Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tum Sa Nahi Koi Acha (Episode 12)

Tum Sa Nahi Koi Acha by Tayyaba Bashir

شادی وآلہ گھر تھا سب لوگ انتظامات میں مصروف تھے۔ داخلی دروازہ مسلسل آمد و رفت کی وجہ سے کھلا ہوا تھا کیونکہ شادی کیلئے کرسیاں اور برتن اندر دکھانے کیلیے کچھ مردوں کی اندر آمد و رفت جاری تھی۔ حمزہ گاڑی کھڑی کر کے دروازہ کھول کے اندر داخل ہوا اسی وقت ایمان جو وہاں سے گزر رہی تھی اسے دیکھ کے ایک لمحے کیلئے حیرت سے ادھر رک گئ کیونکہ اسے امید نہیں تھی کہ منگنی سے پہلے وہ اس طرح اچانک وہاں اجائے گا۔ تب تک حمزہ ایمان تک پہنچ چکا تھا۔ اسلم علیکم کیسی ہیں آپ؟

میں ٹھیک آپ یہاں اس وقت؟ ایمان خود کو پوچھنے سے باز نہیں رکھ پائ تھی اس سے پہلے وہ کوئ جواب دے پاتا۔ سب کزن کا ٹولا وہاں آگیا اور حمزہ کو تنگ کرنے لگا کیوں حمزہ بھائ آپ سے رات تک کا انتظار نہیں ہوا جو ابھی سے اپنی ہونے والی دلہن کا دیدار کرنے اگئے۔

حمزہ ایک لمحے کیلئے لاجواب ہوا لیکن پھر اپنے مخصوص پر اعتماد انداز میں جواب دیا۔ جی دراصل مجھے نانی سے ملنا تھا۔

او ہو ایسی کیا بات ہے جو آپ کو منگنی سے پہلے نانی سے ملنا پڑ رہا ہے۔ کہیں منگنی کی جگہ آپ شادی کی بات تو نہیں کرنے ائے۔

۔ حمزہ ایک لمحے کیلئے سٹپٹا گیا اتنا پر اعتماد ہونے کے باوجود اس وقت اسے ان سب کو ہینڈل کرنا مشکل لگ رہا تھا کیونکہ اسے تنگ کرنے والوں میں فاطمہ بھی شامل تھی۔ لیکن اگلے لمحے اسے یاد آیا کہ وہ یہاں بلقیس بیگم سے جس مقصد سے ملنے آیا تھا۔

ایسی کوئ بات نہیں ہے مجھے بس نانی امی سے کام تھا۔ پلیز مجھے بتا دیں وہ کہاں ہیں میں ان کے پاس چلا جاتا ہوں۔

وہ اپنے کمرے میں ہیں اس وقت آپ وہیں چلے جائیں اب کے فاطمہ بولی۔

حمزہ ایمان کے پاس سے گزرتا ہوا بولا۔ آپ فکر نا کریں میں اب کچھ بھی غلط نہیں ہونے دوں گا۔

ایمان حیران پریشان اسے دیکھے گئ کہ یہ کیا ٹھیک ہونے کی بات کر گیا ہے۔ وہ اتنی آہستہ سے بولا کہ اس کے علاؤہ کسی کو بات سمجھ میں ہی نہیں ائ۔ باقی سب لوگ آگے کی طرف چل پڑے تھے۔ اس کا ایک لمحے ایمان کے پاس رک کے بات کرنا باہر سے آتے اشعر نے دیکھ لیا تھا اسے ایک لمحے حمزہ سے رقابت محسوس ہوئی لیکن اگلے ہی لمحے اس نے اس خیال کو زہن سے جھٹک دیا کہ اب وہ یہ حق نہیں رکھتا ایمان کسی اور کی ہو چکی ہے۔

حمزہ بلقیس بیگم کے کمرے میں چلا گیا۔ اس وقت ان کے ساتھ غزالہ اور فریدہ بیگم موجود تھیں۔

حمزہ کو وہاں دیکھ کے وہ تینوں خواتین حیران تھیں۔ وہ ان کی حیرت بھانپ گیا۔ ان کا حیران ہونا بنتا بھی تھا۔

سب سے پہلے فریدہ بیگم بولیں بیٹا آپ یہاں اس وقت؟

جی آنٹی

حمزہ ایک لمحے کیلئے ہمت جٹانے کیلئے رکا۔

مجھے آپ سب سے ایک ضروری بات کرنی تھی۔

فریدہ بیگم بولیں ہاں ںولا بیٹا۔

اشعر نے چھوٹتے ہی کہا۔

میں ایمان سے منگنی نہیں کر سکتا۔

سب لوگ ایک لمحے کیلئے بھونچکے رہ گئے کہ ابھی کچھ گھنٹے بعد منگنی ہے اور حمزہ منگنی سے انکار کر رہا ہے کافی دیر کوئ کچھ بول ہی نہیں پایا۔

پھر فریدہ بیگم غصے سے بولیں تمھیں اب انکار کرنے کا خیال آیا ہے جب منگنی میں چند گھنٹے باقی ہیں اور سب مہمانوں کو اس منگنی کا بتایا جا چکا ہے۔

حمزہ اپنے آپ کو ان کے سب سوالوں کیلئے تیار کر کے آیا تھاکیونکہ ماں باپ کا رشتہ ہی ایسا ہوتا ہے اگر بچوں کی غلطیوں کیلئے ماں باپ کو قصور وار ٹھرایا جاتا ہے تو اکثر ماں باپ کی غلطیوں کا خمیازہ بچوں کو بھگتنا پڑتا ہے اور وہ انصاف کا رکھوالہ تھا تو کیسے ایک غلط کام میں برابر کا شریک ہوتا۔ اپنی ماں کی سچائی جاننے کے بعد بھی اگر وہ ایمان سے رشتہ جوڑے رکھتا تو وہ اپنے ساتھ ساتھ 3 3 زندگیوں کو خراب کرتا جس کیلئے اس کا ضمیر اسے کبھی معاف نا کرتا۔ اس لیے اب اس نے اپنی ماں کی سچائی وہاں بیٹھے سب نفوس کا بتانے کا فیصلہ کیا۔

جی میں جانتا ہوں لیکن میں اپنی وجہ سے 3 لوگوں کی زندگیاں نہیں برباد کر سکتا۔

کیا مطلب؟ بلقیس بیگم اتنی دیر سے حیرت کے مارے کچھ بول ہی نہیں پائیں۔

اب بتائے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا تو حمزہ نے انہیں اپنی ماں کی سنی ہوئ ساری باتیں بتا دیں۔

بلقیس بیگم جن کی بدپرہیزیاں ویسے ہی اجکل عروج پہ تھیں کیونکہ شادی کے موقع پر اکثر لوگ مٹھائ لا رہے تھے اور ان کے اپنے گھر بانٹنے کیلئے دیسی گھی سے بنی مٹھایاں بن رہی تھیں اور سب کے منع کرنے کے باوجود وہ اجکل ان کا بےدریغ استعمال کر رہی تھیں۔ یہ سب باتیں برداشت نا کر پائیں کہ وہ اتنے سال اپنی اس بھانجی کے ھاتھوں بےوقوف بنتی رہیں تھیں جس سے انہوں نے اپنے بچوں سے بھی زیادہ محبت کی تھی اور اور ایک طرف کو لڑھک گئیں۔ دونوں خواتین جو حمزہ کی باتوں کی طرف متوجہ تھیں ایکا دم سے اپنی ماں کو گرتے ہوئے دیکھ کے چینختے ہوئے بولیں اشعر فرقان عثمان جلدی آؤ دیکھو تمھاری دادی بےہوش ہو گئ ہیں۔ ان کی چینخ و پکار سن کے حمزہ بھی حرکت میں آیا اور بلقیس بیگم کو اٹھا کے باہر کی طرف بھاگا۔ غزالہ اور فریدہ کی چینخ وپکار پہ سب لوگ وہاں اگئے۔ اشعر بھی ان کی طرف بڑھا

کیا ہوا دادی کو ؟

حمزہ تیزی سے باہر اپنی گاڑی کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔ ابھی اس سب کا وقت نہیں ہے تم میرے ساتھ او۔

اشعر حمزہ کے ساتھ ہو لیا۔ فرقان صاحب بھی ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ شادی کے گھر میں کہرام مچ گیا۔ فرقان صاحب نے سب کو ابھی ساتھ آنے سے منع کر دیا تھا کہ وہ ہسپتال پہنچ کے انھیں بتا دیں گے۔ اشعر مسلسل انہیں آوازیں دے کے جگانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ کوئ جواب نہیں دے رہی تھیں خود میڈیکل پروفیشن میں ہونے کے باوجود اس وقت وہ خود کو سمبھال نہیں پا رہا تھا۔ ان کو رش ڈرائیونگ کے باوجود شہر پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ گیا۔

ان کے ھاسپٹل ایمرجنسی پہنچتے ابتدائی معائینے کے بعد انہیں آئ سی یو شفت کر دیا گیا۔

کچھ دیر بعد ایک ڈاکٹر آئ سی یو سے نکلے کیونکہ اشعر بار بار اپنی دادی کی طبیعت پوچھنے کیلئے اندر جانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہاں موجود گارڈ اسے اندر جانے نہیں دے رہا تھا۔ تنگ آکے گارڈ اس کو یہ کہتے ہوئے اندر گیا کہ میں کہتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب خود آکے تمھارے مریض کی حالت کے بارے میں بتائیں۔ فرقان صاحب نے تسلی دینے کے انداز میں اشعر کے کندھے پہ ھاتھ رکھا یار تسلی رکھو تم ہی ہمت ھار جاؤ گے کہ تو ہمیں تسلی کون دے گا۔ آخر کو تم ڈاکٹر بننے والے ہو۔ ماں جی کو کچھ نہیں ہو گا۔ ابھی وہ بات جاری رکھے ہوئے تھے کہ ڈاکٹر راحیل باہر ائے۔ اشعر ان کی طرف لپکا۔

ڈاکٹر صاحب اب میری دادی کیسی ہیں؟

دیکھیں آپ کے مرض کا بی پی خطرناک حد تک ھائ تھا اسلیے انہیں برین ہیمرج ہوا ہے۔ ہم بی پی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر انھے سیٹی سکین کیلئے لے جایا جائے گا۔ پھر ہی ہم بتا سکیں گیں کہ ان کی حالت میں کب تک سدھار ممکن ہے۔ بس آپ دعا کریں۔

فرقان صاحب نے سب کو فون کر کے ھاسپٹل کا بتا دیا۔ ایمان بھی باقی سب کے ساتھ ائ۔ حمزہ بھی اس سارے عرصے میں ان کے ساتھ ہی رہا۔ اشعر ابھی بھی بےچینی سے ٹہل رہا تھا۔ لیکن فرقان صاحب کے سمجھانے پہ اب اس کی پریشانی پہلے سے کم تھی۔ وہ دل ہی دل میں اس وقت مسلسل اپنی دادی کی صحت کیلئے دعاگو تھا۔ ایمان اشعر کی اپنی نانی سے محبت جانتی تھی اسی لیے اشعر کی پریشانی دیکھ کے اس سے رہا نا گیا۔ وہ بہت جھجھکتے ہوئے اشعر کے پاس آئ کیونکہ حمزہ بھی وہاں موجود تھا۔ وہ اشعر کے پاس آ کے کھڑی ہو گئ۔ اشعر اس قدر دعا میں مشغول تھا کہ اسے ایمان کے پاس آ کے کھڑے ہونے کا پتا ہی نہیں چلا کافی دیر خاموشی سے کھڑے رہنے کے بعد اشعر کی ہی ایمان پہ نظر پڑی تو وہ اس وقت بس یہ الفاظ سننا چاہتا تھا کہ بلقیس بیگم ٹھیک ہو جائیں گیں۔ انہیں وہاں آئے 24 گھنٹے ہو چکے تھے۔ اشعر ایمان کا ھاتھ پکڑتے ہوئے بولا۔ ایمان نانی ٹھیک ہو جائیں گی ناں۔

ہاں اشعر ہم سب دعا کر رہیں ھیں نا تو وہ کیسے ٹھیک نہیں ہوں گیں۔ آپ یہاں بیٹھ جائیں اس طرح مسلسل چکر لگاتے تو آپ کی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ آپ دیکھیے گا ابھی ڈاکٹر آ کے یہ ہی بتائیں گیں کہ ان کی حالت اب پہلے سے بہت بہتر ہے۔ اس کی باتوں سے اشعر کو عجیب سی ڈھارس بںدھی۔ یہ سارا منظر وہاں موجود حمزہ نے بھی دیکھا۔ اس نے ایمان کی باتوں سے اشعر کے چہرے پہ پھیلنے والا اطمینان دیکھا۔ وہاں موجود اتنے لوگوں میں صرف فرقان صاحب اور اب ایمان کی باتوں سے اس کے چہرے سے اطمینان جھلکتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے دل ہی دل میں شکر کیا کہ اس نے پہلا مرحلہ تو طہ کر لیا۔ لیکن اسے اپنی باتوں کی وجہ سے بلقیس بیگم کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے عجیب سا گلٹ تھا۔ اسلیے وہ بھی ان کے لیے دعا گو تھا۔ اسی وقت ڈاکٹر سی سی یو سے باہر ائے۔ اب مریض کی حالت پہلے سے بہتر ہے ان کا بیپی کنٹرول میں آگیا ہے لیکن۔ ھائ بیپی کی وجہ سے ان کو برین ہیمرج ہوا ہے۔ امید ہے کہ وہ ہوش میں آجائیں گیں چند دنوں میں لیکن ہیمرج کی وجہ سے انہیں اپنے دائیں طرف کے جسم کو حرکت کرنے میں مسئلہ رہے گا۔ لیکن اس سے بھی وہ آہستہ آہستہ ریکور کر جائیں گیں۔ لیکن اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ ان کی باتوں سے وہاں موجود سب لوگ قدرے مطمئن ہو گئے۔

_________

تین دن بعد بلقیس بیگم کو ہوش آیا۔ لیکن ڈاکٹر کے بتائے جانے کے عین مطابق وہ اپنا دایاں بازو اور ٹانگ کو ٹھیک سے حرکت نہیں دے پا رہی تھیں۔ انہیں کمرے میں شفت کر دیا گیا۔ اس دوران عایشہ بھی اپنی خالہ کا پتا کرنے آتیں لیکن ہر دفعہ انہیں ٹال کے ان سے ملنے سے روک دیا جاتا۔ صرف ایک دفعہ ان کے بہت اسرار پہ ان کو ایمان اندر لے گئ کیونکہ وہ اس سارے واقع کے بارے میں نہیں جانتی تھی جو اس دن ہوا۔ ابھی انہیں کمرے میں آئے چند منٹ ہی ہوئے تھے کہ حمزہ کمرے میں آیا اور انہیں باہر لے گیا۔ ماں جی آپ کو باہر بلا رہے ہیں۔ آپ میرے ساتھ چلیں۔ شگفتہ بیگم ارے مجھے اپنی خالہ سے ملنے تو دو۔ ماں جی وہ ابھی سو رہی تھیں میں پھر کسی دن آپ کو ملانے لےاووں گا۔ ایمان بھی حیران تھی کہ حمزہ عایشہ کو ان سے ملنے کیوں نہیں دے دہا۔ حمزہ ایمان کو حیران پریشان چھوڑ کے عایشہ کو کچھ بھی مزید کہنے کا موقع دیے بغیر باہر لے گیا۔ اب ایمان نے غور کیا کہ اتنے دنوں سے فریدہ اور غزالہ پھپھو بھی عایشہ کو دادی سے ملنے نہیں دے رہی تھیں۔ اسے یہ بات کھٹکی کہ یہ ہی لوگ اس دن اس کمرے میں موجود تھے ضرور جو بھی بات ہوئ ہے وہ عایشہ سے ہی جڑی ہوئ ہے جو یہ لوگ انہیں دادی سے ملنے نہیں دے رہے۔ اس نے کچھ دن پہلے فریدہ پھپھو کو حمزہ سے کہتے سنا تھا کہ بیٹا ابھی اس موضوع پہ کسی سے بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے امی کی طبیعت ٹھیک ہو جائے پھر اس موضوع پہ بات کریں گیں۔ لیکن تب ایمان نے غور نہیں کیا تھا لیکن آج وہ یہ سب کڑیاں جوڑ رہی تھی تو اسے لگ رہا تھا کہ کچھ ہے ایسا جو ابھی سب سے چھپا ہوا ہے۔ لیکن حمزہ جانتا ہے۔ اس نے حمزہ سے پوچھنے کا فیصلہ کیا۔ ابھی وہ یہ سب باتیں سوچ ہی رہی تھی کہ فریدہ پھپھو آ گئیں ان کے ساتھ ماما بھی تھیں تب تک دادی جاگ چکیں تھیں۔ دادی ٹھیک ہونے کے بعد سے ہی چپ چپ تھیں۔ ان کی خاموشی کو سب ان کی بیماری سے جوڑ رہے تھے لیکن ایمان کو لگ رہا تھا کہ ان کی خاموشی کے پیچھے کوئ اور بات ہے لیکن وہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ کس سے پوچھے۔

ایمان انہی سوچوں میں غلطاں تھی کہ وہاں حمزہ اگیا۔ وہ اکثر رات کے وقت ہی چکر لگاتا تھا۔ دادی کی طبیعت کی وجہ سے حرا کی شادی بھی آگے ہو گئ تھی۔ ایمان اور شگفتہ اس دن سے یہیں پہ ہوتی زیادہ تر۔ دن رات تیمارداری کیلئے آنے والےرشتہ داروں کا تانتا بندھا رہتا۔ اشعر بھی اس دوران مسلسل وہیں رہتا۔ رات کے وقت حمزہ آیا تو اس وقت کمرے میں اشعر موجود تھا۔ ایمان اور شگفتہ بیگم رات کے وقت یہیں رکتی تھیں۔ حمزہ بلقیس بیگم سے حال چال پوچھ کے باہر نکلا تو ایمان نے بھی اس کے پیچھے جا کے پوچھنے کا فیصلہ کیا۔ اس لیے حمزہ کے نکلتے ہی وہ ماما کو یہ کہ کے باہر چلی گئ کہ ماما مجھے ایک کام یاد آگیا ہے میں بس تھوڑی دیر میں آتی ہوں۔

اشعر کو یہ بات عجیب لگی کہ ایسا کونسا کام ہے جو ایمان کو اس وقت باہر جانا پڑ رہا ہے۔ وہ باہر گئ تو اشعر بھی شگفتہ بیگم کو یہ کہ کے باہر نکل گیا کہ آپ فکر نا کریں میں دیکھتا ہوں۔ وہ جانتا تھا کہ ایمان کہیں بھی اکیلے نہیں جاتی تھی۔

ایمان تیز تیز چلتے ہوئے حمزہ کے پیچھے باہر ائ۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی میں بیٹھ کے چلا جاتا ایمان نے پیچھے سے آواز دی حمزہ۔

حمزہ اپنا نام سن کے رک گیا اور پلٹ کے دیکھا۔ اس نے ایمان کی آواز پہچان لی تھی۔

جی ایمان خیریت؟ اس کا حیران ہونا بجا تھا کیونکہ اس سے پہلے ایمان نے کبھی اسے اس طرح نہیں روکا تھا۔

جی خیریت تھی بس مجھ آپ سے کچھ پوچھنا تھا۔

حمزہ بہت پرسکون لہجے میں بولا

جی پوچھیں۔

وہ اصل میں اس دن کیا بات ہوئ تھی جو دادی کی حالت اتنی خراب ہو گئ اور آپ عایشہ آنٹی کو دادی سے ملنے کیوں نہیں دے رہے۔

اشعر ایک لمحے کیلئے حیران ہوا اس کے سوال پہ لیکن وہ ایمان کو اپنی ماں کی سچائی بتانے کی ابھی ہمت نہیں رکھتا تھا کیونکہ اتنے دن گزرنے کے بعد وہ ابھی اس سچائی کو قبول نہیں کر پایا تھا جو اس نے اگر اپنے کانوں سے نا سنی ہوتی تو کبھی یقین نا کرتا۔

وہ ایمان کو ٹالتے ہوئے بولا۔

ایمان آپ ان باتوں کو سوچ کے پریشان نا ہوں بس کچھ عرصہ اور انتظار کریں آپ کو سب پتا چل جائے گا اور سب ٹھیک بھی ہو جائے گا۔

آپ کیا ٹھیک ہونے کی بات کر رہے تھے اس دن بھی جس دن دادی سے ملنے آئے تھے۔

حمزہ کیلئے اب بتانا ناگزیر ہو گیا۔

میں آپ سے منگنی سے انکار کرنے آیا تھا۔

ایمان ایک لمحے کیلئے حیران رہ گئ۔ وہ پوچھ نہیں پائ کیوں لیکن حمزہ نے اس کے چہرے پہ یہ سوال پڑھ لیا تھاتو وہ بولا

کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ خوش نہیں رہ پائیں گیں کیونکہ آپ اور اشعر ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں اور میں فاطمہ کو تو میں نے یہ بہتر سمجھا کہ ساری زندگی منافقت کی زندگی گزارنے سے بہترہے ہے کہ میں ہم تینوں کیلیے سٹینڈ لے لوں۔ حمزہ اپنی ماں کی باتیں چھپا گیا تھا اور ساری بات خود پہ لے لی تھی۔ یہ ساری وضاحت دینا بھی اس لیے ضروری تھی کہ ایمان یہ نا سمجھے کہ وہ اشعر اور اس کے بارے میں جان کے انکار کر رہا ہے۔

ایمان حیران پریشان رہ گئ اس سے تو یہ ہی بات حضم نہیں ہو رہی تھی کہ حمزہ اشعر اور اس کے بارے میں جانتا ہے کہ اب فاطمہ کو پسند کرنے کی بات۔

آپ اس بات پہ حیران ہو رہی ہیں کہ میں یہ سب کیسے جانتا ہوں تو پلیز وہ مجھ سے مت پوچھیں لیکن یہ سب جاننے کے بعد میں آپ کو یہ یقین دہانی کرواتا ہوں کہ اب آپ کے اور اشعر کے ساتھ کچھ بھی برا نہیں ہو گا۔ یہ میرا آپ سے وعدہ ہے۔ اور آپ کچھ بھی غلط مت سوچیے گا کہ میں آپ سے رشتے سے انکار کر رہا ہوں۔ یہ سب جاننے کے بعد بھی آپ میرے لیے اتنی ہی قابل احترام ہیں جتنی پہلے تھیں۔ تو اب آپ اندر جائیں اور باقی سب مجھ پہ چھوڑ دیں۔

ایمان حیران پریشان اندر کی طرف چل پڑی۔

اشعر جو اسے ڈھونڈھتا ہوا باہر ہی آرہا تھا اسے حمزہ سے بات کرتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔ لیکن اسے حمزہ سے بات کرنے سے زیادہ اس وقت ایمان کا کھویا کھویا انداز پریشان کر رہا تھا۔ وہ خود کو کچھ پوچھنے سے باز نہیں رکھ پایا ورنہ اب ان کے درمیان بلقیس بیگم کے علاؤہ زیادہ کوئ بات نہیں ہوتی تھی۔

کیا ہوا ایمان تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟

ایمان نے اسے حمزہ سے ہونے والی ساری بات بتا دی۔ اس کے ساتھ ساتھ عایشہ سے متعلق اپنے اندازے بھی بتا دیے۔ اشعر بھی ایک لمحے کیلئے حیران ہوا۔ لیکن وہ اپنی حیرت پہ قابو پا کے بولا کہ حمزہ کو کیسے پتا چلا اور اس سب سے عایشہ آنٹی کا کیا تعلق ہے۔

جی میں بھی یہ ہی سوچ سوچ کے پریشان ہو رہی ہوں۔

اشعر اسے تسلی دیتے ہوئے بولا چلو تم پریشان نا ہو میں امی سے پوچھتا ہوں ساری بات ان کے سامنے ہی ہوئ تھی وہ سب جانتی ہیں۔ کچھ پتا چلتا ہے تو بتاتا ہوں تمھیں بھی۔ مامی پریشان ہو رہی ہوں گیں چلو اندر ان کے پاس چلتے ہیں اور پلیز انہیں ابھی کچھ مت بتانا وہ پریشان ہو جائیں گیں ساری بات کا پتا چل جائے پھر ہی انہیں بتائیں گیں۔ تب تک تم بھی ریلیکس رہو سب ٹھیک ہو جائے گا۔

……………………………………

بلقیس بیگم کو 10 دنوں بعد ہسپتال سے چھٹی دے دی گئ۔ اس دوران سب نے ان کا بہت خیال رکھا۔ تقریبآ 1 مہینے میں ان کی بازو اور ٹانگ کی حرکت کرنے میں کافی بہتری آگئ تھی ابھی بھی فزیوتھیریپی چل رہی تھی۔ ان کی طبیعت اب قدرے بہتر تھی اس لیے وہاں موجود سب لوگ حرا کی شادی کی تاریخ طہ کرنے کا سوچنے لگے۔ سب یہ ہی باتیں کر رہے تھے کہ عائشہ وہاں آگئیں۔ حمزہ کا انداز ان سے قدرے لیے دیے تھا لیکن وہ ابھی بھی جان نہیں پائ تھیں کہ کیا بات ہوئ ہے وہاں موجود باقی لوگ تو نہیں لیکن غزالہ اور فریدہ کو انکی آمد بہت ناگوار گزری لیکن ایک نا ایک دن تو سچای سب کے سامنے آنی ہی تھی تو انہوں نے سوچا کہ اب بلقیس بیگم کی حالت قدرے بہتر تھی تو اچھا تھا کہ وہ ہی انہیں جواب دیں۔

عائشہ حسب عادت اپنی خالہ کے پاس جا کے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے بولیں خالہ کیسی ہیں آپ

بلقیس بیگم بہت مشکل سے خود کو جواب دینے کیلئے تیار کر پائیں ٹھیک اں مینوں کی ہونا اے۔

عائشہ کو ان کا انداز عجیب لگا کیونکہ اس سے پہلے بلقیس بیگم نے کبھی ان سے اس لہجے میں بات نہیں کی تھی۔ کچھ دیر ادھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد عائشہ بولیں خالہ کی طبیعت اب پہلے سے کافی بہتر ہے تو میں سوچ رہی تھی کہ اس سے پہلے کہ فرقان صاحب واپس شہر چلے جائیں ایمان اور حمزہ کی منگنی کروا دیتے ہیں۔

فریدہ بیگم جو اتنی دیر سے چپ تھیں اب غصے سے بول پڑیں

فریدہ میری ماں کو مارنے میں تو تم نے کوئ کسر نہیں چھوڑی۔ ساری زندگی شگفتہ کی زندگی میں آگ لگانے سے تمھارا دل نہیں بھرا جو اب اس کی بیٹی کی بھی زندگی خراب کرنے پہ تلی ہوئ ہو؟ عائشہ کا رنگ اڑ گیا

کیا مطلب باجی

اب مطلب بھی میں بتاؤں ہمیں تمھاری پلیننگ کا پتا لگ چکا ہے کہ تم شگفتہ سے بدلہ لینے کیلئے یہ ساری پلیننگ کر رہی ہو کہ اب اس کی بیٹی کے زریعے اسے تکلیف پہنچانا چاہتی ہو۔

وہاں موجود سب لوگ بھی اس انکشاف پہ حیران تھے۔

عائشہ ہڑبڑا کے اپنی خالہ اور فرقان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں

بھائ صاحب خالہ یہ جھوٹ بول رہی ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔ اور بلقیس بیگم کے سامنے جا کے ان کے ھاتھ پکڑتے ہوئے بولیں خالہ آپ کو تو یقین ہے میں نے ایسا کچھ نہیں کیا یہ سب بھی ضرور شگفتہ نے فریدہ کے زہن میں ڈالا ہوا ہو گا۔ وہ نفرت میں دیوانی ہو گئی تھیں ان کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اس وقت فریدہ کو کچا چبا جائیں بلقیس بیگم جو کافی دیر سے کچھ نہیں بول رہی تھیں اب عائشہ کے پھر سے اپنی غلطی ماننے کی بجائے شگفتہ بیگم پہ الظام کو دیکھ کے غصے میں آگئیں۔ اور انہیں زور سے تھپڑ مارتے ہوئے بولیں

نا پتر ہن ہی تے میریاں اکھا کھلیاں نے۔ تیرے کہن دی وجہ توں میں ساری زندگی شگفتہ نال پیڑا سلوک کردی رئ تے ہن وی تو مسلسل چوٹھ تے چوٹھ بولی جانی اے میں فریدہ تے یقین نا کراں تے تیرے پتر تے وی نا کراں۔ اے ساریاں گلاں او ہی دس کے گیا اے سانوں۔ عایشہ بیگم کو حمزا کا نام سن کے چپکی لگ گئ اب صفائی دینے کیلئے کچھ بچا ہی نہیں تھا۔

تے سب کچھ جانن توں بعد میں ایمان تے حمزہ دی منگنی نہیں ہون دیاں گیں۔ یہ کہ کے بلقیس بیگم شگفتہ بیگم کے سامنے جا کے کھڑی ہو گئیں اور ھاتھ جوڑ کے بولیں پتر مینوں معاف کر دے میں ساری زندگی تیرے نال نا انصافی کردی رئ اں۔ شگفتہ بیگم نے انہیں مزید کچھ بولنے نہیں دیا اور ان کے ھاتھ پکڑتے ہوئے بولیں ماں جی تسی میری ماں ہو اور ماواں نے بچیاں نوں کٹ وی لین تے گناہ نہیں تسی معافی مانگ کے مینوں شرمندہ نا کرو اور ساس کے گلے لگ گئ۔ اب وہ بت بنی ایمان کے پاس بھی گئیں اس سے بھی معافی مانگنے لگیں کہ ایمان پہلے ہی ان کا ارادہ سمجھ کے ان کے گلے لگ گئی۔ وہاں موجود سب لوگ ایک ایک کر کے اٹھ کے چلے گئے کیونکہ بلقیس بیگم کے تھپڑ نے ساری قصر پوری کر دی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بلقیس بیگم آج اپنی شادی کے 22 سال بعد اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کر رہی تھیں کیونکہ آج وہ ساس کی نظر میں بھی سرخرو تھیں۔ اس میں ان کے صبر کا بہت ھاتھ تھا۔ فرقان صاحب آج ان کی خوشی محسوس کر سکتے تھے لیکن انہیں برا بھی لگ رہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی کی خوشی نہیں جان پائے اور شگفتہ بیگم کا اندازہ صحیح تھا۔ وہ ان کے پاس آکے بولے شگفتہ مجھے معاف کر دو کہ تم نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی تھی لیکن میں نے الٹا تمھیں قائل کر لیا اس رشتے کیلئے۔ مجھے آج بھی سوچ کے گھبراہٹ ہو رہی ہے کہ اگر حمزہ سب کو سچائ نا بتاتا تو میری معصوم بیٹی کو کتنی تکلیف برداشت کرنی پڑتی اتنا سمجھدار ہو کے بھی میں عائشہ کے ارادے نہیں سمجھ پایا میں تو حیران ہوں کہ وہ ابھی تک تم سے عناد پالے ہوئے ہے۔ میں اس کے بارے میں ہمیشہ تمھیں ہی سمجھاتا رہا کہ تمھارا وہم ہو گا مجھے معاف کر دو۔

فرقان صاحب پلیز آپ بار بار مجھ سے معافی نا مانگیں اللہ نے ہماری بیٹی کو بچانا تھا تو وسیلہ حمزہ کو بنا دیا اور آپ خود کو مت کوسیں کیونکہ کچھ فیصلوں میں انسان کی بہتری چھپی ہوتی ہے جو وقت رہتے انسان کو سمجھ آتی ہے اگر یہ رشتہ جڑنے کی بات نا ہوتی تو عائشہ کی سچائ سامنے نا آ پاتی یہ سب ایسا ہی ہونا قسمت میں لکھا تھا۔ مجھے آپ سے کوئ شکایت نہیں ہے آپ اگر اس سارے وقت میں میرا ساتھ نا دیتے تو میں کبھی زندگی کا یہ سفر نا طہ کر پاتی۔

فرقان صاحب ابھی بھی اپنی بیوی کی اعلیٰ ظرفی پہ حیران تھے کہ انہوں نے ایک دفعہ بھی بلقیس بیگم کا برےالفاظ میں زکر نہیں کیا تھا۔

وہ بس ان کا ھاتھ پکڑ کےتھیینک یو ہی کہ سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *