی فریحہ(ایمن کی روم میٹ بولی)کہاں رہ گئ تھی ایمن؟

ایمن: یار پارک میں دیر ہو گئ۔

فریحہ:اچھا اچھا نماز ادا کر لو پھر اینیٹمی کا آج کا ٹاپک پڑھنا ہے (وہ دونوں ایم بی بی ایس کے دوسرے سال کی طالب علم تھیں )

ایمن ابھی نماز پڑھ کہ اٹھی ہی تھی کہ فون پہ ایک مسیج نمودار ہوا.Are you free I want to talk

ایمن نے جواب دیا: پلیز 5 منت تک بات کرتے ہیں

جواب موصول ہوا:اوکے

ایمن فریحہ کو بولتے ہوئے: یار میں تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔

فریحہ: یار جب بھی ہم نے پڑھنا ہو کوئ کام یاد آء جاتا ہے

ایمن: اچھا نہ میں آتی ہوں 10 منٹ تک پڑھتے ہیں۔اور فریحہ کو جواب سنے بغیر باہر بھاگ گئ۔ابھی باہر آئ ہی تھی کہ کال آء گئ۔ایمن پھولی ہوئ سانس سے فون اٹھاتے ہوئے۔اسلام علیکم!

دوسری جانب سے اشعر نے جواب دیا و علیکم سلام۔کیسی ہو؟ سانس کیوں پھول رہاہے؟

ایمن: جی وہ تیزی سے چلتی ہوئ آئ ہوں نی اس لئے ۔

اشعر: اچھا کیسی ہو؟

ایمن: ٹھیک۔(وہ ہمیشہ یوں ہی اشعر کے سامنے کنفیوز ہو جاتی تھی)

آپ کیسے ہیں؟

میں بھی ٹھیک ہوں۔پھر یوں ہی تھوڑی بہت گفتگو کر کے ایمن فون بند کر آئ۔اتنی سی بات کرکے ہو وہ بہت تازہ دم محسوس کر رہی تھی۔

فریحہ ایمن کو کمرے میں دیکھتے ہی بولی کیا بات ہے بہت خوش نظر آء رہی ہو۔آج خیر مجھے پتہ چل ہی گیا کہ تم یوں اکثر کمرے سے کیوں غائب ہو جاتی ہو۔

ایمن پریشان ہوتے ہوئے: کیا پتہ چل گیا تمہیں فری؟

فریحہ: ارض کیا ہے: دل افسردہ پہ پھر ڈھڑکنوں کا شور اٹھا

یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کس کی یاد آئ

ایمن جھینبتے ہوئے:نہیں! ایسی تو کوئ بات نہیں۔میں روز ہی پارک سے آء کہ خوش ہوتی ہوں۔

فریحہ: خیر بات تو کچھ اور ہے تم بتانا نہ چاہو تو وہ اور بات ہے۔

ایمن: اچھا چلو چھوڑو یار پڑھیں

فریحہ اسے گھورتے ہوئے : میڈیم کو پڑھنے کا خیال بہت جلدی آء گیا۔

اچھا چلو آء تو گیا نہ۔۔۔ان کی پہلی ملاقات کینگ ایڈورڈ کالج کہ ہوسٹل میں ہوئ۔تب سے ہی ان کی دوستی کل آغاز ہوا۔

ہوا یوں کہ ایمن جو کہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی جو کہ رشتہ داروں کہ گھر اپنے ماں باپ سے دور تھی بہت گھبرائ ہوئ تھی۔اور اپنے پاپا سے مل کہ روتے ہوئے ہی کمرے میں داخل ہوئ تھی اور اپنا سامان رکھ کے ہی چارپائی پہ بیٹھی ہی تھی کہ ساتھ والی چارپائی سے ایک خوش شکل لڑکی بولی: اسلام علیکم! میں فریحہ ہوں میرے سب چاہنے والے مجھے فری کہتے ہیں۔اب ہم نے پانچ سال اکٹھے گزارنے والے ہیں تو کیوں نہ دوستی کر لیں۔ایمن ہچکچاتے ہوئے: و علیکم سلام ۔ٹھیک ہے ۔مختصر ساجواب دیتے ہوئے۔

ایمن خاموش طبیعت لڑکی تھی اور گنتی چند لوگوں سے ہی بات چیت کی عادی تھی اس میں سرفہرست ایمن کے والد تھے جن کے وہ بہت قریب تھی اس کے بعد فریحہ کافی دیر تک ایمن سے بات کرنے کی کوشش کرتی رہی جن کا جواب ایمن بس ہوں ہاں میں دیتی رہی۔دونوں تھکی ہوئ تھی اور صبح کالج کا پہلا دن تھا اس لیئے دونوں سونے کیلیے لیٹ گئ اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فریحہ کے نیچر کی وجہ سے دونوں میں دوستی ہوگئ ۔اشعر سے بات کرنے کے بعد ایمن کئ کئ دن تک خوش رہتی۔کلاس میں بیٹھے ہوئے بھی وہ اشعر کی باتوں کو ہی سوچے جا رہئ تھی اور آخری الفاظ اوکے اللہ حافظ ٹیک کئیر مائ ڈیر اس کے دماغ میں گونج رہے تھے۔

ہوسٹل آء کہ سونے کے بعد ایمن کو بابا کو کال کرنے کا خیال آیا کیوں کہ بابا سے بات ہوئے اس دفعہ دو دن گزر گئے تھے۔ physiology کے رینل سسٹم کے ٹیسٹ کی وجہ سے ایمن اپنے بابا سے بات نہیں کر پائ تھی۔اس نے سکائپ پر کال کی اور بابا کے فون اٹھانے کا انتظار کرنے لگی

فرقان صاحب: کیسی ہے بابا کی جان؟

ایمن: الحمداللہ! آپ کیسے ہیں؟ اور سوری کل ٹیسٹ کی وجہ سے آپ سے بات نہیں کر پائ!

فرقان صاحب کوئی بات نہیں بابا کی جان!

ایمن:بابا میں آپکو بہت مس کر رہی ہوں آپ آء جائیں آپکو پاکستان آئے ہوئے دوسال ہونے والے ہیں ۔

فرقان صاحب: بیٹا بس جلد ہی آنے کی کوشش کرتا ہوں

ایمن کے والد سول انجنیئر تھےاور پچھلے تین سال سے سعودی عرب میں مقیم تھے اس دوران وہ بس ایک دفعہ ہی پاکستان آء سکے تھے ایمن کے میڈیکل میں ایڈمیش کے وقت۔

ایمن اس دفعہ ایک مہینے بعد گھر جارہی تھی۔ ایمن کوسٹر میں بیٹھی ہوئ اپنی ماں کا سوچ رہی تھی جوکہ کب سے اسکی منتظر تھی اور اس دفعہ ماما کو سرپرائز کر دینے کے چکر میں بغیر بتائے گھر جا رہی تھی۔ایمن اپنی سوچ میں مگن تھی کہ ڈرائیور بولا باجی کرائیہ ۔

ایمن: ہربراتے ہوئے کیا بھائ؟

ڈرائیور: باجی میں کیا کرائیہ دےدو؟

ایمن: بھائی کتنے پیسے؟

ڈرائیور: باجی 200

ایمن 900 روپیہ پکراتے ہوئے لو بھائی۔

ڈرائیور: باجی 200 کیا 900 نہیں۔

ایمن ایسی ہی جھلی تھی اپنے خیال میں اس قدر مگن ہو جاتی کے ادھر ادھر کا خیال نہ رہتا۔وہ ماما کو سرپرائز کر دینا چاہتی اس بات سے بے خبر کہ گھر میں ایک سرپرائز اس کا منتظر ہے۔

…………………………………………………

سوچتےسوچتےاسکاذہن کچھ دن پہلے امی سے ہونے والی باتوں کی طرف چلا گیا جس میں اس کی ماما نے اسے بتایا تھا کہ پھپھوفریدہ کسی دن آنے والی ہیں۔ابہی وہ اس بارے میں سوچ ہی دہی تھی کہ اسے ایک پیغام موصول ہوا۔اس نے ٹیکٹ موصول ہوا…..

تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں میرے دل سے بوجھ اتار دو

میں بہت دنوں سے اداس ھوں مجھے کوئی شام ادھار دو…

اور میسج پڑھتے ہی ایمن جو پھوپوکی آمد کا سوچ کے ہی پریشان تھی سب کچھ بھول گئ اور یاد رہا تو وہ محبت بھرا احساس جو اس میسج بھیجنے والے کے ساتھ جڑاتھا۔

جو اسے ہر بات بھلا کر پرسکون کردیا کرتا تھا اور اب بھی ایسا ہی ہوالیکن معمول کے مطابق اپنی احتیاط پسندی کی وجہ سے میسج بھیجنے والے کو کوئی جواب نہ دے پائی۔

تھوڑی دیر بعد پھر میسج موصول ہوا: یار کبھی تو جواب دے کے خوش کردیا کرو۔

ا ایمان اور میں بھی آپ کو کئ دفعہ کہہ چکی ہوں کے مےرے پاس ایسی باتوں کا جواب نہیں ہوتا۔

پر پیغام موصول ہوا اچھا یار ایک دفعہ گھر آجاو پھر تمہیں اچھے طریقے سے پوچھوں گا۔

آپ پھر سے ایمان نے کوئی جواب نہ دیا۔

لیکن اب ایمن ہر پریشانی والی بات بھول چکی تھی اور اس کا باقی سفر بہت خوشگوار گزرا

اپنے شہر پہنچتے ہی رکشا کروا کے گھر پہنچی اور بے تابی سے گھنٹی پر انگلی رکھ دی۔

اور دروازہ خالہ کی بیٹی ماہرہ نے کھولا تو اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر میں اس کے امی کے ساتھ رہتی تھی

اور دروازہ کھولتے ہیں ایمان کو دیکھ کر خوشی سے اس کے گلے لگ گئی بولی کہ تم تو اگلے ہفتے آنے والی تھی آج کیسے آگئی؟اور اونچی آواز میں کہنے لگی خالہ خالہ دیکھیں کون آیا ہے۔۔۔

شگفتہ بیگم جو ایمان کے والدہ تھیں ہانفتے ہوئے باہر آئیں ارے کون آگیا ہے جو آسمان سر پر اٹھا لیا ہے۔ماہرہ سانس تولے جو بھی ہے اسے اندر بلا لے

ایمان کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں میں خوشی سے نمی آگئ اور انہوں نے پیار سے ایمان کو گلے لگا لیا،ماتھا چوما اور بولیں آگئی میری بچی تو نے بتایا ہی نہیں کہ تو آنے والی ہے میں تیری پسند کا کھانا ہی بنا لیتی

ایمان ماں کے گلے لگتے ہوئے بولی بس معمہ آپ کو سرپرائز دینا چاہتی تھی۔سربرایز کی بچی اگلی دفع پتا کرانا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔ایمان بولی ماما ناراض کیوں ہوتی ہیں اندر تو آنے دیں اپنے تو یہیں کلاس لینا شروع کر دی

اندر آتے ہی ایمان دہپ کرکے صوفے پر بیٹھ گئی یہ دیکھے بغیر وہاں دو لوگ اور موجود تھے۔

فریدہ بیگم بولیں ارے نہ سلام نہ دعااتے ہی سامان پھینکا اور بیٹھ گئی ہو۔ایمان جس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ممالک کی خود کو اس طرح اچانک گھر میں موجود ہونگی۔ماما نے بتایا تو تھا لیکن اسے یہ یاد نہیں تھا کے پھپو اسی ہفتے آنے والی ہیں۔ایمان انہیں دیکھ کے ہ بوکھلا گئی میں نے آپ کو دیکھا نہیں اور بولی پھوپو آپ کب آئیں السلام علیکم سوری میں نے آپ کو دیکھا نہیں اور پیار لینے کے لیئے انکے آگے جھک گئی ۔فریدہ بیگم سر پر پیار دیتے ہوئے بولی وعلیکم السلام۔بیٹا کل کی آئی ہوئی ہوں اور ابھی جانے کی تیاریوں میں ہی تھے۔تیری گھنی میسنی ماں نے بتایا ہی نہیں کہ تو آنے والی ہے۔یہ تو چاہتی ہی نہیں تھی کہ میں تم سے مل کے جاؤں۔

ایمان بو کھلاتے ہوئے بولی پھوپو میں ماما کو سرپرائز دینا چاہتی تھی ماما تو جانتی ہی نہیں کی گئی ہو تو جانتی بھی نہیں تھی کہ میں آرہی ہوں اسلئے پلیز آپ ماما سے ناراض نہ ہو ں

شگفتہ بیگم بولی جی باجی ایمان ٹھیک کہ رہی ہے اور ساتھ ہی بولی ایمان بیٹا جاؤ جا کر منہ دھو اور دل ہی دل میں ایمان کے جھلے پن کو کوسنے لگیں کیو نکے ان کے لاکھ سمجھانے پر بھی اول جلول حلیے میں ہی رہتی تھی۔اور وہ فریدہ بیگم کی طبیعت سے واقف تھیں کے وہ رائی کا پہاڑ بنا دیتی اور اس کے ہلکے نیلے اور ضرورت سے زیادہ سادہ لباس پر اسے جو کچھ نہ سناتی وہ کام ہوتا۔اس لیے انہوں نے ان کی نظر پڑنے سے پہلے ہی اسے وہاں سے اٹھانا چاہا پر ان کی نظر ایمان کے حلیے پر پڑ چکی تھی اور اب ایمان کی شامت یقینی تھی۔

وہ بولیں ایمان یہ کس طرح کے بے ڈھنگ کے کپڑے پہن رکھے ہیں۔کپڑے تو چلو کپڑے چہرے کا کیا حال کر رکھا ہے؟

شگفتہ بیگم بولیں بس باجی آپ تو جانتی ہیں کہ یہ پڑھائی کے چکر میں اپنا بالکل خیال نہیں رکھتی اور میں بھی تو ساتھ نہیں ہوتی۔

بحث کو طول پکڑتا دیکھ کر اشعر جو اس ساری بحث میں سب سے نظر بچا کر ایمان کو محبت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اس سے بچانے کی خاطر بولا ایمان یہاں اور لوگ بھی موجود ہیں ان سے بھی مل لو۔وہ جانتا تھا کہ ابھی تک ایمان کی اس پر نظر نہیں پڑی ورنہ وہ ضرور اس سے سلام دعا کرتی۔اشعر کی آواز سنتے ہی وہ بولی السلام علیکم! کیسے ہیں آپ اشعر بھائی؟

اشعر بولا ٹھیک ہوں میں بہتر ہے کہ تم فریش ہی ہو آؤ لگتا ہے دماغ کو گرمی چڑھ گئی ہے زیادہ گرم موسم کی وجہ سے اورساتھ ہی فون نکال کے ایمان کو میسج کیا ایمان کی بچی تم مجھے ملو سہی آج تمہاری خیر نہیں۔ایمان کو میسج موصول ہوا وہ جانتی تھی کہ اشعر کا ہی ہوگا لیکن اس نے اشعر کی طرف دیکھنے اور میسج کھول کر پڑھنے کی غلطی نہ کی۔اور فون لے کر وہاں سے اپنے کمرے میں گھس گئی۔

دس منٹ میں نہا کر ماما کا سیا ہوا اردو پروجیکٹ جامنی رنگ کا سوٹ پہنا جو اس پر بہت جچ رہا تھا۔بال سنوار کر وہ دروازہ کھول کر باہر جانے ہی والی تھی کہ اشعر جو اپنے دوست کی کال کا بہانہ کر کے وہاں سے اٹھ کے آیا تھا اور اس کا باہر آنے کا انتظار کر رہا تھا اسے خشمگیں نگاہوں سے گھورتے ہوئے بولا:

آپ بتائیں ایمان میڈم حال میں تو بہت بھائی بھائی بول رہی تھیں اب کیوں چپ ہیں اپنے بھائی سے باتیں نہیں کریں گیں؟

ایمان جو اسے سامنے دیکھتے ہی بوکھلا گئی تھی بولی: پلیز سمجھنے کی کوشش کریں پھوپھو کے سامنے میں کیسے آپ کونام لے کر پکارتی؟

اشعر جس کا غصہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا غصے سے بولا تو بھائی بولنا ضروری تھا؟آپ جناب سے کام نہیں چلا سکتی تھی؟

ایمان بولی اچھا سوری نہ آگے سے خیال رکھوں گی۔اشعر جھلاتے ہوئے بولا لگتا ہے اب کچھ کرنا پڑے گا۔

ایمان گھبراتے ہوئے بولی پلیز آپ ابھی کچھ مت کرئے گا۔

یار کب تک ایسے ڈر ڈر کر جیں گیں؟

اور کبھی تو بات سب کے سامنے لانی ہی ہے تو ابھی کیوں نہیں؟

ایمان بولی پلیز نا ابھی نہیں۔ سمجھنے کی کوشش کریں ہر چیز کا ایک مناسب وقت ہوتا ہے اور ہر بات اپنے وقت پر ہی اچھی لگتی ہے۔

اشعر غصے سے باہر چلا گیا اچھا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔ایمان جانتی تھی کہ اشعر اس سے بہت بری طرح ناراض ہو چکا ہے۔

…………………………….

#تم_سا_نہیں_کوئ_اچھا

Episode 2

وہ اتنی آسانی سے مانتا بھی نہیں تھا کیونکہ وہ بہت کم ناراض ہوتا تھا لیکن جب ہوتا تھا تو اسے منانا مشکل ہوجاتا۔اور اب بھی اسے منانے کی خاطر ایمان اس کے پیچھے بھاگی لیکن اشعر اسے کسی بات کا موقع دیئے بغیر باہر جا کر سب کے درمیان بیٹھ گیا اور وہ جو اس کے پیچھے آرہی تھی صوفے سے ٹکرا کر آگے کی طرف گر گئی۔

فریدہ بیگم بولی بیٹا یہ گھر ہے جنگ کا میدان نہیں جو یوں بھاگی ہوئی آ رہی ہو۔

سوری پھوپو بھوک بہت لگ رہی تھی پیٹ میں چوہے دوڑہ رہے تھے اس لیے بھاگی ہوئی آئی ہوں تاکہ ماما کو کھانے کا کہہ سکوں۔ اس نے شرمندہ ہوتے کہا تھا،

جبکہ شگفتہ بیگم ایمان کو گھورتے ہوئے دل ہی دل میں سوچنے لگیں،

کبھی جو یہ لڑکی کسی مہمان کے سامنے میری عزت رکھ لے۔

جاو ایمان بیٹا ٹیبل پر برتن لگاؤ میں ابھی آتی ہوں، ماما نے پھوپو کا دھیان بٹانے کے لیے بولا:

ایمان اپنی ماں کی گہوریوں سے واقف تھی اس لئے جانتی تھی کہ مہمانوں کے جانے کے بعد اس کی اچھی عزت افزائی ہونے والی ہے.. لیکن اس بات کا ڈر تھا کہ ماما ان کے سامنے ہی شروع نہ ہو جائیں..

اس لیے وہاں سے جانے میں ہی آفیت جانی تھی،

۔کھانا کھانے کے فورن بعد اس نے عشر کو میسج کرنے کے ارادے سے فون پکڑا ہی تھا کہ ماما سے جھاڑ پڑی.

پہلے برتن اٹھاؤ اور اب تمہارے ہاتھوں میں مجھے یہ فون نظر آیا تو میرے سے برا کوئی نہیں ہوگا..

ساتھ ہی برتن اٹھا کر خود بھی کچن کی طرف چل پڑ یں۔

مائرہ جو اس وقت یہاں پر موجود تھی ایمان کو ڈانٹ پڑھتے دیکھ کر شرارتی سی مسکراہٹ سے بولی..

ایمان یار ذرا اپنے اشعر بھائی سے پوچھنا کہ وہ آئس کریم ابھی کھائیں گے یا تھوڑی دیر بعد؟

اشعر اور ایمان دونوں نے ماہرہ کو گھورا۔ایمان کا بس چلتا تو اسے کچا ہی چبا جاتی

یہاں وہ شر کو منانے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی،

اور وہ رنگ میں بھنگ ڈال رہی تھی۔

یہ مال تم ابھی تک برتن لے کر کچن میں کیوں نہیں پہنچی؟ تبھی ۔پیچھے سے ماما کی آواز آئی

آئ ماما، ماہرہ کی بچی تجھے تو میں واپس اکر پوچھتی ہوں چول انسان۔ ایمان تیزی سے کچن کی طرف گئی تھی.

روٹھے ہو تم تم کو کیسے مناوں پیا بولونا۔۔۔۔ ایمان کو واپس آتے ہوئے دیکھ کر مائرہ شرارت سے گنگنائی اور پھر اندر کمرے میں بھاگ گئی۔۔جبکہ اشعر ایمان کو بات کرنے کا موقع دیئے بغیر اٹھ کر باہر چلا گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آواز صبح اپنی ماما کی ڈانٹ سے کھلی۔کہ اتنے عرصے بعد ہوسٹل سے گھر آتی ہو اور اس میں بھی زیادہ ٹائم سونے میں گزار دیتی ہو۔سونا ہی ہوتا ہے تو گھر مت آیا کرو ہاسٹل رہ کر اپنی نیندیں پوری کیا کرو۔ٹائم دیکھو صبح کے گیارہ بج رہے ہیں۔اور ایمان یہ سنتے ہی فورا بستر سے اٹھ گئی۔وہ جتنی بھی کوشش کرتی تھی چھٹی کے دن صبح جلدی نہیں اٹھ پاتی تھی اور اس بات پر اسے اکثر ماما سے ڈانٹ پڑتی تھی۔

اٹھتے ہی ایمان کو جو پہلی بات یاد آئ تھی وہ اشعر کی ناراضگی یاد آئی..

اور اس ہی خیال میں ماما سے پوچھنے لگی پھوپھو لوگ چلے گئے ؟

ہاں تھوڑی دیر پہلے ہی نکلے ہیں۔میں نے تو کہا تھا کہ تمہیں اٹھا دوں،

لیکن اشعر نے مانا کر دیا کہ رہا تھا مامی جی سونے دیں رات کو لیٹ سوئی ہوگی۔ شگفتہ بیگم نے اس کی معلومات میں اضافہ کیا تھا. وہ جانتی تھی کہ ا شعر ابھی تک ناراض ہے، ورنہ وہ ماما کو اسے نہ اٹھانے کی بات ہرگز نہ کرتا۔

لیکن اب وہ سوائے ہاتھ ملنے کے اور کچھ نہیں کر سکتی تھی۔

اس لئے ناشتے کی طرف بڑھی تھی، ابھی چوکور پراٹھے کا ایک نوالہ لیا ہی تھا کہ ماما نے ٹوکا برش کر کے آئی ہو؟

کل کر لوں گی نہ ماما.. اس ا سستی سے بولا تھا.. دل تو پہلے ہی اداس تھا..

کتنی دفعہ تمہیں سمجھا چکی ہوں کہ کچھ سلیقہ سیکھ لو سسرال جا کے تم نے میری ناک کٹوانے کا ارادہ کر رکھا ہے۔

شگفتہ بیگم اسے ڈانٹتے ہوئے بولی تھیں وہ ناراض ہوتیں تو ایسے ہی بولتیں تھیں..

اب برش نہ کرنے سے ناک کٹوانے کا کیا تعلق ہے؟ ایمان جھنجلا گئی تھی.

برش تو ایک طرف کر دو فلحال یہ بتاؤ کل تم فریدا آپا کے سامنے کیا حرکتیں کر رہی تھی۔کتنی دفعہ سمجھایا ہے کہ جب گھر میں مہمان موجود ہوں تو اپنے ان بونگی حرکتوں سے پرہیز کیا کرو۔۔ ماما نے کل کی بات حوالہ سا تھا.. اصل غصہ یہ تھا.

ایمان جب بھی ماما کو ایسے جلالی موڈ میں دیکھتی تھی تو زیادہ تر چپ کر جاتی تھی لیکن تھی تو وہ انسان ہی کبھی کبھی وہ بھی جنجھلا تھی اس لئے الٹے جواب دینا شروع کر دیتی لیکن ایسا کم ہی ہوتا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *